Posts tagged ‘Urdu Story’

میں محض ایک باورچی ہوں! (ایک باورچی کی آپ بیتی)

میرے قریبی دوست اور رشتہ دار جانتے ہیں کہ میں ایک اچھا باورچی ہوں لیکن میں نے کبھی اس بات پر غرور نہیں کیا۔ میں خود کو شیف بھی کہہ سکتا تھا کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ ماڈرن لفظ زیادہ معزز لگتا ہے لیکن سچ بات ہے شیف کے لفظ میں مجھے ایک خاص قسم کی چالاکی اور پیشہ ورانہ تفاخر محسوس ہوتا ہے۔ اس لئے میں دیسی لفظ باورچی کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔ ہمارے اسی معاشرے میں جب دولت کی ریل پیل نہیں ہوئی تھی اور دولت چند ہاتھوں میں جمع نہیں ہوئی تھی تو خاندانی باورچی شادی بیاہ کے موقع پر بلائے جاتے تھے۔ یہ لاکھوں روپے کی کیٹرنگ نہیں ہوتی تھی نہ ہی یہ اسٹیٹس سمبل بنا تھا کہ شادیوں پر چار چار دن انواع و اقسام کے کھانوں کے سلسلے چلتے رہیں۔
خاندانی باورچی ہر شادی کے موقع پر مرکزی کردار ہوتا تھا. بڑے وقار سے بلایا جاتا تھا اور اسے کرسی دی جاتی تھی۔ پھر وہ صاحب تقریب سے مذاکرات کرتا تھا اور ہر قسم کے بجٹ کے مطابق دیانتداری سے صحیح مشورہ دیتا تھا۔ مجھے یاد ہے میرے ایک دوست کی بہن کی شادی میں دولہا والے بغیر بتائے زیادہ تعداد میں باراتی لے کر آ گئے۔ میرا دوست بہت پریشان ہوا اور اس نے خاندانی باورچی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ خاندانی باورچی نے کہا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس موقع پر میرے پاس صدری نسخہ موجود ہے جو سینہ بہ سینہ چلا آرہا ہے وہ یہ ہے کہ میں پلاؤ اور قورمے کی دیگوں میں ہلکا ہلکا روح کیوڑا ڈال دوں گا جس سے ذائقے میں فرق نہیں پڑے گا لیکن لوگ زیادہ کھا نہیں سکیں گے ۔چنانچہ یہ نسخہ کارگر ثابت ہوا اور کھانا پورا ہو گیا۔
یہ خاندانی باورچی اپنے کلائنٹ کا بہت خیال رکھتے تھے۔ وہ اپنے کلائنٹ کو پہلے تو ایک کاغذ پر کھانے میں استعمال ہونے والے مصالحہ جات اور گوشت وغیرہ کی مقدار لکھواتے تھے اور پھر تقریب کے موقع پر جب دیگیں چڑھتی تھیں، خوشبوئیں اڑتی تھیں اور ٹھن ٹھن کی آوازیں شادی کے گھر پہنچتی تھیں تو کئی محلوں تک خبر جاتی تھی کہ کس کے گھر شادی ہے۔ آج تو یہ سب رسمیں ختم ہو چکی ہیں کہیں کسی نامعلوم جگہ سے دیگچوں میں کھانا پک اَپ میں لایا جاتا ہے اور انڈیل دیا جاتا ہے۔ ایک بات میں بھول گیا کہ دیگیں تیار ہونے کے بعد گھر کا سخت گیر تجربہ کار بزرگ کرسی ڈال کے دیگوں کے پاس بیٹھ کر کھانا کھلنے کا انتظار کرتا تھا اور جب آواز آتی کہ کھانا لگا دیں تو وہ اپنی نگرانی میں دیگوں سے کھانا نکلواتا تھا اور سب کچھ اس کی ہدایت کے مطابق ہوتا تھا کہ کب ہاتھ روک دیں کب کون سا آئٹم زیادہ کر دیں اور کس کو کم کردیں۔ یہ تجربہ اس بزرگ نے صدیوں کے ریاض سے پایا ہوتا تھا۔ جب وہ خوش اسلوبی سے کھانا”ورتا” لیتا تھا تو براتیوں سے حسب ذوق داد وصول کرتا تھا اور اگلی شادی کے موقع تک گوشہ گمنامی میں چلا جاتا تھا جیسے وہ خاندانی باورچی غائب ہوئے ہیں، ویسے ہمارے معاشرے سے یہ بزرگ بھی رخصت ہو گئے ہیں۔
سو میں کہہ رہا تھا کہ میں ایک باورچی ہوں اور تاریخ میں باورچیوں کا رتبہ بہت بلند رہا ہے۔ بادشاہوں کے شاہی مطبخ میں دنیا سے چن چن کے باورچی لائے جاتے تھے۔ یہ اصل نسل کے باورچی ایسا کھانا بناتے تھے کہ بادشاہ دسترخوانوں پر جنگیں جیت لیا کرتے تھے۔ یہ شاہی باورچی نہ چھٹی لے سکتے تھے نہ کہیں جا سکتے تھے کیونکہ اس صورت میں انہیں بادشاہ کے غیض و غضب کا نشانہ بنتے ہوئے ہاتھ کٹوانے پڑتے تھے۔ ان شاہی باورچیوں نے جو کھانے اختراع کئے اور انہیں جو نام دیئے آج ہمارے کوکنگ چینلوں پر خوبصورت یونیفارم میں شیف حضرات انہی پکوانوں کو تیار کرنے کا سوانگ رچاتے ہیں اور ہمیں بے وقوف بناتے ہیں لیکن سچی بات ہے کہ اگر کسی چینل نے میری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا لیا تو میں ایسی کوئی ڈش نہیں بناؤں گا جس سے غریبوں کے گھروں میں ٹھنڈے پڑے ہوئے چولہوں اور ان کی محدود آمدنی کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں ترساؤں۔ اس لئے مجھے امید ہے کہ مجھے کوئی چینل موقع نہیں دے گا۔
میں نے باورچی بننے کا فیصلہ کیوں کیا ہے اس کی بے شمار وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس وقت سب سے زیادہ نفع بخش کاروبار ہی یہی ہے دوسرا یہ کہ ہمارے معاشرے میں ایک نئے رول ماڈل نے کامیابی سے جگہ پائی ہے، وہ باورچی یا شیف ہے۔ اگرچہ امریکہ اور مغربی ممالک میں یہ رول ماڈل بہت پہلے سے موجود ہے لیکن ہمارے ہاں اسے اب موقع ملا ہے۔
تو صاحبوں! اب میرے باورچی بننے کی خواہش آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی۔ اصل میں بات یہ ہے کہ میں اینکر پرسن بننا چاہتا تھا کہ شام آٹھ بجے اپنا دفتر لگا کے بیٹھ جاؤں اور حکومت وقت کو ناکوں چنے چبوا دوں لیکن کسی بھی چینل نے میری سیاسی بصیرت پر بھروسہ نہیں کیا۔ اس پر طرہ یہ کہ اینکر پرسن اب کسی کامیڈین کو ساتھ بٹھا کر شو کرتے ہیں۔ میں کہاں سے یہ ٹیلنٹ لاتا اس لئے میں نے اپنے ارمانوں پر اوس ڈال دی اور دیسی باورچی بننے کی فرمائش کر دی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فوڈ چینل جو ڈشیں اور تراکیب سکھاتے ہیں وہ مجھے نہیں آتیں۔ مجھے تو میری ماں اور بیوی نے جو سالن بنانے سکھائے ہیں میں تو وہی سکھا سکتا ہوں اور یہ وہ ڈشیں ہیں جو کسی بھی معمولی آمدنی یا محدود آمدنی والے گھر میں تیار کی جاسکتی ہیں۔ ان ڈشوں کو آسان نہ سمجھیں یہ سب سے مشکل ہوتی ہیں جو سکھائی جاتی ہیں وہ آسان ہوتی ہیں۔
میری سب سے مہنگی ڈش کریلے گوشت ہے جو مجھے میری ماں، میری بیوی اور استاد دامن نے سکھائی تھی۔ تینوں کی ترکیب ایک جیسی تھی مثلاً یہ کہ کریلے گوشت میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ بکرے کے گوشت کا کون سا حصہ آپ استعمال کر رہے ہیں۔ خیر اس کے بعد میری ڈشیں آسان ہیں۔ بگھارے بینگن، کڑھی، ماش کی دال، دال چاول، بھنڈی، توری، چکڑ چھولے، انڈہ چنے، خاگینہ، بینگن کا بھرتہ، آلو انڈا، آلو کی ٹکیاں وغیرہ وغیرہ۔ میری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ میری اس صلاحیت کو کوئی فوڈ چینل افورڈ نہیں کر سکتا۔
اب میں آپ کو اصل بات بتاؤں کہ میں دنیا کے دو بڑے شیفوں کو اپنا رول ماڈل سمجھتا ہوں۔ ایک سنجیو کپور ہیں جو زندہ ہیں۔ وہ اتنی میٹھی آواز میں لفظ ’بڑھیا‘ استعمال کرتے ہیں کہ انتظار حسین کو مات کر جاتے ہیں وہ ہر کھانا بناتے ہوئے کہتے ہیں "یہ مرچ بہت بڑھیا ہے اسے ناریل میں ملا دیں بڑھیا قسم کی ساؤتھ انڈین ڈش بن جائے گی”۔ میرے دوسرے بڑے رول ماڈل انگلینڈ کے آنجہانی کیتھ فلائیڈ ہیں جن کا گزشتہ برس زیادہ شراب پینے کی وجہ سے انتقال ہوگیا ہے۔ Keath Floyed میرے حساب سے اس فوڈ چینل انڈسٹری کے باوا آدم تھے۔ وہ دنیا کے ہر خطے میں اپنے جہاز سے اپنے عملے کے ساتھ سفر کرتے تھے اور دنیا کا ہر کھانا وہاں کی روایت کے مطابق بناتے تھے۔ انہوں نے افریقہ میں کئی خوبصورت جگہوں پر غریب افریقی بچوں کے ساتھ شتر مرغ کی ڈش بنائی۔ چین میں سانپ کی ڈش بنائی۔ عرب ملکوں میں دنبے کے ذبح ہونے کے بعد میزبان کے ساتھ اسے سیخ پر چڑھایا۔ ہر بار اس نے اپنا ڈرنک نہیں چھوڑا اور وہ اسی ڈرنک کی نذر ہو گیا۔ میں اس پر رشک اس لئے کرتا ہوں کہ وہ ایسا باورچی تھا جو کھانا بنانے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی تفریح سمجھتا تھا۔ ڈرنک کو چھوڑ کر میں بھی کھانا بنانے کو اپنی تفریح سمجھتا ہوں۔ اگرچہ مجھے کوئی چینل قبول نہیں کرے گا کیونکہ میں ایسا فوڈ بناؤں گا جو غریب کا ہو گا اور ساحر لدھیانوی کی طرح میں بھی کہوں گا بڑے بڑے شیف حضرات سے:
اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

