Posts filed under ‘Kids Corner : بچوں کی دنیا’

خوابوں کی کہانی



جون 22, 2011 at 05:46 تبصرہ کریں

بے زبان کی فریاد

ہمارے پڑوسیوں نے ایک کُتّا پال رکھا تھا جس کا مسکن ایک رکشا تھا جو وہ رات کو چلاتے تھے. کتا سارا دن تو اپنے مسکن یعنی رکشے میں پڑا اونگھتا رہتا تھا لیکن رات کا اندھیرا ہوتے ہی ایسی آفت مچاتا کہ خدا کی پناہ.کوئی چور یا ایرا غیرا گلی میں سے گزر نہیں سکتا تھا. تاہم،وہ اپنی گلی میں رہنے والوں کو کچھ نہ کہتا تھا. کیونکہ بچہ ہو یا بوڑھا، وہ ہر ایک کو پہچانتا تھا.
اسی محلے میں نوید بھی رہتا تھا جو بڑا بے رحم اور سنگدل تھا. چوری چکاری کرنا اور جانوروں کو ستانا اس کا مشغلہ تھا. کسی بھی جانور خواہ وہ کتا ہو یا بلی، کو پتھر مارنا اپنا فرض سمجھتا تھا. یہ بات سہیل کو بہت ناپسند تھی.وہ نوید کو سمجھاتا کہ یار! ان جانوروں پر ظلم نہ کیا کرو. یہ بے زبان ہیں لیکن نا حق ستانے سے اللہ تعالٰی سے فریاد کرتے ہیں. پھر یہ بات اللہ تعالٰی کو بھی نا پسند ہے کہ ہم اس کی بے زبان مخلوق کو ستائیں لیکن نوید کب ایسی باتوں کا نوٹس لیتا تھا.
ایک دن نوید رات کو گلی میں سے گزر رہا تھا کہ کتے کو دیکھتے ہی حسبِ عادت ایک پتھر اُٹھا کر مار دیا. پھر کیا تھا؟ نوید کو کتے سے جان چھڑانی مشکل ہو گئی.نوید آگے آگے اور کتا مسلسل اس کے پیچھے اس کے گھر تک آیا.نوید کو کتے کی اس حرکت پر بہت غصہ تھا.وہ کئی دنوں تک سوچتا رہا.آخر اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی. اس نے تھوڑا سا گوشت لا کر گلی میں مین ہول کے پاس ڈال دیا پھر جیسے ہی کتا مین ہول کے پاس گوشت کھانے پہنچا، اس نے بڑی پھرتی سے اسے مین ہول میں دھکا دے دیا. شدید سردی کے دن تھے،وہ بے زبان پانے میں گرتے ہی زور زور سے چلانے لگا.اتنے میں ایک دوسرے شخص کا گرز ہوا.اس نے جب آواز سن کر مین ہول میں جھانکا تو عجیب منظر نظر آیا، فوراً اسے پانی سے نکالا اور اپنی گرم چادر میں لپیٹ کر اس کے مسکن یعنی رکشے میں سیٹ کے نیچے بٹھا دیا.
دوستو! جب نوید کتے کو دھکا دے کر تیزی سے بھاگا تو اس کا پیر ایک بڑے پتھر سے ٹکرایا اور وہ گر پڑا. بڑی مشکل سے پڑوسیوں نے اس کو گھر پہنچایا بھر جب اسے ہسپتال لے گئے اور ایکسرے ہوا تو رپورٹ کے مطابق ناقابلِ یقین حد تک اس کی ہڈی دو ٹکڑے ہو چکی تھی.ڈاکٹروں نے اس کی ٹانگ کا آپریشن کر دیا.
کچھ ماہ بعد جب وہ صحت یاب ہو کر بیساکھی کے سہارے اس گلی سے گزر رہا تھا تو اس کی نظر پھر اس کتے پر پڑی تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے. اُدھر جب کتے نے اسے دیکھا تو بھاگتا ہوا آیا اور اس کے قدموں میں لپٹ گیا. وہ پیار سے نوید کے پاؤں چاٹنے لگا، جیسے کہہ رہا ہو کہ "غلطی میری تھی.”
بچو! ہمیں کبھی کسی جانور کو بے حق نہیں ستانا چاہیے. وہ بے زبان ہو کر بھی زبان رکھتے ہیں اور اللہ تعالٰٰی سے فریاد کرتے ہیں. اللہ تعالٰی سب کی سنتا ہے، جیسے نوید کو اس کے کیے کی سزا مل گئی.

