Posts filed under ‘National Songs : ملی نغمے’

قائداعظم ، پاکستان اور ہم

ہم تو صرف عنوان تھے ، اصل داستاں تم ہو
نفرتوں کے دروازے ، خود پہ بند ہی رکھنا
اس وطن کے پرچم کو ، سر بلند ہی رکھنا
پاکستان اپنی بقا کے سب سے نازک دور سے گزر رہا ہے. حالات کی ستم ظریفی تو یہ ہے کہ 14 اگست کی رونقیں بھی ماند ہیں. لوگوں کو بنیادی ضرورتوں کی جنگ سے چھٹکارا ملے تو کچھ کریں ، کچھ سوچیں ، اخلاقی ابتری کا یہ عالم ہے کہ جو ملک لا الہ الا اللہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا آج اس ملک میں سب کچھ ہے سوائے لا الہ الا اللہ کے اور جب قوم اپنے بنیادی مقصد سے ہٹ جاتی ہے تو وہی ہوتا ہے جو ہو رہا ہے. روزنامہ نوائے وقت لاہور نے 5 اپریل 1970ء کی اشاعت میں قائداعظم کا ایک معرکتہ الآراء بیان شائع کیا تھا.
"میں لندن میں امیرانہ زندگی بسر کر رہا تھا اب میں اسے چھوڑ کر انڈیا اس لئے آیا ہوں کہ یہاں لا الہ الا اللہ کی مملکت یعنی پاکستان کے قیام کے لئے کوشش کروں ، اگر میں لندن میں رہ کر سرمایہ داری کی حمایت کرنا پسند کرتا تو سلطنت برطانیہ جو دنیا کی عظیم ترین سلطنت تھی مجھے اعلٰی سے اعلٰی منصب اور مراعات سے نوازتی”
آگے چل کر کہتے ہیں: "علامہ اقبال کی دعوت پر میں نے دولت  اور منصب دونوں کو تج کر کے محدود آمدنی کی دشوار زندگی گزارنا پسند کیا ہے تاکہ پاکستان وجود میں آئے اور اس میں اسلامی قوانین کا بول بالا ہو کیونکہ دنیا کی نجات اسلام ہی میں ہے. صرف اسلام ہی کے علمی، عملی اور قانونی دائروں میں آپ کو عدل ، مساوات ، اخوت ، محبت ، سکون اور امن دستیابب ہو سکتا ہے”
مزید کہتے ہیں "محمد علی جناح کا لباس اتنا قیمتی نہیں جتنا قیمتی لباس یورپ کے بڑے بڑے لوگ اور روس کے لیڈر زیب تن کرتے ہیں ، نہ محمد علی جناح کی خوراک اتنی اعلٰی ہے جتنی سوشلسٹ اور کمیونسٹ لیڈروں اور یورپ کے سرمایہ داروں کی ہے، ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین نے سارا اختیار ہوتے ہوئے بھی خود غریبانہ زندگی بسر کی مگر رعایا کو خوش اور خوشحال رکھا. ذرا سوچئے کہ اگر  لا الہ الا اللہ پر مبنی حکومت قائم ہو جائے تو افغانستان، ایران، ترکی، اردن، بحرین، کویت، حجاز، عراق، فلسطین، شام، تیونس، مراکش، الجزائر اور مصر کے ساتھ مل کر کتنا عظیم الشان بلاک بن سکتا ہے”.
قائداعظم کی خواہش کا جتنا احترام کیا جائے کم ہے لیکن بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلم ممالک کا عظیم الشان بلاک تو کیا بنتا آج پاکستان کے "اپنے” اس کے اسلامی ملک ہونے کی شناخت کو بھی ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں.
قائداعظم جن کے نحیف و کمزور جسم کے ریشے ریشے میں لا الہ الا اللہ کی محبت اور اس کی بنیاد پر بننے والے پاکستان کے قیام اور بقا کا سوال تھا آپ کی روح کے تار اسلام سے جڑے ہوئے تھے. قائداعظم میں صرف وہی خصوصیات نہیں تھیں جو ایک عام آدمی کو ایک بہترین انسان بناتی ہیں بلکہ آپ کی زندگی کئی روحانی پہلوؤں سے بھی عبارت تھی ، آپ میں دینی بصیرت اور اسلامی شعور بھی تھا. آپ نے قرآن اور حدیث کا مطالعہ بھی کیا اور تعلیمات قرآن کی روشنی میں اپنے راستے اور منزل کو واضح طور پہچانا. آپ صرف پاکستان بنانے کے لئے عملی جدوجہد ہی نہیں کر رہے تھے بلکہ پنجگانہ نماز کے بھی پابند تھے. تنہائی میں جب رب ذوالجلال کے حضور سر بسجود ہوتے تو رو رو کر پاکستان بننے کے لئے دعا کرتے. مولانا حسرت موہانی اکثر فرمایا کرتے "میرے تصور میں ہر وقت قائداعظم کی وہی تصویر اور وہی آواز رہتی” (تعمیر پاکستان و علماء ربانی صفحہ 104)
