Posts tagged ‘Urdu Pakistan’

مُلا نصیرالدین کی حاضر جوابی

ایک بار بہت برف باری ہو رہی تھی. کافی ٹھنڈ ہو گئی تھی. مُلا نصیرالدین کے دوستوں نے کہا کہ اس سردی میں تو کوئی بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور رات کا کوئی ایک لمحہ بھی باہر نہیں گزار سکتا. مُلا نصیرالدین نے کہا کہ میں رات گھر سےباہر کھلے آسمان کے نیچے گزاروں تو کیا تم میرے سب گھر والوں کی دعوت کرنے کو تیار ہو. سب دوستوں نے کہا کہ مُلا پاگل ہو گیا ہے بھلا ایسی سردی میں کون باہر رات گزار سکتا ہے. دوستوں نے کہا کہ اچھا موقع ہے مُلا اپنے آپ کو ہم سے زیادہ عقلمند سمجھتا ہے. چلو شرط لگا لیتے ہیں بیچارہ اپنی جان کے پیچھے پڑگیا ہے ..مُلا نے کہا کہ اگر میں شرط جیت گیا تو تم سب کو میرے گھر والوں کی دعوت کرنی ہو گی ورنہ میں تم سب کی دعوت کروں گا اگر شرط ہار گیا.

دوستوں نے کہا ہمیں منظور ہے.آخر وہ رات بھی آ گئی ملا قمیض شلوار میں گھر سے باہر جا بیھٹا. سب دوست اسکو ایک بند کمرے کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھ رہے تھے. مُلا ساری رات سردی میں ٹہڑتا رہا آخر کوصبح ہو گئی..اب تو دوست بڑے حیران ہوئے اور کہا کہ ہم نہیں مان سکتے کہ ایسا ہو سکتا ہے. تم زندہ کیسے بچ سکتے ہو اس سردی میں تو ایک پل باہر نہیں رہا جا سکتا اور تم قیمض شلوار میں ساری رات بیھٹے رہے . مُلا نے کہا کہ بھئی تم سب شرط ہار گئے ہو اب بھاگو مت میری دعوت کرو. ایک دوست نے کہا کہ ملا تم جہاں تھے وہاں کوئی گرم چیز تھی کیا یاد کرو ملا نے کہا کہ نہیں کوئی چیز نہیں تھی. اب تم میری دعوت کرو..دوست نے کہا کہ یاد کروآس پاس کوئی ایسی چیز تھی.

ملا نے ذہن پر زور دیا اور کہا کہ ہاں یاد آیا جہاں میں بیھٹا تھا وہاں پر ایک کھڑکی میں موم بتی جل رہی تھی. مگر اتنی سی موم بتی سے کیا ہوتا ہے. اب تو دوستوں کے ہاتھ جیسے ملا کی کمزوری آ گئی. دوستوں نے کہا کہ ہاں جب ہی تو ہم بولیں کہ تم آخر بچ کیسے گئے. اس موم بتی کی گرمی کی وجہ سے تم شرط ہار گئے ہو. مُلا اب تم ھماری دعوت کرو ہم نے کہا تھا کہ تمہارے پاس کوئی گرم چیز نہیں ہو گی. مگر تم ساری رات ایک موم بتی کی گرمی میں زندہ رہے ..ملا سے کوئی جواب نہ بن سکا اگلے دن سب دوست ملا کے گھر دعوت میں جمع ہوئے. مُلا نے کہا کہ بیھٹو یاروں ابھی کھانا پک کر تیار ہو جاتا ہے دوست کافی دیر بیٹھے رہے اور انتظار کرتے رہے مگر کھانا نہیں آیا.

