Posts tagged ‘Urdu Kahani’

ایک گونگا تین بہرے

ایک بہرا جنگل میں بکریاں چرا رہا تھا اسے سخت بھوک لگ رہی تھی، مگر اس کی بیوی اب تک کھانا لے کر نہیں آئی تھی اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا آدمی بیٹھا گھاس کاٹ رہا تھا وہ شخص بھی بہرا تھا پہلے بہرے شخص نے کہا بھائی، میری بیوی میرے لیے کھانا نہیں لائی مجھے بھوک لگ رہی ہے، آپ میری بکریوں کی حفاظت کریں میں جب تک گھر سے کھانا کھا آتا ہوں۔
دوسرا بہرا سمجھا کہ یہ مجھے اپنی بکریوں کے لیے گھاس مانگ رہا ہے اس نے کہا، نہیں میں گھاس نہیں دوں گا۔
پہلا بولا۔ میں بہت جلد واپس آجاؤں گا، تم فکر نہ کرو۔
دوسرا بولا، یہ گھاس میں نے اپنی بکریوں کے لیے کاٹی ہے۔ میں یہ گھاس تمہیں نہیں دوں گا۔
پہلا سمجھا کہ دوسرا کہہ رہا ہے، تم جاؤ، وہ چلا گیا، جب وہ کھانا کھا کر واپس آیا تو اس نے اپنی بکریں دیکھیں جو پوری تھیں اور وہ آدمی بدستور گھاس کاٹ رہا تھا۔ اس نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر یہ چاہتا تو میری ساری بکریاں لے جاتا  مگر شریف آدمی لگتا ہے کیوں نہ میں اسے اپنی لنگڑی بکری تحفے میں دے دوں۔ وہ اپنی لنگڑی بکرے لے کر اس آدمی کے پاس گیا اور کہا، تم نے میری بکریوں کی حفاظت کی ہے اس لیے میں یہ بکری تمہیں تحفے میں دیتا ہوں لیکن یہ بکری لنگڑی ہے۔
دوسرے بہرے نے کہا۔ میں نے اس بکری کی ٹانگ نہیں توڑی۔
پہلا بولا۔ میں یہ بکری تمہیں خوشی سے دے رہا ہوں لے لو۔
دوسرا بہرا بولا۔میں نے تمہاری بکری کی ٹانگ نہیں توڑی۔ اسی دوران سامنے سے ایک شخص آتا دکھائی دیا وہ شخص بھی بہرا تھا دونوں بہروں نے اسے روکا، تیسرا بہرا شخص گھوڑے سے اتر آیا۔
پہلے بہرے نے کہا۔ میں اسے یہ بکرے دے رہا ہوں مگر یہ نہیں لے رہا ہے۔
دوسرا بہرا بولا۔ اس بکری کی ٹانگ میں نے نہیں توڑی۔
تیسرا شخص بولا۔ ہاں تم دونوں ٹھیک کہہ رہے ہو، یہ گھوڑا میں نے چوری کیا ہے میں یہ تمہیں واپس دیتا ہوں مجھے معاف کردو۔ انہوں نے سامنے سے ایک لمبی سفید داڑھی والے بوڑھے کو آتے دیکھا تو تینوں اس کے پاس گئے۔
پہلا بولا۔ باباجی، میں کھانا کھانے گیا اس نے میری بکریوں کی حفاظت کی، اس لیے میں اسے اپنی ایک بکرے دے رہا ہوں مگر یہ نہیں لے رہا ہے۔
دوسرا بہرا بولا۔ میں نے اس سے کہہ دیا کہ میں نے بکری کی ٹانگ نہیں توڑی مگر یہ مانتا ہی نہیں۔
تیسرا بہرا بولا۔ میں مانتا ہوں کہ میں نے چوری کی ہے اور یہ گھوڑا تمہارا ہے لیکن آپ لوگ مجھے معاف کردیں میں آئندہ چوری نہیں کروں گا۔ بوڑھا شخص تینوں کو غور سے دیکھنے لگا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، انہیں گھور کر دیکھنے لگا، وہ سمجھے یہ کوئی جادوگر ہے، جو ان پر جادو کرنا چاہتا ہے، وہ تینوں اپنی اپنی چیزیں لے کر بھاگ گئے۔

مارچ 11, 2011 at 06:46 تبصرہ کریں

عقل مند گدھا

جنگل کے بادشاہ ببر شیر نے چشمے کے کنارے والی چٹان کے نیچے گھنی جھاڑیوں سے جھانک کر دور تک پھیلے دھان کے لہلہاتے کھیت پر نظر ڈالی، بہت دور ایک درخت کے نیچے کوئی چیز ہلتی ہوئی نظر آرہی تھی، شہر نے پنجوں سے آنکھیں ملتے ہوئے دوبارہ اس طرف دیکھا، یقینا وہ کالا ہرن تھا، شیر رات سے بھوکا تھا۔ کالے ہرن کے لذیز گوشت کے تصور ہی سے اس کے منہ میں پانی آگیا اور ایک ماہر شکاری کی مانند جھاڑیوں کی آڑ لیتے ہوئے اس نے ہرن کی طرف قدم بڑھائے….
دوسری طرف بانسوں کے جھنڈ میں ایک چیتا بھی ہرن پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ بھوک سے اس کے پیٹ میں بھی چوہے دوڑ رہے تھے۔ چیتے نے بھی ہرن کی طرف بڑھنا شروع کیا۔
ہرن دونوں طرف سے بڑھتے ہوئے خطروں سے بے خبر نرم نرم گھاس کھانے میں مشغول تھا. کبھی کبھی وہ اپنی بادام جیسی آنکھیں گھما کر ادھر ادھر دیکھتا اور پھر گھاس کھانے لگتا۔ جانور خطرے کی بو سونگھ لیتے ہیں۔ ہرن کی بے چین آنکھی ظاہر کر رہی تھیں کہ اس نے خطرے کی بو سونگھ لی ہے۔ اس نے کان کھڑے کر کے گردن گھما کر چشمے کی طرف دیکھا جہاں میدان میں دو ریچھ کے بچے کھیل رہے تھے، ابھی ہرن پہاڑ کی طرف رخ کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ مشرق اور جنوب سے شیر اور چیتے نے جھاڑیوں سے چھلانگیں لگائیں اور دونوں تیر کی طرح ہرن کی طرف لپکے، ہرن لمبی لمبی قلانچیں مارتا ہوا پہاڑوں کی طرف بھاگا۔
شیر اور چیتے کی رفتار کے مقابلے میں ہرن کی رفتار کم تھی، لیکن وہ اپنے ہلکے اور سڈول جسم کی وجہ سے ان دونوں کو غچہ دیتے ہوئے بھاگ رہا تھا، اس بھاگ دوڑ میں ان تینوں نے میلوں کا فاصلہ طے کر لیا، آخر کار ہرن ایک چٹان پر چڑھ گیا، جو اتنی اونچی تھی کہ اس پر شیر اور چیتا نہیں چڑھ سکتے تھے، شیر اور چیتا چٹان کے نیچے زبانیں نکالے ہانپ رہے تھے اور ہرن کو للچائی نظروں سے دیکھ رہے تھے، جب سانسیں درست ہوئیں تو شیر نے کہا۔ ”یہ میرا شکار ہے پہلے میں نے تاکا تھا“۔
چیتے نے غصے سے جواب دیا۔ ”آپ جنگل کے بادشاہ ضرور ہیں لیکن یہ جنگل ہے انسانوں کی دنیا نہیں کہ بادشاہ جو چاہے کرے، جانور اپنے حقوق کی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں۔ یہ میرا شکار ہے“۔
شیر دہاڑا: ”انسان ہو یا جانور‘ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہر جگہ چلتا ہے میں تم سے زیادہ طاقتور ہوں“۔
شیر اور چیتے کی تکرار سن کر ہرن نے اطمینان کا سانس لیا اور کہا ”میرے محترم بادشاہ ہو! یہ میری خوش نصیبی ہوگی کہ میں آپ جیسے شاہی خاندار کے افراد کی غذا بنوں، لیکن پہلے آاپ دونوں طے کر لیں کہ آپ میں سے کون میرا لذیذ گوشت نوش فرمائے گا“۔
شیر اور چیتا دوبارہ تکرار کرنے لگے، اسی دوران ادھر سے ایک گدھے کا گزر ہوا تو ہرن نے جھٹ سے مشورہ دیا ”میرے خیال سے آپ دونوں اس سلسلے میں گدھے صاحب سے مشورہ لے لیں، کیوں کہ مشورہ دینے کے لیے عقلمند ہونا ضروری نہیں“۔
شیر نے کہا ”چلو مجھے منظور ہے، وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے“۔
چیتے نے گدھے کو حکم دیا ”گدھے کے بچے! ادھر آﺅ….“
گدھا پہلے تو ڈرا کہ کہیں یہ دونوں اسے ہی ہڑپ نہ کر لیں، پھر ڈرتے ڈرتے دانت نکالتا ہوا ان کے قریب آیا اور جب اس نے پورا قصہ سنا تو خوشی سے مشورہ دیا ”ہاں تو شیر صاحب آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ نے ہرن پر پہلے نظرِ بد ڈالی جب کہ چیتے صاحب کا دعویٰ ہے کہ ہرن کو دیکھ کر پہلے ان کی رال ٹپکی، کیوں کہ یہاں کوئی گواہ نہیں ہے اس لیے میرا مشورہ ہے کہ آپ دونوں اپنی اپنی جگہ تشریف لے جائیں اور جب میں رینکنا شروع کروں تو آپ دونوں دوڑنا شروع کر دیں جو بھی پہلے یہاں پہنچ جائے گا وہی ہرن میاں کو نوش فرمانے کا حق دار ہو گا“۔
شیر اور چیتا بھوک سے بے تاب تھے، لیکن دونوں کو اپنی تیز رفتاری پر ناز تھا اس لیے انہوں نے گدھے کی تجویز مان لی اور یہ طے ہوا کہ دونوں اپنی اپنی جگہ لوٹ جائیں گے اور اس دوران ہرن صاحب چٹان سے اتر کر نہا دھو کر ان میں سے ایک کی خوراک بننے کے لیے میدان میں کھڑے ہو جائیں گے اور جیسے ہی گدھے صاحب اپنی بے سری آواز میں رینکنا شروع کردیں گے، دوڑ شروع ہوجائے گی۔
شیر اور چیتا اپنی اپنی جگہ واپس چلے گئے، جب کافی دیر تک گدھے کے رینکنے کی آواز نہ آئی تو دونوں کا ماتھا ٹھنکا، پہلے تو انہوں نے ایک دوسرے کو گھورا، پھر چٹان کی طرف دوڑنا شروع کیا، جب وہ چٹان کے نزدیک پہنچے تو دیکھا وہاں چاروں طرف ویرانی اور سناٹا تھا۔ ہرن کا کہیں پتا نہ تھا اور گدھے کے سر سے سینگ ہی نہیں پورا گدھا غائب تھا۔
شیر نے غصہ سے چیخ کر کہا۔ ”اس گدھے کے بچے نے ہمیں دھوکا دیا“۔
چیتے نے سر جھکا کر افسوس سے کہا۔ ”شیر صاحب! گدھا وہ نہیں ہم دونوں ہیں“۔

