Posts filed under ‘Urdu Adab : اردو ادب’

سنہری باتیں

  • فکر کے درخت کو صبر کا پانی دیتے رہنا چاہیے تا کہ آنے والی نسلیں خوشحال زندگی بسر کریں.
  • زندگی گزارنے کا صحیح لطف اسی میں ہے کہ آپ کا دل محبت اور دماغ عقل سے بھرا ہو.
  • بلندی سے کھڑے ہو کر نیچے حقارت سے مت دیکھیں بلکہ یہ سوچیں کہ کبھی آپ بھی نیچے کھڑے تھے.
  • کسی پر کیچڑ مت اُچھالو اس سے دوسروں کے کپڑے خراب ہوں یا نہ ہوں مگر تمھارے ہاتھ ضرور خراب ہو جائیں گے.
  • جو چھوٹے ہاتھ سے دیتا ہے وہ لمبے ہاتھ سے پاتا ہے.
  • مانگو گے تو تمھیں دیا جائے گا، ڈھونڈو گے تو پاؤ گے.
  • علم ایسا بادل ہے جس سے رحمت ہی رحمت برستی ہے.
  • ظاہر پر نا جا، آگ دیکھنے میں سرخ لگتی ہے پر اس کا جلایا ہوا سیاہ ہو جاتا ہے.
  • مشاہدے سے آپ بہت کچھ جان سکتے ہیں مگر سیکھتے تجربے سے ہی ہیں.
  • سکھ خوشی کا نام نہیں، غم اور خوشی دونوں سے بے نیاز ہونے کا نام ہے.
  • کہنے والا یقین سے محروم ہو تو سننے والا تاثیر سے محروم رہتا ہے.
  • موت کو یاد رکھنا نفس کی تمام بیماریوں کی دوا ہے.
  • علم کی طلب میں شرم مناسب نہیں، جہالت شرم سے بد تر ہے.

اگست 17, 2011 at 12:09 تبصرہ کریں

میں محض ایک باورچی ہوں! (ایک باورچی کی آپ بیتی)

