Posts tagged ‘Urdu Story’

مُلا نصیرالدین کی حاضر جوابی

ایک بار بہت برف باری ہو رہی تھی. کافی ٹھنڈ ہو گئی تھی. مُلا نصیرالدین کے دوستوں نے کہا کہ اس سردی میں تو کوئی بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور رات کا کوئی ایک لمحہ بھی باہر نہیں گزار سکتا. مُلا نصیرالدین نے کہا کہ میں رات گھر سےباہر کھلے آسمان کے نیچے گزاروں تو کیا تم میرے سب گھر والوں کی دعوت کرنے کو تیار ہو. سب دوستوں نے کہا کہ مُلا پاگل ہو گیا ہے بھلا ایسی سردی میں کون باہر رات گزار سکتا ہے. دوستوں نے کہا کہ اچھا موقع ہے مُلا اپنے آپ کو ہم سے زیادہ عقلمند سمجھتا ہے. چلو شرط لگا لیتے ہیں بیچارہ اپنی جان کے پیچھے پڑگیا ہے ..مُلا نے کہا کہ اگر میں شرط جیت گیا تو تم سب کو میرے گھر والوں کی دعوت کرنی ہو گی ورنہ میں تم سب کی دعوت کروں گا اگر شرط ہار گیا.

دوستوں نے کہا ہمیں منظور ہے.آخر وہ رات بھی آ گئی ملا قمیض شلوار میں گھر سے باہر جا بیھٹا. سب دوست اسکو ایک بند کمرے کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھ رہے تھے. مُلا ساری رات سردی میں ٹہڑتا رہا آخر کوصبح ہو گئی..اب تو دوست بڑے حیران ہوئے اور کہا کہ ہم نہیں مان سکتے کہ ایسا ہو سکتا ہے. تم زندہ کیسے بچ سکتے ہو اس سردی میں تو ایک پل باہر نہیں رہا جا سکتا اور تم قیمض شلوار میں ساری رات بیھٹے رہے . مُلا نے کہا کہ بھئی تم سب شرط ہار گئے ہو اب بھاگو مت میری دعوت کرو. ایک دوست نے کہا کہ ملا تم جہاں تھے وہاں کوئی گرم چیز تھی کیا یاد کرو ملا نے کہا کہ نہیں کوئی چیز نہیں تھی. اب تم میری دعوت کرو..دوست نے کہا کہ یاد کروآس پاس کوئی ایسی چیز تھی.

ملا نے ذہن پر زور دیا اور کہا کہ ہاں یاد آیا جہاں میں بیھٹا تھا وہاں پر ایک کھڑکی میں موم بتی جل رہی تھی. مگر اتنی سی موم بتی سے کیا ہوتا ہے. اب تو دوستوں کے ہاتھ جیسے ملا کی کمزوری آ گئی. دوستوں نے کہا کہ ہاں جب ہی تو ہم بولیں کہ تم آخر بچ کیسے گئے. اس موم بتی کی گرمی کی وجہ سے تم شرط ہار گئے ہو. مُلا اب تم ھماری دعوت کرو ہم نے کہا تھا کہ تمہارے پاس کوئی گرم چیز نہیں ہو گی. مگر تم ساری رات ایک موم بتی کی گرمی میں زندہ رہے ..ملا سے کوئی جواب نہ بن سکا اگلے دن سب دوست ملا کے گھر دعوت میں جمع ہوئے. مُلا نے کہا کہ بیھٹو یاروں ابھی کھانا پک کر تیار ہو جاتا ہے دوست کافی دیر بیٹھے رہے اور انتظار کرتے رہے مگر کھانا نہیں آیا.

دوستوں نے کہا کہ مُلا ابھی کتنی دیر اور  ہے. مُلا نے کہا کہ بس تھوڑی دیر اور دوستوں نے کچھ دیر اور انتظار کیا جب کھانا نہیں آیا تو دوستوں نے کہا کہ تم ہم سب کو بیوقوف بنا رہے ہو بھلا کھانے میں اتنا ٹائم لگتا ہے. دکھاؤ ہم کو کھانا کہاں بن رہا ہے ہم بھی تو دیکھیں. مُلا سب کو اپنے باورچی خانے میں لے گیا دوستوں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا پیتلا رکھا ہوا ہے اور اس کے نیچے ایک موم بتی جل رہی ہے. دوستوں نے یہ دیکھا تو کہا کہ ابے مُلا کبھی اس موم بتی سے بھی کھانا بنتا ہے. پاگل تو نہیں ہو گیا کیا؟ مُلا نے کہا کہ جب موم بتی سے انسان بچ سکتا ہے تو کھانا نہیں بن سکتا. یہ بات سن کر سب دوست بہت شرمندہ ہوئے اور اگلے دن سب نے مُلا کےگھر والوں کی دعوت کی سب مُلا کی اس حاضر جوابی سے بڑے متاثر ہوئے…..

