Posts tagged ‘Urdu’

سنہری باتیں

  • فکر کے درخت کو صبر کا پانی دیتے رہنا چاہیے تا کہ آنے والی نسلیں خوشحال زندگی بسر کریں.
  • زندگی گزارنے کا صحیح لطف اسی میں ہے کہ آپ کا دل محبت اور دماغ عقل سے بھرا ہو.
  • بلندی سے کھڑے ہو کر نیچے حقارت سے مت دیکھیں بلکہ یہ سوچیں کہ کبھی آپ بھی نیچے کھڑے تھے.
  • کسی پر کیچڑ مت اُچھالو اس سے دوسروں کے کپڑے خراب ہوں یا نہ ہوں مگر تمھارے ہاتھ ضرور خراب ہو جائیں گے.
  • جو چھوٹے ہاتھ سے دیتا ہے وہ لمبے ہاتھ سے پاتا ہے.
  • مانگو گے تو تمھیں دیا جائے گا، ڈھونڈو گے تو پاؤ گے.
  • علم ایسا بادل ہے جس سے رحمت ہی رحمت برستی ہے.
  • ظاہر پر نا جا، آگ دیکھنے میں سرخ لگتی ہے پر اس کا جلایا ہوا سیاہ ہو جاتا ہے.
  • مشاہدے سے آپ بہت کچھ جان سکتے ہیں مگر سیکھتے تجربے سے ہی ہیں.
  • سکھ خوشی کا نام نہیں، غم اور خوشی دونوں سے بے نیاز ہونے کا نام ہے.
  • کہنے والا یقین سے محروم ہو تو سننے والا تاثیر سے محروم رہتا ہے.
  • موت کو یاد رکھنا نفس کی تمام بیماریوں کی دوا ہے.
  • علم کی طلب میں شرم مناسب نہیں، جہالت شرم سے بد تر ہے.