مارچ 16, 2011 at 07:21 تبصرہ کریں

ایک گونگا تین بہرے

ایک بہرا جنگل میں بکریاں چرا رہا تھا اسے سخت بھوک لگ رہی تھی، مگر اس کی بیوی اب تک کھانا لے کر نہیں آئی تھی اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا آدمی بیٹھا گھاس کاٹ رہا تھا وہ شخص بھی بہرا تھا پہلے بہرے شخص نے کہا بھائی، میری بیوی میرے لیے کھانا نہیں لائی مجھے بھوک لگ رہی ہے، آپ میری بکریوں کی حفاظت کریں میں جب تک گھر سے کھانا کھا آتا ہوں۔
دوسرا بہرا سمجھا کہ یہ مجھے اپنی بکریوں کے لیے گھاس مانگ رہا ہے اس نے کہا، نہیں میں گھاس نہیں دوں گا۔
پہلا بولا۔ میں بہت جلد واپس آجاؤں گا، تم فکر نہ کرو۔
دوسرا بولا، یہ گھاس میں نے اپنی بکریوں کے لیے کاٹی ہے۔ میں یہ گھاس تمہیں نہیں دوں گا۔
پہلا سمجھا کہ دوسرا کہہ رہا ہے، تم جاؤ، وہ چلا گیا، جب وہ کھانا کھا کر واپس آیا تو اس نے اپنی بکریں دیکھیں جو پوری تھیں اور وہ آدمی بدستور گھاس کاٹ رہا تھا۔ اس نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر یہ چاہتا تو میری ساری بکریاں لے جاتا  مگر شریف آدمی لگتا ہے کیوں نہ میں اسے اپنی لنگڑی بکری تحفے میں دے دوں۔ وہ اپنی لنگڑی بکرے لے کر اس آدمی کے پاس گیا اور کہا، تم نے میری بکریوں کی حفاظت کی ہے اس لیے میں یہ بکری تمہیں تحفے میں دیتا ہوں لیکن یہ بکری لنگڑی ہے۔
دوسرے بہرے نے کہا۔ میں نے اس بکری کی ٹانگ نہیں توڑی۔
پہلا بولا۔ میں یہ بکری تمہیں خوشی سے دے رہا ہوں لے لو۔
دوسرا بہرا بولا۔میں نے تمہاری بکری کی ٹانگ نہیں توڑی۔ اسی دوران سامنے سے ایک شخص آتا دکھائی دیا وہ شخص بھی بہرا تھا دونوں بہروں نے اسے روکا، تیسرا بہرا شخص گھوڑے سے اتر آیا۔
پہلے بہرے نے کہا۔ میں اسے یہ بکرے دے رہا ہوں مگر یہ نہیں لے رہا ہے۔
دوسرا بہرا بولا۔ اس بکری کی ٹانگ میں نے نہیں توڑی۔
تیسرا شخص بولا۔ ہاں تم دونوں ٹھیک کہہ رہے ہو، یہ گھوڑا میں نے چوری کیا ہے میں یہ تمہیں واپس دیتا ہوں مجھے معاف کردو۔ انہوں نے سامنے سے ایک لمبی سفید داڑھی والے بوڑھے کو آتے دیکھا تو تینوں اس کے پاس گئے۔
پہلا بولا۔ باباجی، میں کھانا کھانے گیا اس نے میری بکریوں کی حفاظت کی، اس لیے میں اسے اپنی ایک بکرے دے رہا ہوں مگر یہ نہیں لے رہا ہے۔
دوسرا بہرا بولا۔ میں نے اس سے کہہ دیا کہ میں نے بکری کی ٹانگ نہیں توڑی مگر یہ مانتا ہی نہیں۔
تیسرا بہرا بولا۔ میں مانتا ہوں کہ میں نے چوری کی ہے اور یہ گھوڑا تمہارا ہے لیکن آپ لوگ مجھے معاف کردیں میں آئندہ چوری نہیں کروں گا۔ بوڑھا شخص تینوں کو غور سے دیکھنے لگا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، انہیں گھور کر دیکھنے لگا، وہ سمجھے یہ کوئی جادوگر ہے، جو ان پر جادو کرنا چاہتا ہے، وہ تینوں اپنی اپنی چیزیں لے کر بھاگ گئے۔

