Posts tagged ‘Islam’

Ramzan k Lye Duayen

Advertisements

اگست 12, 2011 at 11:44 تبصرہ چھوڑیں

نماز تراویح کی فضیلت

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اور اس کی راتوں میں قیام کیا(تراویح ادا کی) اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے گئے.
رمضان المبارک میں عشاء کی نماز کے بعد وتر سے پہلے جو بیس رکعت نماز ادا کرتے ہیں، اسے ہم تراویح کے نام سے اس لئے پکارتے ہیں کہ اس میں ہر چار رکعات کے بعد تھوڑی دیر بیٹھتے ہیں، اس بیٹھنے کو ترویحہ کہتے ہیں. تراویح ترویح کی جمع ہے. ترویحہ کے معنی استراحت کے ہیں جو راحت جیسے مشتق ہے. چونکہ بیس رکعت تراویح میں پانچ ترویحے ہوتے ہیں، اس لئے اسے نماز تراویح کہتے ہیں. نماز پڑھنا شریعت کی نظر میں راحت ہے، جیسا کہ ہادیِ برحق سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلّم نے اسشاد فرمایا: "نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے” ایک اور حدیث میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، ایک افطار کے وقت اور دوسری خوشی اس وقت، جب اپنے رب سے ملاقات کرتا ہے” بظاہر ملاقات سے مراد تراویح ہے.
نماز تراویح کا طریقہ وہی ہے جو دیگر نمازوں کا ہے اور اس کی نیت اس طریقے سے ہے” میں دو رکعت نماز تراویح پڑھنے کی نیت کرتا ہوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کی سنت ہے” کہہ کر اللہ اکبر کی نیت باندھ لے، تراویح کے لئے شروع میں بیس رکعت کی نیت کافی ہے. ہر دو رکعت پر نیت شرط نہیں مگر ہر دو رکعت پر نیت کر لینا بہتر ہے. دل کی نیت بھی کافی ہے.
پورے رمضان المبارک میں دوران تراویح ایک مرتبہ قرآن مجید کا پڑھنا سنّت مؤکدہ ہے.
جب رمضان المبارک کا چاند دیکھا جائے، اس رات سے تراویح شروع کی جائے اور جب عید کا چاند نظر آئے تو چھوڑ دی جائے. پورے ماہ تراویح پڑھنا سنّت مؤکدہ ہے. اگرچہ تراویح میں قرآن مہینے سے پہلے ہی ختم کر دیا جائے مثلاً تین دن، دس، پندرہ، اکیس، ستائیس وغیرہ میں، باقی دنوں میں تراویح پڑھنا سنّت مؤکدہ ہے.
تراویح سنّت مؤکدہ ہے. بلا عذر ان کو چھوڑنے والا گنہگار ہے. خلفائے راشدین، صحابہ کرام اور سلف صالحین سے اس کی پابندی ثابت ہے. سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا، مجھے خیال ہوا کہ کہیں تراویح فرض نہ ہو جائیں، اس وجہ سے آپ نے مواظبت نہیں فرمائی. حقیقت میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلّم کا یہ فرمانا خود ہی اس کے اہتمام کی کھلی دلیل ہے کہ کسی شخص کا یہ کہنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے تراویح ترک کیں، میں بھی چھوڑتا ہوں، قطعاً نا قابلِ قبول اور نا واقفیت پر مبنی ہے.
اگر کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتاتو وہ نماز تراویح ضرور ادا کرے، اس کا اجروثواب ضرور ملے گا. لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ جو روزہ نہ رکھے، وہ تراویح بھی نہ پڑھے یا تراویح کے بغیر روزہ ادا نہ ہو گا. یہ دونوں ایک دوسرے کے تابع نہیں، دونوں کا الگ الگ ثواب ہے. یہ الگ بات ہے کہ بغیر عذرِ شرعی کے روزہ چھوڑنا سخت عزاب، وبال کا باعث ہے.
رمضان المبارک کا مہینہ بڑا سعادتوں والا ہے. اس ماہِ مبارک میں ہر نفل عمل کا اجروثواب فرض کے برابر ملتا ہے. اور ہر فرض کا ستّر فرائض کے برابر، مساجد نمازیوں سے بھر جاتی ہیں، دل خودبخود اللہ کی طرف مائل ہو جاتا ہے. ایسی صورت میں ہم ہمہ تن اللہ کی طرف فجوع کریں. پوری امّت مسلمہ، اپنے ملک کے لئے اللہ کے حضور گڑگڑا کر کر دعا کرے اور پورے مہینے فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ عبادت کے لئے وقف کر دے.
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلّم کا فرمان ہے: جو لوگ ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کی راتوں میں قیام (تراویح پڑھیں گے) کریں گے، ان کے سب پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے. قرآن کریم کی ایک حرف کی تلاوت پر دس نیکیاں ملتی ہیں اور رمضان میں ہر نیکی کا ثواب ستّر گنا زیادہ ہوتا ہے. یعنی صرف "الم” کی تلاوت پر ہمیں دو سو نیکیاں مل گئیں، یہ کم از کم ہیں، تو حقیقت میں اس سے بہت زیادہ ہیں، اور جو فضیلت پڑھنے والے کے لئے ہے وہی سننے والے کے لئے بھی ہے. (سبحٰن اللہ)