اگست 17, 2011 at 12:09 تبصرہ کریں

Kuch Urdu Ashar

مارچ 19, 2011 at 06:02 تبصرہ کریں

محرم الحرام کی اہمیت و فضیلت

روز ازل ہی کو جب زمین کا سبزہ زار فرش اور آسمان کی نیلگوں چھت تیار ہوئی تھی اور اس میں سورج کا روشن چراغ اور چاند کی خوشنما قندیل جلائی گئی تھی یہ بات نوشتہ الٰہی میں لکھ دی گئی کہ صبح وشام کی تبدیلیوں اور شب وروز کے الٹ پھیر سے ہفتہ اور پھر جو مہینہ وجود میں آتا ہے وہ بارہ ہیں جن میں چار مہینے بڑ ے ہی مبارک و محترم ہیں ۔ چنانچہ خلاق عالم اپنی آخری کتاب کی سورت برأت میں یوں گویا ہوتا ہے کہ إِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُورِ عِنْدَ اللَّہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِی کِتَابِ اللَّہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْہَا أَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ (التوبۃ:۳۶)
’’بیشک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک اللہ کے حکم میں بارہ ہے جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ان میں چار حرمت والے مہینے ہیں ۔‘‘
کسی شاعر نے اس بات کو یوں بیان کیا ہے
سورۃ توبہ میں فرماتا ہے رب
سال اندر چار ہیں ماہ ادب
وہ مہینے ہیں بہت با احترام
قتل وجنگ وظلم ان میں ہے حرام
ان میں سے محرم کا مہینہ بڑ ا ہی قابل احترام ہے اس کا احترام جاہلیت کے تاریک ترین زمانے میں بھی باقی تھا ریگزار عرب کے بدو جو علم سے دور اور عقل سے بیگانہ، وحشت سے قریب اور جنگ و جدال کے رسیا ودلدادہ تھے وہ بھی ان مہینوں کے احترام میں قتل و قتال، جنگ و جدال، کشت و خون، لوٹ مار اور غارت گری ورہزنی سے باز رہتے تھے یہی وجہ ہے کہ محرم کے مہینہ کو محرم الحرام کہا جاتا ہے کہ اس میں معرکہ کارزار گرم کرنا اور انسانوں کے خون کی ہولی کھیلنا حرام ہے ۔
اس مبارک مہینہ کی دسویں تاریخ تو گویا خوبیوں اور فضیلتوں کا گلدستہ ہے کہ اسی دن پیغمبر جلیل موسیٰ علیہ السلام کلیم اللہ نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظالمانہ وجابرانہ شکنجہ اور غلامی کی ذلت آمیز قید و سلاسل سے آزاد کرایا۔
اس دن کی فضیلت کیلئے اس سے بڑھ کر اور کیا شہادت ہو سکتی ہے کہ رمضان کے بعد اسی دن کے روزہ کو افضلیت حاصل ہے چنانچہ ریاض محبت کی بہار جاوداں کا آخری نغمہ خواں عندلیب اور مستور ازل کے چیرہ زیر نقاب پہلا بند کشا ، پیغمبر اسلام محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیان فرماتے ہیں ۔
’’اَفضَلُ الصِّیَامِ بَعدَ رَمَضَانَ شَہرَ المُحَرَّمِ۔‘‘ (صحیح مسلم)
’’رمضان کے مہینہ کے بعد محرم کے مہینہ کا روزہ افضل ترین روزہ ہے ۔‘‘
لہذا یہ دن تو وہ دن ہے کہ اللہ کا بندہ کمال بندگی کے ساتھ اپنے رب کی محبت میں سرشار ہوکر اس کی اطاعت وفرمانبرداری میں ہمہ تن مشغول ہوجائے انتہائی عجز ونیاز کے ساتھ اپنی عبادت اور اعمال صالحہ کا نذرانہ اس کے دربار عالی میں پیش کرے اور روزہ و نماز ذکر و تسبیح کے ذریعے اس کی خوشنودی و رضا مندی کا جویا و طلبگار ہو۔ رسول ا کرم صلٰی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حج کے خطبہ میں فرمایا۔
زمانہ گھوم کر اپنی اصلیت پر آ گیا ہے سال کے بارہ مہینے ہوا کرتے ہیں جن میں سے چار حرمت و ادب والے ہیں تین تو پے درپے ذوالقعدہ ، ذوالحجہ، محرم الحرام اور چوتھا رجب المرجب جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان ہے ۔ (بخاری ومسلم)
اسلام سے پہلے لوگ عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور اس کے خاتمہ پر عید کرتے تھے ۔ ابتدائے اسلام میں عاشورہ کا روزہ فرض تھا جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تب عاشورہ کے روزے کی فرضیت منسوخ ہوگئی جس کا دل چاہے رکھے جی نہ چاہے تو نہ رکھے ۔
جب آنحضرت مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو یہودیوں کو محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’ تم اس روز کیوں روزہ رکھتے ہو؟‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ یہ ہماری نجات کا دن ہے ۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلائی اس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکرانے کے طور پر روزہ رکھا۔ آپ نے فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہم تم سے زیادہ موافقت رکھنے کے حقدار ہیں ۔ اس لئے نبی ا کرم صلٰی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (بخاری ومسلم)
لیکن یہودیوں کی مشابہت سے بچنے کیلئے آپ صلٰی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اگر میں زندہ رہا تو محرم کی نویں اور دسویں کا روزہ رکھوں گا۔ ‘‘
مگر آئندہ سال آپ محرم کے آنے سے پہلے خالق حقیقی سے جا ملے لیکن یہ حکم باقی رہا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عمل کیا لہذا محرم کی نویں دسویں یا دسویں گیارہویں یعنی دو دن کا روزہ رکھنا چاہیے ۔ رسول ا کرم صلٰی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: ’’صوموا یوم عاشوراء وخالفوا فیہ الیہود صوصوا قبلہ یوما أو بعدہ یوماً ۔ (أحمد)
