Posts filed under ‘Mazameen : مضامین’

پاکستان کی سب سے بڑی مسجد

شاہ فیصل مسجد کو پاکستان کی سب سے بڑی مسجد ہونے کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیاء کی عظیم مسجد ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے. یہ جنوبی ایشیاء کی سب سے بڑی مسجد اپنے انوکھے طرز تعمیر کے سبب تمام مسلم امہ میں شہرت کی حامل ہے. فیصل مسجد اسلام آباد میں واقع ہے جو شہر کے آخری سرے پر مارگلہ کی دلکش پہاڑیوں کے دامن میں ایک خوبصورت منظر دیتی ہے. اس مسجد کی تعمیر کی تجویز  سعودی حکمران شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے اپنے دور اسلام میں دی. بعد میں تقریباً تین سال بعد ایک عالمی سطح کا مقابلہ منعقد کرایا گیا جس میں مختلف ممالک کے 43 ماہر فن تعمیر نے اپنے اپنے نمونے پیش کیے. چوتھے روز ترکی کےویدت والوکے کا پیش کردہ نمونہ تسلیم کر لیا گیا اور سعودی حکومت کی مالی امداد سے 1976ء میں اس مسجد کی تعمیر شروع کی گئی اور مسجد کا نام بھی شاہ فیصل کے نام سے منسوب کر دیا گیا.
1986ء میں مسجد کا تعمیراتی کام مکمل کر لیا گیا اور اس کے احاطہ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی تعمیر کی گئی. یہ مسجد کل 5000 مربع میٹر کے رقبے پر مشتمل ہے اور بیرونی احاطہ کو بھی شامل کر کے اس میں تقریباً 80 ہزار سے زائد نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں. اس کا فنِ تعمیر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور دیگر روایتی مساجد سے قدرے مختلف ہے. اس کی شکل ایک بڑے تکونی خیمے کی طرح ہے جس پر چار بہت بڑے بڑے مینار جلوہ افروز ہیں. یہ مینار ترکی کے جدید فنِ تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں. مسجد کے اندر درمیان میں ایک جدید برقی فانوس نصب ہے. اس مسجد کی اندرونی دیواروں پر جدید خطاطی کے زریعے قرآنی آیات لکھی گئی ہیں. اس مسجد کے فن تعمیر میں مختلف روایتی اندازوں کی واضح جھلک ہے. جن میں عربی، ترکی، ایرانی اور ہندی طرز تعمیر کا عنصر موجود ہے.
اس مسجد پر کل تعمیری لاگت کا اندازہ 120 ملین امریکی ڈالر تک لگایا گیا ہے اس کے خوبصورت میناروں کی بلندی 90 میٹر تک جبکہ حال ہی میں اس مسجد کی خوبصورت تصویر پاکستانی 5 ہزار روپے کے نئے بنک نوٹ پر بنائی گئی ہے. دور دور سے سیّاح اس مسجد کو دیکھنے آتے ہیں.

مئی 24, 2011 at 05:19 تبصرہ کریں

شہر فیصل آباد کی تاریخ

فیصل آباد شہر پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک اہم ترین شہر ہے. اس شہر کو زمانہ قدیم میں لائلپور کہا جاتا تھا. اب فیصل آباد اپنی صنعتی ترقی کی وجہ سے بہت اہمیّت کا حامل ہے. اس شہر کو مانچسٹر آف ایشیاء بھی کہا جاتا ہے. کراچی اور لاہور کے بعد یہ پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے.
فیصل آباد 1892ء میں برطانیہ کے سر چارلس جیمز لائل نے دریافت کیا. اس وقت اس کا نام اسی کی مناسبت سے لائلپور رکھا گیا. یہ شہر بھیڑ بکریوں اور دیگر مویشیوں کیلئے بہت معروف تھا کیونکہ یہاں جھاڑیاں اور سبزہ بہت زیادہ تھا. 1892ء میں اسے جھنگ اور گو گیمرہ کی نہروں سے سیراب کیا جاتا تھا. 1895 میں یہاں پہلی دفعہ رہائشی کالونیاں بنائی گئیں. اس وقت ٹوبہ ٹیک سنگھ اور شاہدرہ کے درمیانی علاقے کو ساندل بار کہا جاتا تھا.جبکہ فیصل آباد کی ابتدائی تاریخ میں یہاں پکا ماڑی نامی ایک قصبہ پہلے ہی موجود تھا جسے آجکل پکی ماڑی بھی کہا جاتا ہے.
فیصل آباد اُنیسویں صدی کے اوائل میں گوجرانوالہ، جھنگ اور ساہیوال کا حصہ ہوا کرتا تھا. لاہور جانے کے لئے تمام تاجر اور سیاح یہاں پڑاؤ کرتے تھے. آہستہ آہستہ اس کی اہمیت بڑھتی گئی اور اس بڑھتی ہوئی اہمیت کا اندازہ ایک سیاح انگریز کو بہتر طور پر ہوا تو اُس نے اِس شہر کو بنانے کی کوشش شروع کر دی. اس کا نمونہ کیپٹن پوہم ینگ نے ڈیزائن کیا جس میں ایک بہت بڑا کلاک ٹاور تعمیر کیا گیا جس کو آٹھ بازار جاتے تھے. ان بازاروں کو بڑے عمدہ فنِ تعمیر سے تیار کیا گیا. پھر شہر میں آہستہ آہستہ انڈسٹریل کاموں کا آغاز ہوتا گیا اور ملحقہ علاقوں میں سے لوگ شہر کی طرف آنا شروع ہو گئے. 1977ء میں اس شہر کا نام لائلپور سے فیصل آباد رکھا گیا. یہ نام سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل کی نسبت سے رکھا گیا کیونکہ اس نے فیصل آباد کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا. 1985ء میں اس شہر کوڈویژن کا درجہ دے دیا گیا جس میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ اور فیصل آباد اضلاع شامل کیے گئے.
ضلع فیصل آباد کا کل رقبہ 5،856 مربع کلو میٹر ہے جبکہ اس کی آبادی تقریباً 35،47،446 افراد پر مشتمل ہے. اس کی چھ تحصیلیں ہیں جس میں فیصل آباد شہر، فیصل آباد صدر، چک جھمرہ، جڑانوالہ سمندری اور تاندلیانوالہ شامل ہیں.
لائلپور ٹاؤن، جناح ٹاؤن، اقبال ٹاؤن اور مدینہ ٹاؤن فیصل آباد شہر کے اہم ترین مقامات ہیں. فیصل آباد کو ایگری کلچر یونیورسٹی کی وجہ سے عالمی سطح پر شہرت حاصل ہے جس میں تقریباً تمام شعبوں کے علیحدہ علیحدہ انسٹیٹیوٹ بنائے گئے ہیں. علاوہ ازیں ہمدرد یونیورسٹی، جی سی یونیورسٹی اور انجینرنگ اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی بھی اپنا خاص مقام رکھتی ہیں. پاکستان میں فیصل آباد کو ٹیکسٹائل کے شعبے میں بھی برتری حاصل ہے جس میں کئی ٹیکسٹائل ملز اور فنی تعلیمی ادارے شامل ہیں. فیصل آباد شہر سے 10 کلو میٹر کے فاصلے پر ائیر پورٹ ہے جہاں ملکی و غیر ملکی سطح کی پروازیں ہوتی ہیں. یہاں کئی تاریخی اور تفریحی مقامات بھی شامل ہیں جن میں کلاک ٹاور (گھنٹہ گھر)، جناح باغ، گتوالہ پارک اور دیگر فن لینڈ بھی شامل ہیں.

