Posts tagged ‘Islamic Information’

کلمَات خیر و برکت

کوئی کام شروع کرو تو کہو….. (بِسمِ اللہِ) شروع اللہ کے نام سے
چھینک آئے تو کہو ………… ((اَلحَمدُ لِلّٰہِ) سب تعریفیں اللہ کیلئے
اللہ کے نام پر کچھ دو تو کہو ….(فِی سَبِیلِ اللہِ) اللہ کی راہ میں
کچھ کرنے کا ارادہ ہو تو کہو ….(اِن شَاءَ اللہِ) اگر اللہ نے چاہا
کوئی اچھی خبر سنو تو کہو …..(سُبحَانَ اللہِ) اللہ پاک ہے
کسی کو تکلیف ہو تو کہو …….(یَا اَللہُ) اے میرے اللہ
کسی کی تعریف کرنا ہو تو کہو…(مَا شَاءَ اللہ) جو اللہ نے چاہا
سو کر اُٹھو تو کہو ………….(لَآ اِلٰہَ اِلَّا للہُ) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
شکریہ ادا کرنا ہو تو کہو……..(جَذَاکَ اللہ) اللہ تمھیں بدلہ دے
کسی کو رخصت کرو تو کہو…..( فِی اَمَانِ اللہ) اللہ کی حفاظت میں
جب خوشگواری ہو تو کہو ……(فَتَبَارَکَ اللہ) اللہ برکت والا ہے
غلط کام پر افسوس کرنا ہے تو کہو(اَستَغفِرُ اللہ) اللہ سے معافی چاہتا ہوں
جب ناگواری ہو تو کہو………..(نَعُوذبِااللہ) اللہ کی پناہ درکار ہے
جب مدد درکار ہو تو کہو……….(یَا رَسُولُ اللہ) اے اللہ کے رسول
موت کی خبر سنو تو کہو………(اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُونَ) ہم اللہ کے لئے ہیں اور اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے.
Advertisements

اگست 24, 2011 at 08:28 تبصرہ کریں

گلدستہ احادیث

 

جولائی 21, 2011 at 07:52 تبصرہ کریں

15 شعبان المعّظم

ماہِ شعبان کا تمام مہینہ برکتوں اور سعادتوں کا مہینہ ہے.خصوصاً اس کی پندرھویں رات جس کو شب برات اور لیلہ مبارکہ کہتے ہیں. باقی شعبان کو راتوں بلکہ سال کی اکثر راتوں سے افضل ہے. نور خالق دو جہاں اس اس رات کی تعریف قرآن مجید میں بیان فرماتا ہے:
قسم ہے اس روشن کتاب کی ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں. اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکم والا کام ہمارے حکم سے. بے شک ہم بھیجنے والے ہیں. تمہارے رب کی طرف سے رحمت. بے شک وہ سنتا ہے جانتا ہے.
حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم ارشاد فرماتے ہیں کہ شعبان کی پندرھویں شب کی عبادت بہت افضل ہے. اس شب میں اللہ تعالٰی اپنے بندوں کے لئے بے شمار دروازے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور فرماتا ہے.” کون ہے جو آج کی رات مجھ سے بخشش طلب کرے اور میں اس کو عذاب دوزخ سے نجات دے کر اس کی مغفرت کروں.” اور آپ نے فرمایا اس شب کی عبادت کرنے والے پر دوزخ کی آگ اللہ تعالٰی حرام کر دیتا ہے.
شعبان کی پندرھویں شب کو غسل کریں اگر کسی تکلیف کے سبب غسل نہ کر سکیں تو با وضو ہو کر دو رکعت تحیۃ الوضو پڑھیں. ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد آیۃ الکرسی ایک مرتبہ اور سورۃ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھیں. یہ نفل بہت افضل ہیں.

