Posts tagged ‘Urdu Pakistani Adab’

لیلتہ القدر کی فضیلت

اگست 28, 2010 at 06:38 2 تبصرہ

اسرار الحق مجاز کے ادبی لطیفے

(1) رات کا وقت تھا۔مجاز کسی میخانے سے نکل کر یونیورسٹی روڈ پر ترنگ میں جھومتے ہوئے چلے جا رہے تھے۔ اسی اثنا میں اُدھر سے ایک تانگا گزرا۔ مجاز نے اسے آواز دی،تانگہ رک گیا۔مجاز اس کے قریب آئے اور لہرا کر بولے: اماں ، صدر جاؤ گے؟ تانگے والے نے جواب دیا: ”ہاں ، جاؤں گا“

”اچھا تو جاؤ—–!“ یہ کہہ کر مجاز لڑھکتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

(2) مجاز اور فراق کے درمیان کافی سنجیدگی سے گفتگو ہو رہی تھی۔ ایک دم فراق کا لہجہ بدلا اور انہوں نے ہنستے ہوئے پوچھا:

”مجاز! تم نے کباب بیچنے کیوں بند کر دیے؟“

”آپ کے ہاں سے گوشت آنا جو بند ہو گیا۔“مجاز نے اسی سنجیدگی سے فوراً جواب دیا۔

(3) مجاز تنہا کافی ہاؤس میں بیٹھے تھے کہ ایک صاحب جو ان کو جانتے نہیں تھے ،ان کے ساتھ والی کرسی پر آ بیٹھے۔ کافی کا آرڈر دے کر انہوں نے اپنی کن سُری آواز میں گنگنانا شروع کیا:

احمقوں کی کمی نہیں غالب——–ایک ڈھونڈو، ہزار ملتے ہیں

مجاز نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:

”ڈھونڈنے کی نوبت ہی کہاں آتی ہے حضرت! خود بخود تشریف لے آتے ہیں۔“

(4) کسی مشاعرے میں مجاز اپنی غزل پڑھ رہے تھے۔ محفل پورے رنگ پر تھی اور سامعین خاموشی کے ساتھ کلام سن رہے تھے کہ اتنے میں کسی خاتون کی گود میں ان کا شیر خوار بچہ زور زور سے رونے لگا۔ مجاز نے اپنی غزل کا شعر ادھورا چھوڑتے ہوئے حیران ہو کر پوچھا:

بھئی!یہ نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا؟

(5) سوز شاہجہانپوری ایک دن لکھنو کافی ہاؤس آ گئے اور مجاز کے میز پر آن بیٹھے۔ کہنے لگے: بھائی مجاز! میں نے اپنا مجموعہٴ کلام تو مرتب کر لیا ہے۔ اب اس کے لیے کسی موزوں نام کی تلاش ہے۔ کوئی ایسا نام ہو جو نیا بھی ہو اور جس میں میرے نام کی رعایت بھی ہو۔

مجاز نے برجستہ کہا: ” سوزاک رکھ لو۔“

(6) کسی صاحب نے ایک بار مجاز سے پوچھا: کیوں صاحب ! آپ کے والدین آپ کی رِندانہ بے اعتدالیوں پر کچھ اعتراض نہیں کرتے؟

مجاز نے کہا: جی نہیں۔ پوچھنے والے نے کہا: کیوں؟ مجاز نے کہا: ” لوگوں کی اولاد سعادت مند ہوتی ہے۔ مگر میرے والدین سعادت مند ہیں۔“

اگست 27, 2010 at 05:29 1 comment

حضرت بابا بلھے شاہ (1680-1758)

حضرت بابا بلھے شاہ مغلیہ سلطنت کے عالمگیری عہد کی روح کے خلاف رد عمل کا نمایاں ترین مظہر ہیں۔ آپ کا تعلق صوفیاء کے قادریہ مکتبہ فکر سے تھا۔ آپ کی ذہنی نشوونما میں قادریہ کے علاوہ شطاریہ فکر نے بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اسی لئے آپ کی شاعری کے باغیانہ فکر کی بعض بنیادی خصوصیات شطاریوں سے مستعار ہیں۔ ایک بزرگ شیخ عنایت اللہ قصوری، محمد علی رضا شطاری کے مرید تھے۔ صوفیانہ مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور قادریہ سلسلے سے بھی بیعت تھے اس لئے آپ کی ذات میں یہ دونوں سلسلے مل کر ایک نئی ترکیب کا موجب بنے۔ بلھے شاہ انہی شاہ عنایت کے مرید تھے۔ بلھے شاہ کا اصل نام عبد اللہ شاہ تھا۔ 1680ء میں مغلیہ راج کے عروج میں اوچ گیلانیاں میں پیدا ہو ئے۔ کچھ عرصہ یہاں رہنے کے بعد قصور کے قریب پانڈو میں منتقل ہو گئے۔