’’عاشورہ کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو دسویں کے ساتھ ایک دن اور روزہ رکھو چاہے ایک دن پہلے ہو یا ایک دن بعد کا۔‘‘
ماہ محرم کی فضیلت اس لحاظ سے بھی ہے کہ یہ سن ہجری(اسلامی سال) کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد سرور کائنات کے واقعہ ہجرت پر ہے لیکن اس کا تقرر اور آغاز استعمال ۱۷ ہجری میں عہد فاروقی سے ہوا۔ یمن کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے احکامات آتے تھے جن پر تاریخ کا اندراج نہیں ہوتا تھا چنانچہ ۱۷ ہجری میں ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے توجہ دلانے پر خسر مصطفیٰ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجلس شوریٰ کا اجلاس بلایا اور ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھا ۔ طے یہ پایا کہ اپنے سن تاریخ کی بنیاد واقعہ ہجرت کو بنایا جائے اور اس کی ابتداء محرم سے کی جائے کیونکہ ۱۳ نبوی کے ذوالحجہ کے بالکل آخر میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا منصوبہ طے کر لیا گیا تھا اور اس کے بعد جو چاند طلوع ہوا وہ محرم کا تھا۔
مسلمانوں کا سن ہجری اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے منفرد حیثیت کا حامل ہے ۔ دوسرے مذاہب میں جو سن رائج ہیں وہ یا تو کسی شخصیت کے یوم ولادت کی یاد دلاتے ہیں یا کسی قومی واقعہ مسرت و شادمانی سے وابستہ ہیں ۔ نسل انسانی کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ جیسا کہ سن عیسوی کی ابتداء سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہے ۔ یہودی سن حضرت سلیمان علیہ السلام کی فلسطین پر تخت نشینی کے ایک پر شکوہ واقعہ سے وابستہ ہے روی سن سکندر فاتح اعظم کی پیدائش کو ظاہر کرتا ہے ۔ بکرمی سن راجہ بکر ماجیت کی پیدائش کی یاد دلاتا ہے ۔
لیکن اسلامی سن ہجری عہد نبوی کے ایسے عظیم الشان واقعہ کی یادگار ہے جس میں ایک سبق پنہاں ہے کہ اگر مسلمان پر اعلائے کلمہ الحق کے بدلے میں مصائب وآلام کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں ۔ سب لوگ دشمن ہوجائیں ، اعزہ واقربا بھی اس کو ختم کرنے پر تل جائیں اس کے دوست احباب بھی اسی طرح تکالیف میں مبتلا کر دئیے جائیں تمام سربر آوردہ لوگ اسے قتل کرنے کا عزم کر لیں ، اس پر عرصہ حیات تنگ کر دیا جائے اس کی آواز کو بھی دبانے کی کوشش کی جائے تو اس وقت وہ مسلمان کیا کرے ؟
اسلام یہ نہیں کہتا کہ کفر وباطل سے مصالحت کر لی جائے یا حق کی تبلیغ میں مداہنت اور رواداری سے کام لیا جائے اور اپنے عقیدے اور نظرئیے میں نرمی پیدا کر کے ان کے اندر گھل مل جائے تاکہ مخالفت کا زور کم ہو جائے ۔ نہیں ، بلکہ اسلام ایسی بستی اور شہر پر حجت تمام کر کے ہجرت کا حکم دیتا ہے ۔
اسی واقعہ ہجرت پر سن ہجری کی بنیاد ہے جو نہ تو کسی انسانی فوقیت وبرتری کو یاد دلاتی ہے اور نہ ہی کسی پر شکوہ واقعہ کو … بلکہ مظلومی وبے بسی کی ایسی یادگار ہے جو ثابت قدمی ، عزم واستقلال ، صبر واستقامت اور رضائے الٰہی پر راضی ہونے کی زبردست مثال اپنے اندر پنہاں رکھتا ہے ۔
یہ واقعہ ہجرت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وہ مظلوم ، بے کس بے بس اور لاچار مسلمان کس طرح اپنے مشن میں کامیاب ہوئے اور کس طرح وہ خارستان میں گئے ، بیابان اور جنگل میں گئے اپنے آبلوں سے کانٹوں سے تواضع کی ، صرصر کو دیکھاو سموم کو دیکھا، لو اور دھوپ کو دیکھا ، تپتی ریت اور دہکتے کوئلوں کو ٹھنڈا کیا، جسم پر چرکے کھائے ، سینے پر زخم سجائے ، آخرمنزل مقصود پر پہنچ کر دم لیا ، کامرانی وشادمانی کازریں تاج اپنے سر پر رکہا اور پستی وگمنامی سے نکل کر رفعت وشہرت اور عزت وعظمت کے بام عروج پر پہنچ گئے ۔لیکن سوائے ناکامی آج ہم نے ہجرت کے حقیقی درس کو فراموش کر دیا اور خودساختہ بدعات وخرافات سے نئے سال کی ابتداء کرتے ہیں ۔
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا اس ماہ محرم الحرام کی حرمت سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ سانحہ تو رسول ا کرم کی وفات سے پچاس برس بعد پیش آیا۔ اور دین رسول کی حیات طیبہ میں مکمل ہو گیا تھا اگر بعد میں ہونے والی شہادتوں کی شرعی حیثیت ہوتی تو خسر مصطفی ، مراد مصطفی اور شہید محراب سیدنا عمر فاروق کی شہادت اور سیدنا عثمان کامل الحیاء والایمان کی مظلوم شہادت اس لائق تھیں کہ مسلمان ان کی یادگار مناتے اور اگر ماتم و شیون کی اجازت ہوتی تو اسلامی تاریخ میں یہ شہادتیں ایسی تھیں کہ اہل اسلام اس پر جتنی بھی سینہ کوبی اور ماتم و گریہ زاری کرتے کم ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارے واقعات تکمیل دین کے بعد پیش آئے ۔

