Posts tagged ‘Urdu Kahani’

تعلیم کی اہمیت

رامو ایک دیہاتی شخص تھا۔ شہر کے ایک رئیس کے یہاں گھریلو ملازم تھا وہ پڑھا لکھا بالکل بھی نہیں تھا۔ اپنے گاﺅں اور اپنی بیوی بچے سے دور شہر میں رہتے ہوئے اسے عرصہ بیت گیا تھا۔ اس کا ا یک ہی بیٹا تھا بھولا، جب وہ گاﺅں سے رخصت ہوا تھا تو اس وقت اپنی ماں کی گود میں تھا جب بیٹے کی یاد رامو کو ستانے لگی تو اس نے سوچا کیوں نا بھولا کی ماں کو ایک خط لکھ دے۔ لیکن وہ قلم اور کاغذ لے کر اس پر لکھتا بھی کیا کہ اس نے کبھی اسکول کا منہ تک نہیں دیکھا تھا۔ مجبوراً وہ بڑے مالک کے پاس گیا اور ان سے ایک خط لکھنے کی درخواست کی۔ بڑے مالک خط لکھنے کو تیار ہوگئے۔ اتنے میں ٹیلی فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ فون ان کے دفتر سے تھا، وہ فوراً دفتر چلے گئے اور رامو کا خط ادھورا ہی رہ گیا۔
اس کے بعد رامو چھوٹے مالک کے پاس گیا۔ چھوٹے مالک ورزش کرنے میں مصروف تھے۔ رامو نے اس سے خط لکھنے کی درخواست کی۔چھوٹے مالک کے پاس اتنی فرصت کہا ں کہ وہ ایک نوکر کا کام کرنے کو تیار ہو جاتے۔ انہوں نے فوراً بہانہ تراشتے ہوئے کہا ”تم تو جاتنے وہ رامو کاکا کے مجھے ہندی نہیں آتی ، تم کہو تو انگریزی میں لکھ دوں تمہارا خط! رامو مایوس ہو کر چھوٹی مالکن کے پاس گیا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتا، ، چھوٹی مالکن بول پڑیں” رامو کاکا تم مجھے کوئی کام بتا کر پریشان نہ کرو، ویسے ہی مجھے کالج جانے میں دیر ہوگئی ہے“ بیچارہ رامو خط لکھنے کا ارمان دل میں لیے الٹے پاﺅں لوٹ گیا۔
کچھ دنوں بعد رامو کو ڈاک سے ایک موصول ہوا۔ اس لفافہ کو لے کر سیدھا بڑی مالکن کے پاس جا پہنچا اور اسے پڑھ کر سنانے کی گزارش کی۔ بڑی مالکن نے لفافہ کھولا اور پڑھ کر سنایا۔
Ramu Come soon Maya seriously  Hospitalized اس کامطلب ہندی میں سمجھایا۔
رامو دوسرے دن ہی جب اپنے گاﺅں پہنچا تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ گاﺅں والے مایا کے مردہ جسم کو نذر آتش کرچکے تھے۔ اس کا ننھا بیٹا بھولا اس کے قریب آکر اپنی توتلی زبان میں بڑبڑانے لگتا ہے”باپو….باپو….باپو تم آگئے؟ مائی تو تب (کب) تی چلی گئی۔ اسے تو داﺅں(گاﺅں) والے تندھا پر اٹھا تر لے دیے آر (اور) ڈھیر ساری لتڑی(لکڑی) پر ستاتر آد(آگ) لدادی‘’؟ رامو نے ، بھولا کو بہلاتے ہوئے کہا۔” تمہاری اماں بھگوان کے گھر چلی گئی ہے“تون (کون) بھگوان باپو“؟ وہ میں سمجھا کہ مائی ناناجی کے گھر چلی گئی ہے ایسا کرو نا باپو کہ تم مائی تو(کو) ایت(ایک) چھٹی لکھ دو تو وہ جلد دھر(گھر) چلی آئے گی“ رامو نے لاچاری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ”بھولے توتو جانتا ہے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔ ایک کام کر تو ہی اپنا اماں کو خط لکھ دے‘’ مگر اماں نے تو ہم کو تبھی (کبھی) اسکول بھیجا ہی نہیں تو ہم…….. بھولا کی زبان سے یہ جملہ سنتے ہی رامو کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔ رامو نے اسی وقت تہہہ کرلیا کہ اپنے بیٹے کو اپنے جیسا جاہل نہیں بنانا۔ حالات جوبھی ہوں وہ ہر حال میں اپنے بچے کو پڑھنے کے لیے اسکول ضرور بھیجے گا۔