نومبر 22, 2010 at 08:21 تبصرہ کریں

جھنگا پہلوان ریفری بنے

چیلنج گراؤنڈ پر فٹ بال کے مقابلے ہو رہے تھے۔ سارا شہر ان مقابلوں کو دیکھنے کے لئے امڈا ہوا تھا ۔اور ہر کوئی رات میں یا دن میں ہوئے فٹ بال کے میچوں اور ان میچوں میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کا ذکر کرتا تھا ۔
جھنگا پہلوان بھی کئی دنوں سے فٹبال کے چرچے سن رہے تھے ۔اس سے قبل انہیں کبھی میچ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ صرف ٹی وی پہ کبھی کبھی چینل تبدیل کرتے ہوئے انہوں نے فٹ بال دیکھا تھا۔ اس وجہ سے اس کھیل کے صحیح خدوخال اور اصول و ضوابط سے واقف نہیں تھے۔
اس لئے ان کے دل میں آیا کہ کیوں نہ آج فٹ بال کے مقابلے دیکھے جائیں۔ انہوں نے اپنے خاص الخاص للو کو ساتھ لیا اور چیلنج گراؤنڈ کی طرف چل دیئے۔ راستے میں جو بھی ملتا ان سے کہتا۔
’’ارے واہ پہلوان ۔ آپ بھی فٹ بال دیکھنے جا رہے ہیں؟‘‘
’’یہ پہلوانی کے ساتھ ساتھ فٹ بال کا شوق کب سے ہو گیا ؟‘‘
’’پہلوان کیا فٹ بال مقابلوں کی ٹیم کی طرف سے کھیلنے کا ارادہ ہے؟‘‘ جھنگا پہلوان ان کی ان باتوں کا کیا جواب دیتے صرف مسکرا کر آگے بڑھ جاتے۔
للو فٹ بال کی تعریف کیئے جا رہا تھا۔
’’ استاد دنیا میں سب سے زیادہ کھیلا جانے والا کھیل فٹ بال ہے ساری دنیا میں کھیلا جاتا ہے کرکٹ تو آٹھ دس ممالک سے زیادہ ملکوں میں کوئی جانتا بھی نہیں۔ لیکن فٹ بال تارک افریقہ کے گھنے جنگلوں میں بھی افریقہ کے وحشی جنگلی قبائل کھیلتے ہیں اور تو اور دنیا کی ایک قوم جس کو دنیا کے کسی کھیل میں کوئی دلچسپی نہیں وہ بھی اس کھیل کو کھیلتی ہے۔‘‘
’’بھئی وہ کون سی قوم ہے جسے دنیا کے کسی کھیل میں دلچسپی نہیں لیکن وہ بھی فٹ بال کھیلتے ہیں؟‘‘ جھنگا پہلوان نے حیرت سے پوچھا۔
’’ عرب قوم ، عرب لوگ بھی فٹ بال کھیلتے ہیں۔‘‘ للو نے کہا اور ہنسنے لگا جیسے اس نے کوئی بہت مزیدار لطیفہ سنایا ہو۔
چیلنج کے گراؤنڈ میں پہونچ کر گراؤنڈ کے انچارج ولاس راؤ نے ان کا پرتباک انداز میں استقبال کیا۔’’ ارے جھنگا پہلوان جی، آئیے۔ آئیے۔ آج ہمارے گراؤنڈ کی تقدیر جاگی آُپ کے قدم اس گراؤنڈ پر پڑے۔‘‘ ولاس بولا۔
’’ہاں بھئی، سارے شہر میں اس گراؤنڈ پر چل رہے فٹ بال مقابلوں کا شور ہے سوچا آج فٹ بال کے مقابلے دیکھتے ہیں۔‘ ‘ جھنگا نے جواب دیا۔
’’ آپ فٹ بال کے مقابلے صرف دیکھئے نہیں ، بلکہ ان میں شامل بھی ہو جائیے۔ ‘‘ ولاس بولا۔
’’ کیا مطلب ؟‘‘ جھنگا پہلوان اس کا منہ دیکھنے لگا۔
’’ فٹ بال کے جو مقابلے ہو رہے ہیں ہم ان مقابلوں کا ریفری شہر کی کسی معتبر نامور سردکردہ شخصیت کو بناتے ہیںَ تا کہ ان کی عزت افزائی بھی ہو اور ان کی فٹ بال میں دلچسپی بھی بڑھے۔ آپ بھی شہر کی مشہور و معروف شخصیتوں میں شامل ہیں۔ اس لیے آپ کو بھی اگلے میچ کا ریفری بنایا جاتا ہے۔‘‘ ولاس بولا۔
’’میچ کا ریفری اور میں ؟‘‘ پہلوان گھبرا گئے،’’ مجھے تو فٹ بل کی اے بی سی بھی نہیں آتی پھر میں بھلا میچ ریفری کس طرح بن سکتا ہوں۔‘‘
’’اب تک شہر کی جن ہستیوں نے یہ فرائض انجام دیئے وہ بھی اس کام کو کب جانتے تھے۔ کام کرتے کرتے سیکھ گئے۔ آسان سا کام ہے۔ کھلاڑیوں کے فاؤل پر نظر رکھنا ہے۔ ان کے فاؤل پر فری کک، پینلٹی کک، کارنر وغیرہ دینا ہے۔ اور کوئی کھلاڑی زیادہ ہی فاول کریں یا خطرناک طور پر فٹ بال کھیلیں تو سزا کے طور پر انہیں یلو کارڈ، ریڈ کارڈ وغیرہ بتا کر میچ سے باہر کردیں۔‘‘ ولاس نے فٹ بال کے ریفری کے سارے فرائض جھنگا پہلوان کو سمجھا دئیے۔
’’ اگر صرف یہی کام کرنا ہے تو یہ میرے بائیں ہاتھ کا کام ہے‘‘، جھنگا پہلوان نے دل ہی دل میںسوچا اور وہ میچ میں ریفری بننے کے لئے تیار ہو گئے۔ اگلا میچ ایگل اور آزاد ہند ٹیموں کے درمیان تھا۔
ٹیمیں میچ کھیلنے کے لئے میدان میں اتریں تو ان کے ساتھ جھنگا پہلوان کو بھی سیٹی اور ضروری کارڈ دیکر میدان میں ریفری کے فرائض انجام دینے کے لئے اتار دیا گیا۔ لیکن وہاں سب سے بڑی مشکل جھنگا پہلوان کی لنگی نے کھڑی کر دی۔
ان سے کہا گیا کہ میچ میں ریفری کے فرائض انجام دینے ہیں تو آپ لنگی اتار کر چڈی پہن لیجئے، فٹ بال کے کھلاڑی اور ریفری انڈر وئیر ہی پہنتے ہیں۔لیکن جھنگا پہلوان نے لنگی اتارنے سے انکار کر دیا۔
’’یہ لنگی میری شخصیت کی پہچان ہے اور میں اسے اتار کر اپنی شخصیت کھونا نہیں چاہتا۔‘‘
سب نے بہت سمجھایا کہ استاد آپ لنگی پہن کر ریفری کے فرائض انجام نہیں دیں گے۔لیکن جھنگا پہلوان اس پر بضد تھے کہ وہ لنگی پہن کر ہی یہ کام کریں گے اور بخوبی اپنا فرض انجام دیں گے۔پہلوان کی ضد کے آگے دو ٹیمیں جھک گئیں۔
میدان میں درمیان میں کھیل شروع کرنے کے لئے گیند رکھی گئی اور پہلوان کو اشارہ کیا گیا کہ وہ سیٹی بجا کر کھیل شروع کرنے کا اشارہ کرے۔
پہلوان نے سیٹی بجائی اور کھیل شروع ہوگیا۔
دونوں ٹیم کے کھلاڑی پیروں سے گیند کو مارتے دور تک لیکر چلے گئے۔ کبھی ایک ٹیم بال کو دوسری ٹیم کے میدان میں لے جانے کی کوشش کرتی کبھی دوسری ٹیم مدمقابل ٹیم کے میدان میں۔
پہلوان دور کھڑے اس تماشے کو دیکھ رہے تھے۔
ایگل کے کپتان انزل کی نظر پہلوان پر پڑی تو وہ دوڑتا ہوا ان کے پاس آیا اور بولا۔ ’’استاد اس طرح ایک جگہ کھڑے ہو کر فٹ بال میچ میں ریفری شپ نہیں کی جاتی ہے۔ ریفری کو بال کے ساتھ دوڑنا پڑتا ہے۔ تبھی تو اسے پتہ چلتا ہے کہ کون سا کھلاڑی کیا غلطی یا فاول کر رہا ہے۔ اور وہ اسے سزا دیتا ہے۔‘‘
