Posts tagged ‘Urdu Adab : اردو ادب’

جھنگا پہلوان ریفری بنے

چیلنج گراؤنڈ پر فٹ بال کے مقابلے ہو رہے تھے۔ سارا شہر ان مقابلوں کو دیکھنے کے لئے امڈا ہوا تھا ۔اور ہر کوئی رات میں یا دن میں ہوئے فٹ بال کے میچوں اور ان میچوں میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کا ذکر کرتا تھا ۔
جھنگا پہلوان بھی کئی دنوں سے فٹبال کے چرچے سن رہے تھے ۔اس سے قبل انہیں کبھی میچ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ صرف ٹی وی پہ کبھی کبھی چینل تبدیل کرتے ہوئے انہوں نے فٹ بال دیکھا تھا۔ اس وجہ سے اس کھیل کے صحیح خدوخال اور اصول و ضوابط سے واقف نہیں تھے۔
اس لئے ان کے دل میں آیا کہ کیوں نہ آج فٹ بال کے مقابلے دیکھے جائیں۔ انہوں نے اپنے خاص الخاص للو کو ساتھ لیا اور چیلنج گراؤنڈ کی طرف چل دیئے۔ راستے میں جو بھی ملتا ان سے کہتا۔
’’ارے واہ پہلوان ۔ آپ بھی فٹ بال دیکھنے جا رہے ہیں؟‘‘
’’یہ پہلوانی کے ساتھ ساتھ فٹ بال کا شوق کب سے ہو گیا ؟‘‘
’’پہلوان کیا فٹ بال مقابلوں کی ٹیم کی طرف سے کھیلنے کا ارادہ ہے؟‘‘ جھنگا پہلوان ان کی ان باتوں کا کیا جواب دیتے صرف مسکرا کر آگے بڑھ جاتے۔
للو فٹ بال کی تعریف کیئے جا رہا تھا۔
’’ استاد دنیا میں سب سے زیادہ کھیلا جانے والا کھیل فٹ بال ہے ساری دنیا میں کھیلا جاتا ہے کرکٹ تو آٹھ دس ممالک سے زیادہ ملکوں میں کوئی جانتا بھی نہیں۔ لیکن فٹ بال تارک افریقہ کے گھنے جنگلوں میں بھی افریقہ کے وحشی جنگلی قبائل کھیلتے ہیں اور تو اور دنیا کی ایک قوم جس کو دنیا کے کسی کھیل میں کوئی دلچسپی نہیں وہ بھی اس کھیل کو کھیلتی ہے۔‘‘
’’بھئی وہ کون سی قوم ہے جسے دنیا کے کسی کھیل میں دلچسپی نہیں لیکن وہ بھی فٹ بال کھیلتے ہیں؟‘‘ جھنگا پہلوان نے حیرت سے پوچھا۔
’’ عرب قوم ، عرب لوگ بھی فٹ بال کھیلتے ہیں۔‘‘ للو نے کہا اور ہنسنے لگا جیسے اس نے کوئی بہت مزیدار لطیفہ سنایا ہو۔
چیلنج کے گراؤنڈ میں پہونچ کر گراؤنڈ کے انچارج ولاس راؤ نے ان کا پرتباک انداز میں استقبال کیا۔’’ ارے جھنگا پہلوان جی، آئیے۔ آئیے۔ آج ہمارے گراؤنڈ کی تقدیر جاگی آُپ کے قدم اس گراؤنڈ پر پڑے۔‘‘ ولاس بولا۔
’’ہاں بھئی، سارے شہر میں اس گراؤنڈ پر چل رہے فٹ بال مقابلوں کا شور ہے سوچا آج فٹ بال کے مقابلے دیکھتے ہیں۔‘ ‘ جھنگا نے جواب دیا۔
’’ آپ فٹ بال کے مقابلے صرف دیکھئے نہیں ، بلکہ ان میں شامل بھی ہو جائیے۔ ‘‘ ولاس بولا۔
’’ کیا مطلب ؟‘‘ جھنگا پہلوان اس کا منہ دیکھنے لگا۔
’’ فٹ بال کے جو مقابلے ہو رہے ہیں ہم ان مقابلوں کا ریفری شہر کی کسی معتبر نامور سردکردہ شخصیت کو بناتے ہیںَ تا کہ ان کی عزت افزائی بھی ہو اور ان کی فٹ بال میں دلچسپی بھی بڑھے۔ آپ بھی شہر کی مشہور و معروف شخصیتوں میں شامل ہیں۔ اس لیے آپ کو بھی اگلے میچ کا ریفری بنایا جاتا ہے۔‘‘ ولاس بولا۔