مارچ 11, 2011 at 06:46 تبصرہ کریں

عقل مند گدھا

جنگل کے بادشاہ ببر شیر نے چشمے کے کنارے والی چٹان کے نیچے گھنی جھاڑیوں سے جھانک کر دور تک پھیلے دھان کے لہلہاتے کھیت پر نظر ڈالی، بہت دور ایک درخت کے نیچے کوئی چیز ہلتی ہوئی نظر آرہی تھی، شہر نے پنجوں سے آنکھیں ملتے ہوئے دوبارہ اس طرف دیکھا، یقینا وہ کالا ہرن تھا، شیر رات سے بھوکا تھا۔ کالے ہرن کے لذیز گوشت کے تصور ہی سے اس کے منہ میں پانی آگیا اور ایک ماہر شکاری کی مانند جھاڑیوں کی آڑ لیتے ہوئے اس نے ہرن کی طرف قدم بڑھائے….
دوسری طرف بانسوں کے جھنڈ میں ایک چیتا بھی ہرن پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ بھوک سے اس کے پیٹ میں بھی چوہے دوڑ رہے تھے۔ چیتے نے بھی ہرن کی طرف بڑھنا شروع کیا۔
ہرن دونوں طرف سے بڑھتے ہوئے خطروں سے بے خبر نرم نرم گھاس کھانے میں مشغول تھا. کبھی کبھی وہ اپنی بادام جیسی آنکھیں گھما کر ادھر ادھر دیکھتا اور پھر گھاس کھانے لگتا۔ جانور خطرے کی بو سونگھ لیتے ہیں۔ ہرن کی بے چین آنکھی ظاہر کر رہی تھیں کہ اس نے خطرے کی بو سونگھ لی ہے۔ اس نے کان کھڑے کر کے گردن گھما کر چشمے کی طرف دیکھا جہاں میدان میں دو ریچھ کے بچے کھیل رہے تھے، ابھی ہرن پہاڑ کی طرف رخ کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ مشرق اور جنوب سے شیر اور چیتے نے جھاڑیوں سے چھلانگیں لگائیں اور دونوں تیر کی طرح ہرن کی طرف لپکے، ہرن لمبی لمبی قلانچیں مارتا ہوا پہاڑوں کی طرف بھاگا۔
شیر اور چیتے کی رفتار کے مقابلے میں ہرن کی رفتار کم تھی، لیکن وہ اپنے ہلکے اور سڈول جسم کی وجہ سے ان دونوں کو غچہ دیتے ہوئے بھاگ رہا تھا، اس بھاگ دوڑ میں ان تینوں نے میلوں کا فاصلہ طے کر لیا، آخر کار ہرن ایک چٹان پر چڑھ گیا، جو اتنی اونچی تھی کہ اس پر شیر اور چیتا نہیں چڑھ سکتے تھے، شیر اور چیتا چٹان کے نیچے زبانیں نکالے ہانپ رہے تھے اور ہرن کو للچائی نظروں سے دیکھ رہے تھے، جب سانسیں درست ہوئیں تو شیر نے کہا۔ ”یہ میرا شکار ہے پہلے میں نے تاکا تھا“۔
چیتے نے غصے سے جواب دیا۔ ”آپ جنگل کے بادشاہ ضرور ہیں لیکن یہ جنگل ہے انسانوں کی دنیا نہیں کہ بادشاہ جو چاہے کرے، جانور اپنے حقوق کی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں۔ یہ میرا شکار ہے“۔
شیر دہاڑا: ”انسان ہو یا جانور‘ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہر جگہ چلتا ہے میں تم سے زیادہ طاقتور ہوں“۔
شیر اور چیتے کی تکرار سن کر ہرن نے اطمینان کا سانس لیا اور کہا ”میرے محترم بادشاہ ہو! یہ میری خوش نصیبی ہوگی کہ میں آپ جیسے شاہی خاندار کے افراد کی غذا بنوں، لیکن پہلے آاپ دونوں طے کر لیں کہ آپ میں سے کون میرا لذیذ گوشت نوش فرمائے گا“۔
شیر اور چیتا دوبارہ تکرار کرنے لگے، اسی دوران ادھر سے ایک گدھے کا گزر ہوا تو ہرن نے جھٹ سے مشورہ دیا ”میرے خیال سے آپ دونوں اس سلسلے میں گدھے صاحب سے مشورہ لے لیں، کیوں کہ مشورہ دینے کے لیے عقلمند ہونا ضروری نہیں“۔
شیر نے کہا ”چلو مجھے منظور ہے، وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے“۔
چیتے نے گدھے کو حکم دیا ”گدھے کے بچے! ادھر آﺅ….“
گدھا پہلے تو ڈرا کہ کہیں یہ دونوں اسے ہی ہڑپ نہ کر لیں، پھر ڈرتے ڈرتے دانت نکالتا ہوا ان کے قریب آیا اور جب اس نے پورا قصہ سنا تو خوشی سے مشورہ دیا ”ہاں تو شیر صاحب آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ نے ہرن پر پہلے نظرِ بد ڈالی جب کہ چیتے صاحب کا دعویٰ ہے کہ ہرن کو دیکھ کر پہلے ان کی رال ٹپکی، کیوں کہ یہاں کوئی گواہ نہیں ہے اس لیے میرا مشورہ ہے کہ آپ دونوں اپنی اپنی جگہ تشریف لے جائیں اور جب میں رینکنا شروع کروں تو آپ دونوں دوڑنا شروع کر دیں جو بھی پہلے یہاں پہنچ جائے گا وہی ہرن میاں کو نوش فرمانے کا حق دار ہو گا“۔
شیر اور چیتا بھوک سے بے تاب تھے، لیکن دونوں کو اپنی تیز رفتاری پر ناز تھا اس لیے انہوں نے گدھے کی تجویز مان لی اور یہ طے ہوا کہ دونوں اپنی اپنی جگہ لوٹ جائیں گے اور اس دوران ہرن صاحب چٹان سے اتر کر نہا دھو کر ان میں سے ایک کی خوراک بننے کے لیے میدان میں کھڑے ہو جائیں گے اور جیسے ہی گدھے صاحب اپنی بے سری آواز میں رینکنا شروع کردیں گے، دوڑ شروع ہوجائے گی۔
شیر اور چیتا اپنی اپنی جگہ واپس چلے گئے، جب کافی دیر تک گدھے کے رینکنے کی آواز نہ آئی تو دونوں کا ماتھا ٹھنکا، پہلے تو انہوں نے ایک دوسرے کو گھورا، پھر چٹان کی طرف دوڑنا شروع کیا، جب وہ چٹان کے نزدیک پہنچے تو دیکھا وہاں چاروں طرف ویرانی اور سناٹا تھا۔ ہرن کا کہیں پتا نہ تھا اور گدھے کے سر سے سینگ ہی نہیں پورا گدھا غائب تھا۔
شیر نے غصہ سے چیخ کر کہا۔ ”اس گدھے کے بچے نے ہمیں دھوکا دیا“۔
چیتے نے سر جھکا کر افسوس سے کہا۔ ”شیر صاحب! گدھا وہ نہیں ہم دونوں ہیں“۔

