Posts tagged ‘Urdu Funny Jokes’

ہنسی کی دنیا!!!!

ایک سائیکل سوار کسی محلے سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک بچہ سائیکل کی زد میں آ گیا اور زور زور سے رونے لگا ،سائیکل سوار نے اسے جلدی سے بیس روپے دئیے اور اسے چپ کروانے لگا،بچہ فوراٌ چپ ہو گیا اور بولا:“انکل آپ پھر کب آئیں گے؟؟؟“
بیوی: آپ اتنے بدذوق ہیں کہ جب بھی میں گانا گاتی ہوں تو آپ باہرچلے جاتے ہیں۔
شوہر: میری بھی محلے میں کوئی عزت ہے، میں نہیں چاہتا کہ محلے والے سمجھیں کہ میں تمہیں مار رہا ہوں۔
مالک:(نوکرسے)جلدی سے بازار جاؤ اور اچھی کوالٹی کی ماچس لے کے آؤ اور دیکھنا کہیں وہ جعلی نا ہوں۔
نوکر بازار سے واپس آ کر بولا:میں نے ماچس کی ایک ایک تیلی جلا کر دیکھی ہے سب کی سب اصلی ہیں۔
بھکاری ایک شخص سے:خدا کے  نام پر ایک روپیہ دو جو مانگو گے دوں گا، اس شخص نے ایک روپیہ دے دیا-
بھکاری بولا: مانگ اب کیا مانگتا ہے-
اس  شخص نے کہا : مجھے میرا روپیہ واپس کردو-
ایک شاگرد امتحان ہال میں بیٹھا پرچہ دیکھ رہا تھا۔
استاد نے پوچھا: کیوں بھئی کیا پرچہ مشکل ہے۔
شاگرد نے کہا: پرچہ تو مشکل نہیں، مگر میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اس سوال کا جواب میری کس جیب میں ہے۔
بچہ چائینیز سے، کیا تم امریکن ہو۔
چائینیز، نہیں میں چائنیز ہوں۔
بچہ، نہیں تم امریکن ہو۔
چائینیز غصے سے، ہاں ہاں میں امریکن ہوں۔
بچہ، لیکن لگتے تو چائینیز ہو۔
ایک آدمی سبزی لینے گیا سبزی والا باربار سبزی پر پانی مار رہا تھا آدمی انتظار کرتا رہا جب کافی وقت گزر گیا تو آدمی غصے سے بولا۔
بھائی صاحب ! سبزی کو ہوش آگیا ہو تو تول بھی دو۔
کرایہ دار مالک مکان سے، دیکھیں محترم مکان کی ساری چھت ٹپک رہی ہے، کمروں میں، برآمدے میں، آنگن میں سب جگہ پانی ہی پانی ہے، میری مرغیاں ڈوبی جارہی ہیں۔
مالک مکان: تو جناب آپ بطخیں کیوں نہیں پال لیتے۔
ایک پاگل دوسرے سے، تمہیں پتا ہے کہ بھارت اور انڈیا میں جنگ ہو رہی ہے۔
دوسرا پاگل، ہاں ہاں میں نے بھی سنا ہے۔ وہ تو اچھا ہو کہ ہندوستان بیچ میں نہیں آیا ورنہ بڑی تباہی ہوتی۔
شوہر میں تنگ آگیا ہوں، تم ہمیشہ میرا گھر، میری کار ہی کہتی رہی ہو، کبھی ہمارا بھی کہا کرو۔
اب الماری میں کیا ڈھونڈ رہی ہو۔
بیوی: ہمارا دوپٹہ۔
ایک آدمی نے مکھی کی پہچان کا عجیب طریقہ نکالا۔
ایک روز اس نے اعلان کیا کہ آج میں نے چھ مکھیاں ماریں۔ تین نر تھیں اور تین مادہ۔
اس کے دوست نے پوچھا۔ نر اور مادہ کا آپ کو کیسے پتا چلا۔
اس نے جواب دیا: بڑی آسانی سے، تین مکھیاں مٹھائی پر بیٹھی تھیں اور تین آئینے پر۔
ایک کسان کا بیٹا پڑھ لکھ کر دوسرے ملک چلا گیا۔ کچھ دن بعد اس نے اپنے گاوں خط لکھا اور کہا کہ میری فیملی کو یہاں بھیج دیں۔کسان کو فیملی کا مطلب نہیں پتہ تھا۔
کئی لوگوں سے پوچھا،آخر ایک شخص نے فیملی کا مطلب رضائی بتایا۔ کسان نے اپنے بیٹے کو خط لکھا:”تمہاری فیملی کو چوہے کھا گئے ہیں،وہاں سے نئی فیملی خرید لو۔”
