نماز تراویح کی فضیلت

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اور اس کی راتوں میں قیام کیا(تراویح ادا کی) اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے گئے.
رمضان المبارک میں عشاء کی نماز کے بعد وتر سے پہلے جو بیس رکعت نماز ادا کرتے ہیں، اسے ہم تراویح کے نام سے اس لئے پکارتے ہیں کہ اس میں ہر چار رکعات کے بعد تھوڑی دیر بیٹھتے ہیں، اس بیٹھنے کو ترویحہ کہتے ہیں. تراویح ترویح کی جمع ہے. ترویحہ کے معنی استراحت کے ہیں جو راحت جیسے مشتق ہے. چونکہ بیس رکعت تراویح میں پانچ ترویحے ہوتے ہیں، اس لئے اسے نماز تراویح کہتے ہیں. نماز پڑھنا شریعت کی نظر میں راحت ہے، جیسا کہ ہادیِ برحق سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلّم نے اسشاد فرمایا: "نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے” ایک اور حدیث میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، ایک افطار کے وقت اور دوسری خوشی اس وقت، جب اپنے رب سے ملاقات کرتا ہے” بظاہر ملاقات سے مراد تراویح ہے.
نماز تراویح کا طریقہ وہی ہے جو دیگر نمازوں کا ہے اور اس کی نیت اس طریقے سے ہے” میں دو رکعت نماز تراویح پڑھنے کی نیت کرتا ہوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کی سنت ہے” کہہ کر اللہ اکبر کی نیت باندھ لے، تراویح کے لئے شروع میں بیس رکعت کی نیت کافی ہے. ہر دو رکعت پر نیت شرط نہیں مگر ہر دو رکعت پر نیت کر لینا بہتر ہے. دل کی نیت بھی کافی ہے.
پورے رمضان المبارک میں دوران تراویح ایک مرتبہ قرآن مجید کا پڑھنا سنّت مؤکدہ ہے.
جب رمضان المبارک کا چاند دیکھا جائے، اس رات سے تراویح شروع کی جائے اور جب عید کا چاند نظر آئے تو چھوڑ دی جائے. پورے ماہ تراویح پڑھنا سنّت مؤکدہ ہے. اگرچہ تراویح میں قرآن مہینے سے پہلے ہی ختم کر دیا جائے مثلاً تین دن، دس، پندرہ، اکیس، ستائیس وغیرہ میں، باقی دنوں میں تراویح پڑھنا سنّت مؤکدہ ہے.
تراویح سنّت مؤکدہ ہے. بلا عذر ان کو چھوڑنے والا گنہگار ہے. خلفائے راشدین، صحابہ کرام اور سلف صالحین سے اس کی پابندی ثابت ہے. سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا، مجھے خیال ہوا کہ کہیں تراویح فرض نہ ہو جائیں، اس وجہ سے آپ نے مواظبت نہیں فرمائی. حقیقت میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلّم کا یہ فرمانا خود ہی اس کے اہتمام کی کھلی دلیل ہے کہ کسی شخص کا یہ کہنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے تراویح ترک کیں، میں بھی چھوڑتا ہوں، قطعاً نا قابلِ قبول اور نا واقفیت پر مبنی ہے.
اگر کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتاتو وہ نماز تراویح ضرور ادا کرے، اس کا اجروثواب ضرور ملے گا. لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ جو روزہ نہ رکھے، وہ تراویح بھی نہ پڑھے یا تراویح کے بغیر روزہ ادا نہ ہو گا. یہ دونوں ایک دوسرے کے تابع نہیں، دونوں کا الگ الگ ثواب ہے. یہ الگ بات ہے کہ بغیر عذرِ شرعی کے روزہ چھوڑنا سخت عزاب، وبال کا باعث ہے.
رمضان المبارک کا مہینہ بڑا سعادتوں والا ہے. اس ماہِ مبارک میں ہر نفل عمل کا اجروثواب فرض کے برابر ملتا ہے. اور ہر فرض کا ستّر فرائض کے برابر، مساجد نمازیوں سے بھر جاتی ہیں، دل خودبخود اللہ کی طرف مائل ہو جاتا ہے. ایسی صورت میں ہم ہمہ تن اللہ کی طرف فجوع کریں. پوری امّت مسلمہ، اپنے ملک کے لئے اللہ کے حضور گڑگڑا کر کر دعا کرے اور پورے مہینے فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ عبادت کے لئے وقف کر دے.
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلّم کا فرمان ہے: جو لوگ ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کی راتوں میں قیام (تراویح پڑھیں گے) کریں گے، ان کے سب پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے. قرآن کریم کی ایک حرف کی تلاوت پر دس نیکیاں ملتی ہیں اور رمضان میں ہر نیکی کا ثواب ستّر گنا زیادہ ہوتا ہے. یعنی صرف "الم” کی تلاوت پر ہمیں دو سو نیکیاں مل گئیں، یہ کم از کم ہیں، تو حقیقت میں اس سے بہت زیادہ ہیں، اور جو فضیلت پڑھنے والے کے لئے ہے وہی سننے والے کے لئے بھی ہے. (سبحٰن اللہ)