پہلوان کے لیے یہ بات نئی تھی۔ اب کھیل کا یہ اصول ہے کہ ریفری بھی بال کے ساتھ ساتھ دوڑے تو انہیں بھی دوڑنا ہی پڑے گا۔
جیسے ہی بال ان کے قریب آئی وہ بال کے ساتھ دوڑنے کی کوشش کرنے لگے۔ لیکن دونوں ٹیموں کے کھلاڑی بڑے پھرتیلے تھے۔ چیتے کی رفتار سے دوڑ کر بال کو اپنے قبضے میں کرتے اور بال کو دوسرے کھلاڑی کی طرف اچھال دیتے۔ ہاتھی کی طرح ڈیل ڈول والا جھنگا پہلوان بھلا ان کی سی پھرتی اور تیزی سے کہاں دوڑ سکتا تھا۔
دوڑنا تو دور وہ ٹھیک طرح سے چل بھی نہیں پا رہا تھا۔
ان کے لئے سب سے بڑی مصیبت ان کی لنگی بنی ہوئی تھی۔
جیسے ہی وہ دوڑتے ان کا پیر لنگی میں اٹکتا اور وہ دھڑام سے منہ کے بل زمین پر گر جاتے۔ تماشائیوں کو فٹ بال دیکھنے سے زیادہ جھنگا پہلوان کو دیکھنے میں مزہ آرہا تھا۔ جب وہ گرتے تو سارا میدان قہقہوں سے بھر جاتا تھا۔ موٹا تازہ، جسم جب زمین سے ٹکراتا تو کئی مقامات پر چوٹیں آتیں اور وہاں سے درد کی لہریں اٹھنے لگتیں۔
لیکن فرض کی ادائیگی کے لئے وہ پھر سے اٹھتے اور بال کے ساتھ دوڑنے کی کوشش کرتے جب وہ میدان میں دوڑتے تو ایسا لگتا جیسے بہت بڑی گیند میدان میں چاروں طرف لڑھک رہی ہے۔
تھوڑی دیر میں ہی ان پر ایک نئی مصیبت نازل ہوئی۔
ان کی سانسیں پھول گئیں اور وہ ہانپنے لگے۔ ایک جگہ کھڑے ہو کر وہ اپنی اکھڑی سانسوں پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگے۔ ادھر انہیں کھڑا دیکھ کر تماشائی شور مچانے لگے۔
’’ ریفری ۔۔۔ ریفری ۔ ایک جگہ کیا کھڑے ہو ، دوڑو ۔۔۔۔ فاول دو ۔۔۔۔‘‘
تماشائیوں کے شور سے بچنے کے لئے وہ دوڑتے لیکن پیر پھر لنگی میں الجھ جاتا اور وہ پھر دھڑام سے گر جاتے۔
’’استاد کیوں اتنی پریشانی مول لے رہے ہو۔‘‘ انزل ان کی پریشانی دیکھ کر ان کے قریب آیا ، ’’ لنگی اتار دو، اس میں عافیت ہے۔‘‘
پہلوان نے اس وقت لنگی اتار دی، اور صرف اپنی لنگوٹ پر دوڑنے لگے۔ ادھر تماشائیوں نے سمجھا پہلوان کی لنگی کھل گئی ہے ۔ وہ اس بات پر پیٹ پکڑ پکڑ کر ہنسنے لگے۔ اچانک کھلاڑیوں میں ایک آواز ابھری۔
’’ پینلٹی کک۔‘‘
اور انہوں نے بھی منہ سے آواز نکالی۔
’’ پینلٹی کک دی جاتی ہے۔‘‘
ایگل کو پینلٹی کک دی گئی تھی آزاد کے کھلاڑی حیران تھے کہ ان سے تو ایسی کوئی غلطی نہیں ہوئی تھی جس کی وجہ سے ان کے خلاف پینلٹی کک دی جائے۔
بہر حال ایگل نے پینلٹی کک پر گول بنا دیا۔
پورا میدان تماشائیوں کی تالیوں اور شور سے گونج اٹھا۔
پہلوان نے دیکھا یہ خوشیاں گول بننے پر منائی جا رہی ہیں۔ تماشائیوں کو گول بننے پر بڑا مزا آتا ہے تو ٹھیک ہے، میں تماشائیوں کی پسند کا خیال رکھوں گا۔
تھوڑی دیر بعد انہوں نے آزاد ہند کو پینلٹی کک دے دی۔
’’ استاد ۔ میری ٹیم نے تو کوئی غلطی نہیں کی ہے تو آپ نے ہمارے خلاف پینلٹی کک کیوں دی‘‘ ، انزل احتجاج کرتا ہوا ان کے پاس آیا۔ انہیں یاد آیا کہ کوئی کھلاڑی اگر حجت کرے تو اسے کارڈ نکال کر ڈرایا دھمکایا جانا چاہئے۔
انہوں نے ایک کارڈ نکال کر انزل کو بتایا۔
تماشائی زور زور سے تالی بجانے لگے۔
جھنگا پہلوان کتنی اچھی امپائرنگ کر رہے ہیں۔ ابھی پینلٹی کک دی اور اب ایک کھلاڑی کو بک کر کے کارڈ بتایا۔
انہوں نے انزل کو کون سا کارڈ بنایا تھا اور اس کارڈ کا مطلب کیا تھا انہیں خود اس بات کا پتہ نہیں تھا۔ لیکن انہوں نے دیکھا ان کے کارڈ بتانے پر انزل ڈر گیا ہے۔
پینلٹی کک پر آزاد ہند ٹیم نے گول کر کے اسکور برابر کر دیا۔ اسکور برابر کر تے ہی تماشائیوں میں ایک جوش پیدا ہو گیا اور دونوں ٹیمیں بھی پورے جوش و خروش سے کھیلنے لگیں۔
تھوڑی دیر بعد انہوں نے ایگل کو کارنر دیا جس پر اس نے گول بنا ڈالا اس پر آزاد ہند کے کپتان کو غصہ آگیا لیکن وہ جھنگا پہلوان سے حجت کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ جھنگا پہلوان حجت کرنے پر اسے کارڈ دکھا کر اسے بک کرے گا۔
اس نے ایک دو کھلاڑیوں کو بلا کر کان میں کچھ کہا۔
تھوڑی دیر میں کھیل کا نقشہ بدل گیا۔
جن کھلاڑیوں کو آزاد ہند کے کپتان نے کچھ کہا تھا وہ بال کے ساتھ ساتھ دوڑنے کے بجائے پہلوان کے ساتھ دوڑ رہے تھے ، دوڑتے ہوئے موقع ہاتھ لگتے ہی ایک کھلاڑی نے پہلوان کو ٹانگ ماری اور آگے بڑھ گیا پہلوان منہ کے بل زمین پر گر پڑے۔
دوڑنا پہلوان کے لئے مشکل ہو رہا تھا۔
وہ سر سے پیر تک پسینے میں نہا گئے تھے، دوڑنے سے ان کی سانسیں پھول رہی تھیں اور جان نکلتی محسوس ہورہی تھی۔ اپنے اتنے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ انہیں دوڑنے کا کم ہی اتفاق ہوا تھا۔ اور یہاں تو مسلسل دوڑنا پڑ رہا تھا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ یہاں اس کھلاڑی نے انہیں گرا دیا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد دوسرے کھلاڑی نے انہیں گرایا۔ اور اس کے بعد تیسرے کھلاڑی نے۔ وہ ان سے کارنر دینے کا بدلہ لے رہے تھے۔
جب پہلوان کو یہ محسوس ہوا کہ ان سے بدلہ لیا جا رہا ہے تو انہیں بھی غصہ آگیا اور انہوں نے بھی بدلہ لینے کی ٹھان لی۔
انہوں نے ایک دو تین کھلاڑیوں کو کارڈ دکھا کر بک کیا۔
تینوں کو انہوں نے کون سا کارڈ دکھایا تھا انہیں خود اس کارڈ کے کام کا پتہ نہیں تھا۔ لیکن کارڈ دکھاتے ہی تماشائی شور مچانے لگے۔
’’باہر ۔۔۔۔ باہر ۔۔۔ باہر جاؤ۔‘‘
’’باہر جاؤ۔۔۔‘‘
اور کھلاڑی چپ چاپ باہر چلے گئے تو پہلوان کی بانچھیں کھل گئیں۔ تو یہ کارڈ ہے جسے بتا کر کھلاڑی کو باہر بھیجا جا سکتا ہے۔
اب صورت حال یہ تھی کہ آزاد ہند کے تین کھلاڑی باہر بھیجے جا چکے تھے۔ اور وہ آٹھ کھلاڑیوں کے ساتھ ہی کھیل رہی تھی۔