میرے قریبی دوست اور رشتہ دار جانتے ہیں کہ میں ایک اچھا باورچی ہوں لیکن میں نے کبھی اس بات پر غرور نہیں کیا۔ میں خود کو شیف بھی کہہ سکتا تھا کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ ماڈرن لفظ زیادہ معزز لگتا ہے لیکن سچ بات ہے شیف کے لفظ میں مجھے ایک خاص قسم کی چالاکی اور پیشہ ورانہ تفاخر محسوس ہوتا ہے۔ اس لئے میں دیسی لفظ باورچی کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔ ہمارے اسی معاشرے میں جب دولت کی ریل پیل نہیں ہوئی تھی اور دولت چند ہاتھوں میں جمع نہیں ہوئی تھی تو خاندانی باورچی شادی بیاہ کے موقع پر بلائے جاتے تھے۔ یہ لاکھوں روپے کی کیٹرنگ نہیں ہوتی تھی نہ ہی یہ اسٹیٹس سمبل بنا تھا کہ شادیوں پر چار چار دن انواع و اقسام کے کھانوں کے سلسلے چلتے رہیں۔
خاندانی باورچی ہر شادی کے موقع پر مرکزی کردار ہوتا تھا. بڑے وقار سے بلایا جاتا تھا اور اسے کرسی دی جاتی تھی۔ پھر وہ صاحب تقریب سے مذاکرات کرتا تھا اور ہر قسم کے بجٹ کے مطابق دیانتداری سے صحیح مشورہ دیتا تھا۔ مجھے یاد ہے میرے ایک دوست کی بہن کی شادی میں دولہا والے بغیر بتائے زیادہ تعداد میں باراتی لے کر آ گئے۔ میرا دوست بہت پریشان ہوا اور اس نے خاندانی باورچی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ خاندانی باورچی نے کہا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس موقع پر میرے پاس صدری نسخہ موجود ہے جو سینہ بہ سینہ چلا آرہا ہے وہ یہ ہے کہ میں پلاؤ اور قورمے کی دیگوں میں ہلکا ہلکا روح کیوڑا ڈال دوں گا جس سے ذائقے میں فرق نہیں پڑے گا لیکن لوگ زیادہ کھا نہیں سکیں گے ۔چنانچہ یہ نسخہ کارگر ثابت ہوا اور کھانا پورا ہو گیا۔
یہ خاندانی باورچی اپنے کلائنٹ کا بہت خیال رکھتے تھے۔ وہ اپنے کلائنٹ کو پہلے تو ایک کاغذ پر کھانے میں استعمال ہونے والے مصالحہ جات اور گوشت وغیرہ کی مقدار لکھواتے تھے اور پھر تقریب کے موقع پر جب دیگیں چڑھتی تھیں، خوشبوئیں اڑتی تھیں اور ٹھن ٹھن کی آوازیں شادی کے گھر پہنچتی تھیں تو کئی محلوں تک خبر جاتی تھی کہ کس کے گھر شادی ہے۔ آج تو یہ سب رسمیں ختم ہو چکی ہیں کہیں کسی نامعلوم جگہ سے دیگچوں میں کھانا پک اَپ میں لایا جاتا ہے اور انڈیل دیا جاتا ہے۔ ایک بات میں بھول گیا کہ دیگیں تیار ہونے کے بعد گھر کا سخت گیر تجربہ کار بزرگ کرسی ڈال کے دیگوں کے پاس بیٹھ کر کھانا کھلنے کا انتظار کرتا تھا اور جب آواز آتی کہ کھانا لگا دیں تو وہ اپنی نگرانی میں دیگوں سے کھانا نکلواتا تھا اور سب کچھ اس کی ہدایت کے مطابق ہوتا تھا کہ کب ہاتھ روک دیں کب کون سا آئٹم زیادہ کر دیں اور کس کو کم کردیں۔ یہ تجربہ اس بزرگ نے صدیوں کے ریاض سے پایا ہوتا تھا۔ جب وہ خوش اسلوبی سے کھانا”ورتا” لیتا تھا تو براتیوں سے حسب ذوق داد وصول کرتا تھا اور اگلی شادی کے موقع تک گوشہ گمنامی میں چلا جاتا تھا جیسے وہ خاندانی باورچی غائب ہوئے ہیں، ویسے ہمارے معاشرے سے یہ بزرگ بھی رخصت ہو گئے ہیں۔
سو میں کہہ رہا تھا کہ میں ایک باورچی ہوں اور تاریخ میں باورچیوں کا رتبہ بہت بلند رہا ہے۔ بادشاہوں کے شاہی مطبخ میں دنیا سے چن چن کے باورچی لائے جاتے تھے۔ یہ اصل نسل کے باورچی ایسا کھانا بناتے تھے کہ بادشاہ دسترخوانوں پر جنگیں جیت لیا کرتے تھے۔ یہ شاہی باورچی نہ چھٹی لے سکتے تھے نہ کہیں جا سکتے تھے کیونکہ اس صورت میں انہیں بادشاہ کے غیض و غضب کا نشانہ بنتے ہوئے ہاتھ کٹوانے پڑتے تھے۔ ان شاہی باورچیوں نے جو کھانے اختراع کئے اور انہیں جو نام دیئے آج ہمارے کوکنگ چینلوں پر خوبصورت یونیفارم میں شیف حضرات انہی پکوانوں کو تیار کرنے کا سوانگ رچاتے ہیں اور ہمیں بے وقوف بناتے ہیں لیکن سچی بات ہے کہ اگر کسی چینل نے میری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا لیا تو میں ایسی کوئی ڈش نہیں بناؤں گا جس سے غریبوں کے گھروں میں ٹھنڈے پڑے ہوئے چولہوں اور ان کی محدود آمدنی کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں ترساؤں۔ اس لئے مجھے امید ہے کہ مجھے کوئی چینل موقع نہیں دے گا۔
