Posts tagged ‘Urdu Stories’

سفارش طلب

سفارش طلب سے نمٹنے کے کئی طریقے ہیں. بعض لوگ گلو خلاصی کے لئے نہایت فیاضی سے جھوٹا وعدہ کر دیتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں، لیکن یہ بزدلوں اور مصلحت کوشوں کا طریقہ ہے. آپ ایسا ہرگز نہ کیجئے گا ورنہ آپ کا بھی وہی حشر ہو گا جو ہمارے دوست کا ہوا. آپ میرے دوست کی کہانی خود اس کی زبانی سنئے:
” ایک مرتبہ میں لاہور میں ایک معمولی سا ٹیچر بن گیا لیکن گاؤں میں مشہور ہو گیا کہ پروفیسر ہو گیا ہوں چنانچہ سفارش کا تانتا لگ گیا. سب سے پہلے ایک پرانے ہم جماعت کامران صاحب آ گئے. بولے”منشی فاضل کا امتحان دیا ہے. دوسرا پرچہ بہت نکمّا ہوا ہے. پروفیسر قاضی صاحب ممتحن ہیں. انہیں کہہ کے پاس کرا دو.”
ایک روایت کے مطابق پروفیسر قاضی صاحب تک ان کی بیوی بھی مشکل سے ہی پہنچتی تھی. میری رسائی سے تو وہ سراسر باہر تھے، لیکن کامران صاحب کو ٹالنے اور کسی حد تک اپنی پرعفیسری کا رعب جمانے کے لئے کہہ دیا.
"ارے قاضی-وہ تو ہمارا لنگوٹیا ہے. تمھیں فرسٹ ڈویژن دلوا دیں گے.”
اس کے بعد کامران سے سرخروئیکی خاطر دُعائیں تو بہت مانگیں لیکن وہ فیل ہو گیا اور جب کامران نے نتیجہ سنا تو فوراً لکھا.”اب گاؤں کبھی نا آنا ورنہ مار ڈالوں گا.” دو ہی دن گزرے تھے کہ میرے ہمسائے مبّشر صاحب اپنے بیٹے کی سفارش لے کر آ دھمکے.بولے.” کاکے جمیل نے میٹرک کا امتحان دیا ہے. ریاضی کا پرچہ تھوڑا گڑبڑ ہو گیا ہے. محسن صاحب کے پاس پرچے ہیں، انہیں اشارہ کر دیجئے گا.”
اشارے کے لفظ سے ظاہر تھا کہ مبّشر صاحب کے ذہن میں میرے رسوخ کا بلندتصور تھا چنانچہ اس وقت تو کہہ دیا کہ فکر نہ کریں مبّشر صاحب محسن صاحب کا کان پکڑ کے لڑکے کو پاس کرا دوں گا. لیکن حقیقت یہ تھی کہ محسن صاحب کے کان میری گرفت سے یکسر باہر تھے. بہر حال مجھے معلوم تھا کہ لڑکا فیل ہی ہو گا. چنانچہ اپنی بریت اور کار گزاری دکھانے کے لئے ایک ترکیب نکالی…. ایک دن مبّشر صاحب اور ان کے بیٹے جمیل کو بلا بھیجا اور کسی قدر جلال میں آ کر مبّشر صاحب سے خطاب کیا.
"واہ مبّشر صاحب واہ. آپ نے ہماری خوب کرکری کرا دی، ہم محسن صاحب کے پاس گئے تو انہوں نے پرچہ نکال کر ہمارے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ تم خود ہی انصاف سے جو چاہو نمبر دے دو. اور پرچہ دیکھتا ہوں تو اوٹ پٹانگ لکھا ہے. اکبر کے بیٹے کا نام دین الٰہی تھا اور پرویز لاٹھیں بیچا کرتا تھا، جانگیر کبوتر پالتا تھا، اس کے علاوہ ہجے غلط، املاء خراب. خدا جانے یہ لڑکا پورا سال کیا کرتا رہا ہے؟”
اس پر ہماری کارگزاری سے مطمئن ہو کر مبّشر صاحب نے اپنا ڈنڈا اور جمیل کے رسید کرتے ہوئے فرمایا:
"کم بخت تاش کھیلتا رہا ہے اور کیا کرتا رہا ہے؟”
لیکن کچھ دن بعد جب نتیجہ نکلا تو جمیل پاس ہو گیا اور پھر باپ کا ڈنڈا لے کر میری تلاش میں پھرنے لگا….
Advertisements