تھوڑی دیر میں پہلوان کو محسوس ہوا یہ تو ناانصافی ہے۔ ایک ٹیم سب کھلاڑیوں کے ساتھ میچ کھیلے اور دوسری آدھے کھلاڑیوں کے ساتھ ، فوراً انہوں نے ایگل کے تین کھلاڑیوں کو کارڈ دکھا کر میدان سے باہر جانے کا حکم دے دیا۔
وہ کھلاڑی احتجاج کرتے رہ گئے کہ انہوں نے کون سی غلطی کی ہے۔ کس غلطی کی سزا کے طور پر انہیں میدان کے باہر بھیجا جا رہا ہے۔ یہ تو بتایا جائے۔ لیکن اس بات کا جواب تو پہلوان کے پاس بھی نہیں تھا۔
اس درمیان وقفہ بن گیا۔
اور پہلوان کی جان میں جان آئی۔
للو دوڑتا ہوا میدان میں آیا اور وہ پہلوان کے جسم سے پسینہ پونچھنے لگا۔
’’ واہ استاد ، کیا ریفری کا فرض انجام دیا ہے۔ پوری اسٹیڈیم کے تماشائی آپ کے اس کام کی تعریف کر رہے ہیں۔ کہہ رہے ہیں اس سے اچھا ریفری آج تک انہوں نے نہیں دیکھا ۔ انصاف سے کام لیتا ہے۔ کسی بھی ٹیم کی طرف داری نہیں کرتا ہے۔ ایک ٹیم کے تین کھلاڑیوں کو اگر میدان کے باہر کرتا ہے تو دوسری ٹیم کے بھی تین کھلاڑیوں کو میدان کے باہر کرتا ہے۔ دونوں ٹیموں کو پینلٹی کک کا برابری کا موقع دیتا ہے۔‘‘
’’ سب کچھ خود بخود ہو رہا ہے۔‘‘ استاد نے اعتراف کیا، ’’کیسے ہو رہا ہے، خود مجھے بھی اس بات کا علم نہیں ہے۔ میں تو اس کھیل کا ا ب ت بھی نہیں جانتا ہوں۔‘‘
کھیل دوبارہ شروع ہوا۔
اب پہلوان نے اپنی طور پر فٹ بال کھیلنا شروع کر دیا۔
ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے سارے کھلاڑی کٹھ پتلیاں بن گئیں ہیں جن کی ڈور جھنگا پہلوان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس طرح چاہے انہیں نچا سکتا ہے۔ جھنگا پہلوان دونوں ٹیموں کے ساتھ کٹھ پتلیوں والا کھیل رہے تھے۔ جن کی ڈوریں ان کے ہاتھ میں تھیں۔
ایک ٹیم کو پینلٹی کک کارنر دے دیتے۔ وہ اس کا فائدہ اٹھا کر مد مقابل ٹیم کے خلاف گول اسکور کر کے مد مقابل پر سبقت حاصل کر کے خوشیاں مناتی۔ اس کے شائقین خوشیاں مناتے لیکن وہ خوشیاں زیادہ دیرپا نہیں ہوتیں۔
فوراً پہلوان مدمقابل ٹیم کو بھی اس طرح کا ایک موقع عنایت کر دیتے اور وہ بھی اس موقع کا فائدہ اٹھا کر اسکور برابر کر کے اپنے مد مقابل ٹیم کے جوش پر ٹھنڈا پانی ڈال دیتی۔
اس کے بعد ایک دوسرے پر سبقت پانے کے لئے دونوں ٹیمیں پھر سے جوش کے ساتھ کھیلنے لگتیں۔ لیکن دراصل جھنگا پہلوان دونوں ٹیموں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور انہیں کھلا رہے تھے۔
دونوں ٹیمیں ان کی ریفری شپ کی شکایت بھی نہیں کر رہی تھیں کیونکہ وہ دونوں کو برابر برابر کا موقع دے رہے تھے۔ اگر وہ ایک ٹیم کو غلط پینلٹی کک ، کارنر وغیرہ دیتے بھی تو دوسری ٹیم مطمئن رہتی۔
کوئی بات نہیں اگلی بار ہماری باری ہے۔
اس کے بعد جھنگا پہلوان نے ایک نیا کھیل شروع کر دیا۔
آزاد ہند ٹیم کو مسلسل پانچ پینلٹی کک کا موقع دے دیا۔ جس پر انہوں نے مسلسل پانچ گول اسکور کر کے ایگل پر پانچ گولوں کی سبقت حاصل کر لی۔
انزل کے ہوش اڑ گئے۔ اسے اپنی ٹیم کی شکست سامنے دکھائی دینے لگی۔ اسے پتہ تھا اس کی ٹیم اتنی طاقت ور نہیں ہے کہ مسلسل پانچ گول اسکور کر کے برابری کرے۔ لیکن یہ کھیل تو جھنگا پہلوان کے ہاتھ میں تھا۔ انہوں نے کچھ دیر بعد ہی انزل کی ساری فکریں دور کر دیں۔
اس بار انہوں نے انزل کی ٹیم کو مسلسل پانچ موقع دئیے اور ان موقعوں کا فائدہ اٹھا کر انزل کی ٹیم نے پانچ گول اسکور کر کے حساب برابر کر دیا۔ تماشائیوں کا جوش بڑھتا جا رہا تھا۔ ان کے دلوں کی دھڑکنیں بڑھتی جا رہی تھیں اتنے گول اسکور ہوں دونوں ٹیمیں اس طرح سے کھیلیں گی اس بارے میں انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔
اس کے بعد اپنے ریفری ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جھنگا پہلوان کے آزاد ہند ٹیم کے دو بہترین کھلاڑیوں کو کارڈ بتلا کر میدان کے باہر کر دیا۔
یہ دیکھ کر آزاد ہند ٹیم کے کپتان کے ہوش اڑ گئے۔ اسے اپنی ٹیم کی شکست اپنی آنکھوں کے سامنے دکھائی دینے لگی۔
لیکن اگلے ہی لمحہ جھنگا پہلوان نے انصاف سے کام لیتے ہوئے ایگل کے دو بہترین کھلاڑیوں کو کارڈ بتا کر میدان کے باہر کر دیا۔
دونوں ٹیمیں مساوی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔
باہر ہونے والے تمام کھلاڑیوں کا کوئی قصور نہیں تھا ۔ لیکن قوانین فٹ بال کا کھیل ایجاد کرنے والوں نے بنائے تھے۔
ریفری بنے جھنگا پہلوان ان کا استعمال اپنی طور پر کر رہے تھے۔
دونوں ٹیموں نے میدانی گول ایک بھی اسکور نہیں کیا تھا۔
ایسا محسوس ہوتا تھا دونوں ٹیموں میں میدانی گول اسکور کرنے کا دم خم ہے ہی نہیں وہ گول جھنگا پہلوان کی عنایت سے اسکور کر رہے تھے۔
جھنگا پہلوان کبھی ایک ٹیم کو مسلسل پانچ کک کا موقع دیکر اس سے پانچ گول اسکور کراتے تو دوسری بار دوسری ٹیم کو یہی موقع دے کر حساب برابر کرنے کا سامان مہیا کر دیتے۔
خدا خدا کر کے میچ کا ٹائم ختم ہوا۔
میچ کے خاتمے پر دونوں ٹیموں کا اسکور تھا ۵۰ : ۵۰ ۔۔
یعنی دونوں ٹیموںنے ۵۰ ، ۵۰ گول اسکور کئے تھے۔ میچ برابری پر ختم ہوا، اس لیے دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دے دیا گیا۔
اور فٹ بال کے صحیح شائقین اس میچ کو دیکھ کر اپنا سر پیٹ رہے تھے۔ ان کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا یہ میچ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے کھیلا ہے۔
یا فٹ بال میچ کے ریفری بنے جھنگا پہلوان نے ۔۔۔۔۔
۔ ۔ ۔ ٭۔ ۔ ۔ ٭۔ ۔ ۔ ٭۔ ۔ ۔

