Posts tagged ‘Urdu Pakistan’

مُلا نصیرالدین کی حاضر جوابی

ایک بار بہت برف باری ہو رہی تھی. کافی ٹھنڈ ہو گئی تھی. مُلا نصیرالدین کے دوستوں نے کہا کہ اس سردی میں تو کوئی بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور رات کا کوئی ایک لمحہ بھی باہر نہیں گزار سکتا. مُلا نصیرالدین نے کہا کہ میں رات گھر سےباہر کھلے آسمان کے نیچے گزاروں تو کیا تم میرے سب گھر والوں کی دعوت کرنے کو تیار ہو. سب دوستوں نے کہا کہ مُلا پاگل ہو گیا ہے بھلا ایسی سردی میں کون باہر رات گزار سکتا ہے. دوستوں نے کہا کہ اچھا موقع ہے مُلا اپنے آپ کو ہم سے زیادہ عقلمند سمجھتا ہے. چلو شرط لگا لیتے ہیں بیچارہ اپنی جان کے پیچھے پڑگیا ہے ..مُلا نے کہا کہ اگر میں شرط جیت گیا تو تم سب کو میرے گھر والوں کی دعوت کرنی ہو گی ورنہ میں تم سب کی دعوت کروں گا اگر شرط ہار گیا.

دوستوں نے کہا ہمیں منظور ہے.آخر وہ رات بھی آ گئی ملا قمیض شلوار میں گھر سے باہر جا بیھٹا. سب دوست اسکو ایک بند کمرے کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھ رہے تھے. مُلا ساری رات سردی میں ٹہڑتا رہا آخر کوصبح ہو گئی..اب تو دوست بڑے حیران ہوئے اور کہا کہ ہم نہیں مان سکتے کہ ایسا ہو سکتا ہے. تم زندہ کیسے بچ سکتے ہو اس سردی میں تو ایک پل باہر نہیں رہا جا سکتا اور تم قیمض شلوار میں ساری رات بیھٹے رہے . مُلا نے کہا کہ بھئی تم سب شرط ہار گئے ہو اب بھاگو مت میری دعوت کرو. ایک دوست نے کہا کہ ملا تم جہاں تھے وہاں کوئی گرم چیز تھی کیا یاد کرو ملا نے کہا کہ نہیں کوئی چیز نہیں تھی. اب تم میری دعوت کرو..دوست نے کہا کہ یاد کروآس پاس کوئی ایسی چیز تھی.

ملا نے ذہن پر زور دیا اور کہا کہ ہاں یاد آیا جہاں میں بیھٹا تھا وہاں پر ایک کھڑکی میں موم بتی جل رہی تھی. مگر اتنی سی موم بتی سے کیا ہوتا ہے. اب تو دوستوں کے ہاتھ جیسے ملا کی کمزوری آ گئی. دوستوں نے کہا کہ ہاں جب ہی تو ہم بولیں کہ تم آخر بچ کیسے گئے. اس موم بتی کی گرمی کی وجہ سے تم شرط ہار گئے ہو. مُلا اب تم ھماری دعوت کرو ہم نے کہا تھا کہ تمہارے پاس کوئی گرم چیز نہیں ہو گی. مگر تم ساری رات ایک موم بتی کی گرمی میں زندہ رہے ..ملا سے کوئی جواب نہ بن سکا اگلے دن سب دوست ملا کے گھر دعوت میں جمع ہوئے. مُلا نے کہا کہ بیھٹو یاروں ابھی کھانا پک کر تیار ہو جاتا ہے دوست کافی دیر بیٹھے رہے اور انتظار کرتے رہے مگر کھانا نہیں آیا.

دوستوں نے کہا کہ مُلا ابھی کتنی دیر اور  ہے. مُلا نے کہا کہ بس تھوڑی دیر اور دوستوں نے کچھ دیر اور انتظار کیا جب کھانا نہیں آیا تو دوستوں نے کہا کہ تم ہم سب کو بیوقوف بنا رہے ہو بھلا کھانے میں اتنا ٹائم لگتا ہے. دکھاؤ ہم کو کھانا کہاں بن رہا ہے ہم بھی تو دیکھیں. مُلا سب کو اپنے باورچی خانے میں لے گیا دوستوں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا پیتلا رکھا ہوا ہے اور اس کے نیچے ایک موم بتی جل رہی ہے. دوستوں نے یہ دیکھا تو کہا کہ ابے مُلا کبھی اس موم بتی سے بھی کھانا بنتا ہے. پاگل تو نہیں ہو گیا کیا؟ مُلا نے کہا کہ جب موم بتی سے انسان بچ سکتا ہے تو کھانا نہیں بن سکتا. یہ بات سن کر سب دوست بہت شرمندہ ہوئے اور اگلے دن سب نے مُلا کےگھر والوں کی دعوت کی سب مُلا کی اس حاضر جوابی سے بڑے متاثر ہوئے…..