اللہ تعالٰی نے قائداعظم کو دنیوی شان و شوکت اور بے پناہ عزت و محبت عطا کی تھی لیکن آپ ہر معاملے میں ایک سچے مومن کی طرح صرف خدا پر بھروسہ کرتے، زندگی کے آخری دنوں میں جب آپ کے ڈاکٹر آپ کی زندگی اور نوزائیدہ پاکستان کی طرف سے سخت فکرمند تھے اس وقت قائداعظم نے انہیں ان الفاظ میں تسلی دیتے ہوئے فرمایا :
"گھبراؤ نہیں اللہ پر اعتماد رکھو اور اپنی صفوں میں کجی نہ آنے دو ، انتشار نہ پیدا ہونے دو” (حیات قائداعظم صفحہ 627) دنیا سے رخصت ہوتے وقت بھی آپ نے پاکستان کو ایک سچے مومن کی طرح اللہ تعالٰی کے سپرد کیا اور دعا فرمائی "اے اللہ تو نے ہی مسلمانوں کو آزادی بخشی ہے اب تو ہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے تو ہی مدد کرنے والا ہے اور تو ہی اس کا حامی و ناصر ہے”.
تحریک پاکستان کی ابتداء سے قیام پاکستان تک مسلمان قوم نے اپنی تحریک کا جو سلوگن رکھا وہ ایک نعرہ تھا ، "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ”، یہ محض ایک سلوگن ہی نہیں تھا بلکہ اس نعرے کی روشنی نے قائداعظم کے پورے وجود کو روشن کر دیا تھا. آپ نے لا الہ الا اللہ کی روشنی میں قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا اور اسے سمجھا. اس کا ذکر آپ نے خود 14 اگست 1941 ء میں طلباء کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا اور کہا میں نے قرآن مجید اور شریعت اسلامیہ کے مطالعے کی اپنے طور پر کوشش کی ہے ، اس عظیم الشان کتاب کی تعلیمات میں انسانی زندگی کے ہر باب کے متعلق تعلیمات موجود ہیں. زندگی کا روحانی پہلو ہو یا معاشرتی ، سیاسی ہو یا معاشی غرضیکہ کوئی شعبہ بھی ایسا نہیں جو قرآنی تعلیمات کے احاطہ سے باہر ہو. (حیات قائداعظم صفحہ 427)
لیکن مقام شرم یہ ہے کہ ہم نے اس نعمت عظمٰی کی ناشکری کی اور اللہ رب العزت سے لا الہ کا کیا ہوا وعدہ بھول گئے. رمضان شریف کا مہینہ خاص رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے   . 17 رمضان کو غزوہ بدر ہوا. مدینہ کی اسلامی ریاست کو استحکام اور دوام نصیب ہوا. 10 رمضان کو فتح مکہ ہوا ، طاغوتی طاقتوں کوعبرتناک شکست ہوئی ، کفر کے بت پاش پاش ہوئے اور اسلام کا ڈنکا سارے عالم میں بجنے لگا ، ماہ رمضان میں ہی محمد بن قاسم کے ہاتھوں راجہ داہر کو شکست فاش ہوئی اور بر صغیر پاک و ہند پر اسلامی پرچم لہرانے لگا. 27 رمضان المبارک کو اللہ نے پوری دنیا کے لئے مکمل ضابطہ ، نظام حیات قرآن پاک کی صورت میں نازل فرمایا اور 27 رمضان المبارک کو ہی دنیا کے نقشے پر سب سے بڑی اسلامی مملکت کا قیام عمل میں آیا.
کیا یہ سب محض اتفاقات ہیں؟ نہیں بلکہ ہمارا رب ہمیں بتا رہا ہے کہ کائنات کا نظام کسی کا پابند ہے اور اسی نظام ربونیت کے تحت پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لئے بنا ہے. باطل شیطانی طاقتیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں البتہ ہم خود اس کو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے نقصان پہنچا رہے ہیں. ہم ہر سال 14 اگست کو شکرانے کے طور پر یوم آزادی مناتے ہیں لیکن ہمارا شکر ادا کرنے کا طریقہ ایسا ہے جیسے ہم یوم آزادی اور پاکستان کے وجود کا مذاق اڑا رہے ہیں. اگر ہم اللہ رب العزت کا شکر اس کے پسندیدہ طریقے سے کرتے یقینی طور پر موجودہ پاکستان اتنی ابتر حالت میں نہ ہوتا اور اللہ تعالٰی اپنے وعدے کے مطابق اس نعمت میں اور اضافہ فرماتا اور اس کی ترقی عروج پر ہوتی.

