Posts filed under ‘Pakistani Saint Poets : پاکستان کے صوفی شعرا’

اُردو شاعر: حسرت موہانی

آپ کا نام سیّد فضل الحسن اور تخلص حسرت موہانی تھا. آپ کے نام کے ساتھ موہانی اس لئے لگتا ہے کیونکہ آپ قصبہ موہان ضلع انائو میں پیدا ہوئے. آپ کی پیدائش 1875ء میں ہوئی. حسرت موہانی کے والد کا نام سیّد اظہر حسین تھا. آپ نے ابندائی تعلیم اپنے گھر پر ہی حاصل کی تھی. بی-اے کا امتحان 1903ء میں علی گڑھ سے پاس کیا.  آپ شاعر اس لئے بنے کہ شروع ہی سے آپ کو شاعری سے خاس لگاؤ تھا. آپ اپنا کلام تسنیم لکھنوی کو دکھانے لگے. 1903ء میں آپ نے علی گڑھ ایک رسالہ "اردوئے معلی” کے عنوان سے جاری کیا. اسی دوران آپ نے شعرائے متقدمین کے دیوانوں کا انتخاب کرنا شروع کر دیا. سودیشی تحریکوں میں بھی حصّہ لیتے رہے چنانچہ علامہ شبلی نے ایک مرتبہ کہا تھا”تم آدمی ہو یا جن، پہلے شاعر تھے، پھر سیاستدان بنے اور اب بنئے بن گئے ہو.”
حستر معہانی پہلے کانگریسی تھے. تب گورنمنٹ کانگرس کے خلاف تھی چنانچہ 1907ء میں آپ نے ایک مضمون شائع کیا جس کی وجہ سے آپ کو جیل بھیج دیا گیا. اس کے بعد 1947ء تک آپ کا جیل میں آنا جانا لگا رہا کبھی قید اور کبھی رہا… اسی قیدی اور رہائی کو دور میں آپ کی مالی حالت تباہ ہو گئی تھی اور رسالہ بھی بند ہو چکا تھا. حسرت موہانی نے ان سب مشکلات کا بہت خندہ پیشانی سے سامنا کیا اور مشق سخن کو ترک نہ کیا
حسرت موہانی کی سادہ زندگی 1951ء میں ختم ہوئی اور آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے.
Advertisements

جون 10, 2011 at 08:10 تبصرہ چھوڑیں

نوشی گیلانی

نوشی گیلانی 1964 میں بہاولپور میں پیدا ہوئی. نوشی گیلانی اردو شاعرہ ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی. آپ پاکستان کے بہترین اردو شاعروں میں سے ایک ہیں. نوشی گیلانی نے بڑی کامیابی کے ساتھ شاعری کے پانچ مجموعے شائع کیے ہیں. ان کی اردو شاعری جو پاکستان میں شائع کی گئی ان میں درج ذیل شامل ہیں:

  • محبتیں جب شمار کرنا (1973)
  • اُداس ہونے کے دن نہیں (1977)
  • پہلا لفظ محبّت لکھا (2003)
  • اے میرے شریکِ رسالِ جان
  • ہم تیرا انتظار کرتے رہے

ان کی شاعری کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا اور ان کی شاعری برطانیہ میں بھی پڑھی گئی. انہوں نے لوک گلوکار "پٹھانے خان” کو خراج تحسین پیش کیا.

نوشی گیلانی 1995 میں سان فرانسسکو میں قیام پذیر ہوئی لیکن سعید خان سے شادی کے بعد انہوں نے آسٹریلیا جانے کا فیصلہ کیا. انہوں نے 25 اکتوبر 2008 میں سعید خان سے شادی کی جو کہ آسٹریلیا کے رہنے والے اُردو شاعر ہیں اور حال میں وہ سڈنی-آسٹیلیا میں رہ رہے ہیں.

وہ نوجوان خواتین اُردو شاعروں کی اہم رکن ہیں. آپ نے شاعری کے میدان میں بہت اعلٰی کام کیا ہے اور ان کی شاعری نوجوان طبقے میں بہت پسند کی جاتی ہے.

