Posts tagged ‘Kids Urdu Story’

ایک گونگا تین بہرے

ایک بہرا جنگل میں بکریاں چرا رہا تھا اسے سخت بھوک لگ رہی تھی، مگر اس کی بیوی اب تک کھانا لے کر نہیں آئی تھی اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا آدمی بیٹھا گھاس کاٹ رہا تھا وہ شخص بھی بہرا تھا پہلے بہرے شخص نے کہا بھائی، میری بیوی میرے لیے کھانا نہیں لائی مجھے بھوک لگ رہی ہے، آپ میری بکریوں کی حفاظت کریں میں جب تک گھر سے کھانا کھا آتا ہوں۔
دوسرا بہرا سمجھا کہ یہ مجھے اپنی بکریوں کے لیے گھاس مانگ رہا ہے اس نے کہا، نہیں میں گھاس نہیں دوں گا۔
پہلا بولا۔ میں بہت جلد واپس آجاؤں گا، تم فکر نہ کرو۔
دوسرا بولا، یہ گھاس میں نے اپنی بکریوں کے لیے کاٹی ہے۔ میں یہ گھاس تمہیں نہیں دوں گا۔
پہلا سمجھا کہ دوسرا کہہ رہا ہے، تم جاؤ، وہ چلا گیا، جب وہ کھانا کھا کر واپس آیا تو اس نے اپنی بکریں دیکھیں جو پوری تھیں اور وہ آدمی بدستور گھاس کاٹ رہا تھا۔ اس نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر یہ چاہتا تو میری ساری بکریاں لے جاتا  مگر شریف آدمی لگتا ہے کیوں نہ میں اسے اپنی لنگڑی بکری تحفے میں دے دوں۔ وہ اپنی لنگڑی بکرے لے کر اس آدمی کے پاس گیا اور کہا، تم نے میری بکریوں کی حفاظت کی ہے اس لیے میں یہ بکری تمہیں تحفے میں دیتا ہوں لیکن یہ بکری لنگڑی ہے۔
دوسرے بہرے نے کہا۔ میں نے اس بکری کی ٹانگ نہیں توڑی۔
پہلا بولا۔ میں یہ بکری تمہیں خوشی سے دے رہا ہوں لے لو۔
دوسرا بہرا بولا۔میں نے تمہاری بکری کی ٹانگ نہیں توڑی۔ اسی دوران سامنے سے ایک شخص آتا دکھائی دیا وہ شخص بھی بہرا تھا دونوں بہروں نے اسے روکا، تیسرا بہرا شخص گھوڑے سے اتر آیا۔
پہلے بہرے نے کہا۔ میں اسے یہ بکرے دے رہا ہوں مگر یہ نہیں لے رہا ہے۔
دوسرا بہرا بولا۔ اس بکری کی ٹانگ میں نے نہیں توڑی۔
تیسرا شخص بولا۔ ہاں تم دونوں ٹھیک کہہ رہے ہو، یہ گھوڑا میں نے چوری کیا ہے میں یہ تمہیں واپس دیتا ہوں مجھے معاف کردو۔ انہوں نے سامنے سے ایک لمبی سفید داڑھی والے بوڑھے کو آتے دیکھا تو تینوں اس کے پاس گئے۔
پہلا بولا۔ باباجی، میں کھانا کھانے گیا اس نے میری بکریوں کی حفاظت کی، اس لیے میں اسے اپنی ایک بکرے دے رہا ہوں مگر یہ نہیں لے رہا ہے۔
دوسرا بہرا بولا۔ میں نے اس سے کہہ دیا کہ میں نے بکری کی ٹانگ نہیں توڑی مگر یہ مانتا ہی نہیں۔
تیسرا بہرا بولا۔ میں مانتا ہوں کہ میں نے چوری کی ہے اور یہ گھوڑا تمہارا ہے لیکن آپ لوگ مجھے معاف کردیں میں آئندہ چوری نہیں کروں گا۔ بوڑھا شخص تینوں کو غور سے دیکھنے لگا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، انہیں گھور کر دیکھنے لگا، وہ سمجھے یہ کوئی جادوگر ہے، جو ان پر جادو کرنا چاہتا ہے، وہ تینوں اپنی اپنی چیزیں لے کر بھاگ گئے۔
Advertisements