جولائی 15, 2011 at 13:13 تبصرہ کریں

وضو کی دُعائیں

وضو کرنے سے قبل مسواک کرنا سُنّت ہے اور پھر کہیں اے اللہ میں تیرے لئے وضو کرتی یا کرتا ہوں، تو مجھے شیطانی وسوسوں سے بچا.
  • سب سے پہلے جب وضو کے لئے ہاتھ دھوئیں تو اللہ تعالٰی سے یہ دعا کریں کہ میرے ہاتھوں کو گردشوں، نحوست اور گناہوں سے دور فرما.
  • جب کلی کریں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی میرے منہ سے غیبت اور برے فعل نہ نکلیں اور تیرا ذکر اور شکر نکلے.
  • جب ناک میں پانی ڈالیں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی اس ناک سے جنّت کی خوشبو سونگھنا نصیب فرما نا اور جہنّم کی بدبو سے بچا.
  • جب چہرہ دھوئیں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی اس چہرہ کو مرتے دم تک روشن رکھنا اور آخرت میں بھی نور سے منور کرنا.
  • جب دایاں ہاتھ دھوئیں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس میں نامہ اعمال دینا اور بائیں ہاتھ میں عمل نامہ نہ دینا.
  • جب مسح کرنے کے لئے ہاتھ اونچے کریں تو آنکھوں پر ہاتھ لگا کر یہ دعا کریں اللہ تعالٰی ان آنکھوں سے دنیا میں تیرے گھر اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے روضہ مبارک کا دیدار نصیب فرما. میرے بچوں کی خوشیاں اور خیر دکھا.
  • جب سر پر مسح کریں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن محشر کی گرمی سے بچا کر عرش کا سایہ عطا فرما.
  • جب کان پر ہاتھ پھیریں تو یہ دعا کریں کہ اس کان سے خوشخبری سنیں، غم اور صدمے کی خبر نہ سنیں، جنّت کی خوشخبری سنیں.
  • جب گردن پر مسح کریں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن میری گردن کو گناہوں کے بوجھ سے آزاد کر دے.
  • جب دایاں پاؤں دھوئیں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی مجھے صراط مستقیم پر چلانا اور جب بایاں پاؤں دھوئیں تو یہ دعا کریں کہ مجھے پُل صراط جلدی پار کرا دینا.
(حضور صلے اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ وضو اگر ان دُعاؤں کے ساتھ کیا جائے تو تمہاری نماز بھی درست اور توجہ کے ساتھ ہو گی اور دین و دنیا میں بھلائی اور کامیابی ہو گی اور دل کو سکون ملے گا.)

