Posts tagged ‘Urdu Adab’

سنہری باتیں

  • فکر کے درخت کو صبر کا پانی دیتے رہنا چاہیے تا کہ آنے والی نسلیں خوشحال زندگی بسر کریں.
  • زندگی گزارنے کا صحیح لطف اسی میں ہے کہ آپ کا دل محبت اور دماغ عقل سے بھرا ہو.
  • بلندی سے کھڑے ہو کر نیچے حقارت سے مت دیکھیں بلکہ یہ سوچیں کہ کبھی آپ بھی نیچے کھڑے تھے.
  • کسی پر کیچڑ مت اُچھالو اس سے دوسروں کے کپڑے خراب ہوں یا نہ ہوں مگر تمھارے ہاتھ ضرور خراب ہو جائیں گے.
  • جو چھوٹے ہاتھ سے دیتا ہے وہ لمبے ہاتھ سے پاتا ہے.
  • مانگو گے تو تمھیں دیا جائے گا، ڈھونڈو گے تو پاؤ گے.
  • علم ایسا بادل ہے جس سے رحمت ہی رحمت برستی ہے.
  • ظاہر پر نا جا، آگ دیکھنے میں سرخ لگتی ہے پر اس کا جلایا ہوا سیاہ ہو جاتا ہے.
  • مشاہدے سے آپ بہت کچھ جان سکتے ہیں مگر سیکھتے تجربے سے ہی ہیں.
  • سکھ خوشی کا نام نہیں، غم اور خوشی دونوں سے بے نیاز ہونے کا نام ہے.
  • کہنے والا یقین سے محروم ہو تو سننے والا تاثیر سے محروم رہتا ہے.
  • موت کو یاد رکھنا نفس کی تمام بیماریوں کی دوا ہے.
  • علم کی طلب میں شرم مناسب نہیں، جہالت شرم سے بد تر ہے.

اگست 17, 2011 at 12:09 تبصرہ کریں

مرزا اسد اللہ خان غالب کی شاعری

مارچ 14, 2011 at 07:48 تبصرہ کریں

ہنسی کی دنیا!!!!

ایک سائیکل سوار کسی محلے سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک بچہ سائیکل کی زد میں آ گیا اور زور زور سے رونے لگا ،سائیکل سوار نے اسے جلدی سے بیس روپے دئیے اور اسے چپ کروانے لگا،بچہ فوراٌ چپ ہو گیا اور بولا:“انکل آپ پھر کب آئیں گے؟؟؟“
بیوی: آپ اتنے بدذوق ہیں کہ جب بھی میں گانا گاتی ہوں تو آپ باہرچلے جاتے ہیں۔
شوہر: میری بھی محلے میں کوئی عزت ہے، میں نہیں چاہتا کہ محلے والے سمجھیں کہ میں تمہیں مار رہا ہوں۔
مالک:(نوکرسے)جلدی سے بازار جاؤ اور اچھی کوالٹی کی ماچس لے کے آؤ اور دیکھنا کہیں وہ جعلی نا ہوں۔
نوکر بازار سے واپس آ کر بولا:میں نے ماچس کی ایک ایک تیلی جلا کر دیکھی ہے سب کی سب اصلی ہیں۔
بھکاری ایک شخص سے:خدا کے  نام پر ایک روپیہ دو جو مانگو گے دوں گا، اس شخص نے ایک روپیہ دے دیا-
بھکاری بولا: مانگ اب کیا مانگتا ہے-
اس  شخص نے کہا : مجھے میرا روپیہ واپس کردو-
ایک شاگرد امتحان ہال میں بیٹھا پرچہ دیکھ رہا تھا۔
استاد نے پوچھا: کیوں بھئی کیا پرچہ مشکل ہے۔
شاگرد نے کہا: پرچہ تو مشکل نہیں، مگر میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اس سوال کا جواب میری کس جیب میں ہے۔
بچہ چائینیز سے، کیا تم امریکن ہو۔
چائینیز، نہیں میں چائنیز ہوں۔
بچہ، نہیں تم امریکن ہو۔
چائینیز غصے سے، ہاں ہاں میں امریکن ہوں۔
بچہ، لیکن لگتے تو چائینیز ہو۔
ایک آدمی سبزی لینے گیا سبزی والا باربار سبزی پر پانی مار رہا تھا آدمی انتظار کرتا رہا جب کافی وقت گزر گیا تو آدمی غصے سے بولا۔
بھائی صاحب ! سبزی کو ہوش آگیا ہو تو تول بھی دو۔
کرایہ دار مالک مکان سے، دیکھیں محترم مکان کی ساری چھت ٹپک رہی ہے، کمروں میں، برآمدے میں، آنگن میں سب جگہ پانی ہی پانی ہے، میری مرغیاں ڈوبی جارہی ہیں۔
مالک مکان: تو جناب آپ بطخیں کیوں نہیں پال لیتے۔
ایک پاگل دوسرے سے، تمہیں پتا ہے کہ بھارت اور انڈیا میں جنگ ہو رہی ہے۔
دوسرا پاگل، ہاں ہاں میں نے بھی سنا ہے۔ وہ تو اچھا ہو کہ ہندوستان بیچ میں نہیں آیا ورنہ بڑی تباہی ہوتی۔
شوہر میں تنگ آگیا ہوں، تم ہمیشہ میرا گھر، میری کار ہی کہتی رہی ہو، کبھی ہمارا بھی کہا کرو۔
اب الماری میں کیا ڈھونڈ رہی ہو۔
بیوی: ہمارا دوپٹہ۔
ایک آدمی نے مکھی کی پہچان کا عجیب طریقہ نکالا۔
ایک روز اس نے اعلان کیا کہ آج میں نے چھ مکھیاں ماریں۔ تین نر تھیں اور تین مادہ۔
اس کے دوست نے پوچھا۔ نر اور مادہ کا آپ کو کیسے پتا چلا۔
اس نے جواب دیا: بڑی آسانی سے، تین مکھیاں مٹھائی پر بیٹھی تھیں اور تین آئینے پر۔
ایک کسان کا بیٹا پڑھ لکھ کر دوسرے ملک چلا گیا۔ کچھ دن بعد اس نے اپنے گاوں خط لکھا اور کہا کہ میری فیملی کو یہاں بھیج دیں۔کسان کو فیملی کا مطلب نہیں پتہ تھا۔
کئی لوگوں سے پوچھا،آخر ایک شخص نے فیملی کا مطلب رضائی بتایا۔ کسان نے اپنے بیٹے کو خط لکھا:”تمہاری فیملی کو چوہے کھا گئے ہیں،وہاں سے نئی فیملی خرید لو۔”
مالک:آخر تم نوکری کیوں چھوڑ رہے ہو؟
نوکر:آپ کو مجھ پر اعتماد نہیں ہے۔
مالک:گھر کی تمام چابیاں تو تمہیں دے رکھی ہیں۔
نوکر:لیکن ان میں سے ایک بھی چابی تجوری کو نہیں لگتی۔
استاد دو سگے بھائیوں سے :”تم دونوں نے اپنے والد کا نام مختلف کیوں لکھا ہے”؟
ایک بھائی:”ایک جیسا لکھ دیتے تو آپ کہتے کہ تم دونوں نے نقل کی ہے۔”
استاد: (شاگرد سے) ” تم آج بھی اسکول کا کام نہیں کرکے آئے ۔ مار کھانے کے لیے تیار ہوجاؤ
شاگرد: ”جناب! میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں
استاد: ”وہ کیوں؟“
شاگرد:” میری ماں نے ہدایت کر رکھی ہے کہ ہرچیز کھانے سے پہلے ہاتھ ضرور دھو لیا کرو۔“
پائلٹ(کنٹرول ٹاور سے) ہمارا پٹرول ختم ہو چکا ہے سرگودھا پر، براہ مہربانی ہدایت دیجئے۔
کنٹرول ٹاور(پائلٹ سے) گناہوں کی معافی مانگ لیجئے۔
کرکٹ ٹیم کے منیجر نے کپتان سے کہا ” یہ لو دو سو روپے ۔ نئی گیند خریدو یا کچھ بھی کرو، بس ہمیں یہ میچ ہر قیمت پر جیتنا ہے۔“
جب میچ شروع ہوا تو منیجر نے دیکھا کہ وہی پرانی گیند استعمال کی جارہی ہے۔ ا س نے کپتان کو بلا کر پوچھا۔
”گیند بھی نئی نہیں خریدی میری رقم کا کیا کیا؟“
”آپ ہی نے تو کہا تھا کہ ہمیں ہر قیمت پر میچ جیتنا ہے۔ چنانچہ ہم نے وہ دو سو روپے امپائر کو دے دیئے۔“ا
” میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم آٹھویں میں پاس ہوگئے تو تمہیں سائیکل خرید کر دوں گا مگر تم تو فیل ہوگئے ۔ آخر سارا سال تم کیا کرتے رہے؟“ باپ نے غصے سے اپنے بیٹے سے پوچھا۔
”وہ میں سارا سال سائیکل چلانے کی مشق کرتا رہا۔“ بیٹے نے معصومیت سے جواب دیا۔
مالک (نوکرسے) ” میں ذرا کام سے باہر جا رہا ہوں تم ہوشیاری سے کام لینا۔اور ہاں! اگر کوئی گاہک آئے تو اس سے ادب سے پیش آنا۔
تھوڑی دیر بعد مالک واپس آیا تو نوکر سے پوچھا ” کوئی آیا تھا؟
نوکر: جی ایک شخص آیا تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر کھڑے ہو جائو۔ میں نے اس کا حکم ادب سے مانا اور وہ تجویری اٹھا کر لے گیا۔
باپ اپنے بیٹے سے:یہ کیا یے؟تمہارے ٹیسٹ میں 0 نمبر ہیں؟
بیٹا:نہیں ابو ٹیچر کہ پاس اسٹار ختم ہو گئے تھے تو انہوں نےسیارے دینے شروع کر دیے
ماں اپنے لاڈ لے بیٹے سے:بیٹا!جب تم بڑے ہو کر جہاز چلاؤ گے تو مجھے کیسے پتا چلے گا کہ میرا بیٹا جہاز چلا رہا ہے؟
بیٹا:ماں میں جب بھی گھر کے اوپر سے گزروں گا،ایک بم پھنک دیا کروں گا۔
یہ ایک ڈراؤنی کہانی ہے
اگر ہمت ہے تو پڑھو۔
ایک دفعہ ایک بھیانک بوڑھا تیز بارش میں ، ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں بیچ رہا تھا۔
ایک آدمی اس سے خریدنے آیا۔
بوڑھے نے 300 روپے میں ایک کتاب بیچی۔
اور کہا:
کتاب کا آخری صفحہ نہ کھولنا ۔۔۔۔
ورنہ۔۔۔۔۔
پچھتاؤ گے۔
اس آدمی نے پوری کتاب ڈرتے ہوئے پڑھی
سوائے
اس آخری صفحے کے۔
ایک دن
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے ڈرتے ہوئے آخری صفحہ کھولا
اور
اس کو بری طرح جھٹکا لگا۔
اس پہ لکھا تھا:
*
*
*
*
*
*
*
قیمت: 30 روپے ۔