مارچ 7, 2011 at 07:20 تبصرہ کریں

جیسے کو تیسا

ایک بڑھیا تھی۔ وہ بڑھیا اپنا سارا گہنا پاتا پہن کر کہیں جا رہی تھی۔  گہنا کیا تھا؟ یہی کانوں میں جھمکے تھے۔ باہوں میں گنگن تھے اور گلے میں ہار تھا۔ مگر یہ سارے زیور تھے سونے کے۔ بے چاری بڑھیا کے پیچھے دو ٹھگ لگ گئے۔ دونوں بڑے چال باز، مکار اور عیار تھے۔ دونوں آپس میں گہرے دوست تھے۔ دونوں چاہتے تھے کہ بڑھیا سے سارے کا سارا زیور ہتھیا لیں۔ لیکن بڑھیا نے بھی اپنے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے تھے، وہ ٹھگ تو ٹھگ تھے ہی…. یہ بڑھیا ان کی بھی نانی تھی۔
ایک ٹھگ نے آگے بڑھ کر علیک سلیک کے بعد پوچھا کہ بڑی اماں کہاں جا رہی ہو؟
بیٹا! شہر جا رہی ہوں بڑھیا نے جواب دیا۔
پھر تو خوب ساتھ ہوا۔ بڑی اماں ہم بھی تو شہر ہی جارہے ہیں۔ دوسرا ٹھگ بولا۔
ہاں بیٹا! اچھا ہوگیا۔ بڑھیا نے کہا۔
تھوڑی دور چلنے کے بعد ایک ٹھگ بولا۔
بڑی اماں کوئی کہانی ہی سناﺅ جس سے سفر کی تھکان معلوم نہ ہو اور وقت بھی جلد کٹ جائے۔
بیٹا! میں بھلا کون سی کہانی سناﺅں؟ تم ہی کچھ کہو۔
ہم سنائیں۔ دوسرا ٹھگ بولا۔ مگر بڑی اماں ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ اگر تم نے ہماری کہانی کو جھوٹ کہا تو ہم تمہارے کنگن اتار لیں گے۔ بڑھیا نے ان کی یہ شرط مان لی اور ایک ٹھگ کہانی سنانے لگا۔
بڑی اماں! ہماری ایک گائے تھی۔ بڑی خوب صورت موٹی موٹی آنکھیں تھیں اس کی۔ لمبے لمبے کان تھے۔ دودھ اتنا دیتی تھی کہ ہم دوہتے دوہتے تھک جاتے تھے لیکن دودھ پھر بھی ختم نہ ہوتا تھا۔ اس میں خاص بات یہ تھی کہ اگر ہم اس کے داہنے سینگ پر بیٹھ جاتے تو مغرب میں پہنچ جاتے اور جب بائیں پر بیٹھتے تو مشرق میں آجاتے۔
پاکستان بننے پر جب ہم قافلے کے ساتھ پاکستان آرہے تھے تو ہم پر فسادیوں نے حملہ کر دیا۔ ایک سنسناتی ہوئی گولی آئی اور ہماری گائے کو لگی جس سے بے چاری وہیں ڈھیر ہو گئی۔
بڑا افسوس ہوا۔ بڑھیا نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
بڑی اماں! اب تم کچھ سناﺅ۔ ٹھگ نے تیر نشانے پر نہ لگتے دیکھ کر کہا۔
میں سناﺅں؟ بڑھیا نے کہا۔ اگر تم نے میری بات کو غلط جانا تو تمہیں ایک سو روپیہ دینا پڑے گا۔
ٹھگو نے کہا۔ ہمیں منظور ہے۔
تو پھر سنو بیٹوں! جب میری شادی ہوئی تو میرے والد نے ایک بیل بھی مجھے جہیز میں دیا۔ بڑا اچھا بیل تھا۔ کسی کو کچھ نہ کہتا تھا، ایک دفعہ یوں ہی باہر کھیت میں کوئی دوسرا بیل اس سے لڑ پڑا۔ ایسا لڑا کہ ہمارے بیل کے ماتھے پر اچھا خاصا زخم ہو گیا ہم نے بہیترے علاج کرائے لیکن زخم نہ بھر سکا…. کرنا خدا کا یوں ہوا کہ بنولے کا دانہ اس کے زخم میں کہیں سے گر گیا۔ ہوتے ہوتے وہ اچھا خاصا پودا بن گیا۔ اس میں ایسی نفیس کپاس لگی کہ تمہیں کیا بتاﺅں، وہ کپاس ہم نے جمع کرنی شروع کر دی۔ اتنی کپاس جمع ہو گئی کہ اب گھر میں جگہ نہ رہی، گھر گھر ہمارے بیل کے چرچے ہونے لگے، بڑی بڑی دور سے لوگ اس انوکھے بیل کو دیکھنے کے لیے آتے۔ اس کی کپاس کو دیکھتے اور تعریفوں کے پل باندھ دیتے۔ اب ہمارے پاس اتنی زیادہ کپاس ہو گئی کہ سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ ہم نے اسے بیلوا کر کاٹنا شروع کیا اور اس کا کپڑا لتا بنانے لگے، کئی قسم کے کپڑے بنوائے، جن میں کھیس بھی تھے، ان کھیسوں میں سے دو کھیس کہیں چوری ہو گئے۔ بیٹا! خدا جھوٹ نہ بلوائے، یہ کھیس جو تم اوڑھے ہوئے ہو، وہی ہیں جو چوری ہوئے تھے۔ مہربانی کر کے یہ کھیس اتار دو۔
دونوں ٹھگوں نے اپنے کھیس بڑھیا کو دے دیے اور کرتے بھی کیا۔ شرط جو تھی۔ مجبور تھے۔
ہاں تو بیٹا! بڑھیا نے پھر کہانی کا سلسلہ شروع کیا۔ ہم نے اس کپاس میں سے ململ کے تھان بنوائے۔ ململ کے تھانوں میں سے ایک تھان گم ہو گیا۔ یہ جو تمہاری پگڑیاں ہیں، اسی تھان کی ہیں، یہ بھی اتاردو۔
انہوں نے پگڑیاں بھی اتار دیں۔ نہ اتارتے تو شرط کے مطابق سو روپیہ دیتے۔
اب شہر نزدیک ہی تھا۔ ایک ٹھگ بولا۔ بڑی اماں! بھوک لگ رہی ہے۔
اچھا بیٹا! شہر آیا ہی سمجھو۔ مجھے اپنے کنگن بیچنے ہیں۔ کنگن بیچ لیں اور پھر آرام سے کسی جگہ بیٹھ کر کھانا کھائیں گے۔
وہ خاموش ہو گئے اور سوچنے لگے کہ بڑھیا کنگن بیچ لے پھر کوئی داﺅ چلائیں گے۔ وہ بڑھیا کے ساتھ چلتے ہوئے اپنی دماغی سڑکوں پر تدبیروں کے گھوڑے دوڑانے لگے۔
اب وہ شہر میں پہنچ گئے تھے۔ ہر طرف خوب چہل پہل تھی۔ کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ بڑھیا نے اپنے کنگن اتار لیے اور ان سے کہنے لگی:
بیٹا! سنار کی دکان آ گئی ہے۔ تم یہاں بیٹھو میں اپنے کنگن بیچ لوں۔
وہ سنار کی دکان کے قریب ہی بیٹھ گئے اور بڑھیا سنار کی دکان پر پہنچ گئی۔
کیا چاہیے اماں تمہیں؟ سنار نے پوچھا۔
میں اپنے دو نوکر بیچنا چاہتی ہوں وہ سامنے بیٹھے ہیں۔
نوکروں کی تو ہمیں بہت ضرورت ہے۔
سنار نے کہا۔ بولو اماں! کیا قیمت ہے ان دونوں کی؟
تین سو روپے۔ بڑھیا نے کہا اور بات دو سو روپے پر طے ہو گئی۔
میں نوکروں سے پوچھ لوں کہ ان میں سے ایک بکنا چاہتا ہے یا دونوں؟ بڑھیا نے کہا اور پھر بلند آواز سے پوچھنے لگی۔ بیٹا! ایک بیچوں یا دونوں؟
ادھر سے جواب ملا۔ اماں! دونوں بیچ دے۔ ایک کو کہاں رکھے گی؟
بڑھیا نے دو سو روپوں میں دونوں ٹھگوں کو سنار کے ہاتھ بیچ دیا اور ان کے پاس آ کر کہنے لگی۔ بیٹا! تم یہیں بیٹھو۔ میں تمہارے لیے کھانا لے کر آتی ہوں۔
کچھ مٹھائی بھی لیتی آنا اماں! دونوں نے کہا اور بڑھیا اچھی بات کہہ کر نو دو گیارہ ہو گئی۔
تھوڑی دیر بعد سنار نے انہیں بلایا اور دریاں جھاڑنے کا حکم دیا تو ان کو حقیقت معلوم ہوئی اور انہوں نے کہا۔
ارے وہ تو ہماری بھی نانی نکلی۔

