Posts tagged ‘Funny Stuff’

فاروق قیصر کا مزاحیہ کلام

میرے پیارے اﷲ میاں
دل میرا حیران ہے
میرے گھر میں فاقہ ہے
اس کے گھر میں نان ہے
میں بھی پاکستان ہوں
اور وہ بھی پاکستان ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
لیڈر کتنے نیک ہیں
ہم کو دیں وہ صبر کا پھل
خود وہ کھاتے کیک ہیں
میرے پیارے اﷲ میاں
یہ کیسا نظام ہے
فلموں میں آزادی
ٹی وی پہ اسلام ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
سوچ کے دل گھبراتا ہے
بند ڈبوں میں خالص کھانا
ان کا کتا کھاتا ہے
میرا بچہ روتے روتے
بھوکا ہی سو جاتا ہے
دو طبقوں میں بٹتی جائے
ایسی اپنی سیرت ہے
اُن کی چھت پر ڈش انٹینا
میرے گھر بصیرت ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
میری آنکھ کیوں چھوٹی ہے
اُس کی آنکھ میں کوٹھی ہے
میری آنکھ میں روٹی ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
تیرے راز بھی گہرے ہیں
ان کے روزے سحری والے
اور میرے اَٹھ پہرے ہیں
دعوت روزہ کھلوانے کی
انہیں ملی سرکاری ہے
میرا بچہ روزہ رکھ کے
ڈھونڈتا پھرے افطاری ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
یہ کیسا وٹہ سٹہ ہے
این ٹی ایم کا سر ننگا
پی ٹی وی پہ دوپٹہ ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
بادل مینہ برسائے گا
اس کا گھر دھل جائے گا
میرا گھر بہہ جائے گا
میرے پیارے اﷲ میاں
چاند کی ویڈیو فلمیں دیکھ کے
اس کا بچہ سوتا ہے
میرا بچہ روٹی سمجھ کر
چاند کو دیکھ کر روتا ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
یہ کیسی ترقی ہے
اُن کی قبریں تک ہیں پکی
میری بستی کچی ہے
Advertisements

دسمبر 6, 2010 at 10:29 تبصرہ چھوڑیں

لو آئی ہنسی!!!

پہلا دوست: ایک بار افریقہ کے جنگل میں مجھے اور میری بیوی کو آدم خور قبائیلوں نے گھیر  لیا ۔ ان کے سردار نے مجھے دیکھ کر کہا کہ وہ چالیس سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو نہیں کھاتا ۔
دوسرا دوست: اچھا پھر؟
پہلا دوست: پھر کیا یہ زندگی میں پہلا موقع تھا جب میری بیوی نے اپنی عمر کے بارے میں سچ بولا ۔
پٹھان میں تمہارے لیے سب کچھ چھوڑ دوں گا
لڑکی: امی، ابو
پٹھان: ہاں
لڑکی: اپنے دوست
پٹھان: ہاں
لڑکی: نسوار
پٹھان: او باجی گھر جاؤ تمہارا ابو پریشان ہوتا ہوگا…………….
ایک سردار جی نئی نئی سائیکل پر اپنی بہن کے ساتھ جا رہے تھے ۔ ان کے ایک دوست نے ان کی بہن کو دیکھا تو غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا اور آواز لگائی ،
اوہو ، معشوقاں !
سردار جی تاؤ کھا گئے ، بولے ، معشوق ہو گی تیری ، میری تو بہن ہے !
ایک فوجی افسر نے اپنے ماتحتوں کی دعوت کی اور خوش ہوکر کہنے لگا;
جوانوں آج کھانے پر اس طرح ٹوٹ پڑو جس طرح دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہو
ایک سکھ جوان جلدی جلدی کھانا اپنی جیبوں میں ٹھونسنے لگا-
افسر نے دیکھا اور غصے سے پوچھا؛ اوئے یہ کیا کر رہے ہو؟
جوان بولا؛ جناب جتنے مارنے تھے مار ڈالے باقی قیدی بنا رہا ہوں
پپو : ” وہ جو ہمارے ہمسائے تھے ناں، وہ پتلے سے دھان پان سے، وہ ٹنکی میں گر گئے۔”
گڈو : ” وہ کیسے؟”
پپو : ” وہ کسی نے پنکھے کا رُخ ان کی طرف کر دیا تھا۔”
ایک دودھ والے کئ بھینس گم ھو گئ۔
کافی ڈھونڈا پر کہیں نہیں ملی۔۔
تو وہ پولیس تھانے رپورٹ درج کرانے چلا گیا۔
دودھ والا، صاہب جی میری بلو نس گئی،
تھانے دار، ضرور کوئ لڑائ ہوئی ہو گی،
دودھ والا، نہیں صاحب بلو میری مج دا نام اے۔
تھانیدار،
Oh I See
دودھ والا غصے میں آگیا اور تھانے دار کے گال پر ایک زور دار تھپڑ مار دیا۔
تھانے دار، یہ کیوں؟
دودھ والا، او آئی سی تے پھزی کئوں نہیں سی۔
بینک کلر ک سے ایک آدمی نے کہا
"جناب ، میں ٹی وی لائسنس کی آدھی فیس جمع کراؤں گا "۔
کلرک نے حیرت سے پوچھا ۔”وہ کیوں "
اس آدمی نے جواب دیا ۔ "کیونکہ میں ایک آنکھ سے کانا ہوں "
ایک آدمی ریلوے میں بھرتی ہونے کے لئے انٹرویو دینے گیا
“فرض کرو دو ٹرینیں برق رفتاری سے آمنے سامنے سے آرہی ہیں ۔ تو ایسے میں آپ کیا کرینگے؟“
پہلا سوال پوچھا گیا۔
“میں خطرے کا سگنل دونگا۔“امیدوار نے اعتماد سے جواب دیا۔
“اگر سگنل کام نہ کرے تو ؟“ اگلا سوال آیا۔
“میں لالٹین سے کام لوں گا جناب!“امیدوار نے اسی اعتماد سے جواب دیا۔
“اگر لالٹین میسر نہ ہو تو؟“ایک اور حجت بھرا سوال ہوا۔
“تو پھر جناب میں اپنے چھوٹے بھائی کو بلا لاؤں گا۔“امیدوار نے چند لمحے سوچنے کے بعد کہا۔
“لیکن وہ کیا کرے گا؟“اب کے حیرت بھرا سوال ہوا۔
“اس نے کبھی ٹرین کی ٹکر نہیں دیکھی نا۔“امیدوار نے سادگی سے جواب دیا۔
ایک صاحب کے گھر میں چور گھس آیا۔ انہوں نے بڑی ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے چور کی کنپٹی پر پستول رکھا اور ہاتھ اوپر کرایا اور منہ دیوار کی طرف کر کے کھڑا کر دیا۔ اب سوچنے لگے کہ شور مچا کر محلے والوں کو بلایا جائے یا فون پر پولیس کو اطلاع دی جائے۔ اسی دوران میں ان کا چھوٹا بیٹا پانی کا گلاس لے کر بھاگا ہوا آیا اور کہنے لگا: ابو ! ابو! پستول میں پانی بھر لیں۔ یہ پانی کے بغیر نہیں چلتا۔
آصف زرداری سے جب پوچھا گیا کہ لوگ ان کی حب الوطنی پر شک کرتے ہیں تو وہ بولے۔
“دیکھیے میں بہت محب وطن ہوں۔ انگلینڈ میں میرا سرے محل بکنگھم پیلس جیسا شان وشوکت والا ہے جس میں میں رہتا ہوں، جرمنی کی مرسٹڈیز یا بی۔ایم-ڈبلیو گاڑیوں میں گھومتا ہوں۔ میرے لیے منرل واٹر اٹلی سے آتا ہے۔ لیکن میری مونچھیں دیکھیں۔ پھر بھی پاکستانی سٹائل میں ہیں۔
یہ حب الوطنی نہیں تو اور کیا ہے ؟
ایک شخص دریا سے مچھلی پکڑ کے لایا اور بیوی سے بولا یہ پکاؤ
اسکی بیگم بولی کیسے پکاؤں زرداری کی پالیسیوں کی وجہ سے گھر میں بجلی ، گیس نہیں ہے ، کوکنگ آئل اور گھی بھی نہیں ہے آٹا بھی ختم ہوگیا ہے ۔
اس آدمی نے مچھلی دوبارہ دریا میں ڈال دی
مچھلی دوبارہ سطح آب پہ آئی اور زور سے نعرہ لگایا
جیو زرداری
ایک آدمی مرنے کے بعد جنت میں گیا !
فرشتے اسے لیکر سیر کرانے نکلے – ایک عمارت کے پاس اس نے کچھ گھڑیاں لگی دیکھیں۔ فرشتے سے اس نے پوچھا یہ گھڑیاں یہاں کیوں لگی ہیں؟
فرشتے نے جواب دیا، یہ گھڑیاں انسانوں کی ہیں – جب بھی وہ جھوٹ بولتے ہیں کانٹا ایک نشان آگے بڑھ جاتا ہے۔
یہ دیکھو یہ گھڑی محمد بن قاسم کی ہے، وہیں کی وہیں کھڑی ہے، اس کا مطلب کہ اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اور یہ لیاقت علی خان کی ہے صرف دو نشان آگے بڑھی ہے اس کا مطلب کہ انہوں نے دو مرتبہ جھوٹ بولا۔
آدمی نے پوچھا کہ یہ بتاؤ، زرداری کی گھڑی کدھر ہے؟
فرشتہ بولا، وہ ہم نے اپنے آفس میں رکھی ہے، پیڈسٹل فین کی جگہ ہم وہی استعمال کر رہے ہیں آجکل۔
صحافی نے زرداری سے پوچھا آپ اپنے کیے ہوئے وعدے کب پورے کریں گے
زرداری : مجھے کیا پتا میں کوئی نجومی ہوں
نواز شریف ، آصف زرداری اور پرویزالہی غلطی سے انڈیا کا باڈر کراس کر گئے
اُن کو انڈین آرمی نے پکڑ لیا
اور عدالت نے اُن کو دس دس کوڑوں کی سزا سنائی
جب دروغا کوڑے لگانے لگا تو اُس نے اُن سے اُن کی کوئی خواہش پوچھی
پرویزالہی بولا میرے پیچھے دو تکیے باند کر کوڑے لگایں
آصف زرداری بولا میرے پیچھے پانچ تکیے باندھ کر کوڑے لگایں
نواز شریف بولا میرے پیچھے پہلے دو تکیے باندیں اس کے بعد آصف زرداری کو باندھیں
اس کے بعد پرویزالہی کو باندھیں اور پھر دس کی بجائے بیس کوڑے لگائیں
آصف زرداری کو ایک جن ملتا ہے
جن کیا حکم ہے میرے آقا
زرداری: مجھے ایک نیک اور خداترس انسان بنادو
جن آقا حکم دو، چوّلیں نہ مارو
ایک طیارے میں صدر آصف زرداری ، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن اکٹھے سفر کر رہے تھے۔
مولانا فضل الرحمن بولے “میں یقین سے کہتا ہوں کہ اگر میں پانچ ہزار کے نوٹوں کا بنڈل نیچے پھینک دوں تو عوام میں کم از کم ایک آدمی کی زندگی سنور جائے گی۔”
نواز شریف بولے ” اگر میں پانچ ہزار کے دس نوٹ نیچے پھینک دوں تو یقیناً دس آدمیوں کی زندگی سنور جائے ”
صدر آصف علی زرداری طیش میں آکر بولے ” اگر میں پانچ پانچ ہزار کے پچاس نوٹ نیچے پھینک دوں تو کم از کم پچاس آدمیوں کی زندگی سنور جائے گی ”
یہ باتیں طیارے کا پائلٹ سن رہا تھا، وہ بولا ” اگر میں آپ تینوں کو زمین پر پھینک دوں تو سارے پاکستانی عوام کی حالت سنور جائے گی ”