مئی 21, 2011 at 05:32 تبصرہ کریں

میں محض ایک باورچی ہوں! (ایک باورچی کی آپ بیتی)

میرے قریبی دوست اور رشتہ دار جانتے ہیں کہ میں ایک اچھا باورچی ہوں لیکن میں نے کبھی اس بات پر غرور نہیں کیا۔ میں خود کو شیف بھی کہہ سکتا تھا کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ ماڈرن لفظ زیادہ معزز لگتا ہے لیکن سچ بات ہے شیف کے لفظ میں مجھے ایک خاص قسم کی چالاکی اور پیشہ ورانہ تفاخر محسوس ہوتا ہے۔ اس لئے میں دیسی لفظ باورچی کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔ ہمارے اسی معاشرے میں جب دولت کی ریل پیل نہیں ہوئی تھی اور دولت چند ہاتھوں میں جمع نہیں ہوئی تھی تو خاندانی باورچی شادی بیاہ کے موقع پر بلائے جاتے تھے۔ یہ لاکھوں روپے کی کیٹرنگ نہیں ہوتی تھی نہ ہی یہ اسٹیٹس سمبل بنا تھا کہ شادیوں پر چار چار دن انواع و اقسام کے کھانوں کے سلسلے چلتے رہیں۔
خاندانی باورچی ہر شادی کے موقع پر مرکزی کردار ہوتا تھا. بڑے وقار سے بلایا جاتا تھا اور اسے کرسی دی جاتی تھی۔ پھر وہ صاحب تقریب سے مذاکرات کرتا تھا اور ہر قسم کے بجٹ کے مطابق دیانتداری سے صحیح مشورہ دیتا تھا۔ مجھے یاد ہے میرے ایک دوست کی بہن کی شادی میں دولہا والے بغیر بتائے زیادہ تعداد میں باراتی لے کر آ گئے۔ میرا دوست بہت پریشان ہوا اور اس نے خاندانی باورچی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ خاندانی باورچی نے کہا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس موقع پر میرے پاس صدری نسخہ موجود ہے جو سینہ بہ سینہ چلا آرہا ہے وہ یہ ہے کہ میں پلاؤ اور قورمے کی دیگوں میں ہلکا ہلکا روح کیوڑا ڈال دوں گا جس سے ذائقے میں فرق نہیں پڑے گا لیکن لوگ زیادہ کھا نہیں سکیں گے ۔چنانچہ یہ نسخہ کارگر ثابت ہوا اور کھانا پورا ہو گیا۔
یہ خاندانی باورچی اپنے کلائنٹ کا بہت خیال رکھتے تھے۔ وہ اپنے کلائنٹ کو پہلے تو ایک کاغذ پر کھانے میں استعمال ہونے والے مصالحہ جات اور گوشت وغیرہ کی مقدار لکھواتے تھے اور پھر تقریب کے موقع پر جب دیگیں چڑھتی تھیں، خوشبوئیں اڑتی تھیں اور ٹھن ٹھن کی آوازیں شادی کے گھر پہنچتی تھیں تو کئی محلوں تک خبر جاتی تھی کہ کس کے گھر شادی ہے۔ آج تو یہ سب رسمیں ختم ہو چکی ہیں کہیں کسی نامعلوم جگہ سے دیگچوں میں کھانا پک اَپ میں لایا جاتا ہے اور انڈیل دیا جاتا ہے۔ ایک بات میں بھول گیا کہ دیگیں تیار ہونے کے بعد گھر کا سخت گیر تجربہ کار بزرگ کرسی ڈال کے دیگوں کے پاس بیٹھ کر کھانا کھلنے کا انتظار کرتا تھا اور جب آواز آتی کہ کھانا لگا دیں تو وہ اپنی نگرانی میں دیگوں سے کھانا نکلواتا تھا اور سب کچھ اس کی ہدایت کے مطابق ہوتا تھا کہ کب ہاتھ روک دیں کب کون سا آئٹم زیادہ کر دیں اور کس کو کم کردیں۔ یہ تجربہ اس بزرگ نے صدیوں کے ریاض سے پایا ہوتا تھا۔ جب وہ خوش اسلوبی سے کھانا”ورتا” لیتا تھا تو براتیوں سے حسب ذوق داد وصول کرتا تھا اور اگلی شادی کے موقع تک گوشہ گمنامی میں چلا جاتا تھا جیسے وہ خاندانی باورچی غائب ہوئے ہیں، ویسے ہمارے معاشرے سے یہ بزرگ بھی رخصت ہو گئے ہیں۔
سو میں کہہ رہا تھا کہ میں ایک باورچی ہوں اور تاریخ میں باورچیوں کا رتبہ بہت بلند رہا ہے۔ بادشاہوں کے شاہی مطبخ میں دنیا سے چن چن کے باورچی لائے جاتے تھے۔ یہ اصل نسل کے باورچی ایسا کھانا بناتے تھے کہ بادشاہ دسترخوانوں پر جنگیں جیت لیا کرتے تھے۔ یہ شاہی باورچی نہ چھٹی لے سکتے تھے نہ کہیں جا سکتے تھے کیونکہ اس صورت میں انہیں بادشاہ کے غیض و غضب کا نشانہ بنتے ہوئے ہاتھ کٹوانے پڑتے تھے۔ ان شاہی باورچیوں نے جو کھانے اختراع کئے اور انہیں جو نام دیئے آج ہمارے کوکنگ چینلوں پر خوبصورت یونیفارم میں شیف حضرات انہی پکوانوں کو تیار کرنے کا سوانگ رچاتے ہیں اور ہمیں بے وقوف بناتے ہیں لیکن سچی بات ہے کہ اگر کسی چینل نے میری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا لیا تو میں ایسی کوئی ڈش نہیں بناؤں گا جس سے غریبوں کے گھروں میں ٹھنڈے پڑے ہوئے چولہوں اور ان کی محدود آمدنی کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں ترساؤں۔ اس لئے مجھے امید ہے کہ مجھے کوئی چینل موقع نہیں دے گا۔
