Posts tagged ‘رمضان المبارک’

رمضان المبارک کی طاق راتوں کی عبادات

پہلی شب قدر:
حضُور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم ارشاد فرماتے ہیں کہ میری اُمّت میں سے جو مرد یا عورت یہ خواہش کرے کہ میری قبر نور کی روشنی سے منوّر ہو تو اُسے چاہئیے کہ ماہِ رمضان کی شب قدروں میں کثرت کے ساتھ اللہ کی عبادت بجا لائے تا کہ ان مبارک اور با برکت راتوں کی عبادت سے اللہ تعالٰی اس کے نامئہ اعمال سے بُرائیاں مٹا کر نیکیوں کا ثواب عطا فرمائے.
شب قدر کی عبادت 70 ہزار شب کی عبادتوں سے افضل ہے.
اکیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھیں. ہر رکعت میں بعد سورۃ الفاتحہ کے سورہ قدر ایک ایک بار اور سُورۂ اخلاص ایک ایک مرتبہ پڑھیں. بعد سلام کے ستّر مرتبہ درُود پاک پڑھیں. انشاء اللہ اس نماز کے پڑھنے والے کے حق میں فرشتے مغفرت کریں گے.
اکیسویں شب کو دو رکعت نماز پڑھیں. ہر رکعت میں سُورۂ فاتحہ کے بعد سورۃ القدر ایک ایک بار اور سورۃ الاخلاص تین تین مرتبہ پڑھیں. بعد سلام کے نماز ختم کر کے 70 مرتبہ استغفار پڑھیں.
ماہِ رمضان المبارک کی اکیسویں شب کو اکیس مرتبہ سورۃ القدر پڑھنا بھی بہت افضل ہے. انشاء اللہ اس نماز اور شب قدر کی برکت سے اللہ تعالٰی اس کی بخشش فرمائے گا.

دوسری شب قدر:
ماہِ رمضان کی تیئیسویں شب کو چار رکعت نفل دو سلام سے پڑھیں اور ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سُورۃ القدر ایک بار اور سورۃ الاخلاص تین تین مرتبہ پڑھیں. انشاء اللہ واسطے مغفرت گناہ کے یہ نماز بہت افضل ہے.
تیئیسویں شب قدر کو آٹھ رکعت نماز چار سلام سے پڑھیں. ہر رکعت میں بعد سورۃ الفاتحہ کے سورۃالقدر ایک ایک مرتبہ اور سورۃ الاخلاص ایک ایک بار پڑھیں. بعد سلام کے 70 مرتبہ کلمہ تمجید پڑھیں اور اللہ تعالٰی سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں.اللہ تعالٰی گناہ معاف فرما کر انشاء اللہ مغفرت فرمائے گا.
تیئیسویں شب کو سُورۃ یٰسیٓن ایک مرتبہ سورۃ الرحمٰن ایک مرتبہ پڑھنا بہت افضل ہے.
تیسری شب:
ماہِ رمضان کی پچیس تاریخ کی شب کو چار رکعت نفل دو سلام سے پڑھیں، بعد سورۃ الفاتحہ کے سورۃ القدر ایک ایک مرتبہ اور سورۃ الاخلاص پانچ پانچ مرتبہ ہر رکعت میں پڑھیں. بعد سلام کے کلمہ طیّبہ ایک سو مرتبہ پڑھنا ہے. بارگاہِ الٰہی سے انشاء اللہ بے شمار عبادت کا ثواب عطا ہو گا.
پچیسویں شب کو چار رکعت نماز دو دو سلام سے پڑھیں. ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ القدر تین تین مرتبہ پڑھیں اور سورۃالاخلاص بھی تین تین مرتبہ پڑھیں. بعد سلام کے 70 مرتبہ استغفار پڑھیں. یہ نماز بخشش گناہ کے لئے بہت افضل ہے.
پچیسویں شب کو دو رکعت نماز پڑھیں، ہر رکعت میں بعد سورۃ الفاتحہ کے سورۃ القدر ایک ایک مرتبہ اور سورۃ الاخلاص پندرہ پندرہ مرتبہ پڑھیں. بعد سلام کے ستّر مرتبہ کلمہ شہادت پڑھیں. یہ نماز واسطے نجات عزاب قبر بہت افضل ہے.
پچیسویں شب کو سات مرتبہ سورہ دخان پڑھیں. انشاء اللہ تعالٰی پروردگارِ عالم اس سورۃ کے پڑھنے کے باعث عزاب قبر سے محفوظ رکھے گا.