میں نے باورچی بننے کا فیصلہ کیوں کیا ہے اس کی بے شمار وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس وقت سب سے زیادہ نفع بخش کاروبار ہی یہی ہے دوسرا یہ کہ ہمارے معاشرے میں ایک نئے رول ماڈل نے کامیابی سے جگہ پائی ہے، وہ باورچی یا شیف ہے۔ اگرچہ امریکہ اور مغربی ممالک میں یہ رول ماڈل بہت پہلے سے موجود ہے لیکن ہمارے ہاں اسے اب موقع ملا ہے۔
تو صاحبوں! اب میرے باورچی بننے کی خواہش آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی۔ اصل میں بات یہ ہے کہ میں اینکر پرسن بننا چاہتا تھا کہ شام آٹھ بجے اپنا دفتر لگا کے بیٹھ جاؤں اور حکومت وقت کو ناکوں چنے چبوا دوں لیکن کسی بھی چینل نے میری سیاسی بصیرت پر بھروسہ نہیں کیا۔ اس پر طرہ یہ کہ اینکر پرسن اب کسی کامیڈین کو ساتھ بٹھا کر شو کرتے ہیں۔ میں کہاں سے یہ ٹیلنٹ لاتا اس لئے میں نے اپنے ارمانوں پر اوس ڈال دی اور دیسی باورچی بننے کی فرمائش کر دی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فوڈ چینل جو ڈشیں اور تراکیب سکھاتے ہیں وہ مجھے نہیں آتیں۔ مجھے تو میری ماں اور بیوی نے جو سالن بنانے سکھائے ہیں میں تو وہی سکھا سکتا ہوں اور یہ وہ ڈشیں ہیں جو کسی بھی معمولی آمدنی یا محدود آمدنی والے گھر میں تیار کی جاسکتی ہیں۔ ان ڈشوں کو آسان نہ سمجھیں یہ سب سے مشکل ہوتی ہیں جو سکھائی جاتی ہیں وہ آسان ہوتی ہیں۔
میری سب سے مہنگی ڈش کریلے گوشت ہے جو مجھے میری ماں، میری بیوی اور استاد دامن نے سکھائی تھی۔ تینوں کی ترکیب ایک جیسی تھی مثلاً یہ کہ کریلے گوشت میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ بکرے کے گوشت کا کون سا حصہ آپ استعمال کر رہے ہیں۔ خیر اس کے بعد میری ڈشیں آسان ہیں۔ بگھارے بینگن، کڑھی، ماش کی دال، دال چاول، بھنڈی، توری، چکڑ چھولے، انڈہ چنے، خاگینہ، بینگن کا بھرتہ، آلو انڈا، آلو کی ٹکیاں وغیرہ وغیرہ۔ میری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ میری اس صلاحیت کو کوئی فوڈ چینل افورڈ نہیں کر سکتا۔
اب میں آپ کو اصل بات بتاؤں کہ میں دنیا کے دو بڑے شیفوں کو اپنا رول ماڈل سمجھتا ہوں۔ ایک سنجیو کپور ہیں جو زندہ ہیں۔ وہ اتنی میٹھی آواز میں لفظ ’بڑھیا‘ استعمال کرتے ہیں کہ انتظار حسین کو مات کر جاتے ہیں وہ ہر کھانا بناتے ہوئے کہتے ہیں "یہ مرچ بہت بڑھیا ہے اسے ناریل میں ملا دیں بڑھیا قسم کی ساؤتھ انڈین ڈش بن جائے گی”۔ میرے دوسرے بڑے رول ماڈل انگلینڈ کے آنجہانی کیتھ فلائیڈ ہیں جن کا گزشتہ برس زیادہ شراب پینے کی وجہ سے انتقال ہوگیا ہے۔ Keath Floyed میرے حساب سے اس فوڈ چینل انڈسٹری کے باوا آدم تھے۔ وہ دنیا کے ہر خطے میں اپنے جہاز سے اپنے عملے کے ساتھ سفر کرتے تھے اور دنیا کا ہر کھانا وہاں کی روایت کے مطابق بناتے تھے۔ انہوں نے افریقہ میں کئی خوبصورت جگہوں پر غریب افریقی بچوں کے ساتھ شتر مرغ کی ڈش بنائی۔ چین میں سانپ کی ڈش بنائی۔ عرب ملکوں میں دنبے کے ذبح ہونے کے بعد میزبان کے ساتھ اسے سیخ پر چڑھایا۔ ہر بار اس نے اپنا ڈرنک نہیں چھوڑا اور وہ اسی ڈرنک کی نذر ہو گیا۔ میں اس پر رشک اس لئے کرتا ہوں کہ وہ ایسا باورچی تھا جو کھانا بنانے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی تفریح سمجھتا تھا۔ ڈرنک کو چھوڑ کر میں بھی کھانا بنانے کو اپنی تفریح سمجھتا ہوں۔ اگرچہ مجھے کوئی چینل قبول نہیں کرے گا کیونکہ میں ایسا فوڈ بناؤں گا جو غریب کا ہو گا اور ساحر لدھیانوی کی طرح میں بھی کہوں گا بڑے بڑے شیف حضرات سے:
اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