اکتوبر 25, 2010 at 10:43 2 تبصرہ

قصہ ایک حکیم کا

حکیم صاحب کھانے یا کھلانے کے معاملے میں حدردجے کنجوس ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ وہ دوسروں کو ان کے اپنے گھروں میں بھی پیٹ بھر کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔ انکے نزدیک ہر مرض کا بلکہ ہر مسئلے کا حل بھوکا رہنا ہے۔ اگر ان کا کوئی دوست کہتا ہے۔
”روئے زمین پر مجھ سے زیادہ چلنے والا کوئی نہیں اورنہ تیز دوڑنے میں مجھ سے زیادہ طاقتور ہے۔“
تو وہ جل بھن کر جواب دیتے ہیں: ”تمہیں اس سے کون روک سکتا ہے ؛ جب کہ تم دس آدمیوں کے برابر کھانا کھاتے ہو۔ انسان کے پاس پیٹ کے سوا اور ہے ہی کیا؟“
اگر کوئی مریض شکایت کرتا ہے: ”بخدا میں چل نہیں سکتا ، کیونکہ میں کمزور ترین آدمی ہوں۔“
تو وہ چیختے ہیں: ”تم کیسے چل سکتے ہو؟ تم نے تو پیٹ میں بیس مزدوروں سے اٹھنے والا بوجھ لاد رکھا ہے۔“
اگر کوئی شخص انکے سامنے داڑھ درد کی شکایت کرتا ہے تو وہ فرماتے ہیں:
”عجیب بات ہے کہ تجھے صرف ایک ہی داڑھ میں تکلیف ہوئی۔ اتنا کھا کھا کر آج تک تیرے منہ میں ایک دانت بھی کس طرح باقی بچا۔ بخدا شامی چکیاں بھی بوجھل ہو جاتی اور موٹے کیل بھی کوٹنے سے گھس جاتے ہیں۔ یہ بیماری تو تجھے قدرے دیر سے لگی ہے۔ بہت پہلے لگ جانی چاہئے تھی۔“
اگر کوئی کہہ دتیا ہے: مجھے تو کبھی داڑھ میں درد محسوس نہیں ہوا۔
تو وہ گویا ہوتے ہیں: ”اے پاگل ! زیادہ چبانا مسوڑھوں کو مضبوط کرتا ہے جس سے دانت سخت ہو جاتے ہیں اور تالو پک جاتے ہیں۔“
اگر کوئی شیخی بھگارتا ہے:”میں سب سے زیادہ پانی پیتا ہوں اور میرا خیال ہے کہ دنیا میں کوئی مجھ سے زیادہ پانی نہیں پیتا ہوگا۔“
تو وہ بھڑک کر کہتے ہیں : ”اگر تم دریائے فرات کا سارا پانی پی لو تو وہ بھی تمہارے لیے کافی نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ تم اس قدر کھانا کھاتے ہو اور بڑے بڑے نوالے لیتے ہو۔ بخدا تم تو کھیلتے ہو۔ تم اپنے بارے میں کسی ایسے شخص سے پوچھو جو تمہیں سچ بتا دے تا کہ تمہیں پتہ چلے کہ دریائے دجلہ کا پانی بھی تمہارے پیٹ کے لئے کہیں کم ہے۔“
اگر کوئی دعویٰ کرتا ہے: آج کے دن میں نے پانی پیاہی نہیں ہے اور کل میںنے آدھا رطل پانی پیا ہے۔ روئے زمین پر کوئی ایک انسان بھی مجھ سے کم پانی پینے والا نہیں ہے۔“
تو وہ ڈانٹ کر کہتے ہیں:”تم پانی پینے کے لئے جگہ ہی نہیں چھوڑتے۔ تعجب ہے کہ تمہیں بدہضمی کیوں نہیں ہوتی۔“
اگرکوئی مریض فریاد کرتا ہے: میں ساری رات سویا نہیں ہوں۔“
تو وہ فرماتے ہیں: تمہیں تمہاری توند، پیٹ کی گیس اور ڈکار کس طرح سونے دیں گے۔“
اگر کوئی سستی کا مارا کہتا ہے: مجھے سر رکھتے ہی نیند آجاتی ہے۔“
تو جواب ملتا ہے: ” یہ اس لئے ہے کہ کھانا سکون دیتا ہے اور سارے بدن کو ڈھیلا کر دیتا ہے۔ سچ پوچھو تو تمہیں دن رات سوئے رہنا چاہئے۔ “
اگرکوئی شکایت کرتا ہے۔
”میں صبح اٹھا تومجھے ذرا بھوک نہیں تھی۔“
تو وہ دھاڑکر بولتے ہیں: ”ارے تمہیں بھوک کس طرح ہو سکتی ہے جب کہ تم کل دس آدمیوں کا کھانا کھا چکے ہو“۔
غرض ان سے جو بات بھی کہی جاتی ہے تو وہ اس کا غصہ پیٹ اور کھانے پر نکالتے ہیں ۔ واہ رے حکیم صاحب واہ۔