جون 20, 2011 at 10:28 1 comment

سنہری مچھلی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی چھوٹے سے گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا. اس کا نام دینو تھا. دینو ابھی بہت چھوٹا تھا کہ اس کا باپ فوت ہو گیا. وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا. دینو ایک بہت ہی ایماندار اور شریف لڑکا تھا. وہ صبح صبح گھر سے نکلتا اور جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنا اور اپنی ماں کا پیٹ پالتا تھا. ایک دن صبح صبح روکھی  سوکھی روٹی کھا کر ماں کو سلام کر کے جنگل کی طرف روانہ ہو گیا. اس نے سوچا گھر کا راشن ختم ہو چکا ہے، آج میں بہت زیادہ لکڑیاں کاٹوں گا. دینو نے ایک بہت ہی موٹا اور تناور درخت ڈھونڈا اور لکڑیاں کاٹنے لگا. اس درخت کے پاس ہی بہت بڑی جھیل تھی. لکڑیاں کاٹتے کاٹتے دینو کا کلہاڑا ہاتھ سے چھوٹ کر پاس سے گزرتی ہوئی جھیل میں جا گرا. دینو بہت پریشان ہوا اور سوچنے لگا کہ یہ کلہاڑا اس کی روزی کمانے کا واحد ذریعہ تھا، جو اب اس کے پاس نہیں رہا تھا. اب وہ گھر کا سامان کیسے خریدے گا اور ماں کو کیا جواب دے گا. یہ سوچ کر دینو جھیل کے پاس بیٹھ کر رونے لگا. دینو زور زور سے رو رہا تھا. اسی جھیل کے اندر ایک بہت ہی پیاری سنہری مچھلی اپنی دادی کے ساتھ رہا کرتی تھی. جب سنہری مچھلی نے جھیل کے اوپر رونے کی آواز سنی تو وہ جھیل کے اوپر آ گئی. سنہری مچھلی نے ایک چھوٹے لڑکے کو روتے دیکھا تو پوچھا تم کیوں رو رہے ہو؟ دینو نے سنہری مچھلی کو بتایا کہ اس کا کلہاڑا جھیل میں گر گیا ہے جس سے وہ لکڑیاں کاٹ کر گزارہ کیا کرتا تھا. یہ سن کر سنہری مچھلی نہ کہا تم مت روؤ، میں تمھارا کلہاڑا تلاش کرتی ہوں. یہ کہہ کر سنہری مچھلی اپنی دادی اماں کے پاس آئی اور ساری بات بتائی. سنہرے مچھلی کی دادی اماں نے کہا  کہ مجھے وہ لکڑہارا بہت غریب لگتا ہے ، تم اسے اپنا سونے کا کلہاڑا تحفے میں دے دو. سنہری مچھلی نے سونے کا کلہاڑا لیا  اور لکڑہارے کے پاس آ کر کہا. یہ لو تمہارا کلہاڑا. دینو نے جب اپنے لوہے کے کلہاڑے کی بجائے سونے کا کلہاڑا دیکھا تو اس نے کہا یہ میرا کلہاڑا نہیں ہے. میرا کلہاڑا تو لوہے کا تھا.
سنہری مچھلی اپنی دادی اماں کے پاس واپس آئی اور اسے ساری بات سنائی. سنہری مچھلی کی دادی اماں نے کہا وہ لکڑہارا تو بہت ایماندار ہے. تم اسے اس کا لوہے کا کلہاڑا تلاش کر دو اور اپنا سونے کا کلہاڑا بھی اسے تحفے میں دے دو.
سنہری مچھلی لوہے کا کلہاڑا تلاش کرنے لگی، جو اسے جلد ہی مل گیا. وہ دونوں کلہاڑے لے کر دینو کے پاس آئی اور کہا یہ رہا تمہارا لوہے کا کلہاڑا اور یہ سونے کا کلہاڑا تمھاری ایمانداری کا انعام ہے. دینو دونوں کلہاڑے لے کر بہت خوش ہوا اور سنہری مچھلی کا شکریہ ادا کیا. گھر واپس آ کر دینو نے سارا واقعہ اپنی ماں کو سنایا . اس کی ماں بہت خوش ہوئی. دینو نے اس سونے کے کلہاڑے سے ایک لکڑی کاٹی. جیسے ہی دینو نے سونے کا کلہاڑا لکڑی پر مارا وہ سونے کی بن گئی. دینو بہت حیران ہوا. دینو جہاں بھی وہ سونے کا کلہاڑا مارتا وہ چیز سونے کی بن جاتی. اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے سارا گھر سونے میں تبدیل ہو گیا. دینو اور اس کی ماں بہت خوش ہوئے اور یہ سب دینو کی ایمانداری کا انعام تھا.
دینو کے ہمسائیوں میں ایک بہت ہی مغرور اور لالچی عورت اور اس کا بیٹا رہتے تھے. جب انہیں اس بات کا علم ہوا کہ دینو کو جھیل میں سنہری مچھلی نے ایک سونے کا کلہاڑا دیا ہے جس سے اس کا گھر سونے میں بدل گیا ہے. تو وہ عورت اپنے بیٹے کے ساتھ لوہے کا کلہاڑا لے کر جھیل پر گئی اور اپنے بیٹے کو سمجھانے لگی کہ تم جان بوجھ کر اپنا لوہے کا کلہاڑا جھیل میں پھینکنا، پھر جیسے ہی سنہری مچھلی اوپر آئے اسے کہنا کہ میرا کلہاڑا جھیل میں گر گیا ہے. میں بہت غریب لڑکا ہوں اور اگر وہ لوہے کا کلہاڑا لے کر آئے تو اسے کہنا یہ تو میرا کلہاڑا نہیں ہے، میرا کلہاڑا تو سونے کا تھا. یہ ساری باتیں سنہری مچھلی نے سن لیں  اور واپس آ کر اپنی دادی اماں کو بتائیں. اس کی دادی ماں نے کہا مجھے یہ عورت اور لڑکا لالچی معلوم ہوتے ہیں. تم انہیں اپنا جادو کا کلہاڑا دے دو تا کہ انہیں لالچ کی سزا ملے. سنہری مچھلی اپنی دادی کے کہنے کے مطابق جادو والا سونے کا کلہاڑا لے آئی اور اس لڑکے کو کہا کہ یہ تمھارا کلہاڑا ہے؟ اس لڑکے نے کہا ہاں یہ میرا کلہاڑا ہے، یہ میرا کلہاڑا ہے جو جھیل میں گر گیا تھا. مجھے میرا کلہاڑا واپس دو، جسے پا کر وہ لڑکا اور اس کی ماں بہت خوش ہو گئے. گھر کی ہر ایک چیز ٹوٹ چکی تھی. یہ دیکھ کر لڑکا اور اس کی ماں بیٹھ کر رونے لگے مگر اب رونے کا کیا فائدہ. یہ تو ان کے لالچ کا نتیجہ تھا. سچ ہے، لالچ بہت بری بلا ہے.