میں نے باورچی بننے کا فیصلہ کیوں کیا ہے اس کی بے شمار وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس وقت سب سے زیادہ نفع بخش کاروبار ہی یہی ہے دوسرا یہ کہ ہمارے معاشرے میں ایک نئے رول ماڈل نے کامیابی سے جگہ پائی ہے، وہ باورچی یا شیف ہے۔ اگرچہ امریکہ اور مغربی ممالک میں یہ رول ماڈل بہت پہلے سے موجود ہے لیکن ہمارے ہاں اسے اب موقع ملا ہے۔
تو صاحبوں! اب میرے باورچی بننے کی خواہش آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی۔ اصل میں بات یہ ہے کہ میں اینکر پرسن بننا چاہتا تھا کہ شام آٹھ بجے اپنا دفتر لگا کے بیٹھ جاؤں اور حکومت وقت کو ناکوں چنے چبوا دوں لیکن کسی بھی چینل نے میری سیاسی بصیرت پر بھروسہ نہیں کیا۔ اس پر طرہ یہ کہ اینکر پرسن اب کسی کامیڈین کو ساتھ بٹھا کر شو کرتے ہیں۔ میں کہاں سے یہ ٹیلنٹ لاتا اس لئے میں نے اپنے ارمانوں پر اوس ڈال دی اور دیسی باورچی بننے کی فرمائش کر دی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فوڈ چینل جو ڈشیں اور تراکیب سکھاتے ہیں وہ مجھے نہیں آتیں۔ مجھے تو میری ماں اور بیوی نے جو سالن بنانے سکھائے ہیں میں تو وہی سکھا سکتا ہوں اور یہ وہ ڈشیں ہیں جو کسی بھی معمولی آمدنی یا محدود آمدنی والے گھر میں تیار کی جاسکتی ہیں۔ ان ڈشوں کو آسان نہ سمجھیں یہ سب سے مشکل ہوتی ہیں جو سکھائی جاتی ہیں وہ آسان ہوتی ہیں۔
میری سب سے مہنگی ڈش کریلے گوشت ہے جو مجھے میری ماں، میری بیوی اور استاد دامن نے سکھائی تھی۔ تینوں کی ترکیب ایک جیسی تھی مثلاً یہ کہ کریلے گوشت میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ بکرے کے گوشت کا کون سا حصہ آپ استعمال کر رہے ہیں۔ خیر اس کے بعد میری ڈشیں آسان ہیں۔ بگھارے بینگن، کڑھی، ماش کی دال، دال چاول، بھنڈی، توری، چکڑ چھولے، انڈہ چنے، خاگینہ، بینگن کا بھرتہ، آلو انڈا، آلو کی ٹکیاں وغیرہ وغیرہ۔ میری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ میری اس صلاحیت کو کوئی فوڈ چینل افورڈ نہیں کر سکتا۔
اب میں آپ کو اصل بات بتاؤں کہ میں دنیا کے دو بڑے شیفوں کو اپنا رول ماڈل سمجھتا ہوں۔ ایک سنجیو کپور ہیں جو زندہ ہیں۔ وہ اتنی میٹھی آواز میں لفظ ’بڑھیا‘ استعمال کرتے ہیں کہ انتظار حسین کو مات کر جاتے ہیں وہ ہر کھانا بناتے ہوئے کہتے ہیں "یہ مرچ بہت بڑھیا ہے اسے ناریل میں ملا دیں بڑھیا قسم کی ساؤتھ انڈین ڈش بن جائے گی”۔ میرے دوسرے بڑے رول ماڈل انگلینڈ کے آنجہانی کیتھ فلائیڈ ہیں جن کا گزشتہ برس زیادہ شراب پینے کی وجہ سے انتقال ہوگیا ہے۔ Keath Floyed میرے حساب سے اس فوڈ چینل انڈسٹری کے باوا آدم تھے۔ وہ دنیا کے ہر خطے میں اپنے جہاز سے اپنے عملے کے ساتھ سفر کرتے تھے اور دنیا کا ہر کھانا وہاں کی روایت کے مطابق بناتے تھے۔ انہوں نے افریقہ میں کئی خوبصورت جگہوں پر غریب افریقی بچوں کے ساتھ شتر مرغ کی ڈش بنائی۔ چین میں سانپ کی ڈش بنائی۔ عرب ملکوں میں دنبے کے ذبح ہونے کے بعد میزبان کے ساتھ اسے سیخ پر چڑھایا۔ ہر بار اس نے اپنا ڈرنک نہیں چھوڑا اور وہ اسی ڈرنک کی نذر ہو گیا۔ میں اس پر رشک اس لئے کرتا ہوں کہ وہ ایسا باورچی تھا جو کھانا بنانے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی تفریح سمجھتا تھا۔ ڈرنک کو چھوڑ کر میں بھی کھانا بنانے کو اپنی تفریح سمجھتا ہوں۔ اگرچہ مجھے کوئی چینل قبول نہیں کرے گا کیونکہ میں ایسا فوڈ بناؤں گا جو غریب کا ہو گا اور ساحر لدھیانوی کی طرح میں بھی کہوں گا بڑے بڑے شیف حضرات سے:
اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

