Posts tagged ‘Urdu Kahaniyan’

ماسی ریشم اور قدرت کا انوکھا انتقام

(جو لوگ غرور اور تکبر کرتے ہوئے رشتوں کا احترام بھول جاتے ہیں، ایسے ہی ایک خاندان کی کہانی جو نہایت عبرتناک ہے)

ماسی ریشم دور کے رشتے میں میری خالہ تھی ۔ا س کی شادی سیالکوٹ کے نواح میں مشہور قصبے کوٹلی بہرام میں ہوئی تھی۔ یہ بات 30-1920 کی ہے ورنہ اب تو کوٹلی بہرام سیالکوٹ کا ایک محلہ بن گیا ہے اور شہر اس سے بہت آگے تک پھیل گیا ہے. ماسی ریشم کی شادی کوٹلی بہرام میں ہوئی ۔ اُس کا خاوند قریب ہی کے گاﺅ ں گودھپور میں زمینداراہ کرتا تھا۔ ان کی ایک بیٹی ہو ئی اور ماسی کا خاوند وفات پا گیا۔ اس طرح ایک خوبصورت طر ح دار لڑکی کو عین جوانی میں بیوگی کے شدید ترین المیے سے دوچار ہو نا پڑا ۔ ماسی ریشم ان پڑھ تھی لیکن بہت تیز طرار اور ذہین تھی اور بہا در بھی ۔ اس کے مرحوم خاوند کے بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ وہ ان میں سے کسی سے شادی کر لے یا پھر اس گھر سے نکل جائے ، مگر وہ کسی دباﺅ میں نہ آئی۔ اس نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا اور خاوند کے حصے کی زمین حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ بعد میں اس نے کوٹلی بہرام کی رہائش گاہ ترک کر دی اور گودھپور میں ایک مختصر سا مکان بنا کر وہاں منتقل ہو گئی ۔

ماسی ریشم کی بیٹی رشیداں جوان ہو گئی تو اس کی شادی اپنے گاﺅں ہی میں ایک نوجوان خادم سے ہو گئی ۔ خادم حسین ایک غریب ، بے سہارا نوجوان تھا اور ڈرائیوری کرتا تھا ۔ ماسی نے اسے اپنے گھر ہی میں ٹھہرا لیا اور اس طر ح دونوں خوش اور مطمئن ہو گئے ۔ ایک تو گھر کے لئے ایک مر د مل گیا ، دوسرا اس کو بیوی کے ساتھ ایک ماں بھی مل گئی اور چھت کا سایہ بھی ۔ لیکن خادم حسین کی بدنصیبی کہ ما سی ریشم اپنی بعض خوبیوں کے باوجود بدمزاج اور مغرور عورت تھی ۔ لحا ظ نام کی کوئی چیز اس میں نہ تھی اور اسے احساس تک نہ ہوتا تھا کہ کسی کی عزت نفس کا پاس کیا جاتا ہے ۔ وہ مخاطب کو کھڑے کھڑے تول کر رکھ دیتی اور اس کی توہین و تذلیل میں کو ئی کسر اٹھا نہ رکھتی ،چنانچہ اپنی عادت سے مجبور ہو کر وہ خادم حسین کو خوب خوب کچوکے لگاتی اور اسے ذلیل و خوار کر کے شاید اسے تسکین ملا کرتی ۔ خادم حسین ایسے مو قعہ پر فریاد طلب نگاہو ں سے اپنی بیوی رشیداں کی طر ف دیکھا کر تا ، لیکن وہ بےنیازی اور بےتکلفی کا انداز اختیار کر کے خاموش رہتی ۔

تنہائی کا موقع ملتا تو ساس کے رویے کی شکایت بھی کرتا ، مگر رشیداں کا مزاج بھی بہت حد تک اپنی اماں سے ملتا جلتا تھا، اکلوتی لا ڈلی ہو نے کی وجہ سے غرور اور بے نیا زی کا عنصر اس میں بھی بد درجہ اتم تھا، چنا چہ اپنی ماں کے خلاف شوہر کی شکایت سن کر وہ برا سا منہ بنا لیتی اور خادم حسین شرمندہ ہو کر چپ ہو جاتا ۔ مزید مصیبت یہ تھی کہ خادم حسین کو رشیداں سے تنہائی کے مواقع بہت کم ملتے تھے ۔ پرانی طرز کا ایک ہی بڑا سا کمرہ تھا جس میں یہ تینو ں افراد رہتے تھے اور ماسی ریشم ایک بے رحم ، بے حس محتسب کی طر ح کڑی نظروں سے دونوں کی نگرانی کرتی تھی ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود رشیداں بی بی نے ایک بیٹے کو جنم دے دیا اوریہ اپنی نو عیت کا پہلا اور آخری حادثہ ثابت ہوا۔ یہی وہ حالات تھے جب خادم حسین بےبس اور پریشان ہو کر ادھر ادھر ہا تھ پاﺅ ں مارنے پر مجبور ہو گیا ۔ وہ بھی خوبصورت تھا، جوان رعنا تھا اور خوش ذوق تھا، چنانچہ اس نے سیالکوٹ شہر ہی میں ایک لڑکی سے تعلقات استوار کر لئے اور اسے اپنی توجہات کا مرکز بنا لیا، چنانچہ اب اس نے ساس کے گھر میں آنا کم کر دیا اور ایک روز سنا کہ خادم حسین نے اس خاتون سے باقاعدہ شادی کرلی۔