ابتدائی تعلیم یہیں حاصل کی۔ قرآن ناظرہ کے علاوہ گلستان بوستان بھی پڑھی اور منطق ، نحو، معانی، کنز قدوری ،شرح وقایہ ، سبقاء اور بحراطبواة بھی پڑھا۔ شطاریہ خیالات سے بھی مستفید ہوئے۔ مرشد کی حیثیت سے شاہ عنایت کے ساتھ آپ کا جنون آمیز رشتہ آپ کی مابعد الطبیعات سے پیدا ہوا تھا۔ وہ آپ کے وحدت الو جودی تھے، اس لئے ہر شے کو مظہر خدا جانتے تھے۔ مرشد کے لئے انسان کامل کا درجہ رکھتے تھے۔ مصلحت اندیشی اور مطابقت پذیری کبھی بھی ان کی ذات کا حصہ نہ بن سکی۔ ظاہر پسندی پر تنقید و طنز ہمہ وقت آپ کی شاعری کا پسندیدہ جزو رہی۔ آپ کی شاعری میں شرع اور عشق ہمیشہ متصادم نظر آتے ہیں اور آپ کی ہمدردیاں ہمیشہ عشق کے ساتھ ہوتی ہیں۔ آپ کے کام میں عشق ایک ایسی زبردست قوت بن کر سامنے آتا ہے جس کے آگے شرع بند نہیں باندھ سکتی ۔

اپنی شاعری میں آپ  مذہبی ضابطوں پر ہی تنقید نہیں کرتے بلکہ ترکِ دنیا کی مذمت بھی کرتے ہیں اور محض علم کے جمع کرنے کو وبالِ جان قرار دیتے ہیں۔ علم کی مخالفت اصل میں” علم بغیر عمل“ کی مخالفت ہے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ بلھے شاہ کی شاعری عالمگیری عقیدہ پرستی کے خلاف رد عمل ہے۔ آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ چونکہ لاقانونیت، خانہ جنگی، انتشار اور افغان طالع آزماؤں کی وحشیانہ مہموں میں بسر ہوا تھا، اس لئے اس کا گہرا اثر آپ کے افکار پر بھی پڑا۔ آپ کی شاعری میں صلح کل، انسان دوستی، اور عالم گیر محبت کا جو درس ملتا ہے ،وہ اسی معروضی صورت حال کے خلاف رد عمل ہے۔بلھے شاہ کا انتقال 1757ء میں قصور میں ہوا اور یہیں دفن ہوئے۔ آپ کے مزار پر آج تک عقیدت مند ہر سال آپ کی صوفیانہ شاعری کی عظمت کے گن گا کر آپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

اگست 26, 2010 at 06:22 تبصرہ کریں

شیکسپیئر کے فلسفی مسخرے

شیکسپیئر دنیائے ادب کے اُفق کا وہ چمکتا ستارہ ہے جس کی مقبولیت کا گراف ہمیشہ بلند رہا ہے۔ اس کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب اس کی کردار نگاری ہے۔ چونکہ اس کا زندگی کا مشاہدہ نہایت گہرا تھا۔ اس لئے اس نے کئی لازوال اور آفاقی کردار تخلیق کئے۔ اس کے متنوع کرداروں میں مسخرہ نہایت اہم ہے۔مسخرہ کے کردار کو اپنے ڈراموں میں اس نے خاص مقصد کيلئے پیش کیا ہے اور وہ خاص مقصد ڈراموں کے کرداروں کی خوبیوں ، خامیوں اور بے وقوفیوں پر تنقید و تبصرہ کے علاوہ زندگی کے متعلق اپنے نظريے کی وضاحت بھی ہے۔ طربیہ ہو یا المیہ دونوں میں مسخرے اپنی بزلہ سنجی سے قارئین اور ناظرین کی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں ۔ تاہم عام مسخروں کی طرح شیکسپیئر کے مسخرے اپنی حرکات و سکنات سے تماش بینوں کو نہیں ہنساتے بلکہ وہ نہایت ذہانت سے زندگی کی فلسفیانہ توجیح کرتے ہیں ۔

