Posts tagged ‘Pakistani’

ماہ ذی الحجہ کے اعما ل اور فضیلت

اطاعت وفرمانبردارى كے موسموں ميں سے ماہ ذوالحجہ كے پہلے دس يوم بھي ہيں جنہيں اللہ تعالى نے باقى سب ايام پر فضيلت دى ہے:
ابن عباس رضي اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
” ان دس دنوں میں کیے گئے اعمال صالحہ اللہ تعالی کو سب سے زيادہ محبوب ہیں ، صحابہ نے عرض کی اللہ تعالی کے راستے میں جھاد بھی نہيں !! تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور جھاد فی سبیل اللہ بھی نہيں ، لیکن وہ شخص جواپنا مال اور جان لے کر نکلے اور کچھ بھی واپس نہ لائے ” صحیح بخاری ( 2 / 457 )
اور ايك دوسرى حديث ميں ہے ابن عباس رضي اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
” عشرہ ذی الحجہ میں کیے گئے عمل سے زیادہ پاکیزہ اور زيادہ اجر والا عمل کوئي نہيں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گيا کہ نہ ہی اللہ تعالی کے راستے میں جھاد کرنا ؟ تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اورنہ ہی اللہ تعالی کے راستے میں جھاد کرنا ” سنن دارمی ( 1 / 357 )
مندرجہ بالا اوراس کے علاوہ دوسری نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن باقی سال کے سب ایام سے بہتر اورافضل ہيں اوراس میں کسی بھی قسم کا کوئي استثناء نہيں حتی کہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ بھی نہيں ، لیکن رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی دس راتیں ان ایام سے بہتر اورافضل ہیں کیونکہ ان میں لیلۃ القدر شامل ہے ، اورلیلۃ القدر ایک ہزار راتوں سے افضل ہے ، تواس طرح سب دلائل میں جمع ہوتا ہے ۔
لھذا ہر مسلمان كو چاہئے كہ وہ ان دس دنوں كي ابتدا اللہ تعالى كے سامنے سچى اور پكى توبہ كے ساتھ كرے اور پھر عمومى طور پر كثرت سے اعمال صالحہ كرے اور پھر خاص كر مندرجہ ذيل اعمال كا خيال كرتے ہوئے انہيں انجام دے:
1 – روزے ۔
مسلمان شخص کےلیے نو ذوالحجہ کا روزہ رکھنا سنت ہے کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دس ایام میں اعمال صالحہ کرنے پر ابھارا ہے اور روزہ رکھنا اعمال صالحہ میں سے سب سے افضل اوراعلی کام ہے ، اوراللہ تعالی نے روزہ اپنے لیے چنا ہے جیسا کہ حدیث قدسی میں اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
( ابن آدم کے سارے کے سارے اعمال اس کے اپنے لیے ہیں لیکن روزہ نہيں کیونکہ وہ میرے لیے ہے اورمیں ہی اس کا اجروثواب دونگا ) ، صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1805 ) ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نو ذوالحجہ کا روزہ رکھا کرتے تھے ، ھنیدہ بن خالد اپنی بیوی سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ سے بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ نے بیان کیا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو ذوالحجہ اور یوم عاشوراء اور ہر ماہ تین روزے رکھا کرتے تھے ، مہینہ کے پہلے سوموار اوردو جمعراتوں کے ۔
سنن نسائي ( 4 / 205 ) سنن ابوداود ، علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابوداود ( 2 / 462 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
2 – تکبیریں، الحمد اللہ اور سبحان اللہ كثرت سے کہنا :