اپریل 19, 2011 at 06:10 تبصرہ کریں

ماہ ذی الحجہ کے اعما ل اور فضیلت

اطاعت وفرمانبردارى كے موسموں ميں سے ماہ ذوالحجہ كے پہلے دس يوم بھي ہيں جنہيں اللہ تعالى نے باقى سب ايام پر فضيلت دى ہے:
ابن عباس رضي اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
” ان دس دنوں میں کیے گئے اعمال صالحہ اللہ تعالی کو سب سے زيادہ محبوب ہیں ، صحابہ نے عرض کی اللہ تعالی کے راستے میں جھاد بھی نہيں !! تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور جھاد فی سبیل اللہ بھی نہيں ، لیکن وہ شخص جواپنا مال اور جان لے کر نکلے اور کچھ بھی واپس نہ لائے ” صحیح بخاری ( 2 / 457 )
اور ايك دوسرى حديث ميں ہے ابن عباس رضي اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
” عشرہ ذی الحجہ میں کیے گئے عمل سے زیادہ پاکیزہ اور زيادہ اجر والا عمل کوئي نہيں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گيا کہ نہ ہی اللہ تعالی کے راستے میں جھاد کرنا ؟ تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اورنہ ہی اللہ تعالی کے راستے میں جھاد کرنا ” سنن دارمی ( 1 / 357 )
مندرجہ بالا اوراس کے علاوہ دوسری نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن باقی سال کے سب ایام سے بہتر اورافضل ہيں اوراس میں کسی بھی قسم کا کوئي استثناء نہيں حتی کہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ بھی نہيں ، لیکن رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی دس راتیں ان ایام سے بہتر اورافضل ہیں کیونکہ ان میں لیلۃ القدر شامل ہے ، اورلیلۃ القدر ایک ہزار راتوں سے افضل ہے ، تواس طرح سب دلائل میں جمع ہوتا ہے ۔
لھذا ہر مسلمان كو چاہئے كہ وہ ان دس دنوں كي ابتدا اللہ تعالى كے سامنے سچى اور پكى توبہ كے ساتھ كرے اور پھر عمومى طور پر كثرت سے اعمال صالحہ كرے اور پھر خاص كر مندرجہ ذيل اعمال كا خيال كرتے ہوئے انہيں انجام دے:
1 – روزے ۔
مسلمان شخص کےلیے نو ذوالحجہ کا روزہ رکھنا سنت ہے کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دس ایام میں اعمال صالحہ کرنے پر ابھارا ہے اور روزہ رکھنا اعمال صالحہ میں سے سب سے افضل اوراعلی کام ہے ، اوراللہ تعالی نے روزہ اپنے لیے چنا ہے جیسا کہ حدیث قدسی میں اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
( ابن آدم کے سارے کے سارے اعمال اس کے اپنے لیے ہیں لیکن روزہ نہيں کیونکہ وہ میرے لیے ہے اورمیں ہی اس کا اجروثواب دونگا ) ، صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1805 ) ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نو ذوالحجہ کا روزہ رکھا کرتے تھے ، ھنیدہ بن خالد اپنی بیوی سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ سے بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ نے بیان کیا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو ذوالحجہ اور یوم عاشوراء اور ہر ماہ تین روزے رکھا کرتے تھے ، مہینہ کے پہلے سوموار اوردو جمعراتوں کے ۔
سنن نسائي ( 4 / 205 ) سنن ابوداود ، علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابوداود ( 2 / 462 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
2 – تکبیریں، الحمد اللہ اور سبحان اللہ كثرت سے کہنا :