’’میچ کا ریفری اور میں ؟‘‘ پہلوان گھبرا گئے،’’ مجھے تو فٹ بل کی اے بی سی بھی نہیں آتی پھر میں بھلا میچ ریفری کس طرح بن سکتا ہوں۔‘‘
’’اب تک شہر کی جن ہستیوں نے یہ فرائض انجام دیئے وہ بھی اس کام کو کب جانتے تھے۔ کام کرتے کرتے سیکھ گئے۔ آسان سا کام ہے۔ کھلاڑیوں کے فاؤل پر نظر رکھنا ہے۔ ان کے فاؤل پر فری کک، پینلٹی کک، کارنر وغیرہ دینا ہے۔ اور کوئی کھلاڑی زیادہ ہی فاول کریں یا خطرناک طور پر فٹ بال کھیلیں تو سزا کے طور پر انہیں یلو کارڈ، ریڈ کارڈ وغیرہ بتا کر میچ سے باہر کردیں۔‘‘ ولاس نے فٹ بال کے ریفری کے سارے فرائض جھنگا پہلوان کو سمجھا دئیے۔
’’ اگر صرف یہی کام کرنا ہے تو یہ میرے بائیں ہاتھ کا کام ہے‘‘، جھنگا پہلوان نے دل ہی دل میںسوچا اور وہ میچ میں ریفری بننے کے لئے تیار ہو گئے۔ اگلا میچ ایگل اور آزاد ہند ٹیموں کے درمیان تھا۔
ٹیمیں میچ کھیلنے کے لئے میدان میں اتریں تو ان کے ساتھ جھنگا پہلوان کو بھی سیٹی اور ضروری کارڈ دیکر میدان میں ریفری کے فرائض انجام دینے کے لئے اتار دیا گیا۔ لیکن وہاں سب سے بڑی مشکل جھنگا پہلوان کی لنگی نے کھڑی کر دی۔
ان سے کہا گیا کہ میچ میں ریفری کے فرائض انجام دینے ہیں تو آپ لنگی اتار کر چڈی پہن لیجئے، فٹ بال کے کھلاڑی اور ریفری انڈر وئیر ہی پہنتے ہیں۔لیکن جھنگا پہلوان نے لنگی اتارنے سے انکار کر دیا۔
’’یہ لنگی میری شخصیت کی پہچان ہے اور میں اسے اتار کر اپنی شخصیت کھونا نہیں چاہتا۔‘‘
سب نے بہت سمجھایا کہ استاد آپ لنگی پہن کر ریفری کے فرائض انجام نہیں دیں گے۔لیکن جھنگا پہلوان اس پر بضد تھے کہ وہ لنگی پہن کر ہی یہ کام کریں گے اور بخوبی اپنا فرض انجام دیں گے۔پہلوان کی ضد کے آگے دو ٹیمیں جھک گئیں۔
میدان میں درمیان میں کھیل شروع کرنے کے لئے گیند رکھی گئی اور پہلوان کو اشارہ کیا گیا کہ وہ سیٹی بجا کر کھیل شروع کرنے کا اشارہ کرے۔
پہلوان نے سیٹی بجائی اور کھیل شروع ہوگیا۔
دونوں ٹیم کے کھلاڑی پیروں سے گیند کو مارتے دور تک لیکر چلے گئے۔ کبھی ایک ٹیم بال کو دوسری ٹیم کے میدان میں لے جانے کی کوشش کرتی کبھی دوسری ٹیم مدمقابل ٹیم کے میدان میں۔
پہلوان دور کھڑے اس تماشے کو دیکھ رہے تھے۔
ایگل کے کپتان انزل کی نظر پہلوان پر پڑی تو وہ دوڑتا ہوا ان کے پاس آیا اور بولا۔ ’’استاد اس طرح ایک جگہ کھڑے ہو کر فٹ بال میچ میں ریفری شپ نہیں کی جاتی ہے۔ ریفری کو بال کے ساتھ دوڑنا پڑتا ہے۔ تبھی تو اسے پتہ چلتا ہے کہ کون سا کھلاڑی کیا غلطی یا فاول کر رہا ہے۔ اور وہ اسے سزا دیتا ہے۔‘‘