پچیسویں شب کو سات مرتبہ سورۂ فتح پڑھنا واسطے ہر مراد کے بہت افضل ہے.
چوتھی شب قدر:
ستائیسویں شب قدر کو بارہ رکعت نماز تین سلام سے پڑھیں. ہر رکعت میں بعد سورۃ الفاتحہ سورۂ قدر ایک ایک مرتبہ، سورۂ اخلاص پندرہ پندرہ مرتبہ پڑھنی چاہئیے. اللہ تعالٰی اس نماز کے پڑھنے والے کو نبیوں کی عبادت کا ثواب عطا فرمائے گا. (سبحٰن اللہ) انشاء اللہ تعالٰی.
ستائیسویں شب کو دو رکعت نماز پڑھیں. ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ قدر تین تین مرتبہ اور سورۂ اخلاص ستائیس مرتبہ پڑھیں. یہ نماز پڑھ کر اپنے گناہوں کی مغفرت کی دُعا مانگیں. انشاء اللہ تعالٰی پچھلے سارے گناہ اللہ تعالٰی معاف فرمائے گا.
ستائیسویں شب کو چار رکعت نفل دو سلام سے پڑھیں. ہر رکعت میں بعد سورۃ الفاتحہ کے سورۃ التکاثر ایک ایک مرتبہ اور سورۃ الاخلاص تین تین مربتہ پڑھیں. اس نماز کے پڑھنے والے پر اللہ تعالٰی موت کی سختی آسان کرے گا. انشاء اللہ اس پر سے عزابِ قبر بھی معاف ہو جائے گا.
ستائیسویں شب کو دو رکعت نماز پڑھیں. ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الاخلاص سات سات مرتبہ پڑھیں. بعد سلام کے ستّر دفعہ یہ تسبیحِ معّظم پڑھیں:
اَستَغفِرُاللہَ العَظِیمَ الَّذِیٓ لَآ اِ لٰھَ اِلَّا ھُوَ الحَیُّ القَیُّومُ وَ اَ تُوبُ اِلَیھِ
انشاء اللہ اس نماز کو پڑھنے والا اپنے مصلٰے سے نہ اُٹھے گا کہ اللہ تعالٰی اس کے اور اس کے والدین کے گناہ معاف فرما کر مغفرت فرمائے گا اور اللہ تعالٰی فرشتوں کو حکم دے گا کہ اس کے لئے جنّت آراستہ کرو اور فرمایا کہ وہ جب تک تمام جنتی تعمتیں اپنی آنکھ سے نہ دیکھ لے گا اس وقت تک موت نہ آئے گی. واسطے مغفرت یہ نماز بہت ہی افضل ہے.
ستائیسویں شب قدر کو دو رکعت نماز پڑھیں . ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد الم نشرح ایک ایک بار، سورۂ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھیں. بعد سلام ستائیس مرتبہ سورۂ قدر پڑھیں.
انشاء اللہ واسطے ثواب بیشمار عبادت کے یہ نماز بہت افضل ہے.
ستائیسویں شب کو چار رکعت نماز پڑھیں. ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ قدر تین تین مرتبہ، سورۂ اخلاص پچاس پچاس مرتبہ پڑھیں. بعد سلام سجدہ میں سر رکھ کر ایک کرتبہ یہ کلمات پڑھیں:
سُبحَانَ اللہِ وَالحَمدُلِلّٰھِ وَلَآ اِلٰھَ اِلَّا اللہُ وَ اللہُ اَکبَرُ
اس کے بعد جو حاجت دنیاوی یا دینوی طلب کریں گے وہ انشاء اللہ بارگاہِ الٰہی میں قبول منظور ہو گی.
ستائیسویں شب کو سورۂ ملک سات مرتبہ پڑھنی واسطے مغفرت گناہ بہت فضیلت والی ہے.
پانچویں شبِ قدر:
انتیسویں شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھیں. ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ قدر ایک ایک مرتبہ ، سُورۂ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھیں. بعد سلام کے سورۃ الم نشرح ستّر مرتبہ پڑھیں. یہ نماز واسطے کامل ایمان کے بہت افضل ہے.
انشاء اللہ تبارک و تعالٰی اس نماز کے پڑھنے والے کو دنیا سے مکمل ایکان کے ساتھ اُٹھایا جائے گا.
ماہِ رمضان کی انتیسویں‌شب کو چار رکعت نماز دو سلام سے پڑھیں. ہر رکعت میں بعد سورۃالفاتحہ کے سورۃ القدر ایک ایک بار اور سورۃ الاخلاص پانچ پانچ مرتبہ پڑھیں. بعد سلام کے درُود پاک ایک سو مرتبہ پڑھیں.
انشاء اللہ اس نماز کے پڑھنے والے کو بارگاہِ الٰہی سے بخشش اور مغفرت عطا کی جائے گی.
ماہِ رمضان المبارک کی انتیسویں شب کو سات مرتبہ سُورۃ الواقعہ پڑھیں. انشاء اللہ ترقیِ رزق کے لئے بہت افضل ہے.
ماہِ رمضان کی کسی شب میں بھی بعد نماز عشاء سات مرتبہ سورۃ القدر پڑھنا بہت افضل ہے. انشاء اللہ تعالٰی اس کے پڑھنے سے ہر مصیبت سے نجات حاصل ہو گی.
اللہ تعالٰی ہم سب کے ہر قدم کو بُرائی کے راستے سے ہٹا کر مستحکم ایمان کے راستے پر لے آئے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے. (آمین)
طالبِ دُعا…
Advertisements