مارچ 7, 2011 at 07:20 تبصرہ کریں

جیسے کو تیسا

ایک بڑھیا تھی۔ وہ بڑھیا اپنا سارا گہنا پاتا پہن کر کہیں جا رہی تھی۔  گہنا کیا تھا؟ یہی کانوں میں جھمکے تھے۔ باہوں میں گنگن تھے اور گلے میں ہار تھا۔ مگر یہ سارے زیور تھے سونے کے۔ بے چاری بڑھیا کے پیچھے دو ٹھگ لگ گئے۔ دونوں بڑے چال باز، مکار اور عیار تھے۔ دونوں آپس میں گہرے دوست تھے۔ دونوں چاہتے تھے کہ بڑھیا سے سارے کا سارا زیور ہتھیا لیں۔ لیکن بڑھیا نے بھی اپنے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے تھے، وہ ٹھگ تو ٹھگ تھے ہی…. یہ بڑھیا ان کی بھی نانی تھی۔
ایک ٹھگ نے آگے بڑھ کر علیک سلیک کے بعد پوچھا کہ بڑی اماں کہاں جا رہی ہو؟
بیٹا! شہر جا رہی ہوں بڑھیا نے جواب دیا۔
پھر تو خوب ساتھ ہوا۔ بڑی اماں ہم بھی تو شہر ہی جارہے ہیں۔ دوسرا ٹھگ بولا۔
ہاں بیٹا! اچھا ہوگیا۔ بڑھیا نے کہا۔
تھوڑی دور چلنے کے بعد ایک ٹھگ بولا۔
بڑی اماں کوئی کہانی ہی سناﺅ جس سے سفر کی تھکان معلوم نہ ہو اور وقت بھی جلد کٹ جائے۔
بیٹا! میں بھلا کون سی کہانی سناﺅں؟ تم ہی کچھ کہو۔
ہم سنائیں۔ دوسرا ٹھگ بولا۔ مگر بڑی اماں ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ اگر تم نے ہماری کہانی کو جھوٹ کہا تو ہم تمہارے کنگن اتار لیں گے۔ بڑھیا نے ان کی یہ شرط مان لی اور ایک ٹھگ کہانی سنانے لگا۔
بڑی اماں! ہماری ایک گائے تھی۔ بڑی خوب صورت موٹی موٹی آنکھیں تھیں اس کی۔ لمبے لمبے کان تھے۔ دودھ اتنا دیتی تھی کہ ہم دوہتے دوہتے تھک جاتے تھے لیکن دودھ پھر بھی ختم نہ ہوتا تھا۔ اس میں خاص بات یہ تھی کہ اگر ہم اس کے داہنے سینگ پر بیٹھ جاتے تو مغرب میں پہنچ جاتے اور جب بائیں پر بیٹھتے تو مشرق میں آجاتے۔
پاکستان بننے پر جب ہم قافلے کے ساتھ پاکستان آرہے تھے تو ہم پر فسادیوں نے حملہ کر دیا۔ ایک سنسناتی ہوئی گولی آئی اور ہماری گائے کو لگی جس سے بے چاری وہیں ڈھیر ہو گئی۔
بڑا افسوس ہوا۔ بڑھیا نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
بڑی اماں! اب تم کچھ سناﺅ۔ ٹھگ نے تیر نشانے پر نہ لگتے دیکھ کر کہا۔
میں سناﺅں؟ بڑھیا نے کہا۔ اگر تم نے میری بات کو غلط جانا تو تمہیں ایک سو روپیہ دینا پڑے گا۔
ٹھگو نے کہا۔ ہمیں منظور ہے۔
تو پھر سنو بیٹوں! جب میری شادی ہوئی تو میرے والد نے ایک بیل بھی مجھے جہیز میں دیا۔ بڑا اچھا بیل تھا۔ کسی کو کچھ نہ کہتا تھا، ایک دفعہ یوں ہی باہر کھیت میں کوئی دوسرا بیل اس سے لڑ پڑا۔ ایسا لڑا کہ ہمارے بیل کے ماتھے پر اچھا خاصا زخم ہو گیا ہم نے بہیترے علاج کرائے لیکن زخم نہ بھر سکا…. کرنا خدا کا یوں ہوا کہ بنولے کا دانہ اس کے زخم میں کہیں سے گر گیا۔ ہوتے ہوتے وہ اچھا خاصا پودا بن گیا۔ اس میں ایسی نفیس کپاس لگی کہ تمہیں کیا بتاﺅں، وہ کپاس ہم نے جمع کرنی شروع کر دی۔ اتنی کپاس جمع ہو گئی کہ اب گھر میں جگہ نہ رہی، گھر گھر ہمارے بیل کے چرچے ہونے لگے، بڑی بڑی دور سے لوگ اس انوکھے بیل کو دیکھنے کے لیے آتے۔ اس کی کپاس کو دیکھتے اور تعریفوں کے پل باندھ دیتے۔ اب ہمارے پاس اتنی زیادہ کپاس ہو گئی کہ سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ ہم نے اسے بیلوا کر کاٹنا شروع کیا اور اس کا کپڑا لتا بنانے لگے، کئی قسم کے کپڑے بنوائے، جن میں کھیس بھی تھے، ان کھیسوں میں سے دو کھیس کہیں چوری ہو گئے۔ بیٹا! خدا جھوٹ نہ بلوائے، یہ کھیس جو تم اوڑھے ہوئے ہو، وہی ہیں جو چوری ہوئے تھے۔ مہربانی کر کے یہ کھیس اتار دو۔
دونوں ٹھگوں نے اپنے کھیس بڑھیا کو دے دیے اور کرتے بھی کیا۔ شرط جو تھی۔ مجبور تھے۔
ہاں تو بیٹا! بڑھیا نے پھر کہانی کا سلسلہ شروع کیا۔ ہم نے اس کپاس میں سے ململ کے تھان بنوائے۔ ململ کے تھانوں میں سے ایک تھان گم ہو گیا۔ یہ جو تمہاری پگڑیاں ہیں، اسی تھان کی ہیں، یہ بھی اتاردو۔
انہوں نے پگڑیاں بھی اتار دیں۔ نہ اتارتے تو شرط کے مطابق سو روپیہ دیتے۔
اب شہر نزدیک ہی تھا۔ ایک ٹھگ بولا۔ بڑی اماں! بھوک لگ رہی ہے۔
اچھا بیٹا! شہر آیا ہی سمجھو۔ مجھے اپنے کنگن بیچنے ہیں۔ کنگن بیچ لیں اور پھر آرام سے کسی جگہ بیٹھ کر کھانا کھائیں گے۔
وہ خاموش ہو گئے اور سوچنے لگے کہ بڑھیا کنگن بیچ لے پھر کوئی داﺅ چلائیں گے۔ وہ بڑھیا کے ساتھ چلتے ہوئے اپنی دماغی سڑکوں پر تدبیروں کے گھوڑے دوڑانے لگے۔
اب وہ شہر میں پہنچ گئے تھے۔ ہر طرف خوب چہل پہل تھی۔ کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ بڑھیا نے اپنے کنگن اتار لیے اور ان سے کہنے لگی:
بیٹا! سنار کی دکان آ گئی ہے۔ تم یہاں بیٹھو میں اپنے کنگن بیچ لوں۔
وہ سنار کی دکان کے قریب ہی بیٹھ گئے اور بڑھیا سنار کی دکان پر پہنچ گئی۔
کیا چاہیے اماں تمہیں؟ سنار نے پوچھا۔
میں اپنے دو نوکر بیچنا چاہتی ہوں وہ سامنے بیٹھے ہیں۔
نوکروں کی تو ہمیں بہت ضرورت ہے۔
سنار نے کہا۔ بولو اماں! کیا قیمت ہے ان دونوں کی؟
تین سو روپے۔ بڑھیا نے کہا اور بات دو سو روپے پر طے ہو گئی۔
میں نوکروں سے پوچھ لوں کہ ان میں سے ایک بکنا چاہتا ہے یا دونوں؟ بڑھیا نے کہا اور پھر بلند آواز سے پوچھنے لگی۔ بیٹا! ایک بیچوں یا دونوں؟
ادھر سے جواب ملا۔ اماں! دونوں بیچ دے۔ ایک کو کہاں رکھے گی؟
بڑھیا نے دو سو روپوں میں دونوں ٹھگوں کو سنار کے ہاتھ بیچ دیا اور ان کے پاس آ کر کہنے لگی۔ بیٹا! تم یہیں بیٹھو۔ میں تمہارے لیے کھانا لے کر آتی ہوں۔
کچھ مٹھائی بھی لیتی آنا اماں! دونوں نے کہا اور بڑھیا اچھی بات کہہ کر نو دو گیارہ ہو گئی۔
تھوڑی دیر بعد سنار نے انہیں بلایا اور دریاں جھاڑنے کا حکم دیا تو ان کو حقیقت معلوم ہوئی اور انہوں نے کہا۔
ارے وہ تو ہماری بھی نانی نکلی۔