دسمبر 2, 2010 at 10:51 تبصرہ چھوڑیں

شیخ چلی سے انٹرویو

اسلام علیکم! آج میں آپ کی ملاقات ایک نہایت مشہور اور دلچسپ شخصیت سے کرواؤں گی.  آپ یقیناَ آج کی مہمان شخصیت سے مل کر بہت خوش ہوں گے. ‘ آئیےملتے ہیں آپ سب کے جانے پہچانے….جناب….شیخ چلی صاحب!….السلام علیکم شیخ صاحب!
(سامنےوالی کرسی پر شیخ چلی بیٹھا ہےجس نے پھٹے پرانےکپڑے پہن رکھے ہیں‘ بازئووں کےکف کھلے ہیں‘ شیو بڑھی ہوئی ہےاور قمیض کےگلےکا اوپر والا بٹن ٹوٹا ہوا ہے)
شیخ (سر ہلا کر سلام کا جواب دیتا ہے)
میں: شیخ صاحب….وعلیکم السلام تو کہیی….!!!
شیخ: (غصےسے) تم ضرور فضول خرچی کروانا….بھئی جب سر ہلانےسےکام چل جاتا ہےتو منہ گھِسانےسےفائدہ؟
میں: شیخ چلی صاحب….آپ اتنےکنجوس کیوں ہیں؟
شیخ: تم حاتم طائی ہو؟
میں: حاتم طائی تو نہیں ….لیکن کنجوس بھی نہیں ہوں.
شیخ: کنجوس کون ہوتا ہے؟
میں: بھئی کنجوس وہ ہوتا ہےجو بلاوجہ کی بچتیں کرتا رہتا ہے
شیخ: تم غلط کہہ رہی ہو.
میں: میں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہوں.
شیخ: شرط لگا لو.
میں: اسلام میں شرط حرام ہے.
شیخ: یہ بھی غلط ہے.
میں: نعوذباللہ….یہ آپ کیا کہہ رہےہیں‘بھئی اسلام میں شرط لگانا حرام ہے۔
شیخ: کیا نماز کے لیے وضو شرط نہیں….حج کے لیے احرام شرط نہیں….شادی کے لیے نکاح شرط نہیں؟؟؟؟
میں: شیخ صاحب وہ یہ شرطیں نہیں ہیں جو آپ لگانے پر تلے ہوئے ہیں.
شیخ: بہرحال ….تم بےشک مجھےکنجوس کہتےرہو….میں کنجوس نہیں ہوں….بالکل بھی نہیں۔
میں: ابھی پتا چل جاتا ہے….یہ بتائیےکہ آپ نے کبھی کوئی پھل کھایا ہے.
شیخ: روزکھاتا ہوں۔
میں: ارے….کمال ہے….یعنی شیخ چلی ….اور روزانہ پھل….کون ساپھل کھاتےہیں آپ؟
شیخ: میں پورے دن میں صرف ایک روٹی کھاتا ہوں.
میں: روٹی پھل تو نہیں ہے جناب….
شیخ: پوری بات سن لو….چونگی کی طرح درمیان میں نہ آؤ….
میں: جی جی فرمائیں!!
شیخ: میں پورے دن میں صر ف ایک روٹی کھاتا ہوں اور باقی سارا دن صبر کرتا ہوں۔
میں: اور پھل؟
شیخ: لگتا ہے تم مسلمان نہیں یا تمہارا ایمان کمزور ہے.
میں: توبہ توبہ….یہ….یہ آپ کیا کہہ رہےہیں….الحمد للہ میں ایک پکی مسلمان ہوں۔
شیخ: تو پھر خود ہی بتاؤ کیا تم نےنہیں سنا کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے….میں سارا دن صبر کرتا ہوں اور رات کو صبر کا میٹھا پھل کھاتا ہوں۔
میں: (حیرت سے) صبر کا پھل کیسا ہوتا ہے؟
شیخ: تم نےکھانا ہے؟
میں: ضرور ضرور….
شیخ تو پھر صبر کرو….!!!
میں: کمال ہے….اچھا شیخ چلی صاحب….یہ فرمائیے کہ آپ ہی کنجوس ہیں یا آپ کےخاندان میں کوئی اور بھی کنجوس گذرا ہے؟
شیخ: اللہ جنت نصیب کرے….دادا جان ہی کے نقش قدم پر تو ہم چل رہے ہیں
میں: وہ کس قسم کےکنجوس تھے….؟
شیخ: (آہ بھرتے ہوئے) ان کی بچت پرستی کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ اپنی جوانی کےایام میں انہوں نے”ٹوتھ پکس“ ….سمجھتےہوناں ”ٹوتھ پکس“…. وہ جو دانت میں بوٹی پھنس جائے تو تنکا مارتےہیں….!!!
میں: جی جی….میں سمجھ رہی ہوں۔
شیخ: ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ دادا جان نے دس کلو جھاڑو کےتنکےاپنےسامنےکٹوا کر اپنےہر بچےکو پچاس پچاس ہزار تیلیاں دی تھیں‘ یقین کرو آج بھی میرےگھر میں وہی تیلیاں ٹوتھ پکس کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں اور انشاءاللہ امید ہے چارپانچ سال تک مزید چلیں گی۔
میں: اوہ مائی گاڈ….واقعی؟
شیخ: یہ تو کچھ بھی نہیں….خالو جان کی وفات کا واقعہ سناؤں تو تم دم بخود رہ جاؤ….!!!
میں: پلیز پلیز….سنائیے!!!
شیخ: ہائےہائے….کیا یاد دلا دیا….مرحوم چھت پر بیٹھے آم چوس رہے تھے‘ اچانک گٹھلی آم میں سےنکل کر نیچےگٹر میں جا گری….خالو نےآؤ دیکھا نہ تاؤ….اوپر سےچھلانگ لگا دی اور سیدھےگٹر میں….پورےچار دن بعد ان کا جسدِ خاکی راوی سےبرآمد ہوا ….لیکن آفرین ہے کہ گٹھلی بہر حال ان کے ہاتھ میں دبی ہوئی تھی۔
میں: آ پ نےکبھی زندگی میں کوئی فضول خرچی بھی کی؟
شیخ: (کانوں کو ہاتھ لگاتےہوئے) ایک دفعہ کی تھی….اور یقین کرو لیاری میں شیخ یونین سےخارج ہوتے ہوتے بچا تھا۔
میں: (آنکھیں پھاڑتےہوئے) اچھا جی؟؟؟
شیخ: ہاں جی….ہوا یوں کہ میں نےخط کا لفافہ بند کرنے کے لیے ایک روپے کی گوند خرید لی….اوئے ہوئے ہوئے ہوئے….جیسے ہی نانا حضور کو پتا چلا ان کےتن بدن میں آگ لگ گئی….وہ شیخ یونین کےتاحیات صدر تھی….انہوں نےفوری طور پر میری اس فضول خرچی پر ایک ہنگامی میٹنگ کال کی اور گرج کر بولے….ابےشیخ چلی….تُو نےایک معمولی سا لفافہ جوڑنے کے لیےایک روپے کی خطیر رقم گوند پر خرچ کر دی‘ حالانکہ یہ کام باآسانی تھوک سے بھی کیا جا سکتا تھا….جا….آج سےتو ہم میں سےنہیں….!!!
میں: پھر….پھر کیا ہوا؟
شیخ: ہونا کیا تھا….میں فوری طور پر نانا حضور کے پاؤں پر گر گیا اور گڑگڑا کر اپنےبھیانک جرم کی معافی مانگنے لگا….اس پر انہوں نے مجھےحکم دیا کہ اب تمہاری سزا صرف اسی صورت میں معاف ہوسکتی ہےکہ تم بچت کا کوئی انوکھا طریقہ متعارف کراؤ۔
میں: پھر….آپ نےکیا کیا؟
شیخ: کرنا کیا تھا….ایک ایسی بچت کر کےدکھائی کہ نانا خوشی سےجھوم اٹھےاور مجھےشیخ یونین میں واپس لےلیا۔
میں: (حیرت سے)ایسا کیا کِیا آپ نے؟
شیخ: میں نےانہیں ایک روپے میں دس سال تک کا پرفیوم تیار کر کےدکھا دیا
میں: ایک روپےمیں دس سال تک کے لیے پرفیوم….یہ….یہ کیا کہہ رہےہیں….کیا ایسا ممکن ہے؟
شیخ (قہقہہ لگا کر) ہاں بیٹی….ممکن ہے….اور یاد رکھ….اسےکنجوسی نہیں….عقلمندی کہتے ہیں۔