اگست 10, 2011 at 11:57 تبصرہ کریں

حسن پر ناز نہ کرنا

ہم پانچ بہن بھائی تھے. ابو اچھی ملازمت پر تھے اسلئے بہت سکون بھری زندگی گزار رہے تھے. گھر کا ماحول محبت بھرا تھا. بہنوں کی آپس میں کبھی لڑائی بھی ہو جاتی تھی لیکن یہ سب زندگی کا حصّہ تھا. زیادہ تر آپا سے ان بن ہوتی کیونکہ شازیہ آپا ہم پر رعب جماتی تھیں اور یہ بات ہمیں بری لگتی تھی.
بڑی بہن ہونے کی وجہ سے ہم تینوں چھوٹی بہنیں ان کا لحاظ بھی کرتی تھیں لیکن آپا کا غصہ ہر وقت ناک پہ دھرا رہتا تھا. وہ کسی کا لحاظ نہیں کرتی تھیں. منہ پھٹ تھیں. اپنی مرضی کرتی تھیں. اور کسی کو بات نہ کرنے دیتی تھیں.
میں، نادیہ اور آصمہ…. ان کے غصے سے نالاں تھے. تاہم امی سمجھاتی تھیں کہ وہ بڑی ہے، تم لوگ اس کے سامنے مت بولا کرو. یاد رکھو ہمیشہ بڑوں کی عزت کرنی چاہئے. ایسا کہہ کر ہی ماں نے آپی کو اور زیادہ سر پر چڑھا لیا تھا.
اب وہ امی ابو کو خاطر میں نہ لاتیں. یہ احساس جاتا رہا کہ کونسی بات ان کے سامنے کرنی ہے اور کونسی بات ان کے سامنے کرنے کی نہیں ہے. آپا کی عادت تھی کہ وہ ہر کسی کا مزاق اڑاتی تھیں. کسی کو کہتی کلو ہے، کوئی اُلٹا توا ہے تو کسی کو گنجا کہہ کر خوب ہنستیں. مجھے آپا کی ان باتوں سے چڑ تھی.
انہی دنوں امی نے آپا کے رشتے کے لئے کوشش شروع کر دی. دادی کہتی تھی بہو یہ لڑکی تمھاری شتر بے مہار ہے.دیکھیں یہ بیل کیوں کر منڈھے چڑھے گی. امی جان اس عمر کی لڑکیا یونہی نادان ہوتی ہیں. شاید پہلی تھی بہت لاڈ پیار بھی ملا ہے. وقت کے ساتھ ساتھ اس کو خود ہی سمجھ آ جائے گی.
وقت کے ساتھ ساتھ سمجھ تو آ ہی جاتی ہے مگر کچھ لوگ ایسے ضدی اور انا پرست ہوتے ہیں کہ ان کو وقت کے ساتھ بھی سمجھ نہیں آتی. آپی بھی انہی خود سروں میں سے تھیں. سونے پر سہاگا ان کو اپنی خوبصورتی پر بڑا ناز تھا.
ان ہی دنوں خالدہ رشیدہ اپنے بیٹے جہانگیر کا رشتہ لے کر آئیں. میرا یہ کزن تعلیم، صورت اور شکل و صورت ہر لحاظ سے بہتر تھا البتہ…. سر پر بال کچھ کم تھے. آپا نے دیکھتے ہی ہنسنا شروع کر دیا اور مزاق اڑانے لگیں کہ یہ گنجا ہے. یہ تم کیا کہہ رہی ہو امی نے ڈانٹا. خالہ تو رشتہ مانگنے آئی ہوئی تھیں اور آپا جہانگیر کو دیکھ دیکھ کر ٹھٹھے لگا رہی تھیں. امی بولیں. کچھ شرم کرو ہم تمہاری شادی اس کے ساتھ طے کر رہے ہیں اور تم اس کا مزاق اڑا رہی ہو.
شازیہ بولی. اماں خاطر جمع رکھو، میں نے اس گنجے سے شادی نہیں کرنی. امی جان نے سختی سے ڈانٹا. خالہ سامنے بیٹھی تھی ان کا چہرہ اُتر گیا. وہ شرمندہ ہو گئیں. اتنے میں ابو آ گئے اور سمجھانے لگے کہ شازیہ بیٹی کہ اس سے بہتر رشتہ ہمیں نہیں ملے گا. میں نے بھی لقمہ دیا کہ آپی…. کیا قباحت ہے اس رشتے میں، اتنے اچھے تو ہیں بھائی..