فروری 24, 2011 at 05:55 تبصرہ کریں

لوہار اور عورت

ایک نیک و پرہیزگار شخص مصر پہنچا ۔ وہاں اس نے ایک لوہار کودیکھا وہ اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر سرخ اور دہکتا ہوا لوہا آگ کی بھٹی سے باہر نکال رہا ہے مگرآگ  کی حرارت و گرمی کا اس پر کوئي اثر نہيں تھا ۔ اس شخص نے اپنے دل میں کہا کہ :یہ توکوئي بہت ہی پہنچا ہوا اور پرہیزگار آدمی معلوم ہوتا ہے۔ وہ اس لوہار کے پاس گيا سلام کیا اورکہنے لگا :تمہيں قسم ہے اس خداکی جس نے تمہیں یہ کرامت عطا کی ہے میرے حق میں کوئی دعا کر دو ۔ لوہار نے جیسے ہی یہ باتیں سنیں اس پر گریہ طاری ہوگیا اور کہنے لگا : میرے بارے میں جوتم سوچ رہے ہو ویسا نہيں ہے میں نہ تو کوئی متقی ہوں اور نہ ہی صالحین میں میرا شمار ہوتا ہے ۔ آنے والے شخص نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟
اس طرح کا کام اللہ کے نیک بندوں کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا ؟
اس نے جواب دیا ٹھیک کہتے ہو مگر میرے ساتھ اس کی کچھ اور وجہ ہے آنے والے شخص نے جب زیادہ اصرار کیا تو لوہار نے کہا : ایک دن میں اسی دوکان میں کام کر رہا تھا ، ایک بہت ہی حسین و خوش اندام عورت کہ اس سے پہلے اتنی خوبصورت عورت کہیں نہیں دیکھی تھی میرے پاس آئي اور کہنے لگی کہ میں بہت ہی غریب و مفلس ہوں ۔ میں اس کودیکھتے ہی اس کا عاشق ہو گیا اوراس کے حسن میں گرفتار ہو گیا میں نے اس سے کہا کہ اگر تو میرے ساتھ ہم بستر ہو جائے تو میں تیری ہر ضرورت پوری کردوں گا ۔ یہ سن کر اس عورت کا پورا جسم لرز اٹھا اوراس پرایک بہت ہی عجیب وغریب کیفیت طاری ہو گئی کہنے لگی :
اے مرد خداسے ڈر میں اس قماش کی عورت نہیں ہوں ۔ اس کے جواب میں میں نے کہا  تو ٹھیک  ہے اٹھ اور یہاں سے کہیں اور کا راستہ دیکھ ۔ وہ عورت چلی گئی مگر تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ دوبارہ واپس آئی اورکہنے لگی غربت تنگدستی مجھے مارے ڈال رہی ہے اوراسی چیز نے مجھے مجبورکر دیا ہے کہ تیری خواہش پر ہاں ، بھر لوں ۔
میں نے دوکان بند کی اوراس کولے کراپنے گھر پہنچا جب میں گھر کے کمرےمیں داخل ہوا تو میں کمرے کےدروازے کواندر سے تالا لگانے لگا
عورت نے پوچھا  : کیوں تالا لگارہے ہو یہاں توکو‏ئی بھی نہيں ہے ؟ میں نے جواب دیا کہيں کوئي آ نہ جائے اورپھر میری عزت چلی جائے ۔ عورت نے کہا : اگرایسا ہے توخدا سے کیوں نہيں ڈرتے ؟
جب میں اس کے جسم کے قریب ہوا تو دیکھا کہ اس کا جسم اس طرح سے لرز رہا تھا جیسے باد بہاری کی زد میں آکر بید کے خشک پتے ہلتے رہتے ہیں ۔اوراس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگي ہوئي تھی ،
میں نے اس سے کہا کہ تو یہاں کس سے ڈر رہی ہے ؟ اس نے کہا اس وقت خدا ہم دونوں کو دیکھ رہا ہے تو میں کیونکر خوف نہ کھاؤں ۔ اس  عورت نے بہت ہی گڑگڑا کر کہا :
اے مرد اگر تو مجھے چھوڑدے تو میں وعدہ کرتی ہوں کہ خداوند عالم تیرے جسم کودنیا وآخرت دونوں جہان میں آگ کے شعلوں میں نہيں جلائے گا ۔ اس کی التجا اور چہرے پربہتے ہوئے آنسو مجھ پر اثر کر گئے میں نے اپنا ارادہ  ترک کر دیا اور اس کی جوضرورت تھی وہ بھی پوری کردی یوں وہ عورت خوشی خوشی اپنے گھر لوٹ گئي ۔
اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ خاتون جن کے سر پر یاقوت کا چمکتا ہوا تاج ہے مجھ سے کہہ رہی ہیں : اللہ تمہيں جزائے خیر دے ،میں نے پوچھا آپ کون ہيں ؟ بزرگ خاتون نے کہا کہ میں اسی ضرورت مند اور محتاج لڑکی کی ماں ہوں کہ جس کی غربت کھینچ کر اسے تمہارے پاس لائی تھی لیکن خوف خدا کی وجہ سے تم نے اسے چھوڑ دیا اب میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ دنیا وآخرت میں تمہیں آگ سے محفوظ رکھے ۔
میں نے ان بزرگ خاتون سے پوچھا آپ کا تعلق کس گھرانے سے ہے اس نے جواب دیا کہ میرا شجرہ نسب رسول خدا کے گھرانے سے ملتا ہے یہ سن کر میں نے ان بزرگ خاتون کا بے پناہ شکریہ ادا کیا ۔اس دن کے بعد سے آگ  کی تپش اور حرارت مجھ میں کوئي اثر نہيں کرتی ۔

فروری 17, 2011 at 07:38 تبصرہ کریں

جادو کا موتی

ویت نام کے کسی گاؤں میں ایک شکاری رہتا تھا۔ اس کا  نام  ڈائزنگ تھا اور وہ اکیلا ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ ایک دن وہ شکار تلاش کر رہا تھا کہ اُسے ایک شکرا نظر آیا جو سانپ پر جھپٹنے ہی والا تھا۔ ڈائزنگ کو سانپ پر ترس آ گیا ۔اُس نے تیر سے شکرے کو مار گرایا۔
سانپ بھاگتے بھاگتے رک گیا پھن اُٹھا کر ڈائزنگ کو دیکھا اور پھر بولاٴٴتمہارا بہت بہت شکریہ ڈائزنگٴٴ۔ تم نے مجھ پر جو احسان کیا ہے۔ میَں اُس کا بدلہ دینا چاہتا ہوں۔ یہ لو۔ یہ جادو کا موتی ہے۔ اِسے زبان کے نیچے رکھو گے تو دنیا کے ہر جانور کی بولی کا مطلب سمجھ سکو گے، لیکن ایک بات یاد رکھنا اپنے اِس علم کو نیک کاموں میں استعمال کرنا۔
پھر اچانک سانپ غائب ہوگیا۔ اُسی وقت ڈائزنگ کو ایک پہاڑی کوے کی کائیں کائیں سنائی دی۔ اُس نے جادوئی موتی زبان کے نیچے رکھا اور کوے کی کائیں کائیں کی طرف کان لگا دئیے کوا کہہ رہا تھاٴٴیہاں قریب ہی ایک جھاڑی میں ایک موٹا تازہ ہرن بیٹھا ہے۔ اگر تم وعدہ کرو کہ اُس کی کلیجی مجھے دے دو گے تو میَں تمھیں اُس تک لے جاؤں گا۔ کوا ڈائزنگ کو اُس جھاڑی کے پاس لے گیا، ڈائزنگ نے تیر سے ہرن کو شکار کیا اُس کی کلیجی کوئے کو دی اور گوشت گھر لے گیا۔ پھر وہ کوے کے ساتھ مل کر شکار کرنے لگا۔ دونوں خوش تھے۔ ڈائزنگ کو شکار کے لیے زیادہ دوڑ دھوپ کرنی نہیں پڑتی تھی اور پہاڑی کوئے کو مفت میں کلیجی مل جاتی تھی۔
ایک دن کوے کو آنے میں دیر ہوگئی تو ڈائزنگ اکیلا ہی شکار کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ کچھ دیر بعد اُس نے ایک شکار مارا اور اُس کی کلیجی درخت شاخ پر رکھ دی کہ کوا آ کر کھا لے گا، لیکن وہ کلیجی کوئی دوسرا پرندہ کھا گیا۔ اتنے میں کوا کائیں کائیں کرتا ہوا آ گیا ۔ اُسے کلیجی نہیں ملی، تو اُس نے ڈائزنگ کو خوب بُرا بھلا کہا۔ ڈائزنگ کو غصہ آ گیا۔ اُس نے کمان میں تیر لگایا اور کوئے پر نشانہ لگایا۔ کوا اُچھل کر ایک طرف ہو گیا اور تیر کچھ دور جا کر زمین پر گر پڑا۔
کوا چیخ کر بولاٴٴپہلے تم نے وعدہ خلافی کی اور اب میری جان لینے کی کوشش کی ۔ تمھیں اِس کی سزا ملے گیٴٴ۔ یہ کہہ کر اُس نے تیر کو چونچ میں دبایا اور گائوں کی طرف اُڑ گیا۔ گائوں کے پاس ایک نہر تھی اُس نہر میں کسی آدمی کی لاش پڑی تھی۔ شاید ڈوب کر مرگیا تھا کوے نے ڈائزنگ کا تیر مردے کے جسم میں گھونپ دیا اور جنگل کی طرف اُڑ گیا۔ کچھ دیر بعد چند لوگ نہر کے پاس سے گزرے۔ اُنھوں نے نہر میں لاش دیکھی تو رک گئے لاش میں تیر لگا ہوا تھا۔ یہ تیر ڈائزنگ کا تھا۔ اُنھوں نے پولیس کو خبر کردی اور پولیس نے ڈائزنگ کو قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا۔
اب بے چارہ ڈائزنگ جیل کی کال کوٹھڑی میں پڑا آہیں بھرتا رہا۔ اُس کوٹھڑی میں بس مکھی مچھر تھے یا پسو اور چوہے جو اِدھر اُدھر دوڑتے پھرتے تھے۔ ڈائزنگ نے سوچا چلو اُنہی کی باتیں سن کر وقت گزاروں۔ اب وہ صبح ہوتے ہی جادوئی موتی زبان کے نیچے رکھ لیتا اور اُن جانوروں کی باتیں سنتا۔ ایک صبح ایک چڑیا دوسری چڑیا سے کہہ رہی تھی ٴٴاُس ملک کا بادشاہ بہت بے وقوف ہے۔ اُس کے غلے کے گودام سے روز رات کو چور چاولوں کی بوریاں چرا کر لے جاتے اگر یہی حال رہا تو چند دنوں میں سارا گودام خالی ہو جائے گاٴٴ۔
ڈائزنگ نے جیلر کو بلایا اور اُسے یہ بات بتائی۔ جیلر کو اُس کی بات کا یقین نہ آیا۔ اُس نے کہا تم کوئی جادو گر ہو کہ تمھیں یہاں بیٹھے بیٹھے چوری کی خبر مل گئی؟ ڈائزنگ بولا ٴٴمیری بات غلط ہو تو مجھے پھانسی دے دیناٴٴ۔
جیلر نے کوتوال سے بات کی کوتوال نے وزیر کو اطلاع دی اور وزیر نے یہ بات بادشاہ کو بتائی۔ اُسی رات بادشاہ کے سپاہیوں نے گودام پر چھاپہ مارا اور چوروں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گودام کے چوکیدار چوروں سے ملے ہوئے تھے وہ بھی پکڑے گئے۔ بادشاہ نے خوش ہوکر وزیر کو 100اشرفیاں دیں وزیر نے خوش ہوکر کوتوال کو 10اشرفیاں دیں۔ کوتوال نے خوش ہوکر جیلر کو ایک اشرفی دی۔ ڈائزنگ کو پھوٹی کوڑی بھی نہ ملی۔ چند دن بعد ڈائزنگ نے دیکھا کہ اُس کی کوٹھڑی کی چیونٹیاں باہر بھاگ رہی ہیں۔ ایک چیونٹی کہہ رہی تھی ٴٴچلو چلو کسی اونچی جگہ چلو۔ پہاڑوں پر موسلادھار بارشیں ہو رہی ہیں۔ سیلاب آنے والا یہ تمام گائوں کھیت اور کھلیان بہہ جائیں گےٴٴ۔
ڈائزنگ نے یہ بات جیلر کو بتائی۔ جیلر نے کوتوال کو بتائی کوتوال نے وزیر سے کہا اور وزیر نے بادشاہ کو بتایا۔ بادشاہ نے اسی وقت گاؤں گاؤں ہر کارے بھیج کر لوگوں کو خبردار کر دیا۔ لوگوں نے جلدی جلدی دریاؤں کے کنارے اونچے کئے اور کنکر پتھر ڈال کر پشتوں کو مضبوط کر دیا۔ اور اِس طرح سیلاب کا پانی بغیر کوئی نقصان پہنچائے گزر گیا۔
بادشاہ نے وزیر سے پوچھا ٴٴتمھیں یہ باتیں کون بتاتا ہے؟ٴٴ وزیر نے کہا کوتوال۔ کوتوال بولا جیلر اور جیلر بولا ڈائزنگ جو میری جیل میں قید ہے۔ بادشاہ نے اسی وقت ڈائزنگ کو بلایا اور اُس سے دریافت کیا کہ تمھیں یہ باتیں کیسے معلوم ہوتی ہیں؟ڈائزنگ نے سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔ بادشاہ بہت خوش ہوا۔ اس نے ڈائزنگ کو اپنا وزیر بنا لیا۔
بادشاہ سلطنت کے کام کاج سے فارغ ہوتا تو ڈائزنگ کو لے کر کسی باغ یا جنگل میں چلا جاتا اور ڈائزنگ اسے مختلف جانوروں کی باتیں سناتا۔ بادشاہ بہت خوش ہوتا اور اُسے خوب انعام و اکرام دیتا۔ ڈائزنگ عیش و آرام میں ایسا مست ہوا کہ اپنے گاؤں کے اُن لوگوں کو بھی بھول گیا جو آڑے وقتوں میں اُس کی مدد کرتے تھے۔ ایک دن بادشاہ نے دریا کی سیر کا ارادہ کیا۔ پانی میں رنگ برنگ مچھلیاں تیر رہی تھیں اور ڈائزنگ اُن کی دلچسپ باتیں بادشاہ کو سنا رہا تھا اچانک ایک مچھلی نے کوئی ایسی بات کہی کہ جسے سن کر ڈائزنگ نے زور دار قہقہہ لگایا۔ اُس کا منہ کھلا تو موتی پانی میں گر پڑا۔ بادشاہ نے غوطہ خوروں کو حکم دیا کہ وہ پانی میں سے موتی نکال کر لائیں۔ غوطہ خوروں نے تمام دریا کھنگال ڈالا موتی کا کہیں پتا نہ چلا۔
بادشاہ کچھ دن اُداس رہا پھر اُس نے اپنی تفریح کا دوسرا سامان کر لیا اور ڈائزنگ کو محل سے نکال دیا۔ ڈائزنگ رنجیدہ ہو کر دریا کے کنارے بیٹھ گیا اور ریت میں موتی تلاش کرنے لگا، لیکن بے سود۔ اُسی طرح کئی دن گزر گئے۔ اُس کی کمر جھکے جھکے کبڑی ہوگئی۔ ہاتھ پائوں اکڑ گئے اب اُس سے کھڑا نہ ہوا جاتا تھا ۔ وہ کیکڑا بن گیا تھا۔
آپ کو کبھی جنوبی چین کے ساحلوں پر جانے کا اتفاق ہو تو آپ کو وہاں سینکڑوں چھوٹے چھوٹے کیکڑے اپنے پنجوں سے ریت کھودتے اور اس میں کچھ تلاش کرتے نظر آئیں گے لوگ کہتے ہیں کہ ڈائزنگ کی اولاد ہیں اور اُس موتی کو تلاش کر رہے ہیں جو سینکڑوں سال پہلے دریا میں گر گیا تھا۔