یہ ٹھیک ہے کہ شیکسپیئر نے ایسے لازوال کردار (Falstoff)  تخلیق کئے ہیں جو اپنی حرکات و سکنات وغیرہ سے بھی ہنساتے ہیں ۔ لیکن یہ شیکسپیئر کا امتیاز ہے کہ اس نے فلسفی مسخرے تخلیق کئے ہیں ۔ جو ڈرامے کے دوسرے کرداروں پر نہ صرف فکر انگیز تنقید و تبصرے کرتے ہیں بلکہ اپنے "اقوال زریں ” سے زندگی کے متنوع پہلو اجاگر کرتے ہیں ۔انہیں لازوال کرداروں میں لیئر کا مسخرہTwelfth Night کا Feste اور As you Like it کا ٹچ اسٹون اہم ہیں ۔شاہ لئیر کے مسخرے کو انگریزی ادب کے کئی نقادوں نے بہت سراہا اور پسند کیا۔ وہ بذلہ سنجی اور ذہانت میں اپنی مثال آپ ہے۔ ڈرامے میں وہ ایک ایسے پڑھے لکھے اور ذہین فلسفی کی طرح نظر آتا ہے جسے کئی محاورے، ضرب الامثال اور دیسی حکایتیں ازبر ہیں اور شاہ لیئر کی بےوقوفیوں کو ظاہر کرنے کیلئے وہ انہیں بےدریغ استعمال کرتا ہے۔ اور زندگی کی روزمرہ استعمال کی چیزوں کوبھی تمثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔

لیئر جب اپنی چھوٹی بیٹی کو اس کی راست بازی کی سزا اور اپنی بڑی بیٹیوں کو ان کی چاپلوسی کا انعام آدھی آدھی سلطنت کی صورت میں دینے کے بعد دامن جھاڑے بیٹھا ہوتا ہے تو مسخرہ اس سے کہتا ہے کہ اب آپ ایسے صفر کی مانند ہو گئے ہیں جس سے پہلے کوئی ہندسہ نہیں ہوتا یا ایسی خالی پھلی کی مانند ہیں جس کے دانے دوسروں کومل چکے ہیں ۔ وہ بادشاہ لئیر کو بے وقوف کہتا ہے تو وہ چراغ پا ہوکر کہتا ہے تم نے مجھے یہ کیوں کہا؟ اس پر مسخرہ جواب دیتا ہے کہ جتنے اچھے اچھے خطاب آپ کو پیدائش کے وقت حاصل تھے وہ تو آپ نے دوسروں کو دے دئيے ہیں ۔ لیئر نے اپنی چاپلوس اور دھوکے باز بیٹیوں کو سلطنت دے کر جو غلطی کی ہے اور اس سے جونتائج آئندہ برآمد ہونے والے ہیں ۔ یہ مسخرہ ان سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ جوں جوں اس کی بیٹیوں کی اصلیت کھلتی جاتی ہے۔ مسخرہ اس پر اپنا تبصرہ جاری رکھتا ہے۔

لئیر کی بڑی بیٹی بادشاہ کے نوکر کنت کو سنگین سزا دیتی ہے تو وہ گانا گاتا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے۔ کہ اگر باپ پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ہو گا تو اولاد اس کی طرف سے اندھی ہو جائے گی۔ یعنی بيگانگی کا مظاہرہ کرے گی۔لیکن جب باپ دولت سے بھرے تھیلے لائے گا تو پھر بچے بڑے مہربان ہوتے ہیں۔ اور تقدیر ایسی پیشہ ور طوائف کی مانند ہے جو اپنے خزانوں کی چابی غریب کی طرف نہیں گھماتی۔گونرل جب بادشاہ پر سلطنت کے معاملات میں ملازموں کے ذریعے خلل ڈالنے کا الزام لگا کر سنگین نتائج کی دھمکی دیتی ہے تو مسخرہ پھر گاتے ہوئے کہتا ہے کہ ایک چڑیا نے کوئل کے انڈوں پر بیٹھ کر بچے نکالے اور انہیں کافی عرصہ تک پالتی رہی جب بچے بڑے ہوئے تو ان میں سے ایک نے چڑیا کا سر کتر لیا۔ مسخرہ شاہ کو دراصل یہ سمجھانا چاہتا تھا کہ اس نے بیٹیاں نہیں آستیں کے سانپ پالے ہیں ۔

اس کے علاوہ یہ فلسفی بادشاہ کو کئی اقوال زریں بھی سناتا ہے۔ ان میں بعض تو ایسے ہیں کہ اگر بادشاہ  فیصلہ کرنے سے پہلے سن سمجھ لیتا تواس کا انجام ایسا المناک نہ ہوتا۔ اقوال درج ذیل ہیں ۔