فروری 24, 2011 at 05:55 تبصرہ کریں

لوہار اور عورت

ایک نیک و پرہیزگار شخص مصر پہنچا ۔ وہاں اس نے ایک لوہار کودیکھا وہ اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر سرخ اور دہکتا ہوا لوہا آگ کی بھٹی سے باہر نکال رہا ہے مگرآگ  کی حرارت و گرمی کا اس پر کوئي اثر نہيں تھا ۔ اس شخص نے اپنے دل میں کہا کہ :یہ توکوئي بہت ہی پہنچا ہوا اور پرہیزگار آدمی معلوم ہوتا ہے۔ وہ اس لوہار کے پاس گيا سلام کیا اورکہنے لگا :تمہيں قسم ہے اس خداکی جس نے تمہیں یہ کرامت عطا کی ہے میرے حق میں کوئی دعا کر دو ۔ لوہار نے جیسے ہی یہ باتیں سنیں اس پر گریہ طاری ہوگیا اور کہنے لگا : میرے بارے میں جوتم سوچ رہے ہو ویسا نہيں ہے میں نہ تو کوئی متقی ہوں اور نہ ہی صالحین میں میرا شمار ہوتا ہے ۔ آنے والے شخص نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟
اس طرح کا کام اللہ کے نیک بندوں کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا ؟
اس نے جواب دیا ٹھیک کہتے ہو مگر میرے ساتھ اس کی کچھ اور وجہ ہے آنے والے شخص نے جب زیادہ اصرار کیا تو لوہار نے کہا : ایک دن میں اسی دوکان میں کام کر رہا تھا ، ایک بہت ہی حسین و خوش اندام عورت کہ اس سے پہلے اتنی خوبصورت عورت کہیں نہیں دیکھی تھی میرے پاس آئي اور کہنے لگی کہ میں بہت ہی غریب و مفلس ہوں ۔ میں اس کودیکھتے ہی اس کا عاشق ہو گیا اوراس کے حسن میں گرفتار ہو گیا میں نے اس سے کہا کہ اگر تو میرے ساتھ ہم بستر ہو جائے تو میں تیری ہر ضرورت پوری کردوں گا ۔ یہ سن کر اس عورت کا پورا جسم لرز اٹھا اوراس پرایک بہت ہی عجیب وغریب کیفیت طاری ہو گئی کہنے لگی :
اے مرد خداسے ڈر میں اس قماش کی عورت نہیں ہوں ۔ اس کے جواب میں میں نے کہا  تو ٹھیک  ہے اٹھ اور یہاں سے کہیں اور کا راستہ دیکھ ۔ وہ عورت چلی گئی مگر تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ دوبارہ واپس آئی اورکہنے لگی غربت تنگدستی مجھے مارے ڈال رہی ہے اوراسی چیز نے مجھے مجبورکر دیا ہے کہ تیری خواہش پر ہاں ، بھر لوں ۔
میں نے دوکان بند کی اوراس کولے کراپنے گھر پہنچا جب میں گھر کے کمرےمیں داخل ہوا تو میں کمرے کےدروازے کواندر سے تالا لگانے لگا
عورت نے پوچھا  : کیوں تالا لگارہے ہو یہاں توکو‏ئی بھی نہيں ہے ؟ میں نے جواب دیا کہيں کوئي آ نہ جائے اورپھر میری عزت چلی جائے ۔ عورت نے کہا : اگرایسا ہے توخدا سے کیوں نہيں ڈرتے ؟
جب میں اس کے جسم کے قریب ہوا تو دیکھا کہ اس کا جسم اس طرح سے لرز رہا تھا جیسے باد بہاری کی زد میں آکر بید کے خشک پتے ہلتے رہتے ہیں ۔اوراس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگي ہوئي تھی ،
میں نے اس سے کہا کہ تو یہاں کس سے ڈر رہی ہے ؟ اس نے کہا اس وقت خدا ہم دونوں کو دیکھ رہا ہے تو میں کیونکر خوف نہ کھاؤں ۔ اس  عورت نے بہت ہی گڑگڑا کر کہا :
اے مرد اگر تو مجھے چھوڑدے تو میں وعدہ کرتی ہوں کہ خداوند عالم تیرے جسم کودنیا وآخرت دونوں جہان میں آگ کے شعلوں میں نہيں جلائے گا ۔ اس کی التجا اور چہرے پربہتے ہوئے آنسو مجھ پر اثر کر گئے میں نے اپنا ارادہ  ترک کر دیا اور اس کی جوضرورت تھی وہ بھی پوری کردی یوں وہ عورت خوشی خوشی اپنے گھر لوٹ گئي ۔
اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ خاتون جن کے سر پر یاقوت کا چمکتا ہوا تاج ہے مجھ سے کہہ رہی ہیں : اللہ تمہيں جزائے خیر دے ،میں نے پوچھا آپ کون ہيں ؟ بزرگ خاتون نے کہا کہ میں اسی ضرورت مند اور محتاج لڑکی کی ماں ہوں کہ جس کی غربت کھینچ کر اسے تمہارے پاس لائی تھی لیکن خوف خدا کی وجہ سے تم نے اسے چھوڑ دیا اب میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ دنیا وآخرت میں تمہیں آگ سے محفوظ رکھے ۔
میں نے ان بزرگ خاتون سے پوچھا آپ کا تعلق کس گھرانے سے ہے اس نے جواب دیا کہ میرا شجرہ نسب رسول خدا کے گھرانے سے ملتا ہے یہ سن کر میں نے ان بزرگ خاتون کا بے پناہ شکریہ ادا کیا ۔اس دن کے بعد سے آگ  کی تپش اور حرارت مجھ میں کوئي اثر نہيں کرتی ۔

فروری 17, 2011 at 07:38 تبصرہ کریں

ماسی ریشم اور قدرت کا انوکھا انتقام

(جو لوگ غرور اور تکبر کرتے ہوئے رشتوں کا احترام بھول جاتے ہیں، ایسے ہی ایک خاندان کی کہانی جو نہایت عبرتناک ہے)

ماسی ریشم دور کے رشتے میں میری خالہ تھی ۔ا س کی شادی سیالکوٹ کے نواح میں مشہور قصبے کوٹلی بہرام میں ہوئی تھی۔ یہ بات 30-1920 کی ہے ورنہ اب تو کوٹلی بہرام سیالکوٹ کا ایک محلہ بن گیا ہے اور شہر اس سے بہت آگے تک پھیل گیا ہے. ماسی ریشم کی شادی کوٹلی بہرام میں ہوئی ۔ اُس کا خاوند قریب ہی کے گاﺅ ں گودھپور میں زمینداراہ کرتا تھا۔ ان کی ایک بیٹی ہو ئی اور ماسی کا خاوند وفات پا گیا۔ اس طرح ایک خوبصورت طر ح دار لڑکی کو عین جوانی میں بیوگی کے شدید ترین المیے سے دوچار ہو نا پڑا ۔ ماسی ریشم ان پڑھ تھی لیکن بہت تیز طرار اور ذہین تھی اور بہا در بھی ۔ اس کے مرحوم خاوند کے بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ وہ ان میں سے کسی سے شادی کر لے یا پھر اس گھر سے نکل جائے ، مگر وہ کسی دباﺅ میں نہ آئی۔ اس نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا اور خاوند کے حصے کی زمین حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ بعد میں اس نے کوٹلی بہرام کی رہائش گاہ ترک کر دی اور گودھپور میں ایک مختصر سا مکان بنا کر وہاں منتقل ہو گئی ۔

ماسی ریشم کی بیٹی رشیداں جوان ہو گئی تو اس کی شادی اپنے گاﺅں ہی میں ایک نوجوان خادم سے ہو گئی ۔ خادم حسین ایک غریب ، بے سہارا نوجوان تھا اور ڈرائیوری کرتا تھا ۔ ماسی نے اسے اپنے گھر ہی میں ٹھہرا لیا اور اس طر ح دونوں خوش اور مطمئن ہو گئے ۔ ایک تو گھر کے لئے ایک مر د مل گیا ، دوسرا اس کو بیوی کے ساتھ ایک ماں بھی مل گئی اور چھت کا سایہ بھی ۔ لیکن خادم حسین کی بدنصیبی کہ ما سی ریشم اپنی بعض خوبیوں کے باوجود بدمزاج اور مغرور عورت تھی ۔ لحا ظ نام کی کوئی چیز اس میں نہ تھی اور اسے احساس تک نہ ہوتا تھا کہ کسی کی عزت نفس کا پاس کیا جاتا ہے ۔ وہ مخاطب کو کھڑے کھڑے تول کر رکھ دیتی اور اس کی توہین و تذلیل میں کو ئی کسر اٹھا نہ رکھتی ،چنانچہ اپنی عادت سے مجبور ہو کر وہ خادم حسین کو خوب خوب کچوکے لگاتی اور اسے ذلیل و خوار کر کے شاید اسے تسکین ملا کرتی ۔ خادم حسین ایسے مو قعہ پر فریاد طلب نگاہو ں سے اپنی بیوی رشیداں کی طر ف دیکھا کر تا ، لیکن وہ بےنیازی اور بےتکلفی کا انداز اختیار کر کے خاموش رہتی ۔