مارچ 11, 2012 at 06:55 تبصرہ کریں

حسن پر ناز نہ کرنا

ہم پانچ بہن بھائی تھے. ابو اچھی ملازمت پر تھے اسلئے بہت سکون بھری زندگی گزار رہے تھے. گھر کا ماحول محبت بھرا تھا. بہنوں کی آپس میں کبھی لڑائی بھی ہو جاتی تھی لیکن یہ سب زندگی کا حصّہ تھا. زیادہ تر آپا سے ان بن ہوتی کیونکہ شازیہ آپا ہم پر رعب جماتی تھیں اور یہ بات ہمیں بری لگتی تھی.
بڑی بہن ہونے کی وجہ سے ہم تینوں چھوٹی بہنیں ان کا لحاظ بھی کرتی تھیں لیکن آپا کا غصہ ہر وقت ناک پہ دھرا رہتا تھا. وہ کسی کا لحاظ نہیں کرتی تھیں. منہ پھٹ تھیں. اپنی مرضی کرتی تھیں. اور کسی کو بات نہ کرنے دیتی تھیں.
میں، نادیہ اور آصمہ…. ان کے غصے سے نالاں تھے. تاہم امی سمجھاتی تھیں کہ وہ بڑی ہے، تم لوگ اس کے سامنے مت بولا کرو. یاد رکھو ہمیشہ بڑوں کی عزت کرنی چاہئے. ایسا کہہ کر ہی ماں نے آپی کو اور زیادہ سر پر چڑھا لیا تھا.
اب وہ امی ابو کو خاطر میں نہ لاتیں. یہ احساس جاتا رہا کہ کونسی بات ان کے سامنے کرنی ہے اور کونسی بات ان کے سامنے کرنے کی نہیں ہے. آپا کی عادت تھی کہ وہ ہر کسی کا مزاق اڑاتی تھیں. کسی کو کہتی کلو ہے، کوئی اُلٹا توا ہے تو کسی کو گنجا کہہ کر خوب ہنستیں. مجھے آپا کی ان باتوں سے چڑ تھی.
انہی دنوں امی نے آپا کے رشتے کے لئے کوشش شروع کر دی. دادی کہتی تھی بہو یہ لڑکی تمھاری شتر بے مہار ہے.دیکھیں یہ بیل کیوں کر منڈھے چڑھے گی. امی جان اس عمر کی لڑکیا یونہی نادان ہوتی ہیں. شاید پہلی تھی بہت لاڈ پیار بھی ملا ہے. وقت کے ساتھ ساتھ اس کو خود ہی سمجھ آ جائے گی.
وقت کے ساتھ ساتھ سمجھ تو آ ہی جاتی ہے مگر کچھ لوگ ایسے ضدی اور انا پرست ہوتے ہیں کہ ان کو وقت کے ساتھ بھی سمجھ نہیں آتی. آپی بھی انہی خود سروں میں سے تھیں. سونے پر سہاگا ان کو اپنی خوبصورتی پر بڑا ناز تھا.
ان ہی دنوں خالدہ رشیدہ اپنے بیٹے جہانگیر کا رشتہ لے کر آئیں. میرا یہ کزن تعلیم، صورت اور شکل و صورت ہر لحاظ سے بہتر تھا البتہ…. سر پر بال کچھ کم تھے. آپا نے دیکھتے ہی ہنسنا شروع کر دیا اور مزاق اڑانے لگیں کہ یہ گنجا ہے. یہ تم کیا کہہ رہی ہو امی نے ڈانٹا. خالہ تو رشتہ مانگنے آئی ہوئی تھیں اور آپا جہانگیر کو دیکھ دیکھ کر ٹھٹھے لگا رہی تھیں. امی بولیں. کچھ شرم کرو ہم تمہاری شادی اس کے ساتھ طے کر رہے ہیں اور تم اس کا مزاق اڑا رہی ہو.
شازیہ بولی. اماں خاطر جمع رکھو، میں نے اس گنجے سے شادی نہیں کرنی. امی جان نے سختی سے ڈانٹا. خالہ سامنے بیٹھی تھی ان کا چہرہ اُتر گیا. وہ شرمندہ ہو گئیں. اتنے میں ابو آ گئے اور سمجھانے لگے کہ شازیہ بیٹی کہ اس سے بہتر رشتہ ہمیں نہیں ملے گا. میں نے بھی لقمہ دیا کہ آپی…. کیا قباحت ہے اس رشتے میں، اتنے اچھے تو ہیں بھائی..
اچھے ہوں یا برے ہوں، مجھے اس سے شادی نہیں کرنی. یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی تو امی بھی ان کے پیچھے گئیں. شازیہ تمھیں اپنے باپ کا بھی لحاظ نہیں. کتنی بے شرمی سے تم نے اپنے باپ کے سامنے انکار کر دیا.
امی…. زندگی میں نے گزارنی ہے آپ نے تو نہیں گزارنی…سہیلیاں میرا مزاق اُڑائیں گی. میں دوسروں پر ہنستی تھی، اب سب مجھ پر ہنسیں گے….خالہ سب سن چکی تھیں. وہ بد دل ہو گئیں. امی سے کہا! رضیہ بہن میں نہیں چاہتی کہ تمھاری بیٹی کے ساتھ زبر دستی ہو اور بعد میں دونوں کی نہ بنے. مجھے کوئی شکوہ نہیں ہے. سب مقدر کے کھیل ہوتے ہیں یہ کہہ کر وہ چلی گئیں.
خالہ کی آنکھوں میں آنسو تھے. امی بھی رنجیدہ تھیں. کہا شاید میری تربیت میں کوئی کمی رہ گئی ہے تبھی تو شازیہ مجھے دکھ دے رہی ہے. سال بعد میرے کزن کی شادی ہوگئی. ہم سب شادی میں شریک ہوئے لیکن آپی نا گئیں. خالہ جان اور میرے کزن نے کوئی شکوہ نہ کیا. ان کا گھر بس گیا. بیوی اچھی ملی، ان کی دنیا آباد ہو گئی. ان کو کوئی غم نہیں تھا کہ شازیہ آپی نے انہیں گنجا کہہ کر ٹھکرا دیا تھا.
اب مسئلہ جوں کا توں تھا یعنی شازیہ کے رشتے کے لئے امی تگ و دو میں مصروف تھیں کہ شازیہ کو بیاہنا ہے. کوئی اچھا لڑکا ہے تو بتاؤ. ان کو ایک نہیں شار بیٹیوں کی فکر تھی. مگر سب سے زیادہ پریشانی ان کو شازیہ کی طرف سے تھی کیونکہ بقول امی یہ لڑکی تو ناک پہ مکھی نہیں بیٹھنے دیتی تھی.
آپی کو اللہ نے اطھی صورت دی تھی لہٰزا نخوت بھی تھی. غرور بھی آ گیا تھا. اپنے آگے کسی کو کچھ سمجھتی ہی نہ تھی.
انہیں دنوں ایک امیر اور معزز گھرانے سے ان کے لئے رشتہ آیا. امی جان کو بہت پسند آیا. لڑکا خوبصورت، تعلیم یافتہ تھا اور گھرانہ خوشحال تھا. امی نے ہاں کر دی لیکن جس بات سے ڈر رہی تھیں، وہی ہو گئی.