Have more than thou showest

Learn More than thou trowest

Set less than thou throwest

لیکن لیئر کا انجام المناک ہونا ہی تھا کیونکہ الميے کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے۔ گو کہ ارسطو نے اس بات پر زور نہیں دیا کہ الميي tragedy کا انجام ہیرو کی دردناک موت پر ہی ہو۔ تاہم شیکسپیئر کب ارسطو کے قوانین و اصولوں کو خاطر میں لاتا تھا۔ لئیر کے ساتھ جو کچھ ہوا سو ہوا لیکن اس بے چارے فلسفی مسخرے کا انجام بھی ہیرو کے ساتھ کر کے شیکسپیئر نے کچھ اچھا نہیں کیا۔ دوسرا اہم فلسفی مسخرہ As you like it کا ٹچ اسٹون ہے۔ وہ بھی مخصوص منطق کے ساتھ دوسرے کرداروں پر تنقید و تبصرہ کرتا ہے اور حقیقتاً دوسروں کی بے وقوفیوں و خامیوں کو پرکھنے کی کسوٹی ثابت ہوتا ہے۔ محبت کے معاملات ہوں یا زندگی کے دوسرے پہلو ہر قسم کے تجربات سے گزرا ہوا ہے۔ اسے اپنی درباری زندگی پر فخر ہے اسے وہ اچھے طور طریقوں والی زندگی سمجھتا ہے۔ روز لینڈ سے باتیں کرتے ہوئے محبت کے تجربات یوں بیان کرتا ہے۔

we that our true lovers run into strange capers but as all is mortal in nature so is all nature so is all nature in love mortal in folly.

وہ اپنی مخصوص منطق سے کچھ بھی ثابت کر سکتا ہے۔ Corin سے وہ پوچھتا ہے کیا تم کبھی دربار میں رہے ہو۔ تو وہ کہتا ہے نہیں ۔ اس پر ٹچ اسٹون کہتا ہے پھر تم دوزخ کے مستحق ہو۔ وہ پوچھتا ہے کیوں ؟چونکہ تم دربار نہیں گئے تم شریفانہ طور طریقوں سے آگاہ نہیں اس کا مطلب ہے کہ تم ضرور بدمعاش ہو اور چونکہ بدمعاشی گناہ ہے۔ اس لئے تم واصل جہنم ہو گے۔ اسی طرح ایک جگہ Celia اور Rosalind باتیں کر رہی ہیں تو اس کو یہ آن دھمکتا اور انہیں کہتا ہے تمہارے والد گرامی بلا رہے ہیں ۔ Celia پوچھتی ہے کیا تم پیغام رساں ہو۔ یہ کہتا ہے میں اپنے عزت و وقار کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آپ کو بلا لاؤں ۔ روز لینڈ پوچھتی ہے تم نے یہ حلف کہاں سے سیکھا۔ جواباً کہتا ہے کہ میں نے یہ ایک Knight سے سیکھا ہے۔ جو اپنی عزت کی قسم کھا کر کہہ رہا تھا۔ پان کیک اچھے ہوتے ہیں اور رائی اچھی نہیں ہوتی۔

اب میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہاں کیک کچھ بھی نہیں اور رائی بہت مزے دار ہے۔ اوراب میں یہ ثابت کر سکتا ہوں کہ نائٹ نے جھوٹی قسم کھائی ہے۔ Celia پوچھتی ہے تم اپنے علم کے وسیع ذخیرے سے کیسے ثابت کر سکتے ہو۔ ٹچ اسٹون کہتا ہے آپ دونوں کھڑی ہوکر اپنی ڈاڑھیوں کی قسم کھا کر کہیں کہ میں برا آدمی ہوں ۔ اگر ہماری ڈاڑھیاں ہوتی تو ہم قسم کھاتے ہیں کہ تم برے آدمی ہو۔ جو چیز موجود نہ ہو تو اس کی قسم کھانے سے کیا قسم جھوٹی نہیں ہو گی۔ پس یہی معاملہ نائٹ کا ہے۔ کیونکہ اس کی کوئی عزت و وقار نہ تھا۔ لہٰذا اس نے جھوٹی قسم کھائی۔غرضیکہ اس کی اس منطق اور رایوں کی بدولت نواب Duke کواقرار کرنا پڑا۔

He was his fully like a stalkung horse and under the presentation of that he shoots his wit(A ct V sceme iv)

کنگ لئیر اور As you like it کے مسخرے کی یہ نسبت Twelftl Night کا Feste زیادہ فلسفیانہ فکر نہیں رکھتا۔ لیکن دوسرے کرداروں کے ساتھ مسخرہ پن اور طنز ومزاح سے ان کی ناہمواریوں کو بڑی ذہانت سے اجاگر کرتا ہے۔ وہ خود کہتا ہے کہ Better a witty fool than a foolish wit.اولیویا اسے کہتی ہے کہ تم نرے خشک مسخرے اور بے ایمان ہو۔ وہ کہتا ہے کہ اگر میں خشک ہوں تو شراب دے دیں اور اگر میں بےایمان ہوں تو ایماندار بننے کا موقع دیں اگر نہ بن سکا یہ کام درزی سے کروا لیں ۔ وہ میری مرمت کر دے گا۔ پھر مزید کہتا ہے۔

any thing that is mended is but patched Virtue that trangress (offends) is but patched with sin and sin that amends is but ratched with virtue.