خادم حسین کی دوسری شادی کی خبر ماسی ریشم اور اس کی بیٹی پر بجلی بن کر گری ۔ پہلے چند دن تو انہو ں نے خوب واویلا کیا، سینہ کوبی کی ۔ خادم حسین کا ماتم کیا اور پھر اس کا نام آتے ہی وہ زخمی شیرنیو ں کی طر ح غرانے لگتیں اور اس کی سات پشتوں کو بے نقط سنا ڈالتیں لیکن عملاً وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھیں ۔ خادم حسین نے ان کے ہاں آنا جانا بالکل ترک کر دیا تھا ۔ ماسی ریشم اگرچہ نما ز روزے کی پابند تھی ، لیکن وہ ہمیشہ ہی سے قبروں ، درگاہو ں کی پرستار تھی ۔ وہ بڑی ہی باقاعدگی کے ساتھ ہر جمعرات کو امام صاحب کے مزار پر حاضری دیتی (سیالکوٹ میں ایک شہید بزرگ کا مزار) قبر شریف کا طواف کرتی ، حتیٰ کہ سجدے میں گر جاتی تھی ۔ اسی طر ح وقتاً فوقتاً بابل شہید کے قبرستان میں بھی حاضر ہونا اس کے نزدیک گویا فرض واجب تھا ۔ وہا ں بہت سے بزرگوں اور شہیدوں کے مزار ہیں ۔ وہ باری باری سب کے ہا ں حاضر ہوا کرتی اور ان کی خدمت میں اپنی حاجتیں پیش کرتی ۔ خادم حسین کی شادی کا حادثہ پیش آیا تو مقبروں پر دونوں ماں بیٹی کی حاضریو ں کا تناسب کہیں بڑھ گیا ۔

کوئی دن نہ جاتا کہ وہ ارد گرد کی درگاہوں پر حاضر نہ ہوا کرتیں ، کبھی بابا ملو ک شاہ پر ، کبھی منڈیر شریف اور کبھی ہمارے گاﺅں کے قریب نہر کنارے کوﺅں والے سائیں کے پاس۔ راستے میں وہ خادم حسین اور اس کے آباﺅ اجداد کو منہ بھر بھر کے گالیاں دیا کرتیں اور قبر پر جا تے ہی سجدے میں گر جاتیں ۔ قبر کے چکر ضرور لگا تیں اور پائنتی کی طرح کھڑے ہو کر آنسو بہاتیں ۔ یہ ان کا مستقل معمول بن گیا تھا ۔ آخر کا ر ان کی تگ و دو رنگ لائی اور قسمت کا مارا خادم حسین ایک روز اپنی دوسری بیوی کو لیکر گودھپور انکے گھر آ گیا ۔ پتہ نہیں اسے کیا زعم تھا یا وہ کسی خو ش فہمی میں مبتلا تھا۔ بہرحال ان دونو ں کو کمرے میں بٹھا کر ریشم بی بی چپکے سے باہر نکلی اور پڑوس سے ایک قریبی رشتہ دار کو بلا لائی جس نے کمال چابک دستی سے خادم حسین کے ہا تھ باندھے اور پھر ڈنڈوں اور جوتوں سے دونو ں کی وہ ٹھکائی کی کہ خادم کے چودہ طبق روشن ہو گئے ۔

ا س کارِخیر میں اُس کے بارہ سالہ بیٹے عامر نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ وہ زمین پر گرے ہوئے اپنے سگے باپ پر بار بار جو تے برساتا اور اس کی دوسری بیوی پر بھی خو ب خو ب غصہ نکالتا اوراس وقت تو ماسی ریشم اور رشیداں دونو ں قہقہہ لگا کر خو ب ہنسیں جب عامر نے قینچی لیکر اپنی سوتیلی ماں کے بال کا ٹ ڈالے تھے ۔ جسے اسی ریشم نے اپنے نواسے کے کارنامے کے طور پر ایک عرصہ تک کمرے کے ایک کونے میں لٹکا ئے رکھا تھا. بہرحال خادم حسین کی وہ درگت بنی کہ شاید ہی کسی عاشق کی بنی ہوگی ۔ اسے انہو ں نے پانی پلا پلا کے مارا اور جب اس کے لیے اپنے پاﺅں پرکھڑے ہونا محال ہو گیا تو پڑوسی عامر نے سہارا دے کر دونوں میاں بیوی کو سڑک تک پہنچایا اور تانگے پر بٹھا کر سیالکوٹ روانہ کر دیا ۔ غیر معمولی توہین و تذلیل کا یہ عمل خادم حسین کے لئے اتنا سبق آموز ثابت ہوا کہ وہ جلد ہی بیوی اور دو بیٹیو ں کو لیکر کراچی چلا گیا ۔ اس نے سیا لکوٹ کی سکونت کو مستقل طور پر ترک کر دیا اور پھر کبھی واپس لو ٹ کر نہ آیا ۔ اب ماسی ریشم اور رشیداں بی بی کی ساری امیدوں کا واحد مر کز عامر تھا ۔