یہ ایک سچّا واقعہ ہے جو پچھلے مہینے لونا والا کے پاس پیش آیا ـ ہوا یوں کہ ایک لڑکا ممبئی سے پُنے اپنی کار سے جا رہا تھا، گھاٹ کے قریب اُسکی کار خراب ہوگئی دور دور تک کوئی نظر بھی نہیں آ رہا تھا ـ پھر وہ لِفٹ لینے کے چکر میں سڑک کے کنارے کنارے چلنے لگا ـ رات اندھیری اور طوفانی تھی، پانی جھماجھم برس رہا تھا وہ پوری طرح بھیگ کر تھر تھر کانپنے لگا ـ اُسے کوئی کار نہیں ملی اور پانی اِتنا تیز برس رہا تھا کہ کچھ میٹر دور کی چیزیں بھی دکھائی نہیں رہی تھیں ـ تبھی اُس نے ایک کار کو اپنی طرف آتے دیکھا، جب کار اُس کے قریب آئی تو رفتار دھیمی ہوگئی ـ لڑکے نے آو دیکھا نہ تاو، جھٹ سے کار کا پچھلا دروازہ کھولا اور اندر کود گیا ـ جب اُس نے اپنے مدد گار کو شکریہ ادا کرنے آگے جھکا تو اُسکے ہوش اُڑ گئے کیونکہ ڈرائیور کی سیٹ خالی تھی ـ ڈرائیور کی سیٹ خالی اور انجن کی آواز نہ ہونے کے باوجود بھی کار سڑک پر چل رہی تھی ـ تبھی لڑکے نے آگے سڑک پر ایک موڑ دیکھا، اپنی موت کو نزدیک دیکھ وہ لڑکا زور زور سے خدا کو یاد کرنے لگا ـ تبھی کھڑکی سے ایک ہاتھ آیا اور اُس نے کار کے سٹیرنگ وھیل کو موڑ دیا ـ کار آسانی سے مڑتے ہوئے آگے بڑھ گئی ـ لڑکا ہیبت زدہ دیکھتا رہا کہ کیسے ہر موڑ پر کھڑکی سے ایک ہاتھ اندر آتا اور سٹیرنگ وھیل کو موڑ دیتا ـ آخر کار اُس لڑکے کو کچھ دوری پر روشنی دکھائی دی ـ لڑکا جھٹ سے دروازہ کھول کر نیچے کودا پھر دیوانہ وار روشنی کی طرف دوڑا ـ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، قریب ہی ایک دھابے میں رُکا اور پینے کیلئے پانی مانگا ـ پھر وہ بری طرح رونے لگا ـ لوگوں نے دلاسہ دیکر پوچھا تو اُس نے اپنی بھیانک کہانی سنانی شروع کی، دھابے میں سنّاٹا چھا گیا تبھی سنتا اور بنتا دھابے میں پہنچے اور سنتا لڑکے کی طرف اِشارہ کرکے بنتا سے بولا کہ اُوے یہی وہ بیوقوف لڑکا ہے نا جو ہماری کار سے کودا تھا جب ہم کار کو دھکا لگا رہے تھے ـ

