Posts tagged ‘Urdu Poetry’

نوشی گیلانی کی شاعری

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا
جو میرے حصّے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا
***
جلائے رکھوں گی صبح تک میں تمھارے رستوں میں اپنی آنکھیں
مگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا
***
جو حرف لوحِ وفا پہ لکھے ہوئے ہیں ان کو بھی دیکھ لینا
جو رائیگاں ہو گئیں وہ ساری عبارتیں بھی شمار کرنا
***
یہ سردیوں کے اداس موسم کی دھڑکنیں برف ہو گئی ہیں
جب ان کی یخ بستگی پرکھنا، تمازتیں بھی شمار کرنا
***
تم اپنی مجبوریوں کے قصے ضرور لکھنا وضاحتوں سے
جو میری آنکھوں میں جل بجھی ہیں وہ خواہشیں بھی شمار کرنا
کوئی مجھ کو میرا بھرپور سراپا لا دے
میرے بازو، میری آنکھیں، میرا چہرہ لا دے
***
ایسا دریا جو کسی اور سمندر میں گرے
اس سے بہتر ہے مجھ کو میرا صحرا لا دے
***
کچھ نہیں چاہئیے تجھ سے اے میری عمرِ رواں
میرا بچپن، میرا جگنو، میری گڑیا لا دے
***
نیا موسم میری بینائی کو تسلیم نہیں
میری آنکھوں کو وہی خواب پرانا لا دے
***
جس کی آنکھیں مجھے اندر سے بھی پڑھ سکتی ہوں
کوئی چہرہ تو میرے شہر میں ایسا لا دے
***
کشتیءجاں تو بھنور میں ہے کئی برسوں سے
اب تو ڈبو دے یا کنارہ لا دے
رکتا بھی نہیں ٹھیک سے چلتا بھی نہیں ہے
یل دل کہ تیرے بعد سنبھلتا بھی نہیں ہے
***
یہ شہر کسی آئینہ کردار بدن پر
الزام لگاتے ہوئے ڈرتا بھی نہیں ہے
***
اک عمر سے ہم اُس کی تمنا میں ہیں بے خواب
وہ چاند جو آنگن میں اترتا بھی نہیں ہے
***
پھر دل میں تیری یاد کے منظر ہیں فروزاں
ایسے میں کوئے دیکھنے والا بھی نہیں ہے
***
اس عمر کے صحرا سے تیری یاد کا بادل
ٹلتا بھی نہیں ہے اور برستا بھی نہیں ہے
***
ہمراہ بھی خواہش سے نہیں رہتا ہمارے
اور بامِ رفاقت سے اترتا بھی نہیں ہے
دل میرا اِک کتاب کی صورت
جس میں وہ ہے گلاب کی صورت
ہم سے پوچھو کہ ہم گزار آئے
زندگی کو عذاب کی صورت
***
حسن کچے گھڑے کا شیدائی تھا
عشق موجِ چناب کی صورت
عشق میں اس طرح نہیں ہوتا
یہ نہیں ہے نصاب کی صورت
***
میں کڑی دوپہر کی تنہائی
وہ شبِ مہتاب کی کی صورت
پوچھتا ہے کہ میری غزلوں میں
کون ہے اضطراب کی صورت
***
میں وفا کی وہی پرانی کتاب
وہ نئے انتساب کی صورت
جو نہیں کر سکے، کبھی وہ سوال
اس نے لکھا جواب کی صورت
تیری خوشبو نہیں ملتی تیرا لہجہ نہیں ملتا
ہمیں تو شہر میں کوئی تیرے جیسا نہیں ملتا
***
یہ کیسی دھند میں ہم تم سفر آغاز کر بیٹھے
تمھیں آنکھیں نہیں ملتیں ہمیں چہرہ نہیں ملتا
***
ہر اک تدبیر اپنے رائیگاں ٹھہری محبت میں
کسی بھی خواب کو تعبیر کا رستہ نہیں ملتا
***
بھلا اس کے دکھوں کی رات کا کوئی مداوا ہے
وہ ماں جس کو کبھی کھویا ہوا بچہ نہیں ملتا
***
زمانے کے قرینے سے وہ اپنے ساتھ رکھتا ہے
مگر میرے لئے اس کو کوئی لمحہ نہیں ملتا
***
مسافت میں دعائے ابر ان کا ساتھ دیتی ہے
جنہیں صحرا کے دامن میں کوئی دریا نہیں ملتا
***
جہاں ظلمت رگوں میں اپنے پنجے گاڑ دیتی ہے
اسی تاریک رستے پر دیا جلتا نہیں ملتا
Advertisements