پہلوان کے لیے یہ بات نئی تھی۔ اب کھیل کا یہ اصول ہے کہ ریفری بھی بال کے ساتھ ساتھ دوڑے تو انہیں بھی دوڑنا ہی پڑے گا۔
جیسے ہی بال ان کے قریب آئی وہ بال کے ساتھ دوڑنے کی کوشش کرنے لگے۔ لیکن دونوں ٹیموں کے کھلاڑی بڑے پھرتیلے تھے۔ چیتے کی رفتار سے دوڑ کر بال کو اپنے قبضے میں کرتے اور بال کو دوسرے کھلاڑی کی طرف اچھال دیتے۔ ہاتھی کی طرح ڈیل ڈول والا جھنگا پہلوان بھلا ان کی سی پھرتی اور تیزی سے کہاں دوڑ سکتا تھا۔
دوڑنا تو دور وہ ٹھیک طرح سے چل بھی نہیں پا رہا تھا۔
ان کے لئے سب سے بڑی مصیبت ان کی لنگی بنی ہوئی تھی۔
جیسے ہی وہ دوڑتے ان کا پیر لنگی میں اٹکتا اور وہ دھڑام سے منہ کے بل زمین پر گر جاتے۔ تماشائیوں کو فٹ بال دیکھنے سے زیادہ جھنگا پہلوان کو دیکھنے میں مزہ آرہا تھا۔ جب وہ گرتے تو سارا میدان قہقہوں سے بھر جاتا تھا۔ موٹا تازہ، جسم جب زمین سے ٹکراتا تو کئی مقامات پر چوٹیں آتیں اور وہاں سے درد کی لہریں اٹھنے لگتیں۔
لیکن فرض کی ادائیگی کے لئے وہ پھر سے اٹھتے اور بال کے ساتھ دوڑنے کی کوشش کرتے جب وہ میدان میں دوڑتے تو ایسا لگتا جیسے بہت بڑی گیند میدان میں چاروں طرف لڑھک رہی ہے۔
تھوڑی دیر میں ہی ان پر ایک نئی مصیبت نازل ہوئی۔
ان کی سانسیں پھول گئیں اور وہ ہانپنے لگے۔ ایک جگہ کھڑے ہو کر وہ اپنی اکھڑی سانسوں پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگے۔ ادھر انہیں کھڑا دیکھ کر تماشائی شور مچانے لگے۔
’’ ریفری ۔۔۔ ریفری ۔ ایک جگہ کیا کھڑے ہو ، دوڑو ۔۔۔۔ فاول دو ۔۔۔۔‘‘
تماشائیوں کے شور سے بچنے کے لئے وہ دوڑتے لیکن پیر پھر لنگی میں الجھ جاتا اور وہ پھر دھڑام سے گر جاتے۔
’’استاد کیوں اتنی پریشانی مول لے رہے ہو۔‘‘ انزل ان کی پریشانی دیکھ کر ان کے قریب آیا ، ’’ لنگی اتار دو، اس میں عافیت ہے۔‘‘
پہلوان نے اس وقت لنگی اتار دی، اور صرف اپنی لنگوٹ پر دوڑنے لگے۔ ادھر تماشائیوں نے سمجھا پہلوان کی لنگی کھل گئی ہے ۔ وہ اس بات پر پیٹ پکڑ پکڑ کر ہنسنے لگے۔ اچانک کھلاڑیوں میں ایک آواز ابھری۔
’’ پینلٹی کک۔‘‘
اور انہوں نے بھی منہ سے آواز نکالی۔
’’ پینلٹی کک دی جاتی ہے۔‘‘
ایگل کو پینلٹی کک دی گئی تھی آزاد کے کھلاڑی حیران تھے کہ ان سے تو ایسی کوئی غلطی نہیں ہوئی تھی جس کی وجہ سے ان کے خلاف پینلٹی کک دی جائے۔
بہر حال ایگل نے پینلٹی کک پر گول بنا دیا۔
پورا میدان تماشائیوں کی تالیوں اور شور سے گونج اٹھا۔
پہلوان نے دیکھا یہ خوشیاں گول بننے پر منائی جا رہی ہیں۔ تماشائیوں کو گول بننے پر بڑا مزا آتا ہے تو ٹھیک ہے، میں تماشائیوں کی پسند کا خیال رکھوں گا۔
تھوڑی دیر بعد انہوں نے آزاد ہند کو پینلٹی کک دے دی۔