اپریل 26, 2011 at 06:18 تبصرہ کریں

مظلوم اونٹ کی کہانی

آج کی کہانی بچوں کے نام:

پیارے بچو!!!!

سندھ کے ریگستانی علاقے میں ایک چھوٹا سا گاؤں تھا.یہ کہانی اس گاؤں کے ایک لڑکے کی ہے جس کانام خدا بخش تھا. سب گاؤں والے خدابخش کو بخشو کے نام سےپکارتے تھے

یہ گاؤں صحرائے تھر کے ساتھ لگتا تھا جس کی وجہ سے گاؤں والوں کے لئے پینے کا پانی حاصل کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا. گاؤں کے لوگ اپنی زندگیوں کا قیمتی وقت پانی کی تلاش میں گزار دیتے تھے، کبھی سال میں ایک آدھ بار بارش ہو جاتی تھی اور پانی گڑھوں یا تالابوں کی شکل میں جمع ہو جاتا تو گاؤں والے وہاں سے پانی حاصل کرتے. گاؤں میں کئی جگہوں پر سینکڑوں فٹ گہرے کنویں تھے. گاؤں والوں کو کئی کئی میل کا سفر طے کر کے پانی لینے جانا پڑتا. ان ساری مشکلات میں وہ اونٹوں کی مدد لیتے تھے کینونکہ صحرا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنا اونٹوں کے بغیر ممکن نہیں اس لئے گاؤں کے اکثر لوگوں کے پاس اونٹ تھے.

بخشو جس کے بارے میں آپ نے اوپر پڑھا اُس کے باپ نے بھی دو اونٹ پال رکھے تھے. یہ اونٹ ان کے مختصر سے کنبے کا حصہ بن چکے تھے. بخشو کے باپ کو ان اونٹوں سے بہت پیارتھا. وہ انکو اپنے ہاتھوں سے دانہ ڈالتا اور تو اور بخشو کی ماں بھی ان کا بہت خیال رکھتی تھی.

مگر میرے پیارے دوستو!!!!!!

بخشو کی عادت اپنے والدین سے بالکل مختلف تھی. اس کا دماغ ہر وقت شرارتوں میں لگا رہتا. وہ اکثر ان اونٹوں کے چارے میں مٹی ملا دیتا، کبھی ان کے پینے کے پانی میں صابن گھول دیتا، بخشو کا باپ اونٹوں کو چرانے کے لئے جنگل میں چھوڑتا اور بخشو کو انکی نگرانی پر لگا دیتا. یہ موقع بخشو کے لئے سنہری موقع ہوتا تھا. وہ اس موقع سے خوب فائدہ اُٹھاتا. بخشو چھوٹے چھوٹے پتھر جمع کر کے کسی درخت پر چڑھ جاتا اور نشانہ لے لے کرمارتا، بیچارے اونٹ درد سے بلبلاتے اور ان کی درد بخشو کو بہت مزہ دیتی تھی. بعض اوقات تو خارش کی وجہ سے اونٹوں کے جسم پر کہیں کہیں زخم بھی ہو جاتے تھے، بخشو غلیل سے انہی زخموں پر نشانہ لگاتا، اونٹ اُچھل کر اِدھراُدھر بھاگتے تو بخشو کو بڑا مزہ آتا.

بخشو کے چچا نے جب اُسے ایسی حرکتیں کرتے ہوئے دیکھا تو اُس کو اس سب سے منع کیا اور اُسے ہدایت کی کہ یہ بے زبان جانوربد دُعائیں دیتے ہیں، ان کی بد دُعا لگ جاتی ہے پر بخشو نے اس نصیحت پے کوئی کان نا دھرا اور اپنی ہرکتوں سے باز نہ آیا. ایک دن گاؤں کے ایک بزرگ نے بخشو کی یہ حرکت دیکھی تو اسے سمجھاتے ہوئے کہا بابا کینہ شتر اونٹ کی دشمنی سے ڈر، جب یہ بے زبان جانور اپنا غصّہ نکالنے پر آتا ہے تو جان لے کر ہی چھوڑتا ہے.ُ

پیارے بچو ایک اور خاص بات…..

بخشو کے گاؤں میں کوئی مدرسہ نہیں تھا، اس کا سارا دن انہی شرارتوں میں گزر جاتا تھا، اس کے ہم عمر بھی اسی کی طرح جنگل میں اونٹ چراتے تھے اور شرارتیں کرتے تھے، ایک دن مغرب کے وقت یہ لڑکے اونٹ چرا کر گاؤں کو لَوٹ کر آ رہے تھے کہ ان کے کانوں میں یہ بات پڑی کہ گاؤں کی مسجد میں نئے امام صاحب آئے ہیں، بچے صرف انکو دیکھنے کے شوق میں نماز پڑھنے چلے گئے، دیکھا تو ایک سفید عمامہ والے باوقار مولانا صاحب مصلح پر تھے.