جب سارے معاملات طے ہو گئے تو آپی سے پوچھنے کا مرحلہ آیا. اب امی کی عزت آپی کے ہاتھ میں تھی. پہلے تو گھر کی بات تھی. خالہ رنجیدہ ہو کر بھی چپ ہو گئی تھیں. مگر اب معاملہ غیروں کا تھا. زرا سے بد مزگی دونوں گھرانوں کے لئے تازیانہ ہو سکتی تھی.
اسلم کے گھر والوں نے فوری جواب مانگا تھا. جواب میں آپنی پھر ایک بار انکار کر دیا یہ کہہ کر کہ یہ لوگ دیہات میں رہتے تھے، اب شہری بن گئے ہیں تو کیا ہوا. ان کی عادتیں تو وہی ہوں گی.
یہ کوئی جواز نہ تھا کسی اچھے رشتے کو ٹھکرانے کا مگر خدا جانے آپی کیوں کچھ سمجھتی ہی نہیں تھی. وہ شادی کو کھیل سمجھتی تھی. شاید آپی کے ذہن میں آئندہ زنگی کا کوئی حقیقی تصور نہیں تھا. خدا جانے وہ خوابوں کی کس دنیا میں رہتی تھیں.
جب انہوں نے فوری جواب مانگا اور آپی نے یہ کہہ کر رنکار کر دیا کہ لڑکے کا رنگ سانولا ہے. جب ان کو گوری لڑکی کی تمنا ہے تو مجھے بھی گورا جیون ساتھی چاہئے. ایسی باتیں سن کر امی نے سر پکڑ لیا کہ خدا جانے یہ لڑکی کیا چاہتی ہے. بیٹی یہ کوئی کھیل نہیں ہے کہ تم ہر موقع پر انکار کر دیتی ہو. آپ کو بھی تو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہئے.
سانولی رنگت کوئی عیب نہیں ہے. باجی نادیہ نے آپی کو سمجھانا چاہا تو آپی نے جھٹ کہا، ایسی بات ہے تو تم کر لو نا اسلم کے ساتھ شادی، تم کو کالے لوگ بہت اچھے لگتے ہیں نا، انہوں نے سارا غصہ نادیہ پر نکال دیا. ایک لمحے کو تو نادیہ لرز گئی پھر سنبھل کر بولی، امی جان آپ باجی کی فکر چھوڑئیے اور اب دوسری بیٹیوں کی فکر کریں. مایوس ہو کر امی نے نادیہ کی طرف دیکھا جو امی کے درد کو سمجھ رہی تھی. ماں کی آنکھوں میں امید کی ایک نئی کرن جاگی. نادیہ ماں سے بولی، ماں! مجھے اس گھر کی عزت اور آپ کی خوشی پیاری ہے. آپ ان لوگوں کو انکار مت کیجئے. آپی نہ سہی آپ کی دوسری بیٹی سہی. میں آپ کا ہر حکم بجا لانے کو تیار ہوں.
یوں نادیہ نے ماں کی خوشی کے لئے سر تسلیم خم کر دیا. اسلم کے والدین کو کوئی اعتراض نہ ہوا. بڑی نہ سہی چھوٹی سہی. انہوں نے رشتہ اسی گھرانے سے لینا تھا سو لے لیا.
اب ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اور سب کو اپنی قسمت کا ملتا ہے. نادیہ کے نصیب میں جو تھا سو مل گیا. امی ابو یہ سوچ کر چپ تھے کہ چلو ایک بوجھ تو ہلکا ہوا. دو سال تک امی دن رات سوچوں میں جلتی رہیں. شازیہ کے لئے کوئی مناسب رشتہ نہیں آ رہا تھا. نادیہ باجی اپنے گھر میں خوش اور مطمئن زندگی گزار رہی تھیں اور سب ہی ان کی خوشیوں بھری زندگی پر رشک کرتے تھے. ان کو اپنے شوہر کے سانولے رنگ سے کوئی شکایت نہیں تھی بلکہ وہ تو کہتی تھی کہ اسلم سے بڑھ کر کوئی حسین نہیں ہے.
امی نے کئی عورتوں کے ذمے لگا رکھا تھا کہ جیسے میری نادیہ کا نصیب کھلا ہے، ایسے ہی کسی اچھے گھرانے سے شازیہ کا بھی رشتہ آ جائے. سب کا خیال تھا کہ نادیہ کو خوش و خرم دیکھ کر شازیہ کو عقل آ گئی ہو گی لہٰزا اب جو رشتہ آئے گا وہ نہیں ٹھکرائے گی. انہی دنوں ابو جان کے ایک دوست اپنی فیملی کے ساتھ آ گئے. وہ بڑی مدت کے بعد آئے تھے کیونکہ وہ برطانیہ چلے گئے تھے. ابو نے بہت خوشی سے انکا خیر مقدم کیا اور وہ ہمارے گھر رُکے. ان کا بیٹا طارق بھی ساتھ تھا. وہ ایک خوبصورت اور پڑھا لکھا نوجوان تھا. اور ابو کے دوست اس کے رشتے کے لئے پاکستان آئے تھے. وہ اپنے بیٹے کے لئے ایک پاکستانی اور مشرقی اقدار والی لڑکی ڈھونڈ رہے تھے.
جب مسز سلطان نے شازیہ باجی کو دیکھا تو بہت خوش ہوئیں اور امی سے کہا. ارے لڑکی تو گھر میں موجود ہے اور میں خوامخواہ ادھر اُدھر ڈھونڈتی پھرتی ہوں. بس اب میں طارق کے لئے آپ کی شازیہ ہی لوں گی. ہم سب ڈر رہے تھے کہ شازیہ ایسی کوئی بات نہ کر دے جس سے ان کی دل آزاری ہو. وہی ہوا یہ بات سن کر ہماری آپا آپے سے باہر ہو گئیں اور اُسی خود سری اور ضد سے کہنے لگی کہ میں اپنا وطن چھوڑ کر برطانیہ نہیں جاؤں گی.جانے وہاں میرے ساتھ کیا ہو.
اب کی بار یہ قربانی فائزہ نے دی. امی نے اس کو سمجھایا کہ اتنا اچھا رشتہ ہے، شازیہ کا تو دماغ درست نہیں ہے. بیٹی تم ہماری لاج رکھ لو اور انکار مت کرنا. ہمارا بڑھاپا ہے، جتنی جلدی تم اپنے گھر کی ہو جاؤ اچھا ہے.
فائزہ نے سوچا آپی بے حد خوبصورت ہیں اس لئے ان کے معیار کو کوئی اترتا نہیں ہے اور میں معمولی صورت کی ہوں، کیا خبر یہ لوگ مجھے قبول نہ کریں. اس نے امی سے کہا. ماں! اگر وہ لوگ مجھے قبول کرتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے. آپ میری فکر نہ کریں لیکن شازیہ آپی کا کیا بنے گا. آخر کب تک وہ یونہی انکار کرتی رہیں گیں.