مارچ 16, 2011 at 07:21 تبصرہ کریں

برصغیر کے نامور شاعر اور سفر نامہ نگار ابن انشاء

اردو شعر و ادب میں بے پناہ شہرت پانے والے ابنِ اِنشاء کا اصل نام شیر محمد تھا۔ آپ 15 جون 1927 ء کو ہندوستان کے ضلع لدھیانہ کی تحصیل پھلور کے گاوٴں تھلہ کے ایک راجپوت گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد کا نام منشی خان تھا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاوٴں کے سکول میں حاصل کی۔ گاوٴں سے کچھ فاصلے پر واقع اپرہ قصبہ کے مڈل سکول سے مڈل اور 1941ء میں گورنمنٹ ہائی سکول لدھیانہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور اول پوزیشن حاصل کی۔ اس زمانے میں "نوائے وقت” ہفتہ وار اخبار کی شکل میں شائع ہوتا تھا۔ ابنِ اِنشاء کی حمید نظامی سے خط کتابت تھی لہٰذا انہوں نے ایک خط میں مجید نظامی مرحوم  سے لاہور آ کر "نوائے وقت” میں ملازمت اختیار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ حمید نظامی نے مشورہ دیا کہ تمہیں مزید تعلیم حاصل کرنی چاہئے ۔ چنانچہ ان کے کہنے پر ابنِ اِنشاء لاہور آ گئے اور اسلامیہ کالج لاہور میں فرسٹ ایئر میں داخلہ لے لیا مگر تین مہینے کے مختصر قیام کے بعد وہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر لدھیانہ چلے گئے ۔
بعد ازاں لدھیانہ سے انبالہ آ گئے اور ملٹری اکاوٴنٹس کے دفتر میں ملازمت اختیار کر لی لیکن جلد ہی یہ ملازمت بھی چھوڑ دی اور دلی چلے گئے ۔ اس دوران میں آپ نے ادیب فاضل اور منشی فاضل کے امتحانات پاس کرنے کے بعد پرائیویٹ طور پر بی اے کا امتحان پاس کر لیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں اسمبلی ہاؤس میں مترجم کی حیثیت سے ملازمت مل گئی۔  بعد ازاں آل انڈیا ریڈیو کے نیوز سیکشن میں خبروں کے انگریزی بلیٹن کے اردو ترجمے پر مامور ہوئے اور قیام پاکستان تک وہ آل انڈیا ریڈیو ہی سے وابستہ رہے ۔ پاکستان بنا تو اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور لاہور میں سکونت اختیار کی۔ 1949ء میں وہ ریڈیو پاکستان کراچی کے نیوز سیکشن سے بطور مترجم منسلک ہو گئے ۔ اس دوران ابن اِنشاء کو اپنی ادھوری تعلیم مکمل کرنے کا خیال آیا تو انہوں نے اردو کالج کراچی میں 1951ء میں ایم اے اردو کی شام کی جماعتوں میں داخلہ لے لیا اور 1953ء میں ایم اے کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا اور کراچی یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
ایم اے کرنے کے بعد انہوں نے ڈاکٹریٹ کیلئے تحقیقی کام کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور اس سلسلے میں کافی تگ و دو کے بعد انہیں مارچ 1954ء میں مقالے کیلئے عنوان۔ (Tradition of nazm to the exclusion of ghazal in urdu poetry a historical critical survay from the earliest time to date) یعنی "اردو نظام کا تاریخی و تنقیدی جائزہ (آغاز تا حال) تفویض ہوا اور مولوی عبدالحق ان کے نگران مقرر ہوئے مگر بدقسمتی سے وہ اپنے اس مقالے کو مکمل نہ کر سکے کچھ عرصہ کراچی میں گزارنے کے بعد آپ لاہور تشریف لے آئے ۔ آپ کی بھرپور ادبی زندگی کا آغاز لاہور ہی سے ہوا۔ لاہور میں آپ کی رہائش ایبٹ روڈ کے قریب واقع تھی۔
1941ء میں ابنِ اِنشاء کی شادی لدھیانہ میں عزیزہ بی بی سے ہوئی عزیزہ بی بی سے ابنِ اِنشاء کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہوئی بعد ازاں گھریلو  ناچاقی کے سبب عزیزہ بی بی اور ابنِ انشاء میں علیحدگی ہو گئی مگر طلاق نہ ہوئی لہٰذا عزیزہ بی بی نے باقی تمام عمر ان کی بیوی کی حیثیت ہی سے زندگی بسر کی۔ 1969ء میں آپ نے دوسری شادی کی دوسری بیگم کا نام شکیلہ بیگم تھا۔ دوسری بیوی سے آپ کے دو بیٹے سعدی اور رومی پیدا ہوئے ۔ آپ نے کچھ عرصہ نیشنل بک فاوٴنڈیشن کے سربراہ کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دیں۔ بالآخر ادبی افق پر روشن اس درخشاں ستارے نے 11 جنوری 1978ء کو لندن میں داعی اجل کو لبیک کہا. آپ نے سکول ہی کے زمانے میں شعر کہنا شروع کر دیا تھا اور شیر محمد کے ساتھ "مایوس صحرائی” تخلص اختیار کیا مگر بعد ازاں اپنے فارسی کے استاد مولوی برکت علی لائق کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے "مایوس صحرائی” کو ترک کرکے "قیصر” تخلص اختیار کیا۔ بعد ازاں 1945ء میں "ابنِ اِنشاء” کا قلمی نام اختیار کر لیا اور  پھر اس نام سے شہرت و  مقبولیت حاصل کی۔
ابنِ اِنشاء ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ انہوں نے غزل و نظم، سفر نامہ، طنز و مزاح اور ترجمے کے میدان میں طبع آزمائی کی اور اپنی شاعری و نثر کے وہ اَنمٹ نقوش چھوڑے کہ جن کی بنا پر اردو ادب میں ان کا نام ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زندہ جاوید ہوگیا۔ آپ کی شعری و  نثری تخلیقات کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔
شاعری (چاند نگر 1955ء اس بستی کے اک کوچے میں 1976 ء اور دلِ وحشی 1985 ء)
طنز و مزاح (اردو کی آخری کتاب 1971، خمارِ گندم 1980ء )
سفر نامے (چلتے ہو تو چین کو چلئے 1967، دنیا گول ہے 1972، ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں 1974 ء اور نگری نگری پھرا مسافر 1989)