اگست 9, 2010 at 08:11 تبصرہ کریں

یوم آزادی اور ماضی کی مشکلات

14 اگست کا دن قریب ہے اب سے ٹھیک 63 سال قبل 14 اگست ہی کے دن برصغیر پاک و ہند کے مسلمان بےتحاشہ قربانیاں دے کر آلام و مصائب کے دریاؤں کو عبور کر کے ظلم و ستم کو برداشت کرکے آزادی کی نعمت سے ھمکنار ہوئے. آزادی یوں ہی نہیں مل جاتی آزادی بہت قیمت مانگتی ہے. تازیخ اٹھا کر دیکھیں تو پتا چلتا ہے ہر دور میں انسان نے اس کی قیمت ادا کی ہے. دنیا کے نقشے پر آزاد ممالک کا نام بے پایاں کٹھنائیوں ، قربانیوں اور دکھوں کے بعد تحریر ہوا ہے. الجزائر کے لوگ اس وقت تک منزل آزادی سے ہمکنار نہیں ہوئے جب تک بن نیلا کے بدن پر زخموں کے ستر نشان ثبت نہیں ہوئے. انڈونیشیا کی عوام کے لیے غلامی کی سیاہ رات اس وقت تک نیں بدلی جب تک انہوں نے اپنے زخمی ہاتھوں سے اپنے لہو کے چراغ نہیں جلائے اور پاکستان اس وقت تک نقشہ عالم پر نہیں ابھرا جب تک شہروں ، بستیوں ، گلیوں اور بازاروں میں خون کی ہولی نہیں کھیلی گئی.
آزادی اللہ تعالٰی کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے. آزادی جنت جبکہ غلامی دوزخ ہے. کھلی فضاءوں میں سانس لینا انسان کی فطرت کا تقاضا ہے. آزادی سے قبل دو سو سال تک مسلمان انگریز کے محکوم رہے انگریزوں نے ان سے آزادی کی دولت چھین کر ان کو اپنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا تھا. انگریز نے اپنے دورحکومت میں مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے اور ان پر جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور ان کو اپنے بے پناہ ظلم و تشدد کا جس طرح نشانہ بنایا وہ ہر تاریخی شعور رکھنے والے شخص سے پوشیدہ نہیں بہرحال مسلمان 14 اگست 1947 کو انگریز کی غلامی سے آزاد ہوئے. ان کو یہ آزادی بہت آسانی سے نہیں ملی ان کو یہ آزادی کیسے ملی اس کے پیچھے کئی عوامل کار فرما ہیں. پاکستان اسلام کے نام پر قائم کیا گیا اور برصغیر میں بسنے والے مسلمانوں نے اس کی تعمیر و تشکیل کے لیے بیش بہا قربانیاں دیں ، در حقیقت پاکستان اسلام اور مسلم قومیت کی بنا پر معرض وجود میں آیا.
جیسا کہ مولانا محمد علی جالندھری نے 8 مارچ 1944 ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم لیگ اس لحاظ سے بہت خوش قسمت ہے کہ مسلم لیگ کو قائداعظم محمد علی جناح جیسا زیرک ، عقیل و فہیم ، راست باز ، نیک و کار ، بااصول ، محنتی ، مخلص، مستعد قائد نصیب ہوا ، جس نے اپنے ناخن تدبیر سے الجھے ہوئے مسائل کو سلجھا دیا. مسلم لیگ کی اس لحاظ سے بھی بہت بڑی کامیابی تھی کہ علمائے کرام کی بہت بڑی جماعت نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا بلکہ قائداعظم کے ساتھ شانہ بشانہ چلے. پاکستان محمد علی جناح کی شب و روز کی کوششوں اور ان کی مساعی جمیلہ سے معرض وجود میں آیا.
14 اگست 1947 کو جب جشن آزادی منایا جانے لگا تو علمائے کرام کی تاریخی خدمات کے طور پر مشرقی پاکستان کا پرچم شیخ الاسلام حضرت مولانا علامہ شبیر احمد عثمانی نے اور مغربی پاکستان کا پرچم حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی نے اپنے دست مبارک سے تلاوت اور مختصر تقریر کے بعد آزاد فضاء میں لہرا کر دنیا کی اس سب سے بڑی اسلامی مملکت کو اسلامی ممالک کی برادری میں شامل کرنے کا افتتاح کیا. پاکستانی فوجوں نے پرچم پاکستان کو پہلی مرتبہ سلامی دی اور سب نے مل کر یہ ترانہ گایا
اونچا رہے یہ نشاں ہمارا
یہ  چاند  اور  یہ  تارہ

اگست 7, 2010 at 06:53 تبصرہ کریں

اے وطن پیارے وطن!