مارچ 4, 2011 at 07:25 تبصرہ کریں

جیسے کو تیسا

ایک بڑھیا تھی۔ وہ بڑھیا اپنا سارا گہنا پاتا پہن کر کہیں جا رہی تھی۔  گہنا کیا تھا؟ یہی کانوں میں جھمکے تھے۔ باہوں میں گنگن تھے اور گلے میں ہار تھا۔ مگر یہ سارے زیور تھے سونے کے۔ بے چاری بڑھیا کے پیچھے دو ٹھگ لگ گئے۔ دونوں بڑے چال باز، مکار اور عیار تھے۔ دونوں آپس میں گہرے دوست تھے۔ دونوں چاہتے تھے کہ بڑھیا سے سارے کا سارا زیور ہتھیا لیں۔ لیکن بڑھیا نے بھی اپنے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے تھے، وہ ٹھگ تو ٹھگ تھے ہی…. یہ بڑھیا ان کی بھی نانی تھی۔
ایک ٹھگ نے آگے بڑھ کر علیک سلیک کے بعد پوچھا کہ بڑی اماں کہاں جا رہی ہو؟
بیٹا! شہر جا رہی ہوں بڑھیا نے جواب دیا۔
پھر تو خوب ساتھ ہوا۔ بڑی اماں ہم بھی تو شہر ہی جارہے ہیں۔ دوسرا ٹھگ بولا۔
ہاں بیٹا! اچھا ہوگیا۔ بڑھیا نے کہا۔
تھوڑی دور چلنے کے بعد ایک ٹھگ بولا۔
بڑی اماں کوئی کہانی ہی سناﺅ جس سے سفر کی تھکان معلوم نہ ہو اور وقت بھی جلد کٹ جائے۔
بیٹا! میں بھلا کون سی کہانی سناﺅں؟ تم ہی کچھ کہو۔
ہم سنائیں۔ دوسرا ٹھگ بولا۔ مگر بڑی اماں ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ اگر تم نے ہماری کہانی کو جھوٹ کہا تو ہم تمہارے کنگن اتار لیں گے۔ بڑھیا نے ان کی یہ شرط مان لی اور ایک ٹھگ کہانی سنانے لگا۔
بڑی اماں! ہماری ایک گائے تھی۔ بڑی خوب صورت موٹی موٹی آنکھیں تھیں اس کی۔ لمبے لمبے کان تھے۔ دودھ اتنا دیتی تھی کہ ہم دوہتے دوہتے تھک جاتے تھے لیکن دودھ پھر بھی ختم نہ ہوتا تھا۔ اس میں خاص بات یہ تھی کہ اگر ہم اس کے داہنے سینگ پر بیٹھ جاتے تو مغرب میں پہنچ جاتے اور جب بائیں پر بیٹھتے تو مشرق میں آجاتے۔
پاکستان بننے پر جب ہم قافلے کے ساتھ پاکستان آرہے تھے تو ہم پر فسادیوں نے حملہ کر دیا۔ ایک سنسناتی ہوئی گولی آئی اور ہماری گائے کو لگی جس سے بے چاری وہیں ڈھیر ہو گئی۔
بڑا افسوس ہوا۔ بڑھیا نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
بڑی اماں! اب تم کچھ سناﺅ۔ ٹھگ نے تیر نشانے پر نہ لگتے دیکھ کر کہا۔
میں سناﺅں؟ بڑھیا نے کہا۔ اگر تم نے میری بات کو غلط جانا تو تمہیں ایک سو روپیہ دینا پڑے گا۔
ٹھگو نے کہا۔ ہمیں منظور ہے۔
تو پھر سنو بیٹوں! جب میری شادی ہوئی تو میرے والد نے ایک بیل بھی مجھے جہیز میں دیا۔ بڑا اچھا بیل تھا۔ کسی کو کچھ نہ کہتا تھا، ایک دفعہ یوں ہی باہر کھیت میں کوئی دوسرا بیل اس سے لڑ پڑا۔ ایسا لڑا کہ ہمارے بیل کے ماتھے پر اچھا خاصا زخم ہو گیا ہم نے بہیترے علاج کرائے لیکن زخم نہ بھر سکا…. کرنا خدا کا یوں ہوا کہ بنولے کا دانہ اس کے زخم میں کہیں سے گر گیا۔ ہوتے ہوتے وہ اچھا خاصا پودا بن گیا۔ اس میں ایسی نفیس کپاس لگی کہ تمہیں کیا بتاﺅں، وہ کپاس ہم نے جمع کرنی شروع کر دی۔ اتنی کپاس جمع ہو گئی کہ اب گھر میں جگہ نہ رہی، گھر گھر ہمارے بیل کے چرچے ہونے لگے، بڑی بڑی دور سے لوگ اس انوکھے بیل کو دیکھنے کے لیے آتے۔ اس کی کپاس کو دیکھتے اور تعریفوں کے پل باندھ دیتے۔ اب ہمارے پاس اتنی زیادہ کپاس ہو گئی کہ سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ ہم نے اسے بیلوا کر کاٹنا شروع کیا اور اس کا کپڑا لتا بنانے لگے، کئی قسم کے کپڑے بنوائے، جن میں کھیس بھی تھے، ان کھیسوں میں سے دو کھیس کہیں چوری ہو گئے۔ بیٹا! خدا جھوٹ نہ بلوائے، یہ کھیس جو تم اوڑھے ہوئے ہو، وہی ہیں جو چوری ہوئے تھے۔ مہربانی کر کے یہ کھیس اتار دو۔
دونوں ٹھگوں نے اپنے کھیس بڑھیا کو دے دیے اور کرتے بھی کیا۔ شرط جو تھی۔ مجبور تھے۔
ہاں تو بیٹا! بڑھیا نے پھر کہانی کا سلسلہ شروع کیا۔ ہم نے اس کپاس میں سے ململ کے تھان بنوائے۔ ململ کے تھانوں میں سے ایک تھان گم ہو گیا۔ یہ جو تمہاری پگڑیاں ہیں، اسی تھان کی ہیں، یہ بھی اتاردو۔
انہوں نے پگڑیاں بھی اتار دیں۔ نہ اتارتے تو شرط کے مطابق سو روپیہ دیتے۔
اب شہر نزدیک ہی تھا۔ ایک ٹھگ بولا۔ بڑی اماں! بھوک لگ رہی ہے۔
اچھا بیٹا! شہر آیا ہی سمجھو۔ مجھے اپنے کنگن بیچنے ہیں۔ کنگن بیچ لیں اور پھر آرام سے کسی جگہ بیٹھ کر کھانا کھائیں گے۔
وہ خاموش ہو گئے اور سوچنے لگے کہ بڑھیا کنگن بیچ لے پھر کوئی داﺅ چلائیں گے۔ وہ بڑھیا کے ساتھ چلتے ہوئے اپنی دماغی سڑکوں پر تدبیروں کے گھوڑے دوڑانے لگے۔
اب وہ شہر میں پہنچ گئے تھے۔ ہر طرف خوب چہل پہل تھی۔ کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ بڑھیا نے اپنے کنگن اتار لیے اور ان سے کہنے لگی:
بیٹا! سنار کی دکان آ گئی ہے۔ تم یہاں بیٹھو میں اپنے کنگن بیچ لوں۔
وہ سنار کی دکان کے قریب ہی بیٹھ گئے اور بڑھیا سنار کی دکان پر پہنچ گئی۔
کیا چاہیے اماں تمہیں؟ سنار نے پوچھا۔
میں اپنے دو نوکر بیچنا چاہتی ہوں وہ سامنے بیٹھے ہیں۔
نوکروں کی تو ہمیں بہت ضرورت ہے۔
سنار نے کہا۔ بولو اماں! کیا قیمت ہے ان دونوں کی؟
تین سو روپے۔ بڑھیا نے کہا اور بات دو سو روپے پر طے ہو گئی۔
میں نوکروں سے پوچھ لوں کہ ان میں سے ایک بکنا چاہتا ہے یا دونوں؟ بڑھیا نے کہا اور پھر بلند آواز سے پوچھنے لگی۔ بیٹا! ایک بیچوں یا دونوں؟
ادھر سے جواب ملا۔ اماں! دونوں بیچ دے۔ ایک کو کہاں رکھے گی؟
بڑھیا نے دو سو روپوں میں دونوں ٹھگوں کو سنار کے ہاتھ بیچ دیا اور ان کے پاس آ کر کہنے لگی۔ بیٹا! تم یہیں بیٹھو۔ میں تمہارے لیے کھانا لے کر آتی ہوں۔
کچھ مٹھائی بھی لیتی آنا اماں! دونوں نے کہا اور بڑھیا اچھی بات کہہ کر نو دو گیارہ ہو گئی۔
تھوڑی دیر بعد سنار نے انہیں بلایا اور دریاں جھاڑنے کا حکم دیا تو ان کو حقیقت معلوم ہوئی اور انہوں نے کہا۔
ارے وہ تو ہماری بھی نانی نکلی۔