میں: لیکن….لیکن یہ پرفیوم تیار کیسے ہوتا ہے؟
شیخ: کوئی مسئلہ ہی نہیں….ایک روپے کی دو اگربتیاں لو….ایک بالٹی پانی میں دونوں اگربتیاں پیس کر ڈال دو….دس سال کا پرفیوم تیار!!!
میں: (گہرا سانس لے کر) بہت اچھے….بھئی بہت اچھے….تو گویا آپ یہی پرفیوم استعمال کرتے ہیں۔
شیخ: بالکل….لیکن روز نہیں….صرف شادی بیاہ کے موقعوں پر….اور تمہیں پتا ہےاس پرفیوم کا سب سےبڑا فائدہ یہ ہے کہ اسےلگایا ہو تو بندہ رش میں سے بھی یوں گذر جاتا ہے جیسےمکھن میں سے بال….!!!
میں: (الجھےہوئےلہجےمیں) میں سمجھی نہیں….!!!
شیخ: میں سمجھاتا ہوں….دیکھو….جیسے ہی یہ پرفیوم لگا کر میں کہیں سےگذرتا ہوں….لوگ تیزی سےراستہ دینا شروع کر دیتے ہیں۔
میں: (غصے سے) بھئی آخر کیوں؟
شیخ (قہقہہ لگا کر میرے آگےہاتھ کرتا ہے) ابےوہ سمجھتےہیں شائد کوئی جنازہ آرہا ہے….!!!
میں: اچھا شیخ صاحب….آپ ماشاءاللہ اتنےعقل مند ہیں‘ آپ کی تعلیم کتنی ہے؟
شیخ: الحمد للہ….ایل ایل بی
میں: (آنکھیں پھاڑ کر) ایل ایل بی….
شیخ: جی….ایل ایل بی….یعنی….لنگر لوٹنے میں بےمثال
میں: (گہرا سانس لےکر)بڑی عجیب چیز ہیں آپ….اچھا ہمارے ناظرین کو یہ تو بتائیے کہ آپ زیادہ چلی میں کیوں رہتے ہیں؟
شیخ: چلی میں….ابےتُو گھاس تو نہیں کھا گئی….میرا نام اس لیےچلی نہیں کہ میں چلی میں رہتا ہوں۔
میں: (حیرت سے) تو پھر؟
شیخ: اصل میں مجھے ریڈ چلی….یعنی کہ سرخ مرچ بڑی پسند ہے….اسی لیے چلی مشہور ہو گیا ہوں۔
میں: اوہ….تو یہ بات ہی….ویسےآپ رہتےکہاں ہیں؟
شیخ: اسلام آباد میں!!!
میں: (حیرت سے) اسلام آباد میں….لیکن وہ تو بڑا مہنگا شہر ہی….آپ کیسےوہاں رہنا افورڈ کر لیتےہیں؟
شیخ: (قہقہہ لگا کر) ابے….سب سےزیادہ بچت ہی اسلام آباد میں ہوتی ہے۔
میں: یہ….یہ کیا کہہ رہےہیں آپ….اسلام آباد میں تو بڑے خرچے ہوتےہیں….اور آپ کہہ رہے ہیں کہ بچت ہوتی ہے.
شیخ: (منہ بنا کر)ایک تو تجھےہر چیز مثال دے کر سمجھانا پڑتی ہے….دیکھ….میرا ایک بھانجا ایم این اے ہے….ایک کیس میں پھنس گیا تھا‘ اوپر سےحکومت مخالف پارٹی میں تھا….بس….رگڑے پہ رگڑا….رگڑے پہ رگڑا….میں نےکہا ابے اسلام آباد میں رہائش رکھ اورپارٹی بدل لے….بس ….اُس نےمیری بات مان لی‘ اسلام آباد شفٹ ہوتے ہی پارٹی بدل لی….ایک منٹ میں اس کی ہر کیس سےبچت ہوگئی….!!!
میں: اوہو….میں پیسوں کی بچت کی بات کر رہی ہوں؟
شیخ: ابے گھامڑ ….اِس قصےمیں تجھے پیسوں کی کوئی بچت نظر نہیں آرہی؟
میں: (غصے سے)آپ مجھےگھامڑ نہیں کہہ سکتے
شیخ: باقی دنیا بےشک کہتی رہی؟
میں: (غصے سے) پلیز….آپ حد سےبڑھ رہے ہیں….آپ کو لڑکیوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے. میں آپ کےیہ سارےجملےکٹ کروا دوں گی۔
شیخ: ابےناراض نہ ہو….دیکھ غصےمیں بالکل مکی مائوس جیسی  لگ رہی ہے.
میں: آپ….آپ مجھےکارٹون کہہ رہےہیں….فوراً….فوراً سوری کریں
شیخ: اچھا بابا کر لیتا ہوں….(کیمرےکی طرف منہ کر کے) بھائی مکی مائوس تم جہاں بھی ہو میں تم سےسوری کرتا ہوں
میں: (غصےسےہاتھوں کی مٹھیاں بھینچتے ہوئے) شیخ صاحب….ریکارڈنگ کے بعد آپ کون سے راستے سے گھر جائیں گے؟
شیخ: جدھر سے بھی تم لےجاؤ؟
میں: میں لےجاؤں….کیا مطلب؟
شیخ: بھئی تم ہی مجھےانٹرویو کے لیے لائی تھی….تم ہی لےکر جاؤ گی.
میں: (منہ پر بدلے کے انداز میں ہاتھ پھیرتے ہوئے) ٹھیک ہے….ایسا لے کر جاؤں گی کہ آپ یاد کریں گے۔
شیخ: شکراً ….شکراً….!!!
میں: (گہرا سانس لے کر) یہ بتائیے کہ آپ کون سی چیز شوق سے کھاتے ہیں؟
شیخ: پہلے خیالی پلاؤ شوق سےکھاتا تھا….لیکن اماں کہتی ہیں روز روز چاول کھانے سے زکام ہو جاتا ہےاس لیے اب صرف شوق سےترس کھاتا ہوں۔
میں: اور پیتےکیا ہیں؟
شیخ: کبھی غصہ ….کبھی آنسو
میں: زندگی کا کوئی ایسا لمحہ جب آپ بہت پریشان ہوئےہوں؟
شیخ: ہائےہائے کم بخت کیا یاد دلا دیا….ایک دفعہ میں چاول کھا رہا تھا کہ چاول کا ایک دانہ زمین پر گر گیا….ہائے ہائے مت پوچھو میں نے کتنا تلاش کیا‘ لیکن نہیں ملنا تھا‘ نہ ملا….کیسےبتاؤں کہ میرا کیا حال ہوا‘ میں نےگھر جا کر ابا کو بتایا تو وہ یہ بھیانک حادثہ سنتے ہی سکتے میں آگئے….اور فوراً تین دن کےسرکاری سوگ کا اعلان کر دیا اور کہنےلگے….خبردار سوگ کے دنوں میں گھر میں کوئی کھانا وانا نہیں پکے گا….یقین کرو….پورے تین دن نیاز کی دال پر گذارا کرنا پڑا۔
میں: محسوس ہوتا ہےکہ آپ نے زیادہ تر بچت کی تربیت اپنے ابا سے لی ہے؟
شیخ: بالکل ٹھیک کہا تم نے….اصل میں ابا بچت کے چیمئپن تھے….بچپن میں ہم سب بچوں کو جمع کر لیتےاور بچت کےمختلف طریقے سمجھاتے….ابا نے قبل از مسیح کی ایک سائیکل رکھی ہوئی تھی جسےوہ گھر میں ہی چلاتے تھےاور پتا ہے کبھی پورا پیڈل نہیں گھماتےتھے.
میں: وہ کیوں ؟
شیخ بھئی وہ فرماتے تھےکہ جب آدھا پیڈل گھمانےسے سائیکل چل جاتی ہےتو پورا پیڈل گھسانےسےکیا فائدہ….اس سائیکل کےاصول انہوں نےبڑے سخت وضع کر رکھےتھے‘ میں نےکبھی اس کو مستری کی دوکان پر نہیں جاتےدیکھا‘ پنکچر ہوجاتی تھی تو ابا خود ہی آٹےکا پنکچر لگا دیا کرتےتھے‘ بعد میں ہوا بھرنے کےلیے زمین پر لیٹ جاتےاور سائیکل کے”وال“ کو منہ میں ڈال کر پوری قوت سے پھونکیں مارا کرتے تھے….ٹھیک ڈیڑھ گھنٹے بعد جب وہ اٹھتے تو ان کا چہرہ لال سرخ ہوتا اور وہ ہماری طرف فاتحانہ انداز میں دیکھ کر مسکرا تےاور کہتے….دیکھا….اسےکہتےہیں بچت!!!
میں: ماشاءاللہ….اللہ نظر نہ لگائے….آپ تو واقعی بڑی پہنچی ہوئی شخصیت ہیں….اچھا یہ بتائیےکہ آپ غصہ بھی کرتے ہیں؟
شیخ: بہت زیادہ ….ابھی دیکھیں ناں ….کل میرا چھوٹا بچہ بھاگتا ہوا آیا اور کہنے لگا بھوک لگی ہے….میں نے دو تھپڑ رسید کر دیئے۔