دسمبر 13, 2010 at 05:39 تبصرہ کریں

ماسی ریشم اور قدرت کا انوکھا انتقام

(جو لوگ غرور اور تکبر کرتے ہوئے رشتوں کا احترام بھول جاتے ہیں، ایسے ہی ایک خاندان کی کہانی جو نہایت عبرتناک ہے)

ماسی ریشم دور کے رشتے میں میری خالہ تھی ۔ا س کی شادی سیالکوٹ کے نواح میں مشہور قصبے کوٹلی بہرام میں ہوئی تھی۔ یہ بات 30-1920 کی ہے ورنہ اب تو کوٹلی بہرام سیالکوٹ کا ایک محلہ بن گیا ہے اور شہر اس سے بہت آگے تک پھیل گیا ہے. ماسی ریشم کی شادی کوٹلی بہرام میں ہوئی ۔ اُس کا خاوند قریب ہی کے گاﺅ ں گودھپور میں زمینداراہ کرتا تھا۔ ان کی ایک بیٹی ہو ئی اور ماسی کا خاوند وفات پا گیا۔ اس طرح ایک خوبصورت طر ح دار لڑکی کو عین جوانی میں بیوگی کے شدید ترین المیے سے دوچار ہو نا پڑا ۔ ماسی ریشم ان پڑھ تھی لیکن بہت تیز طرار اور ذہین تھی اور بہا در بھی ۔ اس کے مرحوم خاوند کے بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ وہ ان میں سے کسی سے شادی کر لے یا پھر اس گھر سے نکل جائے ، مگر وہ کسی دباﺅ میں نہ آئی۔ اس نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا اور خاوند کے حصے کی زمین حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ بعد میں اس نے کوٹلی بہرام کی رہائش گاہ ترک کر دی اور گودھپور میں ایک مختصر سا مکان بنا کر وہاں منتقل ہو گئی ۔

ماسی ریشم کی بیٹی رشیداں جوان ہو گئی تو اس کی شادی اپنے گاﺅں ہی میں ایک نوجوان خادم سے ہو گئی ۔ خادم حسین ایک غریب ، بے سہارا نوجوان تھا اور ڈرائیوری کرتا تھا ۔ ماسی نے اسے اپنے گھر ہی میں ٹھہرا لیا اور اس طر ح دونوں خوش اور مطمئن ہو گئے ۔ ایک تو گھر کے لئے ایک مر د مل گیا ، دوسرا اس کو بیوی کے ساتھ ایک ماں بھی مل گئی اور چھت کا سایہ بھی ۔ لیکن خادم حسین کی بدنصیبی کہ ما سی ریشم اپنی بعض خوبیوں کے باوجود بدمزاج اور مغرور عورت تھی ۔ لحا ظ نام کی کوئی چیز اس میں نہ تھی اور اسے احساس تک نہ ہوتا تھا کہ کسی کی عزت نفس کا پاس کیا جاتا ہے ۔ وہ مخاطب کو کھڑے کھڑے تول کر رکھ دیتی اور اس کی توہین و تذلیل میں کو ئی کسر اٹھا نہ رکھتی ،چنانچہ اپنی عادت سے مجبور ہو کر وہ خادم حسین کو خوب خوب کچوکے لگاتی اور اسے ذلیل و خوار کر کے شاید اسے تسکین ملا کرتی ۔ خادم حسین ایسے مو قعہ پر فریاد طلب نگاہو ں سے اپنی بیوی رشیداں کی طر ف دیکھا کر تا ، لیکن وہ بےنیازی اور بےتکلفی کا انداز اختیار کر کے خاموش رہتی ۔

