Posts filed under ‘Islamic Months: اسلامی مہینے’

ماہِ رجب کی فضیلت و اہمیت احادیث کی روشنی میں

فرامین نبوی صلّی اللہ علیہ وسلّم میں "رجب” کے روزوں اور اس کی عبادت کے بے شمار فضائل بیان کئے گئے ہیں..
امام غزالی "مکاشفتہ القلوب” میں روایت کرتے ہیں: "جاب ماہِ رجب کی پہلی شب جمعہ کا ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہر فرشتہ رجب کے روزے رکھنے والے کے لئے دعائے مغفرت کرتا ہے. کہا جاتا ہے کہ رجب نیکیوں کے بیج بونے کا مہینہ ہے، شعبان آب پاشی کا مہینہ ہے جب کہ رمضان فصل کاٹنے کا مہینہ ہے. جو شخص رجب میں عبادت کا بیج نہیں بوتا شعبان میں آنسوؤں سے اس بیج کو سیراب نہیں کرتا وہ رمضان میں فصلِ رحمت کیوں کر کاٹ سکے گا؟ رجب جسم کو پاک کرتا ہے، شعبان دل کو اور رمضان روح کو پاک کرتا ہے. رجب ماہِ حرام کہلاتا ہے، حرمت والا مہینہ.
امام غزالی فرماتے ہیں: اس مہینے کو رجب کہا جاتا ہے اور رجب جنت میں ایک نہر کا نام ہے، جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا ہے. آپ مزید فرماتے ہیں کہ نہرِ رجب سے وہی پانی پئیے گا جو رجب کے روزے رکھے گا. بزرگانِ دین فرماتے ہیں: ” رجب میں تین حروف ہیں، ر.ج.ب.
"ر” سے مراد رحمت الٰہی
"ج” سے مراد بندے کے جرم
"ب” سے مراد بر یعنی احسان و بھلائی. 
یہ اللہ عزو جل کا صفاتی نام ہے یعنی بھلائی کرنے والا. گویا اللہ عزوجل فرماتا ہے. بندے کے جرم کو میری رحمت اور بھلائی کے درمیان کر دو.(مکاشفتہ القلوب)
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہ ایک بار سرکارِ دو عالم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم کا گزر ایک مقام سے ہوا، جہاں چند قبریں تھیں، آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: ان قبر والوں پر عزاب ہو رہا ہے. میں نے اللہ  عزوجل سے ان کے عزاب میں تخفیف کے لئے دُعا کی ہے. اے ثوبان، اگر یہ لوگ رجب کا ایک ہی روزہ رکھ لیتے اور ایک رات ہی شب بیداری کر لیتے ، ان پر کبھی عزاب نہ ہوتا. آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: قسم ہے، اس ذات عالی کی جس کے قبضئہ قدرت میں میری جان ہے، کوئی مسلمان ایسا نہیں کہ جو رجب کا ایک روزہ بھی رکھ لے اور اس کی ایک رات عبادت بھی کر لے، مگر اللہ عزوجل اس کے لئے ایک سال کی عبادت لکھے گا.
ایک حدیث میں آتا ہے جو رجب میں دس روزے رکھ لے، اللہ عزوجل  اسے موتیوں اور یاقوت سے مزین دو باز عطا فرمائے گا جس سے وہ پُل صراط سے چمکتی ہوئی بجلی کی طرح گزر جائے گا.
ایک حدیث میں ہے کہ جس نے رجب رجب کے سارے روزے رکھے، تو آسمان سے ندا آتی ہے کہ اے اللہ کے دوست خوش خبری سن اور موت کے وقت اسے شربت پلایا جاتا ہے، جس سے وہ سیراب مرتا ہے، یعنی اسے موت کے وقت پیاس نہیں لگتی  اور وہ قبر میں بھی سیراب داخل ہوتا ہے اور اس میں سے نکلے گا تب بھی سیراب اور جنت میں بھی سیراب جائے گا.
حضرت سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے مروی ہے کہ سرور کائنات سرکارِ دو عالم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: رجب اللہ کا مہینہ ہے، جس نے اس کی تعظیم کی، اللہ عزوجل دین و دنیا میں اس کی تعظیم فرمائے گا.
