Posts tagged ‘Adbi Jokes’

فراق گور کھپوری

(1) ڈاکٹر اعجاز حسین الٰہ آباد یونیورسٹی میں غزل پڑھا رہے تھے۔ فراق صاحب بھی وہاں بیٹھے تھے۔انہوں نے ڈاکٹر اعجاز حسین سے پوچھا:

ایسا کیوں کہا جاتا ہے کہ غزل گو شعراء عام طور سے بد کردار ہوتے ہیں۔

اعجاز صاحب برجستہ بولے: ان کے سامنے آپ کی مثال رہتی ہے۔

کلاس میں ایک زبردست قہقہہ پڑا اور فراق صاحب کی آواز قہقہوں میں دب گئی،جو اب بھی کچھ کہنا چاہتے تھے۔

(2) تقریباً 1944ء میں ایک بار جوش ملیح آبادی الٰہ آباد یونیورسٹی میں گئے۔ ادبی تقریب میں ڈائس پر جوش کے علاوہ فراق بھی موجود تھے۔ جوش نے اپنی طویل نظم حرفِ آخر کا ایک اقتباس پڑھا۔ اس میں تخلیقِ کائنات کی ابتداء میں شیطان کی زبانی کچھ شعر ہیں۔ جوش شیطان کے اقوال پر مشتمل کچھ اشعار سنانے والے تھے کہ فراق نے سامعین سے کہا:

سنیے حضرات، شیطان کیا بولتا ہے؟ اور اس کے بعد جوش کو بولنے کا اشارہ کیا۔

(3) فراق گورکھپوری سے کسی نے پوچھا: بحیثیت شاعر آپ اور جوش صاحب میں کیا فرق ہے؟

فراق نے اپنی بڑی بڑی وحشت ناک آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا: جوش موضوع سے متاثر ہوتا ہے اور میں موضوع کو متاثر کرتا ہوں۔

(4) ایک مشاعرے میں ہر شاعر کھڑے ہو کر اپنا کلام سنا رہا تھا۔ فراق صاحب کی باری آئی تو وہ بیٹھے رہے اور مائیک ان کے سامنے لا کر رکھ دیا گیا۔ مجمع سے ایک شور بلند ہوا: کھڑے ہو کر پڑھیے—-کھڑے ہو کر پڑھیے۔

جو شور ذرا تھما تو فراق صاحب نے بہت معصومیت کے ساتھ مائیک پر اعلان کیا:

میرے پاجامے کا ڈورا ٹوٹا ہوا ہے۔(ایک قہقہہ پڑا) کیا آپ اب بھی بضد ہیں کہ میں کھڑے ہو کر پڑھوں؟

مشاعرہ قہقہوں میں ڈوب گیا۔

Advertisements

ستمبر 20, 2010 at 08:24 3 comments

علامہ اقبال کے ادبی لطیفے

(1) علامہ اقبال بچپن ہی سے بذلہ سنج اور شوخ طبیعت واقع ہوئے تھے۔ ایک روز جب ان کی عمر گیارہ سال کی تھی انہیں سکول پہنچنے میں دیر ہو گئی۔ ماسٹر صاحب نے پوچھا: اقبال تم دیر سے آئے ہو؟

اقبال نے بے ساختہ جواب دیا: جی ہاں، اقبال ہمیشہ دیر سے آتا ہے۔

(2) پنجاب کے مشہور قانون دان چودھری شہاب الدین علامہ کے بے تکلف دوستوں میں سے تھے۔ ان کا رنگ کالا اور ڈیل ڈول زیادہ تھا۔ ایک روز وہ سیاہ سوٹ پہنے ہوئے اور سیاہ ٹائی لگائے کورٹ میں آئے تو اقبال نے انہیں سرتاپا سیاہ دیکھ کر کہا:

ارے چودھری صاحب، آج آپ ننگے ہی چلے آئے۔

(3) بمبئی میں عطیہ فیضی نے اقبال سے کہا:

اقبال، عورت کی گود کے لیے بچے کا ہونا بہت ضروری ہے۔

اقبال نے کہا: اور مرد کی آغوش کے لیے؟

عطیہ بولی——–شٹ اپ

(4) علامہ اقبال کو ستار بجانے کا بہت شوق تھا۔ ایک صبح ستار بجانے میں محو تھے کہ سر ذولفقار علی اور سردار جوگندر سنگھ تشریف لے آئے۔ ان کو ستار بجاتے دیکھ کر جوگندر سنگھ بولے: ہر وقت ستار کو گود میں لیے بیٹھے رہتے ہو۔علامہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: کیا کروں ”سکھنی“ جو ہوئی۔

سردار صاحب نے بھی برجستہ جواب دیا: اچھا ہوا آج پتہ چل گیا کہ آپ ”سکھ دے“ ہو۔

ستمبر 3, 2010 at 08:05 تبصرہ کریں

اسرار الحق مجاز کے ادبی لطیفے

(1) رات کا وقت تھا۔مجاز کسی میخانے سے نکل کر یونیورسٹی روڈ پر ترنگ میں جھومتے ہوئے چلے جا رہے تھے۔ اسی اثنا میں اُدھر سے ایک تانگا گزرا۔ مجاز نے اسے آواز دی،تانگہ رک گیا۔مجاز اس کے قریب آئے اور لہرا کر بولے: اماں ، صدر جاؤ گے؟ تانگے والے نے جواب دیا: ”ہاں ، جاؤں گا“

”اچھا تو جاؤ—–!“ یہ کہہ کر مجاز لڑھکتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

(2) مجاز اور فراق کے درمیان کافی سنجیدگی سے گفتگو ہو رہی تھی۔ ایک دم فراق کا لہجہ بدلا اور انہوں نے ہنستے ہوئے پوچھا:

”مجاز! تم نے کباب بیچنے کیوں بند کر دیے؟“

”آپ کے ہاں سے گوشت آنا جو بند ہو گیا۔“مجاز نے اسی سنجیدگی سے فوراً جواب دیا۔

(3) مجاز تنہا کافی ہاؤس میں بیٹھے تھے کہ ایک صاحب جو ان کو جانتے نہیں تھے ،ان کے ساتھ والی کرسی پر آ بیٹھے۔ کافی کا آرڈر دے کر انہوں نے اپنی کن سُری آواز میں گنگنانا شروع کیا:

احمقوں کی کمی نہیں غالب——–ایک ڈھونڈو، ہزار ملتے ہیں

مجاز نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:

”ڈھونڈنے کی نوبت ہی کہاں آتی ہے حضرت! خود بخود تشریف لے آتے ہیں۔“

(4) کسی مشاعرے میں مجاز اپنی غزل پڑھ رہے تھے۔ محفل پورے رنگ پر تھی اور سامعین خاموشی کے ساتھ کلام سن رہے تھے کہ اتنے میں کسی خاتون کی گود میں ان کا شیر خوار بچہ زور زور سے رونے لگا۔ مجاز نے اپنی غزل کا شعر ادھورا چھوڑتے ہوئے حیران ہو کر پوچھا:

بھئی!یہ نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا؟

(5) سوز شاہجہانپوری ایک دن لکھنو کافی ہاؤس آ گئے اور مجاز کے میز پر آن بیٹھے۔ کہنے لگے: بھائی مجاز! میں نے اپنا مجموعہٴ کلام تو مرتب کر لیا ہے۔ اب اس کے لیے کسی موزوں نام کی تلاش ہے۔ کوئی ایسا نام ہو جو نیا بھی ہو اور جس میں میرے نام کی رعایت بھی ہو۔

مجاز نے برجستہ کہا: ” سوزاک رکھ لو۔“

(6) کسی صاحب نے ایک بار مجاز سے پوچھا: کیوں صاحب ! آپ کے والدین آپ کی رِندانہ بے اعتدالیوں پر کچھ اعتراض نہیں کرتے؟

مجاز نے کہا: جی نہیں۔ پوچھنے والے نے کہا: کیوں؟ مجاز نے کہا: ” لوگوں کی اولاد سعادت مند ہوتی ہے۔ مگر میرے والدین سعادت مند ہیں۔“