تنہائی کا موقع ملتا تو ساس کے رویے کی شکایت بھی کرتا ، مگر رشیداں کا مزاج بھی بہت حد تک اپنی اماں سے ملتا جلتا تھا، اکلوتی لا ڈلی ہو نے کی وجہ سے غرور اور بے نیا زی کا عنصر اس میں بھی بد درجہ اتم تھا، چنا چہ اپنی ماں کے خلاف شوہر کی شکایت سن کر وہ برا سا منہ بنا لیتی اور خادم حسین شرمندہ ہو کر چپ ہو جاتا ۔ مزید مصیبت یہ تھی کہ خادم حسین کو رشیداں سے تنہائی کے مواقع بہت کم ملتے تھے ۔ پرانی طرز کا ایک ہی بڑا سا کمرہ تھا جس میں یہ تینو ں افراد رہتے تھے اور ماسی ریشم ایک بے رحم ، بے حس محتسب کی طر ح کڑی نظروں سے دونوں کی نگرانی کرتی تھی ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود رشیداں بی بی نے ایک بیٹے کو جنم دے دیا اوریہ اپنی نو عیت کا پہلا اور آخری حادثہ ثابت ہوا۔ یہی وہ حالات تھے جب خادم حسین بےبس اور پریشان ہو کر ادھر ادھر ہا تھ پاﺅ ں مارنے پر مجبور ہو گیا ۔ وہ بھی خوبصورت تھا، جوان رعنا تھا اور خوش ذوق تھا، چنانچہ اس نے سیالکوٹ شہر ہی میں ایک لڑکی سے تعلقات استوار کر لئے اور اسے اپنی توجہات کا مرکز بنا لیا، چنانچہ اب اس نے ساس کے گھر میں آنا کم کر دیا اور ایک روز سنا کہ خادم حسین نے اس خاتون سے باقاعدہ شادی کرلی۔

خادم حسین کی دوسری شادی کی خبر ماسی ریشم اور اس کی بیٹی پر بجلی بن کر گری ۔ پہلے چند دن تو انہو ں نے خوب واویلا کیا، سینہ کوبی کی ۔ خادم حسین کا ماتم کیا اور پھر اس کا نام آتے ہی وہ زخمی شیرنیو ں کی طر ح غرانے لگتیں اور اس کی سات پشتوں کو بے نقط سنا ڈالتیں لیکن عملاً وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھیں ۔ خادم حسین نے ان کے ہاں آنا جانا بالکل ترک کر دیا تھا ۔ ماسی ریشم اگرچہ نما ز روزے کی پابند تھی ، لیکن وہ ہمیشہ ہی سے قبروں ، درگاہو ں کی پرستار تھی ۔ وہ بڑی ہی باقاعدگی کے ساتھ ہر جمعرات کو امام صاحب کے مزار پر حاضری دیتی (سیالکوٹ میں ایک شہید بزرگ کا مزار) قبر شریف کا طواف کرتی ، حتیٰ کہ سجدے میں گر جاتی تھی ۔ اسی طر ح وقتاً فوقتاً بابل شہید کے قبرستان میں بھی حاضر ہونا اس کے نزدیک گویا فرض واجب تھا ۔ وہا ں بہت سے بزرگوں اور شہیدوں کے مزار ہیں ۔ وہ باری باری سب کے ہا ں حاضر ہوا کرتی اور ان کی خدمت میں اپنی حاجتیں پیش کرتی ۔ خادم حسین کی شادی کا حادثہ پیش آیا تو مقبروں پر دونوں ماں بیٹی کی حاضریو ں کا تناسب کہیں بڑھ گیا ۔

کوئی دن نہ جاتا کہ وہ ارد گرد کی درگاہوں پر حاضر نہ ہوا کرتیں ، کبھی بابا ملو ک شاہ پر ، کبھی منڈیر شریف اور کبھی ہمارے گاﺅں کے قریب نہر کنارے کوﺅں والے سائیں کے پاس۔ راستے میں وہ خادم حسین اور اس کے آباﺅ اجداد کو منہ بھر بھر کے گالیاں دیا کرتیں اور قبر پر جا تے ہی سجدے میں گر جاتیں ۔ قبر کے چکر ضرور لگا تیں اور پائنتی کی طرح کھڑے ہو کر آنسو بہاتیں ۔ یہ ان کا مستقل معمول بن گیا تھا ۔ آخر کا ر ان کی تگ و دو رنگ لائی اور قسمت کا مارا خادم حسین ایک روز اپنی دوسری بیوی کو لیکر گودھپور انکے گھر آ گیا ۔ پتہ نہیں اسے کیا زعم تھا یا وہ کسی خو ش فہمی میں مبتلا تھا۔ بہرحال ان دونو ں کو کمرے میں بٹھا کر ریشم بی بی چپکے سے باہر نکلی اور پڑوس سے ایک قریبی رشتہ دار کو بلا لائی جس نے کمال چابک دستی سے خادم حسین کے ہا تھ باندھے اور پھر ڈنڈوں اور جوتوں سے دونو ں کی وہ ٹھکائی کی کہ خادم کے چودہ طبق روشن ہو گئے ۔

ا س کارِخیر میں اُس کے بارہ سالہ بیٹے عامر نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ وہ زمین پر گرے ہوئے اپنے سگے باپ پر بار بار جو تے برساتا اور اس کی دوسری بیوی پر بھی خو ب خو ب غصہ نکالتا اوراس وقت تو ماسی ریشم اور رشیداں دونو ں قہقہہ لگا کر خو ب ہنسیں جب عامر نے قینچی لیکر اپنی سوتیلی ماں کے بال کا ٹ ڈالے تھے ۔ جسے اسی ریشم نے اپنے نواسے کے کارنامے کے طور پر ایک عرصہ تک کمرے کے ایک کونے میں لٹکا ئے رکھا تھا. بہرحال خادم حسین کی وہ درگت بنی کہ شاید ہی کسی عاشق کی بنی ہوگی ۔ اسے انہو ں نے پانی پلا پلا کے مارا اور جب اس کے لیے اپنے پاﺅں پرکھڑے ہونا محال ہو گیا تو پڑوسی عامر نے سہارا دے کر دونوں میاں بیوی کو سڑک تک پہنچایا اور تانگے پر بٹھا کر سیالکوٹ روانہ کر دیا ۔ غیر معمولی توہین و تذلیل کا یہ عمل خادم حسین کے لئے اتنا سبق آموز ثابت ہوا کہ وہ جلد ہی بیوی اور دو بیٹیو ں کو لیکر کراچی چلا گیا ۔ اس نے سیا لکوٹ کی سکونت کو مستقل طور پر ترک کر دیا اور پھر کبھی واپس لو ٹ کر نہ آیا ۔ اب ماسی ریشم اور رشیداں بی بی کی ساری امیدوں کا واحد مر کز عامر تھا ۔

وہ اسکو ل میں پڑھتا تو تھا لیکن اپنے اکلو تے ہو نے کا بھرپور فائدہ اٹھانا جانتا تھا۔ اسے یہ بھی شعور تھا کہ وہ مستقبل میں اچھی خاصی قیمتی جائیداد کا مالک بنے گا ، اس لئے اس نے آوارگی کا ہر وہ چلن اختیار کر لیا جو اس کے بس میں تھا ، چنانچہ اس نے کم از کم دو اضافی سال میٹرک میں لگائے اور تیسرے سال میں بڑی مشکلو ں سے تیسرے درجے میں امتحان پاس کر لیا اور چونگی محرر کی حیثیت سے ملا زم ہو گیا۔ اس کے لیے اس کی نانی نے خاصی بڑی رقم رشوت میں لگائی تھی ۔

یہ 67-1966 کی بات ہے ۔ اس کی تنخواہ ستر روپے مقرر تھی۔ میں نے اکتوبر 1966ء میں ایم ۔اے کا امتحان دیا تھا اور مجھے فوری طور پر اپنے علا قے ہی میں ایک پرائیوٹ کالج میں لیکچرر شپ مل گئی تھی ۔ میری ڈھائی سو روپے تنخواہ لگی تھی اور میری والدہ نے ایک دن تعجب سے کہا تھا: تم نے سولہ جماعتیں پڑھی ہیں اور ڈھائی سو روپے تنخواہ لے رہے ہو جبکہ ریشم کا نواسہ تنخواہ کے علاوہ روزانہ اپنی ماں کو پچا س روپے لا کر دیتا ہے۔ چنانچہ اس کی بد عنوانی اور غیر ذمہ داری نے اپنا آپ دکھایا اور اسے چھ ہی ماہ کے بعد نوکری سے برطر ف کر دیا گیا ۔ اب ماسی ریشم نے گودھپور والی زمین میں سے کچھ حصہ فروخت کر دیا اور کوٹلی بہرام کے موڑ پر سڑک کے کنا رے اپنے ایک کمرشل پلاٹ پر آٹھ دکا نیں تعمیر کر ڈالیں۔ ان میں سے دو میں عامر نے سٹیشنری اور جنرل سٹور بنا لیا۔ تجا رتی نقطہ نگاہ سے دکا نیں بڑے ہی اچھے ٹھکانے پر تھیں . جہا ں مستقبل میں کاروبار چمکنے کے امکانات بہت روشن تھے ۔