مالک:آخر تم نوکری کیوں چھوڑ رہے ہو؟
نوکر:آپ کو مجھ پر اعتماد نہیں ہے۔
مالک:گھر کی تمام چابیاں تو تمہیں دے رکھی ہیں۔
نوکر:لیکن ان میں سے ایک بھی چابی تجوری کو نہیں لگتی۔
استاد دو سگے بھائیوں سے :”تم دونوں نے اپنے والد کا نام مختلف کیوں لکھا ہے”؟
ایک بھائی:”ایک جیسا لکھ دیتے تو آپ کہتے کہ تم دونوں نے نقل کی ہے۔”
استاد: (شاگرد سے) ” تم آج بھی اسکول کا کام نہیں کرکے آئے ۔ مار کھانے کے لیے تیار ہوجاؤ
شاگرد: ”جناب! میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں
استاد: ”وہ کیوں؟“
شاگرد:” میری ماں نے ہدایت کر رکھی ہے کہ ہرچیز کھانے سے پہلے ہاتھ ضرور دھو لیا کرو۔“
پائلٹ(کنٹرول ٹاور سے) ہمارا پٹرول ختم ہو چکا ہے سرگودھا پر، براہ مہربانی ہدایت دیجئے۔
کنٹرول ٹاور(پائلٹ سے) گناہوں کی معافی مانگ لیجئے۔
کرکٹ ٹیم کے منیجر نے کپتان سے کہا ” یہ لو دو سو روپے ۔ نئی گیند خریدو یا کچھ بھی کرو، بس ہمیں یہ میچ ہر قیمت پر جیتنا ہے۔“
جب میچ شروع ہوا تو منیجر نے دیکھا کہ وہی پرانی گیند استعمال کی جارہی ہے۔ ا س نے کپتان کو بلا کر پوچھا۔
”گیند بھی نئی نہیں خریدی میری رقم کا کیا کیا؟“
”آپ ہی نے تو کہا تھا کہ ہمیں ہر قیمت پر میچ جیتنا ہے۔ چنانچہ ہم نے وہ دو سو روپے امپائر کو دے دیئے۔“ا
” میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم آٹھویں میں پاس ہوگئے تو تمہیں سائیکل خرید کر دوں گا مگر تم تو فیل ہوگئے ۔ آخر سارا سال تم کیا کرتے رہے؟“ باپ نے غصے سے اپنے بیٹے سے پوچھا۔
”وہ میں سارا سال سائیکل چلانے کی مشق کرتا رہا۔“ بیٹے نے معصومیت سے جواب دیا۔
مالک (نوکرسے) ” میں ذرا کام سے باہر جا رہا ہوں تم ہوشیاری سے کام لینا۔اور ہاں! اگر کوئی گاہک آئے تو اس سے ادب سے پیش آنا۔
تھوڑی دیر بعد مالک واپس آیا تو نوکر سے پوچھا ” کوئی آیا تھا؟
نوکر: جی ایک شخص آیا تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر کھڑے ہو جائو۔ میں نے اس کا حکم ادب سے مانا اور وہ تجویری اٹھا کر لے گیا۔
باپ اپنے بیٹے سے:یہ کیا یے؟تمہارے ٹیسٹ میں 0 نمبر ہیں؟
بیٹا:نہیں ابو ٹیچر کہ پاس اسٹار ختم ہو گئے تھے تو انہوں نےسیارے دینے شروع کر دیے
ماں اپنے لاڈ لے بیٹے سے:بیٹا!جب تم بڑے ہو کر جہاز چلاؤ گے تو مجھے کیسے پتا چلے گا کہ میرا بیٹا جہاز چلا رہا ہے؟
بیٹا:ماں میں جب بھی گھر کے اوپر سے گزروں گا،ایک بم پھنک دیا کروں گا۔
یہ ایک ڈراؤنی کہانی ہے
اگر ہمت ہے تو پڑھو۔
ایک دفعہ ایک بھیانک بوڑھا تیز بارش میں ، ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں بیچ رہا تھا۔
ایک آدمی اس سے خریدنے آیا۔
بوڑھے نے 300 روپے میں ایک کتاب بیچی۔
اور کہا:
کتاب کا آخری صفحہ نہ کھولنا ۔۔۔۔
ورنہ۔۔۔۔۔
پچھتاؤ گے۔
اس آدمی نے پوری کتاب ڈرتے ہوئے پڑھی
سوائے
اس آخری صفحے کے۔
ایک دن
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے ڈرتے ہوئے آخری صفحہ کھولا
اور
اس کو بری طرح جھٹکا لگا۔
اس پہ لکھا تھا:
*
*
*
*
*
*
*
قیمت: 30 روپے ۔