’’ استاد ۔ میری ٹیم نے تو کوئی غلطی نہیں کی ہے تو آپ نے ہمارے خلاف پینلٹی کک کیوں دی‘‘ ، انزل احتجاج کرتا ہوا ان کے پاس آیا۔ انہیں یاد آیا کہ کوئی کھلاڑی اگر حجت کرے تو اسے کارڈ نکال کر ڈرایا دھمکایا جانا چاہئے۔
انہوں نے ایک کارڈ نکال کر انزل کو بتایا۔
تماشائی زور زور سے تالی بجانے لگے۔
جھنگا پہلوان کتنی اچھی امپائرنگ کر رہے ہیں۔ ابھی پینلٹی کک دی اور اب ایک کھلاڑی کو بک کر کے کارڈ بتایا۔
انہوں نے انزل کو کون سا کارڈ بنایا تھا اور اس کارڈ کا مطلب کیا تھا انہیں خود اس بات کا پتہ نہیں تھا۔ لیکن انہوں نے دیکھا ان کے کارڈ بتانے پر انزل ڈر گیا ہے۔
پینلٹی کک پر آزاد ہند ٹیم نے گول کر کے اسکور برابر کر دیا۔ اسکور برابر کر تے ہی تماشائیوں میں ایک جوش پیدا ہو گیا اور دونوں ٹیمیں بھی پورے جوش و خروش سے کھیلنے لگیں۔
تھوڑی دیر بعد انہوں نے ایگل کو کارنر دیا جس پر اس نے گول بنا ڈالا اس پر آزاد ہند کے کپتان کو غصہ آگیا لیکن وہ جھنگا پہلوان سے حجت کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ جھنگا پہلوان حجت کرنے پر اسے کارڈ دکھا کر اسے بک کرے گا۔
اس نے ایک دو کھلاڑیوں کو بلا کر کان میں کچھ کہا۔
تھوڑی دیر میں کھیل کا نقشہ بدل گیا۔
جن کھلاڑیوں کو آزاد ہند کے کپتان نے کچھ کہا تھا وہ بال کے ساتھ ساتھ دوڑنے کے بجائے پہلوان کے ساتھ دوڑ رہے تھے ، دوڑتے ہوئے موقع ہاتھ لگتے ہی ایک کھلاڑی نے پہلوان کو ٹانگ ماری اور آگے بڑھ گیا پہلوان منہ کے بل زمین پر گر پڑے۔
دوڑنا پہلوان کے لئے مشکل ہو رہا تھا۔
وہ سر سے پیر تک پسینے میں نہا گئے تھے، دوڑنے سے ان کی سانسیں پھول رہی تھیں اور جان نکلتی محسوس ہورہی تھی۔ اپنے اتنے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ انہیں دوڑنے کا کم ہی اتفاق ہوا تھا۔ اور یہاں تو مسلسل دوڑنا پڑ رہا تھا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ یہاں اس کھلاڑی نے انہیں گرا دیا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد دوسرے کھلاڑی نے انہیں گرایا۔ اور اس کے بعد تیسرے کھلاڑی نے۔ وہ ان سے کارنر دینے کا بدلہ لے رہے تھے۔
جب پہلوان کو یہ محسوس ہوا کہ ان سے بدلہ لیا جا رہا ہے تو انہیں بھی غصہ آگیا اور انہوں نے بھی بدلہ لینے کی ٹھان لی۔
انہوں نے ایک دو تین کھلاڑیوں کو کارڈ دکھا کر بک کیا۔
تینوں کو انہوں نے کون سا کارڈ دکھایا تھا انہیں خود اس کارڈ کے کام کا پتہ نہیں تھا۔ لیکن کارڈ دکھاتے ہی تماشائی شور مچانے لگے۔
’’باہر ۔۔۔۔ باہر ۔۔۔ باہر جاؤ۔‘‘
’’باہر جاؤ۔۔۔‘‘
اور کھلاڑی چپ چاپ باہر چلے گئے تو پہلوان کی بانچھیں کھل گئیں۔ تو یہ کارڈ ہے جسے بتا کر کھلاڑی کو باہر بھیجا جا سکتا ہے۔
اب صورت حال یہ تھی کہ آزاد ہند کے تین کھلاڑی باہر بھیجے جا چکے تھے۔ اور وہ آٹھ کھلاڑیوں کے ساتھ ہی کھیل رہی تھی۔