مئی 10, 2011 at 05:54 تبصرہ چھوڑیں

محسن نقوی

سیّد محسن نقوی پاکستان کے عظیم اردو شاعر تھے.محسن نقوی کا اصل نام غلام عباس تھا. آپ اہل تشیع کے مشہور خطیب تھے. ان کی موت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا قتل ہوا تھا. ان کی وفات 15 جنوری 1996 کو ہوئی. سیّد محسن نقسی ڈیرہ غازی خان کے نزدیک ایک گاؤں میں پیدا ہوئے.
انہوں نے گریجوئیشن تک کی تعلین ملتان کے ایک  سرکاری کالج بوسن سے  حاصل کی. آپ نے ایم-اے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیا. اسی دوران آپ کا پہلا مجموعہ کلام چھپا. اس کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے، وہیں آپ ایک دہشت گرد کے ہاتھوں شہید ہوئے. اب تک ان کے کئی مجموعہ کلام چھپ چکے ہیں جن میں سے کچھ کے نام یہاں شامل کئے گئے ہیں:
  • بندِ قبا
  • بزرگِ صحرا
  • ریزہ حرف
  • عذاب دید
  • طلوعِ اشک
  • رختِ شب
  • خیمہ جاں
  • موجِ ادراک
  • فرات فکر
محسن نقوی اہلِ بیت کے شاعر کے طور پر بھی جانے جاتے تھے. انہوں نے کربلا پر جو شاعری لکھی وہ دنیا بھر میں پڑھی اور پسند کی جاتی ہے. انہوں نے اپنی شاعری نہ صرف الف-لیلٰی کے موضوع تک محدود رکھی بلکہ انہوں نے دینا کے حکمرانوں کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا جنہیں اپنے لوگوں کی کوئی فکر نہ تھی.
گو کہ محسن نقوی نے شاعری کے میدان میں بہت شہرت حاصل کی لیکن یہاں انکی شاعری میں سے ایک ہی غزل پیش کی جائے گی:
میں دل پر جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو؟
میں تیرے شہر کے سارے دئیے بجھا دوں گا
ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں
ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا
وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے
پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا
اسی خیال میں گزری ہے شامِ درد اکثر
کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا
تو آسمان کی صورت ہے، گر پڑے گا کبھی
زمین ہوں میں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا
بڑھا رہی ہیں میرے دکھ، تیری نشانیاں
میں تیرے خط، تری تصویر تک جلا دوں گا
بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسن
اس آئینے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا

اپریل 21, 2011 at 07:18 تبصرہ چھوڑیں

میاں محمد بخش (1824-1907)

میاں محمد بخش پنجاب میں عربی ، فارسی روایت کے آخری معروف ترین صوفی شاعر تھے۔ آپ کی ولادت 1824ء میں میرپور کے علاقہ کھڑی شریف میں ہوئی۔ آپ نے اس علاقے کی مشہور دینی درسگاہ سمر شریف میں تعلیم حاصل کی ۔ حافظ غلام حسین سے علم حدیث پڑھا۔ حافظ ناصر سے دینی علوم کے علاوہ شعر و ادب کے رموز سے بھی آشنائی حاصل کی۔ جلد ہی عربی اور فارسی زبانوں میں عبور حاصل کر لیا۔ اس کے بعد پنجاب بھر کا سفر کیا اور علماء اور مشائخ سے ملاقاتیں کیں ۔واپس آکر ضلع میرپور ہی میں سائیں غلام محمد کے مرید ہوئے۔ آپ کی دانست میں مرشد کامل کا اہم وصف محض صاحب کرامات ہونا ہی نہیں، بلکہ حسن واخلاق کی بلندی کو چھونا بھی ہے۔

میاں محمد بخش حاکمانِ وقت سے دور دور رہتے تھے۔ اکابرین کی سیرت نے آپ کی زندگی میں روحانی انقلاب برپا کر دیا تھا۔ آپ موسیقی کے دقیق رموز پر بھی ماہرانہ نظر رکھتے تھے۔ اسی لئے آپ کی شاعری میں موسیقیت بدرجہ اتم رچی ہوئی ہے۔ آپ نے متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ آپ نے جس عہد میں آنکھ کھولی، وہ بڑا پر آشوب دور تھا۔ 1857ء کی جنگ آزادی، انگریزوں کا کشمیر کو سکھ مہاراجہ کے حوالے کرنا ، سکھوں کے پنجاب بھر میں مظالم انہی کے دور میں ہوئے۔