touchstone  کی طرح وہ بھی بہترین گویا ہے۔ ایک گانے میں اس نے ارضی محبت اور موجودہ لمحہ سے لطف اندوزی اٹھانے کا تصور واضح کیا ہے کہ جوانی نہیں رہے گی۔ دیر کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ وغیرہ وغیرہ، گانے سنئيے اور سر دُھنيے۔

What is a love it is not hereaftor Present mirth hoth present laughter what%27s to come is still unsure in delay there lies no plenty there come kiss me sweet and twenty Youth,s a stuff will not endure

بات سے بات نکلنے اور دوسروں کی بات سے اپنا مطلب کا نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت سے نہ صرف یہ مسخرہ بھرپور طور پر مسلح ہے بلکہ الفاظ کے استعمال کی اہمیت کو بھی جانتا ہے۔چنانچہ اولیو یا جب اس کا بجانے والا ڈرم دیکھ کر کہتی ہے کہ کیا تم اس کے ساتھ گزر بسر کر رہے ہو تو وہ کہتا ہے۔ نہیں میں چرچ کے ساتھ رہتا ہوں ۔ تو وہ پوچھتی ہے کیا تم پادری ہو۔ وہ جواب دیتا ہے نہیں ایسی کوئی بات نہیں اصل میں میرا گھر چرچ کے ساتھ جڑا ہے۔ لہٰذا میں چرچ میں رہتا ہوں ۔ سب اس کے بعد کہتا ہے ایک بزلہ سنج آدمی کيلئے جملہ چمڑے کے دستانے کی طرح ہے جسے وہ اپنے مطلب کے مطابق الٹا سکتا ہے۔ اورجب Voila اس سے کہتی ہے کہ کیا تم اولیویا کے مسخرے نہیں ہو تو جواباً کہتا ہے کہ لیڈی اولیویا کا کوئی مسخرہ نہیں ہے۔ جب تک وہ شادی نہ کرے مسخرے بھی شوہروں کی طرح ہوتے ہیں بلکہ ان دونوں میں شوہر بڑا مسخرہ ہے۔مختصر یہ کہ اس نے اپنی بذلہ سنجی اور لفظی مزاح سے پورے ڈرامے میں جان ڈال دی ہے۔

اب آتے ہیں شیکسپیئر کے ایک اور کردارPolonioy کی طرف شیکسپیئر نے اس کيلئے Fool کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ لیکن اپنی عادات و کردار ، مخصوص دانشورانہ سوچ اور ڈرامے کے دوسرے کرداروں کا خاص تجزیہ کرنے کی وجہ سے مسخروں کی صف میں جا کھڑا ہوتا ہے۔

ہر مزاحیہ کردار کی طرح وہ اپنے آپ کو صحیح سمجھتا ہے۔ دوسروں کے معاملات میں مداخلت اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے۔ گو کہ وہ سمجھتا ہے کہ۔ Brevity is the soul of wit لیکن ہر بات تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ اس کے علاوہ شکل و نادر الفاظ کو استعمال کر کے وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح اس کی باتوں میں وزن اور اثر پیدا ہو جائے گا۔وہ ہیلمٹ کے پاگل پن کا تجزیہ اپنی منطق کے مطابق کرتا ہے۔ البتہ ہلمٹ کی محبت،وعدوں اور قسموں کے متعلق بیٹی کو بڑے پتے کی بات بتاتا ہے۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ یہ قسمیں اور وعدے چڑیاں پکڑنے کے پھندے ہوتے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ جب انسان کا خون گرم ہوتا ہے تو وہ بلند بانگ وعدوں میں بڑی فیاضی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

Ay springes to catch woodcock 9 do know when the blood burns how prodigal the soal land the tongue vows.

شیکسپیئر نے مزاحیہ نگاری میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ مزاح کے تقریباً تمام حربے اس نے استعمال کئے ہیں ۔ مزاح نگار اکثر انہیں حربوں سے کام لیتے ہیں ۔ لیکن جہاں تک مزاحیہ کردار نگاری کا سوال ہے۔ عام روایتی مزاحیہ کرداروں کے ساتھ ساتھ اس نے جو فلسفی مسخرے متعارف کروائے ہیں اسی کا امتیاز ہے اور اس مضمون کا حصہ بھی صرف انہی فلسفی مسخروں کا تعارف پیش کرنا تھا.