میں: یہ تو بڑی غلط بات ہے….بھوک لگنا کون سی برائی ہے….آپ نےاُس بیچارےکو کیوں مارا؟
شیخ:….میں بھوک کےخلاف نہیں ہوں….لیکن بندہ بار بار کھانا کھاتا اچھا لگتا ہے کیا؟؟
میں: تو کیا آپ کا بچہ پہلےکھانا کھا چکا تھا؟
شیخ: یار کم بخت نےدو دن پہلےپیٹ بھر کر کھایا تھا….مجھےتو سمجھ نہیں آتی کہ اس کا پیٹ ہے یا کنواں….!!!
میں: (گہرا سانس لےکر) موسیقی سےکچھ لگاؤ ہے؟
شیخ: نہیں یار….الو کا پٹھا سارا سارا دن گلی ڈنڈا کھیلتا رہتا ہے
میں: میں آپ کی بات کر رہی ہوں
شیخ: اوہ….سوری‘ میں سمجھا میرے بیٹے کی بات کر رہی ہو‘ہاں ہاں کیوں نہیں….مجھےتو موسیقی بہت پسند ہے۔
میں: کس قسم کے گانےسنتے ہیں؟
شیخ: صرف اور صرف بچت والے….!!!
میں: (حیرت سے) بچت والے….وہ کون سےگانے ہوتے ہیں؟
شیخ: (گنگنا کر) سونا نہ چاندی نہ کوئی محل تجھ کو میں دے سکوں گا……..!!!
میں: اور ناپسند کون سےگانےہیں؟
شیخ: جن میں فضول خرچی ہو!!!
میں: مثلاً….!!!
شیخ: (گنگنا کر)”تیری دو ٹکیا کی نوکری ….میرا لاکھوں کا ساون جائے….“
اور یہ والا….”نچ مجاجن نچ مجاجن….نچ مجاجن نچ….“
میں: نچ مجاجن میں کون سی فضول خرچی ہے جی؟
شیخ: تو نےکبھی کسی مجاجن کا ناچ دیکھا ہے؟
میں: (گھبرا کر) نن….نہیں؟
شیخ: کسی دن دیکھ….اور پھر آکر بتانا کہ کتنا خرچہ ہوا!!!
میں: شیخ چلی صاحب….آپ نےکبھی کوئی اپنےسےبھی دوگنا کنجوس دیکھا؟
شیخ: بھری پڑی ہے دنیا….میں تو کچھ بھی نہیں
میں: کوئی مثال دیجئے!!!
شیخ: دیکھ ایک مہربانی کر….یہ بار بار مجھے یہ نہ کہا کر کہ مثال دیجئے….مثال دیجئے….قسم خدا کی ایسا لگتا ہے جیسے میرے پلے سے کوئی چیز تجھے جا رہی ہے….!!!
میں: اوکےاوکے….میں احتیاط کروں گی….آپ اپنی بات کی وضاحت کیجئے!!
شیخ: (خوش ہوکر) ہاں….یہ ہوئی ناں بات….اصل میں یار یہاں بڑے بڑے کنجوس پڑے ہیں….ابھی عبدالستار ایدھی ہی کو دیکھ لو….ڈھنگ کی جوتی تک نہیں پہنتا….اور میں نےان کےایک انٹرویو میں پڑھا تھا کہ انہوں نے شادی کے بعد اپنی بیگم سےکہا تھا کہ ایک ہی صابن سارا سال استعمال کرنا ہے۔
میں: تمیز سےبات کیجئے….اور یاد رکھئے….ایدھی صاحب اس لیے سادہ رہتے ہیں کہ وہ ضرورت کی ساری چیزیں ضرورت مندوں میں بانٹ دیتے ہیں….ان جیسا خدا ترس انسان اور کون ہو گا۔
شیخ: اور اپنےمتعلق کیا خیال ہے؟
میں: کیا مطلب….میں کہاں سےکنجوس ہوگئی؟؟
شیخ: تم بالوں سےکنجوس لگتی ہو
میں: (حیرت سے) بالوں سے….وہ….وہ کیسےبھئی؟؟؟
شیخ مجھے نہیں لگتا کہ تم نےدو سال سے کوئی کنگھی خریدی ہو
میں: (غصے سے) کمال ہے….یہ میرا سٹائل ہےبھئی
شیخ: (قہقہہ لگا کر) تمہارا سٹائل….(پھر قہقہہ لگاتا ہے)
میں: اس میں ہنسنےوالی کون سی بات ہے؟
شیخ: (مسلسل ہنستے ہوئے) سٹائل….کمال ہے بھئی….سٹائل (مسلسل ہنستا ہے)
میں: (زچ ہوتےہوئے) دیکھیں….میں نےخود اپنےبال اس طرح رکھےہوئے ہیں۔
شیخ: (ہنستےہوئے) خود….ہاہاہاہاہا….یار یہ تم لوگ جو کام بھی خود سےکرتےہو‘ ہمیشہ الجھا ہوا کرتےہو۔
میں: میرے بالوں کو چھوڑئےاور آپ فرمائیے کہ آپکے کتنے بچے ہیں؟
شیخ: ماشاءاللہ ….چار درجن….!!!
میں: میں نے بچے پوچھے ہیں….انڈے نہیں!!!
شیخ: بتایا تو ہے….ماشاءاللہ چار درجن!!!
میں: بچوں کےمعاملے میں آپ نےاتنی فضول خرچی کیوں کی؟ اتنے بچوں کا خرچہ کیسے افورڈ کرتے ہیں آپ؟
شیخ: (قہقہہ لگا کر) ابے یہ فضول خرچی نہیں….بچت ہے….بہت بڑی بچت!!!
میں: (حیرت سے) بچت….لیکن وہ کیسی؟
شیخ: بھئی ہر بچےکو میں نے مختلف لنگروں پر لائن میں لگوایا ہوتا ہے….ماشاءاللہ ہر بچہ رات کو نت نئے کھانے لاتا ہے….کبھی آؤ ہمارے گھر….ایک وقت میں بیس بیس ڈشیں کھاتےہیں ہم ….!!!
میں: اس کا مطلب ہے بچے بھی آپ پر گئے ہیں؟
شیخ: (منہ بنا کر) ظاہری بات ہے مجھ پر ہی جانا تھا….کیا تیرےبچےتجھ پر نہیں؟؟؟
میں: (گھبرا کر) مم….میرا مطلب ہے….بچت میں آپ کے بچے بالکل آپ کی طرح ہیں۔
شیخ: الحمد للہ….ساری اولاد بچت ایکسپرٹ ہے….ابھی پچھلے ہفتےکی بات ہے‘ میرے پندھرویں بیٹے کےگٹر میں پانچ روپے گر گئے‘ اس نے دس روپے دےکر نکلوائے!!!
میں: واہ ….یہ ہوئی ناں بات….اچھا  صاحب یہ بتائیے کہ کبھی خدا کی راہ میں بھی کچھ دیتےچہیں؟
شیخ: دیکھو بھائی….ہر بندےکا خدا کی راہ میں دینےکا اپنا اپنا طریقہ ہوتا ہے….کچھ لوگ 100کمائیں تو 10اللہ کی راہ میں دے دیتے ہیں‘لیکن میرا اپنا سٹائل ہے….!!!
میں: ماشاءاللہ….کیاسٹائل ہےجی؟
شیخ: میں جتنےکماتا ہوں‘اوپر کی طرف پھینکتا ہوں‘ جتنےاُسےچاہیےہوتےہیں وہ رکھ لیتا ہے‘ باقی میں لے جاتا ہوں۔
میں: (گہرا سانس لےکر) یہ تو بتائیےکہ نہاتے کب کب ہیں؟
شیخ: (گہرا سانس لےکر) ….اپنی تو آدھی بارش میں گذر گئی….آدھی تیمم میں….!!!
میں: ایک بات کہوں….بُرا تو نہیں مانیں گے؟
شیخ:  یار پیسےنہ مانگ لینا….مجھے شک ہے کہ تم کوئی ایسی حرکت ضرور کرو گی….!!!
میں: کیا بات کر رہے ہیں….ایسی کوئی بات نہیں….میں تو یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ شائد آپ کو علم نہیں کہ آپ کی قمیض کاایک بٹن ٹوٹا ہواہے.
شیخ: مجھےعلم ہے
میں: (حیرت سے) یعنی آپ کو علم ہے پھر بھی آپ نے نیا بٹن نہیں لگوایا
شیخ: اگلےمہینےکی 21 تاریخ کو لگوائوں گا
میں: 21 کو کیوں؟
شیخ: 21 کو کمیٹی نکلنی ہے
میں: اُف….اتنی بچت….بھئی ایک بٹن پر خرچہ ہی کتنا آتا ہے.
شیخ: اربوں روپے بھی آسکتا ہے….بشرطِ کہ بٹن ایٹم بم کا ہو.
میں: لیکن میں تو آپ کی قمیض کے بٹن کی بات کر رہی ہوں.
شیخ: بٹن کو اُدھر سےپکڑو یا اِدھرسے