دسمبر 30, 2010 at 08:28 1 comment

ماسی ریشم اور قدرت کا انوکھا انتقام

(جو لوگ غرور اور تکبر کرتے ہوئے رشتوں کا احترام بھول جاتے ہیں، ایسے ہی ایک خاندان کی کہانی جو نہایت عبرتناک ہے)

ماسی ریشم دور کے رشتے میں میری خالہ تھی ۔ا س کی شادی سیالکوٹ کے نواح میں مشہور قصبے کوٹلی بہرام میں ہوئی تھی۔ یہ بات 30-1920 کی ہے ورنہ اب تو کوٹلی بہرام سیالکوٹ کا ایک محلہ بن گیا ہے اور شہر اس سے بہت آگے تک پھیل گیا ہے. ماسی ریشم کی شادی کوٹلی بہرام میں ہوئی ۔ اُس کا خاوند قریب ہی کے گاﺅ ں گودھپور میں زمینداراہ کرتا تھا۔ ان کی ایک بیٹی ہو ئی اور ماسی کا خاوند وفات پا گیا۔ اس طرح ایک خوبصورت طر ح دار لڑکی کو عین جوانی میں بیوگی کے شدید ترین المیے سے دوچار ہو نا پڑا ۔ ماسی ریشم ان پڑھ تھی لیکن بہت تیز طرار اور ذہین تھی اور بہا در بھی ۔ اس کے مرحوم خاوند کے بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ وہ ان میں سے کسی سے شادی کر لے یا پھر اس گھر سے نکل جائے ، مگر وہ کسی دباﺅ میں نہ آئی۔ اس نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا اور خاوند کے حصے کی زمین حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ بعد میں اس نے کوٹلی بہرام کی رہائش گاہ ترک کر دی اور گودھپور میں ایک مختصر سا مکان بنا کر وہاں منتقل ہو گئی ۔

ماسی ریشم کی بیٹی رشیداں جوان ہو گئی تو اس کی شادی اپنے گاﺅں ہی میں ایک نوجوان خادم سے ہو گئی ۔ خادم حسین ایک غریب ، بے سہارا نوجوان تھا اور ڈرائیوری کرتا تھا ۔ ماسی نے اسے اپنے گھر ہی میں ٹھہرا لیا اور اس طر ح دونوں خوش اور مطمئن ہو گئے ۔ ایک تو گھر کے لئے ایک مر د مل گیا ، دوسرا اس کو بیوی کے ساتھ ایک ماں بھی مل گئی اور چھت کا سایہ بھی ۔ لیکن خادم حسین کی بدنصیبی کہ ما سی ریشم اپنی بعض خوبیوں کے باوجود بدمزاج اور مغرور عورت تھی ۔ لحا ظ نام کی کوئی چیز اس میں نہ تھی اور اسے احساس تک نہ ہوتا تھا کہ کسی کی عزت نفس کا پاس کیا جاتا ہے ۔ وہ مخاطب کو کھڑے کھڑے تول کر رکھ دیتی اور اس کی توہین و تذلیل میں کو ئی کسر اٹھا نہ رکھتی ،چنانچہ اپنی عادت سے مجبور ہو کر وہ خادم حسین کو خوب خوب کچوکے لگاتی اور اسے ذلیل و خوار کر کے شاید اسے تسکین ملا کرتی ۔ خادم حسین ایسے مو قعہ پر فریاد طلب نگاہو ں سے اپنی بیوی رشیداں کی طر ف دیکھا کر تا ، لیکن وہ بےنیازی اور بےتکلفی کا انداز اختیار کر کے خاموش رہتی ۔