ان دس ایام میں مساجد ، راستوں اورگھروں اورہر جگہ جہاں اللہ تعالی کا ذکر کرنا جائز ہے وہیں اونچی آواز سے تکبیریں اور لاالہ الااللہ ، اور الحمدللہ کہنا چاہیے تا کہ اللہ تعالی کی عبادت کا اظہار اوراللہ تعالی کی تعظیم کا اعلان ہو ۔ مرد تو اونچي آواز سے کہيں گے لیکن عورتیں پست آواز میں ہی کہيں ۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ اپنے فائدے حاصل کرنے کوآ جائيں ، اوران مقرر دنوں میں ان چوپایوں پراللہ تعالی کا نام یاد کریں جوپالتوہیں } الحج ( 28 ) ۔
جمہورعلماء کرام کا کہنا ہے کہ معلوم دنوں سے مراد ذوالحجہ کے دس دن ہیں کیونکہ ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ ایام معلومات سے مراد دس دن ہیں ۔
عبد اللہ بن عمر رضي اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
” اللہ تعالى كے ہاں ان دس دنوں سے عظيم كوئى دن نہيں اور ان دس ايام ميں كئے جانے والے اعمال سے زيادہ كوئي عمل محبوب نہيں، لھذا لاالہ الا اللہ، اور سبحان اللہ ، اور تكبيريں كثرت سے پڑھا كرو” اسے امام احمد نے روايت كيا ہے اور اس كي سند كو احمد شاكر رحمہ اللہ نے صحيح قرار ديا ہے
اورتکبیر کے الفاظ یہ ہیں :
الله أكبر ، الله أكبر لا إله إلا الله ، والله أكبر ولله الحمد
اللہ بہت بڑاہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ تعالی کےعلاوہ کوئي معبود برحق نہيں ، اوراللہ بہت بڑا ہے ، اوراللہ تعالی ہی کی تعریفات ہیں ۔
اس کےعلاوہ بھی تکبیریں ہیں ۔
یہاں ایک بات کہنا چاہیں گے کہ موجود دورمیں تکبریں کہنے کی سنت کوترک کیا جاچکا ہے اورخاص کران دس دنوں کی ابتداء میں تو سننے میں نہیں آتی کسی نادر شخص سے سننے میں آئيں گیں ، اس لیے ضروری ہے کہ تکبیروں کواونچی آواز میں کہا جائے تاکہ سنت زندہ ہوسکے اورغافل لوگوں کو بھی اس سے یاد دہانی ہو۔
ابن عمر اور ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہما کے بارے میں ثابت ہے کہ وہ دونوں ان دس ایام میں بازاروں میں نکل کر اونچی آواز کے ساتھ تکبیریں کہا کرتے تھے اورلوگ بھی ان کی تکبیروں کی وجہ سے تکبیریں کہا کرتے تھے ، اس کا مقصد اورمراد یہ ہے کہ لوگوں کوتکبریں کہنا یاد آئيں اور ہرایک اپنی جگہ پر اکیلے ہی تکبریں کہنا شروع کر دے ، اس سے یہ مراد نہيں کہ سب لوگ اکٹھے ہوکر بیک آواز تکبیریں کہيں کیونکہ ایسا کرنا مشروع نہيں ہے
اورجس سنت کوچھوڑا جا چکا ہو یا پھر وہ تقریبا چھوڑی جا رہی ہو تواس پرعمل کرنا بہت ہی عظیم اجروثواب کا ذریعہ ہے. کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی اس پردلالت کرتا ہے :
( جس نے بھی میری مرد سنت کو زندہ کیا اسے اس پر عمل کرنے والے کے برابر ثواب دیا جائے گا اوران دونوں کے اجروثواب میں کچھ کمی نہيں ہوگي ) اسے امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے روایت کیا ہے.
3 – حج وعمرہ کی ادائيگي :
ان دس دنوں میں جوسب سے افضل اوراعلی کام ہے وہ بیت اللہ کاحج وعمرہ کرنا ہے ، لھذا جسے بھی اللہ تعالی اسے اپنے گھرکا حج کرنے کی توفیق عطا فرمائے اوراس نے مطلوبہ طریقہ سے حج کے اعمال ادا کیے توان شاء اللہ اسے بھی اس کا حصہ ملے گا جونبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان میں بیان کیا ہے :
( حج مبرور کا جنت کے علاوہ کوئي اجروثواب نہيں ) ۔
4 – قربانی :
عشرہ ذی الحجہ کے اعمال صالحہ میں قربانی کے ذریعہ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنا بھی شامل ہے کہ قربانی کی جائے اوراللہ تعالی کےراستے میں مال خرچ کیا جائے ۔
لھذا ہميں ان فضيلت والے ايام سے فائدہ اٹھانا چاہئے يہ ہمارے لئے بہترين اور سنہري موقع ہے، قبل اس كے كہ ہم اپنى كوتاہى پر نادم ہوں، اور قبل اس كے كہ ہم واپس دنيا ميں آنے كا سوال كريں ليكن اس كي شنوائى نہ ہو.