اگست 21, 2010 at 05:44 تبصرہ کریں

ادیبوں کے لطیفے

شوکت تھانوی

(1) پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار ایس پی سنگھا کے گیارہ بچوں کے نام کا آخری حصہ  ”سنگھا”  تھا۔ جب ان کے ہاں بارہواں لڑکا پیدا ہوا تو شوکت تھانوی سے مشورہ کیا کہ اس کا کیا نام رکھوں۔اس پر شوکت صاحب نے بے ساختہ کہا:آپ اس کا نام بارہ سنگھا رکھ دیجیے۔

(2) ایک ناشر نے کتابوں کے نئے گاہک سے شوکت تھانوی کا تعارف کراتے ہوئے کہا: آپ جس شخص کا ناول خرید رہے ہیں وہ یہی ذات شریف ہیں۔لیکن یہ چہرے سے جتنے بے وقوف معلوم ہوتے ہیں اتنے ہیں نہیں۔شوکت تھانوی نے فوراً کہا: جناب مجھ میں اور میرے ناشر میں یہی بڑا فرق ہے۔ یہ جتنے بے وقوف ہیں، چہرے سے معلوم نہیں ہوتے۔

پطرس بخاری

(1) کرنل مجید نے ایک دفعہ پطرس بخاری سے کہا: اگر آپ اپنے مضامین کا مجموعہ چھپوائیں تو اس کا نام صحیح بخاری رکھیں۔پطرس نے جواب دیا: اور اگر آپ اپنی نظموں کا مجموعہ چھپوائیں تو اس کا نام کلام مجید رکھیں۔

مولانا محمد علی جوہر

(1) مولانا محمد علی جوہر رام پور کے رہنے والے تھے۔ ایک دفعہ سیتا پور گئے تو کھانے کے بعد میزبانوں نے پوچھا کہ آپ میٹھا تو نہیں کھائیں گے؟ کیونکہ مولانا شوگر کے مریض تھے۔مولانا بولے: بھئی کیوں نہیں لوں گا؟ میرے سسرال کا کھانا ہے کیسے انکار کروں؟یہ سن کر سب لوگ حیران ہوئے اور پوچھا کہ سیتا پور میں آپ کے سسرال کیسے ہوئے ؟تو مولانا بولے: سیدھی سی بات ہے کہ میں رام پور کا رہنے والا ہوں۔ ظاہر ہے سیتا پور میرا سسرال ہوا۔

(2) مولانا محمد علی جوہر، مولانا ذوالفقار علی خاں گوہر، اور شوکت علی تین بھائی تھے۔ شوکت صاحب منجھلے تھے۔ انہوں نے 52 . 54سال کی عمر میں ایک اطالوی خاتون سے شادی کر لی۔ اخبار نویس نے اور سوالات کرنے کے بعد مولانا شوکت علی سے پوچھا کہ آپ کے بڑے بھائی گوہر ہیں اور آپ کے چھوٹے بھائی جوہر،آپ کا کیا تخلص ہے تو فوراً بولے: شوہر۔

انشاء الله خان انشاء
(1) جرات نابینا تھے۔ایک روز بیٹھے فکرِ سخن کر رہے تھے کہ انشاء آ گئے۔ انہیں محو پایا تو پوچھا حضرت کس سوچ میں ہیں؟ جرات نے کہا : کچھ نہیں۔ بس ایک مصرع ہوا ہے۔ شعر مکمل کرنے کی فکر میں ہوں۔ انشاء نے عرض کیا : کچھ ہمیں بھی پتا چلے۔
جرات نے کہا: نہیں۔ تم گرہ لگا کر مصرع مجھ سے چھین لو گے۔ آخر بڑے اصرار کے بعد جرات نے بتایا۔ مصرع تھا:
اس زلف پہ پھبتی شبِ دیجور کی سوجھی
انشاء نے فوراً گرہ لگائی:
اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی
جرات لاٹھی اٹھا کر انشا کی طرف لپکے۔ دیر تک انشاء آگے اور پیچھے پیچھے ٹٹولتے ہوئے بھاگتے رہے۔

اگست 19, 2010 at 04:50 1 comment

خلیل جبران کی زندگی کے بارے میں

عربی زبان کے مشہور صاحب طرز ادیب ، جبران خلیل جبران 1883 ء میں پیدا ہوئے، مقام پیدائش بشریٰ ہے۔ جو لبنان کے مضافات میں الارزالخالد کے قریب واقع ہے۔ ابتدائی زندگی شمالی لبنان کی آزاد فضامیں گزری ۔ بارہ برس کی عمر میں ترک وطن کر کے ممالک متحدہ امریکہ چلے گئے۔ چند سال وہاں ٹھہر کر عربی زبان وادب کی تحصیل کیلئے بیروت آئے اورمدرسہ حکمت میں داخل ہو گئے.1903ء میں امریکہ واپس ہوئے اور پانچ برس تک وہاں رہے، اس عرصہ میں آپ کا زیادہ ترقیا م بو سٹن میں رہا ۔ جہاں آپ نے کچھ کتابیں عربی زبان میں تالیف کیں۔ 1908ء میں مصوری اور دیگر فنون لطیفہ کی تکمیل ، نیز یورپ کے بڑے بڑے شہروں کی سیاحت کے لئے پیرس کا سفر کیا ۔ تین سال پیرس میں رہ کر جامعہ فنون فرانسیسی سے امتیازی سندحاصل کی اورمجلس فنون فرانسیسی کا رُکن مقرر کیا گیا۔