….بات ایک ہی ہے

میں: (گہرا سانس لےکر) زندگی میں کبھی کسی کو خیرات بھی دی ؟
شیخ: ہاں….ایک دفعہ ایک فقیر کو روپیہ دیا تھا.
میں: سبحان اللہ….فقیر نےکیا کہا؟
شیخ خوش ہوکر بولا….مانگ کیا مانگتا ہے؟
میں: آپ نےکیا مانگا؟
شیخ: میں نےکہا….بھائی میرا روپیہ واپس کر دے.
میں: (گہرا سانس لےکر) خیرات بخشش کا ذریعہ ہوتی ہے….کر دیا کیجئے
شیخ: کرتا تو ہوں….لیکن لوگ سمجھیں تو تب ہے ناں….اسلامی اصولوں کےمطابق خیرات کروں ‘ تب بھی خوش نہیں ہوتے۔
میں: کیا آپ نےایسا کوئی عمل کیا ؟
شیخ: ہاں ہاں یار….دو مہینے پہلےمحلے کی مسجد والے مسجد کی تعمیر کےلیے چندہ لینے آئے‘ یقین کرو میں نےدس ہزار کا چیک کاٹ کر اسی وقت ان کےحوالےکر دیا۔
میں: سبحان اللہ….سبحان اللہ….کیا وسیع القلبی ہے.
شیخ: لیکن وہ پھر بھی اب تک ناراض ہیں.
میں: (حیرت سے) ناراض ہیں….کس لیے؟؟؟
شیخ: بھئی کہنے لگے چیک پر رقم تو لکھ دی ہے‘ اب دستخط بھی کر دیجئے….میں نے کہا بھائی میں نیکی کے کاموں میں نام نہیں ظاہر کرتا۔
میں: لاحول ولا قوہ….آپ کےدستخط کے بغیر چیک کیسے کیش ہو سکتا ہے.
شیخ: (لاپرواہی سے) یہ میرا مسئلہ نہیں….میں نےتو اپنی طرف سے پیسےدے دیے‘ اسلام میں ہے کہ خیرات ایسے دینی چاہیے کہ دوسرے ہاتھ کو خبر تک نہ ہو‘ اب اگر میں دستخط کر دیتا تو پتا نہیں کس کس کو خبر ہو جانی تھی۔
میں: کبھی خدانخواستہ کسی بیماری میں مبتلا ہوئے ہوں؟
شیخ: میں دل کا مریض ہوں….بیس تیس دفعہ بائیں ٹانگ میں ہارٹ اٹیک ہوچکا ہے۔
میں: ٹانگ میں ہارٹ اٹیک….بھئی آپ بھی کمال کرتے ہیں….ٹانگ میں ہارٹ اٹیک کیسےہوسکتا ہے؟
شیخ: مذاق نہ سمجھو ….ہماری بیماریاں ایسی ہی ہوتی ہیں….میرےپھوپھا کو دماغ میں موچ آگئی تھی….تایا کو گوڈے میں برین ہیمرج ہوگیا تھا….اور ماموں کی آنکھ میں ہیضہ ہو گیا تھا۔
میں: (آنکھیں پھاڑتےہوئے) یہ….یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں….ایسا ….ایسا کیسےہوسکتا ہے؟
شیخ: ہوسکتا ہے….ہوسکتا ہے….اس دنیا میں کیا نہیں ہوسکتا
میں: عجیب بات ہے….دل نہیں مانتا
شیخ: ہوسکتا ہےتمہارے دل میں موچ آگئی ہو
میں: (چلا کر) دل میں موچ کیسےآسکتی ہے؟ آپ مجھے پاگل کر دیں گے!!!
شیخ: (حیرت سے) تو کیا تم پاگل نہیں ہو؟
میں: پہلےتو نہیں تھی لیکن اب لگتا ہے کہ ہوجاؤں گی….آپ تو مسلسل مجھے زچ کرنے پر تلے ہوئے ہیں‘ میں نے کتنی  دفعہ بتایا ہے کہ آپ کا انٹرویو ہو رہا ہے لیکن آپ تو سمجھتے ہی نہیں….!!!
شیخ: (معذرت خواہانہ لہجےمیں) چلو اب معافی دے دو….مجھےمعافی مانگنا بہت اچھا لگتا ہے۔
میں: (ٹھنڈا پڑتے ہوئے) معافی مانگنا بڑے ظرف کی بات ہوتی ہے
شیخ: لیکن مجھےمعافی مانگنا ظرف کی وجہ سےاچھا نہیں لگتا
میں: پھر؟
شیخ: اصل میں ”مانگنا“ ہماری خاندانی روایت ہے….!!!
میں: شیخ چلی صاحب….اگر آپ کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور آجائےتو کیا کریں گے۔
شیخ: میں ”بھاگ کر دوڑ“ لگا دوں گا
میں: کیوں….حکومت میں آنےکی تو ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے.
شیخ اصل میں‘ میں حکومت میںاس لیےبھی نہیں آنا چاہتا کہ میرا ”نون….قاف“ درست نہیں۔
میں: (حیرت سے) نون ….قاف….بھئی یہ نون قاف کا حکومت سےکیا تعلق اور ویسے بھی یہ لفظ شین قاف ہوتا ہے‘ نون قاف نہیں!!!
شیخ: حکومت میں آنے کے لیے شین قاف نہیں….نون قاف کی ضرور ت ہوتی ہے….کبھی نون حکومت میں آجاتا ہےاور کبھی قاف
میں: آپ کون سےوالے”قاف“ کی بات کر رہے ہیں
شیخ: بھئی قاف دو ہی ہوتےہیں….ایک قینچی والا….ایک تمہارےوالا….!!!
میں: (غصے سے) کیا مطلب….میرےوالا قاف کون سا ہوتا ہے؟؟؟
شیخ: اوہو ….بھئی تمہارا نام ہے کوئن….اب یہ جو کوئن میں قاف آتا ہی….یہ تمہارےوالا قاف نہیں ہے کیا؟؟؟
میں: اوہ….سوری….میں کچھ اور سمجھی تھی.
شیخ: (بڑبڑاتےہوئے) میرا بھی یہی مقصد تھا
میں: شیخ صاحب !اگر آپ کےپاس خدانخواستہ….اللہ نہ کری….دس کروڑ روپیہ آجائے تو آپ کیا کریں گے؟
شیخ: آدھا غریبوں میں بانٹ دوں گا
میں: ویری گڈ….اور اگر آپ کےپاس دس گاڑیاں ہوں تو؟
شیخ: آدھی غریبوں میں بانٹ دوں گا
میں: اور اگر دس جہاز ہوں تو؟
شیخ: آدھےغریبو ں کو دے دوں گا….!!!
میں: اور اگر دس کوٹھیاں ہوں تو؟
شیخ: آدھی فوراً غریبوں کےنام کر دوں گا
میں: ماشا ءاللہ….اوراگر آپ کےپاس دس مرغیاں ہوں تو؟
شیخ: (چونک کر) کیا کہا….دس مرغیاں….تو پھر میں ساری کی ساری اپنے ہی پاس رکھوں گا۔
میں: کمال ہےشیخ صاحب….دس جہاز ‘ دس کوٹھیاں‘ دس کروڑ اوردس گاڑیاں تو آپ آدھی غریبوں میں بانٹ دیں گے‘ جبکہ معمولی سی دس مرغیاں ساری اپنےپاس رکھیں گےآخر کیوں؟
شیخ: اس لیےکہ میرے پاس دس جہاز‘ دس کوٹھیاں‘ دس کروڑ اور دس گاڑیاں تو نہیں ہیں‘ البتہ دس مرغیاں گھر میں موجود ہیں۔
میں: (گہرا سانس لےکر) شیخ چلی صاحب….آپ آج ہمارےمہمان تھے‘ ناظرین کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
شیخ: میں یہی کہنا چاہوں گا کہ پیسوں میں کنجوسی ضرور کریں لیکن اپنی نفرتوں اور برائیوں میں بھی کنجوسی سےکام لیں‘ بڑا مزا آئے گا۔
ناظرین اس کےساتھ ہی اپنے میزبان کوئن کو اجازت دیجئےاگلے ہفتےپھر کسی مصیبت….مم میرا مطلب ہے شخصیت کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ رب راکھا

