Posts tagged ‘اسلام’

Ramazan Ki Fazeelat

جولائی 29, 2011 at 11:20 تبصرہ کریں

گلدستہ احادیث

 

جولائی 21, 2011 at 07:52 تبصرہ کریں

ہم رمضان کیسے گزاریں؟؟ آؤ رمضان کی تیاری کریں…

اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تا کہ تم تقوٰی اختیار کرو. (سورۃ البقرہ)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ماہِ شعبان کی آخری تاریخ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے ہمیں ایک خطبہ دیا. اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:
” اے لوگو تم پر بڑے مرتبے والے مہینے نے سایہ ڈال دیا ہے. وہ بہت برکت والا مہینہ ہے. اس مہینے کی ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے”
"اللہ تعالٰی نے اس کے روزے فرض کر دئیے اور رات کے قیامِ تراویح کو نفل کیا ہے”
” جو اس مہینے میں کسی نیک عادت کے ساتھ اللہ تعالٰی کی نزدیکی تلاش کرے تو اس کو اس نفل کا اتنا ثواب ملتا ہے جتنا کہ دوسرے مہینے میں ستّر فرض ادا کرنے سے ملتا ہے”
” اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ غمخواری اور ہمدردی کا مہینہ ہے اور یہ ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کی روزی بڑھا دی جاتی ہے”
ترجمہ:
اور جس نے کسی کا روزہ افطار کرا دیا تو اس کے بدلے میں اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اس کی گردن آگ سے آزاد ہو جاتی ہے اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی آ جائے. ہم صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلّم ہم سب لوگ اتنی چیزیں نہیں پاتے کہ جس سے ہم روزہ دار کے روزے کو افطار کرا دیں. تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا اللہ تعالٰی اس کو بھی اتنا ہی ثواب دیتے ہیں جو کسی کا روزہ لسّی کے ایک گھونٹ یا ایک کھجور سے یا ایک گھونٹ پانی پلا کر کھلوا دے گا اور جو روزہ دار کو پیٹ بھر کے کھلا دے گا تو اللہ تعالٰی اسے حوض کوثر سے سیراب کرے گا جو کبھی بھی پیاسا نہ ہو گا یہاں تک کہ جنّت میں چلا جائے”
” اس مہینے میں اول رحمت ہے اور درمیان میں مغفرت و بخشش ہے اور آخر میں دوزخ سے آزادی ہے”
"جو اس مہینے میں اپنے غلام، نوکر سے کم کام لے گا اللہ تعالٰی اس کو بخش دے گا اور جہنم سے آزاد کر دے گا”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:
” جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے رعزے رکھے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے”
سورۃ البقرہ میں ارشاد ہوتا ہے:
” رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول دینے والی ہے’ لہٰزا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے’ اس کو لازم ہے کہ   اس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے. اللہ تمھارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے اور سختی کرنا نہیں چاہتا. اس لئے یہ طریقہ تمھیں بتایا جا رہا ہے تا کہ تم روزوں کی تعداد پوری کر سکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمھیں سرفراز کیا ہے اس پر کبریائی کا اظہارو اعتراف کرو اور شکر گزار بنو”
روزہ قیامت کے دن روزہ دار کی سفارش کرے گا:
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: "روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لئے سفارش کریں گے” روزہ کہے گا” اے میرے رب!میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور اپنی خواہشات(پوری کرنے) سے روکے رکھا لہٰزا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما” قرآن کہے گا” اے میرے رب!میں نے اس بندے کو رات (قیام کے لئے) سونے سے روکے رکھا لہٰزا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما” چنانچہ دونوں کی سفارش قبول ہو جائے گی.
غیبت کرنا، جھوٹ بولنا، گالی دینا، لڑائی جھگڑا کرنا روزے کی حالت میں بدرجہ اولٰی ناجائز ہیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: "جو شخص (روزہ رکھ کر) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کرے تو اللہ تعالٰی کو اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے”
روزہ میں کرنے کے کام
حقوق اللہ کی ادائیگی:
(عبات، روزہ، زکوٰۃ، ذکرودعا)
حقوق العباد کی ادائیگی:
(رشتہ داروں اور مسکینوں وغیرہ سے ہمدردی و غم خواری، صدقہ و خیرات، افطار کرانا، دوسروں کو اذیت نہ دینا)
اپنا جائزہ لیجئے (کیا کھویا، کیا پایا؟)
حقوق اللہ:
  • کیا میں نے رمضان المبارک کی آمد پر اللہ کا شکر ادا کیا؟
  • کیا میں نے روزہ بغیر بیماری یا عذر کے تو نہیں چھوڑا؟
  • کیا میں نے سحروافطار میں وقت کی پابندی کی؟
  • کیا میں نے فرض نمازوں کو وقت کی پابندی کے ساتھ ادا کیا؟
  • کیا میں نے قیام اللیل (نماز تراویح) کا اہتمام کیا؟
  • کیا میں نے تلاوت قرآن پاک اور اس کے معنی میں غورو فکر کیا؟
  • کیا میں نے ہر حال میں اللہ تعالٰی کا ذکر کیا؟
  • کیا میں نے قبولیت کے اوقات میں دُعائیں مانگیں؟
  • کیا میں نے آخری عشرے کی طاق راتوں میں خصوصی عبادت کا اہتمام کیا؟
  • کیا روزے کے مقصد تقوٰی کو پانے میں کامیابی حاصل ہوئی؟
حقوق العباد:
  • کیا میں نے کسی کا روزہ افطار کرایا؟
  • کیا میں نے دوسروں کی غمخواری اور ہمدردی کی؟
  • کیا میں نے اللہ کی رضا کے لئے اپنا مال خرچ کیا؟
  • کیا میں نے بیماروں کی تیمارداری کی؟
  • کیا میں نے گھر کے ملازمین کے کاموں میں کمی کی؟
  • کیا میں نے اپنے گھر والوں کے آرام کا خیال رکھا؟
  • کیا میں نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا چھوڑا؟
  • کیا میں نے غیبت، بد گمانی، تجسس اور عیب جوئی سے بچنے کی کوشش کی؟
  • کیا میں نے کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟
  • کیا میں نے جھگڑا چھوڑا؟
  • کیا میں نے مشکلات و مصائب پر صبر کیا؟
کیا میں نے روزے کے مقصد تقوٰی کو پانے میں کامیابی حاصل کی؟