تراجم (اندھا کنواں اور دیگر پر اسرار کہانیاں (ریڈ گرایلن پو کی کہانیاں) مجبور (چیخوف کے ناول کا ترجمہ) ۔ لاکھوں کا شہر (اوہنری کے افسانوں کا مجموعہ)۔ شہر پناہ (جان سٹین بک کا ناول THIS MOON IS DOWN ) چینی نظمیں ایڈ گرایلن پو کے افسانوں کے ترجمے، سانس کی پھانس، وہ بیضوی تصویر، چہ دلاور است دزدے، عطر فروش دوشیزہ کے قتل کا معمہ، ولہلم بش کے جرمن قصے کا ترجمہ (قصہ ایک کنوارے کا) بیرنن منش ہاوٴزن جرمن گپ باز کے کارناموں کا ترجمہ (کارنامے نواب تیس مار خان کے )
بچوں کا ادب (تارو اور تارو کے دوست۔ بچوں کی جاپانی کہانی کا اردو ترجمہ از کیکو مورایا۔ (شلجم کیسے اکھڑا بچوں کیلئے ایک پرانی روسی کہانی کا ترجمہ)
طویل نظم، یہ بچہ کس کا بچہ ہے ؟ قصہ دْم کٹے چوہے کا بچوں کیلئے منظوم کہانی، میں دوڑتا ہی دوڑتا LOOK AT THIS CHILD (یہ بچہ کس کا بچہ ہے کا انگریزی ترجمہ) 1965ء کی جنگ سے متعلق مضامین کا مجموعہ، برف کی پوٹلی "اختر کی یاد میں” معروف صحافی محمد اختر کی وفات پر لکھے جانے والے مضامین اور تعزیت ناموں کا مجموعہ اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کی سندھی شاعری کا اردو  ترجمہ بھی آپ نے کیا۔
ابنِ اِنشاء کا تعلق ترقی پسند شعراء کی اس قبیل سے تھا جو اشتراکیت سے زیادہ سوشلزم کے حامی تھے ۔ مگر اس کے باوجود ان کی غزل پر کسی قسم کی چھاپ دکھائی نہیں دیتی۔ نظم ہو یا غزل ہر میدان میں ان کی شاعری لازوال ہے ۔ ان کے ہاں انسان کے معاشی اور سیاسی عدم استحکام کی جھلک اور کسک بھی ہے اور ایک عجیب پر اسرار رومانی ماحول بھی۔ یہ دونوں تجربے ان کی شاعری میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں کبھی حسن سے لگاوٴ حد سے تجاوز کر جاتا ہے اور کبھی زندگی اپنی حد امکان سے زیادہ عزیز معلوم ہونے لگتی ہے ۔ ان کی نظموں پر مغربی شاعری اور ترقی پسندی کا غلبہ ہے جب کہ ان کی غزل مروجہ اصول و ضوابط کی پابند ہے وہ اپنی غزل میں میر سے بے حد متاثر نظر آتے ہیں لیکن ان کی شاعری میں رنگ میر کی تقلید کے ساتھ ساتھ نازک، شگفتگی اور ندرت اظہار بھی ہے ۔
انہوں نے میر کی تقلید کے باوجود اپنی غزل کو اپنے ماحول اور معاشرے سے ہم  آہنگ کرتے ہوئے اپنے لئے ایک نئی راہ نکالی ہے اپنی اس خوبی کی بنا پر وہ اپنے دیگر ہم عصروں میں نمایاں مقام کے حامل ہیں۔ ہندی کے الفاظ کے استعمال نے ان کے کلام میں وہ چاشنی اور جاذبیت پیدا کر دی ہے کہ ان کے شعر سنتے ہی دل میں اتر جاتے ہیں اور قاری کو ان کی بات اپنی بات معلوم ہوتی ہے ان کی شاعری ترقی پسندی اور رومانیت کا حسین امتزاج ہے جس میں نغمگی اور موسیقیت کا عنصر نمایاں ہے ۔ ابنِ انشاء کا نام ان خوش نصیبوں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے پہلے مجموعے ہی سے لازوال شہرت حاصل کی۔ انسانی جذبات کی نزاکتوں اور دل کے معاملات کی عکاسی میں ابنِ انشاء غزل میں ممتاز مقام پر دکھائی دیتے ہیں۔ غزل کے علاوہ ان کی نظموں میں بھی وہ چاشنی اور جاذبیت ہے کہ پڑھنے یا سننے والا عش عش کر اْٹھتا ہے ۔ اس سلسلے میں ان کی مشہور  زمانہ نظمیں اس بستی کے  اِک کوچے میں، فروگزاشت، سب مایا ہے ، یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، سائے سے، جب عمر کی نقدی ختم ہوئی، اردو ادب میں ان کا نام زندہ رکھنے کیلئے بہت کافی ہیں۔
ابنِ اِنشاء نے دوسری زبانوں میں لکھے گئے افسانوں، ناولوں اور مضامین کے ترجمے بھی کئے اور سفر نامے اور مزاحیہ مضامین بھی تحریر کئے ان کے مزاحیہ مضامین ان کی نثر کی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں حسن مزاح کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی یہی وجہ ہے کہ ان کے مضامین میں ان کی حسِ مزاح اپنے عروج پر ہے ۔ ان کی زبان نہایت سادہ اور رواں ہے ۔ انہوں نے ایسے ایسے جملے لکھے ہیں کہ پڑھنے والا دیکھتا رہ جاتا ہے ۔ مزاح کے ساتھ ساتھ طنز کا عنصر بھی نمایاں ہے ۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے اسلوب اور اپنے لہجے میں بات کرتے ہیں جو صرف انہی سے مخصوص ہے ان کی زبان کی سلاست اور سادگی ان کے ہاں ایک ایسی روانی کو جنم دیتی ہے جو قاری پر کسی صورت گراں نہیں گزرتی۔ طنز و مزاح کی جو بے ساختگی، برجستگی، والہانہ پن اور کسب کمال انہیں اردو کے دیگر مزاح نگاروں سے منفرد و ممتاز کرتی ہے ۔
ابنِ اِنشاء نے نثر کے کلاسیکی لہجے کو  طنز و مزاح کے جدید اسلوب میں اسی طرح ڈھالا ہے کہ دونوں یک قالب و یک جان ہو گئے ہیں ان کی تحریروں میں بیان کی چاشنی کے ساتھ ساتھ عہد حاضر کے آلام و استحصال کی جھلک بھی ملتی ہے ۔ سفرنامے میں بھی انہوں نے روایت سے ہٹ کر ایسا اسلوب اپنایا ہے کہ جو  قاری کو کسی صورت بور نہیں ہونے دیتا۔ ان کے سفر ناموں میں طنز و مزاح کی رنگین کرنیں ان کے اسلوب کو وہ تازگی اور شگفتگی عطا کرتی ہیں کہ جس کے باعث وہ اس میدان میں بے مثال ہیں افسوس کہ اْردو شعر و ادب کی یہ معروف شخصیت آج ہم میں نہیں مگر ان کی شعری اور نثری تخلیقات اردو ادب میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رکھنے کیلئے کافی ہیں ۔