اگست 10, 2011 at 11:57 تبصرہ چھوڑیں

گلدستہ احادیث

 

جولائی 21, 2011 at 07:52 تبصرہ چھوڑیں

شعبان المعّظم

شعبان المعّظم اسلامی آٹھواں مہینہ ہے.
حدیث شریف میں ہے. کہ شعبان کو اس لئے شعبان کہا جاتا ہے کہ اس میں روزہ دار کے لئے خیر کثیر تقسیم ہوتی ہے. یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے. (ماثبت من السنۃ 141)
           ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ ماہِ شعبان المعّظم نہت ہی برگزیدہ مہینہ ہے. اس ماہِ مبارک کی عبادت کا اللہ تعالٰی بہت ثواب عطا فرماتاہے.
شعبان المعّظم میں مندرجہ ذیل واقعات رونما ہوئے:
  1.  شعبان المعّظم کی پانچ تاریخ کو سیّدنا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہہ کی ولادت مبارک ہوئی.
  2. پندرہ تاریخ کو شبِّ برات میں امت مسلمہ کے بہت زیادہ افراد کی مغفرت ہوتی ہے. (جائب المخلوقات)
پہلی شعبان کے نوافل اور روزہ:
حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا جو پہلی شعبان کی رات بارہ رکعت نوافل پڑھے. ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص پانچ مرتبہ پڑھے تو اللہ تبارک تعالٰی اس کو بارہ ہزار شہیدوں کا ثواب عطا فرماتا ہے اور بارہ سال کی عبادت کا ثواب اس کے لئے لکھا جاتا ہے. گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے کہ گویا ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے اور اس دن تک اس کے گناہ نہیں لکھے جاتے.
شعبان المعّظم کے پہلے جمعہ کے نوافل
  • شعبان المعّظم کے پہلے جمعہ کو بعد نماز مغرب اور قبل نماز عشاء دو رکعت نفل پڑھیں ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد ایک مرتبہ آیۃ  الکرسی، دس مرتبہ سورۃ اخلاص، ایک مرتبہ سورۃ الناس پڑھیں. ان شاء اللہ یہ نفل ترقی ایمان کے لئے بہت افضل ہیں.
  • ماہِ شعبان المعّظم کے پہلے جمعہ کی شب بعد نماز عشاء آٹھ رکعت نفل ایک سلام سے پڑھیں اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص گیارہ مرتبہ پڑھیں. اس کا ثواب خاتون جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہہ کو بخشیں. خاتون جنت فرماتی ہیں کہ میں ہرگز جنت میں قدم نہ رکھوں گی جب تک اس نماز کے پڑھنے والے کو اپنے ہمراہ داخلِ بہشت نہ کر لوں.
  • جمعہ کی شب کو ہی نماز عشاء کے بعد چار رکعت نفل ایک سلام سے پڑھیں اور ہر ایک رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھیں. ان نوافل کی بہت فضیلت ہے. اور اللہ تعالٰی کی طرف سے اسے عمرہ کا ثواب عطا ہو گا.
وظیفہ چودہ شعبان المعّظم
شعبان المعّظم کی چودہ تاریخ کو بعد نماز عصر آفتاب غروب ہونے کے وقت با وضو چالیس مرتبہ یہ کلمات پڑھیں
ٌلاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
اللہ تعالٰی اس دعا کے پڑھنے والے کے چالیس سال کے گناہ معاف فرمائے گا.
نوافل چودہ شعبان المعّظم
  • شعبان المعّظم کی چودہ تاریخ کو بعد نماز مغرب دو رکعت نفل پڑھیں. ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ حشر کی آخری تین آیات ایک ایک مرتبہ پڑھیں. انشاء اللہ یہ نماز واسطے مغفرت گناہ بہت افضل ہے.
  • چودہ شعبان قبل نماز عشاء آٹھ رکعت نفل دو دو کر کے پڑھیں اور ہر رکعت میں سورۃ اخلاص پانچ پانچ مرتبہ پڑھیں. یہ نماز برائے بخشش گناہ بہت افضل ہے.