وہ اسکو ل میں پڑھتا تو تھا لیکن اپنے اکلو تے ہو نے کا بھرپور فائدہ اٹھانا جانتا تھا۔ اسے یہ بھی شعور تھا کہ وہ مستقبل میں اچھی خاصی قیمتی جائیداد کا مالک بنے گا ، اس لئے اس نے آوارگی کا ہر وہ چلن اختیار کر لیا جو اس کے بس میں تھا ، چنانچہ اس نے کم از کم دو اضافی سال میٹرک میں لگائے اور تیسرے سال میں بڑی مشکلو ں سے تیسرے درجے میں امتحان پاس کر لیا اور چونگی محرر کی حیثیت سے ملا زم ہو گیا۔ اس کے لیے اس کی نانی نے خاصی بڑی رقم رشوت میں لگائی تھی ۔

یہ 67-1966 کی بات ہے ۔ اس کی تنخواہ ستر روپے مقرر تھی۔ میں نے اکتوبر 1966ء میں ایم ۔اے کا امتحان دیا تھا اور مجھے فوری طور پر اپنے علا قے ہی میں ایک پرائیوٹ کالج میں لیکچرر شپ مل گئی تھی ۔ میری ڈھائی سو روپے تنخواہ لگی تھی اور میری والدہ نے ایک دن تعجب سے کہا تھا: تم نے سولہ جماعتیں پڑھی ہیں اور ڈھائی سو روپے تنخواہ لے رہے ہو جبکہ ریشم کا نواسہ تنخواہ کے علاوہ روزانہ اپنی ماں کو پچا س روپے لا کر دیتا ہے۔ چنانچہ اس کی بد عنوانی اور غیر ذمہ داری نے اپنا آپ دکھایا اور اسے چھ ہی ماہ کے بعد نوکری سے برطر ف کر دیا گیا ۔ اب ماسی ریشم نے گودھپور والی زمین میں سے کچھ حصہ فروخت کر دیا اور کوٹلی بہرام کے موڑ پر سڑک کے کنا رے اپنے ایک کمرشل پلاٹ پر آٹھ دکا نیں تعمیر کر ڈالیں۔ ان میں سے دو میں عامر نے سٹیشنری اور جنرل سٹور بنا لیا۔ تجا رتی نقطہ نگاہ سے دکا نیں بڑے ہی اچھے ٹھکانے پر تھیں . جہا ں مستقبل میں کاروبار چمکنے کے امکانات بہت روشن تھے ۔

باقی دوکانیں کرائے پر دے دی گئیں اور عامر کی شادی کر دی گئی ۔ اسے عامر کی خوش قسمتی ہی سے تعبیر کرنا چاہئے کہ اس کی بیوی ایک تربیت یافتہ ملازمت پیشہ نرس تھی ۔ وہ سگھڑ اور سمجھ دار بھی تھی ، لیکن عامر نے گویا قسم کھا رکھی تھی کہ وہ عقل سے کام نہیں لے گا اور ہر معاملے میں چھچھورے پن کا مظاہرہ کرے گا، چنانچہ اس نے اردگرد کے گرلز اسکولوں کی استانیوں سے خاص اپنائیت کا تعلق قائم کر لیا اور انہیں دل کھول کر اسٹیشنری کا سامان ادھار پر دیتا رہا ۔ وہ تحفے تحائف دینے میں بھی بڑا فراخ دل واقع ہوا تھا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی دکا نداری بڑی ہی مشکلو ں سے ایک سال تک چلی ، سرمایہ ختم ہو گیا اور اسے کا روبار کا سلسلہ معطل کرنا پڑا ، تاہم وہ چنداں پریشاں نہ تھا ۔ گھر کا نظام دکا نو ں کے کرائے اور بیوی کی نوکری کے سہارے چل رہا تھا۔