تنہائی کا موقع ملتا تو ساس کے رویے کی شکایت بھی کرتا ، مگر رشیداں کا مزاج بھی بہت حد تک اپنی اماں سے ملتا جلتا تھا، اکلوتی لا ڈلی ہو نے کی وجہ سے غرور اور بے نیا زی کا عنصر اس میں بھی بد درجہ اتم تھا، چنا چہ اپنی ماں کے خلاف شوہر کی شکایت سن کر وہ برا سا منہ بنا لیتی اور خادم حسین شرمندہ ہو کر چپ ہو جاتا ۔ مزید مصیبت یہ تھی کہ خادم حسین کو رشیداں سے تنہائی کے مواقع بہت کم ملتے تھے ۔ پرانی طرز کا ایک ہی بڑا سا کمرہ تھا جس میں یہ تینو ں افراد رہتے تھے اور ماسی ریشم ایک بے رحم ، بے حس محتسب کی طر ح کڑی نظروں سے دونوں کی نگرانی کرتی تھی ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود رشیداں بی بی نے ایک بیٹے کو جنم دے دیا اوریہ اپنی نو عیت کا پہلا اور آخری حادثہ ثابت ہوا۔ یہی وہ حالات تھے جب خادم حسین بےبس اور پریشان ہو کر ادھر ادھر ہا تھ پاﺅ ں مارنے پر مجبور ہو گیا ۔ وہ بھی خوبصورت تھا، جوان رعنا تھا اور خوش ذوق تھا، چنانچہ اس نے سیالکوٹ شہر ہی میں ایک لڑکی سے تعلقات استوار کر لئے اور اسے اپنی توجہات کا مرکز بنا لیا، چنانچہ اب اس نے ساس کے گھر میں آنا کم کر دیا اور ایک روز سنا کہ خادم حسین نے اس خاتون سے باقاعدہ شادی کرلی۔

خادم حسین کی دوسری شادی کی خبر ماسی ریشم اور اس کی بیٹی پر بجلی بن کر گری ۔ پہلے چند دن تو انہو ں نے خوب واویلا کیا، سینہ کوبی کی ۔ خادم حسین کا ماتم کیا اور پھر اس کا نام آتے ہی وہ زخمی شیرنیو ں کی طر ح غرانے لگتیں اور اس کی سات پشتوں کو بے نقط سنا ڈالتیں لیکن عملاً وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھیں ۔ خادم حسین نے ان کے ہاں آنا جانا بالکل ترک کر دیا تھا ۔ ماسی ریشم اگرچہ نما ز روزے کی پابند تھی ، لیکن وہ ہمیشہ ہی سے قبروں ، درگاہو ں کی پرستار تھی ۔ وہ بڑی ہی باقاعدگی کے ساتھ ہر جمعرات کو امام صاحب کے مزار پر حاضری دیتی (سیالکوٹ میں ایک شہید بزرگ کا مزار) قبر شریف کا طواف کرتی ، حتیٰ کہ سجدے میں گر جاتی تھی ۔ اسی طر ح وقتاً فوقتاً بابل شہید کے قبرستان میں بھی حاضر ہونا اس کے نزدیک گویا فرض واجب تھا ۔ وہا ں بہت سے بزرگوں اور شہیدوں کے مزار ہیں ۔ وہ باری باری سب کے ہا ں حاضر ہوا کرتی اور ان کی خدمت میں اپنی حاجتیں پیش کرتی ۔ خادم حسین کی شادی کا حادثہ پیش آیا تو مقبروں پر دونوں ماں بیٹی کی حاضریو ں کا تناسب کہیں بڑھ گیا ۔

کوئی دن نہ جاتا کہ وہ ارد گرد کی درگاہوں پر حاضر نہ ہوا کرتیں ، کبھی بابا ملو ک شاہ پر ، کبھی منڈیر شریف اور کبھی ہمارے گاﺅں کے قریب نہر کنارے کوﺅں والے سائیں کے پاس۔ راستے میں وہ خادم حسین اور اس کے آباﺅ اجداد کو منہ بھر بھر کے گالیاں دیا کرتیں اور قبر پر جا تے ہی سجدے میں گر جاتیں ۔ قبر کے چکر ضرور لگا تیں اور پائنتی کی طرح کھڑے ہو کر آنسو بہاتیں ۔ یہ ان کا مستقل معمول بن گیا تھا ۔ آخر کا ر ان کی تگ و دو رنگ لائی اور قسمت کا مارا خادم حسین ایک روز اپنی دوسری بیوی کو لیکر گودھپور انکے گھر آ گیا ۔ پتہ نہیں اسے کیا زعم تھا یا وہ کسی خو ش فہمی میں مبتلا تھا۔ بہرحال ان دونو ں کو کمرے میں بٹھا کر ریشم بی بی چپکے سے باہر نکلی اور پڑوس سے ایک قریبی رشتہ دار کو بلا لائی جس نے کمال چابک دستی سے خادم حسین کے ہا تھ باندھے اور پھر ڈنڈوں اور جوتوں سے دونو ں کی وہ ٹھکائی کی کہ خادم کے چودہ طبق روشن ہو گئے ۔