یہ ایک سچّا واقعہ ہے جو پچھلے مہینے لونا والا کے پاس پیش آیا ـ ہوا یوں کہ ایک لڑکا ممبئی سے پُنے اپنی کار سے جا رہا تھا، گھاٹ کے قریب اُسکی کار خراب ہوگئی دور دور تک کوئی نظر بھی نہیں آ رہا تھا ـ پھر وہ لِفٹ لینے کے چکر میں سڑک کے کنارے کنارے چلنے لگا ـ رات اندھیری اور طوفانی تھی، پانی جھماجھم برس رہا تھا وہ پوری طرح بھیگ کر تھر تھر کانپنے لگا ـ اُسے کوئی کار نہیں ملی اور پانی اِتنا تیز برس رہا تھا کہ کچھ میٹر دور کی چیزیں بھی دکھائی نہیں رہی تھیں ـ تبھی اُس نے ایک کار کو اپنی طرف آتے دیکھا، جب کار اُس کے قریب آئی تو رفتار دھیمی ہوگئی ـ لڑکے نے آو دیکھا نہ تاو، جھٹ سے کار کا پچھلا دروازہ کھولا اور اندر کود گیا ـ جب اُس نے اپنے مدد گار کو شکریہ ادا کرنے آگے جھکا تو اُسکے ہوش اُڑ گئے کیونکہ ڈرائیور کی سیٹ خالی تھی ـ ڈرائیور کی سیٹ خالی اور انجن کی آواز نہ ہونے کے باوجود بھی کار سڑک پر چل رہی تھی ـ تبھی لڑکے نے آگے سڑک پر ایک موڑ دیکھا، اپنی موت کو نزدیک دیکھ وہ لڑکا زور زور سے خدا کو یاد کرنے لگا ـ تبھی کھڑکی سے ایک ہاتھ آیا اور اُس نے کار کے سٹیرنگ وھیل کو موڑ دیا ـ کار آسانی سے مڑتے ہوئے آگے بڑھ گئی ـ لڑکا ہیبت زدہ دیکھتا رہا کہ کیسے ہر موڑ پر کھڑکی سے ایک ہاتھ اندر آتا اور سٹیرنگ وھیل کو موڑ دیتا ـ آخر کار اُس لڑکے کو کچھ دوری پر روشنی دکھائی دی ـ لڑکا جھٹ سے دروازہ کھول کر نیچے کودا پھر دیوانہ وار روشنی کی طرف دوڑا ـ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، قریب ہی ایک دھابے میں رُکا اور پینے کیلئے پانی مانگا ـ پھر وہ بری طرح رونے لگا ـ لوگوں نے دلاسہ دیکر پوچھا تو اُس نے اپنی بھیانک کہانی سنانی شروع کی، دھابے میں سنّاٹا چھا گیا تبھی سنتا اور بنتا دھابے میں پہنچے اور سنتا لڑکے کی طرف اِشارہ کرکے بنتا سے بولا کہ اُوے یہی وہ بیوقوف لڑکا ہے نا جو ہماری کار سے کودا تھا جب ہم کار کو دھکا لگا رہے تھے ـ