باقی دوکانیں کرائے پر دے دی گئیں اور عامر کی شادی کر دی گئی ۔ اسے عامر کی خوش قسمتی ہی سے تعبیر کرنا چاہئے کہ اس کی بیوی ایک تربیت یافتہ ملازمت پیشہ نرس تھی ۔ وہ سگھڑ اور سمجھ دار بھی تھی ، لیکن عامر نے گویا قسم کھا رکھی تھی کہ وہ عقل سے کام نہیں لے گا اور ہر معاملے میں چھچھورے پن کا مظاہرہ کرے گا، چنانچہ اس نے اردگرد کے گرلز اسکولوں کی استانیوں سے خاص اپنائیت کا تعلق قائم کر لیا اور انہیں دل کھول کر اسٹیشنری کا سامان ادھار پر دیتا رہا ۔ وہ تحفے تحائف دینے میں بھی بڑا فراخ دل واقع ہوا تھا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی دکا نداری بڑی ہی مشکلو ں سے ایک سال تک چلی ، سرمایہ ختم ہو گیا اور اسے کا روبار کا سلسلہ معطل کرنا پڑا ، تاہم وہ چنداں پریشاں نہ تھا ۔ گھر کا نظام دکا نو ں کے کرائے اور بیوی کی نوکری کے سہارے چل رہا تھا۔

مکمل فراغت کا فیضان عامر کو یہ حاصل ہوا کہ وہ یکے بعد دیگرے سات بیٹیوں کا با پ بن گیا ۔ ماسی ریشم اور بہن رشیداں نے سر توڑ کوشش کی ، مختلف مقبروں پر بار بار حاضر ہوئیں ، چادریں چڑھائیں ، منتیں مانیں ، لیکن کسی بزرگ نے بھی مداخلت نہ کی اور عامر کو ایک بھی بیٹا نہ ملا ۔ حد یہ ہوئی کہ اس دوران میں ماسی ریشم نے حج بھی کر لیا ۔ ظاہر ہے کہ وہا ں بھی اس نے سب سے زیا دہ دعائیں عامر کے بیٹے کے لیے ہی کی ہوں گی لیکن افسوس بیل منڈھے نہ چڑھی اور ساتویں بیٹی کے بعد وہ مایوس ہو کر کویت چلا گیا ۔ بدنصیبی کویت میں بھی عامر کے ہم رکاب رہی ۔ اسے و ہا ں گئے ہوئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ایک روز وہ ٹریفک کے ایک حادثے کا شکار ہو گیا۔ وہ سڑک عبور کر رہا تھا کہ ایک تیز رفتار کار نے اسے ٹکر مار دی ۔ اس کی دونوں ٹانگیں کئی جگہ سے ٹوٹ گئیں۔ باقی جسم پر بھی شدید چو ٹیں آئیں اور وہ کئی دن تک ہسپتال میں بےہوش پڑا رہا ۔

جان تو اس کی بچ گئی، مگر تقریباً دو سال تک وہ ہسپتال میں زیر علا ج رہا اور جب بیساکھیو ں کے سہارے چلنے کے قابل ہوا تو پاکستان آ گیا ۔ میں اس کی مزاج پرسی کے لئے چلا گیا ، بڑی قابل رحم تھی حالت اس کی ۔ اس کی بوڑھی نانی اسے اس حال میں نہ دیکھ سکی اور ایک روز یکایک دم توڑ گئی ۔ پتہ چلا کہ اس کے دماغ کی شاہ رگ پھٹ گئی ۔ یہ بڑی عبرت ناک بات ہے کہ میں نے ماسی ریشم اور رشیداں بی بی کے خاندان میں کبھی بھی سکون نہیں دیکھا ۔ وہ ہمیشہ مسائل، مصائب اور امراض میں مبتلا نظر آئیں اور اس کا سبب میرے نزدیک دونو ں ماں بیٹی کی بداخلا قی ، تکبر اور غیر حقیقت پسندانہ اسلوب ِ حیات تھا ۔ دکھ اور پریشانیاں ان پر بارش کی طر ح برستی رہیں ۔ ایک بار پتہ چلا کہ بہن رشیداں کو سر پر شدیدچوٹ لگی ہے اور و ہ اپنے حواس کھو بیٹھی ہے۔ میں اس کی عیادت کے لئے گیا۔ وہ چارپائی پر گم صم بیٹھی تھی اور بٹر بٹر فضا میں گھور رہی تھی۔ میں اس کے قریب بیٹھ گیا ، اس نے مجھے نہیں پہچانا۔ سر کی چو ٹ نے اس کی یادداشت پر گہرا اثر ڈالا تھا ۔

عامر نے بتایا کہ چند روز پہلے وہ پڑوسیوں کے ہاں صحن میں بیٹھی تھی ۔ ان پڑوسیوں کے ہاں جن کی مدد سے اس نے اپنے خاوند کی پٹائی کرائی تھی کہ تیز ہوا چلنے سے چھت سے لکڑی کا ایک تختہ لڑھکا اور رشیداں بی بی کے سر پر آگرا جس سے وہ بے ہوش ہو گئی اور کئی گھنٹوں کے علاج کے بعد ہو ش میں آئی تو اس کا حافظہ جواب دے گیا تھا ۔ ڈھائی تین سال اسی حالت میں مبتلا رہ کر وہ وفات پا گئی ۔ میں تعزیت کے لئے گیا تو عامر نے بتایا کہ اس نے یہاں کی ساری جا ئیداد دکانیں اور مکان بیچ کر اسلام آباد منتقل ہونے کا پروگرام بنا لیا ہے ۔ اس نے دکھ ا ور نفرت کے احساس سے کہا ۔ یہ جگہ انسانو ں کے رہنے کی نہیں ہے ، زندگی کی کوئی سہو لت بھی تو حاصل نہیں ہے یہاں میں چاہتا ہوں کہ میری بیٹیاں اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کریں اور آزادی کے ماحول میں زندگی گزاریں ۔

"لیکن سات بیٹیوں کے ساتھ اپنے آپ کواسلام آباد کے اجنبی ماحول میں کیسے ایڈ جسٹ کریں گے۔ یہا ں آپ کی برادری ہے، خاندان ہے ، حلقہ تعارف ہے ۔ وہا ں یہ سہولتیں میسر نہیں آئیں گی ۔ وہاں آپ کو رشتوں کے حوالے سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ “ میں نے اس کے منصوبے سے اختلاف کیا۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں ۔ عامر کہنے لگا ” لڑکیا ں پڑھ لکھ کر عملی زندگی میں آئیں گی تو خو د ہی مسائل کو حل کر لیں گی ۔ میں انگلی پکڑ کر کب تک ان کی راہنمائی کروں گا “ اور پھر وہا ں امام بری کا مزار بھی تو ہے ، وہ امام صا حب سے بڑی درگاہ ہے۔ “ اور عامر نے واقعی ایسا کر دکھایا ۔ ا س نے دکانیں ، پلاٹ ، زمین سب کچھ بیچ دیا اور اسلام آباد چلا گیا ۔

پتہ نہیں وہاں کس حال میں ہے ؟ یو ں لگتا ہے کہ جس طرح ماسی ریشم اور رشیداں کی قسمت سے انہیں کبھی سکھ کا سانس لینا نصیب نہ ہوا تھا ، اسی طر ح عامر کا مقدر ان جوتو ں سے بندہ گیا ہے جو اس نے اپنے باپ کے سر پر مارے تھے ۔ ایسا لگتا ہے یہ جوتے اسے در بدر کی ٹھوکریں کھا نے پر مجبور کرتے رہیں گے اور وہ ساری عمر ذلت و رسوائی کی جا نب اپنا سفر جاری رکھے گا۔

دسمبر 10, 2010 at 08:56 تبصرہ کریں

مُلا نصیرالدین کی حاضر جوابی

ایک بار بہت برف باری ہو رہی تھی. کافی ٹھنڈ ہو گئی تھی. مُلا نصیرالدین کے دوستوں نے کہا کہ اس سردی میں تو کوئی بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور رات کا کوئی ایک لمحہ بھی باہر نہیں گزار سکتا. مُلا نصیرالدین نے کہا کہ میں رات گھر سےباہر کھلے آسمان کے نیچے گزاروں تو کیا تم میرے سب گھر والوں کی دعوت کرنے کو تیار ہو. سب دوستوں نے کہا کہ مُلا پاگل ہو گیا ہے بھلا ایسی سردی میں کون باہر رات گزار سکتا ہے. دوستوں نے کہا کہ اچھا موقع ہے مُلا اپنے آپ کو ہم سے زیادہ عقلمند سمجھتا ہے. چلو شرط لگا لیتے ہیں بیچارہ اپنی جان کے پیچھے پڑگیا ہے ..مُلا نے کہا کہ اگر میں شرط جیت گیا تو تم سب کو میرے گھر والوں کی دعوت کرنی ہو گی ورنہ میں تم سب کی دعوت کروں گا اگر شرط ہار گیا.