فروری 24, 2011 at 05:55 تبصرہ کریں

جادو کا موتی

ویت نام کے کسی گاؤں میں ایک شکاری رہتا تھا۔ اس کا  نام  ڈائزنگ تھا اور وہ اکیلا ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ ایک دن وہ شکار تلاش کر رہا تھا کہ اُسے ایک شکرا نظر آیا جو سانپ پر جھپٹنے ہی والا تھا۔ ڈائزنگ کو سانپ پر ترس آ گیا ۔اُس نے تیر سے شکرے کو مار گرایا۔
سانپ بھاگتے بھاگتے رک گیا پھن اُٹھا کر ڈائزنگ کو دیکھا اور پھر بولاٴٴتمہارا بہت بہت شکریہ ڈائزنگٴٴ۔ تم نے مجھ پر جو احسان کیا ہے۔ میَں اُس کا بدلہ دینا چاہتا ہوں۔ یہ لو۔ یہ جادو کا موتی ہے۔ اِسے زبان کے نیچے رکھو گے تو دنیا کے ہر جانور کی بولی کا مطلب سمجھ سکو گے، لیکن ایک بات یاد رکھنا اپنے اِس علم کو نیک کاموں میں استعمال کرنا۔
پھر اچانک سانپ غائب ہوگیا۔ اُسی وقت ڈائزنگ کو ایک پہاڑی کوے کی کائیں کائیں سنائی دی۔ اُس نے جادوئی موتی زبان کے نیچے رکھا اور کوے کی کائیں کائیں کی طرف کان لگا دئیے کوا کہہ رہا تھاٴٴیہاں قریب ہی ایک جھاڑی میں ایک موٹا تازہ ہرن بیٹھا ہے۔ اگر تم وعدہ کرو کہ اُس کی کلیجی مجھے دے دو گے تو میَں تمھیں اُس تک لے جاؤں گا۔ کوا ڈائزنگ کو اُس جھاڑی کے پاس لے گیا، ڈائزنگ نے تیر سے ہرن کو شکار کیا اُس کی کلیجی کوئے کو دی اور گوشت گھر لے گیا۔ پھر وہ کوے کے ساتھ مل کر شکار کرنے لگا۔ دونوں خوش تھے۔ ڈائزنگ کو شکار کے لیے زیادہ دوڑ دھوپ کرنی نہیں پڑتی تھی اور پہاڑی کوئے کو مفت میں کلیجی مل جاتی تھی۔
ایک دن کوے کو آنے میں دیر ہوگئی تو ڈائزنگ اکیلا ہی شکار کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ کچھ دیر بعد اُس نے ایک شکار مارا اور اُس کی کلیجی درخت شاخ پر رکھ دی کہ کوا آ کر کھا لے گا، لیکن وہ کلیجی کوئی دوسرا پرندہ کھا گیا۔ اتنے میں کوا کائیں کائیں کرتا ہوا آ گیا ۔ اُسے کلیجی نہیں ملی، تو اُس نے ڈائزنگ کو خوب بُرا بھلا کہا۔ ڈائزنگ کو غصہ آ گیا۔ اُس نے کمان میں تیر لگایا اور کوئے پر نشانہ لگایا۔ کوا اُچھل کر ایک طرف ہو گیا اور تیر کچھ دور جا کر زمین پر گر پڑا۔
کوا چیخ کر بولاٴٴپہلے تم نے وعدہ خلافی کی اور اب میری جان لینے کی کوشش کی ۔ تمھیں اِس کی سزا ملے گیٴٴ۔ یہ کہہ کر اُس نے تیر کو چونچ میں دبایا اور گائوں کی طرف اُڑ گیا۔ گائوں کے پاس ایک نہر تھی اُس نہر میں کسی آدمی کی لاش پڑی تھی۔ شاید ڈوب کر مرگیا تھا کوے نے ڈائزنگ کا تیر مردے کے جسم میں گھونپ دیا اور جنگل کی طرف اُڑ گیا۔ کچھ دیر بعد چند لوگ نہر کے پاس سے گزرے۔ اُنھوں نے نہر میں لاش دیکھی تو رک گئے لاش میں تیر لگا ہوا تھا۔ یہ تیر ڈائزنگ کا تھا۔ اُنھوں نے پولیس کو خبر کردی اور پولیس نے ڈائزنگ کو قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا۔
اب بے چارہ ڈائزنگ جیل کی کال کوٹھڑی میں پڑا آہیں بھرتا رہا۔ اُس کوٹھڑی میں بس مکھی مچھر تھے یا پسو اور چوہے جو اِدھر اُدھر دوڑتے پھرتے تھے۔ ڈائزنگ نے سوچا چلو اُنہی کی باتیں سن کر وقت گزاروں۔ اب وہ صبح ہوتے ہی جادوئی موتی زبان کے نیچے رکھ لیتا اور اُن جانوروں کی باتیں سنتا۔ ایک صبح ایک چڑیا دوسری چڑیا سے کہہ رہی تھی ٴٴاُس ملک کا بادشاہ بہت بے وقوف ہے۔ اُس کے غلے کے گودام سے روز رات کو چور چاولوں کی بوریاں چرا کر لے جاتے اگر یہی حال رہا تو چند دنوں میں سارا گودام خالی ہو جائے گاٴٴ۔
ڈائزنگ نے جیلر کو بلایا اور اُسے یہ بات بتائی۔ جیلر کو اُس کی بات کا یقین نہ آیا۔ اُس نے کہا تم کوئی جادو گر ہو کہ تمھیں یہاں بیٹھے بیٹھے چوری کی خبر مل گئی؟ ڈائزنگ بولا ٴٴمیری بات غلط ہو تو مجھے پھانسی دے دیناٴٴ۔
جیلر نے کوتوال سے بات کی کوتوال نے وزیر کو اطلاع دی اور وزیر نے یہ بات بادشاہ کو بتائی۔ اُسی رات بادشاہ کے سپاہیوں نے گودام پر چھاپہ مارا اور چوروں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گودام کے چوکیدار چوروں سے ملے ہوئے تھے وہ بھی پکڑے گئے۔ بادشاہ نے خوش ہوکر وزیر کو 100اشرفیاں دیں وزیر نے خوش ہوکر کوتوال کو 10اشرفیاں دیں۔ کوتوال نے خوش ہوکر جیلر کو ایک اشرفی دی۔ ڈائزنگ کو پھوٹی کوڑی بھی نہ ملی۔ چند دن بعد ڈائزنگ نے دیکھا کہ اُس کی کوٹھڑی کی چیونٹیاں باہر بھاگ رہی ہیں۔ ایک چیونٹی کہہ رہی تھی ٴٴچلو چلو کسی اونچی جگہ چلو۔ پہاڑوں پر موسلادھار بارشیں ہو رہی ہیں۔ سیلاب آنے والا یہ تمام گائوں کھیت اور کھلیان بہہ جائیں گےٴٴ۔