نومبر 4, 2010 at 12:21 تبصرہ کریں

اے وطن کے سجیلے جوانو!!!

فوج کے بارے میں جب بھی کوئی سنتا، پڑھتا، لکھتا یا بولتا ہے تو دو چار لطیفے ہیں جوذہن میں گھوم جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر بھلے لوگ کہتے ہیں کہ "فوجیوں کے دو ہی اصول ہیں: پہلا یہ کہ جو شے ساکن ہو اس پر چونا پھیر دو جبکہ جو متحرک دکھے اسے سیلوٹ ٹھوک دو۔”
اہل زبان سے معافی ان الفاظ کے لئے، کہ یہ الفاظ کچھ اتنے اچھے نہیں ہیں، جیسے چونا "پھیر” دینا اور سیلوٹ "ٹھوک” دینا، لیکن کیا کیجیے لطیفے کا اصل لطف یہی ہیں۔
نچلی رینک کے سپاہیوں کو ملاحظہ کیجیے، وہ سویرے تڑکے کے بیچ اٹھتے ہیں اور "ڈرل” کے لیے بھاگم بھاگ شروع کر دیتے ہیں۔ ناشتے میں نہ جانے کیا کھاتے ہوں گے لیکن بعد میں انھیں منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ منہ کی ایسے کہ ڈرل سے چھوٹے تو پریڈ اور پھر ایسی دوسری مصروفیات سے فارغ ہوتے ہی ان کا "اصل” کام شروع ہوتا ہے۔ حکم ملتا ہے، آپ گڑھے کھودیے، گڑھے کی تہہ پر چونا ڈال کر پھر بھر دیجیے۔ گملوں پر چونا پھیریے۔ ٹرکوں، جیپوں وغیرہ کے ٹائروں کو چمکا کر ایک بار پھر چونا پھیر دیں۔ درختوں کے تنوں کو ناپ کے حساب سے ٹھیک تین فٹ اونچائی تک گولائی میں چونا پھیرتے جائیے۔ سڑکوں، راستوں اور پگڈنڈیوں کے دونوں کناروں پر چونا ایسے پھیریے کہ ان پر پھرنے والا یہ سمجھے وہ ناک کی "سیدھ” میں پھر رہا ہے۔
اس کے علاوہ جہاں آپ کو اس روز کے لیے تعینات کیا گیا ہے، وہاں بت بن کر کھڑے رہیے اور جب بھی کوئی پاس سے گذرے، چٹاخ سے سیلوٹ "ٹھوک” دیں۔ سیلوٹ ایسی ہونی چاہیے کہ آپ کا ہاتھ، آپ کا ماتھا ٹھونکے اور بوٹوں کی دھمک گذرنے والے کا دماغ شل کر جائے ۔ آپ کی بندوق فوجی افسر کو یاد دلائے کہ وہ "فرعون” ہے اور عام شخص کو یہ بندوق ایسے ڈرائے کہ جیسے موت۔ سیلوٹ کا نتیجہ کچھ ایسے برآمد ہونا چاہیے کہ گذرنے والا اپنے دفتر اور کام تک پہنچتے پہچنتے کسی سدھ بدھ کا نہ رہے۔ میری ناقص رائے میں اکثر فوجی افسران کے دماغ کا سوچنے اور پھر درست انداز میں کام کرنے سے عاری ہونے کا یہی سبب ہے۔ بس ایسی ہی کچھ اور مصروفیات کے بعد یہ نچلی رینک کے اصحاب سوچتے ہوں گے کہ انھیں دن بھر منہ کی کھانی پڑی ہے۔ بھلا یہ کیسا دن تھا، امید ہے ان میں سے اکثر اپنی ان بیوقوفیوں پر ہنستے بھی ہوں۔
فوجی افسران بھی ایسا ہی کرتے ہیں لیکن ان کا حال تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ وہ سوچنے کے قابل تو تب ہی نہیں رہتے جب ایبٹ آباد کی فوجی اکیڈمی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب صبح صبح آٹھ دس چوندی چوندی سیلوٹوں کی دھمک ان کے دماغ تک پہنچتی ہے۔ اس کے بعد وہ جو بھی کرتے ہیں اپنے کام اور قوم کو چونا پھیرنے اورباقیوں کا دماغ ٹھوکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ سمجھنے کے لیے کوئی بھی اچھی سی غیرجانبدار تاریخ پاکستان کا مطالعہ کیجیے۔
مجھے شرمندگی ہے کہ اس لطیفے سے کئی دوستوں کی دل آزاری ہوئی ہو گی۔ مجھے اس کا بھی دکھ ہے کہ یہ حقیقت ہے اور مجھے سب سے زیادہ افسوس فوجیوں کے اس رویے کا اس دن ہوا تھا جب زلزلے کے تیسرے دن معمولی بات پر تو تو میں میں ہوئی اور ایک لیفٹینیٹ نے کرنل کو مخاطب کیا اور میرے بھائی کی جانب اشارہ کرتے ہو کہا، "سر! اس کو اتنی تمیز نہیں کہ ایک فوجی افسر سے کیسے بات کی جاتی ہے؟” کرنل نے گردن کا سریا گھمایا تھا اور میرے بھائی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا، "کرنل صاحب ! آپ کے جوانوں کو اتنی تمیز نہیں کہ سویلین سے کیسے بات کی جاتی ہے؟”۔ یہ واقعہ ایک خلا کو ظاہر کرتا ہے، یہ اس دیوار کو ظاہر کرتا ہے جو ہم کیڑے مکوڑے "سویلین” اور سیاست کے جرنیلوں نے اپنے فرعون "جوانوں” کے بیچ کھینچ رکھی ہے۔
جتنا افسوس مجھے تب ہوا تھا اس سے بڑھ کر مجھے خوشی کل ہوئی ہے۔ ایبٹ آباد کے فوجی ہسپتال میں فوجی جوانوں اور فوجی میڈیکل سٹاف کا رویہ نہایت قابل تحسین تھا۔ وہ نہایت مہذب انداز میں پیش آتے ہیں اور آپ کو حتی المکان سہولت فراہم کرتے ہیں اور تعجب خیز بات یہ ہے کہ اسی معاملے میں ایسا رویہ عوامی ہسپتالوں میں ناپید ہے۔ عوامی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا اکثریت رویہ درست ہوتا ہے لیکن باقی کے لوگ جیسے ڈسپنسر، نرسیں، قاصدین، خاکروب اور سیکورٹی کے افراد کچھ ایسا قابل تعریف رویہ روا نہیں رکھتے۔
سیاست کے جرنیل اور بندوق کی نال میں بندھے فوجی جوان بھی انسان ہیں، وہ بھی سوچتے ہیں لیکن کیا سوچتے ہیں؟ اس کا ثبوت ہماری تاریخ ہے۔ ہمارے اداروں کی دیواریں پھلانگتے فوجیوں کی وثق میں موجود تصاویر ہیں اور ایوان اقتدار میں بیٹھے رہے فرعون ہیں۔ ویسے ہمارے "سویلین” حکمران بھی کسی سے کم نہیں اور بس ایسے سمجھیے کہ اسی موقع پر بالا سطور میں بیان کیا گیا لطیفہ المیہ بن جاتا ہے جب میں سیاستدانوں کے قافلوں میں آگے پیچھے بندوق والوں کو دیکھتا ہوں۔ ان بندوقوں کی نالوں اور گاڑیوں کے ہوٹروں نے سیاستدانوں کے دماغوں کو بھی ایسے ہی بند کر رکھا ہے جیسے فوجی بوٹوں کی دھمک اور چونا پھیرنے کی عادت نے سیاست کے جرنیلوں کے دماغوں کا تیاپانچہ کر چھوڑا ہے۔
جاتے جاتے ایک اور لطیفہ بھی سنتے جائیے”دنیا کے تقریبا تمام ممالک کو فوج دستیاب ہوتی ہے۔ پاکستان کا حساب دوسرا ہے، یہاں کی فوج کو ایک ملک دستیاب ہے!”۔