یوں تو دنیا کی ہر قوم ہی اپنا یوم آزادی بڑی دھوم دھام سے مناتی ہے. مختلف قسم کے پروگرامز، تقریبات اور دھوم دھڑکے. ہر کوئی اپنی آزادی کا دن جوش و جذبے سے مناتا ہے، خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں اور خصوصی ترانے اور ملی نغمے بنائے جاتے ہیں. پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں سب سے زیادہ ملی نغمے بنائے جاتے ہیں- ہمارے ملی نغمے یقینآ سب سے زیادہ بہترین ہوتے ہیں.
ملی نغموں کا بھی اپنا ایک مزہ ہوتا ہے. مگر آج زمانہ اور رہن سہن کے انداز بدل چکے ہیں. پہلے ہم ملی نغمے گنگناتے تھے اور بیسیوں ملی نغمے ہمیں ازبر تھے اور ہم صبح شام ان ملی نغموں کو جپتے اور لہک لہک کر، جھوم جھوم کر گاتے اور ہمارے اکثر برگزیدہ اساتذہ فرط مسرت سے اپنی خوشی چھپائے نہ چھپا سکتے، چاہتے کہ ہمیں بانہوں میں اٹھا کر جھومیں مگر صرف شفقت سے ہمارے سروں پر ہاتھ پھیرتے رہ جاتے، ہم اکثر سوچتے کہ یہ کیسا لطف ہے؟ بالاکوٹ کی وادی میں بہتے جھرنوں سے مجھے یہی ملی نغمے سنائی دیتے۔
پھر ایسا ہوا کہ دن بدل گئے، ہمیں بھارتی گانے اچھے لگنے لگے، لہکتے اور نئی دھنوں کو سراہنے لگے، علی الصبح اُٹھ کر 23 مارچ کی پریڈ اور 14اگست کی پرچم کشائی کی تقاریب دیکھنا ہمیں اچھی خاصی چھٹی کو ضائع کرنے جیسا لگنے لگا، ہمیں لگنے لگا کہ ہم انتہائی شرمندہ، پسماندہ اور انتہائی تیسرے درجہ کی قوم ہیں۔ ایسا نہیں تھا کہ ہم محب وطن نہ رہے تھے، بلکہ یہ تو ایک ایسی کیفیت تھی کہ ہمیں لگتا تھا کہ ہم ایسی قوم کا حصہ ہیں جس کا کوئی مستقبل ہے نہ ماضی!۔
ہم سوچتے ہٹاؤ یار، یہ کیا ہے، کبھی ایک ہٹتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے، کبھی قرض اتار کر ملک سنوارتے ہیں تو کبھی میرے گاؤں میں بجلی آئی ہے کے نعرے لگاتے ہیں، کبھی کسی کو مولوی ڈیزل کہہ دیتے ہیں، تو کبھی کوئی %10 نامی پتلا جنم لیتا ہے اور کبھی احتساب کے نام پر ایک دوسرے کو تگنی کا ناچ نچاتے ہیں۔ ایسی ہی کسی کیفیت میں فوجی بھائیوں کی فرمائش پر جنرل اپنی چھڑی گھماتے ہوئے آتا ہے اور پھر ساروں کو کہتا ہے کہ ہٹو بچو، یہ تمھارے بس کی بات ہی نہیں ہے!۔