دسمبر 27, 2010 at 06:40 تبصرہ کریں

اے وطن کے سجیلے جوانو!!!

فوج کے بارے میں جب بھی کوئی سنتا، پڑھتا، لکھتا یا بولتا ہے تو دو چار لطیفے ہیں جوذہن میں گھوم جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر بھلے لوگ کہتے ہیں کہ "فوجیوں کے دو ہی اصول ہیں: پہلا یہ کہ جو شے ساکن ہو اس پر چونا پھیر دو جبکہ جو متحرک دکھے اسے سیلوٹ ٹھوک دو۔”
اہل زبان سے معافی ان الفاظ کے لئے، کہ یہ الفاظ کچھ اتنے اچھے نہیں ہیں، جیسے چونا "پھیر” دینا اور سیلوٹ "ٹھوک” دینا، لیکن کیا کیجیے لطیفے کا اصل لطف یہی ہیں۔
نچلی رینک کے سپاہیوں کو ملاحظہ کیجیے، وہ سویرے تڑکے کے بیچ اٹھتے ہیں اور "ڈرل” کے لیے بھاگم بھاگ شروع کر دیتے ہیں۔ ناشتے میں نہ جانے کیا کھاتے ہوں گے لیکن بعد میں انھیں منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ منہ کی ایسے کہ ڈرل سے چھوٹے تو پریڈ اور پھر ایسی دوسری مصروفیات سے فارغ ہوتے ہی ان کا "اصل” کام شروع ہوتا ہے۔ حکم ملتا ہے، آپ گڑھے کھودیے، گڑھے کی تہہ پر چونا ڈال کر پھر بھر دیجیے۔ گملوں پر چونا پھیریے۔ ٹرکوں، جیپوں وغیرہ کے ٹائروں کو چمکا کر ایک بار پھر چونا پھیر دیں۔ درختوں کے تنوں کو ناپ کے حساب سے ٹھیک تین فٹ اونچائی تک گولائی میں چونا پھیرتے جائیے۔ سڑکوں، راستوں اور پگڈنڈیوں کے دونوں کناروں پر چونا ایسے پھیریے کہ ان پر پھرنے والا یہ سمجھے وہ ناک کی "سیدھ” میں پھر رہا ہے۔
اس کے علاوہ جہاں آپ کو اس روز کے لیے تعینات کیا گیا ہے، وہاں بت بن کر کھڑے رہیے اور جب بھی کوئی پاس سے گذرے، چٹاخ سے سیلوٹ "ٹھوک” دیں۔ سیلوٹ ایسی ہونی چاہیے کہ آپ کا ہاتھ، آپ کا ماتھا ٹھونکے اور بوٹوں کی دھمک گذرنے والے کا دماغ شل کر جائے ۔ آپ کی بندوق فوجی افسر کو یاد دلائے کہ وہ "فرعون” ہے اور عام شخص کو یہ بندوق ایسے ڈرائے کہ جیسے موت۔ سیلوٹ کا نتیجہ کچھ ایسے برآمد ہونا چاہیے کہ گذرنے والا اپنے دفتر اور کام تک پہنچتے پہچنتے کسی سدھ بدھ کا نہ رہے۔ میری ناقص رائے میں اکثر فوجی افسران کے دماغ کا سوچنے اور پھر درست انداز میں کام کرنے سے عاری ہونے کا یہی سبب ہے۔ بس ایسی ہی کچھ اور مصروفیات کے بعد یہ نچلی رینک کے اصحاب سوچتے ہوں گے کہ انھیں دن بھر منہ کی کھانی پڑی ہے۔ بھلا یہ کیسا دن تھا، امید ہے ان میں سے اکثر اپنی ان بیوقوفیوں پر ہنستے بھی ہوں۔
فوجی افسران بھی ایسا ہی کرتے ہیں لیکن ان کا حال تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ وہ سوچنے کے قابل تو تب ہی نہیں رہتے جب ایبٹ آباد کی فوجی اکیڈمی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب صبح صبح آٹھ دس چوندی چوندی سیلوٹوں کی دھمک ان کے دماغ تک پہنچتی ہے۔ اس کے بعد وہ جو بھی کرتے ہیں اپنے کام اور قوم کو چونا پھیرنے اورباقیوں کا دماغ ٹھوکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ سمجھنے کے لیے کوئی بھی اچھی سی غیرجانبدار تاریخ پاکستان کا مطالعہ کیجیے۔
مجھے شرمندگی ہے کہ اس لطیفے سے کئی دوستوں کی دل آزاری ہوئی ہو گی۔ مجھے اس کا بھی دکھ ہے کہ یہ حقیقت ہے اور مجھے سب سے زیادہ افسوس فوجیوں کے اس رویے کا اس دن ہوا تھا جب زلزلے کے تیسرے دن معمولی بات پر تو تو میں میں ہوئی اور ایک لیفٹینیٹ نے کرنل کو مخاطب کیا اور میرے بھائی کی جانب اشارہ کرتے ہو کہا، "سر! اس کو اتنی تمیز نہیں کہ ایک فوجی افسر سے کیسے بات کی جاتی ہے؟” کرنل نے گردن کا سریا گھمایا تھا اور میرے بھائی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا، "کرنل صاحب ! آپ کے جوانوں کو اتنی تمیز نہیں کہ سویلین سے کیسے بات کی جاتی ہے؟”۔ یہ واقعہ ایک خلا کو ظاہر کرتا ہے، یہ اس دیوار کو ظاہر کرتا ہے جو ہم کیڑے مکوڑے "سویلین” اور سیاست کے جرنیلوں نے اپنے فرعون "جوانوں” کے بیچ کھینچ رکھی ہے۔
جتنا افسوس مجھے تب ہوا تھا اس سے بڑھ کر مجھے خوشی کل ہوئی ہے۔ ایبٹ آباد کے فوجی ہسپتال میں فوجی جوانوں اور فوجی میڈیکل سٹاف کا رویہ نہایت قابل تحسین تھا۔ وہ نہایت مہذب انداز میں پیش آتے ہیں اور آپ کو حتی المکان سہولت فراہم کرتے ہیں اور تعجب خیز بات یہ ہے کہ اسی معاملے میں ایسا رویہ عوامی ہسپتالوں میں ناپید ہے۔ عوامی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا اکثریت رویہ درست ہوتا ہے لیکن باقی کے لوگ جیسے ڈسپنسر، نرسیں، قاصدین، خاکروب اور سیکورٹی کے افراد کچھ ایسا قابل تعریف رویہ روا نہیں رکھتے۔
سیاست کے جرنیل اور بندوق کی نال میں بندھے فوجی جوان بھی انسان ہیں، وہ بھی سوچتے ہیں لیکن کیا سوچتے ہیں؟ اس کا ثبوت ہماری تاریخ ہے۔ ہمارے اداروں کی دیواریں پھلانگتے فوجیوں کی وثق میں موجود تصاویر ہیں اور ایوان اقتدار میں بیٹھے رہے فرعون ہیں۔ ویسے ہمارے "سویلین” حکمران بھی کسی سے کم نہیں اور بس ایسے سمجھیے کہ اسی موقع پر بالا سطور میں بیان کیا گیا لطیفہ المیہ بن جاتا ہے جب میں سیاستدانوں کے قافلوں میں آگے پیچھے بندوق والوں کو دیکھتا ہوں۔ ان بندوقوں کی نالوں اور گاڑیوں کے ہوٹروں نے سیاستدانوں کے دماغوں کو بھی ایسے ہی بند کر رکھا ہے جیسے فوجی بوٹوں کی دھمک اور چونا پھیرنے کی عادت نے سیاست کے جرنیلوں کے دماغوں کا تیاپانچہ کر چھوڑا ہے۔
جاتے جاتے ایک اور لطیفہ بھی سنتے جائیے”دنیا کے تقریبا تمام ممالک کو فوج دستیاب ہوتی ہے۔ پاکستان کا حساب دوسرا ہے، یہاں کی فوج کو ایک ملک دستیاب ہے!”۔

اکتوبر 28, 2010 at 11:08 تبصرہ کریں

ابن انشا کے مضامین

کبوتر

کبوتر بڑے کام کا جانور ہے۔یہ آبادیوں میں جنگلوں میں، مولوی اسمٰعیل میرٹھی کی کتاب میں غرض یہ کہ ہر جگہ پایا جاتا ہے ۔کبوتر کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ نیلے کبوتر ۔سفید کبوتر ، نیلے کبوتر کی بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ نیلے رنگ کا ہوتا ہے سفید کبوتر بالعموم سفید ہی ہوتا ہے۔کبوتروں نے تاریخ میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ شہزادہ سلیم نے مسماۃ مہر النساء کو جب کہ وہ ابھی بےبی نورجہان تھیں ۔کبوتر ہی تو پکڑایا تھا جو اس نے اڑا دیا اور پھر ہندوستان کی ملکہ بن گئی۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس سارے قصے میں زیادہ فائدے میں کون رہا؟ شہزادہ سلیم؟ نورجہاں؟ یا وہ کبوتر؟ رعایا کا فائدہ ان دنوں کبھی معرض بحث میں نہ آتا تھا۔ پرانے زمانے کے لوگ عاشقانہ خط و کتابت کے لئے کبوتر ہی استعمال کرتے تھے۔ اس میں بڑی مصلحتیں تھیں۔ بعد میں آدمیوں کو قاصد بنا کر بھیجنے کا رواج ہوا تو بعض اوقات یہ نتیجہ نکلا کہ مکتوب الیہ یعنی محبوب قاصد ہی سے شادی کر کے بقیہ عمر ہنسی خوشی بسر کر دیتا تھا۔چند سال ہوئے ہمارے ملک کی حزب مخالف نے ایک صاحب کو الٹی میٹم دے کر وائی ملک کے پاس بھیجا تھا۔ الٹی میٹم تو راستے میں کہیں رہ گیا۔ دوسرے روز ان صاحب کے وزیر بننے کی خبر اخباروں میں آ گئی۔ کبوتر کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا جاتا تو یہ صورت حال پیش نہ آتی۔