اچھے ہوں یا برے ہوں، مجھے اس سے شادی نہیں کرنی. یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی تو امی بھی ان کے پیچھے گئیں. شازیہ تمھیں اپنے باپ کا بھی لحاظ نہیں. کتنی بے شرمی سے تم نے اپنے باپ کے سامنے انکار کر دیا.
امی…. زندگی میں نے گزارنی ہے آپ نے تو نہیں گزارنی…سہیلیاں میرا مزاق اُڑائیں گی. میں دوسروں پر ہنستی تھی، اب سب مجھ پر ہنسیں گے….خالہ سب سن چکی تھیں. وہ بد دل ہو گئیں. امی سے کہا! رضیہ بہن میں نہیں چاہتی کہ تمھاری بیٹی کے ساتھ زبر دستی ہو اور بعد میں دونوں کی نہ بنے. مجھے کوئی شکوہ نہیں ہے. سب مقدر کے کھیل ہوتے ہیں یہ کہہ کر وہ چلی گئیں.
خالہ کی آنکھوں میں آنسو تھے. امی بھی رنجیدہ تھیں. کہا شاید میری تربیت میں کوئی کمی رہ گئی ہے تبھی تو شازیہ مجھے دکھ دے رہی ہے. سال بعد میرے کزن کی شادی ہوگئی. ہم سب شادی میں شریک ہوئے لیکن آپی نا گئیں. خالہ جان اور میرے کزن نے کوئی شکوہ نہ کیا. ان کا گھر بس گیا. بیوی اچھی ملی، ان کی دنیا آباد ہو گئی. ان کو کوئی غم نہیں تھا کہ شازیہ آپی نے انہیں گنجا کہہ کر ٹھکرا دیا تھا.
اب مسئلہ جوں کا توں تھا یعنی شازیہ کے رشتے کے لئے امی تگ و دو میں مصروف تھیں کہ شازیہ کو بیاہنا ہے. کوئی اچھا لڑکا ہے تو بتاؤ. ان کو ایک نہیں شار بیٹیوں کی فکر تھی. مگر سب سے زیادہ پریشانی ان کو شازیہ کی طرف سے تھی کیونکہ بقول امی یہ لڑکی تو ناک پہ مکھی نہیں بیٹھنے دیتی تھی.
آپی کو اللہ نے اطھی صورت دی تھی لہٰزا نخوت بھی تھی. غرور بھی آ گیا تھا. اپنے آگے کسی کو کچھ سمجھتی ہی نہ تھی.
انہیں دنوں ایک امیر اور معزز گھرانے سے ان کے لئے رشتہ آیا. امی جان کو بہت پسند آیا. لڑکا خوبصورت، تعلیم یافتہ تھا اور گھرانہ خوشحال تھا. امی نے ہاں کر دی لیکن جس بات سے ڈر رہی تھیں، وہی ہو گئی.
جب سارے معاملات طے ہو گئے تو آپی سے پوچھنے کا مرحلہ آیا. اب امی کی عزت آپی کے ہاتھ میں تھی. پہلے تو گھر کی بات تھی. خالہ رنجیدہ ہو کر بھی چپ ہو گئی تھیں. مگر اب معاملہ غیروں کا تھا. زرا سے بد مزگی دونوں گھرانوں کے لئے تازیانہ ہو سکتی تھی.
اسلم کے گھر والوں نے فوری جواب مانگا تھا. جواب میں آپنی پھر ایک بار انکار کر دیا یہ کہہ کر کہ یہ لوگ دیہات میں رہتے تھے، اب شہری بن گئے ہیں تو کیا ہوا. ان کی عادتیں تو وہی ہوں گی.
یہ کوئی جواز نہ تھا کسی اچھے رشتے کو ٹھکرانے کا مگر خدا جانے آپی کیوں کچھ سمجھتی ہی نہیں تھی. وہ شادی کو کھیل سمجھتی تھی. شاید آپی کے ذہن میں آئندہ زنگی کا کوئی حقیقی تصور نہیں تھا. خدا جانے وہ خوابوں کی کس دنیا میں رہتی تھیں.
جب انہوں نے فوری جواب مانگا اور آپی نے یہ کہہ کر رنکار کر دیا کہ لڑکے کا رنگ سانولا ہے. جب ان کو گوری لڑکی کی تمنا ہے تو مجھے بھی گورا جیون ساتھی چاہئے. ایسی باتیں سن کر امی نے سر پکڑ لیا کہ خدا جانے یہ لڑکی کیا چاہتی ہے. بیٹی یہ کوئی کھیل نہیں ہے کہ تم ہر موقع پر انکار کر دیتی ہو. آپ کو بھی تو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہئے.