مولانا صاحب نے بڑے اچھی آواز میں قرات کی، نمازیوں کو بڑا مزہ آیا، نماز کے بعد مولوی صاحب نے اعلان کیا کہ کل سے یہاں بچوں کے لئے صبح قرآن مجید کی تعلیم کا آغاز ہو گا، نمازی حضرات اپنے اپنے بچوں کو داخل کرائیں تا کہ ان کے بچے قرآن مجید کی تعلیم سے محروم نہ رہیں، عشاء کی نماز کے بعد قرآن مجید کا درس ہوا کرے گا.

اگلے دن بخشو اور اس کے کئی دوستوں کو امام صاحب کے پاس پڑھنے کے لئے بٹھا دیا گیا، انکو تو الف با بھی نہیں آتی تھی، امام صاحب نے انہیں نورانی قاعدا شروع کروا دیا، رات کو مولوی صاحب درسِِ قرآن میں اچھی اچھی باتیں بتاتے جس سے لوگوں کی اصلاح ہونے لگی، ایک دن مولوی صاحب نے بخشو اور اس کے دوستوں کو جنگل میں اونٹوں کے ساتھ شرارتیں کرتے ہوئے دیکھ لیا، اس وقت تو کچھ نہ بولے مگر رات کو درسِ قرآن میں انہوں نے موقع کی مناسبت سے یہ واقع سنایا:

ایک دن حضور نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلّم نے پوچھا اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ ايک انصاری صحابی نے آکر عرض کيا يہ ميرا اونٹ ہے۔

آپ صلی اللہ عليہ وسلّم نے فرمايا جس اللہ نے تمہيں اس کا مالک بنايا ہے، تم اس اونٹ کے بارے ميں اللہ سے نہيں ڈرتے،  يہ اونٹ تمہاری شکايات کر رہا ہے، تم اس کو بھوکا رکھتے ھو اس سے اسکی طاقت سے زيادہ کام ليتے ہو۔

اس کے بعد وہ انصاری صحابی اونٹ کا زيادہ خيال رکھنے لگے اس کو چارہ بھی زيادہ ديتے اور اس کو آرام کا موقع بھی ديتے۔امام صاحب سے يہ واقع سن کر بخشو اور اس کے دوستوں کو بہت اثرہوا اس لئے کہ روزانہ اللہ اور اس کے پيارے حضور نبی صلی اللہ عليہ وسلّم کی باتيں سن سن کر انکے دلوں ميں اللہ اور پيارے حضور نبی صلی اللہ عليہ وسلّم کی محبت دل ميں بيٹھ گئی تھی.

بخشو اور اس کے دوستوں نے اس کے بعد اونٹوں  کوکبھی نہيں تنگ کيا.

تو پیارے دوستو اپنےآپ بھی وعدہ کر لو کہ آج کے بعد کسی بے زبان جانور کو تنگ نہیں کرو گے اور انکا بھی اتنا ہی خیال رکھو گے جتنا اپنا رکھتے ہو.

مارچ 24, 2011 at 06:35 تبصرہ کریں

ایک گونگا تین بہرے

ایک بہرا جنگل میں بکریاں چرا رہا تھا اسے سخت بھوک لگ رہی تھی، مگر اس کی بیوی اب تک کھانا لے کر نہیں آئی تھی اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا آدمی بیٹھا گھاس کاٹ رہا تھا وہ شخص بھی بہرا تھا پہلے بہرے شخص نے کہا بھائی، میری بیوی میرے لیے کھانا نہیں لائی مجھے بھوک لگ رہی ہے، آپ میری بکریوں کی حفاظت کریں میں جب تک گھر سے کھانا کھا آتا ہوں۔
دوسرا بہرا سمجھا کہ یہ مجھے اپنی بکریوں کے لیے گھاس مانگ رہا ہے اس نے کہا، نہیں میں گھاس نہیں دوں گا۔
پہلا بولا۔ میں بہت جلد واپس آجاؤں گا، تم فکر نہ کرو۔
دوسرا بولا، یہ گھاس میں نے اپنی بکریوں کے لیے کاٹی ہے۔ میں یہ گھاس تمہیں نہیں دوں گا۔
پہلا سمجھا کہ دوسرا کہہ رہا ہے، تم جاؤ، وہ چلا گیا، جب وہ کھانا کھا کر واپس آیا تو اس نے اپنی بکریں دیکھیں جو پوری تھیں اور وہ آدمی بدستور گھاس کاٹ رہا تھا۔ اس نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر یہ چاہتا تو میری ساری بکریاں لے جاتا  مگر شریف آدمی لگتا ہے کیوں نہ میں اسے اپنی لنگڑی بکری تحفے میں دے دوں۔ وہ اپنی لنگڑی بکرے لے کر اس آدمی کے پاس گیا اور کہا، تم نے میری بکریوں کی حفاظت کی ہے اس لیے میں یہ بکری تمہیں تحفے میں دیتا ہوں لیکن یہ بکری لنگڑی ہے۔
دوسرے بہرے نے کہا۔ میں نے اس بکری کی ٹانگ نہیں توڑی۔
پہلا بولا۔ میں یہ بکری تمہیں خوشی سے دے رہا ہوں لے لو۔
دوسرا بہرا بولا۔میں نے تمہاری بکری کی ٹانگ نہیں توڑی۔ اسی دوران سامنے سے ایک شخص آتا دکھائی دیا وہ شخص بھی بہرا تھا دونوں بہروں نے اسے روکا، تیسرا بہرا شخص گھوڑے سے اتر آیا۔
پہلے بہرے نے کہا۔ میں اسے یہ بکرے دے رہا ہوں مگر یہ نہیں لے رہا ہے۔
دوسرا بہرا بولا۔ اس بکری کی ٹانگ میں نے نہیں توڑی۔
تیسرا شخص بولا۔ ہاں تم دونوں ٹھیک کہہ رہے ہو، یہ گھوڑا میں نے چوری کیا ہے میں یہ تمہیں واپس دیتا ہوں مجھے معاف کردو۔ انہوں نے سامنے سے ایک لمبی سفید داڑھی والے بوڑھے کو آتے دیکھا تو تینوں اس کے پاس گئے۔
پہلا بولا۔ باباجی، میں کھانا کھانے گیا اس نے میری بکریوں کی حفاظت کی، اس لیے میں اسے اپنی ایک بکرے دے رہا ہوں مگر یہ نہیں لے رہا ہے۔
دوسرا بہرا بولا۔ میں نے اس سے کہہ دیا کہ میں نے بکری کی ٹانگ نہیں توڑی مگر یہ مانتا ہی نہیں۔
تیسرا بہرا بولا۔ میں مانتا ہوں کہ میں نے چوری کی ہے اور یہ گھوڑا تمہارا ہے لیکن آپ لوگ مجھے معاف کردیں میں آئندہ چوری نہیں کروں گا۔ بوڑھا شخص تینوں کو غور سے دیکھنے لگا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، انہیں گھور کر دیکھنے لگا، وہ سمجھے یہ کوئی جادوگر ہے، جو ان پر جادو کرنا چاہتا ہے، وہ تینوں اپنی اپنی چیزیں لے کر بھاگ گئے۔