نومبر 22, 2010 at 08:21 تبصرہ کریں

تعلیم کی اہمیت

رامو ایک دیہاتی شخص تھا۔ شہر کے ایک رئیس کے یہاں گھریلو ملازم تھا وہ پڑھا لکھا بالکل بھی نہیں تھا۔ اپنے گاﺅں اور اپنی بیوی بچے سے دور شہر میں رہتے ہوئے اسے عرصہ بیت گیا تھا۔ اس کا ا یک ہی بیٹا تھا بھولا، جب وہ گاﺅں سے رخصت ہوا تھا تو اس وقت اپنی ماں کی گود میں تھا جب بیٹے کی یاد رامو کو ستانے لگی تو اس نے سوچا کیوں نا بھولا کی ماں کو ایک خط لکھ دے۔ لیکن وہ قلم اور کاغذ لے کر اس پر لکھتا بھی کیا کہ اس نے کبھی اسکول کا منہ تک نہیں دیکھا تھا۔ مجبوراً وہ بڑے مالک کے پاس گیا اور ان سے ایک خط لکھنے کی درخواست کی۔ بڑے مالک خط لکھنے کو تیار ہوگئے۔ اتنے میں ٹیلی فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ فون ان کے دفتر سے تھا، وہ فوراً دفتر چلے گئے اور رامو کا خط ادھورا ہی رہ گیا۔
اس کے بعد رامو چھوٹے مالک کے پاس گیا۔ چھوٹے مالک ورزش کرنے میں مصروف تھے۔ رامو نے اس سے خط لکھنے کی درخواست کی۔چھوٹے مالک کے پاس اتنی فرصت کہا ں کہ وہ ایک نوکر کا کام کرنے کو تیار ہو جاتے۔ انہوں نے فوراً بہانہ تراشتے ہوئے کہا ”تم تو جاتنے وہ رامو کاکا کے مجھے ہندی نہیں آتی ، تم کہو تو انگریزی میں لکھ دوں تمہارا خط! رامو مایوس ہو کر چھوٹی مالکن کے پاس گیا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتا، ، چھوٹی مالکن بول پڑیں” رامو کاکا تم مجھے کوئی کام بتا کر پریشان نہ کرو، ویسے ہی مجھے کالج جانے میں دیر ہوگئی ہے“ بیچارہ رامو خط لکھنے کا ارمان دل میں لیے الٹے پاﺅں لوٹ گیا۔
کچھ دنوں بعد رامو کو ڈاک سے ایک موصول ہوا۔ اس لفافہ کو لے کر سیدھا بڑی مالکن کے پاس جا پہنچا اور اسے پڑھ کر سنانے کی گزارش کی۔ بڑی مالکن نے لفافہ کھولا اور پڑھ کر سنایا۔
Ramu Come soon Maya seriously  Hospitalized اس کامطلب ہندی میں سمجھایا۔
رامو دوسرے دن ہی جب اپنے گاﺅں پہنچا تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ گاﺅں والے مایا کے مردہ جسم کو نذر آتش کرچکے تھے۔ اس کا ننھا بیٹا بھولا اس کے قریب آکر اپنی توتلی زبان میں بڑبڑانے لگتا ہے”باپو….باپو….باپو تم آگئے؟ مائی تو تب (کب) تی چلی گئی۔ اسے تو داﺅں(گاﺅں) والے تندھا پر اٹھا تر لے دیے آر (اور) ڈھیر ساری لتڑی(لکڑی) پر ستاتر آد(آگ) لدادی‘’؟ رامو نے ، بھولا کو بہلاتے ہوئے کہا۔” تمہاری اماں بھگوان کے گھر چلی گئی ہے“تون (کون) بھگوان باپو“؟ وہ میں سمجھا کہ مائی ناناجی کے گھر چلی گئی ہے ایسا کرو نا باپو کہ تم مائی تو(کو) ایت(ایک) چھٹی لکھ دو تو وہ جلد دھر(گھر) چلی آئے گی“ رامو نے لاچاری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ”بھولے توتو جانتا ہے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔ ایک کام کر تو ہی اپنا اماں کو خط لکھ دے‘’ مگر اماں نے تو ہم کو تبھی (کبھی) اسکول بھیجا ہی نہیں تو ہم…….. بھولا کی زبان سے یہ جملہ سنتے ہی رامو کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔ رامو نے اسی وقت تہہہ کرلیا کہ اپنے بیٹے کو اپنے جیسا جاہل نہیں بنانا۔ حالات جوبھی ہوں وہ ہر حال میں اپنے بچے کو پڑھنے کے لیے اسکول ضرور بھیجے گا۔