مکمل فراغت کا فیضان عامر کو یہ حاصل ہوا کہ وہ یکے بعد دیگرے سات بیٹیوں کا با پ بن گیا ۔ ماسی ریشم اور بہن رشیداں نے سر توڑ کوشش کی ، مختلف مقبروں پر بار بار حاضر ہوئیں ، چادریں چڑھائیں ، منتیں مانیں ، لیکن کسی بزرگ نے بھی مداخلت نہ کی اور عامر کو ایک بھی بیٹا نہ ملا ۔ حد یہ ہوئی کہ اس دوران میں ماسی ریشم نے حج بھی کر لیا ۔ ظاہر ہے کہ وہا ں بھی اس نے سب سے زیا دہ دعائیں عامر کے بیٹے کے لیے ہی کی ہوں گی لیکن افسوس بیل منڈھے نہ چڑھی اور ساتویں بیٹی کے بعد وہ مایوس ہو کر کویت چلا گیا ۔ بدنصیبی کویت میں بھی عامر کے ہم رکاب رہی ۔ اسے و ہا ں گئے ہوئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ایک روز وہ ٹریفک کے ایک حادثے کا شکار ہو گیا۔ وہ سڑک عبور کر رہا تھا کہ ایک تیز رفتار کار نے اسے ٹکر مار دی ۔ اس کی دونوں ٹانگیں کئی جگہ سے ٹوٹ گئیں۔ باقی جسم پر بھی شدید چو ٹیں آئیں اور وہ کئی دن تک ہسپتال میں بےہوش پڑا رہا ۔

جان تو اس کی بچ گئی، مگر تقریباً دو سال تک وہ ہسپتال میں زیر علا ج رہا اور جب بیساکھیو ں کے سہارے چلنے کے قابل ہوا تو پاکستان آ گیا ۔ میں اس کی مزاج پرسی کے لئے چلا گیا ، بڑی قابل رحم تھی حالت اس کی ۔ اس کی بوڑھی نانی اسے اس حال میں نہ دیکھ سکی اور ایک روز یکایک دم توڑ گئی ۔ پتہ چلا کہ اس کے دماغ کی شاہ رگ پھٹ گئی ۔ یہ بڑی عبرت ناک بات ہے کہ میں نے ماسی ریشم اور رشیداں بی بی کے خاندان میں کبھی بھی سکون نہیں دیکھا ۔ وہ ہمیشہ مسائل، مصائب اور امراض میں مبتلا نظر آئیں اور اس کا سبب میرے نزدیک دونو ں ماں بیٹی کی بداخلا قی ، تکبر اور غیر حقیقت پسندانہ اسلوب ِ حیات تھا ۔ دکھ اور پریشانیاں ان پر بارش کی طر ح برستی رہیں ۔ ایک بار پتہ چلا کہ بہن رشیداں کو سر پر شدیدچوٹ لگی ہے اور و ہ اپنے حواس کھو بیٹھی ہے۔ میں اس کی عیادت کے لئے گیا۔ وہ چارپائی پر گم صم بیٹھی تھی اور بٹر بٹر فضا میں گھور رہی تھی۔ میں اس کے قریب بیٹھ گیا ، اس نے مجھے نہیں پہچانا۔ سر کی چو ٹ نے اس کی یادداشت پر گہرا اثر ڈالا تھا ۔

عامر نے بتایا کہ چند روز پہلے وہ پڑوسیوں کے ہاں صحن میں بیٹھی تھی ۔ ان پڑوسیوں کے ہاں جن کی مدد سے اس نے اپنے خاوند کی پٹائی کرائی تھی کہ تیز ہوا چلنے سے چھت سے لکڑی کا ایک تختہ لڑھکا اور رشیداں بی بی کے سر پر آگرا جس سے وہ بے ہوش ہو گئی اور کئی گھنٹوں کے علاج کے بعد ہو ش میں آئی تو اس کا حافظہ جواب دے گیا تھا ۔ ڈھائی تین سال اسی حالت میں مبتلا رہ کر وہ وفات پا گئی ۔ میں تعزیت کے لئے گیا تو عامر نے بتایا کہ اس نے یہاں کی ساری جا ئیداد دکانیں اور مکان بیچ کر اسلام آباد منتقل ہونے کا پروگرام بنا لیا ہے ۔ اس نے دکھ ا ور نفرت کے احساس سے کہا ۔ یہ جگہ انسانو ں کے رہنے کی نہیں ہے ، زندگی کی کوئی سہو لت بھی تو حاصل نہیں ہے یہاں میں چاہتا ہوں کہ میری بیٹیاں اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کریں اور آزادی کے ماحول میں زندگی گزاریں ۔

"لیکن سات بیٹیوں کے ساتھ اپنے آپ کواسلام آباد کے اجنبی ماحول میں کیسے ایڈ جسٹ کریں گے۔ یہا ں آپ کی برادری ہے، خاندان ہے ، حلقہ تعارف ہے ۔ وہا ں یہ سہولتیں میسر نہیں آئیں گی ۔ وہاں آپ کو رشتوں کے حوالے سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ “ میں نے اس کے منصوبے سے اختلاف کیا۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں ۔ عامر کہنے لگا ” لڑکیا ں پڑھ لکھ کر عملی زندگی میں آئیں گی تو خو د ہی مسائل کو حل کر لیں گی ۔ میں انگلی پکڑ کر کب تک ان کی راہنمائی کروں گا “ اور پھر وہا ں امام بری کا مزار بھی تو ہے ، وہ امام صا حب سے بڑی درگاہ ہے۔ “ اور عامر نے واقعی ایسا کر دکھایا ۔ ا س نے دکانیں ، پلاٹ ، زمین سب کچھ بیچ دیا اور اسلام آباد چلا گیا ۔