مارچ 11, 2011 at 06:46 تبصرہ کریں

عقل مند گدھا

جنگل کے بادشاہ ببر شیر نے چشمے کے کنارے والی چٹان کے نیچے گھنی جھاڑیوں سے جھانک کر دور تک پھیلے دھان کے لہلہاتے کھیت پر نظر ڈالی، بہت دور ایک درخت کے نیچے کوئی چیز ہلتی ہوئی نظر آرہی تھی، شہر نے پنجوں سے آنکھیں ملتے ہوئے دوبارہ اس طرف دیکھا، یقینا وہ کالا ہرن تھا، شیر رات سے بھوکا تھا۔ کالے ہرن کے لذیز گوشت کے تصور ہی سے اس کے منہ میں پانی آگیا اور ایک ماہر شکاری کی مانند جھاڑیوں کی آڑ لیتے ہوئے اس نے ہرن کی طرف قدم بڑھائے….
دوسری طرف بانسوں کے جھنڈ میں ایک چیتا بھی ہرن پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ بھوک سے اس کے پیٹ میں بھی چوہے دوڑ رہے تھے۔ چیتے نے بھی ہرن کی طرف بڑھنا شروع کیا۔
ہرن دونوں طرف سے بڑھتے ہوئے خطروں سے بے خبر نرم نرم گھاس کھانے میں مشغول تھا. کبھی کبھی وہ اپنی بادام جیسی آنکھیں گھما کر ادھر ادھر دیکھتا اور پھر گھاس کھانے لگتا۔ جانور خطرے کی بو سونگھ لیتے ہیں۔ ہرن کی بے چین آنکھی ظاہر کر رہی تھیں کہ اس نے خطرے کی بو سونگھ لی ہے۔ اس نے کان کھڑے کر کے گردن گھما کر چشمے کی طرف دیکھا جہاں میدان میں دو ریچھ کے بچے کھیل رہے تھے، ابھی ہرن پہاڑ کی طرف رخ کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ مشرق اور جنوب سے شیر اور چیتے نے جھاڑیوں سے چھلانگیں لگائیں اور دونوں تیر کی طرح ہرن کی طرف لپکے، ہرن لمبی لمبی قلانچیں مارتا ہوا پہاڑوں کی طرف بھاگا۔
شیر اور چیتے کی رفتار کے مقابلے میں ہرن کی رفتار کم تھی، لیکن وہ اپنے ہلکے اور سڈول جسم کی وجہ سے ان دونوں کو غچہ دیتے ہوئے بھاگ رہا تھا، اس بھاگ دوڑ میں ان تینوں نے میلوں کا فاصلہ طے کر لیا، آخر کار ہرن ایک چٹان پر چڑھ گیا، جو اتنی اونچی تھی کہ اس پر شیر اور چیتا نہیں چڑھ سکتے تھے، شیر اور چیتا چٹان کے نیچے زبانیں نکالے ہانپ رہے تھے اور ہرن کو للچائی نظروں سے دیکھ رہے تھے، جب سانسیں درست ہوئیں تو شیر نے کہا۔ ”یہ میرا شکار ہے پہلے میں نے تاکا تھا“۔
چیتے نے غصے سے جواب دیا۔ ”آپ جنگل کے بادشاہ ضرور ہیں لیکن یہ جنگل ہے انسانوں کی دنیا نہیں کہ بادشاہ جو چاہے کرے، جانور اپنے حقوق کی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں۔ یہ میرا شکار ہے“۔
شیر دہاڑا: ”انسان ہو یا جانور‘ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہر جگہ چلتا ہے میں تم سے زیادہ طاقتور ہوں“۔
شیر اور چیتے کی تکرار سن کر ہرن نے اطمینان کا سانس لیا اور کہا ”میرے محترم بادشاہ ہو! یہ میری خوش نصیبی ہوگی کہ میں آپ جیسے شاہی خاندار کے افراد کی غذا بنوں، لیکن پہلے آاپ دونوں طے کر لیں کہ آپ میں سے کون میرا لذیذ گوشت نوش فرمائے گا“۔
شیر اور چیتا دوبارہ تکرار کرنے لگے، اسی دوران ادھر سے ایک گدھے کا گزر ہوا تو ہرن نے جھٹ سے مشورہ دیا ”میرے خیال سے آپ دونوں اس سلسلے میں گدھے صاحب سے مشورہ لے لیں، کیوں کہ مشورہ دینے کے لیے عقلمند ہونا ضروری نہیں“۔
شیر نے کہا ”چلو مجھے منظور ہے، وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے“۔
چیتے نے گدھے کو حکم دیا ”گدھے کے بچے! ادھر آﺅ….“
گدھا پہلے تو ڈرا کہ کہیں یہ دونوں اسے ہی ہڑپ نہ کر لیں، پھر ڈرتے ڈرتے دانت نکالتا ہوا ان کے قریب آیا اور جب اس نے پورا قصہ سنا تو خوشی سے مشورہ دیا ”ہاں تو شیر صاحب آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ نے ہرن پر پہلے نظرِ بد ڈالی جب کہ چیتے صاحب کا دعویٰ ہے کہ ہرن کو دیکھ کر پہلے ان کی رال ٹپکی، کیوں کہ یہاں کوئی گواہ نہیں ہے اس لیے میرا مشورہ ہے کہ آپ دونوں اپنی اپنی جگہ تشریف لے جائیں اور جب میں رینکنا شروع کروں تو آپ دونوں دوڑنا شروع کر دیں جو بھی پہلے یہاں پہنچ جائے گا وہی ہرن میاں کو نوش فرمانے کا حق دار ہو گا“۔
شیر اور چیتا بھوک سے بے تاب تھے، لیکن دونوں کو اپنی تیز رفتاری پر ناز تھا اس لیے انہوں نے گدھے کی تجویز مان لی اور یہ طے ہوا کہ دونوں اپنی اپنی جگہ لوٹ جائیں گے اور اس دوران ہرن صاحب چٹان سے اتر کر نہا دھو کر ان میں سے ایک کی خوراک بننے کے لیے میدان میں کھڑے ہو جائیں گے اور جیسے ہی گدھے صاحب اپنی بے سری آواز میں رینکنا شروع کردیں گے، دوڑ شروع ہوجائے گی۔
شیر اور چیتا اپنی اپنی جگہ واپس چلے گئے، جب کافی دیر تک گدھے کے رینکنے کی آواز نہ آئی تو دونوں کا ماتھا ٹھنکا، پہلے تو انہوں نے ایک دوسرے کو گھورا، پھر چٹان کی طرف دوڑنا شروع کیا، جب وہ چٹان کے نزدیک پہنچے تو دیکھا وہاں چاروں طرف ویرانی اور سناٹا تھا۔ ہرن کا کہیں پتا نہ تھا اور گدھے کے سر سے سینگ ہی نہیں پورا گدھا غائب تھا۔
شیر نے غصہ سے چیخ کر کہا۔ ”اس گدھے کے بچے نے ہمیں دھوکا دیا“۔
چیتے نے سر جھکا کر افسوس سے کہا۔ ”شیر صاحب! گدھا وہ نہیں ہم دونوں ہیں“۔

مارچ 7, 2011 at 07:20 تبصرہ کریں

ہنسی کی دنیا!!!!