نومبر 11, 2010 at 10:04 2 comments

قربانی کے مسائل

قربانی ہر صاحب نصاب بالغ مرد و عورت پر فرض ہے۔ زکوٰۃ کی فرضیت کے لیے کم از کم نصاب پر پورا قمری سال یا سال کا اکثر حصہ گزرنا شرط ہے، جب کہ قربانی اور فطرانے کی فرضیت  کے لیے بالترتیب عیدالاضحیٰ اور عید الفطر کی صبح صادق کو محض کم از کم نصاب کا مالک ہونا کافی ہے، سال گزرنا شرط نہیں ہے۔
٭ قربانی کے جانور کم از کم حسب ذیل عمر کے ہونے چاہئیں:
٭ اونٹ، اونٹنی= پانچ سال
٭ گائے و بیل= دو سال
٭ بھینس و بھینسا = دو سال
٭بکرا و بکری، بھیڑ و دنبہ=ایک سال
البتہ بھیڑ اور دنبہ اگر اتنے فربہ ہوں کہ دیکھنے میں ایک سال کے نظر آئیں تو ان کی قربانی جائز ہے۔
٭ اگر صاحب نصاب مال دار شخص نے قربانی کا جانور خریدا اور وہ گم ہوگیا یا قربانی سے پہلے مرگیا تو اس پر لازم ہے کہ دوسرا جانور خرید کر قربانی دے یا قربانی کے جانور میں حصہ ڈالے۔ اگر قربانی سے پہلے گم شدہ جانور مل جائے تو مالدار شخص کو اختیار ہے کہ جس جانور کی چاہے قربانی دے، دونوں کی قربانی لازمی نہیں ہے۔
٭ اگر نادار شخص نے قربانی کا جانور خریدا اور وہ قربانی سے پہلے گم ہوگیا یا مرگیا، تو اس پر دوسرے جانور کی قربانی لازم نہیں ہے۔ اگر اس نے دوسرا جانور خرید لیا تو اس پر دونوں کی قربانی لازم ہو گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو اُس پر ایک بھی واجب نہیں ہے، جب اُس نے قربانی کی نیت سے جانور خرید لیا تو وہ قربانی کے لیے متعین ہوگیا اور اس کی قربانی واجب ہوگی، اسی طرح دوسرے جانور کا حکم ہے۔
٭ قربانی کے جانوروں کی عمر پورا ہونے کی ظاہری علامت ثَنِّی (دو دانت کا) ہونا ہے، لہٰذا کھیرا جانور یعنی جس کے سامنے کے دو دانت ابھی نہیں گرے، اسے قربانی کے لیے نہیں خریدنا چاہیے۔ البتہ جانور گھر کا پلا ہوا ہے یا کسی دیانت دار، قابل اعتماد شخص کے پاس ہے اور اس کی مطلوبہ عمر پوری ہوگئی ہے تو اس کی قربانی شرعاً جائز ہے، خواہ سامنے کے دو دانت ابھی نہ گرے ہوں، عام کاروباری لوگوں پر اعتماد کرنا مشکل ہے۔
٭ قربانی کا جانور تمام ظاہری عیوب سے پاک ہونا چاہیے۔ اس سلسلہ میں فقہائے کرام نے یہ ضابطہ مقرر کیا ہے کہ ہر وہ عیب جو کسی منفعت اور جمال کو بالکل ضائع کردے، اس کی وجہ سے قربانی جائز نہیں ہے اور جو عیب اس سے کم تر درجے کا ہو، اس کی وجہ سے قربانی ناجائز نہیں ہوتی۔
٭ جو جانور اندھا کانا یا لنگڑا ہو، بہت بیمار اور لاغر، جس کا کوئی کان، دم یا چکتی تہائی سے زیادہ کٹے ہوئے ہوں، پیدائشی کان نہ ہوں، ناک کٹی ہو، دانٹ نہ ہوں، بکری کا ایک تھن یا گائے بھینس کے دو تھن خشک ہوں، ان سب جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے۔
٭ جس جانور کے پیدائشی سینگ نہ ہوں، یا سینگ اوپر سے ٹوٹا ہوا ہے، کان، چکتی یا دم ایک تہائی یا ا س سے کم کٹے ہوئے ہیں تو ایسے جانوروں کی قربانی جائز ہے۔
٭ قربانی کے جانور کے سینگ جانور میں حسن پیدا کرنے کے لیے سر کے اوپر سے توڑ دیے ہیں اور ان کا بڑا ہونا رک گیا ہے، لیکن سر یا دماغ کے اندر تک جڑ کو نہیں نکالا، نہ ہی اس سے جانور کے دماغ پر کوئی اثر ہوا ہے اور پوری طرح صحت مند ہے تو اس کی قربانی جائز ہے۔
٭ صاحب نصاب نے عیب دار جانور خریدا یا خریدتے وقت بےعیب تھا بعد میں عیب دار ہوگیا تو ان دونوں صورتوں میں اس کے لیے ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ دوسرا بےعیب جانور خریدے اور قربانی کرے اور اگر خدانخواستہ ایسا شخص صاحب نصاب نہیں ہے تو دونوں صورتوں میں اس جانور کی قربانی کرسکتا ہے۔