ماں نے فائزہ کے شانے پر محبت سے ہاتھ رکھ کر کہا. میری بیٹی اس کے بارے میں سوچنا چھوڑ دو. وہ اپنی مرضی کی مالک ہے، دیکھ لینا کہ وہ کل ضرور پچھتائے گی اور یہ وقت بھی ہاتھ نہیں آئے گا. اب میں طارق کے لئے تمہارا ہی نام لوں گی. آگے تیری تقدیر کہ کیا ہوتا ہے. امی نے آنٹی سے بات کی تو انہوں نے جواب دیا کہ شازیہ بھی تمھاری بیٹی ہے اور فائزہ بھی بلکہ فائزہ زیادہ کم عمر ہے. ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے. میرا بیٹا اچھا انسان ہے وہ اس کو خوش رکھے گا. تم بالکل فکر مت کرنا.
فائزہ بھی اپنے گھر کی ہو گئی. طارق کے ساتھ بیاہ کر لندن چلی گئی. اس کے خطوط اور فون آتے تھے. وہ وہاں بہت خوش تھی. سب اس کا بہت خیال رکھتے تھے اور شوہر بھی بہت پیار کرنے والا تھا.
اب میں اور آپی بچ گئی تھیں اور آپی تو بہت خوشحال تھی کہ بلا ٹلی اور اس رشتے سے جان چھوٹی. اس انکار کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی تھی شاید ان کو والدین کے بھروسے پر یقین نہیں تھا. سب سے بڑی بیٹی ہونے کی وجہ سے امی ابو کو شازیہ آپکی کی فکر ایک روگ کی طرح کھا رہی تھی.
خالہ جان میرے لئے ایک رشتہ لائیں. لڑکا نیک شریف اور پڑھا لکھا تھا. زیادہ امیر لوگ نہیں تھے لیکن کھاتے پیتے ضرور تھے. یوں میں بھی اس گھر سے رخصت ہو گئی. شازیہ کی ہٹ دھرمی سے ماں باپ کے دل چونکہ کافی رنجیدہ تھے لہٰزا میں نے ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا، بس اللہ پر معاملہ چھوڑ دیا اور والدین پر بھروسہ کیا. اور خدا نے اپنی رحمت کر دی. میں اپنے گھر میں خوش اور مطمئن تھی. والدین نے بھی اللہ کا شکر ادا کیا کہ چار بیٹیوں میں سے تین خوش و خرم اور خوشحال تھیں اور ماں باپ کی دعاؤں سے ان کو سسرال بھی اچھے ملے تھے.
اب والد بیمار رہنے لگے تھے. وہ ریٹائرڈ ہو گئے تو پینشن پہ گزارا کرنا پڑا. مالہ حالات بھی خراب رہنے لگے. امی جان آپی کو سمجھاتی تھیں کہ اب تم رہ گئی ہو آخر کب تک یونہی بیٹھی رہو گی. کب تک ہماری آزمائش چلے گی. اس پر آپی نے جواب دیا کہ میں شادی نہیں کروں گی بلکہ نوکری کر کے آپ لوگوں کے بڑھاپے کا سہا را بنوں گی.
اچھی ملازمتیں یونہی نہیں مل جاتیں. شازیہ آپی کی خاطر ابو نے کافی کوشش کی اور ان کے ایک دوست کے توسط سے آپی کو بینک میں نوکری مل گئی. والدین بیچارے ٹھنڈی سانس بھر کر چپ ہو گئے کہ بیٹی نے اپنے مرضی کر لی لیکن اس کی شادی کی عمر نکلتی جا رہی تھی.
فائزہ کے سسرال دور تھے لیکن میں اور میری بہن نادیہ کبھی کبھار اپنے میکے آ جایا کرتی تھیں. امی ابو تینوں بیٹیوں کی طرف سے مطمئن تھے لیکن آپی ان کے لئے ایک خلش بنی ہوئی تھی. وہ اب بھی یہ کہتے تھے کہ بیٹی تم شادی کر لو. آخر شادی نہ کرنے کی وجہ کیا ہے. ہمارا کیا بھروسہ آج ہیں کل نہیں. پھر تمھارا کیا بنے گا. ابھی بھائی کی شادی باقی تھی کیونکہ وہ سب سے چھوٹا تھا اور ابھی اسے ملازمت بھی نہیں ملی تھی، اس لئے شادی مشکل ہو گئی تھی.
جہاں آپی ملازمت کرتی تھیں وہاں آصف نام کا ایک شخص ملازم تھا. جانے کیسے دونوں میں رابطہ بڑھا اور دوستی ہو گئی. پھر انہوں نے شادی کا فیصلہ کرلیا. آصف کیسا تھا کون تھا ہمیں کچھ علم نہ تھا. مگر جو قباحت تھی وہ یہ تھی کہ وہ شادی شدہ تھا. مگر آپی کی آنکھوں پر تو پٹی بندھی تھی کہ یہ حقیقت جاننے کے بعد بھی انہوں نے آصف کی شریک حیات بننے کا فیصلہ کر لیا. امی ابو نے کافی سمجھایا مگر یہ لڑکی کب کسی کی ماننے والی تھی. وہ اپنی ضد پر اڑ گئی کہ شادی کروں گی تو آصف سے ورنہ عمر بھر کنواری رہوں گی. امی ابو جانتے تھے کہ یہ کتنی ضدی ہے، جو سوچتی ہے کر کہ رہتی ہے. بلا سے اب جو بھی ہو یہ دلہن تو بنے. شادی شدہ تو کہلائے.
آپی کی ضد پر امی ابو نے شادی کی اجازت دے دی لیکن شادی نہایت سادگی سے ہوئی. کچھ عرصہ تک توآصف نے اس معاملے کو انتہائی خفیہ رکھا مگر یہ شادی کب تک چھپ سکتی تھی. پہلی بیوی کو علم ہو گیا، اس کے بعد تو قیامت آ گئی.
آصف کی پہلی بیوی ایک پولیس آفیسر کی بیٹی تھی. اس نے نا صرف شوہر کو ناکوں چنے چبوا دیئے بلکہ ان کی وجہ سے آپی کو بھی کافی عرصہ تک چھپ کر رہنا پڑا. آصف ایسے گئے کہ پھر لوٹ کر نا آئے اور نہ آپی کی خبر لی کہ کس حال میں ہے. اس غم میں آپی نے نوکری بھی چھوڑ دی. اب کہتی تھی کہ واقعی میرا انتخاب غلط تھا. والدین ہی سوچ چمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں. ہم تو جزباتی ہو جاتے ہیں. تب ہم سے درست فیصلے بھی نہیں ہو پاتے.
آپی کو طلاق ہو گئ. ان کا حسن ماند پڑ چکا تھا. جس حسن پر وہ اتراتی تھیں اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتی تھیں اُسی حسن کے غرور نے ان کو خالی ہاتھ کیا اور اب وہ پچھتاتی ہیں مگر
اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت.