جولائی 11, 2011 at 13:06 تبصرہ چھوڑیں

ماہِ رجب کی فضیلت و اہمیت احادیث کی روشنی میں

فرامین نبوی صلّی اللہ علیہ وسلّم میں "رجب” کے روزوں اور اس کی عبادت کے بے شمار فضائل بیان کئے گئے ہیں..
امام غزالی "مکاشفتہ القلوب” میں روایت کرتے ہیں: "جاب ماہِ رجب کی پہلی شب جمعہ کا ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہر فرشتہ رجب کے روزے رکھنے والے کے لئے دعائے مغفرت کرتا ہے. کہا جاتا ہے کہ رجب نیکیوں کے بیج بونے کا مہینہ ہے، شعبان آب پاشی کا مہینہ ہے جب کہ رمضان فصل کاٹنے کا مہینہ ہے. جو شخص رجب میں عبادت کا بیج نہیں بوتا شعبان میں آنسوؤں سے اس بیج کو سیراب نہیں کرتا وہ رمضان میں فصلِ رحمت کیوں کر کاٹ سکے گا؟ رجب جسم کو پاک کرتا ہے، شعبان دل کو اور رمضان روح کو پاک کرتا ہے. رجب ماہِ حرام کہلاتا ہے، حرمت والا مہینہ.
امام غزالی فرماتے ہیں: اس مہینے کو رجب کہا جاتا ہے اور رجب جنت میں ایک نہر کا نام ہے، جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا ہے. آپ مزید فرماتے ہیں کہ نہرِ رجب سے وہی پانی پئیے گا جو رجب کے روزے رکھے گا. بزرگانِ دین فرماتے ہیں: ” رجب میں تین حروف ہیں، ر.ج.ب.
"ر” سے مراد رحمت الٰہی
"ج” سے مراد بندے کے جرم
"ب” سے مراد بر یعنی احسان و بھلائی. 
یہ اللہ عزو جل کا صفاتی نام ہے یعنی بھلائی کرنے والا. گویا اللہ عزوجل فرماتا ہے. بندے کے جرم کو میری رحمت اور بھلائی کے درمیان کر دو.(مکاشفتہ القلوب)
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہ ایک بار سرکارِ دو عالم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم کا گزر ایک مقام سے ہوا، جہاں چند قبریں تھیں، آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: ان قبر والوں پر عزاب ہو رہا ہے. میں نے اللہ  عزوجل سے ان کے عزاب میں تخفیف کے لئے دُعا کی ہے. اے ثوبان، اگر یہ لوگ رجب کا ایک ہی روزہ رکھ لیتے اور ایک رات ہی شب بیداری کر لیتے ، ان پر کبھی عزاب نہ ہوتا. آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: قسم ہے، اس ذات عالی کی جس کے قبضئہ قدرت میں میری جان ہے، کوئی مسلمان ایسا نہیں کہ جو رجب کا ایک روزہ بھی رکھ لے اور اس کی ایک رات عبادت بھی کر لے، مگر اللہ عزوجل اس کے لئے ایک سال کی عبادت لکھے گا.
ایک حدیث میں آتا ہے جو رجب میں دس روزے رکھ لے، اللہ عزوجل  اسے موتیوں اور یاقوت سے مزین دو باز عطا فرمائے گا جس سے وہ پُل صراط سے چمکتی ہوئی بجلی کی طرح گزر جائے گا.
ایک حدیث میں ہے کہ جس نے رجب رجب کے سارے روزے رکھے، تو آسمان سے ندا آتی ہے کہ اے اللہ کے دوست خوش خبری سن اور موت کے وقت اسے شربت پلایا جاتا ہے، جس سے وہ سیراب مرتا ہے، یعنی اسے موت کے وقت پیاس نہیں لگتی  اور وہ قبر میں بھی سیراب داخل ہوتا ہے اور اس میں سے نکلے گا تب بھی سیراب اور جنت میں بھی سیراب جائے گا.