ان دس ایام میں مساجد ، راستوں اورگھروں اورہر جگہ جہاں اللہ تعالی کا ذکر کرنا جائز ہے وہیں اونچی آواز سے تکبیریں اور لاالہ الااللہ ، اور الحمدللہ کہنا چاہیے تا کہ اللہ تعالی کی عبادت کا اظہار اوراللہ تعالی کی تعظیم کا اعلان ہو ۔ مرد تو اونچي آواز سے کہيں گے لیکن عورتیں پست آواز میں ہی کہيں ۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ اپنے فائدے حاصل کرنے کوآ جائيں ، اوران مقرر دنوں میں ان چوپایوں پراللہ تعالی کا نام یاد کریں جوپالتوہیں } الحج ( 28 ) ۔
جمہورعلماء کرام کا کہنا ہے کہ معلوم دنوں سے مراد ذوالحجہ کے دس دن ہیں کیونکہ ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ ایام معلومات سے مراد دس دن ہیں ۔
عبد اللہ بن عمر رضي اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
” اللہ تعالى كے ہاں ان دس دنوں سے عظيم كوئى دن نہيں اور ان دس ايام ميں كئے جانے والے اعمال سے زيادہ كوئي عمل محبوب نہيں، لھذا لاالہ الا اللہ، اور سبحان اللہ ، اور تكبيريں كثرت سے پڑھا كرو” اسے امام احمد نے روايت كيا ہے اور اس كي سند كو احمد شاكر رحمہ اللہ نے صحيح قرار ديا ہے
اورتکبیر کے الفاظ یہ ہیں :
الله أكبر ، الله أكبر لا إله إلا الله ، والله أكبر ولله الحمد
اللہ بہت بڑاہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ تعالی کےعلاوہ کوئي معبود برحق نہيں ، اوراللہ بہت بڑا ہے ، اوراللہ تعالی ہی کی تعریفات ہیں ۔
اس کےعلاوہ بھی تکبیریں ہیں ۔
یہاں ایک بات کہنا چاہیں گے کہ موجود دورمیں تکبریں کہنے کی سنت کوترک کیا جاچکا ہے اورخاص کران دس دنوں کی ابتداء میں تو سننے میں نہیں آتی کسی نادر شخص سے سننے میں آئيں گیں ، اس لیے ضروری ہے کہ تکبیروں کواونچی آواز میں کہا جائے تاکہ سنت زندہ ہوسکے اورغافل لوگوں کو بھی اس سے یاد دہانی ہو۔
ابن عمر اور ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہما کے بارے میں ثابت ہے کہ وہ دونوں ان دس ایام میں بازاروں میں نکل کر اونچی آواز کے ساتھ تکبیریں کہا کرتے تھے اورلوگ بھی ان کی تکبیروں کی وجہ سے تکبیریں کہا کرتے تھے ، اس کا مقصد اورمراد یہ ہے کہ لوگوں کوتکبریں کہنا یاد آئيں اور ہرایک اپنی جگہ پر اکیلے ہی تکبریں کہنا شروع کر دے ، اس سے یہ مراد نہيں کہ سب لوگ اکٹھے ہوکر بیک آواز تکبیریں کہيں کیونکہ ایسا کرنا مشروع نہيں ہے
اورجس سنت کوچھوڑا جا چکا ہو یا پھر وہ تقریبا چھوڑی جا رہی ہو تواس پرعمل کرنا بہت ہی عظیم اجروثواب کا ذریعہ ہے. کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی اس پردلالت کرتا ہے :
( جس نے بھی میری مرد سنت کو زندہ کیا اسے اس پر عمل کرنے والے کے برابر ثواب دیا جائے گا اوران دونوں کے اجروثواب میں کچھ کمی نہيں ہوگي ) اسے امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے روایت کیا ہے.
3 – حج وعمرہ کی ادائيگي :
ان دس دنوں میں جوسب سے افضل اوراعلی کام ہے وہ بیت اللہ کاحج وعمرہ کرنا ہے ، لھذا جسے بھی اللہ تعالی اسے اپنے گھرکا حج کرنے کی توفیق عطا فرمائے اوراس نے مطلوبہ طریقہ سے حج کے اعمال ادا کیے توان شاء اللہ اسے بھی اس کا حصہ ملے گا جونبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان میں بیان کیا ہے :
( حج مبرور کا جنت کے علاوہ کوئي اجروثواب نہيں ) ۔
4 – قربانی :
عشرہ ذی الحجہ کے اعمال صالحہ میں قربانی کے ذریعہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنا بھی شامل ہے کہ قربانی کی جائے اوراللہ تعالی کےراستے میں مال خرچ کیا جائے ۔
لھذا ہميں ان فضيلت والے ايام سے فائدہ اٹھانا چاہئے يہ ہمارے لئے بہترين اور سنہري موقع ہے، قبل اس كے كہ ہم اپنى كوتاہى پر نادم ہوں، اور قبل اس كے كہ ہم واپس دنيا ميں آنے كا سوال كريں ليكن اس كي شنوائى نہ ہو.
Advertisements