اکتوبر 18, 2010 at 11:51 تبصرہ کریں

کر بھلا تو ہو بھلا

کہتے ہیں کہ ایک بڑی سی مرغی نے ایک بڑے سے ٹوکرے میں بہت سی گھاس پھوس اکٹھا کی اور نرم سی گھاس پر بیٹھ کر بہت سے سفید سفید انڈے دیئے اور پھر دن رات ان انڈوں پر بیٹھنا شروع کیا۔ ایک ہفتہ گزرا، دو گزرے، تین گزرے اور کہیں اکیسویں دن یہ انڈے کھٹ کھٹ ٹوٹنا شروع ہوگئے،ہر انڈے سے ایک ننھا منا سا چوزہ نکلا، ان کے چھوٹے چھوٹے پر تھے۔ یہ چوزے نازک تھے، خوبصورت تھے ہر چوزہ روئی کا گالا دکھائی دیتا تھا۔ مرغی خوش تھی پر پریشان بھی تھی ایک انڈا رہ گیا جس سے ابھی کچھ بھی نہ نکلا تھا۔ بے چاری ماں اسے بھی اپنے پروں سے گرمی پہنچا رہی تھی اور پھر ایک دن اس میں سے بھی ایک ایسا ہی بچہ نکلا۔ ایک ننھا منا سا چوزہ، پر اس چوزے کی ایک ہی ٹانگ تھی، ایک ہی آنکھ تھی، یہ چوزہ بےحد شریر تھا۔ ایک دن اپنی ماں سے کہنے لگا۔
اماں میں گھر میں نہیں رہوں گا، میں جارہا ہوں یہاں سے، بادشاہ کا محل دیکھنے کے لئے اور پھر وہاں جا کر بادشاہ سلامت سے بھی ملوں گا۔
مرغی نے کہا ارے میرے پیارے! میرے ننھے لنگٹو ، کیسی باتیں کرتا ہے۔ مجھے ایسی باتوں سے ڈر لگتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو چاہئیے کہ آرام سے گھر پر رہیں اور اپنی ماں کے پروں میں خوب خوب گرم گرم راتیں بسر کریں۔
چوزے نے کہا نہیں میں جارہا ہوں۔
مرغی نے کہا رک جاو، رک جاو، تمہارے لئے آگے جانا مشکل ہوگا۔ چوزے نے کہا مشکل کیوں؟
مرغی نے کہا تمہاری صحت اور تمہارے جسم کی بناوٹ کی وجہ سے تم تھک جاؤ گے۔
چوزے نے کہا جو ڈرتے ہیں وہ آگے بڑھ نہیں سکتے، میں جارہا ہوں، مجھے خوشی خوشی جانے دو۔
مرغی نے کہا کیا یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے
چوزے نے کہا ہاں، خدا حافظ
اور پھر چوزہ اچک اچک کر مسکراتے ہوئے چل پڑا۔ ایک جگہ آگ جل رہی تھی وہ جلتی ہوئی آگ کے قریب آیا، اپنے آپ کو گرم کیا اور جب جانے لگا تو آگ بول اٹھی….
آگ نے کہا میاں لنگڑے ذرا اپنی ننھی سی چونچ سے چند تنکے اٹھا کر لاؤ اور مجھے دے دو تاکہ میں ذرا دیر تک جل سکوں اور اس راستے سے گزرنے والوں کو گرمی دے سکوں۔
چوزے نے کہا نہیں میرے پاس وقت نہیں ہے، میں جلدی میں ہوں۔
آگ نے کہا کیسی جلدی؟ کہاں جانا ہے تم کو۔
چوزے نے کہا بادشاہ سلامت کے پاس، آگ نے کہا تم ہوش میں تو ہو نا۔
چوزے نے کہا ہاں میں جو کہہ رہا ہوں ٹھیک ہی کہہ رہا ہوں۔
آگ نے کہا ذرا لمحہ بھر رکو اور میری مدد کرو
چوزے نے کہا نہیں میں کسی کی مدد نہیں کرتا۔
کچھ اور آگے چل کر چوزے کو ایک چھوٹا سا چشمہ دکھائی دیا، اسے پیاس لگی تھی، پہلے اس نے اپنی پیاس بجھائی، پھر ادھرا دھر دیکھا، چشمے کا پانی راستے کی جانب سرک رہا تھا جس کی وجہ سے چلنا دشوار بن رہا تھا۔ چشمے نے کہا۔
چشمہ:  بجھ گئی پیاس؟ میرا پانی تو بہت ٹھنڈا ہے۔
چوزہ ہاں پیاس تو بجھ گئی۔
چشمے نے کہا میاں لنگڑے! میرا ایک چھوٹا سا کام کرو گے۔
چوزہ: کیا کام ہے؟
چشمےنے کہا دیکھو میرے راستے میں دو چار کنکر پڑے ہیں جن کی وجہ سے پانی سڑک کی طرف جارہا ہے۔ ان کنکروں کو اپنی چونچ سے ہٹادو تاکہ میں آرام سے بہہ سکوں۔