ایک سائیکل سوار کسی محلے سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک بچہ سائیکل کی زد میں آ گیا اور زور زور سے رونے لگا ،سائیکل سوار نے اسے جلدی سے بیس روپے دئیے اور اسے چپ کروانے لگا،بچہ فوراٌ چپ ہو گیا اور بولا:“انکل آپ پھر کب آئیں گے؟؟؟“
بیوی: آپ اتنے بدذوق ہیں کہ جب بھی میں گانا گاتی ہوں تو آپ باہرچلے جاتے ہیں۔
شوہر: میری بھی محلے میں کوئی عزت ہے، میں نہیں چاہتا کہ محلے والے سمجھیں کہ میں تمہیں مار رہا ہوں۔
مالک:(نوکرسے)جلدی سے بازار جاؤ اور اچھی کوالٹی کی ماچس لے کے آؤ اور دیکھنا کہیں وہ جعلی نا ہوں۔
نوکر بازار سے واپس آ کر بولا:میں نے ماچس کی ایک ایک تیلی جلا کر دیکھی ہے سب کی سب اصلی ہیں۔
بھکاری ایک شخص سے:خدا کے  نام پر ایک روپیہ دو جو مانگو گے دوں گا، اس شخص نے ایک روپیہ دے دیا-
بھکاری بولا: مانگ اب کیا مانگتا ہے-
اس  شخص نے کہا : مجھے میرا روپیہ واپس کردو-
ایک شاگرد امتحان ہال میں بیٹھا پرچہ دیکھ رہا تھا۔
استاد نے پوچھا: کیوں بھئی کیا پرچہ مشکل ہے۔
شاگرد نے کہا: پرچہ تو مشکل نہیں، مگر میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اس سوال کا جواب میری کس جیب میں ہے۔
بچہ چائینیز سے، کیا تم امریکن ہو۔
چائینیز، نہیں میں چائنیز ہوں۔
بچہ، نہیں تم امریکن ہو۔
چائینیز غصے سے، ہاں ہاں میں امریکن ہوں۔
بچہ، لیکن لگتے تو چائینیز ہو۔
ایک آدمی سبزی لینے گیا سبزی والا باربار سبزی پر پانی مار رہا تھا آدمی انتظار کرتا رہا جب کافی وقت گزر گیا تو آدمی غصے سے بولا۔
بھائی صاحب ! سبزی کو ہوش آگیا ہو تو تول بھی دو۔
کرایہ دار مالک مکان سے، دیکھیں محترم مکان کی ساری چھت ٹپک رہی ہے، کمروں میں، برآمدے میں، آنگن میں سب جگہ پانی ہی پانی ہے، میری مرغیاں ڈوبی جارہی ہیں۔
مالک مکان: تو جناب آپ بطخیں کیوں نہیں پال لیتے۔
ایک پاگل دوسرے سے، تمہیں پتا ہے کہ بھارت اور انڈیا میں جنگ ہو رہی ہے۔
دوسرا پاگل، ہاں ہاں میں نے بھی سنا ہے۔ وہ تو اچھا ہو کہ ہندوستان بیچ میں نہیں آیا ورنہ بڑی تباہی ہوتی۔
شوہر میں تنگ آگیا ہوں، تم ہمیشہ میرا گھر، میری کار ہی کہتی رہی ہو، کبھی ہمارا بھی کہا کرو۔
اب الماری میں کیا ڈھونڈ رہی ہو۔
بیوی: ہمارا دوپٹہ۔
ایک آدمی نے مکھی کی پہچان کا عجیب طریقہ نکالا۔
ایک روز اس نے اعلان کیا کہ آج میں نے چھ مکھیاں ماریں۔ تین نر تھیں اور تین مادہ۔
اس کے دوست نے پوچھا۔ نر اور مادہ کا آپ کو کیسے پتا چلا۔
اس نے جواب دیا: بڑی آسانی سے، تین مکھیاں مٹھائی پر بیٹھی تھیں اور تین آئینے پر۔
ایک کسان کا بیٹا پڑھ لکھ کر دوسرے ملک چلا گیا۔ کچھ دن بعد اس نے اپنے گاوں خط لکھا اور کہا کہ میری فیملی کو یہاں بھیج دیں۔کسان کو فیملی کا مطلب نہیں پتہ تھا۔
کئی لوگوں سے پوچھا،آخر ایک شخص نے فیملی کا مطلب رضائی بتایا۔ کسان نے اپنے بیٹے کو خط لکھا:”تمہاری فیملی کو چوہے کھا گئے ہیں،وہاں سے نئی فیملی خرید لو۔”
مالک:آخر تم نوکری کیوں چھوڑ رہے ہو؟