نومبر 11, 2010 at 10:04 2 comments

تعلیم کی اہمیت

رامو ایک دیہاتی شخص تھا۔ شہر کے ایک رئیس کے یہاں گھریلو ملازم تھا وہ پڑھا لکھا بالکل بھی نہیں تھا۔ اپنے گاﺅں اور اپنی بیوی بچے سے دور شہر میں رہتے ہوئے اسے عرصہ بیت گیا تھا۔ اس کا ا یک ہی بیٹا تھا بھولا، جب وہ گاﺅں سے رخصت ہوا تھا تو اس وقت اپنی ماں کی گود میں تھا جب بیٹے کی یاد رامو کو ستانے لگی تو اس نے سوچا کیوں نا بھولا کی ماں کو ایک خط لکھ دے۔ لیکن وہ قلم اور کاغذ لے کر اس پر لکھتا بھی کیا کہ اس نے کبھی اسکول کا منہ تک نہیں دیکھا تھا۔ مجبوراً وہ بڑے مالک کے پاس گیا اور ان سے ایک خط لکھنے کی درخواست کی۔ بڑے مالک خط لکھنے کو تیار ہوگئے۔ اتنے میں ٹیلی فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ فون ان کے دفتر سے تھا، وہ فوراً دفتر چلے گئے اور رامو کا خط ادھورا ہی رہ گیا۔
اس کے بعد رامو چھوٹے مالک کے پاس گیا۔ چھوٹے مالک ورزش کرنے میں مصروف تھے۔ رامو نے اس سے خط لکھنے کی درخواست کی۔چھوٹے مالک کے پاس اتنی فرصت کہا ں کہ وہ ایک نوکر کا کام کرنے کو تیار ہو جاتے۔ انہوں نے فوراً بہانہ تراشتے ہوئے کہا ”تم تو جاتنے وہ رامو کاکا کے مجھے ہندی نہیں آتی ، تم کہو تو انگریزی میں لکھ دوں تمہارا خط! رامو مایوس ہو کر چھوٹی مالکن کے پاس گیا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتا، ، چھوٹی مالکن بول پڑیں” رامو کاکا تم مجھے کوئی کام بتا کر پریشان نہ کرو، ویسے ہی مجھے کالج جانے میں دیر ہوگئی ہے“ بیچارہ رامو خط لکھنے کا ارمان دل میں لیے الٹے پاﺅں لوٹ گیا۔
کچھ دنوں بعد رامو کو ڈاک سے ایک موصول ہوا۔ اس لفافہ کو لے کر سیدھا بڑی مالکن کے پاس جا پہنچا اور اسے پڑھ کر سنانے کی گزارش کی۔ بڑی مالکن نے لفافہ کھولا اور پڑھ کر سنایا۔
Ramu Come soon Maya seriously  Hospitalized اس کامطلب ہندی میں سمجھایا۔
رامو دوسرے دن ہی جب اپنے گاﺅں پہنچا تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ گاﺅں والے مایا کے مردہ جسم کو نذر آتش کرچکے تھے۔ اس کا ننھا بیٹا بھولا اس کے قریب آکر اپنی توتلی زبان میں بڑبڑانے لگتا ہے”باپو….باپو….باپو تم آگئے؟ مائی تو تب (کب) تی چلی گئی۔ اسے تو داﺅں(گاﺅں) والے تندھا پر اٹھا تر لے دیے آر (اور) ڈھیر ساری لتڑی(لکڑی) پر ستاتر آد(آگ) لدادی‘’؟ رامو نے ، بھولا کو بہلاتے ہوئے کہا۔” تمہاری اماں بھگوان کے گھر چلی گئی ہے“تون (کون) بھگوان باپو“؟ وہ میں سمجھا کہ مائی ناناجی کے گھر چلی گئی ہے ایسا کرو نا باپو کہ تم مائی تو(کو) ایت(ایک) چھٹی لکھ دو تو وہ جلد دھر(گھر) چلی آئے گی“ رامو نے لاچاری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ”بھولے توتو جانتا ہے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔ ایک کام کر تو ہی اپنا اماں کو خط لکھ دے‘’ مگر اماں نے تو ہم کو تبھی (کبھی) اسکول بھیجا ہی نہیں تو ہم…….. بھولا کی زبان سے یہ جملہ سنتے ہی رامو کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔ رامو نے اسی وقت تہہہ کرلیا کہ اپنے بیٹے کو اپنے جیسا جاہل نہیں بنانا۔ حالات جوبھی ہوں وہ ہر حال میں اپنے بچے کو پڑھنے کے لیے اسکول ضرور بھیجے گا۔