پتہ نہیں وہاں کس حال میں ہے ؟ یو ں لگتا ہے کہ جس طرح ماسی ریشم اور رشیداں کی قسمت سے انہیں کبھی سکھ کا سانس لینا نصیب نہ ہوا تھا ، اسی طر ح عامر کا مقدر ان جوتو ں سے بندہ گیا ہے جو اس نے اپنے باپ کے سر پر مارے تھے ۔ ایسا لگتا ہے یہ جوتے اسے در بدر کی ٹھوکریں کھا نے پر مجبور کرتے رہیں گے اور وہ ساری عمر ذلت و رسوائی کی جا نب اپنا سفر جاری رکھے گا۔

دسمبر 10, 2010 at 08:56 تبصرہ کریں

مُلا نصیرالدین کی حاضر جوابی

ایک بار بہت برف باری ہو رہی تھی. کافی ٹھنڈ ہو گئی تھی. مُلا نصیرالدین کے دوستوں نے کہا کہ اس سردی میں تو کوئی بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور رات کا کوئی ایک لمحہ بھی باہر نہیں گزار سکتا. مُلا نصیرالدین نے کہا کہ میں رات گھر سےباہر کھلے آسمان کے نیچے گزاروں تو کیا تم میرے سب گھر والوں کی دعوت کرنے کو تیار ہو. سب دوستوں نے کہا کہ مُلا پاگل ہو گیا ہے بھلا ایسی سردی میں کون باہر رات گزار سکتا ہے. دوستوں نے کہا کہ اچھا موقع ہے مُلا اپنے آپ کو ہم سے زیادہ عقلمند سمجھتا ہے. چلو شرط لگا لیتے ہیں بیچارہ اپنی جان کے پیچھے پڑگیا ہے ..مُلا نے کہا کہ اگر میں شرط جیت گیا تو تم سب کو میرے گھر والوں کی دعوت کرنی ہو گی ورنہ میں تم سب کی دعوت کروں گا اگر شرط ہار گیا.

دوستوں نے کہا ہمیں منظور ہے.آخر وہ رات بھی آ گئی ملا قمیض شلوار میں گھر سے باہر جا بیھٹا. سب دوست اسکو ایک بند کمرے کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھ رہے تھے. مُلا ساری رات سردی میں ٹہڑتا رہا آخر کوصبح ہو گئی..اب تو دوست بڑے حیران ہوئے اور کہا کہ ہم نہیں مان سکتے کہ ایسا ہو سکتا ہے. تم زندہ کیسے بچ سکتے ہو اس سردی میں تو ایک پل باہر نہیں رہا جا سکتا اور تم قیمض شلوار میں ساری رات بیھٹے رہے . مُلا نے کہا کہ بھئی تم سب شرط ہار گئے ہو اب بھاگو مت میری دعوت کرو. ایک دوست نے کہا کہ ملا تم جہاں تھے وہاں کوئی گرم چیز تھی کیا یاد کرو ملا نے کہا کہ نہیں کوئی چیز نہیں تھی. اب تم میری دعوت کرو..دوست نے کہا کہ یاد کروآس پاس کوئی ایسی چیز تھی.

ملا نے ذہن پر زور دیا اور کہا کہ ہاں یاد آیا جہاں میں بیھٹا تھا وہاں پر ایک کھڑکی میں موم بتی جل رہی تھی. مگر اتنی سی موم بتی سے کیا ہوتا ہے. اب تو دوستوں کے ہاتھ جیسے ملا کی کمزوری آ گئی. دوستوں نے کہا کہ ہاں جب ہی تو ہم بولیں کہ تم آخر بچ کیسے گئے. اس موم بتی کی گرمی کی وجہ سے تم شرط ہار گئے ہو. مُلا اب تم ھماری دعوت کرو ہم نے کہا تھا کہ تمہارے پاس کوئی گرم چیز نہیں ہو گی. مگر تم ساری رات ایک موم بتی کی گرمی میں زندہ رہے ..ملا سے کوئی جواب نہ بن سکا اگلے دن سب دوست ملا کے گھر دعوت میں جمع ہوئے. مُلا نے کہا کہ بیھٹو یاروں ابھی کھانا پک کر تیار ہو جاتا ہے دوست کافی دیر بیٹھے رہے اور انتظار کرتے رہے مگر کھانا نہیں آیا.