سانولی رنگت کوئی عیب نہیں ہے. باجی نادیہ نے آپی کو سمجھانا چاہا تو آپی نے جھٹ کہا، ایسی بات ہے تو تم کر لو نا اسلم کے ساتھ شادی، تم کو کالے لوگ بہت اچھے لگتے ہیں نا، انہوں نے سارا غصہ نادیہ پر نکال دیا. ایک لمحے کو تو نادیہ لرز گئی پھر سنبھل کر بولی، امی جان آپ باجی کی فکر چھوڑئیے اور اب دوسری بیٹیوں کی فکر کریں. مایوس ہو کر امی نے نادیہ کی طرف دیکھا جو امی کے درد کو سمجھ رہی تھی. ماں کی آنکھوں میں امید کی ایک نئی کرن جاگی. نادیہ ماں سے بولی، ماں! مجھے اس گھر کی عزت اور آپ کی خوشی پیاری ہے. آپ ان لوگوں کو انکار مت کیجئے. آپی نہ سہی آپ کی دوسری بیٹی سہی. میں آپ کا ہر حکم بجا لانے کو تیار ہوں.
یوں نادیہ نے ماں کی خوشی کے لئے سر تسلیم خم کر دیا. اسلم کے والدین کو کوئی اعتراض نہ ہوا. بڑی نہ سہی چھوٹی سہی. انہوں نے رشتہ اسی گھرانے سے لینا تھا سو لے لیا.
اب ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اور سب کو اپنی قسمت کا ملتا ہے. نادیہ کے نصیب میں جو تھا سو مل گیا. امی ابو یہ سوچ کر چپ تھے کہ چلو ایک بوجھ تو ہلکا ہوا. دو سال تک امی دن رات سوچوں میں جلتی رہیں. شازیہ کے لئے کوئی مناسب رشتہ نہیں آ رہا تھا. نادیہ باجی اپنے گھر میں خوش اور مطمئن زندگی گزار رہی تھیں اور سب ہی ان کی خوشیوں بھری زندگی پر رشک کرتے تھے. ان کو اپنے شوہر کے سانولے رنگ سے کوئی شکایت نہیں تھی بلکہ وہ تو کہتی تھی کہ اسلم سے بڑھ کر کوئی حسین نہیں ہے.
امی نے کئی عورتوں کے ذمے لگا رکھا تھا کہ جیسے میری نادیہ کا نصیب کھلا ہے، ایسے ہی کسی اچھے گھرانے سے شازیہ کا بھی رشتہ آ جائے. سب کا خیال تھا کہ نادیہ کو خوش و خرم دیکھ کر شازیہ کو عقل آ گئی ہو گی لہٰزا اب جو رشتہ آئے گا وہ نہیں ٹھکرائے گی. انہی دنوں ابو جان کے ایک دوست اپنی فیملی کے ساتھ آ گئے. وہ بڑی مدت کے بعد آئے تھے کیونکہ وہ برطانیہ چلے گئے تھے. ابو نے بہت خوشی سے انکا خیر مقدم کیا اور وہ ہمارے گھر رُکے. ان کا بیٹا طارق بھی ساتھ تھا. وہ ایک خوبصورت اور پڑھا لکھا نوجوان تھا. اور ابو کے دوست اس کے رشتے کے لئے پاکستان آئے تھے. وہ اپنے بیٹے کے لئے ایک پاکستانی اور مشرقی اقدار والی لڑکی ڈھونڈ رہے تھے.
جب مسز سلطان نے شازیہ باجی کو دیکھا تو بہت خوش ہوئیں اور امی سے کہا. ارے لڑکی تو گھر میں موجود ہے اور میں خوامخواہ ادھر اُدھر ڈھونڈتی پھرتی ہوں. بس اب میں طارق کے لئے آپ کی شازیہ ہی لوں گی. ہم سب ڈر رہے تھے کہ شازیہ ایسی کوئی بات نہ کر دے جس سے ان کی دل آزاری ہو. وہی ہوا یہ بات سن کر ہماری آپا آپے سے باہر ہو گئیں اور اُسی خود سری اور ضد سے کہنے لگی کہ میں اپنا وطن چھوڑ کر برطانیہ نہیں جاؤں گی.جانے وہاں میرے ساتھ کیا ہو.