اکتوبر 25, 2010 at 10:43 2 comments

آپ کے پیا روں کے لئے بہترین دعا

 

 

اکتوبر 21, 2010 at 11:57 تبصرہ کریں

لیلتہ القدر کی فضیلت

اگست 28, 2010 at 06:38 2 comments

خلیل جبران کے اقوال

انسان اور فطرت

ایک دن صبح میں بیٹھا فطرت پر غور کر رہا تھا کہ بادِ نسیم کا ہلکا سا جھونکا درختوں سے ہوتا ہوا میرے پاس سے گزر گیا. میں نے اس جھونکے کو ایک بھوے بھٹکے یتیم کی طرح آہیں بھرتے سنا  "اے بادِ نسیم تو کیوں آہیں بھرتی ہے؟” میں نے پوچھا بادِ نسیم نے جواب دیا  "اس لیے کہ میں شہر سے لوٹ کر آئی ہوں. جس کی سڑکیں سورج کی گرمی کی وجہ سے ابھی تک تپ رہی ہیں. محتلف بیماریوں کے جراثیم نرم و نازک پاکیزہ لباس کے ساتھ چمٹ گئے ہیں. کیا تم اب بھی آہیں بھرنے کا طعنہ دیتے ہو؟”.

پھر میں نے پھولوں کے اشک آلود چہروں کی طرف دیکھا وہ آہستہ آہستہ سسکیاں لے رہے تھے.”اے حسین و جمیل پھولوں! تم کیوں روتے ہو؟”  میں نے سوال کیا. ایک پھول نے اپنا نرم و نازک سر اٹھایا اور سرگوشی کے لہجے میں کہنے لگا. "ہم اس لیے روتے ہیں کہ ابھی کوئی شخص ہمیں توڑ کر لے جائے گا اور شہر کی کسی منڈی میں فروخت کر دے گا”.

پھر میں نے ندی کو بیوی کی طرح آہ زاری کرتے سنا جیسے وہ اپنے اکیلے بچے کی موت پر ماتم کر رہی ہو

"اے پاکیزہ ندی بھلا تو کیوں رو رہی ہے”؟ میں نے ہمدردی سے سوال کیا.

یہ سن کر ندی نے کہا "میں اس لیے رو رہی ہوں کہ انسان نے مجھے شہر جانے پر مجبور کر دیا ہے. وہ مجھے گندی نالیوں میں ڈال کر میری پاکیزگی کو ملوث کرتا ہے اور میری صفائی قلب کو نجاست سے گندہ کرتا ہے”.

پھر میں نے پرندوں کو آہیں بھرتے سنا پھر میں نے پوچھا "اے پیارے پرندوں تمہیں کیا دکھ ہے؟ تم کیوں آہیں بھرتے ہوِ اُن میں سے ایک پرندہ اُڑ کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا! "یہ ابن آدم ابھی مسلح ہتھیاروں سے لیس ہو کر میرے اس کھیت میں آئیں گے اور اس طرح ہم پر حملہ آور ہوں گے جیسے ہم سچ مچ ان کے دشمن ہیں ہم اس وقت ایک دوسرے کو الوداع کہہ رہے ہیں کیوں کی ہمیں پتہ نہیں کہ کون شام کو صحیح سلامت گھر لوٹے گا اور کون موت کا شکار ہو گا. ہم جہاں جاتے ہیں موت ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتی”

اب پہاڑوں کے پیچھے سورج طلوع ہو رہا ہے اور درختوں کی چوٹیوں پر اپنی سنہری کرنوں کو بکھیر رہا ہے. میں نے سراپا حُسن کی طرف دیکھا اور کہا "جس چیز کو دست قدرت نے جنم دیا ہے. انسان اُس کو کیوں برباد کر رہا ہے؟”.

حسن

حسن کی بھی اپنی ہی ایک زبان ہوتی ہے. یہ زبان لفظوں اور ہونٹوں کی محتاج نہیں ہوتی. یہ ایک غیر فانی زبان ہے اور کائنات کا ہر انسان اسے سمجھتا ہے. یہ آفاقی زبان جھیل کی مانند ہے جو ہمیشہ خاموش رہتی ہے لیکن گنگناتی اور شور مچاتی ندیوں کواپنی گہرائی میں اتار لیتی ہے اور پھر وہی ازلی اور ابدی سکون چھا جاتا ہے.