اکتوبر 28, 2010 at 11:08 تبصرہ کریں

تعلیم کی اہمیت

رامو ایک دیہاتی شخص تھا۔ شہر کے ایک رئیس کے یہاں گھریلو ملازم تھا وہ پڑھا لکھا بالکل بھی نہیں تھا۔ اپنے گاﺅں اور اپنی بیوی بچے سے دور شہر میں رہتے ہوئے اسے عرصہ بیت گیا تھا۔ اس کا ا یک ہی بیٹا تھا بھولا، جب وہ گاﺅں سے رخصت ہوا تھا تو اس وقت اپنی ماں کی گود میں تھا جب بیٹے کی یاد رامو کو ستانے لگی تو اس نے سوچا کیوں نا بھولا کی ماں کو ایک خط لکھ دے۔ لیکن وہ قلم اور کاغذ لے کر اس پر لکھتا بھی کیا کہ اس نے کبھی اسکول کا منہ تک نہیں دیکھا تھا۔ مجبوراً وہ بڑے مالک کے پاس گیا اور ان سے ایک خط لکھنے کی درخواست کی۔ بڑے مالک خط لکھنے کو تیار ہوگئے۔ اتنے میں ٹیلی فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ فون ان کے دفتر سے تھا، وہ فوراً دفتر چلے گئے اور رامو کا خط ادھورا ہی رہ گیا۔
اس کے بعد رامو چھوٹے مالک کے پاس گیا۔ چھوٹے مالک ورزش کرنے میں مصروف تھے۔ رامو نے اس سے خط لکھنے کی درخواست کی۔چھوٹے مالک کے پاس اتنی فرصت کہا ں کہ وہ ایک نوکر کا کام کرنے کو تیار ہو جاتے۔ انہوں نے فوراً بہانہ تراشتے ہوئے کہا ”تم تو جاتنے وہ رامو کاکا کے مجھے ہندی نہیں آتی ، تم کہو تو انگریزی میں لکھ دوں تمہارا خط! رامو مایوس ہو کر چھوٹی مالکن کے پاس گیا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتا، ، چھوٹی مالکن بول پڑیں” رامو کاکا تم مجھے کوئی کام بتا کر پریشان نہ کرو، ویسے ہی مجھے کالج جانے میں دیر ہوگئی ہے“ بیچارہ رامو خط لکھنے کا ارمان دل میں لیے الٹے پاﺅں لوٹ گیا۔
کچھ دنوں بعد رامو کو ڈاک سے ایک موصول ہوا۔ اس لفافہ کو لے کر سیدھا بڑی مالکن کے پاس جا پہنچا اور اسے پڑھ کر سنانے کی گزارش کی۔ بڑی مالکن نے لفافہ کھولا اور پڑھ کر سنایا۔
Ramu Come soon Maya seriously  Hospitalized اس کامطلب ہندی میں سمجھایا۔
رامو دوسرے دن ہی جب اپنے گاﺅں پہنچا تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ گاﺅں والے مایا کے مردہ جسم کو نذر آتش کرچکے تھے۔ اس کا ننھا بیٹا بھولا اس کے قریب آکر اپنی توتلی زبان میں بڑبڑانے لگتا ہے”باپو….باپو….باپو تم آگئے؟ مائی تو تب (کب) تی چلی گئی۔ اسے تو داﺅں(گاﺅں) والے تندھا پر اٹھا تر لے دیے آر (اور) ڈھیر ساری لتڑی(لکڑی) پر ستاتر آد(آگ) لدادی‘’؟ رامو نے ، بھولا کو بہلاتے ہوئے کہا۔” تمہاری اماں بھگوان کے گھر چلی گئی ہے“تون (کون) بھگوان باپو“؟ وہ میں سمجھا کہ مائی ناناجی کے گھر چلی گئی ہے ایسا کرو نا باپو کہ تم مائی تو(کو) ایت(ایک) چھٹی لکھ دو تو وہ جلد دھر(گھر) چلی آئے گی“ رامو نے لاچاری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ”بھولے توتو جانتا ہے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔ ایک کام کر تو ہی اپنا اماں کو خط لکھ دے‘’ مگر اماں نے تو ہم کو تبھی (کبھی) اسکول بھیجا ہی نہیں تو ہم…….. بھولا کی زبان سے یہ جملہ سنتے ہی رامو کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔ رامو نے اسی وقت تہہہ کرلیا کہ اپنے بیٹے کو اپنے جیسا جاہل نہیں بنانا۔ حالات جوبھی ہوں وہ ہر حال میں اپنے بچے کو پڑھنے کے لیے اسکول ضرور بھیجے گا۔