دوستوں نے کہا کہ مُلا ابھی کتنی دیر اور  ہے. مُلا نے کہا کہ بس تھوڑی دیر اور دوستوں نے کچھ دیر اور انتظار کیا جب کھانا نہیں آیا تو دوستوں نے کہا کہ تم ہم سب کو بیوقوف بنا رہے ہو بھلا کھانے میں اتنا ٹائم لگتا ہے. دکھاؤ ہم کو کھانا کہاں بن رہا ہے ہم بھی تو دیکھیں. مُلا سب کو اپنے باورچی خانے میں لے گیا دوستوں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا پیتلا رکھا ہوا ہے اور اس کے نیچے ایک موم بتی جل رہی ہے. دوستوں نے یہ دیکھا تو کہا کہ ابے مُلا کبھی اس موم بتی سے بھی کھانا بنتا ہے. پاگل تو نہیں ہو گیا کیا؟ مُلا نے کہا کہ جب موم بتی سے انسان بچ سکتا ہے تو کھانا نہیں بن سکتا. یہ بات سن کر سب دوست بہت شرمندہ ہوئے اور اگلے دن سب نے مُلا کےگھر والوں کی دعوت کی سب مُلا کی اس حاضر جوابی سے بڑے متاثر ہوئے…..

نومبر 22, 2010 at 08:21 تبصرہ کریں

تعلیم کی اہمیت

رامو ایک دیہاتی شخص تھا۔ شہر کے ایک رئیس کے یہاں گھریلو ملازم تھا وہ پڑھا لکھا بالکل بھی نہیں تھا۔ اپنے گاﺅں اور اپنی بیوی بچے سے دور شہر میں رہتے ہوئے اسے عرصہ بیت گیا تھا۔ اس کا ا یک ہی بیٹا تھا بھولا، جب وہ گاﺅں سے رخصت ہوا تھا تو اس وقت اپنی ماں کی گود میں تھا جب بیٹے کی یاد رامو کو ستانے لگی تو اس نے سوچا کیوں نا بھولا کی ماں کو ایک خط لکھ دے۔ لیکن وہ قلم اور کاغذ لے کر اس پر لکھتا بھی کیا کہ اس نے کبھی اسکول کا منہ تک نہیں دیکھا تھا۔ مجبوراً وہ بڑے مالک کے پاس گیا اور ان سے ایک خط لکھنے کی درخواست کی۔ بڑے مالک خط لکھنے کو تیار ہوگئے۔ اتنے میں ٹیلی فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ فون ان کے دفتر سے تھا، وہ فوراً دفتر چلے گئے اور رامو کا خط ادھورا ہی رہ گیا۔
اس کے بعد رامو چھوٹے مالک کے پاس گیا۔ چھوٹے مالک ورزش کرنے میں مصروف تھے۔ رامو نے اس سے خط لکھنے کی درخواست کی۔چھوٹے مالک کے پاس اتنی فرصت کہا ں کہ وہ ایک نوکر کا کام کرنے کو تیار ہو جاتے۔ انہوں نے فوراً بہانہ تراشتے ہوئے کہا ”تم تو جاتنے وہ رامو کاکا کے مجھے ہندی نہیں آتی ، تم کہو تو انگریزی میں لکھ دوں تمہارا خط! رامو مایوس ہو کر چھوٹی مالکن کے پاس گیا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتا، ، چھوٹی مالکن بول پڑیں” رامو کاکا تم مجھے کوئی کام بتا کر پریشان نہ کرو، ویسے ہی مجھے کالج جانے میں دیر ہوگئی ہے“ بیچارہ رامو خط لکھنے کا ارمان دل میں لیے الٹے پاﺅں لوٹ گیا۔
کچھ دنوں بعد رامو کو ڈاک سے ایک موصول ہوا۔ اس لفافہ کو لے کر سیدھا بڑی مالکن کے پاس جا پہنچا اور اسے پڑھ کر سنانے کی گزارش کی۔ بڑی مالکن نے لفافہ کھولا اور پڑھ کر سنایا۔
Ramu Come soon Maya seriously  Hospitalized اس کامطلب ہندی میں سمجھایا۔
رامو دوسرے دن ہی جب اپنے گاﺅں پہنچا تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ گاﺅں والے مایا کے مردہ جسم کو نذر آتش کرچکے تھے۔ اس کا ننھا بیٹا بھولا اس کے قریب آکر اپنی توتلی زبان میں بڑبڑانے لگتا ہے”باپو….باپو….باپو تم آگئے؟ مائی تو تب (کب) تی چلی گئی۔ اسے تو داﺅں(گاﺅں) والے تندھا پر اٹھا تر لے دیے آر (اور) ڈھیر ساری لتڑی(لکڑی) پر ستاتر آد(آگ) لدادی‘’؟ رامو نے ، بھولا کو بہلاتے ہوئے کہا۔” تمہاری اماں بھگوان کے گھر چلی گئی ہے“تون (کون) بھگوان باپو“؟ وہ میں سمجھا کہ مائی ناناجی کے گھر چلی گئی ہے ایسا کرو نا باپو کہ تم مائی تو(کو) ایت(ایک) چھٹی لکھ دو تو وہ جلد دھر(گھر) چلی آئے گی“ رامو نے لاچاری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ”بھولے توتو جانتا ہے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔ ایک کام کر تو ہی اپنا اماں کو خط لکھ دے‘’ مگر اماں نے تو ہم کو تبھی (کبھی) اسکول بھیجا ہی نہیں تو ہم…….. بھولا کی زبان سے یہ جملہ سنتے ہی رامو کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔ رامو نے اسی وقت تہہہ کرلیا کہ اپنے بیٹے کو اپنے جیسا جاہل نہیں بنانا۔ حالات جوبھی ہوں وہ ہر حال میں اپنے بچے کو پڑھنے کے لیے اسکول ضرور بھیجے گا۔