اب کی بار یہ قربانی فائزہ نے دی. امی نے اس کو سمجھایا کہ اتنا اچھا رشتہ ہے، شازیہ کا تو دماغ درست نہیں ہے. بیٹی تم ہماری لاج رکھ لو اور انکار مت کرنا. ہمارا بڑھاپا ہے، جتنی جلدی تم اپنے گھر کی ہو جاؤ اچھا ہے.
فائزہ نے سوچا آپی بے حد خوبصورت ہیں اس لئے ان کے معیار کو کوئی اترتا نہیں ہے اور میں معمولی صورت کی ہوں، کیا خبر یہ لوگ مجھے قبول نہ کریں. اس نے امی سے کہا. ماں! اگر وہ لوگ مجھے قبول کرتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے. آپ میری فکر نہ کریں لیکن شازیہ آپی کا کیا بنے گا. آخر کب تک وہ یونہی انکار کرتی رہیں گیں.
ماں نے فائزہ کے شانے پر محبت سے ہاتھ رکھ کر کہا. میری بیٹی اس کے بارے میں سوچنا چھوڑ دو. وہ اپنی مرضی کی مالک ہے، دیکھ لینا کہ وہ کل ضرور پچھتائے گی اور یہ وقت بھی ہاتھ نہیں آئے گا. اب میں طارق کے لئے تمہارا ہی نام لوں گی. آگے تیری تقدیر کہ کیا ہوتا ہے. امی نے آنٹی سے بات کی تو انہوں نے جواب دیا کہ شازیہ بھی تمھاری بیٹی ہے اور فائزہ بھی بلکہ فائزہ زیادہ کم عمر ہے. ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے. میرا بیٹا اچھا انسان ہے وہ اس کو خوش رکھے گا. تم بالکل فکر مت کرنا.
فائزہ بھی اپنے گھر کی ہو گئی. طارق کے ساتھ بیاہ کر لندن چلی گئی. اس کے خطوط اور فون آتے تھے. وہ وہاں بہت خوش تھی. سب اس کا بہت خیال رکھتے تھے اور شوہر بھی بہت پیار کرنے والا تھا.
اب میں اور آپی بچ گئی تھیں اور آپی تو بہت خوشحال تھی کہ بلا ٹلی اور اس رشتے سے جان چھوٹی. اس انکار کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی تھی شاید ان کو والدین کے بھروسے پر یقین نہیں تھا. سب سے بڑی بیٹی ہونے کی وجہ سے امی ابو کو شازیہ آپکی کی فکر ایک روگ کی طرح کھا رہی تھی.
خالہ جان میرے لئے ایک رشتہ لائیں. لڑکا نیک شریف اور پڑھا لکھا تھا. زیادہ امیر لوگ نہیں تھے لیکن کھاتے پیتے ضرور تھے. یوں میں بھی اس گھر سے رخصت ہو گئی. شازیہ کی ہٹ دھرمی سے ماں باپ کے دل چونکہ کافی رنجیدہ تھے لہٰزا میں نے ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا، بس اللہ پر معاملہ چھوڑ دیا اور والدین پر بھروسہ کیا. اور خدا نے اپنی رحمت کر دی. میں اپنے گھر میں خوش اور مطمئن تھی. والدین نے بھی اللہ کا شکر ادا کیا کہ چار بیٹیوں میں سے تین خوش و خرم اور خوشحال تھیں اور ماں باپ کی دعاؤں سے ان کو سسرال بھی اچھے ملے تھے.
اب والد بیمار رہنے لگے تھے. وہ ریٹائرڈ ہو گئے تو پینشن پہ گزارا کرنا پڑا. مالہ حالات بھی خراب رہنے لگے. امی جان آپی کو سمجھاتی تھیں کہ اب تم رہ گئی ہو آخر کب تک یونہی بیٹھی رہو گی. کب تک ہماری آزمائش چلے گی. اس پر آپی نے جواب دیا کہ میں شادی نہیں کروں گی بلکہ نوکری کر کے آپ لوگوں کے بڑھاپے کا سہا را بنوں گی.