اکتوبر 25, 2010 at 10:43 2 تبصرہ

قصہ ایک حکیم کا

حکیم صاحب کھانے یا کھلانے کے معاملے میں حدردجے کنجوس ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ وہ دوسروں کو ان کے اپنے گھروں میں بھی پیٹ بھر کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔ انکے نزدیک ہر مرض کا بلکہ ہر مسئلے کا حل بھوکا رہنا ہے۔ اگر ان کا کوئی دوست کہتا ہے۔
”روئے زمین پر مجھ سے زیادہ چلنے والا کوئی نہیں اورنہ تیز دوڑنے میں مجھ سے زیادہ طاقتور ہے۔“
تو وہ جل بھن کر جواب دیتے ہیں: ”تمہیں اس سے کون روک سکتا ہے ؛ جب کہ تم دس آدمیوں کے برابر کھانا کھاتے ہو۔ انسان کے پاس پیٹ کے سوا اور ہے ہی کیا؟“
اگر کوئی مریض شکایت کرتا ہے: ”بخدا میں چل نہیں سکتا ، کیونکہ میں کمزور ترین آدمی ہوں۔“
تو وہ چیختے ہیں: ”تم کیسے چل سکتے ہو؟ تم نے تو پیٹ میں بیس مزدوروں سے اٹھنے والا بوجھ لاد رکھا ہے۔“
اگر کوئی شخص انکے سامنے داڑھ درد کی شکایت کرتا ہے تو وہ فرماتے ہیں:
”عجیب بات ہے کہ تجھے صرف ایک ہی داڑھ میں تکلیف ہوئی۔ اتنا کھا کھا کر آج تک تیرے منہ میں ایک دانت بھی کس طرح باقی بچا۔ بخدا شامی چکیاں بھی بوجھل ہو جاتی اور موٹے کیل بھی کوٹنے سے گھس جاتے ہیں۔ یہ بیماری تو تجھے قدرے دیر سے لگی ہے۔ بہت پہلے لگ جانی چاہئے تھی۔“
اگر کوئی کہہ دتیا ہے: مجھے تو کبھی داڑھ میں درد محسوس نہیں ہوا۔
تو وہ گویا ہوتے ہیں: ”اے پاگل ! زیادہ چبانا مسوڑھوں کو مضبوط کرتا ہے جس سے دانت سخت ہو جاتے ہیں اور تالو پک جاتے ہیں۔“
اگر کوئی شیخی بھگارتا ہے:”میں سب سے زیادہ پانی پیتا ہوں اور میرا خیال ہے کہ دنیا میں کوئی مجھ سے زیادہ پانی نہیں پیتا ہوگا۔“
تو وہ بھڑک کر کہتے ہیں : ”اگر تم دریائے فرات کا سارا پانی پی لو تو وہ بھی تمہارے لیے کافی نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ تم اس قدر کھانا کھاتے ہو اور بڑے بڑے نوالے لیتے ہو۔ بخدا تم تو کھیلتے ہو۔ تم اپنے بارے میں کسی ایسے شخص سے پوچھو جو تمہیں سچ بتا دے تا کہ تمہیں پتہ چلے کہ دریائے دجلہ کا پانی بھی تمہارے پیٹ کے لئے کہیں کم ہے۔“
اگر کوئی دعویٰ کرتا ہے: آج کے دن میں نے پانی پیاہی نہیں ہے اور کل میںنے آدھا رطل پانی پیا ہے۔ روئے زمین پر کوئی ایک انسان بھی مجھ سے کم پانی پینے والا نہیں ہے۔“
تو وہ ڈانٹ کر کہتے ہیں:”تم پانی پینے کے لئے جگہ ہی نہیں چھوڑتے۔ تعجب ہے کہ تمہیں بدہضمی کیوں نہیں ہوتی۔“
اگرکوئی مریض فریاد کرتا ہے: میں ساری رات سویا نہیں ہوں۔“
تو وہ فرماتے ہیں: تمہیں تمہاری توند، پیٹ کی گیس اور ڈکار کس طرح سونے دیں گے۔“
اگر کوئی سستی کا مارا کہتا ہے: مجھے سر رکھتے ہی نیند آجاتی ہے۔“
تو جواب ملتا ہے: ” یہ اس لئے ہے کہ کھانا سکون دیتا ہے اور سارے بدن کو ڈھیلا کر دیتا ہے۔ سچ پوچھو تو تمہیں دن رات سوئے رہنا چاہئے۔ “
اگرکوئی شکایت کرتا ہے۔
”میں صبح اٹھا تومجھے ذرا بھوک نہیں تھی۔“
تو وہ دھاڑکر بولتے ہیں: ”ارے تمہیں بھوک کس طرح ہو سکتی ہے جب کہ تم کل دس آدمیوں کا کھانا کھا چکے ہو“۔
غرض ان سے جو بات بھی کہی جاتی ہے تو وہ اس کا غصہ پیٹ اور کھانے پر نکالتے ہیں ۔ واہ رے حکیم صاحب واہ۔