دوستوں نے کہا ہمیں منظور ہے.آخر وہ رات بھی آ گئی ملا قمیض شلوار میں گھر سے باہر جا بیھٹا. سب دوست اسکو ایک بند کمرے کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھ رہے تھے. مُلا ساری رات سردی میں ٹہڑتا رہا آخر کوصبح ہو گئی..اب تو دوست بڑے حیران ہوئے اور کہا کہ ہم نہیں مان سکتے کہ ایسا ہو سکتا ہے. تم زندہ کیسے بچ سکتے ہو اس سردی میں تو ایک پل باہر نہیں رہا جا سکتا اور تم قیمض شلوار میں ساری رات بیھٹے رہے . مُلا نے کہا کہ بھئی تم سب شرط ہار گئے ہو اب بھاگو مت میری دعوت کرو. ایک دوست نے کہا کہ ملا تم جہاں تھے وہاں کوئی گرم چیز تھی کیا یاد کرو ملا نے کہا کہ نہیں کوئی چیز نہیں تھی. اب تم میری دعوت کرو..دوست نے کہا کہ یاد کروآس پاس کوئی ایسی چیز تھی.

ملا نے ذہن پر زور دیا اور کہا کہ ہاں یاد آیا جہاں میں بیھٹا تھا وہاں پر ایک کھڑکی میں موم بتی جل رہی تھی. مگر اتنی سی موم بتی سے کیا ہوتا ہے. اب تو دوستوں کے ہاتھ جیسے ملا کی کمزوری آ گئی. دوستوں نے کہا کہ ہاں جب ہی تو ہم بولیں کہ تم آخر بچ کیسے گئے. اس موم بتی کی گرمی کی وجہ سے تم شرط ہار گئے ہو. مُلا اب تم ھماری دعوت کرو ہم نے کہا تھا کہ تمہارے پاس کوئی گرم چیز نہیں ہو گی. مگر تم ساری رات ایک موم بتی کی گرمی میں زندہ رہے ..ملا سے کوئی جواب نہ بن سکا اگلے دن سب دوست ملا کے گھر دعوت میں جمع ہوئے. مُلا نے کہا کہ بیھٹو یاروں ابھی کھانا پک کر تیار ہو جاتا ہے دوست کافی دیر بیٹھے رہے اور انتظار کرتے رہے مگر کھانا نہیں آیا.

دوستوں نے کہا کہ مُلا ابھی کتنی دیر اور  ہے. مُلا نے کہا کہ بس تھوڑی دیر اور دوستوں نے کچھ دیر اور انتظار کیا جب کھانا نہیں آیا تو دوستوں نے کہا کہ تم ہم سب کو بیوقوف بنا رہے ہو بھلا کھانے میں اتنا ٹائم لگتا ہے. دکھاؤ ہم کو کھانا کہاں بن رہا ہے ہم بھی تو دیکھیں. مُلا سب کو اپنے باورچی خانے میں لے گیا دوستوں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا پیتلا رکھا ہوا ہے اور اس کے نیچے ایک موم بتی جل رہی ہے. دوستوں نے یہ دیکھا تو کہا کہ ابے مُلا کبھی اس موم بتی سے بھی کھانا بنتا ہے. پاگل تو نہیں ہو گیا کیا؟ مُلا نے کہا کہ جب موم بتی سے انسان بچ سکتا ہے تو کھانا نہیں بن سکتا. یہ بات سن کر سب دوست بہت شرمندہ ہوئے اور اگلے دن سب نے مُلا کےگھر والوں کی دعوت کی سب مُلا کی اس حاضر جوابی سے بڑے متاثر ہوئے…..