مئی 14, 2011 at 08:39 تبصرہ چھوڑیں

محسن نقوی

سیّد محسن نقوی پاکستان کے عظیم اردو شاعر تھے.محسن نقوی کا اصل نام غلام عباس تھا. آپ اہل تشیع کے مشہور خطیب تھے. ان کی موت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا قتل ہوا تھا. ان کی وفات 15 جنوری 1996 کو ہوئی. سیّد محسن نقسی ڈیرہ غازی خان کے نزدیک ایک گاؤں میں پیدا ہوئے.
انہوں نے گریجوئیشن تک کی تعلین ملتان کے ایک  سرکاری کالج بوسن سے  حاصل کی. آپ نے ایم-اے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیا. اسی دوران آپ کا پہلا مجموعہ کلام چھپا. اس کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے، وہیں آپ ایک دہشت گرد کے ہاتھوں شہید ہوئے. اب تک ان کے کئی مجموعہ کلام چھپ چکے ہیں جن میں سے کچھ کے نام یہاں شامل کئے گئے ہیں:
  • بندِ قبا
  • بزرگِ صحرا
  • ریزہ حرف
  • عذاب دید
  • طلوعِ اشک
  • رختِ شب
  • خیمہ جاں
  • موجِ ادراک
  • فرات فکر
محسن نقوی اہلِ بیت کے شاعر کے طور پر بھی جانے جاتے تھے. انہوں نے کربلا پر جو شاعری لکھی وہ دنیا بھر میں پڑھی اور پسند کی جاتی ہے. انہوں نے اپنی شاعری نہ صرف الف-لیلٰی کے موضوع تک محدود رکھی بلکہ انہوں نے دینا کے حکمرانوں کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا جنہیں اپنے لوگوں کی کوئی فکر نہ تھی.
گو کہ محسن نقوی نے شاعری کے میدان میں بہت شہرت حاصل کی لیکن یہاں انکی شاعری میں سے ایک ہی غزل پیش کی جائے گی:
میں دل پر جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو؟
میں تیرے شہر کے سارے دئیے بجھا دوں گا
ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں
ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا
وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے
پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا
اسی خیال میں گزری ہے شامِ درد اکثر
کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا
تو آسمان کی صورت ہے، گر پڑے گا کبھی
زمین ہوں میں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا
بڑھا رہی ہیں میرے دکھ، تیری نشانیاں
میں تیرے خط، تری تصویر تک جلا دوں گا
بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسن
اس آئینے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا

اپریل 21, 2011 at 07:18 تبصرہ چھوڑیں

اداس شاعری

اپریل 16, 2011 at 05:21 تبصرہ چھوڑیں

رومانوی شاعری

مارچ 29, 2011 at 06:12 تبصرہ چھوڑیں

Kuch Urdu Ashar

مارچ 19, 2011 at 06:02 تبصرہ چھوڑیں

مرزا اسد اللہ خان غالب کی شاعری

مارچ 14, 2011 at 07:48 تبصرہ چھوڑیں

اطہر شاہ خاں‌ مسٹر جیدی

اطہر شاہ خان 1943ء میں برطانوی ہندوستان کے شہر رام پور میں پیدا ہوئے۔ خاندانی لحاظ سے اخون خیل پٹھان ہیں۔ آپ پاکستانی ڈرامہ نگار، مزاحیہ و سنجیدہ شاعر اور اداکار ہیں۔ اپنے تخلیق کردہ مزاحیہ کردار "جیدی” سے پہچانے جاتے ہیں۔ اصلی نام اطہر شاہ خان ہے۔ مزاحیہ شاعری میں بھی "جیدی” تخلص کرتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی وژن کے پیش کردہ مزاحیہ مشاعروں کے سلسلہ "کشت زعفران” سے مزاحیہ شاعری میں مقبولیت حاصل کی۔
تخلیقی کام
اطہر شاہ خان نے ٹیلی وژن اور سٹیج پر بطور ڈرامہ نگار اپنے تخلیقی کام کا آغاز کیا۔ آپ کے تحریر کردہ مزاحیہ ڈراموں نے بےپناہ مقبولیت حاصل کی۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں اطہر نے بتایا کہ وہ ایک دفعہ اپنے ہی ایک ڈرامے کے ایک اداکار کے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کر رہے تھے کہ سواری میں کوئی نقص پیدا ہو گیا، جب اسے ٹھیک کرنے کیلئے رکے تو لوگوں نے اداکار کو پہچان لیا لیکن مصنف (یعنی اطہر شاہ خان) کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔ بقول اطہر شاہ خان کے اس واقعہ نے انہیں اداکاری پر مائل کیا جس کے نتیجہ میں جیدی کا کردار تخلیق ہوا۔ جیدی کے کردار پر مرکوز پاکستان ٹیلی وژن کا آخری ڈرامہ "ہائے جیدی” 1997ء میں پیش کیا گیا۔
نمونۂ کلام
ویسے تو زندگی میں کچھ بھی نہ اس نے پایا
جب دفن ہو گیا تو شاعر کے بھاگ جاگے
وہ سادگی میں ان کو دو سامعین سمجھا
بس آٹھویں غزل پر منکر نکیر بھاگے
*********
یارب دل جیدی میں ایک زندہ تمنا ہے
تو خواب کے پیاسے کو تعبیر کا دریا دے
اس بار مکاں بدلوں تو ایسی پڑوسن ہو
"جو قلب کو گرما دے اور روح کو تڑپا دے”
مزاحیہ کلام اطہر شاہ خاں‌ مسٹر جیدی
::: چار بیویاں :::
بیویاں چار ہیں اور پھر بھی حسینوں سے شغف
بھائی تو بیٹھ کے آرام سے گھر بار چلا
اجرت عشق نہیں دیتا نہ دے بھاڑ میں جا
لے ترے دام سے اب تیرا گرفتار چلا
سنسنی خیز اسے اور کوئی شے نہ ملی
میری تصویر سے وہ شام کا اخبار چلا
یہ بھی اچھا ہے کہ صحرا میں بنایا ہے مکاں
اب کرائے پہ یہاں سایۂ دیوار چلا
اک اداکار رکا ہے تو ہوا اتنا ہجوم
مڑ کے دیکھا نہ کسی نے جو قلمکار چلا
چھیڑ محبوب سے لے ڈوبے گی کشتی جیدی
آنکھ سے دیکھ اسے ہاتھ سے پتوار چلا
::: خواب :::
تعبیروں کی حسرت میں، کیسے کیسے خواب بنے
دولت اک دن برسے گی، اب تو اپنی باری ہے
اللہ جب بھی دیتا ہے چھپر پھاڑ کے دیتا ہے
اس امید پہ ساری عمر چھپر تلے گزاری ہے
::: آنکھ میں موتیا :::
رنگ خوشبو گلاب دے مجھ کو
اس دعا میں عجب اثر آیا
میں نے پھولوں کی آرزو کی تھی
آنکھ میں موتیا اتر آیاا
::: پورا مسلمان :::
اگرچہ پورا مسلمان تو نہیں لیکن
میں اپنے دین سے رشتہ تو جوڑ سکتا ہوں
نماز و روزہ و حج و زکوٰۃ کچھ نہ سہی
شب برات پر پٹاخہ تو چھوڑ سکتا ہوں
::: ہمارا علم :::
ہمارے علم نے بخشی ہے ہم کو آگاہی
یہ کائنات ہے کیا، اس زمیں پہ سب کیا ہے
مگر بس اپنے ہی بارے میں کچھ نہیں معلوم
مروڑ کل سے جو معدے میں ہے سبب کیا ہے
::: ماموں‌ :::
ناکام محبت کا ہر اک دُکھ سہنا
ہر حال میں انجام سے ڈرتے رہنا
قدرت کا بڑا انتقام ہے جیدی
محبوبہ کی اولاد کا ماموں کہنا!
::: ادھار :::
ادا کیا تھا جو میں نے اس کا ادھا ر آدھا
جبھی سے تو اس کو رہ گیا اعتبار آدھا
ضرور مٹی کا تیل ساقی پلا گیا ہے
جو پورے ساغر سے ہو رہا ہے خمار آدھا
اگر تیرا ہاتھ دل پہ ہوتا تو کیا نہ ہوتا
کہ نبض دیکھی تو رہ گیا ہے بخار آدھا
وہ زہر میں ڈال کر وٹامن بھی دے رہا ہے
تو اس سے ظاہر ہے اس کی نفرت میں پیار آدھا
یہ آدھی چلمن ہے یا مری آنکھ میں ہے جالا؟
دکھائی کیوں دے رہا ہے روئے نگار آدھا

مارچ 2, 2011 at 06:13 تبصرہ چھوڑیں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]