مارچ 11, 2011 at 06:46 تبصرہ چھوڑیں

عقل مند گدھا

جنگل کے بادشاہ ببر شیر نے چشمے کے کنارے والی چٹان کے نیچے گھنی جھاڑیوں سے جھانک کر دور تک پھیلے دھان کے لہلہاتے کھیت پر نظر ڈالی، بہت دور ایک درخت کے نیچے کوئی چیز ہلتی ہوئی نظر آرہی تھی، شہر نے پنجوں سے آنکھیں ملتے ہوئے دوبارہ اس طرف دیکھا، یقینا وہ کالا ہرن تھا، شیر رات سے بھوکا تھا۔ کالے ہرن کے لذیز گوشت کے تصور ہی سے اس کے منہ میں پانی آگیا اور ایک ماہر شکاری کی مانند جھاڑیوں کی آڑ لیتے ہوئے اس نے ہرن کی طرف قدم بڑھائے….
دوسری طرف بانسوں کے جھنڈ میں ایک چیتا بھی ہرن پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ بھوک سے اس کے پیٹ میں بھی چوہے دوڑ رہے تھے۔ چیتے نے بھی ہرن کی طرف بڑھنا شروع کیا۔
ہرن دونوں طرف سے بڑھتے ہوئے خطروں سے بے خبر نرم نرم گھاس کھانے میں مشغول تھا. کبھی کبھی وہ اپنی بادام جیسی آنکھیں گھما کر ادھر ادھر دیکھتا اور پھر گھاس کھانے لگتا۔ جانور خطرے کی بو سونگھ لیتے ہیں۔ ہرن کی بے چین آنکھی ظاہر کر رہی تھیں کہ اس نے خطرے کی بو سونگھ لی ہے۔ اس نے کان کھڑے کر کے گردن گھما کر چشمے کی طرف دیکھا جہاں میدان میں دو ریچھ کے بچے کھیل رہے تھے، ابھی ہرن پہاڑ کی طرف رخ کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ مشرق اور جنوب سے شیر اور چیتے نے جھاڑیوں سے چھلانگیں لگائیں اور دونوں تیر کی طرح ہرن کی طرف لپکے، ہرن لمبی لمبی قلانچیں مارتا ہوا پہاڑوں کی طرف بھاگا۔
شیر اور چیتے کی رفتار کے مقابلے میں ہرن کی رفتار کم تھی، لیکن وہ اپنے ہلکے اور سڈول جسم کی وجہ سے ان دونوں کو غچہ دیتے ہوئے بھاگ رہا تھا، اس بھاگ دوڑ میں ان تینوں نے میلوں کا فاصلہ طے کر لیا، آخر کار ہرن ایک چٹان پر چڑھ گیا، جو اتنی اونچی تھی کہ اس پر شیر اور چیتا نہیں چڑھ سکتے تھے، شیر اور چیتا چٹان کے نیچے زبانیں نکالے ہانپ رہے تھے اور ہرن کو للچائی نظروں سے دیکھ رہے تھے، جب سانسیں درست ہوئیں تو شیر نے کہا۔ ”یہ میرا شکار ہے پہلے میں نے تاکا تھا“۔
چیتے نے غصے سے جواب دیا۔ ”آپ جنگل کے بادشاہ ضرور ہیں لیکن یہ جنگل ہے انسانوں کی دنیا نہیں کہ بادشاہ جو چاہے کرے، جانور اپنے حقوق کی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں۔ یہ میرا شکار ہے“۔
شیر دہاڑا: ”انسان ہو یا جانور‘ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہر جگہ چلتا ہے میں تم سے زیادہ طاقتور ہوں“۔