تنہائی کا موقع ملتا تو ساس کے رویے کی شکایت بھی کرتا ، مگر رشیداں کا مزاج بھی بہت حد تک اپنی اماں سے ملتا جلتا تھا، اکلوتی لا ڈلی ہو نے کی وجہ سے غرور اور بے نیا زی کا عنصر اس میں بھی بد درجہ اتم تھا، چنا چہ اپنی ماں کے خلاف شوہر کی شکایت سن کر وہ برا سا منہ بنا لیتی اور خادم حسین شرمندہ ہو کر چپ ہو جاتا ۔ مزید مصیبت یہ تھی کہ خادم حسین کو رشیداں سے تنہائی کے مواقع بہت کم ملتے تھے ۔ پرانی طرز کا ایک ہی بڑا سا کمرہ تھا جس میں یہ تینو ں افراد رہتے تھے اور ماسی ریشم ایک بے رحم ، بے حس محتسب کی طر ح کڑی نظروں سے دونوں کی نگرانی کرتی تھی ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود رشیداں بی بی نے ایک بیٹے کو جنم دے دیا اوریہ اپنی نو عیت کا پہلا اور آخری حادثہ ثابت ہوا۔ یہی وہ حالات تھے جب خادم حسین بےبس اور پریشان ہو کر ادھر ادھر ہا تھ پاﺅ ں مارنے پر مجبور ہو گیا ۔ وہ بھی خوبصورت تھا، جوان رعنا تھا اور خوش ذوق تھا، چنانچہ اس نے سیالکوٹ شہر ہی میں ایک لڑکی سے تعلقات استوار کر لئے اور اسے اپنی توجہات کا مرکز بنا لیا، چنانچہ اب اس نے ساس کے گھر میں آنا کم کر دیا اور ایک روز سنا کہ خادم حسین نے اس خاتون سے باقاعدہ شادی کرلی۔

خادم حسین کی دوسری شادی کی خبر ماسی ریشم اور اس کی بیٹی پر بجلی بن کر گری ۔ پہلے چند دن تو انہو ں نے خوب واویلا کیا، سینہ کوبی کی ۔ خادم حسین کا ماتم کیا اور پھر اس کا نام آتے ہی وہ زخمی شیرنیو ں کی طر ح غرانے لگتیں اور اس کی سات پشتوں کو بے نقط سنا ڈالتیں لیکن عملاً وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھیں ۔ خادم حسین نے ان کے ہاں آنا جانا بالکل ترک کر دیا تھا ۔ ماسی ریشم اگرچہ نما ز روزے کی پابند تھی ، لیکن وہ ہمیشہ ہی سے قبروں ، درگاہو ں کی پرستار تھی ۔ وہ بڑی ہی باقاعدگی کے ساتھ ہر جمعرات کو امام صاحب کے مزار پر حاضری دیتی (سیالکوٹ میں ایک شہید بزرگ کا مزار) قبر شریف کا طواف کرتی ، حتیٰ کہ سجدے میں گر جاتی تھی ۔ اسی طر ح وقتاً فوقتاً بابل شہید کے قبرستان میں بھی حاضر ہونا اس کے نزدیک گویا فرض واجب تھا ۔ وہا ں بہت سے بزرگوں اور شہیدوں کے مزار ہیں ۔ وہ باری باری سب کے ہا ں حاضر ہوا کرتی اور ان کی خدمت میں اپنی حاجتیں پیش کرتی ۔ خادم حسین کی شادی کا حادثہ پیش آیا تو مقبروں پر دونوں ماں بیٹی کی حاضریو ں کا تناسب کہیں بڑھ گیا ۔

کوئی دن نہ جاتا کہ وہ ارد گرد کی درگاہوں پر حاضر نہ ہوا کرتیں ، کبھی بابا ملو ک شاہ پر ، کبھی منڈیر شریف اور کبھی ہمارے گاﺅں کے قریب نہر کنارے کوﺅں والے سائیں کے پاس۔ راستے میں وہ خادم حسین اور اس کے آباﺅ اجداد کو منہ بھر بھر کے گالیاں دیا کرتیں اور قبر پر جا تے ہی سجدے میں گر جاتیں ۔ قبر کے چکر ضرور لگا تیں اور پائنتی کی طرح کھڑے ہو کر آنسو بہاتیں ۔ یہ ان کا مستقل معمول بن گیا تھا ۔ آخر کا ر ان کی تگ و دو رنگ لائی اور قسمت کا مارا خادم حسین ایک روز اپنی دوسری بیوی کو لیکر گودھپور انکے گھر آ گیا ۔ پتہ نہیں اسے کیا زعم تھا یا وہ کسی خو ش فہمی میں مبتلا تھا۔ بہرحال ان دونو ں کو کمرے میں بٹھا کر ریشم بی بی چپکے سے باہر نکلی اور پڑوس سے ایک قریبی رشتہ دار کو بلا لائی جس نے کمال چابک دستی سے خادم حسین کے ہا تھ باندھے اور پھر ڈنڈوں اور جوتوں سے دونو ں کی وہ ٹھکائی کی کہ خادم کے چودہ طبق روشن ہو گئے ۔

ا س کارِخیر میں اُس کے بارہ سالہ بیٹے عامر نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ وہ زمین پر گرے ہوئے اپنے سگے باپ پر بار بار جو تے برساتا اور اس کی دوسری بیوی پر بھی خو ب خو ب غصہ نکالتا اوراس وقت تو ماسی ریشم اور رشیداں دونو ں قہقہہ لگا کر خو ب ہنسیں جب عامر نے قینچی لیکر اپنی سوتیلی ماں کے بال کا ٹ ڈالے تھے ۔ جسے اسی ریشم نے اپنے نواسے کے کارنامے کے طور پر ایک عرصہ تک کمرے کے ایک کونے میں لٹکا ئے رکھا تھا. بہرحال خادم حسین کی وہ درگت بنی کہ شاید ہی کسی عاشق کی بنی ہوگی ۔ اسے انہو ں نے پانی پلا پلا کے مارا اور جب اس کے لیے اپنے پاﺅں پرکھڑے ہونا محال ہو گیا تو پڑوسی عامر نے سہارا دے کر دونوں میاں بیوی کو سڑک تک پہنچایا اور تانگے پر بٹھا کر سیالکوٹ روانہ کر دیا ۔ غیر معمولی توہین و تذلیل کا یہ عمل خادم حسین کے لئے اتنا سبق آموز ثابت ہوا کہ وہ جلد ہی بیوی اور دو بیٹیو ں کو لیکر کراچی چلا گیا ۔ اس نے سیا لکوٹ کی سکونت کو مستقل طور پر ترک کر دیا اور پھر کبھی واپس لو ٹ کر نہ آیا ۔ اب ماسی ریشم اور رشیداں بی بی کی ساری امیدوں کا واحد مر کز عامر تھا ۔

وہ اسکو ل میں پڑھتا تو تھا لیکن اپنے اکلو تے ہو نے کا بھرپور فائدہ اٹھانا جانتا تھا۔ اسے یہ بھی شعور تھا کہ وہ مستقبل میں اچھی خاصی قیمتی جائیداد کا مالک بنے گا ، اس لئے اس نے آوارگی کا ہر وہ چلن اختیار کر لیا جو اس کے بس میں تھا ، چنانچہ اس نے کم از کم دو اضافی سال میٹرک میں لگائے اور تیسرے سال میں بڑی مشکلو ں سے تیسرے درجے میں امتحان پاس کر لیا اور چونگی محرر کی حیثیت سے ملا زم ہو گیا۔ اس کے لیے اس کی نانی نے خاصی بڑی رقم رشوت میں لگائی تھی ۔

یہ 67-1966 کی بات ہے ۔ اس کی تنخواہ ستر روپے مقرر تھی۔ میں نے اکتوبر 1966ء میں ایم ۔اے کا امتحان دیا تھا اور مجھے فوری طور پر اپنے علا قے ہی میں ایک پرائیوٹ کالج میں لیکچرر شپ مل گئی تھی ۔ میری ڈھائی سو روپے تنخواہ لگی تھی اور میری والدہ نے ایک دن تعجب سے کہا تھا: تم نے سولہ جماعتیں پڑھی ہیں اور ڈھائی سو روپے تنخواہ لے رہے ہو جبکہ ریشم کا نواسہ تنخواہ کے علاوہ روزانہ اپنی ماں کو پچا س روپے لا کر دیتا ہے۔ چنانچہ اس کی بد عنوانی اور غیر ذمہ داری نے اپنا آپ دکھایا اور اسے چھ ہی ماہ کے بعد نوکری سے برطر ف کر دیا گیا ۔ اب ماسی ریشم نے گودھپور والی زمین میں سے کچھ حصہ فروخت کر دیا اور کوٹلی بہرام کے موڑ پر سڑک کے کنا رے اپنے ایک کمرشل پلاٹ پر آٹھ دکا نیں تعمیر کر ڈالیں۔ ان میں سے دو میں عامر نے سٹیشنری اور جنرل سٹور بنا لیا۔ تجا رتی نقطہ نگاہ سے دکا نیں بڑے ہی اچھے ٹھکانے پر تھیں . جہا ں مستقبل میں کاروبار چمکنے کے امکانات بہت روشن تھے ۔