مارچ 16, 2011 at 07:21 تبصرہ کریں

مرزا اسد اللہ خان غالب کی شاعری

مارچ 14, 2011 at 07:48 تبصرہ کریں

ایک گونگا تین بہرے

ایک بہرا جنگل میں بکریاں چرا رہا تھا اسے سخت بھوک لگ رہی تھی، مگر اس کی بیوی اب تک کھانا لے کر نہیں آئی تھی اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا آدمی بیٹھا گھاس کاٹ رہا تھا وہ شخص بھی بہرا تھا پہلے بہرے شخص نے کہا بھائی، میری بیوی میرے لیے کھانا نہیں لائی مجھے بھوک لگ رہی ہے، آپ میری بکریوں کی حفاظت کریں میں جب تک گھر سے کھانا کھا آتا ہوں۔
دوسرا بہرا سمجھا کہ یہ مجھے اپنی بکریوں کے لیے گھاس مانگ رہا ہے اس نے کہا، نہیں میں گھاس نہیں دوں گا۔
پہلا بولا۔ میں بہت جلد واپس آجاؤں گا، تم فکر نہ کرو۔
دوسرا بولا، یہ گھاس میں نے اپنی بکریوں کے لیے کاٹی ہے۔ میں یہ گھاس تمہیں نہیں دوں گا۔
پہلا سمجھا کہ دوسرا کہہ رہا ہے، تم جاؤ، وہ چلا گیا، جب وہ کھانا کھا کر واپس آیا تو اس نے اپنی بکریں دیکھیں جو پوری تھیں اور وہ آدمی بدستور گھاس کاٹ رہا تھا۔ اس نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر یہ چاہتا تو میری ساری بکریاں لے جاتا  مگر شریف آدمی لگتا ہے کیوں نہ میں اسے اپنی لنگڑی بکری تحفے میں دے دوں۔ وہ اپنی لنگڑی بکرے لے کر اس آدمی کے پاس گیا اور کہا، تم نے میری بکریوں کی حفاظت کی ہے اس لیے میں یہ بکری تمہیں تحفے میں دیتا ہوں لیکن یہ بکری لنگڑی ہے۔
دوسرے بہرے نے کہا۔ میں نے اس بکری کی ٹانگ نہیں توڑی۔
پہلا بولا۔ میں یہ بکری تمہیں خوشی سے دے رہا ہوں لے لو۔
دوسرا بہرا بولا۔میں نے تمہاری بکری کی ٹانگ نہیں توڑی۔ اسی دوران سامنے سے ایک شخص آتا دکھائی دیا وہ شخص بھی بہرا تھا دونوں بہروں نے اسے روکا، تیسرا بہرا شخص گھوڑے سے اتر آیا۔
پہلے بہرے نے کہا۔ میں اسے یہ بکرے دے رہا ہوں مگر یہ نہیں لے رہا ہے۔
دوسرا بہرا بولا۔ اس بکری کی ٹانگ میں نے نہیں توڑی۔
تیسرا شخص بولا۔ ہاں تم دونوں ٹھیک کہہ رہے ہو، یہ گھوڑا میں نے چوری کیا ہے میں یہ تمہیں واپس دیتا ہوں مجھے معاف کردو۔ انہوں نے سامنے سے ایک لمبی سفید داڑھی والے بوڑھے کو آتے دیکھا تو تینوں اس کے پاس گئے۔
پہلا بولا۔ باباجی، میں کھانا کھانے گیا اس نے میری بکریوں کی حفاظت کی، اس لیے میں اسے اپنی ایک بکرے دے رہا ہوں مگر یہ نہیں لے رہا ہے۔
دوسرا بہرا بولا۔ میں نے اس سے کہہ دیا کہ میں نے بکری کی ٹانگ نہیں توڑی مگر یہ مانتا ہی نہیں۔
تیسرا بہرا بولا۔ میں مانتا ہوں کہ میں نے چوری کی ہے اور یہ گھوڑا تمہارا ہے لیکن آپ لوگ مجھے معاف کردیں میں آئندہ چوری نہیں کروں گا۔ بوڑھا شخص تینوں کو غور سے دیکھنے لگا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، انہیں گھور کر دیکھنے لگا، وہ سمجھے یہ کوئی جادوگر ہے، جو ان پر جادو کرنا چاہتا ہے، وہ تینوں اپنی اپنی چیزیں لے کر بھاگ گئے۔