شیر اور چیتے کی تکرار سن کر ہرن نے اطمینان کا سانس لیا اور کہا ”میرے محترم بادشاہ ہو! یہ میری خوش نصیبی ہوگی کہ میں آپ جیسے شاہی خاندار کے افراد کی غذا بنوں، لیکن پہلے آاپ دونوں طے کر لیں کہ آپ میں سے کون میرا لذیذ گوشت نوش فرمائے گا“۔
شیر اور چیتا دوبارہ تکرار کرنے لگے، اسی دوران ادھر سے ایک گدھے کا گزر ہوا تو ہرن نے جھٹ سے مشورہ دیا ”میرے خیال سے آپ دونوں اس سلسلے میں گدھے صاحب سے مشورہ لے لیں، کیوں کہ مشورہ دینے کے لیے عقلمند ہونا ضروری نہیں“۔
شیر نے کہا ”چلو مجھے منظور ہے، وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے“۔
چیتے نے گدھے کو حکم دیا ”گدھے کے بچے! ادھر آﺅ….“
گدھا پہلے تو ڈرا کہ کہیں یہ دونوں اسے ہی ہڑپ نہ کر لیں، پھر ڈرتے ڈرتے دانت نکالتا ہوا ان کے قریب آیا اور جب اس نے پورا قصہ سنا تو خوشی سے مشورہ دیا ”ہاں تو شیر صاحب آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ نے ہرن پر پہلے نظرِ بد ڈالی جب کہ چیتے صاحب کا دعویٰ ہے کہ ہرن کو دیکھ کر پہلے ان کی رال ٹپکی، کیوں کہ یہاں کوئی گواہ نہیں ہے اس لیے میرا مشورہ ہے کہ آپ دونوں اپنی اپنی جگہ تشریف لے جائیں اور جب میں رینکنا شروع کروں تو آپ دونوں دوڑنا شروع کر دیں جو بھی پہلے یہاں پہنچ جائے گا وہی ہرن میاں کو نوش فرمانے کا حق دار ہو گا“۔
شیر اور چیتا بھوک سے بے تاب تھے، لیکن دونوں کو اپنی تیز رفتاری پر ناز تھا اس لیے انہوں نے گدھے کی تجویز مان لی اور یہ طے ہوا کہ دونوں اپنی اپنی جگہ لوٹ جائیں گے اور اس دوران ہرن صاحب چٹان سے اتر کر نہا دھو کر ان میں سے ایک کی خوراک بننے کے لیے میدان میں کھڑے ہو جائیں گے اور جیسے ہی گدھے صاحب اپنی بے سری آواز میں رینکنا شروع کردیں گے، دوڑ شروع ہوجائے گی۔
شیر اور چیتا اپنی اپنی جگہ واپس چلے گئے، جب کافی دیر تک گدھے کے رینکنے کی آواز نہ آئی تو دونوں کا ماتھا ٹھنکا، پہلے تو انہوں نے ایک دوسرے کو گھورا، پھر چٹان کی طرف دوڑنا شروع کیا، جب وہ چٹان کے نزدیک پہنچے تو دیکھا وہاں چاروں طرف ویرانی اور سناٹا تھا۔ ہرن کا کہیں پتا نہ تھا اور گدھے کے سر سے سینگ ہی نہیں پورا گدھا غائب تھا۔
شیر نے غصہ سے چیخ کر کہا۔ ”اس گدھے کے بچے نے ہمیں دھوکا دیا“۔
چیتے نے سر جھکا کر افسوس سے کہا۔ ”شیر صاحب! گدھا وہ نہیں ہم دونوں ہیں“۔