ماں کی گود
قادسیہ کی وادی میں جہاں ایک بڑا دریا بہتا ہے دو چھوٹی چھوٹی ندیاں باہم ملنے پر یوں گویا ہوئیں.
پہلی بولی
"کہو سہیلی راستہ کیسے کٹا تمہارا”
دوسری نے کہا.
"بہن میرا راستہ تو بہت ہی خراب تھا. پن چکی کا پہیہ ٹوٹا ہوا تھا اور چکی والا بوڑھا جو راستہ کاٹ کر مجھے اپنے کھیتوں میں لے جایا کرتا تھا مر چکا ہے. میں ہاتھ پاؤں مارتی جو دھوپ میں بیٹھے مکھیاں مارتے رہتے ہیں. ان کے کیچڑ سے پہلو بچاتی آرہی ہوں، مگر تمہاری راہ کیسی تھی؟
پہلی ندی بولی
"میری راہ بلکل مختلف تھی. میں پہاڑوں پر سے اُچکتی ، شرمیلی بیلوں اور معطر پھولوں سے اُلجھتی چلی آرہی ہوں. چاندی کی کٹوریاں بھر بھر کر مرد اور عورتیں میرا پانی پیتے تھے اور چھوٹے چھوٹے بچے اپنے گلابی پاؤں میرے کنارے کھنگالتے تھے. میرے چاروں طرف قہقہے تھے اور رسیلے گیت تھے لیکن افسوس کہ بہن تیرا راستہ خوشگوار نہ تھا.
"چلو جلدی چلو” دریا کی چیخ سنائی دی ، چلو چپ چاپ بڑھتے چلو مجھ میں سما جاؤ. ہم سمندر کی طرف جا رہے ہیں. آؤ میری گود میں پہنچ کر تم اپنی سب کوفت بھول جاؤ گی. خوشی اور غم کے تمام قصے خودبخود محو ہو جائیں گے.
"آؤ کے ہم اپنے راستے کی تمام کلفتیں بھول جائیں گے. سمندر میں اپنی ماں کی گود میں پہنچ کر ہم سب کچھ بھول جائیں گے.”

اگست 24, 2010 at 06:59 1 comment

شیکسپیئر کے فلسفی مسخرے

شیکسپیئر دنیائے ادب کے اُفق کا وہ چمکتا ستارہ ہے جس کی مقبولیت کا گراف ہمیشہ بلند رہا ہے۔ اس کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب اس کی کردار نگاری ہے۔ چونکہ اس کا زندگی کا مشاہدہ نہایت گہرا تھا۔ اس لئے اس نے کئی لازوال اور آفاقی کردار تخلیق کئے۔ اس کے متنوع کرداروں میں مسخرہ نہایت اہم ہے۔مسخرہ کے کردار کو اپنے ڈراموں میں اس نے خاص مقصد کيلئے پیش کیا ہے اور وہ خاص مقصد ڈراموں کے کرداروں کی خوبیوں ، خامیوں اور بے وقوفیوں پر تنقید و تبصرہ کے علاوہ زندگی کے متعلق اپنے نظريے کی وضاحت بھی ہے۔ طربیہ ہو یا المیہ دونوں میں مسخرے اپنی بزلہ سنجی سے قارئین اور ناظرین کی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں ۔ تاہم عام مسخروں کی طرح شیکسپیئر کے مسخرے اپنی حرکات و سکنات سے تماش بینوں کو نہیں ہنساتے بلکہ وہ نہایت ذہانت سے زندگی کی فلسفیانہ توجیح کرتے ہیں ۔

یہ ٹھیک ہے کہ شیکسپیئر نے ایسے لازوال کردار (Falstoff)  تخلیق کئے ہیں جو اپنی حرکات و سکنات وغیرہ سے بھی ہنساتے ہیں ۔ لیکن یہ شیکسپیئر کا امتیاز ہے کہ اس نے فلسفی مسخرے تخلیق کئے ہیں ۔ جو ڈرامے کے دوسرے کرداروں پر نہ صرف فکر انگیز تنقید و تبصرے کرتے ہیں بلکہ اپنے "اقوال زریں ” سے زندگی کے متنوع پہلو اجاگر کرتے ہیں ۔انہیں لازوال کرداروں میں لیئر کا مسخرہTwelfth Night کا Feste اور As you Like it کا ٹچ اسٹون اہم ہیں ۔شاہ لئیر کے مسخرے کو انگریزی ادب کے کئی نقادوں نے بہت سراہا اور پسند کیا۔ وہ بذلہ سنجی اور ذہانت میں اپنی مثال آپ ہے۔ ڈرامے میں وہ ایک ایسے پڑھے لکھے اور ذہین فلسفی کی طرح نظر آتا ہے جسے کئی محاورے، ضرب الامثال اور دیسی حکایتیں ازبر ہیں اور شاہ لیئر کی بےوقوفیوں کو ظاہر کرنے کیلئے وہ انہیں بےدریغ استعمال کرتا ہے۔ اور زندگی کی روزمرہ استعمال کی چیزوں کوبھی تمثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔

لیئر جب اپنی چھوٹی بیٹی کو اس کی راست بازی کی سزا اور اپنی بڑی بیٹیوں کو ان کی چاپلوسی کا انعام آدھی آدھی سلطنت کی صورت میں دینے کے بعد دامن جھاڑے بیٹھا ہوتا ہے تو مسخرہ اس سے کہتا ہے کہ اب آپ ایسے صفر کی مانند ہو گئے ہیں جس سے پہلے کوئی ہندسہ نہیں ہوتا یا ایسی خالی پھلی کی مانند ہیں جس کے دانے دوسروں کومل چکے ہیں ۔ وہ بادشاہ لئیر کو بے وقوف کہتا ہے تو وہ چراغ پا ہوکر کہتا ہے تم نے مجھے یہ کیوں کہا؟ اس پر مسخرہ جواب دیتا ہے کہ جتنے اچھے اچھے خطاب آپ کو پیدائش کے وقت حاصل تھے وہ تو آپ نے دوسروں کو دے دئيے ہیں ۔ لیئر نے اپنی چاپلوس اور دھوکے باز بیٹیوں کو سلطنت دے کر جو غلطی کی ہے اور اس سے جونتائج آئندہ برآمد ہونے والے ہیں ۔ یہ مسخرہ ان سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ جوں جوں اس کی بیٹیوں کی اصلیت کھلتی جاتی ہے۔ مسخرہ اس پر اپنا تبصرہ جاری رکھتا ہے۔

لئیر کی بڑی بیٹی بادشاہ کے نوکر کنت کو سنگین سزا دیتی ہے تو وہ گانا گاتا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے۔ کہ اگر باپ پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ہو گا تو اولاد اس کی طرف سے اندھی ہو جائے گی۔ یعنی بيگانگی کا مظاہرہ کرے گی۔لیکن جب باپ دولت سے بھرے تھیلے لائے گا تو پھر بچے بڑے مہربان ہوتے ہیں۔ اور تقدیر ایسی پیشہ ور طوائف کی مانند ہے جو اپنے خزانوں کی چابی غریب کی طرف نہیں گھماتی۔گونرل جب بادشاہ پر سلطنت کے معاملات میں ملازموں کے ذریعے خلل ڈالنے کا الزام لگا کر سنگین نتائج کی دھمکی دیتی ہے تو مسخرہ پھر گاتے ہوئے کہتا ہے کہ ایک چڑیا نے کوئل کے انڈوں پر بیٹھ کر بچے نکالے اور انہیں کافی عرصہ تک پالتی رہی جب بچے بڑے ہوئے تو ان میں سے ایک نے چڑیا کا سر کتر لیا۔ مسخرہ شاہ کو دراصل یہ سمجھانا چاہتا تھا کہ اس نے بیٹیاں نہیں آستیں کے سانپ پالے ہیں ۔

اس کے علاوہ یہ فلسفی بادشاہ کو کئی اقوال زریں بھی سناتا ہے۔ ان میں بعض تو ایسے ہیں کہ اگر بادشاہ  فیصلہ کرنے سے پہلے سن سمجھ لیتا تواس کا انجام ایسا المناک نہ ہوتا۔ اقوال درج ذیل ہیں ۔

Have more than thou showest

Learn More than thou trowest

Set less than thou throwest

لیکن لیئر کا انجام المناک ہونا ہی تھا کیونکہ الميے کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے۔ گو کہ ارسطو نے اس بات پر زور نہیں دیا کہ الميي tragedy کا انجام ہیرو کی دردناک موت پر ہی ہو۔ تاہم شیکسپیئر کب ارسطو کے قوانین و اصولوں کو خاطر میں لاتا تھا۔ لئیر کے ساتھ جو کچھ ہوا سو ہوا لیکن اس بے چارے فلسفی مسخرے کا انجام بھی ہیرو کے ساتھ کر کے شیکسپیئر نے کچھ اچھا نہیں کیا۔ دوسرا اہم فلسفی مسخرہ As you like it کا ٹچ اسٹون ہے۔ وہ بھی مخصوص منطق کے ساتھ دوسرے کرداروں پر تنقید و تبصرہ کرتا ہے اور حقیقتاً دوسروں کی بے وقوفیوں و خامیوں کو پرکھنے کی کسوٹی ثابت ہوتا ہے۔ محبت کے معاملات ہوں یا زندگی کے دوسرے پہلو ہر قسم کے تجربات سے گزرا ہوا ہے۔ اسے اپنی درباری زندگی پر فخر ہے اسے وہ اچھے طور طریقوں والی زندگی سمجھتا ہے۔ روز لینڈ سے باتیں کرتے ہوئے محبت کے تجربات یوں بیان کرتا ہے۔

we that our true lovers run into strange capers but as all is mortal in nature so is all nature so is all nature in love mortal in folly.