اگست 22, 2011 at 08:30 تبصرہ کریں

ہم رمضان کیسے گزاریں؟؟ آؤ رمضان کی تیاری کریں…

اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تا کہ تم تقوٰی اختیار کرو. (سورۃ البقرہ)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ماہِ شعبان کی آخری تاریخ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے ہمیں ایک خطبہ دیا. اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:
” اے لوگو تم پر بڑے مرتبے والے مہینے نے سایہ ڈال دیا ہے. وہ بہت برکت والا مہینہ ہے. اس مہینے کی ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے”
"اللہ تعالٰی نے اس کے روزے فرض کر دئیے اور رات کے قیامِ تراویح کو نفل کیا ہے”
” جو اس مہینے میں کسی نیک عادت کے ساتھ اللہ تعالٰی کی نزدیکی تلاش کرے تو اس کو اس نفل کا اتنا ثواب ملتا ہے جتنا کہ دوسرے مہینے میں ستّر فرض ادا کرنے سے ملتا ہے”
” اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ غمخواری اور ہمدردی کا مہینہ ہے اور یہ ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کی روزی بڑھا دی جاتی ہے”
ترجمہ:
اور جس نے کسی کا روزہ افطار کرا دیا تو اس کے بدلے میں اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اس کی گردن آگ سے آزاد ہو جاتی ہے اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی آ جائے. ہم صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلّم ہم سب لوگ اتنی چیزیں نہیں پاتے کہ جس سے ہم روزہ دار کے روزے کو افطار کرا دیں. تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا اللہ تعالٰی اس کو بھی اتنا ہی ثواب دیتے ہیں جو کسی کا روزہ لسّی کے ایک گھونٹ یا ایک کھجور سے یا ایک گھونٹ پانی پلا کر کھلوا دے گا اور جو روزہ دار کو پیٹ بھر کے کھلا دے گا تو اللہ تعالٰی اسے حوض کوثر سے سیراب کرے گا جو کبھی بھی پیاسا نہ ہو گا یہاں تک کہ جنّت میں چلا جائے”
” اس مہینے میں اول رحمت ہے اور درمیان میں مغفرت و بخشش ہے اور آخر میں دوزخ سے آزادی ہے”
"جو اس مہینے میں اپنے غلام، نوکر سے کم کام لے گا اللہ تعالٰی اس کو بخش دے گا اور جہنم سے آزاد کر دے گا”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:
” جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے رعزے رکھے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے”
سورۃ البقرہ میں ارشاد ہوتا ہے:
” رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول دینے والی ہے’ لہٰزا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے’ اس کو لازم ہے کہ   اس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے. اللہ تمھارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے اور سختی کرنا نہیں چاہتا. اس لئے یہ طریقہ تمھیں بتایا جا رہا ہے تا کہ تم روزوں کی تعداد پوری کر سکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمھیں سرفراز کیا ہے اس پر کبریائی کا اظہارو اعتراف کرو اور شکر گزار بنو”
روزہ قیامت کے دن روزہ دار کی سفارش کرے گا:
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: "روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لئے سفارش کریں گے” روزہ کہے گا” اے میرے رب!میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور اپنی خواہشات(پوری کرنے) سے روکے رکھا لہٰزا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما” قرآن کہے گا” اے میرے رب!میں نے اس بندے کو رات (قیام کے لئے) سونے سے روکے رکھا لہٰزا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما” چنانچہ دونوں کی سفارش قبول ہو جائے گی.