ڈائزنگ نے یہ بات جیلر کو بتائی۔ جیلر نے کوتوال کو بتائی کوتوال نے وزیر سے کہا اور وزیر نے بادشاہ کو بتایا۔ بادشاہ نے اسی وقت گاؤں گاؤں ہر کارے بھیج کر لوگوں کو خبردار کر دیا۔ لوگوں نے جلدی جلدی دریاؤں کے کنارے اونچے کئے اور کنکر پتھر ڈال کر پشتوں کو مضبوط کر دیا۔ اور اِس طرح سیلاب کا پانی بغیر کوئی نقصان پہنچائے گزر گیا۔
بادشاہ نے وزیر سے پوچھا ٴٴتمھیں یہ باتیں کون بتاتا ہے؟ٴٴ وزیر نے کہا کوتوال۔ کوتوال بولا جیلر اور جیلر بولا ڈائزنگ جو میری جیل میں قید ہے۔ بادشاہ نے اسی وقت ڈائزنگ کو بلایا اور اُس سے دریافت کیا کہ تمھیں یہ باتیں کیسے معلوم ہوتی ہیں؟ڈائزنگ نے سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔ بادشاہ بہت خوش ہوا۔ اس نے ڈائزنگ کو اپنا وزیر بنا لیا۔
بادشاہ سلطنت کے کام کاج سے فارغ ہوتا تو ڈائزنگ کو لے کر کسی باغ یا جنگل میں چلا جاتا اور ڈائزنگ اسے مختلف جانوروں کی باتیں سناتا۔ بادشاہ بہت خوش ہوتا اور اُسے خوب انعام و اکرام دیتا۔ ڈائزنگ عیش و آرام میں ایسا مست ہوا کہ اپنے گاؤں کے اُن لوگوں کو بھی بھول گیا جو آڑے وقتوں میں اُس کی مدد کرتے تھے۔ ایک دن بادشاہ نے دریا کی سیر کا ارادہ کیا۔ پانی میں رنگ برنگ مچھلیاں تیر رہی تھیں اور ڈائزنگ اُن کی دلچسپ باتیں بادشاہ کو سنا رہا تھا اچانک ایک مچھلی نے کوئی ایسی بات کہی کہ جسے سن کر ڈائزنگ نے زور دار قہقہہ لگایا۔ اُس کا منہ کھلا تو موتی پانی میں گر پڑا۔ بادشاہ نے غوطہ خوروں کو حکم دیا کہ وہ پانی میں سے موتی نکال کر لائیں۔ غوطہ خوروں نے تمام دریا کھنگال ڈالا موتی کا کہیں پتا نہ چلا۔
بادشاہ کچھ دن اُداس رہا پھر اُس نے اپنی تفریح کا دوسرا سامان کر لیا اور ڈائزنگ کو محل سے نکال دیا۔ ڈائزنگ رنجیدہ ہو کر دریا کے کنارے بیٹھ گیا اور ریت میں موتی تلاش کرنے لگا، لیکن بے سود۔ اُسی طرح کئی دن گزر گئے۔ اُس کی کمر جھکے جھکے کبڑی ہوگئی۔ ہاتھ پائوں اکڑ گئے اب اُس سے کھڑا نہ ہوا جاتا تھا ۔ وہ کیکڑا بن گیا تھا۔
آپ کو کبھی جنوبی چین کے ساحلوں پر جانے کا اتفاق ہو تو آپ کو وہاں سینکڑوں چھوٹے چھوٹے کیکڑے اپنے پنجوں سے ریت کھودتے اور اس میں کچھ تلاش کرتے نظر آئیں گے لوگ کہتے ہیں کہ ڈائزنگ کی اولاد ہیں اور اُس موتی کو تلاش کر رہے ہیں جو سینکڑوں سال پہلے دریا میں گر گیا تھا۔

دسمبر 30, 2010 at 08:28 1 comment

ماسی ریشم اور قدرت کا انوکھا انتقام

(جو لوگ غرور اور تکبر کرتے ہوئے رشتوں کا احترام بھول جاتے ہیں، ایسے ہی ایک خاندان کی کہانی جو نہایت عبرتناک ہے)

ماسی ریشم دور کے رشتے میں میری خالہ تھی ۔ا س کی شادی سیالکوٹ کے نواح میں مشہور قصبے کوٹلی بہرام میں ہوئی تھی۔ یہ بات 30-1920 کی ہے ورنہ اب تو کوٹلی بہرام سیالکوٹ کا ایک محلہ بن گیا ہے اور شہر اس سے بہت آگے تک پھیل گیا ہے. ماسی ریشم کی شادی کوٹلی بہرام میں ہوئی ۔ اُس کا خاوند قریب ہی کے گاﺅ ں گودھپور میں زمینداراہ کرتا تھا۔ ان کی ایک بیٹی ہو ئی اور ماسی کا خاوند وفات پا گیا۔ اس طرح ایک خوبصورت طر ح دار لڑکی کو عین جوانی میں بیوگی کے شدید ترین المیے سے دوچار ہو نا پڑا ۔ ماسی ریشم ان پڑھ تھی لیکن بہت تیز طرار اور ذہین تھی اور بہا در بھی ۔ اس کے مرحوم خاوند کے بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ وہ ان میں سے کسی سے شادی کر لے یا پھر اس گھر سے نکل جائے ، مگر وہ کسی دباﺅ میں نہ آئی۔ اس نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا اور خاوند کے حصے کی زمین حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ بعد میں اس نے کوٹلی بہرام کی رہائش گاہ ترک کر دی اور گودھپور میں ایک مختصر سا مکان بنا کر وہاں منتقل ہو گئی ۔