دوستوں نے کہا کہ مُلا ابھی کتنی دیر اور  ہے. مُلا نے کہا کہ بس تھوڑی دیر اور دوستوں نے کچھ دیر اور انتظار کیا جب کھانا نہیں آیا تو دوستوں نے کہا کہ تم ہم سب کو بیوقوف بنا رہے ہو بھلا کھانے میں اتنا ٹائم لگتا ہے. دکھاؤ ہم کو کھانا کہاں بن رہا ہے ہم بھی تو دیکھیں. مُلا سب کو اپنے باورچی خانے میں لے گیا دوستوں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا پیتلا رکھا ہوا ہے اور اس کے نیچے ایک موم بتی جل رہی ہے. دوستوں نے یہ دیکھا تو کہا کہ ابے مُلا کبھی اس موم بتی سے بھی کھانا بنتا ہے. پاگل تو نہیں ہو گیا کیا؟ مُلا نے کہا کہ جب موم بتی سے انسان بچ سکتا ہے تو کھانا نہیں بن سکتا. یہ بات سن کر سب دوست بہت شرمندہ ہوئے اور اگلے دن سب نے مُلا کےگھر والوں کی دعوت کی سب مُلا کی اس حاضر جوابی سے بڑے متاثر ہوئے…..

نومبر 22, 2010 at 08:21 تبصرہ کریں

تعلیم کی اہمیت

رامو ایک دیہاتی شخص تھا۔ شہر کے ایک رئیس کے یہاں گھریلو ملازم تھا وہ پڑھا لکھا بالکل بھی نہیں تھا۔ اپنے گاﺅں اور اپنی بیوی بچے سے دور شہر میں رہتے ہوئے اسے عرصہ بیت گیا تھا۔ اس کا ا یک ہی بیٹا تھا بھولا، جب وہ گاﺅں سے رخصت ہوا تھا تو اس وقت اپنی ماں کی گود میں تھا جب بیٹے کی یاد رامو کو ستانے لگی تو اس نے سوچا کیوں نا بھولا کی ماں کو ایک خط لکھ دے۔ لیکن وہ قلم اور کاغذ لے کر اس پر لکھتا بھی کیا کہ اس نے کبھی اسکول کا منہ تک نہیں دیکھا تھا۔ مجبوراً وہ بڑے مالک کے پاس گیا اور ان سے ایک خط لکھنے کی درخواست کی۔ بڑے مالک خط لکھنے کو تیار ہوگئے۔ اتنے میں ٹیلی فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ فون ان کے دفتر سے تھا، وہ فوراً دفتر چلے گئے اور رامو کا خط ادھورا ہی رہ گیا۔
اس کے بعد رامو چھوٹے مالک کے پاس گیا۔ چھوٹے مالک ورزش کرنے میں مصروف تھے۔ رامو نے اس سے خط لکھنے کی درخواست کی۔چھوٹے مالک کے پاس اتنی فرصت کہا ں کہ وہ ایک نوکر کا کام کرنے کو تیار ہو جاتے۔ انہوں نے فوراً بہانہ تراشتے ہوئے کہا ”تم تو جاتنے وہ رامو کاکا کے مجھے ہندی نہیں آتی ، تم کہو تو انگریزی میں لکھ دوں تمہارا خط! رامو مایوس ہو کر چھوٹی مالکن کے پاس گیا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتا، ، چھوٹی مالکن بول پڑیں” رامو کاکا تم مجھے کوئی کام بتا کر پریشان نہ کرو، ویسے ہی مجھے کالج جانے میں دیر ہوگئی ہے“ بیچارہ رامو خط لکھنے کا ارمان دل میں لیے الٹے پاﺅں لوٹ گیا۔
کچھ دنوں بعد رامو کو ڈاک سے ایک موصول ہوا۔ اس لفافہ کو لے کر سیدھا بڑی مالکن کے پاس جا پہنچا اور اسے پڑھ کر سنانے کی گزارش کی۔ بڑی مالکن نے لفافہ کھولا اور پڑھ کر سنایا۔
Ramu Come soon Maya seriously  Hospitalized اس کامطلب ہندی میں سمجھایا۔
رامو دوسرے دن ہی جب اپنے گاﺅں پہنچا تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ گاﺅں والے مایا کے مردہ جسم کو نذر آتش کرچکے تھے۔ اس کا ننھا بیٹا بھولا اس کے قریب آکر اپنی توتلی زبان میں بڑبڑانے لگتا ہے”باپو….باپو….باپو تم آگئے؟ مائی تو تب (کب) تی چلی گئی۔ اسے تو داﺅں(گاﺅں) والے تندھا پر اٹھا تر لے دیے آر (اور) ڈھیر ساری لتڑی(لکڑی) پر ستاتر آد(آگ) لدادی‘’؟ رامو نے ، بھولا کو بہلاتے ہوئے کہا۔” تمہاری اماں بھگوان کے گھر چلی گئی ہے“تون (کون) بھگوان باپو“؟ وہ میں سمجھا کہ مائی ناناجی کے گھر چلی گئی ہے ایسا کرو نا باپو کہ تم مائی تو(کو) ایت(ایک) چھٹی لکھ دو تو وہ جلد دھر(گھر) چلی آئے گی“ رامو نے لاچاری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ”بھولے توتو جانتا ہے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔ ایک کام کر تو ہی اپنا اماں کو خط لکھ دے‘’ مگر اماں نے تو ہم کو تبھی (کبھی) اسکول بھیجا ہی نہیں تو ہم…….. بھولا کی زبان سے یہ جملہ سنتے ہی رامو کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔ رامو نے اسی وقت تہہہ کرلیا کہ اپنے بیٹے کو اپنے جیسا جاہل نہیں بنانا۔ حالات جوبھی ہوں وہ ہر حال میں اپنے بچے کو پڑھنے کے لیے اسکول ضرور بھیجے گا۔