جولائی 19, 2011 at 07:16 تبصرہ کریں

15 شعبان المعّظم

ماہِ شعبان کا تمام مہینہ برکتوں اور سعادتوں کا مہینہ ہے.خصوصاً اس کی پندرھویں رات جس کو شب برات اور لیلہ مبارکہ کہتے ہیں. باقی شعبان کو راتوں بلکہ سال کی اکثر راتوں سے افضل ہے. نور خالق دو جہاں اس اس رات کی تعریف قرآن مجید میں بیان فرماتا ہے:
قسم ہے اس روشن کتاب کی ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں. اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکم والا کام ہمارے حکم سے. بے شک ہم بھیجنے والے ہیں. تمہارے رب کی طرف سے رحمت. بے شک وہ سنتا ہے جانتا ہے.
حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم ارشاد فرماتے ہیں کہ شعبان کی پندرھویں شب کی عبادت بہت افضل ہے. اس شب میں اللہ تعالٰی اپنے بندوں کے لئے بے شمار دروازے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور فرماتا ہے.” کون ہے جو آج کی رات مجھ سے بخشش طلب کرے اور میں اس کو عذاب دوزخ سے نجات دے کر اس کی مغفرت کروں.” اور آپ نے فرمایا اس شب کی عبادت کرنے والے پر دوزخ کی آگ اللہ تعالٰی حرام کر دیتا ہے.
شعبان کی پندرھویں شب کو غسل کریں اگر کسی تکلیف کے سبب غسل نہ کر سکیں تو با وضو ہو کر دو رکعت تحیۃ الوضو پڑھیں. ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد آیۃ الکرسی ایک مرتبہ اور سورۃ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھیں. یہ نفل بہت افضل ہیں.