حضرت سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے مروی ہے کہ سرور کائنات سرکارِ دو عالم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: رجب اللہ کا مہینہ ہے، جس نے اس کی تعظیم کی، اللہ عزوجل دین و دنیا میں اس کی تعظیم فرمائے گا.
کنزالایمان میں ارشاد ہے کہ اہل عرب حرمت والے (چار) مہینوں کی تعظیم کیا کرتے تھے اور ان میں لڑنا حرام جانتے تھے. اسلام میں ان مہینوں کی حرمت اور عظمت اور زیادہ ہو گئی، اور ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو، اس کی تفسیر میں لکھا ہے گناہ اور نافرمانی کے ذریعے اپنی جان پر ظلم نہ کرو. تو گویا ان مہینوں میں زیادہ گناہوں سے بچنے کی ضرورت ہے، تا کہ ان مہینوں کی تعظیم کی جائے.
سیّدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہہ کی ایک روایت ہے کہ  سرکارِ دو عالم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: جس نے ماہِ حرام (رجب) میں تین روزے رکھے، اس کے لئے نو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا. رجب کے روزے کی فضیلت میں آتا ہے جو رجب کا پہلا روزہ رکھتا ہے، جنہم اس سے اتنی دور ہو جاتی ہے جتنا کہ زمین آسمان سے دور ہے. رجب میں جو ایک روزہ رکھے گا، اسے ایک مہینے کے روزوں کا ثواب ملے گا اور دو ہزار نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی جائیں گی اور دو ہزار برائیاں مٹائی جائیں گی.
تین روزے کی ایک فضیلت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ رجب میں جو تین روزے رکھے گا، تو اس کے اور دوزخ کے درمیان اللہ تعالٰی ایک خندق بنا دے گا، جس کی لمبائی ستر ہزار برس ہو گی. گویا وہ جہنم سے ستر ہزار برس کی راہ دور کر دیا جائے گا. حضرت سیّدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم  سرکارِ دو عالم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ پندرہ رجب کا روزہ رکھنے والے کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں وہ جس سے چاہے داخل ہو جائے. ایک روایت میں ہے کہ جس نے ستائیس رجب کا روزہ رکھا اس کے لئے یہ روزہ تمام عمر کے روزوں کا کفارہ ہو جائے گا. اگر وہ اسی سال مر جائے تو شہید ہو گا.
رجب بہت مقدس، معظم اور مبارک مہینہ ہے. اس کی تعظیم کرنا ہماری دنیا اور آخرت کے لئے بے حد مفید ہے، جتنا ہو سکے اس میں روزے بھی رکھنے چاہئییں، اور زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت میں مصروف رہنا چاہئیے. زندگی کو غنیمت جانئیے، الحمدللہ آج ہم زندہ ہیں، اس زندگی سے فائدہ اُٹھانا چاہئیے، نا معلوم پھر یہ موقع ملے، نہ ملے..
اللہ آپ کے، ہمارے، ہر مسلمان کے تمام دیدہ و دانستہ کئے گئے گناہوں کو اپنی رحمت سے معاف فرمائے اور ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے.
آج کا یہ موضوع مسلمان قوم کے لئے ایک بیش قیمتی تحفہ ہے. خود بھی اس تحفہ سے فیض یاب ہوں اور دوسروں کو بھی اس ماہ کی فضیلت کے بارے میں بتائیں. اگر آپ کی وجہ سے کسی کے اعمال سُدھر جائیں اور کوئی ایک گناہ سے اپنے قدم پیچھے ہٹا لے تو یہ آپ کے لئے اور ہمارے لئے صدقہ جاریہ ہے.