مارچ 4, 2011 at 07:25 تبصرہ کریں

مرزا غالب کے ادبی لطائف

(1) ایک مرتبہ جب ماہِ رمضان گزر چکا تو بہادر شاہ بادشاہ نے مرزا صاحب سے پوچھا کہ: مرزا، تم نے کتنے روزے رکھے؟غالب نے جواب دیا: پیر و مرشد ، ایک نہیں رکھا۔
(2) جب مرزا غالب قید سے چھوٹ کر آئے تو میاں کالے صاحب کے مکان میں آ کر رہے تھے۔ایک روز میاں صاحب کے پاس بیٹھے تھے کہ کسی نے آ کر قید سے چھوٹنے کی مبارکباد دی۔ مرزا نے کہا: کون بھڑوا قید سے چھوٹا ہے۔ پہلے گورے کی قید میں تھا۔اب کالے کی قید میں ہوں۔
(3) غدر کے بعد مرزا غالب بھی قید ہو گئے۔ ان کو جب وہاں کے کمانڈنگ آفیسر کرنل براؤن کے سامنے پیش کیا گیا تو کرنل نے مرزا کی وضع قطع دیکھ کر پوچھا۔
ویل، ٹم مسلمان ہے۔
مرزا نے کہا، جناب، آدھا مسلمان ہوں۔
کرنل بولا۔ کیا مطلب؟
مرزا نے کہا، جناب شراب پیتا ہوں، سؤر نہیں کھاتا۔
(4) ایک دفعہ مرزا غالب گلی میں بیٹھے آم کھا رہے تھے ان کے پاس ان کا ایک دوست بھی بیٹھا تھا جو کہ آم نہیں کھاتا تھا اسی وقت وہاں سے ایک گدھے کا گزر ہوا تو غالب نے آم کے چھلکے گدھے کے آگے پھینک دیے گدھے نے چھلکوں کو سونگھا اور چلتا بنا تو غالب کے دوست نے سینا پھلا کر کہا دیکھا مرزا گدھے بھی آم نہیں کھاتے تو مرزا نے بڑے اطمینان سے کہا کہ جی ہاں گدھے ہیں جو آم نہیں کھاتے
(5) مرزا غالب شطرنج کے بڑے شوقین تھے۔ مولانا فیض الحسن سہارنپوری دلی میں نئے نئے آئے تھے۔ غالب کو پتا چلا کہ وہ بھی شطرنج کے اچھے کھلاڑی ہیں تو انہیں دعوت دی اور کھانے کے بعد شطرنج کی بساط بچھا دی۔ ادھر سے کچھ کوڑا کرکٹ ڈھونے والے گدھے گزرے تو مولانا نے کہا “دلی میں گدھے بہت ہیں!“ مرزا غالب نے سر اٹھا کر دیکھا اور بولے “ہاں بھائی، باہر سے آ جاتے ہیں۔“
(6) مراز غالب رمضان کے مہینے میں دہلی کے محلے قاسم جان کی ایک کوٹھری میں بیٹھے پچسی کھیل رہے تھے. میرٹھ سے ان کے شاگرد مفتی شیفتہ دہلی آئے، تو مرزا صاحب سے ملنے گلی قاسم جان آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ رمضان کے متبرک مہینے میں مرزا پچسی کھیل رہے تھے۔ انہوں نے اعتراض کیا : “مرزا صاحب ہم نے سنا ہے کہ رمضان میں شیطان بند کر دیا جاتا ہے۔“ مرزا غالب نے جواب دیا “مفتی صاحب آپ نے ٹھیک سنا ہے۔ شیطان جہاں قید کیا جاتا ہے، وہ کوٹھری یہی ہے۔“

نومبر 1, 2010 at 11:33 تبصرہ کریں

فراق گور کھپوری

(1) ڈاکٹر اعجاز حسین الٰہ آباد یونیورسٹی میں غزل پڑھا رہے تھے۔ فراق صاحب بھی وہاں بیٹھے تھے۔انہوں نے ڈاکٹر اعجاز حسین سے پوچھا:

ایسا کیوں کہا جاتا ہے کہ غزل گو شعراء عام طور سے بد کردار ہوتے ہیں۔

اعجاز صاحب برجستہ بولے: ان کے سامنے آپ کی مثال رہتی ہے۔

کلاس میں ایک زبردست قہقہہ پڑا اور فراق صاحب کی آواز قہقہوں میں دب گئی،جو اب بھی کچھ کہنا چاہتے تھے۔

(2) تقریباً 1944ء میں ایک بار جوش ملیح آبادی الٰہ آباد یونیورسٹی میں گئے۔ ادبی تقریب میں ڈائس پر جوش کے علاوہ فراق بھی موجود تھے۔ جوش نے اپنی طویل نظم حرفِ آخر کا ایک اقتباس پڑھا۔ اس میں تخلیقِ کائنات کی ابتداء میں شیطان کی زبانی کچھ شعر ہیں۔ جوش شیطان کے اقوال پر مشتمل کچھ اشعار سنانے والے تھے کہ فراق نے سامعین سے کہا:

سنیے حضرات، شیطان کیا بولتا ہے؟ اور اس کے بعد جوش کو بولنے کا اشارہ کیا۔

(3) فراق گورکھپوری سے کسی نے پوچھا: بحیثیت شاعر آپ اور جوش صاحب میں کیا فرق ہے؟

فراق نے اپنی بڑی بڑی وحشت ناک آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا: جوش موضوع سے متاثر ہوتا ہے اور میں موضوع کو متاثر کرتا ہوں۔