آپ کی شاعری ، فکر اور مطالعے کے ڈانڈے قرآن و حدیث، فارسی شعراء عطار ، رومی ، جامی کے علاوہ منصور حلاج اور خواجہ حافظ سے لے کر پنجابی شعراء تک پھیلے ہوئے ہیں۔ آپ نے اپنی شاعری میں تصوف ہندی اور ایرانی روایت کو جذب کر کے ذاتی اور اجتماعی سوز و گداز کے فیضان سے فکر انگیز اور دلکش پیرائے میں ڈھالا ہے۔ ابن عربی اور مولانا روم کی صوفیانہ روایت ، پنجابی شاعری کی روایت کے اثر سے دو آتشہ ہوگئی ہے۔ آپ کی تخلیق کردہ مشہور داستان ”سفر عشق“ جو کہ قصہ سیف الملوک کے نام سے معروف ہے آپ ہی کے افکار و تخیلات کا پر تو نظر آتی ہے۔ آپ کی شاعری کی تین خصوصیات ہیں، سوزوگداز، پندونصائح کے شائبے کے بغیر لطیف پیرا یہٴ اظہار اورتمثیلی انداز۔

ابن عربی کے فلسفہ وحدت الوجود کی آپ ایسی تعبیر کے حامی ہیں، جو ذرّے ذرّے میں جمالِ حقیقی سے روشناس کرواتی ہے۔ انسان کو تعصبات اور فخر وغرور سے بچاتی ہے۔ اسی رویے نے آپ کی شاعری میں گہرائی اور گیرائی پیدا کی ہے اور فکر کو وسیع اور ہمہ گیر بتایا ہے۔ آپ نے خارجی احوال و کوائف کی ترجمانی کے علاوہ من کی دنیا کی سیاحت بھی کی ہے۔

خارجی اور داخلی زندگی آپ کی شاعری میں الگ الگ نہیں بلکہ باہم مربوط نظر آتی ہیں۔ آپ کے مطابق جیتے جی مرجانا اور مر کر بھی جیتے رہنا ہی فقر ہے۔ آپ اپنی شاعری میں عمل پر بہت زور دیتے ہیں، کیونکہ عمل کے بغیر کوئی بھی کام پورا نہیں ہوتا۔ آپ کی تصنیف ”قصہ سیف الملوک “ کی ساری کی ساری فضا عمل پر ہی قائم کی گئی ہے۔

میاں محمد بخش کا انتقال 1907ء میں ہوا ۔

اکتوبر 11, 2010 at 08:17 تبصرہ چھوڑیں

حضرت بابا بلھے شاہ (1680-1758)

حضرت بابا بلھے شاہ مغلیہ سلطنت کے عالمگیری عہد کی روح کے خلاف رد عمل کا نمایاں ترین مظہر ہیں۔ آپ کا تعلق صوفیاء کے قادریہ مکتبہ فکر سے تھا۔ آپ کی ذہنی نشوونما میں قادریہ کے علاوہ شطاریہ فکر نے بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اسی لئے آپ کی شاعری کے باغیانہ فکر کی بعض بنیادی خصوصیات شطاریوں سے مستعار ہیں۔ ایک بزرگ شیخ عنایت اللہ قصوری، محمد علی رضا شطاری کے مرید تھے۔ صوفیانہ مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور قادریہ سلسلے سے بھی بیعت تھے اس لئے آپ کی ذات میں یہ دونوں سلسلے مل کر ایک نئی ترکیب کا موجب بنے۔ بلھے شاہ انہی شاہ عنایت کے مرید تھے۔ بلھے شاہ کا اصل نام عبد اللہ شاہ تھا۔ 1680ء میں مغلیہ راج کے عروج میں اوچ گیلانیاں میں پیدا ہو ئے۔ کچھ عرصہ یہاں رہنے کے بعد قصور کے قریب پانڈو میں منتقل ہو گئے۔