جولائی 15, 2011 at 13:13 تبصرہ کریں

شعبان المعّظم

شعبان المعّظم اسلامی آٹھواں مہینہ ہے.
حدیث شریف میں ہے. کہ شعبان کو اس لئے شعبان کہا جاتا ہے کہ اس میں روزہ دار کے لئے خیر کثیر تقسیم ہوتی ہے. یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے. (ماثبت من السنۃ 141)
           ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ ماہِ شعبان المعّظم نہت ہی برگزیدہ مہینہ ہے. اس ماہِ مبارک کی عبادت کا اللہ تعالٰی بہت ثواب عطا فرماتاہے.
شعبان المعّظم میں مندرجہ ذیل واقعات رونما ہوئے:
  1.  شعبان المعّظم کی پانچ تاریخ کو سیّدنا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہہ کی ولادت مبارک ہوئی.
  2. پندرہ تاریخ کو شبِّ برات میں امت مسلمہ کے بہت زیادہ افراد کی مغفرت ہوتی ہے. (جائب المخلوقات)
پہلی شعبان کے نوافل اور روزہ:
حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا جو پہلی شعبان کی رات بارہ رکعت نوافل پڑھے. ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص پانچ مرتبہ پڑھے تو اللہ تبارک تعالٰی اس کو بارہ ہزار شہیدوں کا ثواب عطا فرماتا ہے اور بارہ سال کی عبادت کا ثواب اس کے لئے لکھا جاتا ہے. گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے کہ گویا ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے اور اس دن تک اس کے گناہ نہیں لکھے جاتے.
شعبان المعّظم کے پہلے جمعہ کے نوافل
  • شعبان المعّظم کے پہلے جمعہ کو بعد نماز مغرب اور قبل نماز عشاء دو رکعت نفل پڑھیں ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد ایک مرتبہ آیۃ  الکرسی، دس مرتبہ سورۃ اخلاص، ایک مرتبہ سورۃ الناس پڑھیں. ان شاء اللہ یہ نفل ترقی ایمان کے لئے بہت افضل ہیں.
  • ماہِ شعبان المعّظم کے پہلے جمعہ کی شب بعد نماز عشاء آٹھ رکعت نفل ایک سلام سے پڑھیں اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص گیارہ مرتبہ پڑھیں. اس کا ثواب خاتون جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہہ کو بخشیں. خاتون جنت فرماتی ہیں کہ میں ہرگز جنت میں قدم نہ رکھوں گی جب تک اس نماز کے پڑھنے والے کو اپنے ہمراہ داخلِ بہشت نہ کر لوں.
  • جمعہ کی شب کو ہی نماز عشاء کے بعد چار رکعت نفل ایک سلام سے پڑھیں اور ہر ایک رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھیں. ان نوافل کی بہت فضیلت ہے. اور اللہ تعالٰی کی طرف سے اسے عمرہ کا ثواب عطا ہو گا.
وظیفہ چودہ شعبان المعّظم
شعبان المعّظم کی چودہ تاریخ کو بعد نماز عصر آفتاب غروب ہونے کے وقت با وضو چالیس مرتبہ یہ کلمات پڑھیں
ٌلاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
اللہ تعالٰی اس دعا کے پڑھنے والے کے چالیس سال کے گناہ معاف فرمائے گا.
نوافل چودہ شعبان المعّظم
  • شعبان المعّظم کی چودہ تاریخ کو بعد نماز مغرب دو رکعت نفل پڑھیں. ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ حشر کی آخری تین آیات ایک ایک مرتبہ پڑھیں. انشاء اللہ یہ نماز واسطے مغفرت گناہ بہت افضل ہے.
  • چودہ شعبان قبل نماز عشاء آٹھ رکعت نفل دو دو کر کے پڑھیں اور ہر رکعت میں سورۃ اخلاص پانچ پانچ مرتبہ پڑھیں. یہ نماز برائے بخشش گناہ بہت افضل ہے.