نوکر:آپ کو مجھ پر اعتماد نہیں ہے۔
مالک:گھر کی تمام چابیاں تو تمہیں دے رکھی ہیں۔
نوکر:لیکن ان میں سے ایک بھی چابی تجوری کو نہیں لگتی۔
استاد دو سگے بھائیوں سے :”تم دونوں نے اپنے والد کا نام مختلف کیوں لکھا ہے”؟
ایک بھائی:”ایک جیسا لکھ دیتے تو آپ کہتے کہ تم دونوں نے نقل کی ہے۔”
استاد: (شاگرد سے) ” تم آج بھی اسکول کا کام نہیں کرکے آئے ۔ مار کھانے کے لیے تیار ہوجاؤ
شاگرد: ”جناب! میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں
استاد: ”وہ کیوں؟“
شاگرد:” میری ماں نے ہدایت کر رکھی ہے کہ ہرچیز کھانے سے پہلے ہاتھ ضرور دھو لیا کرو۔“
پائلٹ(کنٹرول ٹاور سے) ہمارا پٹرول ختم ہو چکا ہے سرگودھا پر، براہ مہربانی ہدایت دیجئے۔
کنٹرول ٹاور(پائلٹ سے) گناہوں کی معافی مانگ لیجئے۔
کرکٹ ٹیم کے منیجر نے کپتان سے کہا ” یہ لو دو سو روپے ۔ نئی گیند خریدو یا کچھ بھی کرو، بس ہمیں یہ میچ ہر قیمت پر جیتنا ہے۔“
جب میچ شروع ہوا تو منیجر نے دیکھا کہ وہی پرانی گیند استعمال کی جارہی ہے۔ ا س نے کپتان کو بلا کر پوچھا۔
”گیند بھی نئی نہیں خریدی میری رقم کا کیا کیا؟“
”آپ ہی نے تو کہا تھا کہ ہمیں ہر قیمت پر میچ جیتنا ہے۔ چنانچہ ہم نے وہ دو سو روپے امپائر کو دے دیئے۔“ا
” میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم آٹھویں میں پاس ہوگئے تو تمہیں سائیکل خرید کر دوں گا مگر تم تو فیل ہوگئے ۔ آخر سارا سال تم کیا کرتے رہے؟“ باپ نے غصے سے اپنے بیٹے سے پوچھا۔
”وہ میں سارا سال سائیکل چلانے کی مشق کرتا رہا۔“ بیٹے نے معصومیت سے جواب دیا۔
مالک (نوکرسے) ” میں ذرا کام سے باہر جا رہا ہوں تم ہوشیاری سے کام لینا۔اور ہاں! اگر کوئی گاہک آئے تو اس سے ادب سے پیش آنا۔
تھوڑی دیر بعد مالک واپس آیا تو نوکر سے پوچھا ” کوئی آیا تھا؟
نوکر: جی ایک شخص آیا تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر کھڑے ہو جائو۔ میں نے اس کا حکم ادب سے مانا اور وہ تجویری اٹھا کر لے گیا۔
باپ اپنے بیٹے سے:یہ کیا یے؟تمہارے ٹیسٹ میں 0 نمبر ہیں؟
بیٹا:نہیں ابو ٹیچر کہ پاس اسٹار ختم ہو گئے تھے تو انہوں نےسیارے دینے شروع کر دیے
ماں اپنے لاڈ لے بیٹے سے:بیٹا!جب تم بڑے ہو کر جہاز چلاؤ گے تو مجھے کیسے پتا چلے گا کہ میرا بیٹا جہاز چلا رہا ہے؟
بیٹا:ماں میں جب بھی گھر کے اوپر سے گزروں گا،ایک بم پھنک دیا کروں گا۔
یہ ایک ڈراؤنی کہانی ہے
اگر ہمت ہے تو پڑھو۔
ایک دفعہ ایک بھیانک بوڑھا تیز بارش میں ، ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں بیچ رہا تھا۔
ایک آدمی اس سے خریدنے آیا۔
بوڑھے نے 300 روپے میں ایک کتاب بیچی۔
اور کہا:
کتاب کا آخری صفحہ نہ کھولنا ۔۔۔۔
ورنہ۔۔۔۔۔
پچھتاؤ گے۔
اس آدمی نے پوری کتاب ڈرتے ہوئے پڑھی
سوائے
اس آخری صفحے کے۔
ایک دن
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے ڈرتے ہوئے آخری صفحہ کھولا
اور
اس کو بری طرح جھٹکا لگا۔
اس پہ لکھا تھا:
*
*
*
*
*
*
*
قیمت: 30 روپے ۔