ابتدائی تعلیم یہیں حاصل کی۔ قرآن ناظرہ کے علاوہ گلستان بوستان بھی پڑھی اور منطق ، نحو، معانی، کنز قدوری ،شرح وقایہ ، سبقاء اور بحراطبواة بھی پڑھا۔ شطاریہ خیالات سے بھی مستفید ہوئے۔ مرشد کی حیثیت سے شاہ عنایت کے ساتھ آپ کا جنون آمیز رشتہ آپ کی مابعد الطبیعات سے پیدا ہوا تھا۔ وہ آپ کے وحدت الو جودی تھے، اس لئے ہر شے کو مظہر خدا جانتے تھے۔ مرشد کے لئے انسان کامل کا درجہ رکھتے تھے۔ مصلحت اندیشی اور مطابقت پذیری کبھی بھی ان کی ذات کا حصہ نہ بن سکی۔ ظاہر پسندی پر تنقید و طنز ہمہ وقت آپ کی شاعری کا پسندیدہ جزو رہی۔ آپ کی شاعری میں شرع اور عشق ہمیشہ متصادم نظر آتے ہیں اور آپ کی ہمدردیاں ہمیشہ عشق کے ساتھ ہوتی ہیں۔ آپ کے کام میں عشق ایک ایسی زبردست قوت بن کر سامنے آتا ہے جس کے آگے شرع بند نہیں باندھ سکتی ۔

اپنی شاعری میں آپ  مذہبی ضابطوں پر ہی تنقید نہیں کرتے بلکہ ترکِ دنیا کی مذمت بھی کرتے ہیں اور محض علم کے جمع کرنے کو وبالِ جان قرار دیتے ہیں۔ علم کی مخالفت اصل میں” علم بغیر عمل“ کی مخالفت ہے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ بلھے شاہ کی شاعری عالمگیری عقیدہ پرستی کے خلاف رد عمل ہے۔ آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ چونکہ لاقانونیت، خانہ جنگی، انتشار اور افغان طالع آزماؤں کی وحشیانہ مہموں میں بسر ہوا تھا، اس لئے اس کا گہرا اثر آپ کے افکار پر بھی پڑا۔ آپ کی شاعری میں صلح کل، انسان دوستی، اور عالم گیر محبت کا جو درس ملتا ہے ،وہ اسی معروضی صورت حال کے خلاف رد عمل ہے۔بلھے شاہ کا انتقال 1757ء میں قصور میں ہوا اور یہیں دفن ہوئے۔ آپ کے مزار پر آج تک عقیدت مند ہر سال آپ کی صوفیانہ شاعری کی عظمت کے گن گا کر آپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

اگست 26, 2010 at 06:22 تبصرہ چھوڑیں

حضرت سلطان باہو کا صوفیانہ کلام

اگست 20, 2010 at 06:33 تبصرہ چھوڑیں

حضرت سلطان باہو (1631-1691)

پنجاب کے صوفی ۱کابرین میں سلطان باہو کو بھی ممتاز ترین مقام حاصل ہے۔ سلطان باہو اپنے عہد کے کامل بزرگ اور پنجابی زبان کے عظیم صوفی شاعر ہیں. آپ کے کلام میں ایک روح پرور تاثیر، مٹھاس اور چاشنی ہے. آپ سلطان العارفین کے لقب سے مشہور ہیں. آپ کا تعلق شاہ جہاں کے عہد کے ایک جاگیردار خاندان سے تھا جس کا تعلق پنجاب کے ضلع جھنگ سے تھا۔ آپ کے والد بایزید محمد ایک صالح شریعت کے پابند حافظ قرآن، فقیہہ ، دنیاوی تعلقات سے آشنا سلطنت دہلی کے منصب دار تھے۔ حضرت سلطان باہو 1631ء (1039ھ) میں جھنگ کے موضع اعوا ن میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ظاہری علوم کا اکتساب باقاعدہ اور روایتی اندز میں نہیں کیا بلکہ زیادہ ترابتدائی تعلیم اپنی والدہ سے حاصل کی ۔ خود ہی ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