غیبت کرنا، جھوٹ بولنا، گالی دینا، لڑائی جھگڑا کرنا روزے کی حالت میں بدرجہ اولٰی ناجائز ہیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: "جو شخص (روزہ رکھ کر) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کرے تو اللہ تعالٰی کو اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے”
روزہ میں کرنے کے کام
حقوق اللہ کی ادائیگی:
(عبات، روزہ، زکوٰۃ، ذکرودعا)
حقوق العباد کی ادائیگی:
(رشتہ داروں اور مسکینوں وغیرہ سے ہمدردی و غم خواری، صدقہ و خیرات، افطار کرانا، دوسروں کو اذیت نہ دینا)
اپنا جائزہ لیجئے (کیا کھویا، کیا پایا؟)
حقوق اللہ:
  • کیا میں نے رمضان المبارک کی آمد پر اللہ کا شکر ادا کیا؟
  • کیا میں نے روزہ بغیر بیماری یا عذر کے تو نہیں چھوڑا؟
  • کیا میں نے سحروافطار میں وقت کی پابندی کی؟
  • کیا میں نے فرض نمازوں کو وقت کی پابندی کے ساتھ ادا کیا؟
  • کیا میں نے قیام اللیل (نماز تراویح) کا اہتمام کیا؟
  • کیا میں نے تلاوت قرآن پاک اور اس کے معنی میں غورو فکر کیا؟
  • کیا میں نے ہر حال میں اللہ تعالٰی کا ذکر کیا؟
  • کیا میں نے قبولیت کے اوقات میں دُعائیں مانگیں؟
  • کیا میں نے آخری عشرے کی طاق راتوں میں خصوصی عبادت کا اہتمام کیا؟
  • کیا روزے کے مقصد تقوٰی کو پانے میں کامیابی حاصل ہوئی؟
حقوق العباد:
  • کیا میں نے کسی کا روزہ افطار کرایا؟
  • کیا میں نے دوسروں کی غمخواری اور ہمدردی کی؟
  • کیا میں نے اللہ کی رضا کے لئے اپنا مال خرچ کیا؟
  • کیا میں نے بیماروں کی تیمارداری کی؟
  • کیا میں نے گھر کے ملازمین کے کاموں میں کمی کی؟
  • کیا میں نے اپنے گھر والوں کے آرام کا خیال رکھا؟
  • کیا میں نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا چھوڑا؟
  • کیا میں نے غیبت، بد گمانی، تجسس اور عیب جوئی سے بچنے کی کوشش کی؟
  • کیا میں نے کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟
  • کیا میں نے جھگڑا چھوڑا؟
  • کیا میں نے مشکلات و مصائب پر صبر کیا؟
کیا میں نے روزے کے مقصد تقوٰی کو پانے میں کامیابی حاصل کی؟

جولائی 19, 2011 at 07:16 تبصرہ کریں

رمضان المبارک کے تقاضے

رمضان المبارک قمری مہینوں میں نواں مہینہ ہے. اللہ تعالٰی نے اس ماہ مبارک کی اپنی طرف خاص نسبت فرمائی ہے. حدیث مبارک ہے کہ "رمضان شہر اللہ” رمضان اللہ تعالٰی کا مہینہ ہے جیسے مسجد و کعبہ کو اللہ عزوجل کا گھر کہتے ہیں کہ وہاں اللہ عزوجل ہی کے کام ہوتے ہیں. ایسے ہی رمضان اللہ عزوجل کا مہینہ ہے کہ اس مہینہ میں اللہ عزوجل ہی کے کام ہوتے ہیں. روزہ تراویح وغیرہ تو ہیں ہی اللہ عزوجل کے مگر بحالت روزہ جو جائز نوکری اور جائز تجارت وغیرہ کی جاتی ہے وہ بھی اللہ عزوجل کے کام قرار پاتے ہیں. اس لئے اس ماہ کا نام رمضان یعنی اللہ عزوجل کا مہینہ ہے. رمضان رمضاء سے مشتق ہے. رمضا موسم خریف کی بارش کو کہتے ہیں جس سے زمین دھل جاتی ہے اور ربیع کی فصل خوب ہوتی ہے. چونکہ یہ مہینہ بھی دل کے گردوغبار دھو دیتا ہے اور اس سے اعمال کی کھیتی ہری بھری رہتی ہے اس لئے اسے رمضان کہتے ہیں.

حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت نقل کی گئی ہے کہ نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس مہینے کا نام رمضان رکھا گیا ہے کیونکہ یہ گناہوں کو جلا دیتا ہے. اس مبارک مہینے سے رب ذوالجلال کا خصوصی تعلق ہے جس کی وجہ سے ہی یہ مبارک مہینہ دوسرے مہینوں سے ممتاز اور جدا ہے. اس ماہ سے اللہ تعالٰی کے خصوصی تعلق کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کی تجلیات خاصہ اس مبارک مہینے میں موسلا دھار بارش کی طرح برستی رہتی ہیں.حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ "روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالٰی کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے گویا روزہ دار اللہ کا محبوب ہو جاتا ہے اور اس کی خلوف (منہ کی بو) بھی اللہ تعالٰی کو پسند اور خوشگوار ہوتی ہے.

رمضان المبارک کی تمام فضیلتوں کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو اس مہینہ میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے اور کوئی لمحہ بے کار اور ضائع نہیں جانے دینا چاہیے. ماہ رمضان کی ہر گھڑی رحمت بھری ہے اس مہینے میں اجر و ثواب بہت ہی بڑھ جاتا ہے. نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا کر دیا جاتا ہے. بلکہ اس مہینے میں روزہ دار کا سونا بھی عبادت میں شمار کیا جاتا ہے. عرش اٹھانے والے فرشتے روزہ داروں کی دعا پر آمین کہتے ہیں اور  ایک روایت کے مطابق رمضان کے روزہ دار کے لئے دریا کی مچھلیاں افطار تک دعائے مغفرت کرتی رہتی ہیں.

روزہ کے آداب

مشائخ نے روزہ کے آداب میں چھ امور تحریر فرمائے ہیں کہ روزہ دار کو ان کا اہتمام ضروری ہے.

  1. اول نگاہ کسی بے محل جگہ پر نہ پڑے حتٰٰی کہ کہتے ہیں کہ بیوی پر بھی شہوت کی نگاہ نہ پڑے.
  2. دوسرے چیز زبان کی حفاظت ہے. جھوٹ، چغل خوری لغو بکواس، غیبت، بدگوئی، بدکلامی، جھگڑا وغیرہ سب چیزیں اس میں داخل ہیں.
  3. تیسری چیز جس کا روزہ دار کو اہتمام ضروری ہے وہ کان کی حفاظت ہے. ہر مکروہ چیز جس کا کہنا اور زبان سے نکالنا ناجائز ہے اس کی طرف کان لگانا اور سننا بھی ناجائز ہے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ غیبت کا کرنے والا اور سننے والا دونوں گناہ میں شریک ہیں.
  4. چوتھی چیز باقی اعضاء بدن مثلاً ہاتھ کا ناجائز چیز پکڑنے سے، پاؤں کا ناجائز چیز کی طرف چلنے سے روکنا اور اسی طرح پیٹ کا افطار کے وقت مشتبہ چیز سے محفوظ رکھنا. جو شخص حرام مال سے افطار کرتا ہے اس کا حال اس شخص کا سا ہے کہ کسی مرض کے لئے دوا کرتا ہے مگر اس میں تھوڑا سا زہر بھی ملا لیتا ہے.
  5. پانچویں چیز افطار کے وقت حلال مال سے اتنا زیادہ نہ کھانا کہ شکم سیر ہو جائے اس لئے کہ روزہ کی غرض اس سے فوت ہو جاتی ہے.
  6. چھٹی چیز یہ کہ روزہ کے بعد اس سے ڈرتے رہنا بھی ضروری ہے کہ نامعلوم یہ روزہ قابل قبول ہے یا نہیں.

اگست 13, 2010 at 05:34 1 comment


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Advertisements
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad Poetry
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے”
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad Poetry