اگست 5, 2011 at 12:23 تبصرہ کریں

مزاحیہ اردو کہانی: جلد بازی کا انجام

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک چوہدری رہتا تھا. اس کے ساتھ حویلی میں ایک ملازم خاص(میراثی)بھی رہائش پذیر تھا. مالک اور نوکر ایک ایسی سست الوجود قوم سے تعلق رکھتے تھے جو ٹھہرے ہوئے پر سکون مزاج کی مالک تھی اور آج کا کام کل پر چھوڑنے کی عادی تھی. ایک دن چوہدری پکوڑے کھانے کے بعد اخبار سے بنے لفافے کے مطالعہ میں مصروف تھا کہ اس نے خبر پڑھی کہ محکمہ زراعت نے جدید پیوند کاری کے ذریعے خربوزے کا ایسا بیج ایجاد کیا ہے جو دوگنی فصل دیتا ہے. چوہدری نے ملازمین کو اکٹھا کر کے نئے بیج کے متعلق صلاح مشورہ کیا. صلاح مشورے کی مختلف نشستیں جاری رہیں. آخر ایک سال بعد خربوزے کا بیج مزکورہ بونے کا فیصلہ ہو گیا. فصل بونے کا موسم قریب آیا تو چوہدری نے ملازم خاص کو بیج لانے کے لئے شہر بھیجا. میراثی لاری پرطویل سفر کر کہ شہر پہنچا تو تھکاوٹ سے چور تھا. وہ شہر میں اپنے ایک عزیز کے گھر گیا تاکہ چند دن آرام کر کے سفر کی تھکاوٹ دور کرے اور بیج خرید کر واپسی کا قصد کرے. میراثی کو شہر میں مختلف عزیزوں اور دوستوں کے ہاں آرام کرتے اور ” بتیاں شتیاں” دیکھتے ایک سال کا عرصہ گزر گیا. آخر جب دوبارہ خربوزہ کاشت کرنے کا موسم آیا تو چوہدری کو میراثی کی یاد آئی. اس نے ایک اور نوکر کو شہر بھیجا کہ تاکہ میراثی کو ڈھونڈ کر لائے. دراصل چوہدری کو روایت سے ہٹ کر فصل بونے کی جلدی پڑ گئی تھی. نوکر نے بڑی مشکل سے میراثی کو شہر میں تلاش کیا اور چوہدری کا پیغام پہنچایا. میراثی جب بیج کی بوری جب کمر پر اُٹھائے گاؤں پہنچا تو بارش ہو رہی تھی. وہ حویلی کے گیٹ سے داخل ہوا تو اس کا پاؤں پھسلا اور وہ دھڑام سے بوری سمیت گر گیا. بوری پھٹ گئی اور سارا بیج نالی میں گر گیا. چوہدری نے آگے بڑھ کر میراثی کو اُٹھانا چاہا تو وہ کیچڑ میں لیٹے لیٹے ہاتھ کھڑا کر کے بولا "بس رہنے دیں چوہدری صاحب! آپ کی جلد بازیوں نے ہمیں مار ڈالا ہے. چوہدری پر گھڑوں پانی پڑگیا.
سبق: جلد بازی شیطان کا کام ہے چاہے وہ فصل بونے میں کی جائے یا ڈیم وغیرہ بنانے میں. دہشت گردی ختم کرنے کے سلسلے میں کی جائے یا لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی پر قابو پانے میں…