عدلیہ  کا تماشہ اپنی آنکھوں سے ہم نے سپریم کورٹ کی عمارت پر حملہ کی صورت میں دیکھا تھا اور پھر اگلے کئی سالوں تک اس کو اور کبھی اس کے ہاتھوں لوگوں کو لتاڑتے ہوئے دیکھا، مجھے سمجھ نہ آئی، صرف ایک کیفیت نے جنم لیا کہ جی یہ ستون بھی کھوکھلا ہے!۔
صحافت نامی بلی صحیح معنوں میں کئی سال پہلے تھیلے سے باہر آئی اور چھا گئی، لوگ ٹی وی چینلوں پر آ کر بڑھکیں مارتے، دھمکیاں دیتے، گالیاں سناتے اور اپنی اپنی کمین گاہوں میں جا گھستے، صحافت اور ٹی وی نے مضبوط ہو کر کچھ کیا تو وہ یہ تھا کہ میری اور میرے جیسے کئی دوسروں کی نیندیں حرام کر دیں۔ ہمیں ایک دم سے پتہ چل جاتا، اور بچہ بچہ بھی ملکی حالات پر تبصرے کرنے لگا، ایسے ہی ایک سیاستدان نے ٹی وی پر آ کر کہا کہ "جی، ٹی وی تبصروں کا اثر ہے کہ اس کا بیٹا، اگر کوئی گلاس الٹا پڑا دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ، یہ گلاس غیر آئینی پڑا ہوا ہے!”۔
حاصل یہ ہوا کہ ہم جیسے رینگتے لوگ مایوس ہوگئے، ہمیں لگا کہ ریاست کے سارے ستون بودے ہیں، ملی نغمے تو دور، فلمی نغمے بھی ہمیں برے لگنے لگے، آٹا چاول کی دوڑ سب سے بڑھ گئی اور ہم کھو گئے، لوگوں کو لگنے لگا کہ ہم مایوس اور مری ہوئی قوم ہیں، ہمیں کوئی حادثہ جیسے زلزلہ ہی اکٹھا رکھ سکتا ہے، کوئی امن کی کیفیت نہیں!۔
لیکن ایسی کوئی بات نہیں میری قوم جدوجہد کر رہی ہے، گو سست رفتاری سے بہتری آ رہی ہے، لیکن میری قوم جاگ رہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بھی ان دھوکوں میں سے ایک ہو، جن کو ہم نے ساٹھ سال دیکھا ہے، مگر یہ بڑا حسین دھوکہ ہے.