وہ اپنی مخصوص منطق سے کچھ بھی ثابت کر سکتا ہے۔ Corin سے وہ پوچھتا ہے کیا تم کبھی دربار میں رہے ہو۔ تو وہ کہتا ہے نہیں ۔ اس پر ٹچ اسٹون کہتا ہے پھر تم دوزخ کے مستحق ہو۔ وہ پوچھتا ہے کیوں ؟چونکہ تم دربار نہیں گئے تم شریفانہ طور طریقوں سے آگاہ نہیں اس کا مطلب ہے کہ تم ضرور بدمعاش ہو اور چونکہ بدمعاشی گناہ ہے۔ اس لئے تم واصل جہنم ہو گے۔ اسی طرح ایک جگہ Celia اور Rosalind باتیں کر رہی ہیں تو اس کو یہ آن دھمکتا اور انہیں کہتا ہے تمہارے والد گرامی بلا رہے ہیں ۔ Celia پوچھتی ہے کیا تم پیغام رساں ہو۔ یہ کہتا ہے میں اپنے عزت و وقار کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آپ کو بلا لاؤں ۔ روز لینڈ پوچھتی ہے تم نے یہ حلف کہاں سے سیکھا۔ جواباً کہتا ہے کہ میں نے یہ ایک Knight سے سیکھا ہے۔ جو اپنی عزت کی قسم کھا کر کہہ رہا تھا۔ پان کیک اچھے ہوتے ہیں اور رائی اچھی نہیں ہوتی۔

اب میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہاں کیک کچھ بھی نہیں اور رائی بہت مزے دار ہے۔ اوراب میں یہ ثابت کر سکتا ہوں کہ نائٹ نے جھوٹی قسم کھائی ہے۔ Celia پوچھتی ہے تم اپنے علم کے وسیع ذخیرے سے کیسے ثابت کر سکتے ہو۔ ٹچ اسٹون کہتا ہے آپ دونوں کھڑی ہوکر اپنی ڈاڑھیوں کی قسم کھا کر کہیں کہ میں برا آدمی ہوں ۔ اگر ہماری ڈاڑھیاں ہوتی تو ہم قسم کھاتے ہیں کہ تم برے آدمی ہو۔ جو چیز موجود نہ ہو تو اس کی قسم کھانے سے کیا قسم جھوٹی نہیں ہو گی۔ پس یہی معاملہ نائٹ کا ہے۔ کیونکہ اس کی کوئی عزت و وقار نہ تھا۔ لہٰذا اس نے جھوٹی قسم کھائی۔غرضیکہ اس کی اس منطق اور رایوں کی بدولت نواب Duke کواقرار کرنا پڑا۔

He was his fully like a stalkung horse and under the presentation of that he shoots his wit(A ct V sceme iv)

کنگ لئیر اور As you like it کے مسخرے کی یہ نسبت Twelftl Night کا Feste زیادہ فلسفیانہ فکر نہیں رکھتا۔ لیکن دوسرے کرداروں کے ساتھ مسخرہ پن اور طنز ومزاح سے ان کی ناہمواریوں کو بڑی ذہانت سے اجاگر کرتا ہے۔ وہ خود کہتا ہے کہ Better a witty fool than a foolish wit.اولیویا اسے کہتی ہے کہ تم نرے خشک مسخرے اور بے ایمان ہو۔ وہ کہتا ہے کہ اگر میں خشک ہوں تو شراب دے دیں اور اگر میں بےایمان ہوں تو ایماندار بننے کا موقع دیں اگر نہ بن سکا یہ کام درزی سے کروا لیں ۔ وہ میری مرمت کر دے گا۔ پھر مزید کہتا ہے۔

any thing that is mended is but patched Virtue that trangress (offends) is but patched with sin and sin that amends is but ratched with virtue.

touchstone  کی طرح وہ بھی بہترین گویا ہے۔ ایک گانے میں اس نے ارضی محبت اور موجودہ لمحہ سے لطف اندوزی اٹھانے کا تصور واضح کیا ہے کہ جوانی نہیں رہے گی۔ دیر کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ وغیرہ وغیرہ، گانے سنئيے اور سر دُھنيے۔

What is a love it is not hereaftor Present mirth hoth present laughter what%27s to come is still unsure in delay there lies no plenty there come kiss me sweet and twenty Youth,s a stuff will not endure