جولائی 27, 2011 at 06:41 تبصرہ کریں

ایک ماں کی سچی کہانی

یہ کہانی ایک ایسی عورت کی ہے جس نے اپنے بچوں کی خاطر ہر طرح کے مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور زندگی کے کسی موڑ پر بھی صبر اور حوصلہ کا دامن نہیں چھوڑا. یہ کہانی ہے ایک ایسی ماں کی محنت اور محبت کی جس نے یہ ثابت کر دیا کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں عورت اس کا مقابلہ کسی مرد کے بغیر بھی کس سکتی ہے. آئیے یہ غم بھری کہانی اس عورت کی زبانی ہی سنیئے:
میرا نام روشن آراء ہے. پتہ نہیں ماں باپ نے یہ نام کیوں رکھا کیونکہ نام سے تو میں روشن آراء ہوں لیکن حقیقت میں روشنی میرے پاس کبھی نہیں آئی. میری قسمت میں جتنے غم آئے کاش وہ کبھی کسی کو نہ ملیں، زندگی کی کوئی رات اور کوئی دن خوشی سے اور ہنستے ہوئے نہیں گزرامگر اتنا ضرور ہے کہ آنے والی کل کے انتظار میں رات کو سوتے وقت تھوڑا مسکرا لیتی تھی کہ کل کا دن شاید کوئی خوشی کی نوید لائے. میری شادی 20 سال کی عمر میں ہی ہو گئی تھی. شادی کے چند سال تو بہت اچھے گزرے، شوہر بھی اچھے اور ہمیشہ مسکرانے والے تھے. اپنی زندگی میں انہوں نے مجھے کوئی غم نہیں دیا. کماتے بہت زیادہ نہیں تھے پر پھر بھی دن اچھے گزر رہے تھے مگر تیسرے بچے کی پیدائش کے ایک ہفتے بعد ہی مجھے یہ خبر ملی کہ میرے شوہے کی ایک حادثے میں موت ہو گئی ہے اور میں بیوہ ہو گئی ہوں. میری تو دنیا ہی اجڑ گئی تھی. کئی دنوں تک تو مجھے کوئی ہوش ہی نہیں تھا مگر ایک مہینے کے بعد میں کچھ سنبھلی تو میری ساس اور میرے دیور نے کمرے میں آ کر کہا دیکھو اب تمہارا شوہر تو چلا گیا ہے اور یہاں کمانے والا بھی اب تمھارا ایک دیور ہی ہے. سسر بھی چل پھر نہیں سکتے اور اب کوئی اور آسرا بھی نہیں جو تمھیں ہم اپنے ساتھ رکھ سکیں لہٰزا بہتر یہ ہو گا کہ تم اپنے گھر چلی جاؤ اور چاہو تو اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جاؤ اور اگر دوسری شادی کرنا چاہو اور رکاوٹ ہو تو بچوں کو ہمارے پاس بھیج دینا. مجھے یہ سن کر بہت حیرت ہوئی کہ اب یہ لوگ بھی میرا بوجھ نہیں اُٹھا سکتے تو میں نے ان سے کہا کہ ماں اس گھر میں تو میرے شوہر کی یادیں ہیں اور ویسے بھی میں آپ پر بوجھ نہیں بنوں گی کیوں کہ میں سلائی کڑھائی تو جانتی ہوں، محنت کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال لوں گی. آپ صرف مجھے اس گھر میں رہنے دیں. رہا شادی کا سوال تو وہ میں اب نہیں کروں گی. یہ بچے ہی میرا سہارا ہیں اور کوئی دوسرا باپ انہیں پیار نہیں دے سکتا مگر انہوں نے میری بات نہ مانی اور مجھے کہا کہ تم تین دن کے اندر فیصلہ کر لو تا کہ ہم یہاں سے چلے جائیں کیونکہ اب اس مکان کو بیچ کر تمھارا دیور کوئی چھوٹا موٹا کام شروع کرے گا. میں نے جب یہ سنا تو میرا دل غموں سے بھر آیا تب میں نے کہا ٹھیک ہے جب آپ مجھے رکھنا ہی نہیں چاہتے تو میں تین دن رُک کر کیا کروں گی لہٰزا میں نے اگلے دن ہی گھر چھوڑ دیا اور اپنی ماں کے گھر آ گئی. میں ماں کے گھر میں کچھ ہی دنوں رہی تھی کہ بھابیوں نے میرے بھائیوں کے کان بھرنے شروع کر دئیے کہ روشن آراء کے بچے ہمارے بچوں کو مارتے ہیں انہیں کھیلنے نہیں دیتے حالانکہ میں اپنے بچوں کو اپنے کمرے میں ہی بند رکھتی تھی. نہ  تو ان کو میرا کوئی بھائی کھیلنے کے لئے باہر لے جاتا بس یہ بےچارے آپس میں ہی کھیل کر کمرے میں ہی سو جاتے تھے. آہستہ آہستہ میں نے اپنا کچھ زیور بیچ کر ایک سلائی مشین لی اور محلے سے سلائی کا کام منگوانا شروع کر دیا. اللہ کی رحمت سے میرا کام لوگوں کو پسند آ گیا. اب میں نے اپنے بچوں کو محلے کے ایک سکول میں داخل کرا دیا اور خود انہیں چھوڑنے بھی جاتی اور لینے بھی.
پتہ نہیں یہ عورت ہی عورت کی دشمن کیوں ہوتی ہے. میری بھابیوں کو میرا اس گھر میں رہنا پسند ہی نہیں تھا اس لئے وہ میری بوڑھی ماں جو ہر وقت میرے غم میں نڈھال رہتی تھی اسے بھڑکاتی رہتی کہ کوئی غریب سا رنڈوا مرد دیکھ کر اس کی شادی کرواؤ اور اسے رخصت کرو ورنہ اس کی عمر کیسے کٹے گی اور اس کے بھائی اسے کب تک سنبھالیں گے اور ویسے بھی اب ہمارے بچے بڑے ہو رہے ہیں گھر میں جگہ تنگ پڑ جائے گی اور اگر کوئی اس کے بچوں کو لینے کو تیار نہ ہوں تو ایک ایک کر کے کسی بے اولاد کو دے دیں. پل جائیں گے لیکن ان ظالم بھائیوں کو یہ خیال نا آیا کہ ان بچوں کی خاطر میں نے اپنا سسرال چھوڑا تھا اور شادی نا کرنے کا ارادہ کر لیا تو کیا میں ان بچوں کے بغیر رہ سکتی ہوں. کیا کوئی بھی ماں اپنے بچوں کے بغیر جی سکتی ہے؟ شاید ایسا تو کوئی جانور بھی نہ کرسکے. اس رات میں سو نہ سکی اور اگلے دن اپنی کچھ چیزیں اور ایک چوڑی جو میرے شوہر کی آخری نشانی تھی بیچ کر میں نے گلی میں ہی ایک دو کمروں کا مکان کرائے پر لیا اور وہاں اپنے بچوں کے ساتھ رہنے لگی.
اب خرچے بھی بڑھ گئے تھے اس لئے مجھے سلائی کا کام بھی بڑھانا تھا. اس سب میں میری ایک دوست نے میری بہت مدد کی اور اپنی ماں سے کہہ کر اس نے مجھے ایک بوتیک کی مالکن سے ملوایا. اسے میرا کام پسند آ گیا اور وہ مجھے ہر مہینے اتنا کام دینے لگی کہ میں اپنا گزارا کرنے لگی اس کے باوجود میرے بچوں کو بہت محرومیوں کا سامنا کرنا پڑا. اس دوران میرے بھائیوں نے میری خبر تو کیا لینی تھی کہ وہ میری ماں سے بھی تنگ آ گئے تھے اس لئے میں اپنی بیمار ماں کو بھی اس گھر میں لے آئی تھی. بوتیک کی مالکن جس سے میں کام لیتی تھی اس نے مجھے کہا کہ اگر میں تمھیں ایک چھوٹی سے فیکٹری لگا دوں تو کیا تم یہ کام سنبھال سکو گی؟ میں نے کہا کیوں نہیں لہٰزا اس نے میرے اس گھر میں ہی مجھے کچھ مشینیں لگوا دیں اور کہا کہ اب تم مجھے میرا آرڈر پورا کروا کہ دیا کرنا. میں یہ کام خوش اسلوبی سے سر انجام دیتی آئی.
بفضلِ خدا آج میرا ایک بیٹا میڈیکل سائینس کا فائنل امتحان دے رہا ہے اور دوسرا بیٹا بینک میں ملازمت کرتا ہے اور بیٹی کی شادی ہونے والی ہے. میرے بیٹے کہتے ہیں کہ ماں اب یہ کام چھوڑ دو لیکن میں یہ کام نہیں چھوڑوں گی جب تک مجھ میں ہمت ہے. اپنے لئے کچھ رقم اورکفن خرید رکھا ہے نہ جانے میری ماں کی طرح کب میں میرے بچوں پر بوجھ بن جاؤں. آج میری ماں زندہ نہیں ہے اور اب مجھے بھی مرنا ہے. لیکن خدا کا شکر ہے کہ میرے بچے نمازی ہیں اور میرا بہت احترام کرتے ہیں.
بس میرا دوسری عورتوں کے لئے یہی پیغام ہے کہ وہ کبھی بھی کسی موڑ پر ہمت نا ہاریں اور کوشش کرتی رہیں کیونکہ ہمت کرنے والوں کا ساتھ خدا ضرور دیتا ہے.