مارچ 11, 2011 at 06:46 تبصرہ کریں

عقل مند گدھا

جنگل کے بادشاہ ببر شیر نے چشمے کے کنارے والی چٹان کے نیچے گھنی جھاڑیوں سے جھانک کر دور تک پھیلے دھان کے لہلہاتے کھیت پر نظر ڈالی، بہت دور ایک درخت کے نیچے کوئی چیز ہلتی ہوئی نظر آرہی تھی، شہر نے پنجوں سے آنکھیں ملتے ہوئے دوبارہ اس طرف دیکھا، یقینا وہ کالا ہرن تھا، شیر رات سے بھوکا تھا۔ کالے ہرن کے لذیز گوشت کے تصور ہی سے اس کے منہ میں پانی آگیا اور ایک ماہر شکاری کی مانند جھاڑیوں کی آڑ لیتے ہوئے اس نے ہرن کی طرف قدم بڑھائے….
دوسری طرف بانسوں کے جھنڈ میں ایک چیتا بھی ہرن پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ بھوک سے اس کے پیٹ میں بھی چوہے دوڑ رہے تھے۔ چیتے نے بھی ہرن کی طرف بڑھنا شروع کیا۔
ہرن دونوں طرف سے بڑھتے ہوئے خطروں سے بے خبر نرم نرم گھاس کھانے میں مشغول تھا. کبھی کبھی وہ اپنی بادام جیسی آنکھیں گھما کر ادھر ادھر دیکھتا اور پھر گھاس کھانے لگتا۔ جانور خطرے کی بو سونگھ لیتے ہیں۔ ہرن کی بے چین آنکھی ظاہر کر رہی تھیں کہ اس نے خطرے کی بو سونگھ لی ہے۔ اس نے کان کھڑے کر کے گردن گھما کر چشمے کی طرف دیکھا جہاں میدان میں دو ریچھ کے بچے کھیل رہے تھے، ابھی ہرن پہاڑ کی طرف رخ کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ مشرق اور جنوب سے شیر اور چیتے نے جھاڑیوں سے چھلانگیں لگائیں اور دونوں تیر کی طرح ہرن کی طرف لپکے، ہرن لمبی لمبی قلانچیں مارتا ہوا پہاڑوں کی طرف بھاگا۔
شیر اور چیتے کی رفتار کے مقابلے میں ہرن کی رفتار کم تھی، لیکن وہ اپنے ہلکے اور سڈول جسم کی وجہ سے ان دونوں کو غچہ دیتے ہوئے بھاگ رہا تھا، اس بھاگ دوڑ میں ان تینوں نے میلوں کا فاصلہ طے کر لیا، آخر کار ہرن ایک چٹان پر چڑھ گیا، جو اتنی اونچی تھی کہ اس پر شیر اور چیتا نہیں چڑھ سکتے تھے، شیر اور چیتا چٹان کے نیچے زبانیں نکالے ہانپ رہے تھے اور ہرن کو للچائی نظروں سے دیکھ رہے تھے، جب سانسیں درست ہوئیں تو شیر نے کہا۔ ”یہ میرا شکار ہے پہلے میں نے تاکا تھا“۔
چیتے نے غصے سے جواب دیا۔ ”آپ جنگل کے بادشاہ ضرور ہیں لیکن یہ جنگل ہے انسانوں کی دنیا نہیں کہ بادشاہ جو چاہے کرے، جانور اپنے حقوق کی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں۔ یہ میرا شکار ہے“۔
شیر دہاڑا: ”انسان ہو یا جانور‘ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہر جگہ چلتا ہے میں تم سے زیادہ طاقتور ہوں“۔