تھوڑی دیر میں پہلوان کو محسوس ہوا یہ تو ناانصافی ہے۔ ایک ٹیم سب کھلاڑیوں کے ساتھ میچ کھیلے اور دوسری آدھے کھلاڑیوں کے ساتھ ، فوراً انہوں نے ایگل کے تین کھلاڑیوں کو کارڈ دکھا کر میدان سے باہر جانے کا حکم دے دیا۔
وہ کھلاڑی احتجاج کرتے رہ گئے کہ انہوں نے کون سی غلطی کی ہے۔ کس غلطی کی سزا کے طور پر انہیں میدان کے باہر بھیجا جا رہا ہے۔ یہ تو بتایا جائے۔ لیکن اس بات کا جواب تو پہلوان کے پاس بھی نہیں تھا۔
اس درمیان وقفہ بن گیا۔
اور پہلوان کی جان میں جان آئی۔
للو دوڑتا ہوا میدان میں آیا اور وہ پہلوان کے جسم سے پسینہ پونچھنے لگا۔
’’ واہ استاد ، کیا ریفری کا فرض انجام دیا ہے۔ پوری اسٹیڈیم کے تماشائی آپ کے اس کام کی تعریف کر رہے ہیں۔ کہہ رہے ہیں اس سے اچھا ریفری آج تک انہوں نے نہیں دیکھا ۔ انصاف سے کام لیتا ہے۔ کسی بھی ٹیم کی طرف داری نہیں کرتا ہے۔ ایک ٹیم کے تین کھلاڑیوں کو اگر میدان کے باہر کرتا ہے تو دوسری ٹیم کے بھی تین کھلاڑیوں کو میدان کے باہر کرتا ہے۔ دونوں ٹیموں کو پینلٹی کک کا برابری کا موقع دیتا ہے۔‘‘
’’ سب کچھ خود بخود ہو رہا ہے۔‘‘ استاد نے اعتراف کیا، ’’کیسے ہو رہا ہے، خود مجھے بھی اس بات کا علم نہیں ہے۔ میں تو اس کھیل کا ا ب ت بھی نہیں جانتا ہوں۔‘‘
کھیل دوبارہ شروع ہوا۔
اب پہلوان نے اپنی طور پر فٹ بال کھیلنا شروع کر دیا۔
ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے سارے کھلاڑی کٹھ پتلیاں بن گئیں ہیں جن کی ڈور جھنگا پہلوان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس طرح چاہے انہیں نچا سکتا ہے۔ جھنگا پہلوان دونوں ٹیموں کے ساتھ کٹھ پتلیوں والا کھیل رہے تھے۔ جن کی ڈوریں ان کے ہاتھ میں تھیں۔
ایک ٹیم کو پینلٹی کک کارنر دے دیتے۔ وہ اس کا فائدہ اٹھا کر مد مقابل ٹیم کے خلاف گول اسکور کر کے مد مقابل پر سبقت حاصل کر کے خوشیاں مناتی۔ اس کے شائقین خوشیاں مناتے لیکن وہ خوشیاں زیادہ دیرپا نہیں ہوتیں۔
فوراً پہلوان مدمقابل ٹیم کو بھی اس طرح کا ایک موقع عنایت کر دیتے اور وہ بھی اس موقع کا فائدہ اٹھا کر اسکور برابر کر کے اپنے مد مقابل ٹیم کے جوش پر ٹھنڈا پانی ڈال دیتی۔
اس کے بعد ایک دوسرے پر سبقت پانے کے لئے دونوں ٹیمیں پھر سے جوش کے ساتھ کھیلنے لگتیں۔ لیکن دراصل جھنگا پہلوان دونوں ٹیموں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور انہیں کھلا رہے تھے۔
دونوں ٹیمیں ان کی ریفری شپ کی شکایت بھی نہیں کر رہی تھیں کیونکہ وہ دونوں کو برابر برابر کا موقع دے رہے تھے۔ اگر وہ ایک ٹیم کو غلط پینلٹی کک ، کارنر وغیرہ دیتے بھی تو دوسری ٹیم مطمئن رہتی۔
کوئی بات نہیں اگلی بار ہماری باری ہے۔