جون 24, 2011 at 07:14 تبصرہ چھوڑیں

درُود پاک کی برکت کا ایک واقعہ

ایک دن آقائے دو جہاں صلّی اللہ علیہ وسلّم اِسلامی لشکر کے ساتھ جہاد کے لئے تشریف لے جا رہے تھے، راستے میں ایک جگہ پڑاؤ کیا اور حکم دیا کہ یہیں پر جو کچھ کھانا ہے کھا لو!
جب کھانا کھانے لگے تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم! روٹی کے ساتھ نان خورش نہیں ہے. ایسے میں صحابہ کرام نے دیکھا کہ ایک شہد کی مکھی ہے اور وہ بڑے زور زور سے بھنبھناتی ہے. عرض کیا یا رسول اللہ  صلّی اللہ علیہ وسلّم! یہ مکھی کیوں شور مچاتی ہے؟ آپ  صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا یہ کہہ رہی ہے کہ مکھیاں بے قرار ہیں اس وجہ سے کہ صحابہ کرام کے پاس سالن نہیں ہے حالانکہ یہاں قریب ہی غار میں ہم نے چھتّہ لگایا ہوا ہے. وہ کون لائے گا؟ ہم اسے اٹھا کر لا نہیں سکتیں.
فرمایا پیارے علی! (کرم اللہ وجہہ) اِس مکھی کے پیچھے پیچھے جائیں اور شہد لے آئیں. چنانچہ حضرت حیدرِ کرّار رضی اللہ تعالٰی عنہہ ایک چوبی پیالہ پکڑ کر اُس مکھی کے پیچھے ہو لیے، وہ مکھی آگے آگے اس غار میں پہنچ گئی اور آپ نے وہاں جا کر شہد مصفّا نچوڑ لیا اور دربارِ رسالت میں حاضر ہوئے. سرکارِ دو عالم  صلّی اللہ علیہ وسلّم نے وہ شہد تقسیم فرما دیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کھانا کھانے لگے تو مکھی پھر آ گئی اور بھنبھنانا شروع کر دیا.
صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے عرض کی یا رسُول اللہ  صلّی اللہ علیہ وسلّم! مکھی پھر اسی طرح شور کر رہی ہے، تو فرمایا میں نے اس سے ایک سوال کیا ہے اور یہ اس کا جواب دے رہی ہے. میں نے اس پوچھا ہے کہ تمہاری خوراک کیا ہے؟ مکھی کہتی ہے کہ پہاڑوں اور بیابانوں میں جو پھول ہوتے ہیں وہ ہماری خوراک ہے.
میں نے پوچھا کہ پھول تو کڑوے بھی ہوتے ہیں، پھیکے بھی اور بد مزہ بھی، تو تیرے منہ میں جا کر نہایت شیریں اور صاف شہد کیسے بن جاتا ہے؟ تو مکھی نے جواب دیا یا رسول اللہ  صلّی اللہ علیہ وسلّم ہمارا ایک میر اور سردار ہے، ہم اس کے تابع ہیں. جب ہم پھولوں کا رس چوستی ہیں تو ہمارا امیر آپ  صلّی اللہ علیہ وسلّم کی ذاتِ اقدس پر درُود پاک پڑھنا شروع کر دیتا ہے اور ہم بھی اس کے ساتھ مل کر درُود پاک پڑھتی ہیں تو وہ بد مزہ اور کڑوے پھلوں کا رس درُود پاک کی برکت سے میٹھا ہو جاتا ہے اور اسی کی برکت و رحمت کی وجہ سے وہ شہدِ شفاء بن جاتا ہے. (سبحٰن اللہ)
اگر درُود پاک کی برکت سے کڑوے اور بد مزہ پھلوں کا رس نہایت میٹھا شہد بن سکتا ہے، تلخی شیریں میں بدل سکتی ہے تو درُود پاک کی برکت سے گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں.
یوں ہی درُود پاک کی برکت سے ہماری نا مکمّل نمازیں اور نا تمام سجدے و دیگر عبادتیں بھی قبوٌل ہو سکتی ہیں.
آپ کا نامِ نامی اے صلِّ علٰی
ہر جگہ ہر مصیبت میں کام آ گیا