”اگرچہ میں ظاہری علوم سے محروم ہوں لیکن علم باطنی نے میری زندگی پاک کر دی ہے۔“

مرشد کی تلاش میں سرگرداں ہوئے تو آپ کی ملاقات شور کوٹ کے نزدیک گڑھ بغداد میں سلسلہ قادر یہ کے ایک بزرگ شاہ حبیب اللہ سے ہوئی۔ اور جب مرید مرشد سے بھی آگے بڑھ گیا تو مرشد نے آپ کو سید عبدالرحمٰن کی جانب رجوع کرنے کا مشور ہ دیا۔ اورنگزیب کے عہد میں آپ سید عبدالرحمٰن سے ملنے دہلی پہنچے مگر معروضی حالات کی بنا پر آپ کے عالمگیر کے ساتھ تضادات پیدا ہو گئے۔ اسی بنا پر آپ دہلی سے واپس چلے گئے اور بقیہ زندگی روحانی ریاضتوں اور لوگوں کو روحانی فیض پہنچانے میں بسر کی۔ آپ دوسرے صوفیا کی طرح محض درویشانہ زندگی نہیں گزارتے تھے بلکہ ایک بڑے خاندان کے سربراہ کی حیثیت سے آپ کی زندگی کا انداز بلاشبہ روایتی صوفیانہ زندگی سے مختلف تھا۔ زندگی کے آخری دنوں میں آپ نے سب کچھ تیاگ دیا تھا۔ آپ کی تصانیف کی طویل فہرست عربی، فارسی اور پنجابی زبانوں پر محیط ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو نہ صرف مروجہ زبانوں پر عبور حاصل تھا بلکہ وہ مذہبی علوم سے بھی کماحقہ فیض یاب ہوتے تھے۔

آپ کی شاعری میں ایک سرور انگیز مقدس آواز کی صورت میں لفظ ” ہو“ کا استعمال آپ کو تمام صوفی شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔ آپ بظاہر فلسفیانہ موشگافیوں سے پرہیز کرتے اور سیدھی سادھی باتیں خطیبانہ انداز میں کہے چلے جاتے، جن کا مطالعہ بلاشبہ ہماری دیہاتی دانش کا مطالعہ ہے۔ آپ کی شاعری سے محسوس ہوتا ہے کہ آپ سلسلہ قادریہ کے دوسرے صوفیا سے مختلف نہیں ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں :

”میں نہ تو جوگی ہوں نہ جنگم ، نہ ہی سجدوں میں جا کر لمبی لمبی عبادتیں کرتا ہوں نہ میں ریاضتیں کرتا ہوں ۔ میرا ایمان محض یہ ہے، جو لمحہ غفلت کا ہے وہ لمحہ محض کفرکا ہے۔جو دم غافل سو دم کافر۔“

حضرت سلطان باہو سرچشمہ علوم و فیوض ہیں، مشہور ہے کہ آپ نے ایک سو چالیس کتابیں تصنیف کیں جن میں سے بہت سی کتابیں امتدادِ زمانہ کے ہاتھوں ناپید ہیں ۔ تاہم اب بھی آپ کی بہت سی کتابیں دستیاب ہیں اور علمائے ظاہر کے مقابلے میں سلطان باہو فقر کا تصور پیش کرتے ہیں جہاں علما لذتِ نفس و دنیا میں مبتلا ہو کر نفس پیروی کرتے ہیں اور لذتِ یادِ الٰہی سے بیگانہ رہتے ہیں ، وہاں فقراء شب و روز یادِ خدا میں غرق ہو کر امر ہو جاتے ہیں۔ آپ کی شاعری میں ترکِ دنیا اور نفس کشی کے خیالات بکثرت ملتے ہیں۔آپ کے نقطہ نظر کے مطابق دین و دنیا دو ایسی متضاد قوتیں ہیں جن کے باہم تفاوت کو حل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ سلطان باہو کا وصال 1691ء  بمطابق اسلامی تاریخ یکم جمادی الثانی 1102ھ میں تریسٹھ سال کی عمرمیں ہوا۔ آپ کا مزار مبارک دریائے چناب کے مغربی کنارے ایک گاؤں جو آپ ہی کے نام سے موسوم ہے اور جھنگ سے پچاس میل دور جنوب کی جانب قصبہ گڑھ مہاراجہ کے نزدیک تحصیل شورکوٹ میں مرجعِ خاص و عام ہے.

اگست 17, 2010 at 05:49 تبصرہ چھوڑیں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]