اس کے بعد جھنگا پہلوان نے ایک نیا کھیل شروع کر دیا۔
آزاد ہند ٹیم کو مسلسل پانچ پینلٹی کک کا موقع دے دیا۔ جس پر انہوں نے مسلسل پانچ گول اسکور کر کے ایگل پر پانچ گولوں کی سبقت حاصل کر لی۔
انزل کے ہوش اڑ گئے۔ اسے اپنی ٹیم کی شکست سامنے دکھائی دینے لگی۔ اسے پتہ تھا اس کی ٹیم اتنی طاقت ور نہیں ہے کہ مسلسل پانچ گول اسکور کر کے برابری کرے۔ لیکن یہ کھیل تو جھنگا پہلوان کے ہاتھ میں تھا۔ انہوں نے کچھ دیر بعد ہی انزل کی ساری فکریں دور کر دیں۔
اس بار انہوں نے انزل کی ٹیم کو مسلسل پانچ موقع دئیے اور ان موقعوں کا فائدہ اٹھا کر انزل کی ٹیم نے پانچ گول اسکور کر کے حساب برابر کر دیا۔ تماشائیوں کا جوش بڑھتا جا رہا تھا۔ ان کے دلوں کی دھڑکنیں بڑھتی جا رہی تھیں اتنے گول اسکور ہوں دونوں ٹیمیں اس طرح سے کھیلیں گی اس بارے میں انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔
اس کے بعد اپنے ریفری ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جھنگا پہلوان کے آزاد ہند ٹیم کے دو بہترین کھلاڑیوں کو کارڈ بتلا کر میدان کے باہر کر دیا۔
یہ دیکھ کر آزاد ہند ٹیم کے کپتان کے ہوش اڑ گئے۔ اسے اپنی ٹیم کی شکست اپنی آنکھوں کے سامنے دکھائی دینے لگی۔
لیکن اگلے ہی لمحہ جھنگا پہلوان نے انصاف سے کام لیتے ہوئے ایگل کے دو بہترین کھلاڑیوں کو کارڈ بتا کر میدان کے باہر کر دیا۔
دونوں ٹیمیں مساوی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔
باہر ہونے والے تمام کھلاڑیوں کا کوئی قصور نہیں تھا ۔ لیکن قوانین فٹ بال کا کھیل ایجاد کرنے والوں نے بنائے تھے۔
ریفری بنے جھنگا پہلوان ان کا استعمال اپنی طور پر کر رہے تھے۔
دونوں ٹیموں نے میدانی گول ایک بھی اسکور نہیں کیا تھا۔
ایسا محسوس ہوتا تھا دونوں ٹیموں میں میدانی گول اسکور کرنے کا دم خم ہے ہی نہیں وہ گول جھنگا پہلوان کی عنایت سے اسکور کر رہے تھے۔
جھنگا پہلوان کبھی ایک ٹیم کو مسلسل پانچ کک کا موقع دیکر اس سے پانچ گول اسکور کراتے تو دوسری بار دوسری ٹیم کو یہی موقع دے کر حساب برابر کرنے کا سامان مہیا کر دیتے۔
خدا خدا کر کے میچ کا ٹائم ختم ہوا۔
میچ کے خاتمے پر دونوں ٹیموں کا اسکور تھا ۵۰ : ۵۰ ۔۔
یعنی دونوں ٹیموںنے ۵۰ ، ۵۰ گول اسکور کئے تھے۔ میچ برابری پر ختم ہوا، اس لیے دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دے دیا گیا۔
اور فٹ بال کے صحیح شائقین اس میچ کو دیکھ کر اپنا سر پیٹ رہے تھے۔ ان کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا یہ میچ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے کھیلا ہے۔
یا فٹ بال میچ کے ریفری بنے جھنگا پہلوان نے ۔۔۔۔۔
۔ ۔ ۔ ٭۔ ۔ ۔ ٭۔ ۔ ۔ ٭۔ ۔ ۔
Advertisements