اکتوبر 25, 2010 at 10:43 2 تبصرہ

آپ کے پیا روں کے لئے بہترین دعا

 

 

اکتوبر 21, 2010 at 11:57 تبصرہ کریں

لیلتہ القدر کی فضیلت

اگست 28, 2010 at 06:38 2 تبصرہ

خلیل جبران کے اقوال

انسان اور فطرت

ایک دن صبح میں بیٹھا فطرت پر غور کر رہا تھا کہ بادِ نسیم کا ہلکا سا جھونکا درختوں سے ہوتا ہوا میرے پاس سے گزر گیا. میں نے اس جھونکے کو ایک بھوے بھٹکے یتیم کی طرح آہیں بھرتے سنا  "اے بادِ نسیم تو کیوں آہیں بھرتی ہے؟” میں نے پوچھا بادِ نسیم نے جواب دیا  "اس لیے کہ میں شہر سے لوٹ کر آئی ہوں. جس کی سڑکیں سورج کی گرمی کی وجہ سے ابھی تک تپ رہی ہیں. محتلف بیماریوں کے جراثیم نرم و نازک پاکیزہ لباس کے ساتھ چمٹ گئے ہیں. کیا تم اب بھی آہیں بھرنے کا طعنہ دیتے ہو؟”.

پھر میں نے پھولوں کے اشک آلود چہروں کی طرف دیکھا وہ آہستہ آہستہ سسکیاں لے رہے تھے.”اے حسین و جمیل پھولوں! تم کیوں روتے ہو؟”  میں نے سوال کیا. ایک پھول نے اپنا نرم و نازک سر اٹھایا اور سرگوشی کے لہجے میں کہنے لگا. "ہم اس لیے روتے ہیں کہ ابھی کوئی شخص ہمیں توڑ کر لے جائے گا اور شہر کی کسی منڈی میں فروخت کر دے گا”.

پھر میں نے ندی کو بیوی کی طرح آہ زاری کرتے سنا جیسے وہ اپنے اکیلے بچے کی موت پر ماتم کر رہی ہو

"اے پاکیزہ ندی بھلا تو کیوں رو رہی ہے”؟ میں نے ہمدردی سے سوال کیا.

یہ سن کر ندی نے کہا "میں اس لیے رو رہی ہوں کہ انسان نے مجھے شہر جانے پر مجبور کر دیا ہے. وہ مجھے گندی نالیوں میں ڈال کر میری پاکیزگی کو ملوث کرتا ہے اور میری صفائی قلب کو نجاست سے گندہ کرتا ہے”.