باقی دوکانیں کرائے پر دے دی گئیں اور عامر کی شادی کر دی گئی ۔ اسے عامر کی خوش قسمتی ہی سے تعبیر کرنا چاہئے کہ اس کی بیوی ایک تربیت یافتہ ملازمت پیشہ نرس تھی ۔ وہ سگھڑ اور سمجھ دار بھی تھی ، لیکن عامر نے گویا قسم کھا رکھی تھی کہ وہ عقل سے کام نہیں لے گا اور ہر معاملے میں چھچھورے پن کا مظاہرہ کرے گا، چنانچہ اس نے اردگرد کے گرلز اسکولوں کی استانیوں سے خاص اپنائیت کا تعلق قائم کر لیا اور انہیں دل کھول کر اسٹیشنری کا سامان ادھار پر دیتا رہا ۔ وہ تحفے تحائف دینے میں بھی بڑا فراخ دل واقع ہوا تھا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی دکا نداری بڑی ہی مشکلو ں سے ایک سال تک چلی ، سرمایہ ختم ہو گیا اور اسے کا روبار کا سلسلہ معطل کرنا پڑا ، تاہم وہ چنداں پریشاں نہ تھا ۔ گھر کا نظام دکا نو ں کے کرائے اور بیوی کی نوکری کے سہارے چل رہا تھا۔

مکمل فراغت کا فیضان عامر کو یہ حاصل ہوا کہ وہ یکے بعد دیگرے سات بیٹیوں کا با پ بن گیا ۔ ماسی ریشم اور بہن رشیداں نے سر توڑ کوشش کی ، مختلف مقبروں پر بار بار حاضر ہوئیں ، چادریں چڑھائیں ، منتیں مانیں ، لیکن کسی بزرگ نے بھی مداخلت نہ کی اور عامر کو ایک بھی بیٹا نہ ملا ۔ حد یہ ہوئی کہ اس دوران میں ماسی ریشم نے حج بھی کر لیا ۔ ظاہر ہے کہ وہا ں بھی اس نے سب سے زیا دہ دعائیں عامر کے بیٹے کے لیے ہی کی ہوں گی لیکن افسوس بیل منڈھے نہ چڑھی اور ساتویں بیٹی کے بعد وہ مایوس ہو کر کویت چلا گیا ۔ بدنصیبی کویت میں بھی عامر کے ہم رکاب رہی ۔ اسے و ہا ں گئے ہوئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ایک روز وہ ٹریفک کے ایک حادثے کا شکار ہو گیا۔ وہ سڑک عبور کر رہا تھا کہ ایک تیز رفتار کار نے اسے ٹکر مار دی ۔ اس کی دونوں ٹانگیں کئی جگہ سے ٹوٹ گئیں۔ باقی جسم پر بھی شدید چو ٹیں آئیں اور وہ کئی دن تک ہسپتال میں بےہوش پڑا رہا ۔

جان تو اس کی بچ گئی، مگر تقریباً دو سال تک وہ ہسپتال میں زیر علا ج رہا اور جب بیساکھیو ں کے سہارے چلنے کے قابل ہوا تو پاکستان آ گیا ۔ میں اس کی مزاج پرسی کے لئے چلا گیا ، بڑی قابل رحم تھی حالت اس کی ۔ اس کی بوڑھی نانی اسے اس حال میں نہ دیکھ سکی اور ایک روز یکایک دم توڑ گئی ۔ پتہ چلا کہ اس کے دماغ کی شاہ رگ پھٹ گئی ۔ یہ بڑی عبرت ناک بات ہے کہ میں نے ماسی ریشم اور رشیداں بی بی کے خاندان میں کبھی بھی سکون نہیں دیکھا ۔ وہ ہمیشہ مسائل، مصائب اور امراض میں مبتلا نظر آئیں اور اس کا سبب میرے نزدیک دونو ں ماں بیٹی کی بداخلا قی ، تکبر اور غیر حقیقت پسندانہ اسلوب ِ حیات تھا ۔ دکھ اور پریشانیاں ان پر بارش کی طر ح برستی رہیں ۔ ایک بار پتہ چلا کہ بہن رشیداں کو سر پر شدیدچوٹ لگی ہے اور و ہ اپنے حواس کھو بیٹھی ہے۔ میں اس کی عیادت کے لئے گیا۔ وہ چارپائی پر گم صم بیٹھی تھی اور بٹر بٹر فضا میں گھور رہی تھی۔ میں اس کے قریب بیٹھ گیا ، اس نے مجھے نہیں پہچانا۔ سر کی چو ٹ نے اس کی یادداشت پر گہرا اثر ڈالا تھا ۔

عامر نے بتایا کہ چند روز پہلے وہ پڑوسیوں کے ہاں صحن میں بیٹھی تھی ۔ ان پڑوسیوں کے ہاں جن کی مدد سے اس نے اپنے خاوند کی پٹائی کرائی تھی کہ تیز ہوا چلنے سے چھت سے لکڑی کا ایک تختہ لڑھکا اور رشیداں بی بی کے سر پر آگرا جس سے وہ بے ہوش ہو گئی اور کئی گھنٹوں کے علاج کے بعد ہو ش میں آئی تو اس کا حافظہ جواب دے گیا تھا ۔ ڈھائی تین سال اسی حالت میں مبتلا رہ کر وہ وفات پا گئی ۔ میں تعزیت کے لئے گیا تو عامر نے بتایا کہ اس نے یہاں کی ساری جا ئیداد دکانیں اور مکان بیچ کر اسلام آباد منتقل ہونے کا پروگرام بنا لیا ہے ۔ اس نے دکھ ا ور نفرت کے احساس سے کہا ۔ یہ جگہ انسانو ں کے رہنے کی نہیں ہے ، زندگی کی کوئی سہو لت بھی تو حاصل نہیں ہے یہاں میں چاہتا ہوں کہ میری بیٹیاں اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کریں اور آزادی کے ماحول میں زندگی گزاریں ۔

"لیکن سات بیٹیوں کے ساتھ اپنے آپ کواسلام آباد کے اجنبی ماحول میں کیسے ایڈ جسٹ کریں گے۔ یہا ں آپ کی برادری ہے، خاندان ہے ، حلقہ تعارف ہے ۔ وہا ں یہ سہولتیں میسر نہیں آئیں گی ۔ وہاں آپ کو رشتوں کے حوالے سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ “ میں نے اس کے منصوبے سے اختلاف کیا۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں ۔ عامر کہنے لگا ” لڑکیا ں پڑھ لکھ کر عملی زندگی میں آئیں گی تو خو د ہی مسائل کو حل کر لیں گی ۔ میں انگلی پکڑ کر کب تک ان کی راہنمائی کروں گا “ اور پھر وہا ں امام بری کا مزار بھی تو ہے ، وہ امام صا حب سے بڑی درگاہ ہے۔ “ اور عامر نے واقعی ایسا کر دکھایا ۔ ا س نے دکانیں ، پلاٹ ، زمین سب کچھ بیچ دیا اور اسلام آباد چلا گیا ۔

پتہ نہیں وہاں کس حال میں ہے ؟ یو ں لگتا ہے کہ جس طرح ماسی ریشم اور رشیداں کی قسمت سے انہیں کبھی سکھ کا سانس لینا نصیب نہ ہوا تھا ، اسی طر ح عامر کا مقدر ان جوتو ں سے بندہ گیا ہے جو اس نے اپنے باپ کے سر پر مارے تھے ۔ ایسا لگتا ہے یہ جوتے اسے در بدر کی ٹھوکریں کھا نے پر مجبور کرتے رہیں گے اور وہ ساری عمر ذلت و رسوائی کی جا نب اپنا سفر جاری رکھے گا۔

دسمبر 10, 2010 at 08:56 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]