جون 29, 2011 at 10:33 تبصرہ کریں

خوابوں کی کہانی



جون 22, 2011 at 05:46 تبصرہ کریں

بے زبان کی فریاد

ہمارے پڑوسیوں نے ایک کُتّا پال رکھا تھا جس کا مسکن ایک رکشا تھا جو وہ رات کو چلاتے تھے. کتا سارا دن تو اپنے مسکن یعنی رکشے میں پڑا اونگھتا رہتا تھا لیکن رات کا اندھیرا ہوتے ہی ایسی آفت مچاتا کہ خدا کی پناہ.کوئی چور یا ایرا غیرا گلی میں سے گزر نہیں سکتا تھا. تاہم،وہ اپنی گلی میں رہنے والوں کو کچھ نہ کہتا تھا. کیونکہ بچہ ہو یا بوڑھا، وہ ہر ایک کو پہچانتا تھا.
اسی محلے میں نوید بھی رہتا تھا جو بڑا بے رحم اور سنگدل تھا. چوری چکاری کرنا اور جانوروں کو ستانا اس کا مشغلہ تھا. کسی بھی جانور خواہ وہ کتا ہو یا بلی، کو پتھر مارنا اپنا فرض سمجھتا تھا. یہ بات سہیل کو بہت ناپسند تھی.وہ نوید کو سمجھاتا کہ یار! ان جانوروں پر ظلم نہ کیا کرو. یہ بے زبان ہیں لیکن نا حق ستانے سے اللہ تعالٰی سے فریاد کرتے ہیں. پھر یہ بات اللہ تعالٰی کو بھی نا پسند ہے کہ ہم اس کی بے زبان مخلوق کو ستائیں لیکن نوید کب ایسی باتوں کا نوٹس لیتا تھا.
ایک دن نوید رات کو گلی میں سے گزر رہا تھا کہ کتے کو دیکھتے ہی حسبِ عادت ایک پتھر اُٹھا کر مار دیا. پھر کیا تھا؟ نوید کو کتے سے جان چھڑانی مشکل ہو گئی.نوید آگے آگے اور کتا مسلسل اس کے پیچھے اس کے گھر تک آیا.نوید کو کتے کی اس حرکت پر بہت غصہ تھا.وہ کئی دنوں تک سوچتا رہا.آخر اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی. اس نے تھوڑا سا گوشت لا کر گلی میں مین ہول کے پاس ڈال دیا پھر جیسے ہی کتا مین ہول کے پاس گوشت کھانے پہنچا، اس نے بڑی پھرتی سے اسے مین ہول میں دھکا دے دیا. شدید سردی کے دن تھے،وہ بے زبان پانے میں گرتے ہی زور زور سے چلانے لگا.اتنے میں ایک دوسرے شخص کا گرز ہوا.اس نے جب آواز سن کر مین ہول میں جھانکا تو عجیب منظر نظر آیا، فوراً اسے پانی سے نکالا اور اپنی گرم چادر میں لپیٹ کر اس کے مسکن یعنی رکشے میں سیٹ کے نیچے بٹھا دیا.
دوستو! جب نوید کتے کو دھکا دے کر تیزی سے بھاگا تو اس کا پیر ایک بڑے پتھر سے ٹکرایا اور وہ گر پڑا. بڑی مشکل سے پڑوسیوں نے اس کو گھر پہنچایا بھر جب اسے ہسپتال لے گئے اور ایکسرے ہوا تو رپورٹ کے مطابق ناقابلِ یقین حد تک اس کی ہڈی دو ٹکڑے ہو چکی تھی.ڈاکٹروں نے اس کی ٹانگ کا آپریشن کر دیا.
کچھ ماہ بعد جب وہ صحت یاب ہو کر بیساکھی کے سہارے اس گلی سے گزر رہا تھا تو اس کی نظر پھر اس کتے پر پڑی تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے. اُدھر جب کتے نے اسے دیکھا تو بھاگتا ہوا آیا اور اس کے قدموں میں لپٹ گیا. وہ پیار سے نوید کے پاؤں چاٹنے لگا، جیسے کہہ رہا ہو کہ "غلطی میری تھی.”
بچو! ہمیں کبھی کسی جانور کو بے حق نہیں ستانا چاہیے. وہ بے زبان ہو کر بھی زبان رکھتے ہیں اور اللہ تعالٰٰی سے فریاد کرتے ہیں. اللہ تعالٰی سب کی سنتا ہے، جیسے نوید کو اس کے کیے کی سزا مل گئی.

جون 20, 2011 at 10:28 1 comment

تھے کچھ ارماں میرے بھی….