اکتوبر 25, 2010 at 10:43 2 comments

ابن انشا کے مضامین

کبوتر

کبوتر بڑے کام کا جانور ہے۔یہ آبادیوں میں جنگلوں میں، مولوی اسمٰعیل میرٹھی کی کتاب میں غرض یہ کہ ہر جگہ پایا جاتا ہے ۔کبوتر کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ نیلے کبوتر ۔سفید کبوتر ، نیلے کبوتر کی بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ نیلے رنگ کا ہوتا ہے سفید کبوتر بالعموم سفید ہی ہوتا ہے۔کبوتروں نے تاریخ میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ شہزادہ سلیم نے مسماۃ مہر النساء کو جب کہ وہ ابھی بےبی نورجہان تھیں ۔کبوتر ہی تو پکڑایا تھا جو اس نے اڑا دیا اور پھر ہندوستان کی ملکہ بن گئی۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس سارے قصے میں زیادہ فائدے میں کون رہا؟ شہزادہ سلیم؟ نورجہاں؟ یا وہ کبوتر؟ رعایا کا فائدہ ان دنوں کبھی معرض بحث میں نہ آتا تھا۔ پرانے زمانے کے لوگ عاشقانہ خط و کتابت کے لئے کبوتر ہی استعمال کرتے تھے۔ اس میں بڑی مصلحتیں تھیں۔ بعد میں آدمیوں کو قاصد بنا کر بھیجنے کا رواج ہوا تو بعض اوقات یہ نتیجہ نکلا کہ مکتوب الیہ یعنی محبوب قاصد ہی سے شادی کر کے بقیہ عمر ہنسی خوشی بسر کر دیتا تھا۔چند سال ہوئے ہمارے ملک کی حزب مخالف نے ایک صاحب کو الٹی میٹم دے کر وائی ملک کے پاس بھیجا تھا۔ الٹی میٹم تو راستے میں کہیں رہ گیا۔ دوسرے روز ان صاحب کے وزیر بننے کی خبر اخباروں میں آ گئی۔ کبوتر کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا جاتا تو یہ صورت حال پیش نہ آتی۔

پیاسا کوا

ایک پیاسے کوے کو ایک جگہ پانی کا مٹکا پڑا نظر آیا۔ بہت خوش ہوا لیکن یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ پانی بہت نیچے فقط مٹکے کی تہہ میں تھوڑا سا ہے۔ سوال یہ تھا کہ پانی کو کیسے اوپر لائے اور اپنی چونچ تر کرے۔ اتفاق سے اس نے حکایات لقمان پڑھ رکھی تھی پاس ہی بہت سے کنکر پڑے تھے اس نے اٹھا کر ایک ایک کنکر اس میں ڈالنا شروع کیا۔ کنکر ڈالتے ڈالتے صبح سے شام ہوگئی۔ پیاسا تو تھا ہی نڈھال بھی ہوگیا۔ مٹکے کے اندر نظر ڈالی تو کیا دیکھتا ہے کہ کنکر ہی کنکر ہیں۔ سارا پانی کنکروں نے پی لیا ہے۔ بے اختیار اس کی زبان سے نکلا ہت ترے لقمان کی۔ پھر بے سدھ ہو کر زمین پرگرگیا اور مرگیا۔ اگر وہ کوا کہیں سے ایک نلکی لے آتا تو مٹکے کے منہ پر بیٹھا بیٹھا پانی کو چوس لیتا۔ اپنے دل کی مراد پاتا۔ ہرگز جان سے نہ جاتا۔

اکبر

آپ نے حضرت ملا دو پیازہ اور بیربل کے ملفوظات میں اس بادشاہ کا حال پڑھا ہوگا، راجپوت مصوری کے شاہکاروں میں اس کی تصویر بھی دیکھی ہوگی، ان تحریروں اور تصویروں سے یہ گمان ہوتا ہے، کہ بادشاہ سارا وقت داڑھی گھٹوانے، مونچھیں تراشوائے، اکڑوں بیٹھا پھول سونگھتا رہتا تھا یا لطیفے سنتا رہتا تھا، یہ بات نہیں اور کام بھی کرتا تھا۔ اکبر قسمت کا دھنی تھا، چھوٹا سا تھا کہ باپ بادشاہ ستارے دیکھنے کے شوق میں کوٹھے سے گر کر جاں بحق ہو گیا، اور تاج و تخت اسے مل گیا، ایڈورڈ ہفتم کی طرح چونسٹھ برس ولی عہدی میں نہیں گزارنے پڑے، ویسے اس زمانے میں اتنی لمبی ولی عہدی کا رواج بھی نہ تھا، ولی عہد لوگ جونہی باپ کی عمر کو معقول حد سے تجاوز کرتا دیکھتے تھے اسے قتل کرکے، یا زیادہ رحم دل ہوتے تو قید کرکے، تخت حکومت پر جلوہ افروز ہوجایا کرتے تھے، تاکہ زیادہ سے زیادہ دن رعایا کی خدمت کا حق ادا کر سکیں۔