پیاسا کوا

ایک پیاسے کوے کو ایک جگہ پانی کا مٹکا پڑا نظر آیا۔ بہت خوش ہوا لیکن یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ پانی بہت نیچے فقط مٹکے کی تہہ میں تھوڑا سا ہے۔ سوال یہ تھا کہ پانی کو کیسے اوپر لائے اور اپنی چونچ تر کرے۔ اتفاق سے اس نے حکایات لقمان پڑھ رکھی تھی پاس ہی بہت سے کنکر پڑے تھے اس نے اٹھا کر ایک ایک کنکر اس میں ڈالنا شروع کیا۔ کنکر ڈالتے ڈالتے صبح سے شام ہوگئی۔ پیاسا تو تھا ہی نڈھال بھی ہوگیا۔ مٹکے کے اندر نظر ڈالی تو کیا دیکھتا ہے کہ کنکر ہی کنکر ہیں۔ سارا پانی کنکروں نے پی لیا ہے۔ بے اختیار اس کی زبان سے نکلا ہت ترے لقمان کی۔ پھر بے سدھ ہو کر زمین پرگرگیا اور مرگیا۔ اگر وہ کوا کہیں سے ایک نلکی لے آتا تو مٹکے کے منہ پر بیٹھا بیٹھا پانی کو چوس لیتا۔ اپنے دل کی مراد پاتا۔ ہرگز جان سے نہ جاتا۔

اکبر

آپ نے حضرت ملا دو پیازہ اور بیربل کے ملفوظات میں اس بادشاہ کا حال پڑھا ہوگا، راجپوت مصوری کے شاہکاروں میں اس کی تصویر بھی دیکھی ہوگی، ان تحریروں اور تصویروں سے یہ گمان ہوتا ہے، کہ بادشاہ سارا وقت داڑھی گھٹوانے، مونچھیں تراشوائے، اکڑوں بیٹھا پھول سونگھتا رہتا تھا یا لطیفے سنتا رہتا تھا، یہ بات نہیں اور کام بھی کرتا تھا۔ اکبر قسمت کا دھنی تھا، چھوٹا سا تھا کہ باپ بادشاہ ستارے دیکھنے کے شوق میں کوٹھے سے گر کر جاں بحق ہو گیا، اور تاج و تخت اسے مل گیا، ایڈورڈ ہفتم کی طرح چونسٹھ برس ولی عہدی میں نہیں گزارنے پڑے، ویسے اس زمانے میں اتنی لمبی ولی عہدی کا رواج بھی نہ تھا، ولی عہد لوگ جونہی باپ کی عمر کو معقول حد سے تجاوز کرتا دیکھتے تھے اسے قتل کرکے، یا زیادہ رحم دل ہوتے تو قید کرکے، تخت حکومت پر جلوہ افروز ہوجایا کرتے تھے، تاکہ زیادہ سے زیادہ دن رعایا کی خدمت کا حق ادا کر سکیں۔

بابر

بابر شاہ سمر قند سے ہندوستان آیا تھا، تاکہ یہاں خاندان مغلیہ کی بنیاد ڈال سکے، یہ کام تو وہ بحسن و خوبی اپنے وطن میں بھی کرسکتا تھا، البتہ پانی پت کی پہلی لڑائی میں اس کی موجودگی ضروری تھی، یہ نہ ہوتا تو وہ لڑائی ایک طرفہ ہوتی، ایک طرف ابراہیم لودھی ہوتا دوسری طرف کوئی بھی نہ ہوتا، لوگ اس لڑائی کا حال پڑھ پڑھ کر ہنسا کرتے۔ یہ بادشاہ تزک لکھتا تھا، ٹوٹے پھوٹے شعر بھی کہتا تھا، پیشن گوئیاں بھی کرتا تھا، کہ عالم دوبارہ نیست اور دو آدمیوں کو بغل میں داب کر دوڑ بھی لگایا کرتا تھا، ظاہر ہے اتنی مصروفیتوں میں امور مملکت کیلئے کتنا وقت نکل سکتا تھا، شراب بھی پیتا تھا، یاد رہے، اس زمانے کے لوگوں کو مذہبی احکام کو ایسا پاس نہ تھا، جیسا ہمیں ہے، کہ محرم کے عشرہ کے دوران میں شراب کی دوکانیں بند رہتی ہیں، کسی کو پینی ہو تو گھر میں بیٹھ کر پئیے، کابل کو بہت یاد کرتا تھا، وہیں دفن ھوا، اس زمانے میں کابل شہر اتنا گندہ نہیں ہوتا تھا جتنا آجکل ہے۔

بھارت

یہ بھارت ہے، گاندھی جی یہی پیدا ہوئے تھے، لوگ ان کی بڑی عزت کرتے تھے، ان کو مہاتما کہتے تھے، چنانچہ مار کر ان کو یہیں دفن کر دیا اور سمادھی بنا دی، دوسرے ملکوں کے بڑے لوگ آتے ہیں تو اس پر پھول چڑھاتے ہیں، اگر گاندھی جی نہ مرتے یعنی نہ مارے جاتے تو پورے ہندوستان میں عقیدت مندوں کیلئے پھول چڑھانے کی کوئی جگہ نہ تھی، یہی مسئلہ ہمارے یعنی پاکستان والوں کے لئے بھی تھا، ہمیں قائدِ اعظم کا ممنون ہونا چاہئیے کہ خود ہی مرگئے اور سفارتی نمائندوں کے پھول چڑھانے کی ایک جگہ پیدا کردی ورنہ شاید ہمیں بھی ان کو مارنا ہی پڑتا۔ بھارت بڑا امن پسند ملک ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اکثر ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اس کے سیز فائر کے معاہدے ہوچکے ھیں،1965 میں ہمارے ساتھ ہوا اس سے پہلے چین کے ساتھ ہوا۔ بھارت کا مقدس جانورگائے ہے ، بھارتی اس کا دودہ پیتے ہیں، اسی کے گوبر سے چوکا لیپتے ہیں، اور اس کو قصائی کے ہاتھ بیچتے ہیں، اس لئیے کیونکہ وہ خود گائے کو مارنا یا کھانا پاپ سمجھتے ہیں۔