چوزے نے کہا میں یہ کام نہیں کر سکوں گا، مجھے بہت دور جانا ہے، میں بادشاہ کا محل دیکھنے جارہا ہوں….
بھلایہ لنگڑا چوزہ کسی کی بات سنتا ہے، سنی ان سنی کر کے آگے بڑھتا جارہا ہے، شکر ہے کہ اس کی ایک ہی ٹانگ ہے اگر دونوں ٹانگیں ہوتیں تو شاید…. یہ خود ہی بادشاہ سلامت بننے کا اعلان کرتا۔ بہرحال ابھی بادشاہ کا محل دور تھا۔ چلتے چلتے اسے کانٹوں سے بھری ایک جھاڑی ملی۔ جھاڑی کے کانٹوں میں ہوا کا دامن پھنس گیا تھا اور وہ ادھر سے ادھر نکل نکل کر چل رہی تھی، اس نے مرغی کے بچے کو دیکھا تو بولی ”میاں لنگڑے مسافر مجھ پر رحم کر اور مجھے اس جھاڑی سے نکال کر اپنی رحم دلی کا اظہار کر، اس جھاڑی کے کانٹے بڑے تیز ہیں“مگر حسب معمول میاں لنگڑے نے ایک نہ سنی ، اپنا سر ہلایا، اور ہوا سے بھی وہی جلدی کا بہانہ بنا کر آگے چل دیا اور کودتے پھاندتے بادشاہ کے محل پہنچ گیا۔ اس دوران بادشاہ کا باورچی ایک چوزہ پکڑنے نکلا تھا۔ بادشاہ سلامت کے ناشتے کے لئے. اس نے یہاں لنگڑے کو اچکتے دیکھا تو جھٹ سے پکڑ لیا اور دیگچی میں ڈال کر دیگچی کو آگ پر چڑھا دیا، میاں چوزے نے چلا کر کہا….
چوزے نے کہا دہائی ہے، دہائی ہے۔ آگ، بادشاہ سلامت کی دہائی ہے، مجھے مت جلاو
آگ نہیں نہیں میں تمہاری کوئی مدد نہیں کروں گی، جب مجھے تمہاری مدد کی ضرورت پڑی تھی تو تم جلدی میں تھے اور اب مجھے جلدی ہے۔
اتنی دیر میں باورچی لوٹ آیا، اس نے ڈھکن اٹھا کر دیکھا تو اسے چوزہ پسند نہیں آیا کیونکہ اس کی صرف ایک ہی ٹانگ تھی اور اگر بادشاہ سلامت دوسری ٹانگ کے بارے میں پوچھے گا تو وہ کیا جواب دے گا۔ اس کی بات پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔ باورچی نے چوزے کو دیگچی سے نکال کر باہر پھینک دیا، باورچی خانے میں پانی کی ایک نالی تھی، لنگڑا چوزہ اس کے پاس گیا۔
چوزے میاں پانی سے! تمہیں بادلوں کی قسم ذرا مجھے ٹھنڈا کرو، میں بالکل جل گیا ہوں۔
چشمے نے کہا لنگڑے، جب مجھے تمہاری ضرورت تھی تو تم جلدی میں تھے اور میری کوئی مدد نہیں کی حالانکہ اس وقت بھی میں نے تمہاری پیاس بجھائی تھی۔
چوزے نے کہا یہ دیکھو، یہاں سے ہوا چل رہی ہے، مجھے ڈر ہے کہ ہوا کا یہ جھونکا مجھے باہر نہ پھینک دے۔ اے ہوا! میری مدد کر، مجھ پر رحم کھا، میںا س شہر میں اجنبی ہوں، میرا یہاں کوئی نہیں۔
ہوا:  یاد ہے نا، جب میں نے تم سے مدد کے لئے التجا کی تھی اور اب…. مجھ سے مدد چاہتے ہو، اپنے آپ کو عقل مند سمجھتے ہو اور مجھے بے وقوف اور پھر…. ابھی تو تم کو بادشاہ سلامت سے بھی ملنا ہے۔
چوزہ نہیں، میں اب کسی سے ملنا نہیں چاہتا…. مل کر مجھے کیا ملے گا۔
ہوا نے کہا اور میرے پاس بھی وقت نہیں…. میں جارہی ہوں۔
اور یہ کہتے ہوئے ہوا نے زور سے اوپر کا رخ کیا تو میاں چوزہ ایک مینار کی چوٹی پر جا کر اٹک گیا اور ابھی تک وہیں پر لٹکا ہوا ہے اور اب مرغی کا کوئی اور بچہ اگر اس کے پروں سے نکل کر ادھر ادھر چلا جاتا ہے تو وہ دکھیاری مرغی ٹھنڈی سانس بھرتی ہے اور ان سب کو لنگڑے بھائی کی کہانی سناتی ہے۔ اس کی خود غرضی کی کہانی، دوسروں کی مدد نہ کرنے کی داستان، کسی نے سچ کہا ہے…. کر بھلا تو ہوا بھلا۔ تم دوسروںکا بھلا چاہو، دوسرے خود ہی تمہارا بھلا چاہیں گے۔