ماسی ریشم کی بیٹی رشیداں جوان ہو گئی تو اس کی شادی اپنے گاﺅں ہی میں ایک نوجوان خادم سے ہو گئی ۔ خادم حسین ایک غریب ، بے سہارا نوجوان تھا اور ڈرائیوری کرتا تھا ۔ ماسی نے اسے اپنے گھر ہی میں ٹھہرا لیا اور اس طر ح دونوں خوش اور مطمئن ہو گئے ۔ ایک تو گھر کے لئے ایک مر د مل گیا ، دوسرا اس کو بیوی کے ساتھ ایک ماں بھی مل گئی اور چھت کا سایہ بھی ۔ لیکن خادم حسین کی بدنصیبی کہ ما سی ریشم اپنی بعض خوبیوں کے باوجود بدمزاج اور مغرور عورت تھی ۔ لحا ظ نام کی کوئی چیز اس میں نہ تھی اور اسے احساس تک نہ ہوتا تھا کہ کسی کی عزت نفس کا پاس کیا جاتا ہے ۔ وہ مخاطب کو کھڑے کھڑے تول کر رکھ دیتی اور اس کی توہین و تذلیل میں کو ئی کسر اٹھا نہ رکھتی ،چنانچہ اپنی عادت سے مجبور ہو کر وہ خادم حسین کو خوب خوب کچوکے لگاتی اور اسے ذلیل و خوار کر کے شاید اسے تسکین ملا کرتی ۔ خادم حسین ایسے مو قعہ پر فریاد طلب نگاہو ں سے اپنی بیوی رشیداں کی طر ف دیکھا کر تا ، لیکن وہ بےنیازی اور بےتکلفی کا انداز اختیار کر کے خاموش رہتی ۔

تنہائی کا موقع ملتا تو ساس کے رویے کی شکایت بھی کرتا ، مگر رشیداں کا مزاج بھی بہت حد تک اپنی اماں سے ملتا جلتا تھا، اکلوتی لا ڈلی ہو نے کی وجہ سے غرور اور بے نیا زی کا عنصر اس میں بھی بد درجہ اتم تھا، چنا چہ اپنی ماں کے خلاف شوہر کی شکایت سن کر وہ برا سا منہ بنا لیتی اور خادم حسین شرمندہ ہو کر چپ ہو جاتا ۔ مزید مصیبت یہ تھی کہ خادم حسین کو رشیداں سے تنہائی کے مواقع بہت کم ملتے تھے ۔ پرانی طرز کا ایک ہی بڑا سا کمرہ تھا جس میں یہ تینو ں افراد رہتے تھے اور ماسی ریشم ایک بے رحم ، بے حس محتسب کی طر ح کڑی نظروں سے دونوں کی نگرانی کرتی تھی ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود رشیداں بی بی نے ایک بیٹے کو جنم دے دیا اوریہ اپنی نو عیت کا پہلا اور آخری حادثہ ثابت ہوا۔ یہی وہ حالات تھے جب خادم حسین بےبس اور پریشان ہو کر ادھر ادھر ہا تھ پاﺅ ں مارنے پر مجبور ہو گیا ۔ وہ بھی خوبصورت تھا، جوان رعنا تھا اور خوش ذوق تھا، چنانچہ اس نے سیالکوٹ شہر ہی میں ایک لڑکی سے تعلقات استوار کر لئے اور اسے اپنی توجہات کا مرکز بنا لیا، چنانچہ اب اس نے ساس کے گھر میں آنا کم کر دیا اور ایک روز سنا کہ خادم حسین نے اس خاتون سے باقاعدہ شادی کرلی۔

خادم حسین کی دوسری شادی کی خبر ماسی ریشم اور اس کی بیٹی پر بجلی بن کر گری ۔ پہلے چند دن تو انہو ں نے خوب واویلا کیا، سینہ کوبی کی ۔ خادم حسین کا ماتم کیا اور پھر اس کا نام آتے ہی وہ زخمی شیرنیو ں کی طر ح غرانے لگتیں اور اس کی سات پشتوں کو بے نقط سنا ڈالتیں لیکن عملاً وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھیں ۔ خادم حسین نے ان کے ہاں آنا جانا بالکل ترک کر دیا تھا ۔ ماسی ریشم اگرچہ نما ز روزے کی پابند تھی ، لیکن وہ ہمیشہ ہی سے قبروں ، درگاہو ں کی پرستار تھی ۔ وہ بڑی ہی باقاعدگی کے ساتھ ہر جمعرات کو امام صاحب کے مزار پر حاضری دیتی (سیالکوٹ میں ایک شہید بزرگ کا مزار) قبر شریف کا طواف کرتی ، حتیٰ کہ سجدے میں گر جاتی تھی ۔ اسی طر ح وقتاً فوقتاً بابل شہید کے قبرستان میں بھی حاضر ہونا اس کے نزدیک گویا فرض واجب تھا ۔ وہا ں بہت سے بزرگوں اور شہیدوں کے مزار ہیں ۔ وہ باری باری سب کے ہا ں حاضر ہوا کرتی اور ان کی خدمت میں اپنی حاجتیں پیش کرتی ۔ خادم حسین کی شادی کا حادثہ پیش آیا تو مقبروں پر دونوں ماں بیٹی کی حاضریو ں کا تناسب کہیں بڑھ گیا ۔

کوئی دن نہ جاتا کہ وہ ارد گرد کی درگاہوں پر حاضر نہ ہوا کرتیں ، کبھی بابا ملو ک شاہ پر ، کبھی منڈیر شریف اور کبھی ہمارے گاﺅں کے قریب نہر کنارے کوﺅں والے سائیں کے پاس۔ راستے میں وہ خادم حسین اور اس کے آباﺅ اجداد کو منہ بھر بھر کے گالیاں دیا کرتیں اور قبر پر جا تے ہی سجدے میں گر جاتیں ۔ قبر کے چکر ضرور لگا تیں اور پائنتی کی طرح کھڑے ہو کر آنسو بہاتیں ۔ یہ ان کا مستقل معمول بن گیا تھا ۔ آخر کا ر ان کی تگ و دو رنگ لائی اور قسمت کا مارا خادم حسین ایک روز اپنی دوسری بیوی کو لیکر گودھپور انکے گھر آ گیا ۔ پتہ نہیں اسے کیا زعم تھا یا وہ کسی خو ش فہمی میں مبتلا تھا۔ بہرحال ان دونو ں کو کمرے میں بٹھا کر ریشم بی بی چپکے سے باہر نکلی اور پڑوس سے ایک قریبی رشتہ دار کو بلا لائی جس نے کمال چابک دستی سے خادم حسین کے ہا تھ باندھے اور پھر ڈنڈوں اور جوتوں سے دونو ں کی وہ ٹھکائی کی کہ خادم کے چودہ طبق روشن ہو گئے ۔