آدمی کو بھارت میں مقدس جانور نہیں گنا جاتا۔ بھارت کے بادشاہوں میں راجہ اشوک اور راجہ نہرو مشہور گزرے ہیں۔ اشوک سے ان کی لاٹ اور دہلی کا شوکا ھوٹل یادگار ہیں، اور نہرو جی کی یادگار مسئلہ کشمیر ہے جو اشوک کی تمام یادگاروں سے زیادہ مظبوط اور پائیدار معلوم ہوتا ہے ۔ راجہ نہرو بڑے دھر ماتما آدمی تھے، صبح سویرے اٹھ کر شیر شک آسن کرتے تھے، یعنی سر نیچے اور پیر اوپر کرکے کھڑے ہوتے تھے، رفتہ رفتہ ان کو ہر معاملے کو الٹا دیکھنے کی عادت ہوگئی تھی، حیدر آباد کے مسئلہ کو انہوں نے رعایا کے نقطہ نظر سے دیکھا۔ یوگ میں طرح طرح کے آسن ہوتے ہیں، نا واقف لوگ ان کو قلابازیاں سمجھتے ہیں، نہرو جی نفاست پسند بھی تھے دن میں دو بار اپنے کپڑے اور قول بدلا کرتے تھے

اگست 16, 2010 at 04:55 1 comment

تعبیر آزادی

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے             وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

پاکستان کا قیام جمعہ کے دن، شب نزول قرآن مجید کے مہینے میں ہوا جب شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں. پاکستان کے قیام میں اللہ کی خاص رحمت شامل ہے. انشاءاللہ پاکستان قیامت تک زندہ و آباد اور قائم و دائم رہے گا. کوئی طاغوتی طاقت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی. دشمن کی کوئی چال کوئی حربہ پاک سر زمین کو نقصان نہیں پہنچا سکتا. ہم کل بھی آزاد تھے آج بھی آزاد ہیں اور اپنے رب کی عطا سے کل بھی آزاد ہونگے. آج ہم اس پاک سر زمین کے مرغزاروں، ریگزاروں، آباد قصبوں اور شہروں میں آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں. یہاں کی سر سبز و شاداب وادیاں ہمیں زندگی کے جبر سے بے خبر کئے ہوئے ہیں. اس کے دامن میں جاری دریا اور اس کی تہوں میں چھپے خزانے ہماری توانائیوں کے جواب میں اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار ہیں. یہاں کے پہاڑوں کی بلندیاں اور سمندر کی وسعتیں ہماری ہمتوں کی آزمائش کے لئے محو انتظار ہیں. اس خطہ ارضی کے دامن میں قدرت کے ان گنت عطیات پوشیدہ ہیں. لیکن افسوس ہماری تمام تر توانائیاں سہل انگاری کی نظر ہو گئیں، ہماری خوابیدہ صلاحیتں کسی معجزہ کے ظہور کا انتظار کر رہیں ہیں.

لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سہل انگاری اور معجزوں کے تصور سے باہر نکلیں اور اپنے ان دشمنوں کو پہچانیں جنہوں نے ہمیں 63 برس تک قیام پاکستان کے اصل مقصد سے دور رکھا ہوا ہے. پاکستان ہمارے پاس اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک امانت ہے. یہ امانت ان        شہداء کی ہے جن کا گرم لہو پاکستان کی بنیادوں میں شامل ہے. یہ امانت ہے ہماری آئندہ نسلوں کی جنہیں کل اس کا پاسبان بننا ہے. پاکستان ایک حقیت ہے یہ عطیہ خداوندی ہے ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہیئے. آپ اپنے آپ پر غور کریں اور سوچیں کیا ہم اس عطیہ کی قدر کر رہے ہیں یا اس کا مذاق اڑا رہے ہیں. ہم جشن آزادی کیسے مناتے ہیں؟ کون سی ایسی غیر اخلاقی حرکت ہے جو ہم نہیں کرتے اگر آج ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے تو اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں. آج اگر پاکستان ڈوب رہا ہے اور باطل اس قوم کی تباہی و بربادی پر ہنس رہا ہے تو اس کی وجہ ہمارے اعمال ہیں. 14 اگست کے دن سائیلنسر فری موٹر سائیکلوں کا بے ہنگم شور کانوں کے پردے پھاڑ دیتا ہے، نوجوان راہ چلتی لڑکیوں اور عورتوں کے سروں سے دوپٹے کھینچ کر لے جاتے ہیں.

مادر پدر آزادی کے متوالے ایک پہیئے پر موٹر سائیکل چلا کر ماؤں کی گود ویران کر جاتے ہیں. بیہودہSMS کے ذریعے پاکستان کے وجود کا مذاق آڑایا جاتا ہے. باقی کسر یوم آزادی پر منائی جانے والی Special Nights پوری کر دیتی ہیں. جب رات کے اندھیرے میں پاکستان کی عزت اور غیرت کے سودے ہوتے ہیں، شراب کو حلال کیا جاتا ہے اور آزادی کے تقدس کو پامال کیا جاتا ہے. کیا یہ سب باتیں اللہ تعالٰٰی کو پسند آئیں گی ان حالات میں ہم پر عذاب نہیں نازل ہوں گے تو کیا اللہ کی رحمت ہو گی.  اگر جشن آزادی منانے کا اہتمام ہر سال 27 رمضان کو ہوتا تو شیاطین ہم پر قبضہ نہیں جماتے . نیکیوں کا حسین موسم ہوتا. ہر پاکستانی مسلمان روزہ دار ہوتا ، زبانوں پر تسبیح و تحلیل کے نغمے ہوتے، شب قدر میں رم جھم برستی آنکھوں کے ساتھ سجدہ شکر ادا ہوتے، سجدوں میں گڑگڑا کے پاکستان کی سلامتی اور ترقی کی دعائیں مانگیں جاتیں. قبولیت دعا کی رات کے بعد شب نزول قرآن کی مقدس اور پاکیزہ صبح طلوع ہوتی، شہیدوں کی ارواح کو ایصال ثواب کیا جاتا، آزادی کے ترانے نغموں اور الوداع الوداع ماہ رمضان کی صداؤں کے ساتھ مل کر پاکیزہ اور مقدس ہو جاتے.

عشرہ اعتکاف ہوتا، دلوں میں اللہ کا نور اور پاکیزگی ہوتی، ماں بہن کا احترام بھی بڑھ جاتا، ان کے سروں سے دوپٹے کھینچنے کی بجائے اپنی نظروں کی حفاظت کی جاتی کہ روزے کا احترام پیش نظر ہوتا، افطاریوں کا اہتمام جشن آزادی کا مزہ دوبالا کر جاتا، عید کی خوشی میں جشن پاکستان کی خوشی بھی شامل ہوتی، تب یقیناً رب ذوالجلال اس نعمت میں اور اضافہ فرماتا. اب بھی کچھ نہیں بگڑا توبہ کا وقت ابھی بھی باقی ہے اور رمضان المبارک کا مقدس مہینہ بھی شروع ہو چکا ہے. اے اہلیان وطن لوٹ چلتے ہیں اور بارگاہ خداوندی سے رجوع کرتے ہیں تاکہ اللہ اور اس کا محبوب صلی اللہ علیہ وسلم بھی راضی ہوں اور قائداعظم کی روح کو بھی سکون ملے.

آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش   اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی

پھر دلوں کو یاد آجائے گا پیغام سجود        پھر جبیں خاک حرم سے آشنا ہو جائے گی

اگست 12, 2010 at 06:24 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]