1912ء میں پھر امریکہ گیا اور نیویارک میں مستقل اقامت اختیار کرلی۔  یہاں آپ نے عربی اور انگریزی میں بہت سی کتابیں اور مقالے لکھے جن کی وجہ سے آپ ساری دنیا کے اہل فن کی نگاہوں کا مرکز بن گئے۔ ان کتابوں کے علاوہ کچھ غیر فانی مقالات ہیں، جو مختلف اوقات میں شائع ہو کر یورپ کی اکثرزبانوں میں ترجمہ ہو چکے ہیں۔ خلیل جبران کی ایک کتاب ”الرسوم العشرون“ کے نام سے ہے جو اس کے سحر آفریں موقلم کی اشاراتی تصویروں کا نادرِ روز گار مجموعہ ہے۔ یہ کتاب 1919ء میں شائع ہوئی تھی۔ جبران کی انگریزی تالیفات دنیا کی اکثر زندہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔

مسرت کا مقام ہے کہ اردو بھی جبران خلیل جبران کے افکار سے ناآشنا نہیں ۔ سب سے پہلے قاضی عبدالغفار ، مصنف ”لیلیٰ کے خطوط“ نے آپ کے انگریزی شاہکار ”النبی“کا ترجمہ” اُس نے کہا“کے نام سے کیا۔ پھر اسی کتاب کا دوسرا ترجمہ ”مسائل ِحیات“ لاہور سے شائع ہوا۔ اس کے بعد ابوالعلاچشتی نے ” الارواح المتمردہ“ کو” سرکش روحیں “کے نام سے براہِ راست عربی سے اردو میں منتقل کیا۔ سب سے آخر میں بشیر ہندی نے ”پاگل “ملک کے سامنے پیش کی ،جو” المجنون“کے غالباً انگریزی ایڈیشن کا ترجمہ ہے۔

ترس کھا ایسی ملت پر

ترس کھا ایسی ملت پر جو توہمات سے پر اور عقیدے سے خالی ہو

ترس کھا ایسی ملت پر جو وہ زیبِ تن کرتی ہو جو اس نے نہیں بنا، وہ کھاتی ہو جو اس نے نہیں بویا، وہ شراب پیتی ہو جو کسی اور نے کشید کی

ترس کھا ایسی ملت پر جو غنڈے کو ہیرو سمجھےاور فاتح کو بھر بھر جھولی درازی عمر کی دعا دے

ترس کھا ایسی ملت پر جو نیند میں بہادر اور جاگتے میں بزدل ہو

ترس کھا ایسی ملت پر جس کی صدا سوائے جلوسِ جنازہ کبھی بلند نہ ہو، سوائے زیرِ شمشیر کبھی گردن نہ اٹھےترس کھا ایسی ملت ہر جس کا مدبر لومڑ اور فلسفی مداری ہو اور ہنر ان کا صرف لیپا پوتی اور نقالی ہو

ترس کھا ایسی ملت پر جو نقارہ بجا کر نئے حاکم کا استقبال کرے اور آوازے کس کے رخصت کرے اور پھر نقارہ بجائے اگلے حاکم کے لیے

ترس کھا ایسی ملت پر جس کے دانشمند گزرتے وقت کے ساتھ بہرے ہوتے چلے جائیں، جس کے قوی اب تک گہوارے میں ہوں

ترس کھا ایسی ملت پر جو ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور ہر ٹکڑا خود کو ملت جانے

( گلشنِ پیمبر۔ خلیل جبران۔انیس سو تینتیس )

اگست 18, 2010 at 05:36 1 comment

حضرت سلطان باہو (1631-1691)

پنجاب کے صوفی ۱کابرین میں سلطان باہو کو بھی ممتاز ترین مقام حاصل ہے۔ سلطان باہو اپنے عہد کے کامل بزرگ اور پنجابی زبان کے عظیم صوفی شاعر ہیں. آپ کے کلام میں ایک روح پرور تاثیر، مٹھاس اور چاشنی ہے. آپ سلطان العارفین کے لقب سے مشہور ہیں. آپ کا تعلق شاہ جہاں کے عہد کے ایک جاگیردار خاندان سے تھا جس کا تعلق پنجاب کے ضلع جھنگ سے تھا۔ آپ کے والد بایزید محمد ایک صالح شریعت کے پابند حافظ قرآن، فقیہہ ، دنیاوی تعلقات سے آشنا سلطنت دہلی کے منصب دار تھے۔ حضرت سلطان باہو 1631ء (1039ھ) میں جھنگ کے موضع اعوا ن میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ظاہری علوم کا اکتساب باقاعدہ اور روایتی اندز میں نہیں کیا بلکہ زیادہ ترابتدائی تعلیم اپنی والدہ سے حاصل کی ۔ خود ہی ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