جولائی 11, 2011 at 13:06 تبصرہ کریں

ماہِ رجب کی فضیلت و اہمیت احادیث کی روشنی میں

فرامین نبوی صلّی اللہ علیہ وسلّم میں "رجب” کے روزوں اور اس کی عبادت کے بے شمار فضائل بیان کئے گئے ہیں..
امام غزالی "مکاشفتہ القلوب” میں روایت کرتے ہیں: "جاب ماہِ رجب کی پہلی شب جمعہ کا ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہر فرشتہ رجب کے روزے رکھنے والے کے لئے دعائے مغفرت کرتا ہے. کہا جاتا ہے کہ رجب نیکیوں کے بیج بونے کا مہینہ ہے، شعبان آب پاشی کا مہینہ ہے جب کہ رمضان فصل کاٹنے کا مہینہ ہے. جو شخص رجب میں عبادت کا بیج نہیں بوتا شعبان میں آنسوؤں سے اس بیج کو سیراب نہیں کرتا وہ رمضان میں فصلِ رحمت کیوں کر کاٹ سکے گا؟ رجب جسم کو پاک کرتا ہے، شعبان دل کو اور رمضان روح کو پاک کرتا ہے. رجب ماہِ حرام کہلاتا ہے، حرمت والا مہینہ.
امام غزالی فرماتے ہیں: اس مہینے کو رجب کہا جاتا ہے اور رجب جنت میں ایک نہر کا نام ہے، جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا ہے. آپ مزید فرماتے ہیں کہ نہرِ رجب سے وہی پانی پئیے گا جو رجب کے روزے رکھے گا. بزرگانِ دین فرماتے ہیں: ” رجب میں تین حروف ہیں، ر.ج.ب.
"ر” سے مراد رحمت الٰہی
"ج” سے مراد بندے کے جرم
"ب” سے مراد بر یعنی احسان و بھلائی. 
یہ اللہ عزو جل کا صفاتی نام ہے یعنی بھلائی کرنے والا. گویا اللہ عزوجل فرماتا ہے. بندے کے جرم کو میری رحمت اور بھلائی کے درمیان کر دو.(مکاشفتہ القلوب)
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہ ایک بار سرکارِ دو عالم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم کا گزر ایک مقام سے ہوا، جہاں چند قبریں تھیں، آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: ان قبر والوں پر عزاب ہو رہا ہے. میں نے اللہ  عزوجل سے ان کے عزاب میں تخفیف کے لئے دُعا کی ہے. اے ثوبان، اگر یہ لوگ رجب کا ایک ہی روزہ رکھ لیتے اور ایک رات ہی شب بیداری کر لیتے ، ان پر کبھی عزاب نہ ہوتا. آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: قسم ہے، اس ذات عالی کی جس کے قبضئہ قدرت میں میری جان ہے، کوئی مسلمان ایسا نہیں کہ جو رجب کا ایک روزہ بھی رکھ لے اور اس کی ایک رات عبادت بھی کر لے، مگر اللہ عزوجل اس کے لئے ایک سال کی عبادت لکھے گا.
ایک حدیث میں آتا ہے جو رجب میں دس روزے رکھ لے، اللہ عزوجل  اسے موتیوں اور یاقوت سے مزین دو باز عطا فرمائے گا جس سے وہ پُل صراط سے چمکتی ہوئی بجلی کی طرح گزر جائے گا.
ایک حدیث میں ہے کہ جس نے رجب رجب کے سارے روزے رکھے، تو آسمان سے ندا آتی ہے کہ اے اللہ کے دوست خوش خبری سن اور موت کے وقت اسے شربت پلایا جاتا ہے، جس سے وہ سیراب مرتا ہے، یعنی اسے موت کے وقت پیاس نہیں لگتی  اور وہ قبر میں بھی سیراب داخل ہوتا ہے اور اس میں سے نکلے گا تب بھی سیراب اور جنت میں بھی سیراب جائے گا.