نومبر 4, 2010 at 12:21 تبصرہ چھوڑیں

بابافرید گنج شکر (1173-1265)

بابا فریدجنہیں گنج شکرکے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ملتان کے نزدیک کتھوال کے مقام پر پیدا ہوئے۔ بابا فرید کا اصل نام فریدالدین تھا. آپ کا سلسلہ نسب سیدنا عمر فاروق سے جا ملتا ہے اور یوں آپ فاروقی بھی تھے. آپ کے آباء و اجداد بارہویں صدی کے اواخر میں کابل سے یہاں آئے تھے۔ ان کا تعلق تصوف کے چشتی مکتبہ ٴفکر سے تھا جس کا آغاز دسویں صدی عیسوی میں اس وقت ہوا جب سلطان محمود غزنوی کے حملوں کے دوران چشتیہ روایت کے علمبردار بہت سے بزرگوں نے پنجاب کا رخ کیا اور یہیں آباد ہو گئے۔ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے بعد ہندوستان میں بابا فرید اس روحانی سلسلے کے راہنما مقرر ہوئے تھے ۔آپ نے اپنے عہد کے مروجہ ظاہری علوم کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد آپ نے دہلی کا رخ کیا اور اپنے مرشد کی نگرانی میں روحانی تربیت کے ساتھ ساتھ شدید ریاضت اور مجاہدوں کا آغاز کیا۔

اس سلسلے میں خصوصی طور پر آپ کے چلہ معکوس (چالیس دن تک کنوئیں میں الٹالٹکے رہنا)کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے اپنے مرشد کی اجازت سے ہانسی میں رہائش اختیار کی۔ مرشد کے انتقال کے بعد آپ کو چشتیہ مکتبہ فکر کا باقاعدہ سربراہ بنا دیا گیا اور آپ نے پنجاب میں واقع”اجودھن“ نامی قصبے کو اپنا روحانی مرکز بنانے کا فیصلہ کیا۔ رفتہ رفتہ یہاں بھی آپ کی شہرت ہونے لگی اور لوگ جوق درجوق آپ کی جانب رجوع کرنے لگے۔ با با فرید نے یہاں صوفیانہ روایت کے مطابق ایک جماعت خانے کی بنیاد رکھی۔ اجودھن ،جو اب پاکپتن کے نام سے موسوم ہے ،کی خانقاہ میں ایک صوفیانہ درسگاہ کی تمام جملہ خصوصیات موجودتھیں۔جماعت خانے میں بہت سے دانشور اور صوفیا ہر وقت موجود رہتے تھے۔
آپ پنجابی کے پہلے صوفی شاعر تھے. بابا فرید کی شاعری ہم تک ”آدگر نتھ “کے ا شلوکوں کے ذریعے پہنچی ہے۔ آپ کی صوفیانہ شاعری مابعدالطبعی رُحجانات اور تصورات کا باقاعدہ اظہار ہے ۔ آپ کی تعلیمات بنیادی طور پر وہی ہیں جو آپ سے دو صدیاں پہلے سید علی ہجویری متعارف کروا چکے تھے۔ اس اعتبار سے بابا فرید کی تعلیمات کو پنجاب کی زرّیں روایات کا تسلسل تصور کرنا چاہیے۔ آپ کے ہاں مذہبی قانون اور داخلی صوفیانہ صداقت میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا رحجان غالب نظر آتا ہے۔ بابا فرید کی بنا پر تصوف پنجاب میں ایک عوامی تحریک کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ آپ نے آخری ایام بے سرو سامانی اور قلیل البضاعتی کے عالم میں بسر کئے اور 1265ء میں وفات پائی۔ بابا فرید مسعود گنج شکر نے پچانوے برس کی عمر پائی.