اکتوبر 7, 2010 at 10:50 1 comment

ابن انشا کے مضامین

کبوتر

کبوتر بڑے کام کا جانور ہے۔یہ آبادیوں میں جنگلوں میں، مولوی اسمٰعیل میرٹھی کی کتاب میں غرض یہ کہ ہر جگہ پایا جاتا ہے ۔کبوتر کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ نیلے کبوتر ۔سفید کبوتر ، نیلے کبوتر کی بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ نیلے رنگ کا ہوتا ہے سفید کبوتر بالعموم سفید ہی ہوتا ہے۔کبوتروں نے تاریخ میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ شہزادہ سلیم نے مسماۃ مہر النساء کو جب کہ وہ ابھی بےبی نورجہان تھیں ۔کبوتر ہی تو پکڑایا تھا جو اس نے اڑا دیا اور پھر ہندوستان کی ملکہ بن گئی۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس سارے قصے میں زیادہ فائدے میں کون رہا؟ شہزادہ سلیم؟ نورجہاں؟ یا وہ کبوتر؟ رعایا کا فائدہ ان دنوں کبھی معرض بحث میں نہ آتا تھا۔ پرانے زمانے کے لوگ عاشقانہ خط و کتابت کے لئے کبوتر ہی استعمال کرتے تھے۔ اس میں بڑی مصلحتیں تھیں۔ بعد میں آدمیوں کو قاصد بنا کر بھیجنے کا رواج ہوا تو بعض اوقات یہ نتیجہ نکلا کہ مکتوب الیہ یعنی محبوب قاصد ہی سے شادی کر کے بقیہ عمر ہنسی خوشی بسر کر دیتا تھا۔چند سال ہوئے ہمارے ملک کی حزب مخالف نے ایک صاحب کو الٹی میٹم دے کر وائی ملک کے پاس بھیجا تھا۔ الٹی میٹم تو راستے میں کہیں رہ گیا۔ دوسرے روز ان صاحب کے وزیر بننے کی خبر اخباروں میں آ گئی۔ کبوتر کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا جاتا تو یہ صورت حال پیش نہ آتی۔