اگست 27, 2010 at 05:29 1 comment

ادیبوں کے لطیفے

شوکت تھانوی

(1) پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار ایس پی سنگھا کے گیارہ بچوں کے نام کا آخری حصہ  ”سنگھا”  تھا۔ جب ان کے ہاں بارہواں لڑکا پیدا ہوا تو شوکت تھانوی سے مشورہ کیا کہ اس کا کیا نام رکھوں۔اس پر شوکت صاحب نے بے ساختہ کہا:آپ اس کا نام بارہ سنگھا رکھ دیجیے۔

(2) ایک ناشر نے کتابوں کے نئے گاہک سے شوکت تھانوی کا تعارف کراتے ہوئے کہا: آپ جس شخص کا ناول خرید رہے ہیں وہ یہی ذات شریف ہیں۔لیکن یہ چہرے سے جتنے بے وقوف معلوم ہوتے ہیں اتنے ہیں نہیں۔شوکت تھانوی نے فوراً کہا: جناب مجھ میں اور میرے ناشر میں یہی بڑا فرق ہے۔ یہ جتنے بے وقوف ہیں، چہرے سے معلوم نہیں ہوتے۔

پطرس بخاری

(1) کرنل مجید نے ایک دفعہ پطرس بخاری سے کہا: اگر آپ اپنے مضامین کا مجموعہ چھپوائیں تو اس کا نام صحیح بخاری رکھیں۔پطرس نے جواب دیا: اور اگر آپ اپنی نظموں کا مجموعہ چھپوائیں تو اس کا نام کلام مجید رکھیں۔

مولانا محمد علی جوہر

(1) مولانا محمد علی جوہر رام پور کے رہنے والے تھے۔ ایک دفعہ سیتا پور گئے تو کھانے کے بعد میزبانوں نے پوچھا کہ آپ میٹھا تو نہیں کھائیں گے؟ کیونکہ مولانا شوگر کے مریض تھے۔مولانا بولے: بھئی کیوں نہیں لوں گا؟ میرے سسرال کا کھانا ہے کیسے انکار کروں؟یہ سن کر سب لوگ حیران ہوئے اور پوچھا کہ سیتا پور میں آپ کے سسرال کیسے ہوئے ؟تو مولانا بولے: سیدھی سی بات ہے کہ میں رام پور کا رہنے والا ہوں۔ ظاہر ہے سیتا پور میرا سسرال ہوا۔

(2) مولانا محمد علی جوہر، مولانا ذوالفقار علی خاں گوہر، اور شوکت علی تین بھائی تھے۔ شوکت صاحب منجھلے تھے۔ انہوں نے 52 . 54سال کی عمر میں ایک اطالوی خاتون سے شادی کر لی۔ اخبار نویس نے اور سوالات کرنے کے بعد مولانا شوکت علی سے پوچھا کہ آپ کے بڑے بھائی گوہر ہیں اور آپ کے چھوٹے بھائی جوہر،آپ کا کیا تخلص ہے تو فوراً بولے: شوہر۔

انشاء الله خان انشاء
(1) جرات نابینا تھے۔ایک روز بیٹھے فکرِ سخن کر رہے تھے کہ انشاء آ گئے۔ انہیں محو پایا تو پوچھا حضرت کس سوچ میں ہیں؟ جرات نے کہا : کچھ نہیں۔ بس ایک مصرع ہوا ہے۔ شعر مکمل کرنے کی فکر میں ہوں۔ انشاء نے عرض کیا : کچھ ہمیں بھی پتا چلے۔
جرات نے کہا: نہیں۔ تم گرہ لگا کر مصرع مجھ سے چھین لو گے۔ آخر بڑے اصرار کے بعد جرات نے بتایا۔ مصرع تھا:
اس زلف پہ پھبتی شبِ دیجور کی سوجھی
انشاء نے فوراً گرہ لگائی:
اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی
جرات لاٹھی اٹھا کر انشا کی طرف لپکے۔ دیر تک انشاء آگے اور پیچھے پیچھے ٹٹولتے ہوئے بھاگتے رہے۔

اگست 19, 2010 at 04:50 1 comment


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]