بابر

بابر شاہ سمر قند سے ہندوستان آیا تھا، تاکہ یہاں خاندان مغلیہ کی بنیاد ڈال سکے، یہ کام تو وہ بحسن و خوبی اپنے وطن میں بھی کرسکتا تھا، البتہ پانی پت کی پہلی لڑائی میں اس کی موجودگی ضروری تھی، یہ نہ ہوتا تو وہ لڑائی ایک طرفہ ہوتی، ایک طرف ابراہیم لودھی ہوتا دوسری طرف کوئی بھی نہ ہوتا، لوگ اس لڑائی کا حال پڑھ پڑھ کر ہنسا کرتے۔ یہ بادشاہ تزک لکھتا تھا، ٹوٹے پھوٹے شعر بھی کہتا تھا، پیشن گوئیاں بھی کرتا تھا، کہ عالم دوبارہ نیست اور دو آدمیوں کو بغل میں داب کر دوڑ بھی لگایا کرتا تھا، ظاہر ہے اتنی مصروفیتوں میں امور مملکت کیلئے کتنا وقت نکل سکتا تھا، شراب بھی پیتا تھا، یاد رہے، اس زمانے کے لوگوں کو مذہبی احکام کو ایسا پاس نہ تھا، جیسا ہمیں ہے، کہ محرم کے عشرہ کے دوران میں شراب کی دوکانیں بند رہتی ہیں، کسی کو پینی ہو تو گھر میں بیٹھ کر پئیے، کابل کو بہت یاد کرتا تھا، وہیں دفن ھوا، اس زمانے میں کابل شہر اتنا گندہ نہیں ہوتا تھا جتنا آجکل ہے۔

بھارت

یہ بھارت ہے، گاندھی جی یہی پیدا ہوئے تھے، لوگ ان کی بڑی عزت کرتے تھے، ان کو مہاتما کہتے تھے، چنانچہ مار کر ان کو یہیں دفن کر دیا اور سمادھی بنا دی، دوسرے ملکوں کے بڑے لوگ آتے ہیں تو اس پر پھول چڑھاتے ہیں، اگر گاندھی جی نہ مرتے یعنی نہ مارے جاتے تو پورے ہندوستان میں عقیدت مندوں کیلئے پھول چڑھانے کی کوئی جگہ نہ تھی، یہی مسئلہ ہمارے یعنی پاکستان والوں کے لئے بھی تھا، ہمیں قائدِ اعظم کا ممنون ہونا چاہئیے کہ خود ہی مرگئے اور سفارتی نمائندوں کے پھول چڑھانے کی ایک جگہ پیدا کردی ورنہ شاید ہمیں بھی ان کو مارنا ہی پڑتا۔ بھارت بڑا امن پسند ملک ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اکثر ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اس کے سیز فائر کے معاہدے ہوچکے ھیں،1965 میں ہمارے ساتھ ہوا اس سے پہلے چین کے ساتھ ہوا۔ بھارت کا مقدس جانورگائے ہے ، بھارتی اس کا دودہ پیتے ہیں، اسی کے گوبر سے چوکا لیپتے ہیں، اور اس کو قصائی کے ہاتھ بیچتے ہیں، اس لئیے کیونکہ وہ خود گائے کو مارنا یا کھانا پاپ سمجھتے ہیں۔

آدمی کو بھارت میں مقدس جانور نہیں گنا جاتا۔ بھارت کے بادشاہوں میں راجہ اشوک اور راجہ نہرو مشہور گزرے ہیں۔ اشوک سے ان کی لاٹ اور دہلی کا شوکا ھوٹل یادگار ہیں، اور نہرو جی کی یادگار مسئلہ کشمیر ہے جو اشوک کی تمام یادگاروں سے زیادہ مظبوط اور پائیدار معلوم ہوتا ہے ۔ راجہ نہرو بڑے دھر ماتما آدمی تھے، صبح سویرے اٹھ کر شیر شک آسن کرتے تھے، یعنی سر نیچے اور پیر اوپر کرکے کھڑے ہوتے تھے، رفتہ رفتہ ان کو ہر معاملے کو الٹا دیکھنے کی عادت ہوگئی تھی، حیدر آباد کے مسئلہ کو انہوں نے رعایا کے نقطہ نظر سے دیکھا۔ یوگ میں طرح طرح کے آسن ہوتے ہیں، نا واقف لوگ ان کو قلابازیاں سمجھتے ہیں، نہرو جی نفاست پسند بھی تھے دن میں دو بار اپنے کپڑے اور قول بدلا کرتے تھے

اگست 16, 2010 at 04:55 1 comment


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]