(4) ایک مشاعرے میں ہر شاعر کھڑے ہو کر اپنا کلام سنا رہا تھا۔ فراق صاحب کی باری آئی تو وہ بیٹھے رہے اور مائیک ان کے سامنے لا کر رکھ دیا گیا۔ مجمع سے ایک شور بلند ہوا: کھڑے ہو کر پڑھیے—-کھڑے ہو کر پڑھیے۔

جو شور ذرا تھما تو فراق صاحب نے بہت معصومیت کے ساتھ مائیک پر اعلان کیا:

میرے پاجامے کا ڈورا ٹوٹا ہوا ہے۔(ایک قہقہہ پڑا) کیا آپ اب بھی بضد ہیں کہ میں کھڑے ہو کر پڑھوں؟

مشاعرہ قہقہوں میں ڈوب گیا۔

ستمبر 20, 2010 at 08:24 3 comments

اسرار الحق مجاز کے ادبی لطیفے

(1) رات کا وقت تھا۔مجاز کسی میخانے سے نکل کر یونیورسٹی روڈ پر ترنگ میں جھومتے ہوئے چلے جا رہے تھے۔ اسی اثنا میں اُدھر سے ایک تانگا گزرا۔ مجاز نے اسے آواز دی،تانگہ رک گیا۔مجاز اس کے قریب آئے اور لہرا کر بولے: اماں ، صدر جاؤ گے؟ تانگے والے نے جواب دیا: ”ہاں ، جاؤں گا“

”اچھا تو جاؤ—–!“ یہ کہہ کر مجاز لڑھکتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

(2) مجاز اور فراق کے درمیان کافی سنجیدگی سے گفتگو ہو رہی تھی۔ ایک دم فراق کا لہجہ بدلا اور انہوں نے ہنستے ہوئے پوچھا:

”مجاز! تم نے کباب بیچنے کیوں بند کر دیے؟“

”آپ کے ہاں سے گوشت آنا جو بند ہو گیا۔“مجاز نے اسی سنجیدگی سے فوراً جواب دیا۔

(3) مجاز تنہا کافی ہاؤس میں بیٹھے تھے کہ ایک صاحب جو ان کو جانتے نہیں تھے ،ان کے ساتھ والی کرسی پر آ بیٹھے۔ کافی کا آرڈر دے کر انہوں نے اپنی کن سُری آواز میں گنگنانا شروع کیا:

احمقوں کی کمی نہیں غالب——–ایک ڈھونڈو، ہزار ملتے ہیں

مجاز نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:

”ڈھونڈنے کی نوبت ہی کہاں آتی ہے حضرت! خود بخود تشریف لے آتے ہیں۔“

(4) کسی مشاعرے میں مجاز اپنی غزل پڑھ رہے تھے۔ محفل پورے رنگ پر تھی اور سامعین خاموشی کے ساتھ کلام سن رہے تھے کہ اتنے میں کسی خاتون کی گود میں ان کا شیر خوار بچہ زور زور سے رونے لگا۔ مجاز نے اپنی غزل کا شعر ادھورا چھوڑتے ہوئے حیران ہو کر پوچھا:

بھئی!یہ نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا؟

(5) سوز شاہجہانپوری ایک دن لکھنو کافی ہاؤس آ گئے اور مجاز کے میز پر آن بیٹھے۔ کہنے لگے: بھائی مجاز! میں نے اپنا مجموعہٴ کلام تو مرتب کر لیا ہے۔ اب اس کے لیے کسی موزوں نام کی تلاش ہے۔ کوئی ایسا نام ہو جو نیا بھی ہو اور جس میں میرے نام کی رعایت بھی ہو۔

مجاز نے برجستہ کہا: ” سوزاک رکھ لو۔“

(6) کسی صاحب نے ایک بار مجاز سے پوچھا: کیوں صاحب ! آپ کے والدین آپ کی رِندانہ بے اعتدالیوں پر کچھ اعتراض نہیں کرتے؟

مجاز نے کہا: جی نہیں۔ پوچھنے والے نے کہا: کیوں؟ مجاز نے کہا: ” لوگوں کی اولاد سعادت مند ہوتی ہے۔ مگر میرے والدین سعادت مند ہیں۔“

اگست 27, 2010 at 05:29 1 comment

Urdu Funny Jokes

جولائی 17, 2010 at 11:33 تبصرہ کریں

Urdu Jokes

جولائی 2, 2010 at 12:31 2 comments


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]