مئی 5, 2011 at 11:56 تبصرہ چھوڑیں

وضو کی دُعائیں

وضو کرنے سے قبل مسواک کرنا سُنّت ہے اور پھر کہیں اے اللہ میں تیرے لئے وضو کرتی یا کرتا ہوں، تو مجھے شیطانی وسوسوں سے بچا.
  • سب سے پہلے جب وضو کے لئے ہاتھ دھوئیں تو اللہ تعالٰی سے یہ دعا کریں کہ میرے ہاتھوں کو گردشوں، نحوست اور گناہوں سے دور فرما.
  • جب کلی کریں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی میرے منہ سے غیبت اور برے فعل نہ نکلیں اور تیرا ذکر اور شکر نکلے.
  • جب ناک میں پانی ڈالیں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی اس ناک سے جنّت کی خوشبو سونگھنا نصیب فرما نا اور جہنّم کی بدبو سے بچا.
  • جب چہرہ دھوئیں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی اس چہرہ کو مرتے دم تک روشن رکھنا اور آخرت میں بھی نور سے منور کرنا.
  • جب دایاں ہاتھ دھوئیں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس میں نامہ اعمال دینا اور بائیں ہاتھ میں عمل نامہ نہ دینا.
  • جب مسح کرنے کے لئے ہاتھ اونچے کریں تو آنکھوں پر ہاتھ لگا کر یہ دعا کریں اللہ تعالٰی ان آنکھوں سے دنیا میں تیرے گھر اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے روضہ مبارک کا دیدار نصیب فرما. میرے بچوں کی خوشیاں اور خیر دکھا.
  • جب سر پر مسح کریں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن محشر کی گرمی سے بچا کر عرش کا سایہ عطا فرما.
  • جب کان پر ہاتھ پھیریں تو یہ دعا کریں کہ اس کان سے خوشخبری سنیں، غم اور صدمے کی خبر نہ سنیں، جنّت کی خوشخبری سنیں.
  • جب گردن پر مسح کریں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن میری گردن کو گناہوں کے بوجھ سے آزاد کر دے.
  • جب دایاں پاؤں دھوئیں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی مجھے صراط مستقیم پر چلانا اور جب بایاں پاؤں دھوئیں تو یہ دعا کریں کہ مجھے پُل صراط جلدی پار کرا دینا.
(حضور صلے اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ وضو اگر ان دُعاؤں کے ساتھ کیا جائے تو تمہاری نماز بھی درست اور توجہ کے ساتھ ہو گی اور دین و دنیا میں بھلائی اور کامیابی ہو گی اور دل کو سکون ملے گا.)

اپریل 19, 2011 at 06:10 تبصرہ چھوڑیں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]