نومبر 29, 2010 at 11:31 تبصرہ چھوڑیں

مزاحیہ اردو شاعری

 

نومبر 25, 2010 at 12:22 تبصرہ چھوڑیں

جھنگا پہلوان ریفری بنے

چیلنج گراؤنڈ پر فٹ بال کے مقابلے ہو رہے تھے۔ سارا شہر ان مقابلوں کو دیکھنے کے لئے امڈا ہوا تھا ۔اور ہر کوئی رات میں یا دن میں ہوئے فٹ بال کے میچوں اور ان میچوں میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کا ذکر کرتا تھا ۔
جھنگا پہلوان بھی کئی دنوں سے فٹبال کے چرچے سن رہے تھے ۔اس سے قبل انہیں کبھی میچ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ صرف ٹی وی پہ کبھی کبھی چینل تبدیل کرتے ہوئے انہوں نے فٹ بال دیکھا تھا۔ اس وجہ سے اس کھیل کے صحیح خدوخال اور اصول و ضوابط سے واقف نہیں تھے۔
اس لئے ان کے دل میں آیا کہ کیوں نہ آج فٹ بال کے مقابلے دیکھے جائیں۔ انہوں نے اپنے خاص الخاص للو کو ساتھ لیا اور چیلنج گراؤنڈ کی طرف چل دیئے۔ راستے میں جو بھی ملتا ان سے کہتا۔
’’ارے واہ پہلوان ۔ آپ بھی فٹ بال دیکھنے جا رہے ہیں؟‘‘
’’یہ پہلوانی کے ساتھ ساتھ فٹ بال کا شوق کب سے ہو گیا ؟‘‘
’’پہلوان کیا فٹ بال مقابلوں کی ٹیم کی طرف سے کھیلنے کا ارادہ ہے؟‘‘ جھنگا پہلوان ان کی ان باتوں کا کیا جواب دیتے صرف مسکرا کر آگے بڑھ جاتے۔
للو فٹ بال کی تعریف کیئے جا رہا تھا۔
’’ استاد دنیا میں سب سے زیادہ کھیلا جانے والا کھیل فٹ بال ہے ساری دنیا میں کھیلا جاتا ہے کرکٹ تو آٹھ دس ممالک سے زیادہ ملکوں میں کوئی جانتا بھی نہیں۔ لیکن فٹ بال تارک افریقہ کے گھنے جنگلوں میں بھی افریقہ کے وحشی جنگلی قبائل کھیلتے ہیں اور تو اور دنیا کی ایک قوم جس کو دنیا کے کسی کھیل میں کوئی دلچسپی نہیں وہ بھی اس کھیل کو کھیلتی ہے۔‘‘
’’بھئی وہ کون سی قوم ہے جسے دنیا کے کسی کھیل میں دلچسپی نہیں لیکن وہ بھی فٹ بال کھیلتے ہیں؟‘‘ جھنگا پہلوان نے حیرت سے پوچھا۔
’’ عرب قوم ، عرب لوگ بھی فٹ بال کھیلتے ہیں۔‘‘ للو نے کہا اور ہنسنے لگا جیسے اس نے کوئی بہت مزیدار لطیفہ سنایا ہو۔
چیلنج کے گراؤنڈ میں پہونچ کر گراؤنڈ کے انچارج ولاس راؤ نے ان کا پرتباک انداز میں استقبال کیا۔’’ ارے جھنگا پہلوان جی، آئیے۔ آئیے۔ آج ہمارے گراؤنڈ کی تقدیر جاگی آُپ کے قدم اس گراؤنڈ پر پڑے۔‘‘ ولاس بولا۔
’’ہاں بھئی، سارے شہر میں اس گراؤنڈ پر چل رہے فٹ بال مقابلوں کا شور ہے سوچا آج فٹ بال کے مقابلے دیکھتے ہیں۔‘ ‘ جھنگا نے جواب دیا۔
’’ آپ فٹ بال کے مقابلے صرف دیکھئے نہیں ، بلکہ ان میں شامل بھی ہو جائیے۔ ‘‘ ولاس بولا۔
’’ کیا مطلب ؟‘‘ جھنگا پہلوان اس کا منہ دیکھنے لگا۔
’’ فٹ بال کے جو مقابلے ہو رہے ہیں ہم ان مقابلوں کا ریفری شہر کی کسی معتبر نامور سردکردہ شخصیت کو بناتے ہیںَ تا کہ ان کی عزت افزائی بھی ہو اور ان کی فٹ بال میں دلچسپی بھی بڑھے۔ آپ بھی شہر کی مشہور و معروف شخصیتوں میں شامل ہیں۔ اس لیے آپ کو بھی اگلے میچ کا ریفری بنایا جاتا ہے۔‘‘ ولاس بولا۔
’’میچ کا ریفری اور میں ؟‘‘ پہلوان گھبرا گئے،’’ مجھے تو فٹ بل کی اے بی سی بھی نہیں آتی پھر میں بھلا میچ ریفری کس طرح بن سکتا ہوں۔‘‘
’’اب تک شہر کی جن ہستیوں نے یہ فرائض انجام دیئے وہ بھی اس کام کو کب جانتے تھے۔ کام کرتے کرتے سیکھ گئے۔ آسان سا کام ہے۔ کھلاڑیوں کے فاؤل پر نظر رکھنا ہے۔ ان کے فاؤل پر فری کک، پینلٹی کک، کارنر وغیرہ دینا ہے۔ اور کوئی کھلاڑی زیادہ ہی فاول کریں یا خطرناک طور پر فٹ بال کھیلیں تو سزا کے طور پر انہیں یلو کارڈ، ریڈ کارڈ وغیرہ بتا کر میچ سے باہر کردیں۔‘‘ ولاس نے فٹ بال کے ریفری کے سارے فرائض جھنگا پہلوان کو سمجھا دئیے۔
’’ اگر صرف یہی کام کرنا ہے تو یہ میرے بائیں ہاتھ کا کام ہے‘‘، جھنگا پہلوان نے دل ہی دل میںسوچا اور وہ میچ میں ریفری بننے کے لئے تیار ہو گئے۔ اگلا میچ ایگل اور آزاد ہند ٹیموں کے درمیان تھا۔
ٹیمیں میچ کھیلنے کے لئے میدان میں اتریں تو ان کے ساتھ جھنگا پہلوان کو بھی سیٹی اور ضروری کارڈ دیکر میدان میں ریفری کے فرائض انجام دینے کے لئے اتار دیا گیا۔ لیکن وہاں سب سے بڑی مشکل جھنگا پہلوان کی لنگی نے کھڑی کر دی۔
ان سے کہا گیا کہ میچ میں ریفری کے فرائض انجام دینے ہیں تو آپ لنگی اتار کر چڈی پہن لیجئے، فٹ بال کے کھلاڑی اور ریفری انڈر وئیر ہی پہنتے ہیں۔لیکن جھنگا پہلوان نے لنگی اتارنے سے انکار کر دیا۔
’’یہ لنگی میری شخصیت کی پہچان ہے اور میں اسے اتار کر اپنی شخصیت کھونا نہیں چاہتا۔‘‘
سب نے بہت سمجھایا کہ استاد آپ لنگی پہن کر ریفری کے فرائض انجام نہیں دیں گے۔لیکن جھنگا پہلوان اس پر بضد تھے کہ وہ لنگی پہن کر ہی یہ کام کریں گے اور بخوبی اپنا فرض انجام دیں گے۔پہلوان کی ضد کے آگے دو ٹیمیں جھک گئیں۔
میدان میں درمیان میں کھیل شروع کرنے کے لئے گیند رکھی گئی اور پہلوان کو اشارہ کیا گیا کہ وہ سیٹی بجا کر کھیل شروع کرنے کا اشارہ کرے۔
پہلوان نے سیٹی بجائی اور کھیل شروع ہوگیا۔
دونوں ٹیم کے کھلاڑی پیروں سے گیند کو مارتے دور تک لیکر چلے گئے۔ کبھی ایک ٹیم بال کو دوسری ٹیم کے میدان میں لے جانے کی کوشش کرتی کبھی دوسری ٹیم مدمقابل ٹیم کے میدان میں۔
پہلوان دور کھڑے اس تماشے کو دیکھ رہے تھے۔
ایگل کے کپتان انزل کی نظر پہلوان پر پڑی تو وہ دوڑتا ہوا ان کے پاس آیا اور بولا۔ ’’استاد اس طرح ایک جگہ کھڑے ہو کر فٹ بال میچ میں ریفری شپ نہیں کی جاتی ہے۔ ریفری کو بال کے ساتھ دوڑنا پڑتا ہے۔ تبھی تو اسے پتہ چلتا ہے کہ کون سا کھلاڑی کیا غلطی یا فاول کر رہا ہے۔ اور وہ اسے سزا دیتا ہے۔‘‘