پیاسا کوا

ایک پیاسے کوے کو ایک جگہ پانی کا مٹکا پڑا نظر آیا۔ بہت خوش ہوا لیکن یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ پانی بہت نیچے فقط مٹکے کی تہہ میں تھوڑا سا ہے۔ سوال یہ تھا کہ پانی کو کیسے اوپر لائے اور اپنی چونچ تر کرے۔ اتفاق سے اس نے حکایات لقمان پڑھ رکھی تھی پاس ہی بہت سے کنکر پڑے تھے اس نے اٹھا کر ایک ایک کنکر اس میں ڈالنا شروع کیا۔ کنکر ڈالتے ڈالتے صبح سے شام ہوگئی۔ پیاسا تو تھا ہی نڈھال بھی ہوگیا۔ مٹکے کے اندر نظر ڈالی تو کیا دیکھتا ہے کہ کنکر ہی کنکر ہیں۔ سارا پانی کنکروں نے پی لیا ہے۔ بے اختیار اس کی زبان سے نکلا ہت ترے لقمان کی۔ پھر بے سدھ ہو کر زمین پرگرگیا اور مرگیا۔ اگر وہ کوا کہیں سے ایک نلکی لے آتا تو مٹکے کے منہ پر بیٹھا بیٹھا پانی کو چوس لیتا۔ اپنے دل کی مراد پاتا۔ ہرگز جان سے نہ جاتا۔

اکبر

آپ نے حضرت ملا دو پیازہ اور بیربل کے ملفوظات میں اس بادشاہ کا حال پڑھا ہوگا، راجپوت مصوری کے شاہکاروں میں اس کی تصویر بھی دیکھی ہوگی، ان تحریروں اور تصویروں سے یہ گمان ہوتا ہے، کہ بادشاہ سارا وقت داڑھی گھٹوانے، مونچھیں تراشوائے، اکڑوں بیٹھا پھول سونگھتا رہتا تھا یا لطیفے سنتا رہتا تھا، یہ بات نہیں اور کام بھی کرتا تھا۔ اکبر قسمت کا دھنی تھا، چھوٹا سا تھا کہ باپ بادشاہ ستارے دیکھنے کے شوق میں کوٹھے سے گر کر جاں بحق ہو گیا، اور تاج و تخت اسے مل گیا، ایڈورڈ ہفتم کی طرح چونسٹھ برس ولی عہدی میں نہیں گزارنے پڑے، ویسے اس زمانے میں اتنی لمبی ولی عہدی کا رواج بھی نہ تھا، ولی عہد لوگ جونہی باپ کی عمر کو معقول حد سے تجاوز کرتا دیکھتے تھے اسے قتل کرکے، یا زیادہ رحم دل ہوتے تو قید کرکے، تخت حکومت پر جلوہ افروز ہوجایا کرتے تھے، تاکہ زیادہ سے زیادہ دن رعایا کی خدمت کا حق ادا کر سکیں۔