مارچ 7, 2011 at 07:20 تبصرہ چھوڑیں

لوہار اور عورت

ایک نیک و پرہیزگار شخص مصر پہنچا ۔ وہاں اس نے ایک لوہار کودیکھا وہ اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر سرخ اور دہکتا ہوا لوہا آگ کی بھٹی سے باہر نکال رہا ہے مگرآگ  کی حرارت و گرمی کا اس پر کوئي اثر نہيں تھا ۔ اس شخص نے اپنے دل میں کہا کہ :یہ توکوئي بہت ہی پہنچا ہوا اور پرہیزگار آدمی معلوم ہوتا ہے۔ وہ اس لوہار کے پاس گيا سلام کیا اورکہنے لگا :تمہيں قسم ہے اس خداکی جس نے تمہیں یہ کرامت عطا کی ہے میرے حق میں کوئی دعا کر دو ۔ لوہار نے جیسے ہی یہ باتیں سنیں اس پر گریہ طاری ہوگیا اور کہنے لگا : میرے بارے میں جوتم سوچ رہے ہو ویسا نہيں ہے میں نہ تو کوئی متقی ہوں اور نہ ہی صالحین میں میرا شمار ہوتا ہے ۔ آنے والے شخص نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟
اس طرح کا کام اللہ کے نیک بندوں کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا ؟
اس نے جواب دیا ٹھیک کہتے ہو مگر میرے ساتھ اس کی کچھ اور وجہ ہے آنے والے شخص نے جب زیادہ اصرار کیا تو لوہار نے کہا : ایک دن میں اسی دوکان میں کام کر رہا تھا ، ایک بہت ہی حسین و خوش اندام عورت کہ اس سے پہلے اتنی خوبصورت عورت کہیں نہیں دیکھی تھی میرے پاس آئي اور کہنے لگی کہ میں بہت ہی غریب و مفلس ہوں ۔ میں اس کودیکھتے ہی اس کا عاشق ہو گیا اوراس کے حسن میں گرفتار ہو گیا میں نے اس سے کہا کہ اگر تو میرے ساتھ ہم بستر ہو جائے تو میں تیری ہر ضرورت پوری کردوں گا ۔ یہ سن کر اس عورت کا پورا جسم لرز اٹھا اوراس پرایک بہت ہی عجیب وغریب کیفیت طاری ہو گئی کہنے لگی :
اے مرد خداسے ڈر میں اس قماش کی عورت نہیں ہوں ۔ اس کے جواب میں میں نے کہا  تو ٹھیک  ہے اٹھ اور یہاں سے کہیں اور کا راستہ دیکھ ۔ وہ عورت چلی گئی مگر تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ دوبارہ واپس آئی اورکہنے لگی غربت تنگدستی مجھے مارے ڈال رہی ہے اوراسی چیز نے مجھے مجبورکر دیا ہے کہ تیری خواہش پر ہاں ، بھر لوں ۔
میں نے دوکان بند کی اوراس کولے کراپنے گھر پہنچا جب میں گھر کے کمرےمیں داخل ہوا تو میں کمرے کےدروازے کواندر سے تالا لگانے لگا
عورت نے پوچھا  : کیوں تالا لگارہے ہو یہاں توکو‏ئی بھی نہيں ہے ؟ میں نے جواب دیا کہيں کوئي آ نہ جائے اورپھر میری عزت چلی جائے ۔ عورت نے کہا : اگرایسا ہے توخدا سے کیوں نہيں ڈرتے ؟
جب میں اس کے جسم کے قریب ہوا تو دیکھا کہ اس کا جسم اس طرح سے لرز رہا تھا جیسے باد بہاری کی زد میں آکر بید کے خشک پتے ہلتے رہتے ہیں ۔اوراس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگي ہوئي تھی ،
میں نے اس سے کہا کہ تو یہاں کس سے ڈر رہی ہے ؟ اس نے کہا اس وقت خدا ہم دونوں کو دیکھ رہا ہے تو میں کیونکر خوف نہ کھاؤں ۔ اس  عورت نے بہت ہی گڑگڑا کر کہا :
اے مرد اگر تو مجھے چھوڑدے تو میں وعدہ کرتی ہوں کہ خداوند عالم تیرے جسم کودنیا وآخرت دونوں جہان میں آگ کے شعلوں میں نہيں جلائے گا ۔ اس کی التجا اور چہرے پربہتے ہوئے آنسو مجھ پر اثر کر گئے میں نے اپنا ارادہ  ترک کر دیا اور اس کی جوضرورت تھی وہ بھی پوری کردی یوں وہ عورت خوشی خوشی اپنے گھر لوٹ گئي ۔
اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ خاتون جن کے سر پر یاقوت کا چمکتا ہوا تاج ہے مجھ سے کہہ رہی ہیں : اللہ تمہيں جزائے خیر دے ،میں نے پوچھا آپ کون ہيں ؟ بزرگ خاتون نے کہا کہ میں اسی ضرورت مند اور محتاج لڑکی کی ماں ہوں کہ جس کی غربت کھینچ کر اسے تمہارے پاس لائی تھی لیکن خوف خدا کی وجہ سے تم نے اسے چھوڑ دیا اب میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ دنیا وآخرت میں تمہیں آگ سے محفوظ رکھے ۔
میں نے ان بزرگ خاتون سے پوچھا آپ کا تعلق کس گھرانے سے ہے اس نے جواب دیا کہ میرا شجرہ نسب رسول خدا کے گھرانے سے ملتا ہے یہ سن کر میں نے ان بزرگ خاتون کا بے پناہ شکریہ ادا کیا ۔اس دن کے بعد سے آگ  کی تپش اور حرارت مجھ میں کوئي اثر نہيں کرتی ۔