٭ خصی جانور کی قربانی آنڈو کے بہ نسبت افضل ہے کیونکہ اس کا گوشت زیادہ لذیذ ہوتا ہے، اگر گائے کے ساتویں حصے کی قیمت بکری سے زیادہ ہو تو وہ افضل ہے اور اگر قیمتیں برابر ہوں تو بکری کی قربانی افضل ہے، کیونکہ بکری کا گوشت زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔
٭ بکرا بکری، بھیڑ دنبے کی قربانی صرف ایک فرد کی طرف سے ہوسکتی ہے۔ اونٹ گائے وغیرہ میں زیادہ سے زیادہ سات افراد شریک ہوسکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ سب کی نیت تقریب یعنی عبادت اور حصول اجر و ثواب کی ہو۔ سات سے کم افراد بھی ایک گائے کی قربانی میں برابر کے حصے دار ہوسکتے ہیں، مثلاً چھ یا پانچ یا چار یا تین یا دو حتی کہ ایک آدمی بھی پوری گائے کی قربانی کر سکتا ہے، سات حصے داروں کا ہونا ضروری نہیں ہے۔
٭ سات افراد نے مل کر قربانی کا جانور خریدا، بعد ازاں قربانی سے پہلے ایک حصے دار کا انتقال ہوگیا اگر مرحوم کے سب ورثاء باہمی رضا مندی سے یا کوئی ایک وارث یا چند ورثاء اپنے حصۂ وراثت میں سے اجازت دے دیں تو استحساناً اس کی قربانی کی جاسکتی ہے، اپنی واجب قربانی ادا کرنے کے بعد اللہ توفیق دے تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کے ایصالِ ثواب کی نیت سے قربانی کرنا افضل ہے اور کرنے والے کو نہ صرف پورا اجر و ثواب ملے گا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے اس کی قبولیت کا بھی یقین ہے۔
٭ شریعت مطہرہ کی رو سے ہر عاقل و بالغ مسلمان مرد و عورت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے اعمال کا جواب دہ ہے، لہٰذا اگر کسی مشترکہ خاندان میں ایک سے زیادہ افراد صاحب نصاب ہیں تو سب پر فرداً فرداً قربانی واجب ہے، محض ایک کی قربانی سب کے لیے کافی نہیں ہوگی، بلکہ تعین کے بغیر ادا ہی نہیں ہوگی۔
٭ گائے کی قربانی میں ’’عقیقہ‘‘ کا حصہ بھی ڈال سکتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ لڑکے کے لیے دو حصے ہوں اور لڑکی کے لیے ایک حصہ، اگر دو حصوں کی استطاعت نہ ہو تو لڑکے کے لیے ایک حصہ بھی ڈالا جاسکتا ہے۔
٭ قربانی کے جانور نے ذبح سے پہلے بچہ دے دیا یا ذبح کرنے کے بعد پیٹ سے زندہ بچہ نکلا تو دونوں صورتوں میں یا تو اسے بھی قربان کردیں یا زندہ صدقہ کردیں یا فروخت کرکے اس کی قیمت صدقہ کردیں، اگر بچہ مردہ نکلے تو اسے پھینک دیں قربانی ہر صورت میں صحیح ہے۔
٭ ذبح کرتے وقت قربانی کا جانور اچھلا کودا اور اس میں کوئی عیب پیدا ہوگیا، یا ذبح ہوتے ہوئے اُٹھ کر بھاگا اور وہ عیب دار ہوگیا تو اسے اُسی حالت میں ذبح کردیں قربانی ہوجائے گی۔
قربانی کے گوشت کی تقسیم:
٭ افضل یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں۔ ایک حصہ ذاتی استعمال کے لیے، ایک حصہ اعزاء و اقرباء اور احباب کے لیے اور ایک حصہ فقراء اور ناداروں پر صرف کیا جائے۔ سارا گوشت رضائے الٰہی کے لیے مستحقین کو دے دینا عزیمت اور اعلیٰ درجے کی نیکی ہے۔ اور بصورت ضرورت شدیدہ کل یا اکثر گوشت ذاتی استعمال میں لانے کی بھی رخصت و اجازت ہے، لیکن یہ روح قربانی کے منافی ہے۔
نوٹ: شریعت کے مطابق ذبح کیے ہوئے حلال جانور کے مندرجہ ذیل اعضاء کھانے منع ہیں۔ دم مسفوخ (ذبح کے وقت بہنے والا خون)، ذکر (نر جانور کا آلۂ تناسل) گائے، بکری کے پیشاب کی جگہ (فرج)، خصیتین (کپورے)، مثانہ، دبر(جانور کے پاخانے کی جگہ)، حرام مغرز، اوجھڑی اور آنتیں ان میں دمِ مسفوح حرام قطعی اور باقی مکروہِ تحریمی ہیں۔
قربانی کا وقت
٭ قربانی کا وقت 10 ذی الحجہ کی صبح صادق سے لے کر 12 ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک ہے۔ گیارہویں اور بارہویں شب میں بھی قربانی ہوسکتی ہے، مگر رات کو ذبح کرنا مکروہ ہے۔ ایسے دیہات اور قصبات جہاں عید کی نماز پڑھی جاتی ہے، وہاں نمازِ عید سے پہلے قربانی جائز نہیں ہے۔