اکتوبر 25, 2010 at 10:43 2 comments

قصہ ایک حکیم کا

حکیم صاحب کھانے یا کھلانے کے معاملے میں حدردجے کنجوس ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ وہ دوسروں کو ان کے اپنے گھروں میں بھی پیٹ بھر کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔ انکے نزدیک ہر مرض کا بلکہ ہر مسئلے کا حل بھوکا رہنا ہے۔ اگر ان کا کوئی دوست کہتا ہے۔
”روئے زمین پر مجھ سے زیادہ چلنے والا کوئی نہیں اورنہ تیز دوڑنے میں مجھ سے زیادہ طاقتور ہے۔“
تو وہ جل بھن کر جواب دیتے ہیں: ”تمہیں اس سے کون روک سکتا ہے ؛ جب کہ تم دس آدمیوں کے برابر کھانا کھاتے ہو۔ انسان کے پاس پیٹ کے سوا اور ہے ہی کیا؟“
اگر کوئی مریض شکایت کرتا ہے: ”بخدا میں چل نہیں سکتا ، کیونکہ میں کمزور ترین آدمی ہوں۔“
تو وہ چیختے ہیں: ”تم کیسے چل سکتے ہو؟ تم نے تو پیٹ میں بیس مزدوروں سے اٹھنے والا بوجھ لاد رکھا ہے۔“
اگر کوئی شخص انکے سامنے داڑھ درد کی شکایت کرتا ہے تو وہ فرماتے ہیں:
”عجیب بات ہے کہ تجھے صرف ایک ہی داڑھ میں تکلیف ہوئی۔ اتنا کھا کھا کر آج تک تیرے منہ میں ایک دانت بھی کس طرح باقی بچا۔ بخدا شامی چکیاں بھی بوجھل ہو جاتی اور موٹے کیل بھی کوٹنے سے گھس جاتے ہیں۔ یہ بیماری تو تجھے قدرے دیر سے لگی ہے۔ بہت پہلے لگ جانی چاہئے تھی۔“
اگر کوئی کہہ دتیا ہے: مجھے تو کبھی داڑھ میں درد محسوس نہیں ہوا۔
تو وہ گویا ہوتے ہیں: ”اے پاگل ! زیادہ چبانا مسوڑھوں کو مضبوط کرتا ہے جس سے دانت سخت ہو جاتے ہیں اور تالو پک جاتے ہیں۔“
اگر کوئی شیخی بھگارتا ہے:”میں سب سے زیادہ پانی پیتا ہوں اور میرا خیال ہے کہ دنیا میں کوئی مجھ سے زیادہ پانی نہیں پیتا ہوگا۔“
تو وہ بھڑک کر کہتے ہیں : ”اگر تم دریائے فرات کا سارا پانی پی لو تو وہ بھی تمہارے لیے کافی نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ تم اس قدر کھانا کھاتے ہو اور بڑے بڑے نوالے لیتے ہو۔ بخدا تم تو کھیلتے ہو۔ تم اپنے بارے میں کسی ایسے شخص سے پوچھو جو تمہیں سچ بتا دے تا کہ تمہیں پتہ چلے کہ دریائے دجلہ کا پانی بھی تمہارے پیٹ کے لئے کہیں کم ہے۔“