”اگرچہ میں ظاہری علوم سے محروم ہوں لیکن علم باطنی نے میری زندگی پاک کر دی ہے۔“

مرشد کی تلاش میں سرگرداں ہوئے تو آپ کی ملاقات شور کوٹ کے نزدیک گڑھ بغداد میں سلسلہ قادر یہ کے ایک بزرگ شاہ حبیب اللہ سے ہوئی۔ اور جب مرید مرشد سے بھی آگے بڑھ گیا تو مرشد نے آپ کو سید عبدالرحمٰن کی جانب رجوع کرنے کا مشور ہ دیا۔ اورنگزیب کے عہد میں آپ سید عبدالرحمٰن سے ملنے دہلی پہنچے مگر معروضی حالات کی بنا پر آپ کے عالمگیر کے ساتھ تضادات پیدا ہو گئے۔ اسی بنا پر آپ دہلی سے واپس چلے گئے اور بقیہ زندگی روحانی ریاضتوں اور لوگوں کو روحانی فیض پہنچانے میں بسر کی۔ آپ دوسرے صوفیا کی طرح محض درویشانہ زندگی نہیں گزارتے تھے بلکہ ایک بڑے خاندان کے سربراہ کی حیثیت سے آپ کی زندگی کا انداز بلاشبہ روایتی صوفیانہ زندگی سے مختلف تھا۔ زندگی کے آخری دنوں میں آپ نے سب کچھ تیاگ دیا تھا۔ آپ کی تصانیف کی طویل فہرست عربی، فارسی اور پنجابی زبانوں پر محیط ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو نہ صرف مروجہ زبانوں پر عبور حاصل تھا بلکہ وہ مذہبی علوم سے بھی کماحقہ فیض یاب ہوتے تھے۔

آپ کی شاعری میں ایک سرور انگیز مقدس آواز کی صورت میں لفظ ” ہو“ کا استعمال آپ کو تمام صوفی شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔ آپ بظاہر فلسفیانہ موشگافیوں سے پرہیز کرتے اور سیدھی سادھی باتیں خطیبانہ انداز میں کہے چلے جاتے، جن کا مطالعہ بلاشبہ ہماری دیہاتی دانش کا مطالعہ ہے۔ آپ کی شاعری سے محسوس ہوتا ہے کہ آپ سلسلہ قادریہ کے دوسرے صوفیا سے مختلف نہیں ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں :

”میں نہ تو جوگی ہوں نہ جنگم ، نہ ہی سجدوں میں جا کر لمبی لمبی عبادتیں کرتا ہوں نہ میں ریاضتیں کرتا ہوں ۔ میرا ایمان محض یہ ہے، جو لمحہ غفلت کا ہے وہ لمحہ محض کفرکا ہے۔جو دم غافل سو دم کافر۔“

حضرت سلطان باہو سرچشمہ علوم و فیوض ہیں، مشہور ہے کہ آپ نے ایک سو چالیس کتابیں تصنیف کیں جن میں سے بہت سی کتابیں امتدادِ زمانہ کے ہاتھوں ناپید ہیں ۔ تاہم اب بھی آپ کی بہت سی کتابیں دستیاب ہیں اور علمائے ظاہر کے مقابلے میں سلطان باہو فقر کا تصور پیش کرتے ہیں جہاں علما لذتِ نفس و دنیا میں مبتلا ہو کر نفس پیروی کرتے ہیں اور لذتِ یادِ الٰہی سے بیگانہ رہتے ہیں ، وہاں فقراء شب و روز یادِ خدا میں غرق ہو کر امر ہو جاتے ہیں۔ آپ کی شاعری میں ترکِ دنیا اور نفس کشی کے خیالات بکثرت ملتے ہیں۔آپ کے نقطہ نظر کے مطابق دین و دنیا دو ایسی متضاد قوتیں ہیں جن کے باہم تفاوت کو حل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ سلطان باہو کا وصال 1691ء  بمطابق اسلامی تاریخ یکم جمادی الثانی 1102ھ میں تریسٹھ سال کی عمرمیں ہوا۔ آپ کا مزار مبارک دریائے چناب کے مغربی کنارے ایک گاؤں جو آپ ہی کے نام سے موسوم ہے اور جھنگ سے پچاس میل دور جنوب کی جانب قصبہ گڑھ مہاراجہ کے نزدیک تحصیل شورکوٹ میں مرجعِ خاص و عام ہے.

اگست 17, 2010 at 05:49 تبصرہ کریں

Older Posts Newer Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad Poetry
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے”
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad Poetry