بات سے بات نکلنے اور دوسروں کی بات سے اپنا مطلب کا نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت سے نہ صرف یہ مسخرہ بھرپور طور پر مسلح ہے بلکہ الفاظ کے استعمال کی اہمیت کو بھی جانتا ہے۔چنانچہ اولیو یا جب اس کا بجانے والا ڈرم دیکھ کر کہتی ہے کہ کیا تم اس کے ساتھ گزر بسر کر رہے ہو تو وہ کہتا ہے۔ نہیں میں چرچ کے ساتھ رہتا ہوں ۔ تو وہ پوچھتی ہے کیا تم پادری ہو۔ وہ جواب دیتا ہے نہیں ایسی کوئی بات نہیں اصل میں میرا گھر چرچ کے ساتھ جڑا ہے۔ لہٰذا میں چرچ میں رہتا ہوں ۔ سب اس کے بعد کہتا ہے ایک بزلہ سنج آدمی کيلئے جملہ چمڑے کے دستانے کی طرح ہے جسے وہ اپنے مطلب کے مطابق الٹا سکتا ہے۔ اورجب Voila اس سے کہتی ہے کہ کیا تم اولیویا کے مسخرے نہیں ہو تو جواباً کہتا ہے کہ لیڈی اولیویا کا کوئی مسخرہ نہیں ہے۔ جب تک وہ شادی نہ کرے مسخرے بھی شوہروں کی طرح ہوتے ہیں بلکہ ان دونوں میں شوہر بڑا مسخرہ ہے۔مختصر یہ کہ اس نے اپنی بذلہ سنجی اور لفظی مزاح سے پورے ڈرامے میں جان ڈال دی ہے۔

اب آتے ہیں شیکسپیئر کے ایک اور کردارPolonioy کی طرف شیکسپیئر نے اس کيلئے Fool کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ لیکن اپنی عادات و کردار ، مخصوص دانشورانہ سوچ اور ڈرامے کے دوسرے کرداروں کا خاص تجزیہ کرنے کی وجہ سے مسخروں کی صف میں جا کھڑا ہوتا ہے۔

ہر مزاحیہ کردار کی طرح وہ اپنے آپ کو صحیح سمجھتا ہے۔ دوسروں کے معاملات میں مداخلت اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے۔ گو کہ وہ سمجھتا ہے کہ۔ Brevity is the soul of wit لیکن ہر بات تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ اس کے علاوہ شکل و نادر الفاظ کو استعمال کر کے وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح اس کی باتوں میں وزن اور اثر پیدا ہو جائے گا۔وہ ہیلمٹ کے پاگل پن کا تجزیہ اپنی منطق کے مطابق کرتا ہے۔ البتہ ہلمٹ کی محبت،وعدوں اور قسموں کے متعلق بیٹی کو بڑے پتے کی بات بتاتا ہے۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ یہ قسمیں اور وعدے چڑیاں پکڑنے کے پھندے ہوتے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ جب انسان کا خون گرم ہوتا ہے تو وہ بلند بانگ وعدوں میں بڑی فیاضی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

Ay springes to catch woodcock 9 do know when the blood burns how prodigal the soal land the tongue vows.

شیکسپیئر نے مزاحیہ نگاری میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ مزاح کے تقریباً تمام حربے اس نے استعمال کئے ہیں ۔ مزاح نگار اکثر انہیں حربوں سے کام لیتے ہیں ۔ لیکن جہاں تک مزاحیہ کردار نگاری کا سوال ہے۔ عام روایتی مزاحیہ کرداروں کے ساتھ ساتھ اس نے جو فلسفی مسخرے متعارف کروائے ہیں اسی کا امتیاز ہے اور اس مضمون کا حصہ بھی صرف انہی فلسفی مسخروں کا تعارف پیش کرنا تھا.

اگست 21, 2010 at 05:44 تبصرہ کریں

حضرت سلطان باہو (1631-1691)

پنجاب کے صوفی ۱کابرین میں سلطان باہو کو بھی ممتاز ترین مقام حاصل ہے۔ سلطان باہو اپنے عہد کے کامل بزرگ اور پنجابی زبان کے عظیم صوفی شاعر ہیں. آپ کے کلام میں ایک روح پرور تاثیر، مٹھاس اور چاشنی ہے. آپ سلطان العارفین کے لقب سے مشہور ہیں. آپ کا تعلق شاہ جہاں کے عہد کے ایک جاگیردار خاندان سے تھا جس کا تعلق پنجاب کے ضلع جھنگ سے تھا۔ آپ کے والد بایزید محمد ایک صالح شریعت کے پابند حافظ قرآن، فقیہہ ، دنیاوی تعلقات سے آشنا سلطنت دہلی کے منصب دار تھے۔ حضرت سلطان باہو 1631ء (1039ھ) میں جھنگ کے موضع اعوا ن میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ظاہری علوم کا اکتساب باقاعدہ اور روایتی اندز میں نہیں کیا بلکہ زیادہ ترابتدائی تعلیم اپنی والدہ سے حاصل کی ۔ خود ہی ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