بابافرید گنج شکر کا کلام


اگست 5, 2010 at 04:59 تبصرہ چھوڑیں

الطاف حسین حالی

خواجہ الطاف حسین حالی اگر غزل گوئی ترک کر کے نیچرل اور قومی و اصلاحی شاعری کی طرف نہ آتے تو آج غزل کے چند بڑے شاعروں میں سے ہوتے۔
حالی نے اٹھارہ انیس سال کی عمر میں شاعری کاآغاز کیا۔ اس وقت ہندوستان کی فضا غالب، مومن ،ذوق، شیفتہ اور ظفر کی نواوں سے گونج رہی تھی۔حالی نے مرزا غالب کی شاگردی اختیار کی۔ غالب حالی کے رنگ تغزل اور جوش طبع کی تعریف کرتے تھے۔حالی نے شعر میں وہی رنگ اختیار کیا جو غالب،مومن ، شیفتہ اور آزردہ کا تھا۔چونکہ حالی اردو میں نیچرل اور قومی شاعری کے بانیوں میں سے ہے اس لیے لوگوں نے ان کی غزل کو نظر انداز کر دیا۔حالانکہ ان کی غزل کا رنگ بہت ہی موثر اور دل نشین ہے۔حالی کو غالب سے بڑی محبت اور عقیدت تھی۔غالب کی وفات پر دیگر شاگردوں اور معاصرین نے بھی مرثیے لکھے مگرجو مرثیہ حالی نے لکھا وہ اپنی مثال آپ ہے اور اردو مرثیے کی تاریخ میں ایک شہکار کا درجہ رکھتا ہے۔
حالی 1819میں پانی پت میں پیدا ہوئے۔پانی پت ہی میں حضرت بوعلی قلندر کا مزار پر انوار ہے جن کی روحانی حکومت کا ثبوت اس حکایت سے ملتا ہے جو حضرت علامہ اقبال نے اپنی مثنوی اسرار و رموز میں بیان کی ہے۔خواجہ حالی کے سر سے ان کا والدین کا سایہ بچپن ہی سے اٹھ گیا تھا۔ قدرت نے حالی کی طبیعت میں ایک جوہر خاص ودیعت کیا تھا۔ انہیں پہلے قرآن مجید حفظ کرایا گیا ۔پھر آپ نے میر ممنون دہلوی کے بھتیجے سید جعفری سے ادب کے علاوہ فارسی پڑھی اوراس میں مہارت حاصل کی۔پھر حاجی اسماعیل انصاری سے صرف و نحو پڑھی۔پانی پت کے مشہور علما و فضلا مولوی عبدالرحمن، مولوی محب اللہ، اور مولوی قلندر علی سے منطق ، فلسفہ، حدیث اور فقہ کا سبق لیا۔ عربی تعلیم کے لیے دلی گئے اور وہیں سے ایک عربی رسالہ بھی جاری کیا۔اسی اثنا میں حالی کی شادی ہو گئی اور آپ ضلع حصار کے کلکٹر کے دفتر میں ملازم ہو گئے۔ تھوڑے ہی عرصے بعد 1857 کا انقلاب برپا ہوا اور آپ ملازمت چھوڑ کر پانی پت چلے آئے جہاں کچھ عرصہ بیکار بیٹھے رہے۔
1874 میں محکمہ تعلیم پنجاب کے ڈائریکٹر کرنل ہائرائیڈ نے لاہور میں ایک نئی قسم کے مشاعرے کی بنیاد ڈالی جس میں نظم کے لیے کوئی عنوان تجویز کیا جاتا تھا۔ ان مشاعروں کے روح رواں خواجہ حالی، محمد حسین آزاد اور مرزا ارشد گورگانی تھے۔ یہاں سے حالی کی نیچرل شاعری کا آغاز ہوا۔انہی ایام میں سر سید نے حالی کو قوم کی طرف متوجہ کیا ۔ چنانچہ انہی کی تحریک پر انہوں نے 1871 میں مسدس حالی لکھی۔

الطاف حسین حالی کی شاعری

***********************


اگست 2, 2010 at 13:00 تبصرہ چھوڑیں

Dard Phel Jaaye To: Urdu Ghazal

جولائی 27, 2010 at 13:06 تبصرہ چھوڑیں

Hikayat e Sheikh Saadi

جولائی 24, 2010 at 12:55 تبصرہ چھوڑیں

Urdu Love Poetry  

جولائی 19, 2010 at 12:44 تبصرہ چھوڑیں

Hadith-e-Nabvi


جولائی 16, 2010 at 10:58 تبصرہ چھوڑیں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]