ا س کارِخیر میں اُس کے بارہ سالہ بیٹے عامر نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ وہ زمین پر گرے ہوئے اپنے سگے باپ پر بار بار جو تے برساتا اور اس کی دوسری بیوی پر بھی خو ب خو ب غصہ نکالتا اوراس وقت تو ماسی ریشم اور رشیداں دونو ں قہقہہ لگا کر خو ب ہنسیں جب عامر نے قینچی لیکر اپنی سوتیلی ماں کے بال کا ٹ ڈالے تھے ۔ جسے اسی ریشم نے اپنے نواسے کے کارنامے کے طور پر ایک عرصہ تک کمرے کے ایک کونے میں لٹکا ئے رکھا تھا. بہرحال خادم حسین کی وہ درگت بنی کہ شاید ہی کسی عاشق کی بنی ہوگی ۔ اسے انہو ں نے پانی پلا پلا کے مارا اور جب اس کے لیے اپنے پاﺅں پرکھڑے ہونا محال ہو گیا تو پڑوسی عامر نے سہارا دے کر دونوں میاں بیوی کو سڑک تک پہنچایا اور تانگے پر بٹھا کر سیالکوٹ روانہ کر دیا ۔ غیر معمولی توہین و تذلیل کا یہ عمل خادم حسین کے لئے اتنا سبق آموز ثابت ہوا کہ وہ جلد ہی بیوی اور دو بیٹیو ں کو لیکر کراچی چلا گیا ۔ اس نے سیا لکوٹ کی سکونت کو مستقل طور پر ترک کر دیا اور پھر کبھی واپس لو ٹ کر نہ آیا ۔ اب ماسی ریشم اور رشیداں بی بی کی ساری امیدوں کا واحد مر کز عامر تھا ۔

وہ اسکو ل میں پڑھتا تو تھا لیکن اپنے اکلو تے ہو نے کا بھرپور فائدہ اٹھانا جانتا تھا۔ اسے یہ بھی شعور تھا کہ وہ مستقبل میں اچھی خاصی قیمتی جائیداد کا مالک بنے گا ، اس لئے اس نے آوارگی کا ہر وہ چلن اختیار کر لیا جو اس کے بس میں تھا ، چنانچہ اس نے کم از کم دو اضافی سال میٹرک میں لگائے اور تیسرے سال میں بڑی مشکلو ں سے تیسرے درجے میں امتحان پاس کر لیا اور چونگی محرر کی حیثیت سے ملا زم ہو گیا۔ اس کے لیے اس کی نانی نے خاصی بڑی رقم رشوت میں لگائی تھی ۔

یہ 67-1966 کی بات ہے ۔ اس کی تنخواہ ستر روپے مقرر تھی۔ میں نے اکتوبر 1966ء میں ایم ۔اے کا امتحان دیا تھا اور مجھے فوری طور پر اپنے علا قے ہی میں ایک پرائیوٹ کالج میں لیکچرر شپ مل گئی تھی ۔ میری ڈھائی سو روپے تنخواہ لگی تھی اور میری والدہ نے ایک دن تعجب سے کہا تھا: تم نے سولہ جماعتیں پڑھی ہیں اور ڈھائی سو روپے تنخواہ لے رہے ہو جبکہ ریشم کا نواسہ تنخواہ کے علاوہ روزانہ اپنی ماں کو پچا س روپے لا کر دیتا ہے۔ چنانچہ اس کی بد عنوانی اور غیر ذمہ داری نے اپنا آپ دکھایا اور اسے چھ ہی ماہ کے بعد نوکری سے برطر ف کر دیا گیا ۔ اب ماسی ریشم نے گودھپور والی زمین میں سے کچھ حصہ فروخت کر دیا اور کوٹلی بہرام کے موڑ پر سڑک کے کنا رے اپنے ایک کمرشل پلاٹ پر آٹھ دکا نیں تعمیر کر ڈالیں۔ ان میں سے دو میں عامر نے سٹیشنری اور جنرل سٹور بنا لیا۔ تجا رتی نقطہ نگاہ سے دکا نیں بڑے ہی اچھے ٹھکانے پر تھیں . جہا ں مستقبل میں کاروبار چمکنے کے امکانات بہت روشن تھے ۔

باقی دوکانیں کرائے پر دے دی گئیں اور عامر کی شادی کر دی گئی ۔ اسے عامر کی خوش قسمتی ہی سے تعبیر کرنا چاہئے کہ اس کی بیوی ایک تربیت یافتہ ملازمت پیشہ نرس تھی ۔ وہ سگھڑ اور سمجھ دار بھی تھی ، لیکن عامر نے گویا قسم کھا رکھی تھی کہ وہ عقل سے کام نہیں لے گا اور ہر معاملے میں چھچھورے پن کا مظاہرہ کرے گا، چنانچہ اس نے اردگرد کے گرلز اسکولوں کی استانیوں سے خاص اپنائیت کا تعلق قائم کر لیا اور انہیں دل کھول کر اسٹیشنری کا سامان ادھار پر دیتا رہا ۔ وہ تحفے تحائف دینے میں بھی بڑا فراخ دل واقع ہوا تھا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی دکا نداری بڑی ہی مشکلو ں سے ایک سال تک چلی ، سرمایہ ختم ہو گیا اور اسے کا روبار کا سلسلہ معطل کرنا پڑا ، تاہم وہ چنداں پریشاں نہ تھا ۔ گھر کا نظام دکا نو ں کے کرائے اور بیوی کی نوکری کے سہارے چل رہا تھا۔