اگست 4, 2010 at 05:34 1 comment

ملی نغمہ : ماؤں کی دعا

14 اگست 1947 کو پاکستان ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ انگریز و ہندو کی دوهری غلامی سے نجات حاصل کرنے کےلیے ملسمانان ہند نے الله سے گڑگڑا کر دعائیں کیں، یاد کیجیۓ یه آزادی ہمارے بزرگوں نے جان و مال کی بے بہا قربانی اور ہزاروں فرشته سیرت بہو بیٹیوں کی عصمت گنوا کر حاصل کی تھی۔
آزادی یقیناً الله کا احسان عظیم اور ایک بہت بڑی نعمت ہے لیکن اس کو قائم و دائم رکھنے کے لیے اس کے تقاضے پورے کرنے پڑتے ھیں۔ ہماری آزادی کا اولین تقاضا یه تھا که نظریه پاکستان یعنی اسلامی نظام کا عملی نفاذ کیا جاتا۔ لیکن بدقسمتی سے اس سمت کوئی پیش رفت نه ہوسکی۔ آزادی کو مادر پدر آزادی سمجھ لیا گیا۔ قومی وسائل کی بندر بانٹ اور مفاد پرستی کی ایک دوڑ شروع ہوگئ۔ جس کا نتیجه یه نکلا که پاکستان مسائلستان بنتا چلا گیا۔ مہنگائ، بیروزگاری اور بدامنی نے عوام کی زندگی اجیرن کردی۔ یہاں تک که ملک دولخت ہوگیا۔ لیکن روز بروز یه مسائل بڑھتے چلے گۓ۔ نفسانی خواہشات کو بھڑکانے والے پروگرام ترتیب دیۓ گۓ، راگ و رنگ اور رقص و سرور کی محفلوں کی حوصله افزائ کی گئ۔ بجلی کے بدترین بحران کے باوجود عمارات و سڑکوں کو بقعه نور بنا دیا جاتا هے۔
برادران اسلام، ذرا سوچۓ عام حالات میں بھی ایک مسلمان معاشره ایسی بے ہودگی کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن ایسے وقت میں جبکه دنیا کے کونے کونے میں مسلمانوں پر قیامت ڈہائی جارہی هے۔ کشمیر فلسطین افغانستان عراق اور چیچنیا میں ایک عرصے سے خون مسلم سے ہولی کھیلی جارہی تھی لیکن گذشته ماه سے اسرائیل امریکه کی شہہ پر لبنان کے بے گناه شہریوں پر جن میں بچے بوڑھے خواتین شامل هیں اندھادھند بمباری کے ذریعے ظالمانه طریقے سے ان کا قتل عام کررہا ہے۔ آیۓ ہاتھ میں ہاتھ ڈالیں اور الله تعالیٰ کے دین کے غلبه اور اس کی اقامت کے لیے اپنا حصه ادا کریں۔ تاکه الله کی کتاب و اس کے رسول کی سنت کی روشنی میں اور مصور پاکستان علامه اقبال اور معمار پاکستان کے تصور کے مطابق یه ملک صحیح معنوں میں ایک اسلامی فلاحی مملکت بن سکے۔

اگست 3, 2010 at 05:31 1 comment


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]