بابر

بابر شاہ سمر قند سے ہندوستان آیا تھا، تاکہ یہاں خاندان مغلیہ کی بنیاد ڈال سکے، یہ کام تو وہ بحسن و خوبی اپنے وطن میں بھی کرسکتا تھا، البتہ پانی پت کی پہلی لڑائی میں اس کی موجودگی ضروری تھی، یہ نہ ہوتا تو وہ لڑائی ایک طرفہ ہوتی، ایک طرف ابراہیم لودھی ہوتا دوسری طرف کوئی بھی نہ ہوتا، لوگ اس لڑائی کا حال پڑھ پڑھ کر ہنسا کرتے۔ یہ بادشاہ تزک لکھتا تھا، ٹوٹے پھوٹے شعر بھی کہتا تھا، پیشن گوئیاں بھی کرتا تھا، کہ عالم دوبارہ نیست اور دو آدمیوں کو بغل میں داب کر دوڑ بھی لگایا کرتا تھا، ظاہر ہے اتنی مصروفیتوں میں امور مملکت کیلئے کتنا وقت نکل سکتا تھا، شراب بھی پیتا تھا، یاد رہے، اس زمانے کے لوگوں کو مذہبی احکام کو ایسا پاس نہ تھا، جیسا ہمیں ہے، کہ محرم کے عشرہ کے دوران میں شراب کی دوکانیں بند رہتی ہیں، کسی کو پینی ہو تو گھر میں بیٹھ کر پئیے، کابل کو بہت یاد کرتا تھا، وہیں دفن ھوا، اس زمانے میں کابل شہر اتنا گندہ نہیں ہوتا تھا جتنا آجکل ہے۔

بھارت

یہ بھارت ہے، گاندھی جی یہی پیدا ہوئے تھے، لوگ ان کی بڑی عزت کرتے تھے، ان کو مہاتما کہتے تھے، چنانچہ مار کر ان کو یہیں دفن کر دیا اور سمادھی بنا دی، دوسرے ملکوں کے بڑے لوگ آتے ہیں تو اس پر پھول چڑھاتے ہیں، اگر گاندھی جی نہ مرتے یعنی نہ مارے جاتے تو پورے ہندوستان میں عقیدت مندوں کیلئے پھول چڑھانے کی کوئی جگہ نہ تھی، یہی مسئلہ ہمارے یعنی پاکستان والوں کے لئے بھی تھا، ہمیں قائدِ اعظم کا ممنون ہونا چاہئیے کہ خود ہی مرگئے اور سفارتی نمائندوں کے پھول چڑھانے کی ایک جگہ پیدا کردی ورنہ شاید ہمیں بھی ان کو مارنا ہی پڑتا۔ بھارت بڑا امن پسند ملک ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اکثر ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اس کے سیز فائر کے معاہدے ہوچکے ھیں،1965 میں ہمارے ساتھ ہوا اس سے پہلے چین کے ساتھ ہوا۔ بھارت کا مقدس جانورگائے ہے ، بھارتی اس کا دودہ پیتے ہیں، اسی کے گوبر سے چوکا لیپتے ہیں، اور اس کو قصائی کے ہاتھ بیچتے ہیں، اس لئیے کیونکہ وہ خود گائے کو مارنا یا کھانا پاپ سمجھتے ہیں۔

آدمی کو بھارت میں مقدس جانور نہیں گنا جاتا۔ بھارت کے بادشاہوں میں راجہ اشوک اور راجہ نہرو مشہور گزرے ہیں۔ اشوک سے ان کی لاٹ اور دہلی کا شوکا ھوٹل یادگار ہیں، اور نہرو جی کی یادگار مسئلہ کشمیر ہے جو اشوک کی تمام یادگاروں سے زیادہ مظبوط اور پائیدار معلوم ہوتا ہے ۔ راجہ نہرو بڑے دھر ماتما آدمی تھے، صبح سویرے اٹھ کر شیر شک آسن کرتے تھے، یعنی سر نیچے اور پیر اوپر کرکے کھڑے ہوتے تھے، رفتہ رفتہ ان کو ہر معاملے کو الٹا دیکھنے کی عادت ہوگئی تھی، حیدر آباد کے مسئلہ کو انہوں نے رعایا کے نقطہ نظر سے دیکھا۔ یوگ میں طرح طرح کے آسن ہوتے ہیں، نا واقف لوگ ان کو قلابازیاں سمجھتے ہیں، نہرو جی نفاست پسند بھی تھے دن میں دو بار اپنے کپڑے اور قول بدلا کرتے تھے

اگست 16, 2010 at 04:55 1 comment

Newer Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad Poetry
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے”
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad Poetry