نومبر 22, 2010 at 08:21 تبصرہ کریں

جھنگا پہلوان ریفری بنے

چیلنج گراؤنڈ پر فٹ بال کے مقابلے ہو رہے تھے۔ سارا شہر ان مقابلوں کو دیکھنے کے لئے امڈا ہوا تھا ۔اور ہر کوئی رات میں یا دن میں ہوئے فٹ بال کے میچوں اور ان میچوں میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کا ذکر کرتا تھا ۔
جھنگا پہلوان بھی کئی دنوں سے فٹبال کے چرچے سن رہے تھے ۔اس سے قبل انہیں کبھی میچ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ صرف ٹی وی پہ کبھی کبھی چینل تبدیل کرتے ہوئے انہوں نے فٹ بال دیکھا تھا۔ اس وجہ سے اس کھیل کے صحیح خدوخال اور اصول و ضوابط سے واقف نہیں تھے۔
اس لئے ان کے دل میں آیا کہ کیوں نہ آج فٹ بال کے مقابلے دیکھے جائیں۔ انہوں نے اپنے خاص الخاص للو کو ساتھ لیا اور چیلنج گراؤنڈ کی طرف چل دیئے۔ راستے میں جو بھی ملتا ان سے کہتا۔
’’ارے واہ پہلوان ۔ آپ بھی فٹ بال دیکھنے جا رہے ہیں؟‘‘
’’یہ پہلوانی کے ساتھ ساتھ فٹ بال کا شوق کب سے ہو گیا ؟‘‘
’’پہلوان کیا فٹ بال مقابلوں کی ٹیم کی طرف سے کھیلنے کا ارادہ ہے؟‘‘ جھنگا پہلوان ان کی ان باتوں کا کیا جواب دیتے صرف مسکرا کر آگے بڑھ جاتے۔
للو فٹ بال کی تعریف کیئے جا رہا تھا۔
’’ استاد دنیا میں سب سے زیادہ کھیلا جانے والا کھیل فٹ بال ہے ساری دنیا میں کھیلا جاتا ہے کرکٹ تو آٹھ دس ممالک سے زیادہ ملکوں میں کوئی جانتا بھی نہیں۔ لیکن فٹ بال تارک افریقہ کے گھنے جنگلوں میں بھی افریقہ کے وحشی جنگلی قبائل کھیلتے ہیں اور تو اور دنیا کی ایک قوم جس کو دنیا کے کسی کھیل میں کوئی دلچسپی نہیں وہ بھی اس کھیل کو کھیلتی ہے۔‘‘
’’بھئی وہ کون سی قوم ہے جسے دنیا کے کسی کھیل میں دلچسپی نہیں لیکن وہ بھی فٹ بال کھیلتے ہیں؟‘‘ جھنگا پہلوان نے حیرت سے پوچھا۔
’’ عرب قوم ، عرب لوگ بھی فٹ بال کھیلتے ہیں۔‘‘ للو نے کہا اور ہنسنے لگا جیسے اس نے کوئی بہت مزیدار لطیفہ سنایا ہو۔
چیلنج کے گراؤنڈ میں پہونچ کر گراؤنڈ کے انچارج ولاس راؤ نے ان کا پرتباک انداز میں استقبال کیا۔’’ ارے جھنگا پہلوان جی، آئیے۔ آئیے۔ آج ہمارے گراؤنڈ کی تقدیر جاگی آُپ کے قدم اس گراؤنڈ پر پڑے۔‘‘ ولاس بولا۔
’’ہاں بھئی، سارے شہر میں اس گراؤنڈ پر چل رہے فٹ بال مقابلوں کا شور ہے سوچا آج فٹ بال کے مقابلے دیکھتے ہیں۔‘ ‘ جھنگا نے جواب دیا۔
’’ آپ فٹ بال کے مقابلے صرف دیکھئے نہیں ، بلکہ ان میں شامل بھی ہو جائیے۔ ‘‘ ولاس بولا۔
’’ کیا مطلب ؟‘‘ جھنگا پہلوان اس کا منہ دیکھنے لگا۔
’’ فٹ بال کے جو مقابلے ہو رہے ہیں ہم ان مقابلوں کا ریفری شہر کی کسی معتبر نامور سردکردہ شخصیت کو بناتے ہیںَ تا کہ ان کی عزت افزائی بھی ہو اور ان کی فٹ بال میں دلچسپی بھی بڑھے۔ آپ بھی شہر کی مشہور و معروف شخصیتوں میں شامل ہیں۔ اس لیے آپ کو بھی اگلے میچ کا ریفری بنایا جاتا ہے۔‘‘ ولاس بولا۔
’’میچ کا ریفری اور میں ؟‘‘ پہلوان گھبرا گئے،’’ مجھے تو فٹ بل کی اے بی سی بھی نہیں آتی پھر میں بھلا میچ ریفری کس طرح بن سکتا ہوں۔‘‘
’’اب تک شہر کی جن ہستیوں نے یہ فرائض انجام دیئے وہ بھی اس کام کو کب جانتے تھے۔ کام کرتے کرتے سیکھ گئے۔ آسان سا کام ہے۔ کھلاڑیوں کے فاؤل پر نظر رکھنا ہے۔ ان کے فاؤل پر فری کک، پینلٹی کک، کارنر وغیرہ دینا ہے۔ اور کوئی کھلاڑی زیادہ ہی فاول کریں یا خطرناک طور پر فٹ بال کھیلیں تو سزا کے طور پر انہیں یلو کارڈ، ریڈ کارڈ وغیرہ بتا کر میچ سے باہر کردیں۔‘‘ ولاس نے فٹ بال کے ریفری کے سارے فرائض جھنگا پہلوان کو سمجھا دئیے۔
’’ اگر صرف یہی کام کرنا ہے تو یہ میرے بائیں ہاتھ کا کام ہے‘‘، جھنگا پہلوان نے دل ہی دل میںسوچا اور وہ میچ میں ریفری بننے کے لئے تیار ہو گئے۔ اگلا میچ ایگل اور آزاد ہند ٹیموں کے درمیان تھا۔
ٹیمیں میچ کھیلنے کے لئے میدان میں اتریں تو ان کے ساتھ جھنگا پہلوان کو بھی سیٹی اور ضروری کارڈ دیکر میدان میں ریفری کے فرائض انجام دینے کے لئے اتار دیا گیا۔ لیکن وہاں سب سے بڑی مشکل جھنگا پہلوان کی لنگی نے کھڑی کر دی۔
ان سے کہا گیا کہ میچ میں ریفری کے فرائض انجام دینے ہیں تو آپ لنگی اتار کر چڈی پہن لیجئے، فٹ بال کے کھلاڑی اور ریفری انڈر وئیر ہی پہنتے ہیں۔لیکن جھنگا پہلوان نے لنگی اتارنے سے انکار کر دیا۔
’’یہ لنگی میری شخصیت کی پہچان ہے اور میں اسے اتار کر اپنی شخصیت کھونا نہیں چاہتا۔‘‘
سب نے بہت سمجھایا کہ استاد آپ لنگی پہن کر ریفری کے فرائض انجام نہیں دیں گے۔لیکن جھنگا پہلوان اس پر بضد تھے کہ وہ لنگی پہن کر ہی یہ کام کریں گے اور بخوبی اپنا فرض انجام دیں گے۔پہلوان کی ضد کے آگے دو ٹیمیں جھک گئیں۔
میدان میں درمیان میں کھیل شروع کرنے کے لئے گیند رکھی گئی اور پہلوان کو اشارہ کیا گیا کہ وہ سیٹی بجا کر کھیل شروع کرنے کا اشارہ کرے۔
پہلوان نے سیٹی بجائی اور کھیل شروع ہوگیا۔
دونوں ٹیم کے کھلاڑی پیروں سے گیند کو مارتے دور تک لیکر چلے گئے۔ کبھی ایک ٹیم بال کو دوسری ٹیم کے میدان میں لے جانے کی کوشش کرتی کبھی دوسری ٹیم مدمقابل ٹیم کے میدان میں۔
پہلوان دور کھڑے اس تماشے کو دیکھ رہے تھے۔
ایگل کے کپتان انزل کی نظر پہلوان پر پڑی تو وہ دوڑتا ہوا ان کے پاس آیا اور بولا۔ ’’استاد اس طرح ایک جگہ کھڑے ہو کر فٹ بال میچ میں ریفری شپ نہیں کی جاتی ہے۔ ریفری کو بال کے ساتھ دوڑنا پڑتا ہے۔ تبھی تو اسے پتہ چلتا ہے کہ کون سا کھلاڑی کیا غلطی یا فاول کر رہا ہے۔ اور وہ اسے سزا دیتا ہے۔‘‘
پہلوان کے لیے یہ بات نئی تھی۔ اب کھیل کا یہ اصول ہے کہ ریفری بھی بال کے ساتھ ساتھ دوڑے تو انہیں بھی دوڑنا ہی پڑے گا۔
جیسے ہی بال ان کے قریب آئی وہ بال کے ساتھ دوڑنے کی کوشش کرنے لگے۔ لیکن دونوں ٹیموں کے کھلاڑی بڑے پھرتیلے تھے۔ چیتے کی رفتار سے دوڑ کر بال کو اپنے قبضے میں کرتے اور بال کو دوسرے کھلاڑی کی طرف اچھال دیتے۔ ہاتھی کی طرح ڈیل ڈول والا جھنگا پہلوان بھلا ان کی سی پھرتی اور تیزی سے کہاں دوڑ سکتا تھا۔
دوڑنا تو دور وہ ٹھیک طرح سے چل بھی نہیں پا رہا تھا۔
ان کے لئے سب سے بڑی مصیبت ان کی لنگی بنی ہوئی تھی۔
جیسے ہی وہ دوڑتے ان کا پیر لنگی میں اٹکتا اور وہ دھڑام سے منہ کے بل زمین پر گر جاتے۔ تماشائیوں کو فٹ بال دیکھنے سے زیادہ جھنگا پہلوان کو دیکھنے میں مزہ آرہا تھا۔ جب وہ گرتے تو سارا میدان قہقہوں سے بھر جاتا تھا۔ موٹا تازہ، جسم جب زمین سے ٹکراتا تو کئی مقامات پر چوٹیں آتیں اور وہاں سے درد کی لہریں اٹھنے لگتیں۔
لیکن فرض کی ادائیگی کے لئے وہ پھر سے اٹھتے اور بال کے ساتھ دوڑنے کی کوشش کرتے جب وہ میدان میں دوڑتے تو ایسا لگتا جیسے بہت بڑی گیند میدان میں چاروں طرف لڑھک رہی ہے۔
تھوڑی دیر میں ہی ان پر ایک نئی مصیبت نازل ہوئی۔
ان کی سانسیں پھول گئیں اور وہ ہانپنے لگے۔ ایک جگہ کھڑے ہو کر وہ اپنی اکھڑی سانسوں پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگے۔ ادھر انہیں کھڑا دیکھ کر تماشائی شور مچانے لگے۔
’’ ریفری ۔۔۔ ریفری ۔ ایک جگہ کیا کھڑے ہو ، دوڑو ۔۔۔۔ فاول دو ۔۔۔۔‘‘
تماشائیوں کے شور سے بچنے کے لئے وہ دوڑتے لیکن پیر پھر لنگی میں الجھ جاتا اور وہ پھر دھڑام سے گر جاتے۔
’’استاد کیوں اتنی پریشانی مول لے رہے ہو۔‘‘ انزل ان کی پریشانی دیکھ کر ان کے قریب آیا ، ’’ لنگی اتار دو، اس میں عافیت ہے۔‘‘
پہلوان نے اس وقت لنگی اتار دی، اور صرف اپنی لنگوٹ پر دوڑنے لگے۔ ادھر تماشائیوں نے سمجھا پہلوان کی لنگی کھل گئی ہے ۔ وہ اس بات پر پیٹ پکڑ پکڑ کر ہنسنے لگے۔ اچانک کھلاڑیوں میں ایک آواز ابھری۔
’’ پینلٹی کک۔‘‘
اور انہوں نے بھی منہ سے آواز نکالی۔
’’ پینلٹی کک دی جاتی ہے۔‘‘
ایگل کو پینلٹی کک دی گئی تھی آزاد کے کھلاڑی حیران تھے کہ ان سے تو ایسی کوئی غلطی نہیں ہوئی تھی جس کی وجہ سے ان کے خلاف پینلٹی کک دی جائے۔
بہر حال ایگل نے پینلٹی کک پر گول بنا دیا۔
پورا میدان تماشائیوں کی تالیوں اور شور سے گونج اٹھا۔
پہلوان نے دیکھا یہ خوشیاں گول بننے پر منائی جا رہی ہیں۔ تماشائیوں کو گول بننے پر بڑا مزا آتا ہے تو ٹھیک ہے، میں تماشائیوں کی پسند کا خیال رکھوں گا۔
تھوڑی دیر بعد انہوں نے آزاد ہند کو پینلٹی کک دے دی۔
’’ استاد ۔ میری ٹیم نے تو کوئی غلطی نہیں کی ہے تو آپ نے ہمارے خلاف پینلٹی کک کیوں دی‘‘ ، انزل احتجاج کرتا ہوا ان کے پاس آیا۔ انہیں یاد آیا کہ کوئی کھلاڑی اگر حجت کرے تو اسے کارڈ نکال کر ڈرایا دھمکایا جانا چاہئے۔