مکمل فراغت کا فیضان عامر کو یہ حاصل ہوا کہ وہ یکے بعد دیگرے سات بیٹیوں کا با پ بن گیا ۔ ماسی ریشم اور بہن رشیداں نے سر توڑ کوشش کی ، مختلف مقبروں پر بار بار حاضر ہوئیں ، چادریں چڑھائیں ، منتیں مانیں ، لیکن کسی بزرگ نے بھی مداخلت نہ کی اور عامر کو ایک بھی بیٹا نہ ملا ۔ حد یہ ہوئی کہ اس دوران میں ماسی ریشم نے حج بھی کر لیا ۔ ظاہر ہے کہ وہا ں بھی اس نے سب سے زیا دہ دعائیں عامر کے بیٹے کے لیے ہی کی ہوں گی لیکن افسوس بیل منڈھے نہ چڑھی اور ساتویں بیٹی کے بعد وہ مایوس ہو کر کویت چلا گیا ۔ بدنصیبی کویت میں بھی عامر کے ہم رکاب رہی ۔ اسے و ہا ں گئے ہوئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ایک روز وہ ٹریفک کے ایک حادثے کا شکار ہو گیا۔ وہ سڑک عبور کر رہا تھا کہ ایک تیز رفتار کار نے اسے ٹکر مار دی ۔ اس کی دونوں ٹانگیں کئی جگہ سے ٹوٹ گئیں۔ باقی جسم پر بھی شدید چو ٹیں آئیں اور وہ کئی دن تک ہسپتال میں بےہوش پڑا رہا ۔

جان تو اس کی بچ گئی، مگر تقریباً دو سال تک وہ ہسپتال میں زیر علا ج رہا اور جب بیساکھیو ں کے سہارے چلنے کے قابل ہوا تو پاکستان آ گیا ۔ میں اس کی مزاج پرسی کے لئے چلا گیا ، بڑی قابل رحم تھی حالت اس کی ۔ اس کی بوڑھی نانی اسے اس حال میں نہ دیکھ سکی اور ایک روز یکایک دم توڑ گئی ۔ پتہ چلا کہ اس کے دماغ کی شاہ رگ پھٹ گئی ۔ یہ بڑی عبرت ناک بات ہے کہ میں نے ماسی ریشم اور رشیداں بی بی کے خاندان میں کبھی بھی سکون نہیں دیکھا ۔ وہ ہمیشہ مسائل، مصائب اور امراض میں مبتلا نظر آئیں اور اس کا سبب میرے نزدیک دونو ں ماں بیٹی کی بداخلا قی ، تکبر اور غیر حقیقت پسندانہ اسلوب ِ حیات تھا ۔ دکھ اور پریشانیاں ان پر بارش کی طر ح برستی رہیں ۔ ایک بار پتہ چلا کہ بہن رشیداں کو سر پر شدیدچوٹ لگی ہے اور و ہ اپنے حواس کھو بیٹھی ہے۔ میں اس کی عیادت کے لئے گیا۔ وہ چارپائی پر گم صم بیٹھی تھی اور بٹر بٹر فضا میں گھور رہی تھی۔ میں اس کے قریب بیٹھ گیا ، اس نے مجھے نہیں پہچانا۔ سر کی چو ٹ نے اس کی یادداشت پر گہرا اثر ڈالا تھا ۔

عامر نے بتایا کہ چند روز پہلے وہ پڑوسیوں کے ہاں صحن میں بیٹھی تھی ۔ ان پڑوسیوں کے ہاں جن کی مدد سے اس نے اپنے خاوند کی پٹائی کرائی تھی کہ تیز ہوا چلنے سے چھت سے لکڑی کا ایک تختہ لڑھکا اور رشیداں بی بی کے سر پر آگرا جس سے وہ بے ہوش ہو گئی اور کئی گھنٹوں کے علاج کے بعد ہو ش میں آئی تو اس کا حافظہ جواب دے گیا تھا ۔ ڈھائی تین سال اسی حالت میں مبتلا رہ کر وہ وفات پا گئی ۔ میں تعزیت کے لئے گیا تو عامر نے بتایا کہ اس نے یہاں کی ساری جا ئیداد دکانیں اور مکان بیچ کر اسلام آباد منتقل ہونے کا پروگرام بنا لیا ہے ۔ اس نے دکھ ا ور نفرت کے احساس سے کہا ۔ یہ جگہ انسانو ں کے رہنے کی نہیں ہے ، زندگی کی کوئی سہو لت بھی تو حاصل نہیں ہے یہاں میں چاہتا ہوں کہ میری بیٹیاں اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کریں اور آزادی کے ماحول میں زندگی گزاریں ۔

"لیکن سات بیٹیوں کے ساتھ اپنے آپ کواسلام آباد کے اجنبی ماحول میں کیسے ایڈ جسٹ کریں گے۔ یہا ں آپ کی برادری ہے، خاندان ہے ، حلقہ تعارف ہے ۔ وہا ں یہ سہولتیں میسر نہیں آئیں گی ۔ وہاں آپ کو رشتوں کے حوالے سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ “ میں نے اس کے منصوبے سے اختلاف کیا۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں ۔ عامر کہنے لگا ” لڑکیا ں پڑھ لکھ کر عملی زندگی میں آئیں گی تو خو د ہی مسائل کو حل کر لیں گی ۔ میں انگلی پکڑ کر کب تک ان کی راہنمائی کروں گا “ اور پھر وہا ں امام بری کا مزار بھی تو ہے ، وہ امام صا حب سے بڑی درگاہ ہے۔ “ اور عامر نے واقعی ایسا کر دکھایا ۔ ا س نے دکانیں ، پلاٹ ، زمین سب کچھ بیچ دیا اور اسلام آباد چلا گیا ۔