اچھی ملازمتیں یونہی نہیں مل جاتیں. شازیہ آپی کی خاطر ابو نے کافی کوشش کی اور ان کے ایک دوست کے توسط سے آپی کو بینک میں نوکری مل گئی. والدین بیچارے ٹھنڈی سانس بھر کر چپ ہو گئے کہ بیٹی نے اپنے مرضی کر لی لیکن اس کی شادی کی عمر نکلتی جا رہی تھی.
فائزہ کے سسرال دور تھے لیکن میں اور میری بہن نادیہ کبھی کبھار اپنے میکے آ جایا کرتی تھیں. امی ابو تینوں بیٹیوں کی طرف سے مطمئن تھے لیکن آپی ان کے لئے ایک خلش بنی ہوئی تھی. وہ اب بھی یہ کہتے تھے کہ بیٹی تم شادی کر لو. آخر شادی نہ کرنے کی وجہ کیا ہے. ہمارا کیا بھروسہ آج ہیں کل نہیں. پھر تمھارا کیا بنے گا. ابھی بھائی کی شادی باقی تھی کیونکہ وہ سب سے چھوٹا تھا اور ابھی اسے ملازمت بھی نہیں ملی تھی، اس لئے شادی مشکل ہو گئی تھی.
جہاں آپی ملازمت کرتی تھیں وہاں آصف نام کا ایک شخص ملازم تھا. جانے کیسے دونوں میں رابطہ بڑھا اور دوستی ہو گئی. پھر انہوں نے شادی کا فیصلہ کرلیا. آصف کیسا تھا کون تھا ہمیں کچھ علم نہ تھا. مگر جو قباحت تھی وہ یہ تھی کہ وہ شادی شدہ تھا. مگر آپی کی آنکھوں پر تو پٹی بندھی تھی کہ یہ حقیقت جاننے کے بعد بھی انہوں نے آصف کی شریک حیات بننے کا فیصلہ کر لیا. امی ابو نے کافی سمجھایا مگر یہ لڑکی کب کسی کی ماننے والی تھی. وہ اپنی ضد پر اڑ گئی کہ شادی کروں گی تو آصف سے ورنہ عمر بھر کنواری رہوں گی. امی ابو جانتے تھے کہ یہ کتنی ضدی ہے، جو سوچتی ہے کر کہ رہتی ہے. بلا سے اب جو بھی ہو یہ دلہن تو بنے. شادی شدہ تو کہلائے.
آپی کی ضد پر امی ابو نے شادی کی اجازت دے دی لیکن شادی نہایت سادگی سے ہوئی. کچھ عرصہ تک توآصف نے اس معاملے کو انتہائی خفیہ رکھا مگر یہ شادی کب تک چھپ سکتی تھی. پہلی بیوی کو علم ہو گیا، اس کے بعد تو قیامت آ گئی.
آصف کی پہلی بیوی ایک پولیس آفیسر کی بیٹی تھی. اس نے نا صرف شوہر کو ناکوں چنے چبوا دیئے بلکہ ان کی وجہ سے آپی کو بھی کافی عرصہ تک چھپ کر رہنا پڑا. آصف ایسے گئے کہ پھر لوٹ کر نا آئے اور نہ آپی کی خبر لی کہ کس حال میں ہے. اس غم میں آپی نے نوکری بھی چھوڑ دی. اب کہتی تھی کہ واقعی میرا انتخاب غلط تھا. والدین ہی سوچ چمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں. ہم تو جزباتی ہو جاتے ہیں. تب ہم سے درست فیصلے بھی نہیں ہو پاتے.
آپی کو طلاق ہو گئ. ان کا حسن ماند پڑ چکا تھا. جس حسن پر وہ اتراتی تھیں اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتی تھیں اُسی حسن کے غرور نے ان کو خالی ہاتھ کیا اور اب وہ پچھتاتی ہیں مگر
اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت.