(ذبح کا طریقہ)
قربانی کرتے وقت جانور بائیں پہلو پر قبلہ رُخ لٹائیں اور خود ذبح کریں یا کسی سے ذبح کرائیں، چھری تیز ہو اور کم از کم تین رگیں کاٹنی چاہئیں۔
ذبح سے پہلے کی دعا
اِنِّی وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ عَلیٰ مِلَّۃِ اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ o اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ o لَا شَرِیْکَ لَہ وَبِذَالِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَo اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ عَنْ (فُلَانٍ اور فُلَانَۃٍ۔ (جس کی قربانی ہے، اس کا نام لیں اور گائے کی قربانی ہو تو سب شرکاء کا نام لیں) پھر بلند آواز سے بِسْمِ اللہِ وَاللہُ اَکْبَرُ پڑھ کر ذبح کردیں اور ذبح میں چاروں یا کم از کم تین رگیں کٹنی چاہئیں۔
ذبح کے بعد کی دعا
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم
اگر دوسرے کی طرف سے ہو تو ’’مِنِّی ‘‘ کی جگہ ’’مِنْ فُلَانٍ‘‘ (اس شخص کا نام ) لیں، اگر گائے و اونٹ وغیرہ ہو تو تمام شرکاء قربانی کے نام لیں۔
عقیقہ کی دعا لڑکے کے لیے
اَللّٰھُمَّ ھٰذِہ عَقِیْقَۃُ فُلَان بن فُلَان دَمُھَا بِدَمِہ وَلَحْمُھَا بِلَحْمِہ وَعَظْمُھَا بِعَظْمِہ وَجِلْدُھَابِجِلْدِہ وَشَعْرُھَا بِشَعْرِہ، اَللّٰھُمَّ اجْعَلُھَا فِدَاءً لَّہ مِنَ النَّارِ، بِسْمِ اللہِ واللہ اَکْبَرُ۔
ترجمہ: ’’اے اللہ یہ فلاں بن فلاں (یعنی لڑکے اور اس کے والد کا نام لیں) کا عقیقہ ہے، اس کی جان کو اس کی جان کے لیے، اس کے گوشت کو اس کے گوشت کے لیے، اس کی ہڈی کو اس کی ہڈیوں کے لیے، اس کی جلد کو اس کی جلد کے لیے، اس کے بال اس کے بالوں کے لیے صدقہ ہیں، اے اللہ! اسے جہنم سے نجات کے لیے اس کا فدیہ بنادے اور پھر بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر چھری پھیردے۔
عقیقہ کی دعا لڑکی کے لیے
اَللّٰھُمَّ ھٰذِہ عَقِیْقَۃُ فُلَانۃ بنت فُلَان دَمُھَا بِدَمِھَا وَلَحْمُھَا بِلَحْمِھَا وَعَظْمُھَا بِعَظْمِھَا وَجِلْدُھَابِجِلْدِھَا وَشَعْرُھَا بِشَعْرِھَا، اَللّٰھُمَّ اجْعَلُھَا فِدَاءً لَھَا مِنَ النَّارِ، بِسْمِ اللہِ واللہ اَکْبَرُ۔
ترجمہ: ’’اے اللہ یہ فلانہ بنت فلاں (یعنی لڑکی اور اس کے والد کا نام لیں) کا عقیقہ ہے، اس کی جان کو اس کی جان کے لیے،اس کے گوشت کو اس کے گوشت کے لیے، اس کی ہڈی کو اس کی ہڈیوں کے لیے، اس کی جلد کو اس کی جلد کے لیے، اس کے بال اس کے بالوں کے لیے صدقہ ہیں، اے اللہ! اسے جہنم سے نجات کے لیے اس کا فدیہ بنادے اور پھر بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر چھری پھیر دے۔
تکبیرات تشریق
9 ذو الحجہ کی نمازِ فجر سے 13 ذو الحجہ کی نماز عصر تک ہر باجماعت نماز کے بعد ایک مرتبہ بلند آواز سے یہ تکبیر کہنا واجب ہے اور تین مرتبہ کہنا افضل ہے۔ عیدگاہ آتے اور جاتے بھی بہ آوازِ بلند یہ تکبیر کہنا چاہیے۔ اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ، اَللہُ اَکْبَرُ وَلِلہِ الْحَمْدُ O
قربانی کی کھال
قربانی کے جانور کی کھال قصاب کو اجرت میں دینا جائز نہیں ہے، کھال بیچ کر اس کی قیمت صدقہ کردیں یا کسی نادار مستحق کو شخصی طور پر بھی دی جاسکتی ہے، لیکن دینی اداروں کو دینا افضل ہے، کیونکہ یہ تبلیغ و اشاعت دین کے کام میں اعانت بھی ہے اور صدقۂ جاریہ بھی ہے۔

نومبر 8, 2010 at 05:29 1 comment

آخری عشرے کی فضیلت و عظمت

اگست 31, 2010 at 05:10 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]