شیر اور چیتے کی تکرار سن کر ہرن نے اطمینان کا سانس لیا اور کہا ”میرے محترم بادشاہ ہو! یہ میری خوش نصیبی ہوگی کہ میں آپ جیسے شاہی خاندار کے افراد کی غذا بنوں، لیکن پہلے آاپ دونوں طے کر لیں کہ آپ میں سے کون میرا لذیذ گوشت نوش فرمائے گا“۔
شیر اور چیتا دوبارہ تکرار کرنے لگے، اسی دوران ادھر سے ایک گدھے کا گزر ہوا تو ہرن نے جھٹ سے مشورہ دیا ”میرے خیال سے آپ دونوں اس سلسلے میں گدھے صاحب سے مشورہ لے لیں، کیوں کہ مشورہ دینے کے لیے عقلمند ہونا ضروری نہیں“۔
شیر نے کہا ”چلو مجھے منظور ہے، وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے“۔
چیتے نے گدھے کو حکم دیا ”گدھے کے بچے! ادھر آﺅ….“
گدھا پہلے تو ڈرا کہ کہیں یہ دونوں اسے ہی ہڑپ نہ کر لیں، پھر ڈرتے ڈرتے دانت نکالتا ہوا ان کے قریب آیا اور جب اس نے پورا قصہ سنا تو خوشی سے مشورہ دیا ”ہاں تو شیر صاحب آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ نے ہرن پر پہلے نظرِ بد ڈالی جب کہ چیتے صاحب کا دعویٰ ہے کہ ہرن کو دیکھ کر پہلے ان کی رال ٹپکی، کیوں کہ یہاں کوئی گواہ نہیں ہے اس لیے میرا مشورہ ہے کہ آپ دونوں اپنی اپنی جگہ تشریف لے جائیں اور جب میں رینکنا شروع کروں تو آپ دونوں دوڑنا شروع کر دیں جو بھی پہلے یہاں پہنچ جائے گا وہی ہرن میاں کو نوش فرمانے کا حق دار ہو گا“۔
شیر اور چیتا بھوک سے بے تاب تھے، لیکن دونوں کو اپنی تیز رفتاری پر ناز تھا اس لیے انہوں نے گدھے کی تجویز مان لی اور یہ طے ہوا کہ دونوں اپنی اپنی جگہ لوٹ جائیں گے اور اس دوران ہرن صاحب چٹان سے اتر کر نہا دھو کر ان میں سے ایک کی خوراک بننے کے لیے میدان میں کھڑے ہو جائیں گے اور جیسے ہی گدھے صاحب اپنی بے سری آواز میں رینکنا شروع کردیں گے، دوڑ شروع ہوجائے گی۔
شیر اور چیتا اپنی اپنی جگہ واپس چلے گئے، جب کافی دیر تک گدھے کے رینکنے کی آواز نہ آئی تو دونوں کا ماتھا ٹھنکا، پہلے تو انہوں نے ایک دوسرے کو گھورا، پھر چٹان کی طرف دوڑنا شروع کیا، جب وہ چٹان کے نزدیک پہنچے تو دیکھا وہاں چاروں طرف ویرانی اور سناٹا تھا۔ ہرن کا کہیں پتا نہ تھا اور گدھے کے سر سے سینگ ہی نہیں پورا گدھا غائب تھا۔
شیر نے غصہ سے چیخ کر کہا۔ ”اس گدھے کے بچے نے ہمیں دھوکا دیا“۔
چیتے نے سر جھکا کر افسوس سے کہا۔ ”شیر صاحب! گدھا وہ نہیں ہم دونوں ہیں“۔

مارچ 7, 2011 at 07:20 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad Poetry
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے”
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad Poetry