اگست 5, 2011 at 12:23 تبصرہ کریں

Ramazan ki Duayen

 

اگست 1, 2011 at 12:54 تبصرہ کریں

Ramazan Ki Fazeelat

جولائی 29, 2011 at 11:20 تبصرہ کریں

مزاحیہ اردو کہانی: جلد بازی کا انجام

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک چوہدری رہتا تھا. اس کے ساتھ حویلی میں ایک ملازم خاص(میراثی)بھی رہائش پذیر تھا. مالک اور نوکر ایک ایسی سست الوجود قوم سے تعلق رکھتے تھے جو ٹھہرے ہوئے پر سکون مزاج کی مالک تھی اور آج کا کام کل پر چھوڑنے کی عادی تھی. ایک دن چوہدری پکوڑے کھانے کے بعد اخبار سے بنے لفافے کے مطالعہ میں مصروف تھا کہ اس نے خبر پڑھی کہ محکمہ زراعت نے جدید پیوند کاری کے ذریعے خربوزے کا ایسا بیج ایجاد کیا ہے جو دوگنی فصل دیتا ہے. چوہدری نے ملازمین کو اکٹھا کر کے نئے بیج کے متعلق صلاح مشورہ کیا. صلاح مشورے کی مختلف نشستیں جاری رہیں. آخر ایک سال بعد خربوزے کا بیج مزکورہ بونے کا فیصلہ ہو گیا. فصل بونے کا موسم قریب آیا تو چوہدری نے ملازم خاص کو بیج لانے کے لئے شہر بھیجا. میراثی لاری پرطویل سفر کر کہ شہر پہنچا تو تھکاوٹ سے چور تھا. وہ شہر میں اپنے ایک عزیز کے گھر گیا تاکہ چند دن آرام کر کے سفر کی تھکاوٹ دور کرے اور بیج خرید کر واپسی کا قصد کرے. میراثی کو شہر میں مختلف عزیزوں اور دوستوں کے ہاں آرام کرتے اور ” بتیاں شتیاں” دیکھتے ایک سال کا عرصہ گزر گیا. آخر جب دوبارہ خربوزہ کاشت کرنے کا موسم آیا تو چوہدری کو میراثی کی یاد آئی. اس نے ایک اور نوکر کو شہر بھیجا کہ تاکہ میراثی کو ڈھونڈ کر لائے. دراصل چوہدری کو روایت سے ہٹ کر فصل بونے کی جلدی پڑ گئی تھی. نوکر نے بڑی مشکل سے میراثی کو شہر میں تلاش کیا اور چوہدری کا پیغام پہنچایا. میراثی جب بیج کی بوری جب کمر پر اُٹھائے گاؤں پہنچا تو بارش ہو رہی تھی. وہ حویلی کے گیٹ سے داخل ہوا تو اس کا پاؤں پھسلا اور وہ دھڑام سے بوری سمیت گر گیا. بوری پھٹ گئی اور سارا بیج نالی میں گر گیا. چوہدری نے آگے بڑھ کر میراثی کو اُٹھانا چاہا تو وہ کیچڑ میں لیٹے لیٹے ہاتھ کھڑا کر کے بولا "بس رہنے دیں چوہدری صاحب! آپ کی جلد بازیوں نے ہمیں مار ڈالا ہے. چوہدری پر گھڑوں پانی پڑگیا.
سبق: جلد بازی شیطان کا کام ہے چاہے وہ فصل بونے میں کی جائے یا ڈیم وغیرہ بنانے میں. دہشت گردی ختم کرنے کے سلسلے میں کی جائے یا لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی پر قابو پانے میں…

جولائی 27, 2011 at 06:41 تبصرہ کریں

گلدستہ احادیث

 