پہلوان کے لیے یہ بات نئی تھی۔ اب کھیل کا یہ اصول ہے کہ ریفری بھی بال کے ساتھ ساتھ دوڑے تو انہیں بھی دوڑنا ہی پڑے گا۔
جیسے ہی بال ان کے قریب آئی وہ بال کے ساتھ دوڑنے کی کوشش کرنے لگے۔ لیکن دونوں ٹیموں کے کھلاڑی بڑے پھرتیلے تھے۔ چیتے کی رفتار سے دوڑ کر بال کو اپنے قبضے میں کرتے اور بال کو دوسرے کھلاڑی کی طرف اچھال دیتے۔ ہاتھی کی طرح ڈیل ڈول والا جھنگا پہلوان بھلا ان کی سی پھرتی اور تیزی سے کہاں دوڑ سکتا تھا۔
دوڑنا تو دور وہ ٹھیک طرح سے چل بھی نہیں پا رہا تھا۔
ان کے لئے سب سے بڑی مصیبت ان کی لنگی بنی ہوئی تھی۔
جیسے ہی وہ دوڑتے ان کا پیر لنگی میں اٹکتا اور وہ دھڑام سے منہ کے بل زمین پر گر جاتے۔ تماشائیوں کو فٹ بال دیکھنے سے زیادہ جھنگا پہلوان کو دیکھنے میں مزہ آرہا تھا۔ جب وہ گرتے تو سارا میدان قہقہوں سے بھر جاتا تھا۔ موٹا تازہ، جسم جب زمین سے ٹکراتا تو کئی مقامات پر چوٹیں آتیں اور وہاں سے درد کی لہریں اٹھنے لگتیں۔
لیکن فرض کی ادائیگی کے لئے وہ پھر سے اٹھتے اور بال کے ساتھ دوڑنے کی کوشش کرتے جب وہ میدان میں دوڑتے تو ایسا لگتا جیسے بہت بڑی گیند میدان میں چاروں طرف لڑھک رہی ہے۔
تھوڑی دیر میں ہی ان پر ایک نئی مصیبت نازل ہوئی۔
ان کی سانسیں پھول گئیں اور وہ ہانپنے لگے۔ ایک جگہ کھڑے ہو کر وہ اپنی اکھڑی سانسوں پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگے۔ ادھر انہیں کھڑا دیکھ کر تماشائی شور مچانے لگے۔
’’ ریفری ۔۔۔ ریفری ۔ ایک جگہ کیا کھڑے ہو ، دوڑو ۔۔۔۔ فاول دو ۔۔۔۔‘‘
تماشائیوں کے شور سے بچنے کے لئے وہ دوڑتے لیکن پیر پھر لنگی میں الجھ جاتا اور وہ پھر دھڑام سے گر جاتے۔
’’استاد کیوں اتنی پریشانی مول لے رہے ہو۔‘‘ انزل ان کی پریشانی دیکھ کر ان کے قریب آیا ، ’’ لنگی اتار دو، اس میں عافیت ہے۔‘‘
پہلوان نے اس وقت لنگی اتار دی، اور صرف اپنی لنگوٹ پر دوڑنے لگے۔ ادھر تماشائیوں نے سمجھا پہلوان کی لنگی کھل گئی ہے ۔ وہ اس بات پر پیٹ پکڑ پکڑ کر ہنسنے لگے۔ اچانک کھلاڑیوں میں ایک آواز ابھری۔
’’ پینلٹی کک۔‘‘
اور انہوں نے بھی منہ سے آواز نکالی۔
’’ پینلٹی کک دی جاتی ہے۔‘‘
ایگل کو پینلٹی کک دی گئی تھی آزاد کے کھلاڑی حیران تھے کہ ان سے تو ایسی کوئی غلطی نہیں ہوئی تھی جس کی وجہ سے ان کے خلاف پینلٹی کک دی جائے۔
بہر حال ایگل نے پینلٹی کک پر گول بنا دیا۔
پورا میدان تماشائیوں کی تالیوں اور شور سے گونج اٹھا۔
پہلوان نے دیکھا یہ خوشیاں گول بننے پر منائی جا رہی ہیں۔ تماشائیوں کو گول بننے پر بڑا مزا آتا ہے تو ٹھیک ہے، میں تماشائیوں کی پسند کا خیال رکھوں گا۔
تھوڑی دیر بعد انہوں نے آزاد ہند کو پینلٹی کک دے دی۔
’’ استاد ۔ میری ٹیم نے تو کوئی غلطی نہیں کی ہے تو آپ نے ہمارے خلاف پینلٹی کک کیوں دی‘‘ ، انزل احتجاج کرتا ہوا ان کے پاس آیا۔ انہیں یاد آیا کہ کوئی کھلاڑی اگر حجت کرے تو اسے کارڈ نکال کر ڈرایا دھمکایا جانا چاہئے۔
انہوں نے ایک کارڈ نکال کر انزل کو بتایا۔
تماشائی زور زور سے تالی بجانے لگے۔
جھنگا پہلوان کتنی اچھی امپائرنگ کر رہے ہیں۔ ابھی پینلٹی کک دی اور اب ایک کھلاڑی کو بک کر کے کارڈ بتایا۔
انہوں نے انزل کو کون سا کارڈ بنایا تھا اور اس کارڈ کا مطلب کیا تھا انہیں خود اس بات کا پتہ نہیں تھا۔ لیکن انہوں نے دیکھا ان کے کارڈ بتانے پر انزل ڈر گیا ہے۔
پینلٹی کک پر آزاد ہند ٹیم نے گول کر کے اسکور برابر کر دیا۔ اسکور برابر کر تے ہی تماشائیوں میں ایک جوش پیدا ہو گیا اور دونوں ٹیمیں بھی پورے جوش و خروش سے کھیلنے لگیں۔
تھوڑی دیر بعد انہوں نے ایگل کو کارنر دیا جس پر اس نے گول بنا ڈالا اس پر آزاد ہند کے کپتان کو غصہ آگیا لیکن وہ جھنگا پہلوان سے حجت کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ جھنگا پہلوان حجت کرنے پر اسے کارڈ دکھا کر اسے بک کرے گا۔
اس نے ایک دو کھلاڑیوں کو بلا کر کان میں کچھ کہا۔
تھوڑی دیر میں کھیل کا نقشہ بدل گیا۔
جن کھلاڑیوں کو آزاد ہند کے کپتان نے کچھ کہا تھا وہ بال کے ساتھ ساتھ دوڑنے کے بجائے پہلوان کے ساتھ دوڑ رہے تھے ، دوڑتے ہوئے موقع ہاتھ لگتے ہی ایک کھلاڑی نے پہلوان کو ٹانگ ماری اور آگے بڑھ گیا پہلوان منہ کے بل زمین پر گر پڑے۔
دوڑنا پہلوان کے لئے مشکل ہو رہا تھا۔
وہ سر سے پیر تک پسینے میں نہا گئے تھے، دوڑنے سے ان کی سانسیں پھول رہی تھیں اور جان نکلتی محسوس ہورہی تھی۔ اپنے اتنے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ انہیں دوڑنے کا کم ہی اتفاق ہوا تھا۔ اور یہاں تو مسلسل دوڑنا پڑ رہا تھا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ یہاں اس کھلاڑی نے انہیں گرا دیا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد دوسرے کھلاڑی نے انہیں گرایا۔ اور اس کے بعد تیسرے کھلاڑی نے۔ وہ ان سے کارنر دینے کا بدلہ لے رہے تھے۔
جب پہلوان کو یہ محسوس ہوا کہ ان سے بدلہ لیا جا رہا ہے تو انہیں بھی غصہ آگیا اور انہوں نے بھی بدلہ لینے کی ٹھان لی۔
انہوں نے ایک دو تین کھلاڑیوں کو کارڈ دکھا کر بک کیا۔
تینوں کو انہوں نے کون سا کارڈ دکھایا تھا انہیں خود اس کارڈ کے کام کا پتہ نہیں تھا۔ لیکن کارڈ دکھاتے ہی تماشائی شور مچانے لگے۔
’’باہر ۔۔۔۔ باہر ۔۔۔ باہر جاؤ۔‘‘
’’باہر جاؤ۔۔۔‘‘
اور کھلاڑی چپ چاپ باہر چلے گئے تو پہلوان کی بانچھیں کھل گئیں۔ تو یہ کارڈ ہے جسے بتا کر کھلاڑی کو باہر بھیجا جا سکتا ہے۔
اب صورت حال یہ تھی کہ آزاد ہند کے تین کھلاڑی باہر بھیجے جا چکے تھے۔ اور وہ آٹھ کھلاڑیوں کے ساتھ ہی کھیل رہی تھی۔