فروری 17, 2011 at 07:38 تبصرہ چھوڑیں

کر بھلا تو ہو بھلا

کہتے ہیں کہ ایک بڑی سی مرغی نے ایک بڑے سے ٹوکرے میں بہت سی گھاس پھوس اکٹھا کی اور نرم سی گھاس پر بیٹھ کر بہت سے سفید سفید انڈے دیئے اور پھر دن رات ان انڈوں پر بیٹھنا شروع کیا۔ ایک ہفتہ گزرا، دو گزرے، تین گزرے اور کہیں اکیسویں دن یہ انڈے کھٹ کھٹ ٹوٹنا شروع ہوگئے،ہر انڈے سے ایک ننھا منا سا چوزہ نکلا، ان کے چھوٹے چھوٹے پر تھے۔ یہ چوزے نازک تھے، خوبصورت تھے ہر چوزہ روئی کا گالا دکھائی دیتا تھا۔ مرغی خوش تھی پر پریشان بھی تھی ایک انڈا رہ گیا جس سے ابھی کچھ بھی نہ نکلا تھا۔ بے چاری ماں اسے بھی اپنے پروں سے گرمی پہنچا رہی تھی اور پھر ایک دن اس میں سے بھی ایک ایسا ہی بچہ نکلا۔ ایک ننھا منا سا چوزہ، پر اس چوزے کی ایک ہی ٹانگ تھی، ایک ہی آنکھ تھی، یہ چوزہ بےحد شریر تھا۔ ایک دن اپنی ماں سے کہنے لگا۔
اماں میں گھر میں نہیں رہوں گا، میں جارہا ہوں یہاں سے، بادشاہ کا محل دیکھنے کے لئے اور پھر وہاں جا کر بادشاہ سلامت سے بھی ملوں گا۔
مرغی نے کہا ارے میرے پیارے! میرے ننھے لنگٹو ، کیسی باتیں کرتا ہے۔ مجھے ایسی باتوں سے ڈر لگتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو چاہئیے کہ آرام سے گھر پر رہیں اور اپنی ماں کے پروں میں خوب خوب گرم گرم راتیں بسر کریں۔
چوزے نے کہا نہیں میں جارہا ہوں۔
مرغی نے کہا رک جاو، رک جاو، تمہارے لئے آگے جانا مشکل ہوگا۔ چوزے نے کہا مشکل کیوں؟
مرغی نے کہا تمہاری صحت اور تمہارے جسم کی بناوٹ کی وجہ سے تم تھک جاؤ گے۔
چوزے نے کہا جو ڈرتے ہیں وہ آگے بڑھ نہیں سکتے، میں جارہا ہوں، مجھے خوشی خوشی جانے دو۔
مرغی نے کہا کیا یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے
چوزے نے کہا ہاں، خدا حافظ
اور پھر چوزہ اچک اچک کر مسکراتے ہوئے چل پڑا۔ ایک جگہ آگ جل رہی تھی وہ جلتی ہوئی آگ کے قریب آیا، اپنے آپ کو گرم کیا اور جب جانے لگا تو آگ بول اٹھی….
آگ نے کہا میاں لنگڑے ذرا اپنی ننھی سی چونچ سے چند تنکے اٹھا کر لاؤ اور مجھے دے دو تاکہ میں ذرا دیر تک جل سکوں اور اس راستے سے گزرنے والوں کو گرمی دے سکوں۔