اگر کوئی دعویٰ کرتا ہے: آج کے دن میں نے پانی پیاہی نہیں ہے اور کل میںنے آدھا رطل پانی پیا ہے۔ روئے زمین پر کوئی ایک انسان بھی مجھ سے کم پانی پینے والا نہیں ہے۔“
تو وہ ڈانٹ کر کہتے ہیں:”تم پانی پینے کے لئے جگہ ہی نہیں چھوڑتے۔ تعجب ہے کہ تمہیں بدہضمی کیوں نہیں ہوتی۔“
اگرکوئی مریض فریاد کرتا ہے: میں ساری رات سویا نہیں ہوں۔“
تو وہ فرماتے ہیں: تمہیں تمہاری توند، پیٹ کی گیس اور ڈکار کس طرح سونے دیں گے۔“
اگر کوئی سستی کا مارا کہتا ہے: مجھے سر رکھتے ہی نیند آجاتی ہے۔“
تو جواب ملتا ہے: ” یہ اس لئے ہے کہ کھانا سکون دیتا ہے اور سارے بدن کو ڈھیلا کر دیتا ہے۔ سچ پوچھو تو تمہیں دن رات سوئے رہنا چاہئے۔ “
اگرکوئی شکایت کرتا ہے۔
”میں صبح اٹھا تومجھے ذرا بھوک نہیں تھی۔“
تو وہ دھاڑکر بولتے ہیں: ”ارے تمہیں بھوک کس طرح ہو سکتی ہے جب کہ تم کل دس آدمیوں کا کھانا کھا چکے ہو“۔
غرض ان سے جو بات بھی کہی جاتی ہے تو وہ اس کا غصہ پیٹ اور کھانے پر نکالتے ہیں ۔ واہ رے حکیم صاحب واہ۔

اکتوبر 18, 2010 at 11:51 تبصرہ کریں

Urdu Love Poetry  

جولائی 19, 2010 at 12:44 تبصرہ کریں

Urdu Poetry by Farzana Naina

جون 16, 2010 at 12:42 تبصرہ کریں

Aik Udas Dil

Here is the story of Aik Udas Dil. This ghazal is written by Eman Ali. A young but talented urdu poet.

فروری 12, 2010 at 10:48 2 comments

Waqat

kyun waqt kum hey !!!
kyun waqt kum hey !!!
mujhey bohat sey kaam kernay hein

abhi tu khul key hansna hey
abhi jee bhar key rona hey,

abhi tu zindagi ko main ney
chhuu key na dekha tha
abhi tu goud mey uski
mujhey bey fikr sona hey,

kyun waqt kum hey !!!

kyun waqt kum hey !!!
mujhey bohat sii baat kehni hey

un chhuee rutoo’n ko apna banana hey
aur dil ka kisi ko.. raaz sunana hey,

bohat sey khawb undekhey
bohat sey unkhaey hein lafz
unhi lafzoo’n ki dhun pey
piyaar ka ik saaz bajana hey,

per …
kyun waqt kum hey !!!

mujhey bohat sey kaam kernay hein …

مارچ 28, 2009 at 08:01 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]