”اگرچہ میں ظاہری علوم سے محروم ہوں لیکن علم باطنی نے میری زندگی پاک کر دی ہے۔“

مرشد کی تلاش میں سرگرداں ہوئے تو آپ کی ملاقات شور کوٹ کے نزدیک گڑھ بغداد میں سلسلہ قادر یہ کے ایک بزرگ شاہ حبیب اللہ سے ہوئی۔ اور جب مرید مرشد سے بھی آگے بڑھ گیا تو مرشد نے آپ کو سید عبدالرحمٰن کی جانب رجوع کرنے کا مشور ہ دیا۔ اورنگزیب کے عہد میں آپ سید عبدالرحمٰن سے ملنے دہلی پہنچے مگر معروضی حالات کی بنا پر آپ کے عالمگیر کے ساتھ تضادات پیدا ہو گئے۔ اسی بنا پر آپ دہلی سے واپس چلے گئے اور بقیہ زندگی روحانی ریاضتوں اور لوگوں کو روحانی فیض پہنچانے میں بسر کی۔ آپ دوسرے صوفیا کی طرح محض درویشانہ زندگی نہیں گزارتے تھے بلکہ ایک بڑے خاندان کے سربراہ کی حیثیت سے آپ کی زندگی کا انداز بلاشبہ روایتی صوفیانہ زندگی سے مختلف تھا۔ زندگی کے آخری دنوں میں آپ نے سب کچھ تیاگ دیا تھا۔ آپ کی تصانیف کی طویل فہرست عربی، فارسی اور پنجابی زبانوں پر محیط ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو نہ صرف مروجہ زبانوں پر عبور حاصل تھا بلکہ وہ مذہبی علوم سے بھی کماحقہ فیض یاب ہوتے تھے۔

آپ کی شاعری میں ایک سرور انگیز مقدس آواز کی صورت میں لفظ ” ہو“ کا استعمال آپ کو تمام صوفی شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔ آپ بظاہر فلسفیانہ موشگافیوں سے پرہیز کرتے اور سیدھی سادھی باتیں خطیبانہ انداز میں کہے چلے جاتے، جن کا مطالعہ بلاشبہ ہماری دیہاتی دانش کا مطالعہ ہے۔ آپ کی شاعری سے محسوس ہوتا ہے کہ آپ سلسلہ قادریہ کے دوسرے صوفیا سے مختلف نہیں ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں :

”میں نہ تو جوگی ہوں نہ جنگم ، نہ ہی سجدوں میں جا کر لمبی لمبی عبادتیں کرتا ہوں نہ میں ریاضتیں کرتا ہوں ۔ میرا ایمان محض یہ ہے، جو لمحہ غفلت کا ہے وہ لمحہ محض کفرکا ہے۔جو دم غافل سو دم کافر۔“

حضرت سلطان باہو سرچشمہ علوم و فیوض ہیں، مشہور ہے کہ آپ نے ایک سو چالیس کتابیں تصنیف کیں جن میں سے بہت سی کتابیں امتدادِ زمانہ کے ہاتھوں ناپید ہیں ۔ تاہم اب بھی آپ کی بہت سی کتابیں دستیاب ہیں اور علمائے ظاہر کے مقابلے میں سلطان باہو فقر کا تصور پیش کرتے ہیں جہاں علما لذتِ نفس و دنیا میں مبتلا ہو کر نفس پیروی کرتے ہیں اور لذتِ یادِ الٰہی سے بیگانہ رہتے ہیں ، وہاں فقراء شب و روز یادِ خدا میں غرق ہو کر امر ہو جاتے ہیں۔ آپ کی شاعری میں ترکِ دنیا اور نفس کشی کے خیالات بکثرت ملتے ہیں۔آپ کے نقطہ نظر کے مطابق دین و دنیا دو ایسی متضاد قوتیں ہیں جن کے باہم تفاوت کو حل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ سلطان باہو کا وصال 1691ء  بمطابق اسلامی تاریخ یکم جمادی الثانی 1102ھ میں تریسٹھ سال کی عمرمیں ہوا۔ آپ کا مزار مبارک دریائے چناب کے مغربی کنارے ایک گاؤں جو آپ ہی کے نام سے موسوم ہے اور جھنگ سے پچاس میل دور جنوب کی جانب قصبہ گڑھ مہاراجہ کے نزدیک تحصیل شورکوٹ میں مرجعِ خاص و عام ہے.

اگست 17, 2010 at 05:49 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]