ا س کارِخیر میں اُس کے بارہ سالہ بیٹے عامر نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ وہ زمین پر گرے ہوئے اپنے سگے باپ پر بار بار جو تے برساتا اور اس کی دوسری بیوی پر بھی خو ب خو ب غصہ نکالتا اوراس وقت تو ماسی ریشم اور رشیداں دونو ں قہقہہ لگا کر خو ب ہنسیں جب عامر نے قینچی لیکر اپنی سوتیلی ماں کے بال کا ٹ ڈالے تھے ۔ جسے اسی ریشم نے اپنے نواسے کے کارنامے کے طور پر ایک عرصہ تک کمرے کے ایک کونے میں لٹکا ئے رکھا تھا. بہرحال خادم حسین کی وہ درگت بنی کہ شاید ہی کسی عاشق کی بنی ہوگی ۔ اسے انہو ں نے پانی پلا پلا کے مارا اور جب اس کے لیے اپنے پاﺅں پرکھڑے ہونا محال ہو گیا تو پڑوسی عامر نے سہارا دے کر دونوں میاں بیوی کو سڑک تک پہنچایا اور تانگے پر بٹھا کر سیالکوٹ روانہ کر دیا ۔ غیر معمولی توہین و تذلیل کا یہ عمل خادم حسین کے لئے اتنا سبق آموز ثابت ہوا کہ وہ جلد ہی بیوی اور دو بیٹیو ں کو لیکر کراچی چلا گیا ۔ اس نے سیا لکوٹ کی سکونت کو مستقل طور پر ترک کر دیا اور پھر کبھی واپس لو ٹ کر نہ آیا ۔ اب ماسی ریشم اور رشیداں بی بی کی ساری امیدوں کا واحد مر کز عامر تھا ۔

وہ اسکو ل میں پڑھتا تو تھا لیکن اپنے اکلو تے ہو نے کا بھرپور فائدہ اٹھانا جانتا تھا۔ اسے یہ بھی شعور تھا کہ وہ مستقبل میں اچھی خاصی قیمتی جائیداد کا مالک بنے گا ، اس لئے اس نے آوارگی کا ہر وہ چلن اختیار کر لیا جو اس کے بس میں تھا ، چنانچہ اس نے کم از کم دو اضافی سال میٹرک میں لگائے اور تیسرے سال میں بڑی مشکلو ں سے تیسرے درجے میں امتحان پاس کر لیا اور چونگی محرر کی حیثیت سے ملا زم ہو گیا۔ اس کے لیے اس کی نانی نے خاصی بڑی رقم رشوت میں لگائی تھی ۔

یہ 67-1966 کی بات ہے ۔ اس کی تنخواہ ستر روپے مقرر تھی۔ میں نے اکتوبر 1966ء میں ایم ۔اے کا امتحان دیا تھا اور مجھے فوری طور پر اپنے علا قے ہی میں ایک پرائیوٹ کالج میں لیکچرر شپ مل گئی تھی ۔ میری ڈھائی سو روپے تنخواہ لگی تھی اور میری والدہ نے ایک دن تعجب سے کہا تھا: تم نے سولہ جماعتیں پڑھی ہیں اور ڈھائی سو روپے تنخواہ لے رہے ہو جبکہ ریشم کا نواسہ تنخواہ کے علاوہ روزانہ اپنی ماں کو پچا س روپے لا کر دیتا ہے۔ چنانچہ اس کی بد عنوانی اور غیر ذمہ داری نے اپنا آپ دکھایا اور اسے چھ ہی ماہ کے بعد نوکری سے برطر ف کر دیا گیا ۔ اب ماسی ریشم نے گودھپور والی زمین میں سے کچھ حصہ فروخت کر دیا اور کوٹلی بہرام کے موڑ پر سڑک کے کنا رے اپنے ایک کمرشل پلاٹ پر آٹھ دکا نیں تعمیر کر ڈالیں۔ ان میں سے دو میں عامر نے سٹیشنری اور جنرل سٹور بنا لیا۔ تجا رتی نقطہ نگاہ سے دکا نیں بڑے ہی اچھے ٹھکانے پر تھیں . جہا ں مستقبل میں کاروبار چمکنے کے امکانات بہت روشن تھے ۔

باقی دوکانیں کرائے پر دے دی گئیں اور عامر کی شادی کر دی گئی ۔ اسے عامر کی خوش قسمتی ہی سے تعبیر کرنا چاہئے کہ اس کی بیوی ایک تربیت یافتہ ملازمت پیشہ نرس تھی ۔ وہ سگھڑ اور سمجھ دار بھی تھی ، لیکن عامر نے گویا قسم کھا رکھی تھی کہ وہ عقل سے کام نہیں لے گا اور ہر معاملے میں چھچھورے پن کا مظاہرہ کرے گا، چنانچہ اس نے اردگرد کے گرلز اسکولوں کی استانیوں سے خاص اپنائیت کا تعلق قائم کر لیا اور انہیں دل کھول کر اسٹیشنری کا سامان ادھار پر دیتا رہا ۔ وہ تحفے تحائف دینے میں بھی بڑا فراخ دل واقع ہوا تھا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی دکا نداری بڑی ہی مشکلو ں سے ایک سال تک چلی ، سرمایہ ختم ہو گیا اور اسے کا روبار کا سلسلہ معطل کرنا پڑا ، تاہم وہ چنداں پریشاں نہ تھا ۔ گھر کا نظام دکا نو ں کے کرائے اور بیوی کی نوکری کے سہارے چل رہا تھا۔

مکمل فراغت کا فیضان عامر کو یہ حاصل ہوا کہ وہ یکے بعد دیگرے سات بیٹیوں کا با پ بن گیا ۔ ماسی ریشم اور بہن رشیداں نے سر توڑ کوشش کی ، مختلف مقبروں پر بار بار حاضر ہوئیں ، چادریں چڑھائیں ، منتیں مانیں ، لیکن کسی بزرگ نے بھی مداخلت نہ کی اور عامر کو ایک بھی بیٹا نہ ملا ۔ حد یہ ہوئی کہ اس دوران میں ماسی ریشم نے حج بھی کر لیا ۔ ظاہر ہے کہ وہا ں بھی اس نے سب سے زیا دہ دعائیں عامر کے بیٹے کے لیے ہی کی ہوں گی لیکن افسوس بیل منڈھے نہ چڑھی اور ساتویں بیٹی کے بعد وہ مایوس ہو کر کویت چلا گیا ۔ بدنصیبی کویت میں بھی عامر کے ہم رکاب رہی ۔ اسے و ہا ں گئے ہوئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ایک روز وہ ٹریفک کے ایک حادثے کا شکار ہو گیا۔ وہ سڑک عبور کر رہا تھا کہ ایک تیز رفتار کار نے اسے ٹکر مار دی ۔ اس کی دونوں ٹانگیں کئی جگہ سے ٹوٹ گئیں۔ باقی جسم پر بھی شدید چو ٹیں آئیں اور وہ کئی دن تک ہسپتال میں بےہوش پڑا رہا ۔