پھر میں نے پرندوں کو آہیں بھرتے سنا پھر میں نے پوچھا "اے پیارے پرندوں تمہیں کیا دکھ ہے؟ تم کیوں آہیں بھرتے ہوِ اُن میں سے ایک پرندہ اُڑ کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا! "یہ ابن آدم ابھی مسلح ہتھیاروں سے لیس ہو کر میرے اس کھیت میں آئیں گے اور اس طرح ہم پر حملہ آور ہوں گے جیسے ہم سچ مچ ان کے دشمن ہیں ہم اس وقت ایک دوسرے کو الوداع کہہ رہے ہیں کیوں کی ہمیں پتہ نہیں کہ کون شام کو صحیح سلامت گھر لوٹے گا اور کون موت کا شکار ہو گا. ہم جہاں جاتے ہیں موت ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتی”

اب پہاڑوں کے پیچھے سورج طلوع ہو رہا ہے اور درختوں کی چوٹیوں پر اپنی سنہری کرنوں کو بکھیر رہا ہے. میں نے سراپا حُسن کی طرف دیکھا اور کہا "جس چیز کو دست قدرت نے جنم دیا ہے. انسان اُس کو کیوں برباد کر رہا ہے؟”.

حسن

حسن کی بھی اپنی ہی ایک زبان ہوتی ہے. یہ زبان لفظوں اور ہونٹوں کی محتاج نہیں ہوتی. یہ ایک غیر فانی زبان ہے اور کائنات کا ہر انسان اسے سمجھتا ہے. یہ آفاقی زبان جھیل کی مانند ہے جو ہمیشہ خاموش رہتی ہے لیکن گنگناتی اور شور مچاتی ندیوں کواپنی گہرائی میں اتار لیتی ہے اور پھر وہی ازلی اور ابدی سکون چھا جاتا ہے.

ماں کی گود
قادسیہ کی وادی میں جہاں ایک بڑا دریا بہتا ہے دو چھوٹی چھوٹی ندیاں باہم ملنے پر یوں گویا ہوئیں.
پہلی بولی
"کہو سہیلی راستہ کیسے کٹا تمہارا”
دوسری نے کہا.
"بہن میرا راستہ تو بہت ہی خراب تھا. پن چکی کا پہیہ ٹوٹا ہوا تھا اور چکی والا بوڑھا جو راستہ کاٹ کر مجھے اپنے کھیتوں میں لے جایا کرتا تھا مر چکا ہے. میں ہاتھ پاؤں مارتی جو دھوپ میں بیٹھے مکھیاں مارتے رہتے ہیں. ان کے کیچڑ سے پہلو بچاتی آرہی ہوں، مگر تمہاری راہ کیسی تھی؟
پہلی ندی بولی
"میری راہ بلکل مختلف تھی. میں پہاڑوں پر سے اُچکتی ، شرمیلی بیلوں اور معطر پھولوں سے اُلجھتی چلی آرہی ہوں. چاندی کی کٹوریاں بھر بھر کر مرد اور عورتیں میرا پانی پیتے تھے اور چھوٹے چھوٹے بچے اپنے گلابی پاؤں میرے کنارے کھنگالتے تھے. میرے چاروں طرف قہقہے تھے اور رسیلے گیت تھے لیکن افسوس کہ بہن تیرا راستہ خوشگوار نہ تھا.
"چلو جلدی چلو” دریا کی چیخ سنائی دی ، چلو چپ چاپ بڑھتے چلو مجھ میں سما جاؤ. ہم سمندر کی طرف جا رہے ہیں. آؤ میری گود میں پہنچ کر تم اپنی سب کوفت بھول جاؤ گی. خوشی اور غم کے تمام قصے خودبخود محو ہو جائیں گے.
"آؤ کے ہم اپنے راستے کی تمام کلفتیں بھول جائیں گے. سمندر میں اپنی ماں کی گود میں پہنچ کر ہم سب کچھ بھول جائیں گے.”

اگست 24, 2010 at 06:59 1 comment

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad Poetry
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے”
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad Poetry