حضرت سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے مروی ہے کہ سرور کائنات سرکارِ دو عالم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: رجب اللہ کا مہینہ ہے، جس نے اس کی تعظیم کی، اللہ عزوجل دین و دنیا میں اس کی تعظیم فرمائے گا.
کنزالایمان میں ارشاد ہے کہ اہل عرب حرمت والے (چار) مہینوں کی تعظیم کیا کرتے تھے اور ان میں لڑنا حرام جانتے تھے. اسلام میں ان مہینوں کی حرمت اور عظمت اور زیادہ ہو گئی، اور ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو، اس کی تفسیر میں لکھا ہے گناہ اور نافرمانی کے ذریعے اپنی جان پر ظلم نہ کرو. تو گویا ان مہینوں میں زیادہ گناہوں سے بچنے کی ضرورت ہے، تا کہ ان مہینوں کی تعظیم کی جائے.
سیّدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہہ کی ایک روایت ہے کہ  سرکارِ دو عالم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: جس نے ماہِ حرام (رجب) میں تین روزے رکھے، اس کے لئے نو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا. رجب کے روزے کی فضیلت میں آتا ہے جو رجب کا پہلا روزہ رکھتا ہے، جنہم اس سے اتنی دور ہو جاتی ہے جتنا کہ زمین آسمان سے دور ہے. رجب میں جو ایک روزہ رکھے گا، اسے ایک مہینے کے روزوں کا ثواب ملے گا اور دو ہزار نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی جائیں گی اور دو ہزار برائیاں مٹائی جائیں گی.
تین روزے کی ایک فضیلت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ رجب میں جو تین روزے رکھے گا، تو اس کے اور دوزخ کے درمیان اللہ تعالٰی ایک خندق بنا دے گا، جس کی لمبائی ستر ہزار برس ہو گی. گویا وہ جہنم سے ستر ہزار برس کی راہ دور کر دیا جائے گا. حضرت سیّدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم  سرکارِ دو عالم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ پندرہ رجب کا روزہ رکھنے والے کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں وہ جس سے چاہے داخل ہو جائے. ایک روایت میں ہے کہ جس نے ستائیس رجب کا روزہ رکھا اس کے لئے یہ روزہ تمام عمر کے روزوں کا کفارہ ہو جائے گا. اگر وہ اسی سال مر جائے تو شہید ہو گا.
رجب بہت مقدس، معظم اور مبارک مہینہ ہے. اس کی تعظیم کرنا ہماری دنیا اور آخرت کے لئے بے حد مفید ہے، جتنا ہو سکے اس میں روزے بھی رکھنے چاہئییں، اور زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت میں مصروف رہنا چاہئیے. زندگی کو غنیمت جانئیے، الحمدللہ آج ہم زندہ ہیں، اس زندگی سے فائدہ اُٹھانا چاہئیے، نا معلوم پھر یہ موقع ملے، نہ ملے..
اللہ آپ کے، ہمارے، ہر مسلمان کے تمام دیدہ و دانستہ کئے گئے گناہوں کو اپنی رحمت سے معاف فرمائے اور ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے.
آج کا یہ موضوع مسلمان قوم کے لئے ایک بیش قیمتی تحفہ ہے. خود بھی اس تحفہ سے فیض یاب ہوں اور دوسروں کو بھی اس ماہ کی فضیلت کے بارے میں بتائیں. اگر آپ کی وجہ سے کسی کے اعمال سُدھر جائیں اور کوئی ایک گناہ سے اپنے قدم پیچھے ہٹا لے تو یہ آپ کے لئے اور ہمارے لئے صدقہ جاریہ ہے.