اکتوبر 18, 2010 at 11:51 تبصرہ کریں

کر بھلا تو ہو بھلا

کہتے ہیں کہ ایک بڑی سی مرغی نے ایک بڑے سے ٹوکرے میں بہت سی گھاس پھوس اکٹھا کی اور نرم سی گھاس پر بیٹھ کر بہت سے سفید سفید انڈے دیئے اور پھر دن رات ان انڈوں پر بیٹھنا شروع کیا۔ ایک ہفتہ گزرا، دو گزرے، تین گزرے اور کہیں اکیسویں دن یہ انڈے کھٹ کھٹ ٹوٹنا شروع ہوگئے،ہر انڈے سے ایک ننھا منا سا چوزہ نکلا، ان کے چھوٹے چھوٹے پر تھے۔ یہ چوزے نازک تھے، خوبصورت تھے ہر چوزہ روئی کا گالا دکھائی دیتا تھا۔ مرغی خوش تھی پر پریشان بھی تھی ایک انڈا رہ گیا جس سے ابھی کچھ بھی نہ نکلا تھا۔ بے چاری ماں اسے بھی اپنے پروں سے گرمی پہنچا رہی تھی اور پھر ایک دن اس میں سے بھی ایک ایسا ہی بچہ نکلا۔ ایک ننھا منا سا چوزہ، پر اس چوزے کی ایک ہی ٹانگ تھی، ایک ہی آنکھ تھی، یہ چوزہ بےحد شریر تھا۔ ایک دن اپنی ماں سے کہنے لگا۔
اماں میں گھر میں نہیں رہوں گا، میں جارہا ہوں یہاں سے، بادشاہ کا محل دیکھنے کے لئے اور پھر وہاں جا کر بادشاہ سلامت سے بھی ملوں گا۔
مرغی نے کہا ارے میرے پیارے! میرے ننھے لنگٹو ، کیسی باتیں کرتا ہے۔ مجھے ایسی باتوں سے ڈر لگتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو چاہئیے کہ آرام سے گھر پر رہیں اور اپنی ماں کے پروں میں خوب خوب گرم گرم راتیں بسر کریں۔
چوزے نے کہا نہیں میں جارہا ہوں۔
مرغی نے کہا رک جاو، رک جاو، تمہارے لئے آگے جانا مشکل ہوگا۔ چوزے نے کہا مشکل کیوں؟
مرغی نے کہا تمہاری صحت اور تمہارے جسم کی بناوٹ کی وجہ سے تم تھک جاؤ گے۔
چوزے نے کہا جو ڈرتے ہیں وہ آگے بڑھ نہیں سکتے، میں جارہا ہوں، مجھے خوشی خوشی جانے دو۔
مرغی نے کہا کیا یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے
چوزے نے کہا ہاں، خدا حافظ
اور پھر چوزہ اچک اچک کر مسکراتے ہوئے چل پڑا۔ ایک جگہ آگ جل رہی تھی وہ جلتی ہوئی آگ کے قریب آیا، اپنے آپ کو گرم کیا اور جب جانے لگا تو آگ بول اٹھی….
آگ نے کہا میاں لنگڑے ذرا اپنی ننھی سی چونچ سے چند تنکے اٹھا کر لاؤ اور مجھے دے دو تاکہ میں ذرا دیر تک جل سکوں اور اس راستے سے گزرنے والوں کو گرمی دے سکوں۔
چوزے نے کہا نہیں میرے پاس وقت نہیں ہے، میں جلدی میں ہوں۔
آگ نے کہا کیسی جلدی؟ کہاں جانا ہے تم کو۔
چوزے نے کہا بادشاہ سلامت کے پاس، آگ نے کہا تم ہوش میں تو ہو نا۔
چوزے نے کہا ہاں میں جو کہہ رہا ہوں ٹھیک ہی کہہ رہا ہوں۔
آگ نے کہا ذرا لمحہ بھر رکو اور میری مدد کرو
چوزے نے کہا نہیں میں کسی کی مدد نہیں کرتا۔
کچھ اور آگے چل کر چوزے کو ایک چھوٹا سا چشمہ دکھائی دیا، اسے پیاس لگی تھی، پہلے اس نے اپنی پیاس بجھائی، پھر ادھرا دھر دیکھا، چشمے کا پانی راستے کی جانب سرک رہا تھا جس کی وجہ سے چلنا دشوار بن رہا تھا۔ چشمے نے کہا۔
چشمہ:  بجھ گئی پیاس؟ میرا پانی تو بہت ٹھنڈا ہے۔
چوزہ ہاں پیاس تو بجھ گئی۔
چشمے نے کہا میاں لنگڑے! میرا ایک چھوٹا سا کام کرو گے۔
چوزہ: کیا کام ہے؟
چشمےنے کہا دیکھو میرے راستے میں دو چار کنکر پڑے ہیں جن کی وجہ سے پانی سڑک کی طرف جارہا ہے۔ ان کنکروں کو اپنی چونچ سے ہٹادو تاکہ میں آرام سے بہہ سکوں۔
چوزے نے کہا میں یہ کام نہیں کر سکوں گا، مجھے بہت دور جانا ہے، میں بادشاہ کا محل دیکھنے جارہا ہوں….
بھلایہ لنگڑا چوزہ کسی کی بات سنتا ہے، سنی ان سنی کر کے آگے بڑھتا جارہا ہے، شکر ہے کہ اس کی ایک ہی ٹانگ ہے اگر دونوں ٹانگیں ہوتیں تو شاید…. یہ خود ہی بادشاہ سلامت بننے کا اعلان کرتا۔ بہرحال ابھی بادشاہ کا محل دور تھا۔ چلتے چلتے اسے کانٹوں سے بھری ایک جھاڑی ملی۔ جھاڑی کے کانٹوں میں ہوا کا دامن پھنس گیا تھا اور وہ ادھر سے ادھر نکل نکل کر چل رہی تھی، اس نے مرغی کے بچے کو دیکھا تو بولی ”میاں لنگڑے مسافر مجھ پر رحم کر اور مجھے اس جھاڑی سے نکال کر اپنی رحم دلی کا اظہار کر، اس جھاڑی کے کانٹے بڑے تیز ہیں“مگر حسب معمول میاں لنگڑے نے ایک نہ سنی ، اپنا سر ہلایا، اور ہوا سے بھی وہی جلدی کا بہانہ بنا کر آگے چل دیا اور کودتے پھاندتے بادشاہ کے محل پہنچ گیا۔ اس دوران بادشاہ کا باورچی ایک چوزہ پکڑنے نکلا تھا۔ بادشاہ سلامت کے ناشتے کے لئے. اس نے یہاں لنگڑے کو اچکتے دیکھا تو جھٹ سے پکڑ لیا اور دیگچی میں ڈال کر دیگچی کو آگ پر چڑھا دیا، میاں چوزے نے چلا کر کہا….
چوزے نے کہا دہائی ہے، دہائی ہے۔ آگ، بادشاہ سلامت کی دہائی ہے، مجھے مت جلاو
آگ نہیں نہیں میں تمہاری کوئی مدد نہیں کروں گی، جب مجھے تمہاری مدد کی ضرورت پڑی تھی تو تم جلدی میں تھے اور اب مجھے جلدی ہے۔
اتنی دیر میں باورچی لوٹ آیا، اس نے ڈھکن اٹھا کر دیکھا تو اسے چوزہ پسند نہیں آیا کیونکہ اس کی صرف ایک ہی ٹانگ تھی اور اگر بادشاہ سلامت دوسری ٹانگ کے بارے میں پوچھے گا تو وہ کیا جواب دے گا۔ اس کی بات پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔ باورچی نے چوزے کو دیگچی سے نکال کر باہر پھینک دیا، باورچی خانے میں پانی کی ایک نالی تھی، لنگڑا چوزہ اس کے پاس گیا۔
چوزے میاں پانی سے! تمہیں بادلوں کی قسم ذرا مجھے ٹھنڈا کرو، میں بالکل جل گیا ہوں۔
چشمے نے کہا لنگڑے، جب مجھے تمہاری ضرورت تھی تو تم جلدی میں تھے اور میری کوئی مدد نہیں کی حالانکہ اس وقت بھی میں نے تمہاری پیاس بجھائی تھی۔
چوزے نے کہا یہ دیکھو، یہاں سے ہوا چل رہی ہے، مجھے ڈر ہے کہ ہوا کا یہ جھونکا مجھے باہر نہ پھینک دے۔ اے ہوا! میری مدد کر، مجھ پر رحم کھا، میںا س شہر میں اجنبی ہوں، میرا یہاں کوئی نہیں۔
ہوا:  یاد ہے نا، جب میں نے تم سے مدد کے لئے التجا کی تھی اور اب…. مجھ سے مدد چاہتے ہو، اپنے آپ کو عقل مند سمجھتے ہو اور مجھے بے وقوف اور پھر…. ابھی تو تم کو بادشاہ سلامت سے بھی ملنا ہے۔
چوزہ نہیں، میں اب کسی سے ملنا نہیں چاہتا…. مل کر مجھے کیا ملے گا۔
ہوا نے کہا اور میرے پاس بھی وقت نہیں…. میں جارہی ہوں۔
اور یہ کہتے ہوئے ہوا نے زور سے اوپر کا رخ کیا تو میاں چوزہ ایک مینار کی چوٹی پر جا کر اٹک گیا اور ابھی تک وہیں پر لٹکا ہوا ہے اور اب مرغی کا کوئی اور بچہ اگر اس کے پروں سے نکل کر ادھر ادھر چلا جاتا ہے تو وہ دکھیاری مرغی ٹھنڈی سانس بھرتی ہے اور ان سب کو لنگڑے بھائی کی کہانی سناتی ہے۔ اس کی خود غرضی کی کہانی، دوسروں کی مدد نہ کرنے کی داستان، کسی نے سچ کہا ہے…. کر بھلا تو ہوا بھلا۔ تم دوسروںکا بھلا چاہو، دوسرے خود ہی تمہارا بھلا چاہیں گے۔

اکتوبر 7, 2010 at 10:50 1 comment

بچپن کی آرزو

دو دوستوں میں گفتگو کا سلسلہ چلا

ان میں سے ایک دوسرے سے پوچھنے لگا

پہلا دوست

پوری ہوئی کبھی کوئی بچپن کی آرزو

آمل کے کریں آج یہی ایک جستجو

بچپن میں میری آرزو تھی ڈاکٹر بنوں

گر یہ نہ بن سکا تو میں اک ماسٹر بنوں

ہر چند کہ میں بن نہ سکا ڈاکٹر جناب

اللہ کے کرم سے ہوں میں ماسٹر جناب

دوسرا دوست

بچپن میں آرزو تھی بنوں با کمال میں

شاعر ہی بننا چاہتا تھا بے مثال میں

ہر چند شاعری کی تمنا شدید تھی

لیکن اک آرزو مرے دل میں مزید تھی

پوری ہوئی تمنا جوانی میں وہ مری

عبرت کی چیز بھی ہے کہانی میں وہ مری

مجھ کو پکڑ کے مارتا تھا جب بھی کوئی بال

آتا تھا گنجا ہونے کا دل میں مرے خیال

بچپن کی آرزو تو نے رسوا کیا ہے آج

کل بال خوب سر پہ تھے گنجا کیا ہے آج

ستمبر 2, 2010 at 05:07 1 comment

Older Posts Newer Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad Poetry
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے”
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad Poetry