پتہ نہیں وہاں کس حال میں ہے ؟ یو ں لگتا ہے کہ جس طرح ماسی ریشم اور رشیداں کی قسمت سے انہیں کبھی سکھ کا سانس لینا نصیب نہ ہوا تھا ، اسی طر ح عامر کا مقدر ان جوتو ں سے بندہ گیا ہے جو اس نے اپنے باپ کے سر پر مارے تھے ۔ ایسا لگتا ہے یہ جوتے اسے در بدر کی ٹھوکریں کھا نے پر مجبور کرتے رہیں گے اور وہ ساری عمر ذلت و رسوائی کی جا نب اپنا سفر جاری رکھے گا۔

دسمبر 10, 2010 at 08:56 تبصرہ کریں

لو آئی ہنسی!!!

پہلا دوست: ایک بار افریقہ کے جنگل میں مجھے اور میری بیوی کو آدم خور قبائیلوں نے گھیر  لیا ۔ ان کے سردار نے مجھے دیکھ کر کہا کہ وہ چالیس سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو نہیں کھاتا ۔
دوسرا دوست: اچھا پھر؟
پہلا دوست: پھر کیا یہ زندگی میں پہلا موقع تھا جب میری بیوی نے اپنی عمر کے بارے میں سچ بولا ۔
پٹھان میں تمہارے لیے سب کچھ چھوڑ دوں گا
لڑکی: امی، ابو
پٹھان: ہاں
لڑکی: اپنے دوست
پٹھان: ہاں
لڑکی: نسوار
پٹھان: او باجی گھر جاؤ تمہارا ابو پریشان ہوتا ہوگا…………….
ایک سردار جی نئی نئی سائیکل پر اپنی بہن کے ساتھ جا رہے تھے ۔ ان کے ایک دوست نے ان کی بہن کو دیکھا تو غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا اور آواز لگائی ،
اوہو ، معشوقاں !
سردار جی تاؤ کھا گئے ، بولے ، معشوق ہو گی تیری ، میری تو بہن ہے !
ایک فوجی افسر نے اپنے ماتحتوں کی دعوت کی اور خوش ہوکر کہنے لگا;
جوانوں آج کھانے پر اس طرح ٹوٹ پڑو جس طرح دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہو
ایک سکھ جوان جلدی جلدی کھانا اپنی جیبوں میں ٹھونسنے لگا-
افسر نے دیکھا اور غصے سے پوچھا؛ اوئے یہ کیا کر رہے ہو؟
جوان بولا؛ جناب جتنے مارنے تھے مار ڈالے باقی قیدی بنا رہا ہوں
پپو : ” وہ جو ہمارے ہمسائے تھے ناں، وہ پتلے سے دھان پان سے، وہ ٹنکی میں گر گئے۔”
گڈو : ” وہ کیسے؟”
پپو : ” وہ کسی نے پنکھے کا رُخ ان کی طرف کر دیا تھا۔”
ایک دودھ والے کئ بھینس گم ھو گئ۔
کافی ڈھونڈا پر کہیں نہیں ملی۔۔
تو وہ پولیس تھانے رپورٹ درج کرانے چلا گیا۔
دودھ والا، صاہب جی میری بلو نس گئی،
تھانے دار، ضرور کوئ لڑائ ہوئی ہو گی،
دودھ والا، نہیں صاحب بلو میری مج دا نام اے۔
تھانیدار،
Oh I See
دودھ والا غصے میں آگیا اور تھانے دار کے گال پر ایک زور دار تھپڑ مار دیا۔
تھانے دار، یہ کیوں؟
دودھ والا، او آئی سی تے پھزی کئوں نہیں سی۔
بینک کلر ک سے ایک آدمی نے کہا
"جناب ، میں ٹی وی لائسنس کی آدھی فیس جمع کراؤں گا "۔
کلرک نے حیرت سے پوچھا ۔”وہ کیوں "
اس آدمی نے جواب دیا ۔ "کیونکہ میں ایک آنکھ سے کانا ہوں "
ایک آدمی ریلوے میں بھرتی ہونے کے لئے انٹرویو دینے گیا
“فرض کرو دو ٹرینیں برق رفتاری سے آمنے سامنے سے آرہی ہیں ۔ تو ایسے میں آپ کیا کرینگے؟“
پہلا سوال پوچھا گیا۔
“میں خطرے کا سگنل دونگا۔“امیدوار نے اعتماد سے جواب دیا۔
“اگر سگنل کام نہ کرے تو ؟“ اگلا سوال آیا۔
“میں لالٹین سے کام لوں گا جناب!“امیدوار نے اسی اعتماد سے جواب دیا۔
“اگر لالٹین میسر نہ ہو تو؟“ایک اور حجت بھرا سوال ہوا۔
“تو پھر جناب میں اپنے چھوٹے بھائی کو بلا لاؤں گا۔“امیدوار نے چند لمحے سوچنے کے بعد کہا۔
“لیکن وہ کیا کرے گا؟“اب کے حیرت بھرا سوال ہوا۔
“اس نے کبھی ٹرین کی ٹکر نہیں دیکھی نا۔“امیدوار نے سادگی سے جواب دیا۔
ایک صاحب کے گھر میں چور گھس آیا۔ انہوں نے بڑی ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے چور کی کنپٹی پر پستول رکھا اور ہاتھ اوپر کرایا اور منہ دیوار کی طرف کر کے کھڑا کر دیا۔ اب سوچنے لگے کہ شور مچا کر محلے والوں کو بلایا جائے یا فون پر پولیس کو اطلاع دی جائے۔ اسی دوران میں ان کا چھوٹا بیٹا پانی کا گلاس لے کر بھاگا ہوا آیا اور کہنے لگا: ابو ! ابو! پستول میں پانی بھر لیں۔ یہ پانی کے بغیر نہیں چلتا۔
آصف زرداری سے جب پوچھا گیا کہ لوگ ان کی حب الوطنی پر شک کرتے ہیں تو وہ بولے۔
“دیکھیے میں بہت محب وطن ہوں۔ انگلینڈ میں میرا سرے محل بکنگھم پیلس جیسا شان وشوکت والا ہے جس میں میں رہتا ہوں، جرمنی کی مرسٹڈیز یا بی۔ایم-ڈبلیو گاڑیوں میں گھومتا ہوں۔ میرے لیے منرل واٹر اٹلی سے آتا ہے۔ لیکن میری مونچھیں دیکھیں۔ پھر بھی پاکستانی سٹائل میں ہیں۔
یہ حب الوطنی نہیں تو اور کیا ہے ؟
ایک شخص دریا سے مچھلی پکڑ کے لایا اور بیوی سے بولا یہ پکاؤ
اسکی بیگم بولی کیسے پکاؤں زرداری کی پالیسیوں کی وجہ سے گھر میں بجلی ، گیس نہیں ہے ، کوکنگ آئل اور گھی بھی نہیں ہے آٹا بھی ختم ہوگیا ہے ۔
اس آدمی نے مچھلی دوبارہ دریا میں ڈال دی
مچھلی دوبارہ سطح آب پہ آئی اور زور سے نعرہ لگایا
جیو زرداری
ایک آدمی مرنے کے بعد جنت میں گیا !
فرشتے اسے لیکر سیر کرانے نکلے – ایک عمارت کے پاس اس نے کچھ گھڑیاں لگی دیکھیں۔ فرشتے سے اس نے پوچھا یہ گھڑیاں یہاں کیوں لگی ہیں؟
فرشتے نے جواب دیا، یہ گھڑیاں انسانوں کی ہیں – جب بھی وہ جھوٹ بولتے ہیں کانٹا ایک نشان آگے بڑھ جاتا ہے۔
یہ دیکھو یہ گھڑی محمد بن قاسم کی ہے، وہیں کی وہیں کھڑی ہے، اس کا مطلب کہ اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اور یہ لیاقت علی خان کی ہے صرف دو نشان آگے بڑھی ہے اس کا مطلب کہ انہوں نے دو مرتبہ جھوٹ بولا۔
آدمی نے پوچھا کہ یہ بتاؤ، زرداری کی گھڑی کدھر ہے؟
فرشتہ بولا، وہ ہم نے اپنے آفس میں رکھی ہے، پیڈسٹل فین کی جگہ ہم وہی استعمال کر رہے ہیں آجکل۔
صحافی نے زرداری سے پوچھا آپ اپنے کیے ہوئے وعدے کب پورے کریں گے
زرداری : مجھے کیا پتا میں کوئی نجومی ہوں
نواز شریف ، آصف زرداری اور پرویزالہی غلطی سے انڈیا کا باڈر کراس کر گئے
اُن کو انڈین آرمی نے پکڑ لیا
اور عدالت نے اُن کو دس دس کوڑوں کی سزا سنائی
جب دروغا کوڑے لگانے لگا تو اُس نے اُن سے اُن کی کوئی خواہش پوچھی
پرویزالہی بولا میرے پیچھے دو تکیے باند کر کوڑے لگایں
آصف زرداری بولا میرے پیچھے پانچ تکیے باندھ کر کوڑے لگایں
نواز شریف بولا میرے پیچھے پہلے دو تکیے باندیں اس کے بعد آصف زرداری کو باندھیں
اس کے بعد پرویزالہی کو باندھیں اور پھر دس کی بجائے بیس کوڑے لگائیں
آصف زرداری کو ایک جن ملتا ہے
جن کیا حکم ہے میرے آقا
زرداری: مجھے ایک نیک اور خداترس انسان بنادو
جن آقا حکم دو، چوّلیں نہ مارو
ایک طیارے میں صدر آصف زرداری ، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن اکٹھے سفر کر رہے تھے۔
مولانا فضل الرحمن بولے “میں یقین سے کہتا ہوں کہ اگر میں پانچ ہزار کے نوٹوں کا بنڈل نیچے پھینک دوں تو عوام میں کم از کم ایک آدمی کی زندگی سنور جائے گی۔”
نواز شریف بولے ” اگر میں پانچ ہزار کے دس نوٹ نیچے پھینک دوں تو یقیناً دس آدمیوں کی زندگی سنور جائے ”
صدر آصف علی زرداری طیش میں آکر بولے ” اگر میں پانچ پانچ ہزار کے پچاس نوٹ نیچے پھینک دوں تو کم از کم پچاس آدمیوں کی زندگی سنور جائے گی ”
یہ باتیں طیارے کا پائلٹ سن رہا تھا، وہ بولا ” اگر میں آپ تینوں کو زمین پر پھینک دوں تو سارے پاکستانی عوام کی حالت سنور جائے گی ”

دسمبر 2, 2010 at 10:51 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad Poetry
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے”
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad Poetry