تھوڑی دیر میں پہلوان کو محسوس ہوا یہ تو ناانصافی ہے۔ ایک ٹیم سب کھلاڑیوں کے ساتھ میچ کھیلے اور دوسری آدھے کھلاڑیوں کے ساتھ ، فوراً انہوں نے ایگل کے تین کھلاڑیوں کو کارڈ دکھا کر میدان سے باہر جانے کا حکم دے دیا۔
وہ کھلاڑی احتجاج کرتے رہ گئے کہ انہوں نے کون سی غلطی کی ہے۔ کس غلطی کی سزا کے طور پر انہیں میدان کے باہر بھیجا جا رہا ہے۔ یہ تو بتایا جائے۔ لیکن اس بات کا جواب تو پہلوان کے پاس بھی نہیں تھا۔
اس درمیان وقفہ بن گیا۔
اور پہلوان کی جان میں جان آئی۔
للو دوڑتا ہوا میدان میں آیا اور وہ پہلوان کے جسم سے پسینہ پونچھنے لگا۔
’’ واہ استاد ، کیا ریفری کا فرض انجام دیا ہے۔ پوری اسٹیڈیم کے تماشائی آپ کے اس کام کی تعریف کر رہے ہیں۔ کہہ رہے ہیں اس سے اچھا ریفری آج تک انہوں نے نہیں دیکھا ۔ انصاف سے کام لیتا ہے۔ کسی بھی ٹیم کی طرف داری نہیں کرتا ہے۔ ایک ٹیم کے تین کھلاڑیوں کو اگر میدان کے باہر کرتا ہے تو دوسری ٹیم کے بھی تین کھلاڑیوں کو میدان کے باہر کرتا ہے۔ دونوں ٹیموں کو پینلٹی کک کا برابری کا موقع دیتا ہے۔‘‘
’’ سب کچھ خود بخود ہو رہا ہے۔‘‘ استاد نے اعتراف کیا، ’’کیسے ہو رہا ہے، خود مجھے بھی اس بات کا علم نہیں ہے۔ میں تو اس کھیل کا ا ب ت بھی نہیں جانتا ہوں۔‘‘
کھیل دوبارہ شروع ہوا۔
اب پہلوان نے اپنی طور پر فٹ بال کھیلنا شروع کر دیا۔
ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے سارے کھلاڑی کٹھ پتلیاں بن گئیں ہیں جن کی ڈور جھنگا پہلوان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس طرح چاہے انہیں نچا سکتا ہے۔ جھنگا پہلوان دونوں ٹیموں کے ساتھ کٹھ پتلیوں والا کھیل رہے تھے۔ جن کی ڈوریں ان کے ہاتھ میں تھیں۔
ایک ٹیم کو پینلٹی کک کارنر دے دیتے۔ وہ اس کا فائدہ اٹھا کر مد مقابل ٹیم کے خلاف گول اسکور کر کے مد مقابل پر سبقت حاصل کر کے خوشیاں مناتی۔ اس کے شائقین خوشیاں مناتے لیکن وہ خوشیاں زیادہ دیرپا نہیں ہوتیں۔
فوراً پہلوان مدمقابل ٹیم کو بھی اس طرح کا ایک موقع عنایت کر دیتے اور وہ بھی اس موقع کا فائدہ اٹھا کر اسکور برابر کر کے اپنے مد مقابل ٹیم کے جوش پر ٹھنڈا پانی ڈال دیتی۔
اس کے بعد ایک دوسرے پر سبقت پانے کے لئے دونوں ٹیمیں پھر سے جوش کے ساتھ کھیلنے لگتیں۔ لیکن دراصل جھنگا پہلوان دونوں ٹیموں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور انہیں کھلا رہے تھے۔
دونوں ٹیمیں ان کی ریفری شپ کی شکایت بھی نہیں کر رہی تھیں کیونکہ وہ دونوں کو برابر برابر کا موقع دے رہے تھے۔ اگر وہ ایک ٹیم کو غلط پینلٹی کک ، کارنر وغیرہ دیتے بھی تو دوسری ٹیم مطمئن رہتی۔
کوئی بات نہیں اگلی بار ہماری باری ہے۔
اس کے بعد جھنگا پہلوان نے ایک نیا کھیل شروع کر دیا۔
آزاد ہند ٹیم کو مسلسل پانچ پینلٹی کک کا موقع دے دیا۔ جس پر انہوں نے مسلسل پانچ گول اسکور کر کے ایگل پر پانچ گولوں کی سبقت حاصل کر لی۔
انزل کے ہوش اڑ گئے۔ اسے اپنی ٹیم کی شکست سامنے دکھائی دینے لگی۔ اسے پتہ تھا اس کی ٹیم اتنی طاقت ور نہیں ہے کہ مسلسل پانچ گول اسکور کر کے برابری کرے۔ لیکن یہ کھیل تو جھنگا پہلوان کے ہاتھ میں تھا۔ انہوں نے کچھ دیر بعد ہی انزل کی ساری فکریں دور کر دیں۔
اس بار انہوں نے انزل کی ٹیم کو مسلسل پانچ موقع دئیے اور ان موقعوں کا فائدہ اٹھا کر انزل کی ٹیم نے پانچ گول اسکور کر کے حساب برابر کر دیا۔ تماشائیوں کا جوش بڑھتا جا رہا تھا۔ ان کے دلوں کی دھڑکنیں بڑھتی جا رہی تھیں اتنے گول اسکور ہوں دونوں ٹیمیں اس طرح سے کھیلیں گی اس بارے میں انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔
اس کے بعد اپنے ریفری ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جھنگا پہلوان کے آزاد ہند ٹیم کے دو بہترین کھلاڑیوں کو کارڈ بتلا کر میدان کے باہر کر دیا۔
یہ دیکھ کر آزاد ہند ٹیم کے کپتان کے ہوش اڑ گئے۔ اسے اپنی ٹیم کی شکست اپنی آنکھوں کے سامنے دکھائی دینے لگی۔
لیکن اگلے ہی لمحہ جھنگا پہلوان نے انصاف سے کام لیتے ہوئے ایگل کے دو بہترین کھلاڑیوں کو کارڈ بتا کر میدان کے باہر کر دیا۔
دونوں ٹیمیں مساوی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔
باہر ہونے والے تمام کھلاڑیوں کا کوئی قصور نہیں تھا ۔ لیکن قوانین فٹ بال کا کھیل ایجاد کرنے والوں نے بنائے تھے۔
ریفری بنے جھنگا پہلوان ان کا استعمال اپنی طور پر کر رہے تھے۔
دونوں ٹیموں نے میدانی گول ایک بھی اسکور نہیں کیا تھا۔
ایسا محسوس ہوتا تھا دونوں ٹیموں میں میدانی گول اسکور کرنے کا دم خم ہے ہی نہیں وہ گول جھنگا پہلوان کی عنایت سے اسکور کر رہے تھے۔
جھنگا پہلوان کبھی ایک ٹیم کو مسلسل پانچ کک کا موقع دیکر اس سے پانچ گول اسکور کراتے تو دوسری بار دوسری ٹیم کو یہی موقع دے کر حساب برابر کرنے کا سامان مہیا کر دیتے۔
خدا خدا کر کے میچ کا ٹائم ختم ہوا۔
میچ کے خاتمے پر دونوں ٹیموں کا اسکور تھا ۵۰ : ۵۰ ۔۔
یعنی دونوں ٹیموںنے ۵۰ ، ۵۰ گول اسکور کئے تھے۔ میچ برابری پر ختم ہوا، اس لیے دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دے دیا گیا۔
اور فٹ بال کے صحیح شائقین اس میچ کو دیکھ کر اپنا سر پیٹ رہے تھے۔ ان کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا یہ میچ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے کھیلا ہے۔
یا فٹ بال میچ کے ریفری بنے جھنگا پہلوان نے ۔۔۔۔۔
۔ ۔ ۔ ٭۔ ۔ ۔ ٭۔ ۔ ۔ ٭۔ ۔ ۔

نومبر 4, 2010 at 12:21 تبصرہ چھوڑیں

Urdu Funny Jokes

جولائی 17, 2010 at 11:33 تبصرہ چھوڑیں


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]