انہوں نے ایک کارڈ نکال کر انزل کو بتایا۔
تماشائی زور زور سے تالی بجانے لگے۔
جھنگا پہلوان کتنی اچھی امپائرنگ کر رہے ہیں۔ ابھی پینلٹی کک دی اور اب ایک کھلاڑی کو بک کر کے کارڈ بتایا۔
انہوں نے انزل کو کون سا کارڈ بنایا تھا اور اس کارڈ کا مطلب کیا تھا انہیں خود اس بات کا پتہ نہیں تھا۔ لیکن انہوں نے دیکھا ان کے کارڈ بتانے پر انزل ڈر گیا ہے۔
پینلٹی کک پر آزاد ہند ٹیم نے گول کر کے اسکور برابر کر دیا۔ اسکور برابر کر تے ہی تماشائیوں میں ایک جوش پیدا ہو گیا اور دونوں ٹیمیں بھی پورے جوش و خروش سے کھیلنے لگیں۔
تھوڑی دیر بعد انہوں نے ایگل کو کارنر دیا جس پر اس نے گول بنا ڈالا اس پر آزاد ہند کے کپتان کو غصہ آگیا لیکن وہ جھنگا پہلوان سے حجت کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ جھنگا پہلوان حجت کرنے پر اسے کارڈ دکھا کر اسے بک کرے گا۔
اس نے ایک دو کھلاڑیوں کو بلا کر کان میں کچھ کہا۔
تھوڑی دیر میں کھیل کا نقشہ بدل گیا۔
جن کھلاڑیوں کو آزاد ہند کے کپتان نے کچھ کہا تھا وہ بال کے ساتھ ساتھ دوڑنے کے بجائے پہلوان کے ساتھ دوڑ رہے تھے ، دوڑتے ہوئے موقع ہاتھ لگتے ہی ایک کھلاڑی نے پہلوان کو ٹانگ ماری اور آگے بڑھ گیا پہلوان منہ کے بل زمین پر گر پڑے۔
دوڑنا پہلوان کے لئے مشکل ہو رہا تھا۔
وہ سر سے پیر تک پسینے میں نہا گئے تھے، دوڑنے سے ان کی سانسیں پھول رہی تھیں اور جان نکلتی محسوس ہورہی تھی۔ اپنے اتنے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ انہیں دوڑنے کا کم ہی اتفاق ہوا تھا۔ اور یہاں تو مسلسل دوڑنا پڑ رہا تھا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ یہاں اس کھلاڑی نے انہیں گرا دیا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد دوسرے کھلاڑی نے انہیں گرایا۔ اور اس کے بعد تیسرے کھلاڑی نے۔ وہ ان سے کارنر دینے کا بدلہ لے رہے تھے۔
جب پہلوان کو یہ محسوس ہوا کہ ان سے بدلہ لیا جا رہا ہے تو انہیں بھی غصہ آگیا اور انہوں نے بھی بدلہ لینے کی ٹھان لی۔
انہوں نے ایک دو تین کھلاڑیوں کو کارڈ دکھا کر بک کیا۔
تینوں کو انہوں نے کون سا کارڈ دکھایا تھا انہیں خود اس کارڈ کے کام کا پتہ نہیں تھا۔ لیکن کارڈ دکھاتے ہی تماشائی شور مچانے لگے۔
’’باہر ۔۔۔۔ باہر ۔۔۔ باہر جاؤ۔‘‘
’’باہر جاؤ۔۔۔‘‘
اور کھلاڑی چپ چاپ باہر چلے گئے تو پہلوان کی بانچھیں کھل گئیں۔ تو یہ کارڈ ہے جسے بتا کر کھلاڑی کو باہر بھیجا جا سکتا ہے۔
اب صورت حال یہ تھی کہ آزاد ہند کے تین کھلاڑی باہر بھیجے جا چکے تھے۔ اور وہ آٹھ کھلاڑیوں کے ساتھ ہی کھیل رہی تھی۔
تھوڑی دیر میں پہلوان کو محسوس ہوا یہ تو ناانصافی ہے۔ ایک ٹیم سب کھلاڑیوں کے ساتھ میچ کھیلے اور دوسری آدھے کھلاڑیوں کے ساتھ ، فوراً انہوں نے ایگل کے تین کھلاڑیوں کو کارڈ دکھا کر میدان سے باہر جانے کا حکم دے دیا۔
وہ کھلاڑی احتجاج کرتے رہ گئے کہ انہوں نے کون سی غلطی کی ہے۔ کس غلطی کی سزا کے طور پر انہیں میدان کے باہر بھیجا جا رہا ہے۔ یہ تو بتایا جائے۔ لیکن اس بات کا جواب تو پہلوان کے پاس بھی نہیں تھا۔
اس درمیان وقفہ بن گیا۔
اور پہلوان کی جان میں جان آئی۔
للو دوڑتا ہوا میدان میں آیا اور وہ پہلوان کے جسم سے پسینہ پونچھنے لگا۔
’’ واہ استاد ، کیا ریفری کا فرض انجام دیا ہے۔ پوری اسٹیڈیم کے تماشائی آپ کے اس کام کی تعریف کر رہے ہیں۔ کہہ رہے ہیں اس سے اچھا ریفری آج تک انہوں نے نہیں دیکھا ۔ انصاف سے کام لیتا ہے۔ کسی بھی ٹیم کی طرف داری نہیں کرتا ہے۔ ایک ٹیم کے تین کھلاڑیوں کو اگر میدان کے باہر کرتا ہے تو دوسری ٹیم کے بھی تین کھلاڑیوں کو میدان کے باہر کرتا ہے۔ دونوں ٹیموں کو پینلٹی کک کا برابری کا موقع دیتا ہے۔‘‘
’’ سب کچھ خود بخود ہو رہا ہے۔‘‘ استاد نے اعتراف کیا، ’’کیسے ہو رہا ہے، خود مجھے بھی اس بات کا علم نہیں ہے۔ میں تو اس کھیل کا ا ب ت بھی نہیں جانتا ہوں۔‘‘
کھیل دوبارہ شروع ہوا۔
اب پہلوان نے اپنی طور پر فٹ بال کھیلنا شروع کر دیا۔
ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے سارے کھلاڑی کٹھ پتلیاں بن گئیں ہیں جن کی ڈور جھنگا پہلوان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس طرح چاہے انہیں نچا سکتا ہے۔ جھنگا پہلوان دونوں ٹیموں کے ساتھ کٹھ پتلیوں والا کھیل رہے تھے۔ جن کی ڈوریں ان کے ہاتھ میں تھیں۔
ایک ٹیم کو پینلٹی کک کارنر دے دیتے۔ وہ اس کا فائدہ اٹھا کر مد مقابل ٹیم کے خلاف گول اسکور کر کے مد مقابل پر سبقت حاصل کر کے خوشیاں مناتی۔ اس کے شائقین خوشیاں مناتے لیکن وہ خوشیاں زیادہ دیرپا نہیں ہوتیں۔
فوراً پہلوان مدمقابل ٹیم کو بھی اس طرح کا ایک موقع عنایت کر دیتے اور وہ بھی اس موقع کا فائدہ اٹھا کر اسکور برابر کر کے اپنے مد مقابل ٹیم کے جوش پر ٹھنڈا پانی ڈال دیتی۔
اس کے بعد ایک دوسرے پر سبقت پانے کے لئے دونوں ٹیمیں پھر سے جوش کے ساتھ کھیلنے لگتیں۔ لیکن دراصل جھنگا پہلوان دونوں ٹیموں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور انہیں کھلا رہے تھے۔
دونوں ٹیمیں ان کی ریفری شپ کی شکایت بھی نہیں کر رہی تھیں کیونکہ وہ دونوں کو برابر برابر کا موقع دے رہے تھے۔ اگر وہ ایک ٹیم کو غلط پینلٹی کک ، کارنر وغیرہ دیتے بھی تو دوسری ٹیم مطمئن رہتی۔
کوئی بات نہیں اگلی بار ہماری باری ہے۔
اس کے بعد جھنگا پہلوان نے ایک نیا کھیل شروع کر دیا۔
آزاد ہند ٹیم کو مسلسل پانچ پینلٹی کک کا موقع دے دیا۔ جس پر انہوں نے مسلسل پانچ گول اسکور کر کے ایگل پر پانچ گولوں کی سبقت حاصل کر لی۔
انزل کے ہوش اڑ گئے۔ اسے اپنی ٹیم کی شکست سامنے دکھائی دینے لگی۔ اسے پتہ تھا اس کی ٹیم اتنی طاقت ور نہیں ہے کہ مسلسل پانچ گول اسکور کر کے برابری کرے۔ لیکن یہ کھیل تو جھنگا پہلوان کے ہاتھ میں تھا۔ انہوں نے کچھ دیر بعد ہی انزل کی ساری فکریں دور کر دیں۔
اس بار انہوں نے انزل کی ٹیم کو مسلسل پانچ موقع دئیے اور ان موقعوں کا فائدہ اٹھا کر انزل کی ٹیم نے پانچ گول اسکور کر کے حساب برابر کر دیا۔ تماشائیوں کا جوش بڑھتا جا رہا تھا۔ ان کے دلوں کی دھڑکنیں بڑھتی جا رہی تھیں اتنے گول اسکور ہوں دونوں ٹیمیں اس طرح سے کھیلیں گی اس بارے میں انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔
اس کے بعد اپنے ریفری ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جھنگا پہلوان کے آزاد ہند ٹیم کے دو بہترین کھلاڑیوں کو کارڈ بتلا کر میدان کے باہر کر دیا۔
یہ دیکھ کر آزاد ہند ٹیم کے کپتان کے ہوش اڑ گئے۔ اسے اپنی ٹیم کی شکست اپنی آنکھوں کے سامنے دکھائی دینے لگی۔
لیکن اگلے ہی لمحہ جھنگا پہلوان نے انصاف سے کام لیتے ہوئے ایگل کے دو بہترین کھلاڑیوں کو کارڈ بتا کر میدان کے باہر کر دیا۔
دونوں ٹیمیں مساوی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔
باہر ہونے والے تمام کھلاڑیوں کا کوئی قصور نہیں تھا ۔ لیکن قوانین فٹ بال کا کھیل ایجاد کرنے والوں نے بنائے تھے۔
ریفری بنے جھنگا پہلوان ان کا استعمال اپنی طور پر کر رہے تھے۔
دونوں ٹیموں نے میدانی گول ایک بھی اسکور نہیں کیا تھا۔
ایسا محسوس ہوتا تھا دونوں ٹیموں میں میدانی گول اسکور کرنے کا دم خم ہے ہی نہیں وہ گول جھنگا پہلوان کی عنایت سے اسکور کر رہے تھے۔
جھنگا پہلوان کبھی ایک ٹیم کو مسلسل پانچ کک کا موقع دیکر اس سے پانچ گول اسکور کراتے تو دوسری بار دوسری ٹیم کو یہی موقع دے کر حساب برابر کرنے کا سامان مہیا کر دیتے۔
خدا خدا کر کے میچ کا ٹائم ختم ہوا۔
میچ کے خاتمے پر دونوں ٹیموں کا اسکور تھا ۵۰ : ۵۰ ۔۔
یعنی دونوں ٹیموںنے ۵۰ ، ۵۰ گول اسکور کئے تھے۔ میچ برابری پر ختم ہوا، اس لیے دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دے دیا گیا۔
اور فٹ بال کے صحیح شائقین اس میچ کو دیکھ کر اپنا سر پیٹ رہے تھے۔ ان کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا یہ میچ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے کھیلا ہے۔
یا فٹ بال میچ کے ریفری بنے جھنگا پہلوان نے ۔۔۔۔۔
۔ ۔ ۔ ٭۔ ۔ ۔ ٭۔ ۔ ۔ ٭۔ ۔ ۔

نومبر 4, 2010 at 12:21 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]