جان تو اس کی بچ گئی، مگر تقریباً دو سال تک وہ ہسپتال میں زیر علا ج رہا اور جب بیساکھیو ں کے سہارے چلنے کے قابل ہوا تو پاکستان آ گیا ۔ میں اس کی مزاج پرسی کے لئے چلا گیا ، بڑی قابل رحم تھی حالت اس کی ۔ اس کی بوڑھی نانی اسے اس حال میں نہ دیکھ سکی اور ایک روز یکایک دم توڑ گئی ۔ پتہ چلا کہ اس کے دماغ کی شاہ رگ پھٹ گئی ۔ یہ بڑی عبرت ناک بات ہے کہ میں نے ماسی ریشم اور رشیداں بی بی کے خاندان میں کبھی بھی سکون نہیں دیکھا ۔ وہ ہمیشہ مسائل، مصائب اور امراض میں مبتلا نظر آئیں اور اس کا سبب میرے نزدیک دونو ں ماں بیٹی کی بداخلا قی ، تکبر اور غیر حقیقت پسندانہ اسلوب ِ حیات تھا ۔ دکھ اور پریشانیاں ان پر بارش کی طر ح برستی رہیں ۔ ایک بار پتہ چلا کہ بہن رشیداں کو سر پر شدیدچوٹ لگی ہے اور و ہ اپنے حواس کھو بیٹھی ہے۔ میں اس کی عیادت کے لئے گیا۔ وہ چارپائی پر گم صم بیٹھی تھی اور بٹر بٹر فضا میں گھور رہی تھی۔ میں اس کے قریب بیٹھ گیا ، اس نے مجھے نہیں پہچانا۔ سر کی چو ٹ نے اس کی یادداشت پر گہرا اثر ڈالا تھا ۔

عامر نے بتایا کہ چند روز پہلے وہ پڑوسیوں کے ہاں صحن میں بیٹھی تھی ۔ ان پڑوسیوں کے ہاں جن کی مدد سے اس نے اپنے خاوند کی پٹائی کرائی تھی کہ تیز ہوا چلنے سے چھت سے لکڑی کا ایک تختہ لڑھکا اور رشیداں بی بی کے سر پر آگرا جس سے وہ بے ہوش ہو گئی اور کئی گھنٹوں کے علاج کے بعد ہو ش میں آئی تو اس کا حافظہ جواب دے گیا تھا ۔ ڈھائی تین سال اسی حالت میں مبتلا رہ کر وہ وفات پا گئی ۔ میں تعزیت کے لئے گیا تو عامر نے بتایا کہ اس نے یہاں کی ساری جا ئیداد دکانیں اور مکان بیچ کر اسلام آباد منتقل ہونے کا پروگرام بنا لیا ہے ۔ اس نے دکھ ا ور نفرت کے احساس سے کہا ۔ یہ جگہ انسانو ں کے رہنے کی نہیں ہے ، زندگی کی کوئی سہو لت بھی تو حاصل نہیں ہے یہاں میں چاہتا ہوں کہ میری بیٹیاں اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کریں اور آزادی کے ماحول میں زندگی گزاریں ۔

"لیکن سات بیٹیوں کے ساتھ اپنے آپ کواسلام آباد کے اجنبی ماحول میں کیسے ایڈ جسٹ کریں گے۔ یہا ں آپ کی برادری ہے، خاندان ہے ، حلقہ تعارف ہے ۔ وہا ں یہ سہولتیں میسر نہیں آئیں گی ۔ وہاں آپ کو رشتوں کے حوالے سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ “ میں نے اس کے منصوبے سے اختلاف کیا۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں ۔ عامر کہنے لگا ” لڑکیا ں پڑھ لکھ کر عملی زندگی میں آئیں گی تو خو د ہی مسائل کو حل کر لیں گی ۔ میں انگلی پکڑ کر کب تک ان کی راہنمائی کروں گا “ اور پھر وہا ں امام بری کا مزار بھی تو ہے ، وہ امام صا حب سے بڑی درگاہ ہے۔ “ اور عامر نے واقعی ایسا کر دکھایا ۔ ا س نے دکانیں ، پلاٹ ، زمین سب کچھ بیچ دیا اور اسلام آباد چلا گیا ۔

پتہ نہیں وہاں کس حال میں ہے ؟ یو ں لگتا ہے کہ جس طرح ماسی ریشم اور رشیداں کی قسمت سے انہیں کبھی سکھ کا سانس لینا نصیب نہ ہوا تھا ، اسی طر ح عامر کا مقدر ان جوتو ں سے بندہ گیا ہے جو اس نے اپنے باپ کے سر پر مارے تھے ۔ ایسا لگتا ہے یہ جوتے اسے در بدر کی ٹھوکریں کھا نے پر مجبور کرتے رہیں گے اور وہ ساری عمر ذلت و رسوائی کی جا نب اپنا سفر جاری رکھے گا۔

دسمبر 10, 2010 at 08:56 تبصرہ کریں

فاروق قیصر کا مزاحیہ کلام

میرے پیارے اﷲ میاں
دل میرا حیران ہے
میرے گھر میں فاقہ ہے
اس کے گھر میں نان ہے
میں بھی پاکستان ہوں
اور وہ بھی پاکستان ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
لیڈر کتنے نیک ہیں
ہم کو دیں وہ صبر کا پھل
خود وہ کھاتے کیک ہیں
میرے پیارے اﷲ میاں
یہ کیسا نظام ہے
فلموں میں آزادی
ٹی وی پہ اسلام ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
سوچ کے دل گھبراتا ہے
بند ڈبوں میں خالص کھانا
ان کا کتا کھاتا ہے
میرا بچہ روتے روتے
بھوکا ہی سو جاتا ہے
دو طبقوں میں بٹتی جائے
ایسی اپنی سیرت ہے
اُن کی چھت پر ڈش انٹینا
میرے گھر بصیرت ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
میری آنکھ کیوں چھوٹی ہے
اُس کی آنکھ میں کوٹھی ہے
میری آنکھ میں روٹی ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
تیرے راز بھی گہرے ہیں
ان کے روزے سحری والے
اور میرے اَٹھ پہرے ہیں
دعوت روزہ کھلوانے کی
انہیں ملی سرکاری ہے
میرا بچہ روزہ رکھ کے
ڈھونڈتا پھرے افطاری ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
یہ کیسا وٹہ سٹہ ہے
این ٹی ایم کا سر ننگا
پی ٹی وی پہ دوپٹہ ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
بادل مینہ برسائے گا
اس کا گھر دھل جائے گا
میرا گھر بہہ جائے گا
میرے پیارے اﷲ میاں
چاند کی ویڈیو فلمیں دیکھ کے
اس کا بچہ سوتا ہے
میرا بچہ روٹی سمجھ کر
چاند کو دیکھ کر روتا ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
یہ کیسی ترقی ہے
اُن کی قبریں تک ہیں پکی
میری بستی کچی ہے

دسمبر 6, 2010 at 10:29 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]