ہمیشہ کی طرح آج بھی باغ میں ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی. سر کے اوپر وہی نیلا آسمان، پاؤں کے نیچے نرم نرم گھاس اور ارد گرد لوگوں کی چہل پہل، ان خوبصورت نظاروں کو جتنا بھی دیکھو جی نہیں بھرتا لیکن آج تو یہ نظارے مزید حسین لگ رہے ہیں. نیلے آسمان پر خوب بادل نظر آ رہے ہیں اور ان بادلوں کی وجہ سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے. جب یہ ہوا درختوں کو چھوتی ہوئی مجھ تک پہنچتی ہے تو مزید  ٹھنڈی ہو چکی ہوتی ہے اس لئے اس ہوا کے چھونے سے ایک تازگی کا احساس ہو رہا ہے. یوں تو یہ باغ سبزے کی وجہ سے بہت حسین ہے مگر آج اس خوبصورت موسم نے باغ کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دئیے ہیں.
میں باغ میں بیٹھی ان نظاروں سے لطٍف اندوز ہو رہی تھی کہ اچانک میری نظر ایک بوڑھی عورت پر پڑی جو شاید 75-70 سال کی تھیں. ان کی جھکی کمر اور چہرے پر موجود بے بسی کو دیکھ کر میری نظریں ایک پل کو ٹھہر گئیں.
اور میں باغ کی ساری خوبصورتی  کو یکسر بھول گئی. پھر نا جانے کیوں میری نظریں اسے تلاش کرنے لگیں جس کے ساتھ یہ خاتون آئیں تھیں. مگر ان کے ادر گرد مجھے ان کے گھر کا کوئی فرد دکھائی نہ دیا. ویسے ان کے ساتھ ایک خاتون موجود تھی. یہ خاتون شاید ملازمہ تھی. یہ بوڑھی عورت اور ان کی ملازمہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے میری طرف بڑھ رہی تھیں. جب یہ دونوں میرے بالکل قریب پہنچیں تو بوڑھی عورت مجھ سے پوچھنے لگی، "بیٹی کیا میں تمہارے پاس اس اسٹول پر بیٹھ جاؤں؟ بس میں ہی بیٹھوں گی. یہ باغ کا چکر لگانے چلی جائے گی.” انہوں نے عاجزی سے پوچھا.
میں جھٹ سے بولی”جی بڑی آنٹی آپ میرے پاس بیٹھ جائیں.”
"مجھے بزرگوں سے باتیں کرنا بہت پسند ہے.”
میں نے دل ہی دل میں سوچا ان آنٹی سے باتیں کرنے کا مزہ آئے گا.
جلد ہی ہمارے درمیان گفت و شنید کا سلسلہ شروع ہو گیا. باتوں ہی باتوں میں مجھے پتہ چلا کہ بڑی آنٹی نے شادی نہیں کی. مجھے اس بات پر بہت حیرت ہوئی اور میں بڑی آنٹی سے وجہ پوچھنے لگی. پہلے تو انہوں نے مجھے ٹالنے کہی بہت کوشش کی مگر پھر میرے اصرار پر وجہ بتانے کے لئے راضی ہو گئیں. اب میں آپ کو ان کی داستان ان کی زبانی سناؤں گی…
"ہم دو بہن بھائی تھے. میرا بھائی میرے سے سترہ (17)سال بڑا تھا. والد میری پیدائش سے چند ماہ قبل ایک ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہو گئے اور والدہ میری پیدائش کے وقت وفات پا گئیں. یوں ہم دونوں بہن بھائی اس دنیا میں تنہا رہ گئے. بھائی نے ملازمت شروع کر لی اور میری دیکھ بھال کے لئے ایک  ملازمہ رکھ لی. وقت گزرتا گیا اور میں 15 سال کی ہو گئی. اب ہم بہن بھائی نے سوچا کہ برسوں کی تنہائیوں کو ختم کیا جائے. لہٰزا بھائی نے شادی کر لی. میری بھابھی بہت خوش مزاج اور اچھی تھی. 5 سالوں میں خدا تعالٰی نے انہیں دو بیٹے اور دو بیٹیاں عطا کیں. لیکن شاید اب خوشیاں ہمارے نصیب میں نہ تھی. تبھی وقت کا ایک پہیہ ایک بار پھر سے گھوما اور خدا نےمیرے بھائی اور بھابھی کو اپنے پاس بلا لیا. اب بھائی کے چاروں چھوٹے چھوٹے بچوں کی زمہ داری مجھ پر تھی. میں نے ان کی پرورش کے لئے محلے کے لوگوں کے کپڑے سینے شروع کر دئیے. جب بچے تھوڑے بڑے ہوئے تو دونوں لڑکوں نے ملازمت کرنا چاہی مگر مجھے یہ گراں گزرا کیونکہ میں ان بچوں کو پڑھا لکھا کر اونچے عہدوں پر فائز دیکھنا چاہتی تھی. مجھے ان بچوں سے بہت پیار تھا. ان میں مجھے اپنے بھائی کی جھلک نظر آتی تھی. لہٰزا میں نے دن دگنی رات چوگنی محنت کر کے اپنے خواب کو پورا کیا، انہیں خوب پڑھایا لکھایا . پڑھائی مکمل کرتے ساتھ ہی دونوں لڑکوں کو اچھی ملازمت مل گئ. اب میں دونوں لڑکیوں کی شادی کی فکر کرنے لگی. مجھے اکثر لوگ کہا کرتے تھے تم نے بچوں کی اچھی پرورش کر کے اپنا فرض پورا کیا اب یہ خود کو سنبھالنے کے قابل ہیں لہٰزا تم شادی کر لو. اپنی شادی کا سوچ کر میرے ذہن میں برے برے خیال آتے.
میں سوچتی تھی کی اگر میں شادی کر کے اس گھر سے چلی گئی تو ان بچوں کا کیا ہو گا. ان کی شادیاں، گھر کو سنبھالنا  اور اسی طرح کی دوسری ذمہ داریوں کے بارے میں سوچنے لگتی.
 میرے لئے تو بس یہی بچے میری زندگی تھے. آہستہ آہستہ میں نے چاروں بچوں کی شادیاں کر دیں. بیٹیاں بیدا کر دیں اور بہوئیں گھر لے آئی. میں نے سوچا کہ میری دو بیٹیوں کی کمی یہ دونوں بہوئیں پوری کر دیں گی. مگر قسمت کا لکھا کچھ اور ہی تھا. شادی کے بعد چاروں بچوں نے نظریں پھیر لیں. بیٹیوں نے گھر آنا چھوڑ دیا اور بیٹے کبھی آ کر میرا حال نہیں پوچھتے. بہوئیں سارا دن مجھے میرے کمرے سے باہر نکلنے نہیں دیتیں اور اپنے بچوں کو میرے ساتھ بات کرنے سے بھی منع کرتی ہیں. بس روز ایک ملازمہ کے ہاتھ میرے کمرے میں کھانا بھجوا دیا جاتا ہے اور کچھ کہوں تو کہتی ہیں کہ آپ ہماری ساس نہیں جو ہم پر حکم چلائیں. آپ تو خدا کا شکر ادا کریں کہ ہم آپ کو اپنے گھر رہنے دے رہی ہیں. اب میں سوچتی ہوں کہ کاش بچوں کی شادی کرنے سے پہلے خود اپنی شادی کروا لی ہوتی.

مئی 12, 2011 at 06:34 1 comment

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]