یہ ایک سچّا واقعہ ہے جو پچھلے مہینے لونا والا کے پاس پیش آیا ـ ہوا یوں کہ ایک لڑکا ممبئی سے پُنے اپنی کار سے جا رہا تھا، گھاٹ کے قریب اُسکی کار خراب ہوگئی دور دور تک کوئی نظر بھی نہیں آ رہا تھا ـ پھر وہ لِفٹ لینے کے چکر میں سڑک کے کنارے کنارے چلنے لگا ـ رات اندھیری اور طوفانی تھی، پانی جھماجھم برس رہا تھا وہ پوری طرح بھیگ کر تھر تھر کانپنے لگا ـ اُسے کوئی کار نہیں ملی اور پانی اِتنا تیز برس رہا تھا کہ کچھ میٹر دور کی چیزیں بھی دکھائی نہیں رہی تھیں ـ تبھی اُس نے ایک کار کو اپنی طرف آتے دیکھا، جب کار اُس کے قریب آئی تو رفتار دھیمی ہوگئی ـ لڑکے نے آو دیکھا نہ تاو، جھٹ سے کار کا پچھلا دروازہ کھولا اور اندر کود گیا ـ جب اُس نے اپنے مدد گار کو شکریہ ادا کرنے آگے جھکا تو اُسکے ہوش اُڑ گئے کیونکہ ڈرائیور کی سیٹ خالی تھی ـ ڈرائیور کی سیٹ خالی اور انجن کی آواز نہ ہونے کے باوجود بھی کار سڑک پر چل رہی تھی ـ تبھی لڑکے نے آگے سڑک پر ایک موڑ دیکھا، اپنی موت کو نزدیک دیکھ وہ لڑکا زور زور سے خدا کو یاد کرنے لگا ـ تبھی کھڑکی سے ایک ہاتھ آیا اور اُس نے کار کے سٹیرنگ وھیل کو موڑ دیا ـ کار آسانی سے مڑتے ہوئے آگے بڑھ گئی ـ لڑکا ہیبت زدہ دیکھتا رہا کہ کیسے ہر موڑ پر کھڑکی سے ایک ہاتھ اندر آتا اور سٹیرنگ وھیل کو موڑ دیتا ـ آخر کار اُس لڑکے کو کچھ دوری پر روشنی دکھائی دی ـ لڑکا جھٹ سے دروازہ کھول کر نیچے کودا پھر دیوانہ وار روشنی کی طرف دوڑا ـ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، قریب ہی ایک دھابے میں رُکا اور پینے کیلئے پانی مانگا ـ پھر وہ بری طرح رونے لگا ـ لوگوں نے دلاسہ دیکر پوچھا تو اُس نے اپنی بھیانک کہانی سنانی شروع کی، دھابے میں سنّاٹا چھا گیا تبھی سنتا اور بنتا دھابے میں پہنچے اور سنتا لڑکے کی طرف اِشارہ کرکے بنتا سے بولا کہ اُوے یہی وہ بیوقوف لڑکا ہے نا جو ہماری کار سے کودا تھا جب ہم کار کو دھکا لگا رہے تھے ـ

مارچ 4, 2011 at 07:25 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]