چوزے نے کہا نہیں میرے پاس وقت نہیں ہے، میں جلدی میں ہوں۔
آگ نے کہا کیسی جلدی؟ کہاں جانا ہے تم کو۔
چوزے نے کہا بادشاہ سلامت کے پاس، آگ نے کہا تم ہوش میں تو ہو نا۔
چوزے نے کہا ہاں میں جو کہہ رہا ہوں ٹھیک ہی کہہ رہا ہوں۔
آگ نے کہا ذرا لمحہ بھر رکو اور میری مدد کرو
چوزے نے کہا نہیں میں کسی کی مدد نہیں کرتا۔
کچھ اور آگے چل کر چوزے کو ایک چھوٹا سا چشمہ دکھائی دیا، اسے پیاس لگی تھی، پہلے اس نے اپنی پیاس بجھائی، پھر ادھرا دھر دیکھا، چشمے کا پانی راستے کی جانب سرک رہا تھا جس کی وجہ سے چلنا دشوار بن رہا تھا۔ چشمے نے کہا۔
چشمہ:  بجھ گئی پیاس؟ میرا پانی تو بہت ٹھنڈا ہے۔
چوزہ ہاں پیاس تو بجھ گئی۔
چشمے نے کہا میاں لنگڑے! میرا ایک چھوٹا سا کام کرو گے۔
چوزہ: کیا کام ہے؟
چشمےنے کہا دیکھو میرے راستے میں دو چار کنکر پڑے ہیں جن کی وجہ سے پانی سڑک کی طرف جارہا ہے۔ ان کنکروں کو اپنی چونچ سے ہٹادو تاکہ میں آرام سے بہہ سکوں۔
چوزے نے کہا میں یہ کام نہیں کر سکوں گا، مجھے بہت دور جانا ہے، میں بادشاہ کا محل دیکھنے جارہا ہوں….
بھلایہ لنگڑا چوزہ کسی کی بات سنتا ہے، سنی ان سنی کر کے آگے بڑھتا جارہا ہے، شکر ہے کہ اس کی ایک ہی ٹانگ ہے اگر دونوں ٹانگیں ہوتیں تو شاید…. یہ خود ہی بادشاہ سلامت بننے کا اعلان کرتا۔ بہرحال ابھی بادشاہ کا محل دور تھا۔ چلتے چلتے اسے کانٹوں سے بھری ایک جھاڑی ملی۔ جھاڑی کے کانٹوں میں ہوا کا دامن پھنس گیا تھا اور وہ ادھر سے ادھر نکل نکل کر چل رہی تھی، اس نے مرغی کے بچے کو دیکھا تو بولی ”میاں لنگڑے مسافر مجھ پر رحم کر اور مجھے اس جھاڑی سے نکال کر اپنی رحم دلی کا اظہار کر، اس جھاڑی کے کانٹے بڑے تیز ہیں“مگر حسب معمول میاں لنگڑے نے ایک نہ سنی ، اپنا سر ہلایا، اور ہوا سے بھی وہی جلدی کا بہانہ بنا کر آگے چل دیا اور کودتے پھاندتے بادشاہ کے محل پہنچ گیا۔ اس دوران بادشاہ کا باورچی ایک چوزہ پکڑنے نکلا تھا۔ بادشاہ سلامت کے ناشتے کے لئے. اس نے یہاں لنگڑے کو اچکتے دیکھا تو جھٹ سے پکڑ لیا اور دیگچی میں ڈال کر دیگچی کو آگ پر چڑھا دیا، میاں چوزے نے چلا کر کہا….