جولائی 21, 2011 at 07:52 تبصرہ کریں

ہم رمضان کیسے گزاریں؟؟ آؤ رمضان کی تیاری کریں…

اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تا کہ تم تقوٰی اختیار کرو. (سورۃ البقرہ)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ماہِ شعبان کی آخری تاریخ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے ہمیں ایک خطبہ دیا. اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:
” اے لوگو تم پر بڑے مرتبے والے مہینے نے سایہ ڈال دیا ہے. وہ بہت برکت والا مہینہ ہے. اس مہینے کی ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے”
"اللہ تعالٰی نے اس کے روزے فرض کر دئیے اور رات کے قیامِ تراویح کو نفل کیا ہے”
” جو اس مہینے میں کسی نیک عادت کے ساتھ اللہ تعالٰی کی نزدیکی تلاش کرے تو اس کو اس نفل کا اتنا ثواب ملتا ہے جتنا کہ دوسرے مہینے میں ستّر فرض ادا کرنے سے ملتا ہے”
” اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ غمخواری اور ہمدردی کا مہینہ ہے اور یہ ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کی روزی بڑھا دی جاتی ہے”
ترجمہ:
اور جس نے کسی کا روزہ افطار کرا دیا تو اس کے بدلے میں اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اس کی گردن آگ سے آزاد ہو جاتی ہے اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی آ جائے. ہم صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلّم ہم سب لوگ اتنی چیزیں نہیں پاتے کہ جس سے ہم روزہ دار کے روزے کو افطار کرا دیں. تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا اللہ تعالٰی اس کو بھی اتنا ہی ثواب دیتے ہیں جو کسی کا روزہ لسّی کے ایک گھونٹ یا ایک کھجور سے یا ایک گھونٹ پانی پلا کر کھلوا دے گا اور جو روزہ دار کو پیٹ بھر کے کھلا دے گا تو اللہ تعالٰی اسے حوض کوثر سے سیراب کرے گا جو کبھی بھی پیاسا نہ ہو گا یہاں تک کہ جنّت میں چلا جائے”
” اس مہینے میں اول رحمت ہے اور درمیان میں مغفرت و بخشش ہے اور آخر میں دوزخ سے آزادی ہے”
"جو اس مہینے میں اپنے غلام، نوکر سے کم کام لے گا اللہ تعالٰی اس کو بخش دے گا اور جہنم سے آزاد کر دے گا”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:
” جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے رعزے رکھے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے”
سورۃ البقرہ میں ارشاد ہوتا ہے:
” رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول دینے والی ہے’ لہٰزا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے’ اس کو لازم ہے کہ   اس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے. اللہ تمھارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے اور سختی کرنا نہیں چاہتا. اس لئے یہ طریقہ تمھیں بتایا جا رہا ہے تا کہ تم روزوں کی تعداد پوری کر سکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمھیں سرفراز کیا ہے اس پر کبریائی کا اظہارو اعتراف کرو اور شکر گزار بنو”
روزہ قیامت کے دن روزہ دار کی سفارش کرے گا:
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: "روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لئے سفارش کریں گے” روزہ کہے گا” اے میرے رب!میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور اپنی خواہشات(پوری کرنے) سے روکے رکھا لہٰزا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما” قرآن کہے گا” اے میرے رب!میں نے اس بندے کو رات (قیام کے لئے) سونے سے روکے رکھا لہٰزا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما” چنانچہ دونوں کی سفارش قبول ہو جائے گی.
غیبت کرنا، جھوٹ بولنا، گالی دینا، لڑائی جھگڑا کرنا روزے کی حالت میں بدرجہ اولٰی ناجائز ہیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: "جو شخص (روزہ رکھ کر) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کرے تو اللہ تعالٰی کو اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے”
روزہ میں کرنے کے کام
حقوق اللہ کی ادائیگی:
(عبات، روزہ، زکوٰۃ، ذکرودعا)
حقوق العباد کی ادائیگی:
(رشتہ داروں اور مسکینوں وغیرہ سے ہمدردی و غم خواری، صدقہ و خیرات، افطار کرانا، دوسروں کو اذیت نہ دینا)
اپنا جائزہ لیجئے (کیا کھویا، کیا پایا؟)
حقوق اللہ:
  • کیا میں نے رمضان المبارک کی آمد پر اللہ کا شکر ادا کیا؟
  • کیا میں نے روزہ بغیر بیماری یا عذر کے تو نہیں چھوڑا؟
  • کیا میں نے سحروافطار میں وقت کی پابندی کی؟
  • کیا میں نے فرض نمازوں کو وقت کی پابندی کے ساتھ ادا کیا؟
  • کیا میں نے قیام اللیل (نماز تراویح) کا اہتمام کیا؟
  • کیا میں نے تلاوت قرآن پاک اور اس کے معنی میں غورو فکر کیا؟
  • کیا میں نے ہر حال میں اللہ تعالٰی کا ذکر کیا؟
  • کیا میں نے قبولیت کے اوقات میں دُعائیں مانگیں؟
  • کیا میں نے آخری عشرے کی طاق راتوں میں خصوصی عبادت کا اہتمام کیا؟
  • کیا روزے کے مقصد تقوٰی کو پانے میں کامیابی حاصل ہوئی؟
حقوق العباد:
  • کیا میں نے کسی کا روزہ افطار کرایا؟
  • کیا میں نے دوسروں کی غمخواری اور ہمدردی کی؟
  • کیا میں نے اللہ کی رضا کے لئے اپنا مال خرچ کیا؟
  • کیا میں نے بیماروں کی تیمارداری کی؟
  • کیا میں نے گھر کے ملازمین کے کاموں میں کمی کی؟
  • کیا میں نے اپنے گھر والوں کے آرام کا خیال رکھا؟
  • کیا میں نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا چھوڑا؟
  • کیا میں نے غیبت، بد گمانی، تجسس اور عیب جوئی سے بچنے کی کوشش کی؟
  • کیا میں نے کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟
  • کیا میں نے جھگڑا چھوڑا؟
  • کیا میں نے مشکلات و مصائب پر صبر کیا؟
کیا میں نے روزے کے مقصد تقوٰی کو پانے میں کامیابی حاصل کی؟

جولائی 19, 2011 at 07:16 تبصرہ کریں

Older Posts Newer Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]