جون 24, 2011 at 07:14 تبصرہ کریں

ماہِ رجب کی فضیلت و اہمیت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا یہ اللہ کا مہینہ ہے
فتح مکہ سے قبل جب مومنین مدینہ منورہ سے مکہ معّظمہ کی جانب جانے لگے تو انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں کفار ہم سے عزت والے مہینے میں نہ لڑیں، اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی.
ترجمہ: بے شک مہینوں میں گنتی اللہ کے نزدیک بارہ ہے، اللہ کی کتاب میں جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ان میں سے چار قابلِ عزت ہیں.
چار عزت والے مہینے ذیعقد، ذی الحجہ، محّرم اور رجب ہیں. رجب "ترجیب” سے مشتق ہے. اہلِ عرب کے ہاں "ترجیب” تعظیم کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، یوں رجب کے معنی حد درجہ تعظیم بزرگی، عزت کے علاوہ بے ضرر اور بے زبان ہیں.
سات دنوں میں دو دن اور بارہ مہینوں میں سے چار ماہ نہایت محترم ہیں، جمعہ اور پیر کے دنوں کو دیگر دنوں پر فضیلت حاصل ہے اور رجب، ذیعقد، ذی الحجہ اور محرم کو حرام مہینے قرار دیا گیا ہے.
حضرت عکرمہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا، ” رجب اللہ کا مہینہ ہے، شعبان میرا اور رمضان میری اُمّت کا مہینہ ہے.”
ماہِ رجب کو ہمیشہ اور ہر مزہب میں عزت و حرمت حاصل رہی ہے. حدیث مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا، "سُنو رجب رجب عزت والے مہینوں میں سے ہے، اسی میں حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی ہی میں روزہ رکھا تھا اور اپنے ساتھیوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا تو اللہ نے ان کو نجات دی اور ڈوبنے سے بچا لیا اور زمین کو طوفان کے سبب کفروسرکشی سے پاک کر دیا.
اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ ماہ رجب کی عظمت و حرمت و فضیلت پچھلے مزاہب سے مسلّمہ چلی آ رہی ہے اور آج بھی اس میں کچھ فرق نہیں آیا. اس مہینے میں کسی قوم پر اللہ تبارک و تعالٰی نے گزشتہ امتوں کو باقی مہینوں میں تو عزاب میں مبتلا کیا لیکن اس ماہ میں کسی امت کو عزاب نہیں دیا. اسے شہر اللہ الاصم اس لئے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے مروی ہے کہ ماہِ رجب کا چاند طلوع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلّم جمعہ کے دن منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا، ” سنو یہ اللہ کا بہرہ مہینہ ہے، یہ تمھاری زکٰوۃ کا مہینہ ہے، لہٰزا جس پر قرض ہو وہ اپنا قرض ادا کرنے پر بقیہ مال کی زکٰوۃ ادا کرے”
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رضی اللہ تعالٰی عنہہ ثبت ہالنسہ میں نحایہ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں، اللہ تعالٰی نے رجب کو اپنا مہینہ قرار دیا ہے کیونکہ جیسے بہرہ آدمی کچھ نہیں سنتا یہ مہینہ بھی ہتھیاروں کی آوازیں نہیں سنتا. اسی لئے دور جہالت میں کفار بھی ان محترم مہینوں کا احترام کرتے اور کوئی کسی پر تلوار نہ چلاتا، جنگیں رُک جاتیں. امام رافعی تحریر کرتے ہیں کہ رجب یقیناً اللہ تعالٰی کا مہینہ ہے. اسے بہرہ اس لئے کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ بھی اس ماہ جنگ و جدل نہ رکھتے اور اپنے ہتھیاروں کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے. پورا مہینہ امن و امان میں رہتا اور کوئی کسی سے خوفزدہ نہ ہوتا تھا. ” اس مہینے کو مطہر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ روزہ دار کو گناہوں اور خطاؤں سے پاک کر دیتا ہے. حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ آتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلّم دعا فرماتے:
ترجمہ: ” اللہ ہمارے رجب اور شعبان کو با برکت بنا اور ہمیں رمضان تک پہنچا”

جون 7, 2011 at 15:24 تبصرہ کریں

Older Posts Newer Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad Poetry
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے”
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad Poetry