چوزے نے کہا دہائی ہے، دہائی ہے۔ آگ، بادشاہ سلامت کی دہائی ہے، مجھے مت جلاو
آگ نہیں نہیں میں تمہاری کوئی مدد نہیں کروں گی، جب مجھے تمہاری مدد کی ضرورت پڑی تھی تو تم جلدی میں تھے اور اب مجھے جلدی ہے۔
اتنی دیر میں باورچی لوٹ آیا، اس نے ڈھکن اٹھا کر دیکھا تو اسے چوزہ پسند نہیں آیا کیونکہ اس کی صرف ایک ہی ٹانگ تھی اور اگر بادشاہ سلامت دوسری ٹانگ کے بارے میں پوچھے گا تو وہ کیا جواب دے گا۔ اس کی بات پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔ باورچی نے چوزے کو دیگچی سے نکال کر باہر پھینک دیا، باورچی خانے میں پانی کی ایک نالی تھی، لنگڑا چوزہ اس کے پاس گیا۔
چوزے میاں پانی سے! تمہیں بادلوں کی قسم ذرا مجھے ٹھنڈا کرو، میں بالکل جل گیا ہوں۔
چشمے نے کہا لنگڑے، جب مجھے تمہاری ضرورت تھی تو تم جلدی میں تھے اور میری کوئی مدد نہیں کی حالانکہ اس وقت بھی میں نے تمہاری پیاس بجھائی تھی۔
چوزے نے کہا یہ دیکھو، یہاں سے ہوا چل رہی ہے، مجھے ڈر ہے کہ ہوا کا یہ جھونکا مجھے باہر نہ پھینک دے۔ اے ہوا! میری مدد کر، مجھ پر رحم کھا، میںا س شہر میں اجنبی ہوں، میرا یہاں کوئی نہیں۔
ہوا:  یاد ہے نا، جب میں نے تم سے مدد کے لئے التجا کی تھی اور اب…. مجھ سے مدد چاہتے ہو، اپنے آپ کو عقل مند سمجھتے ہو اور مجھے بے وقوف اور پھر…. ابھی تو تم کو بادشاہ سلامت سے بھی ملنا ہے۔
چوزہ نہیں، میں اب کسی سے ملنا نہیں چاہتا…. مل کر مجھے کیا ملے گا۔
ہوا نے کہا اور میرے پاس بھی وقت نہیں…. میں جارہی ہوں۔
اور یہ کہتے ہوئے ہوا نے زور سے اوپر کا رخ کیا تو میاں چوزہ ایک مینار کی چوٹی پر جا کر اٹک گیا اور ابھی تک وہیں پر لٹکا ہوا ہے اور اب مرغی کا کوئی اور بچہ اگر اس کے پروں سے نکل کر ادھر ادھر چلا جاتا ہے تو وہ دکھیاری مرغی ٹھنڈی سانس بھرتی ہے اور ان سب کو لنگڑے بھائی کی کہانی سناتی ہے۔ اس کی خود غرضی کی کہانی، دوسروں کی مدد نہ کرنے کی داستان، کسی نے سچ کہا ہے…. کر بھلا تو ہوا بھلا۔ تم دوسروںکا بھلا چاہو، دوسرے خود ہی تمہارا بھلا چاہیں گے۔

اکتوبر 7, 2010 at 10:50 1 comment


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]