کنزالایمان میں ارشاد ہے کہ اہل عرب حرمت والے (چار) مہینوں کی تعظیم کیا کرتے تھے اور ان میں لڑنا حرام جانتے تھے. اسلام میں ان مہینوں کی حرمت اور عظمت اور زیادہ ہو گئی، اور ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو، اس کی تفسیر میں لکھا ہے گناہ اور نافرمانی کے ذریعے اپنی جان پر ظلم نہ کرو. تو گویا ان مہینوں میں زیادہ گناہوں سے بچنے کی ضرورت ہے، تا کہ ان مہینوں کی تعظیم کی جائے.
سیّدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہہ کی ایک روایت ہے کہ  سرکارِ دو عالم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: جس نے ماہِ حرام (رجب) میں تین روزے رکھے، اس کے لئے نو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا. رجب کے روزے کی فضیلت میں آتا ہے جو رجب کا پہلا روزہ رکھتا ہے، جنہم اس سے اتنی دور ہو جاتی ہے جتنا کہ زمین آسمان سے دور ہے. رجب میں جو ایک روزہ رکھے گا، اسے ایک مہینے کے روزوں کا ثواب ملے گا اور دو ہزار نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی جائیں گی اور دو ہزار برائیاں مٹائی جائیں گی.
تین روزے کی ایک فضیلت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ رجب میں جو تین روزے رکھے گا، تو اس کے اور دوزخ کے درمیان اللہ تعالٰی ایک خندق بنا دے گا، جس کی لمبائی ستر ہزار برس ہو گی. گویا وہ جہنم سے ستر ہزار برس کی راہ دور کر دیا جائے گا. حضرت سیّدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم  سرکارِ دو عالم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ پندرہ رجب کا روزہ رکھنے والے کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں وہ جس سے چاہے داخل ہو جائے. ایک روایت میں ہے کہ جس نے ستائیس رجب کا روزہ رکھا اس کے لئے یہ روزہ تمام عمر کے روزوں کا کفارہ ہو جائے گا. اگر وہ اسی سال مر جائے تو شہید ہو گا.
رجب بہت مقدس، معظم اور مبارک مہینہ ہے. اس کی تعظیم کرنا ہماری دنیا اور آخرت کے لئے بے حد مفید ہے، جتنا ہو سکے اس میں روزے بھی رکھنے چاہئییں، اور زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت میں مصروف رہنا چاہئیے. زندگی کو غنیمت جانئیے، الحمدللہ آج ہم زندہ ہیں، اس زندگی سے فائدہ اُٹھانا چاہئیے، نا معلوم پھر یہ موقع ملے، نہ ملے..
اللہ آپ کے، ہمارے، ہر مسلمان کے تمام دیدہ و دانستہ کئے گئے گناہوں کو اپنی رحمت سے معاف فرمائے اور ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے.
آج کا یہ موضوع مسلمان قوم کے لئے ایک بیش قیمتی تحفہ ہے. خود بھی اس تحفہ سے فیض یاب ہوں اور دوسروں کو بھی اس ماہ کی فضیلت کے بارے میں بتائیں. اگر آپ کی وجہ سے کسی کے اعمال سُدھر جائیں اور کوئی ایک گناہ سے اپنے قدم پیچھے ہٹا لے تو یہ آپ کے لئے اور ہمارے لئے صدقہ جاریہ ہے.

جون 24, 2011 at 07:14 تبصرہ کریں

ماہِ رجب کی فضیلت و اہمیت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا یہ اللہ کا مہینہ ہے
فتح مکہ سے قبل جب مومنین مدینہ منورہ سے مکہ معّظمہ کی جانب جانے لگے تو انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں کفار ہم سے عزت والے مہینے میں نہ لڑیں، اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی.
ترجمہ: بے شک مہینوں میں گنتی اللہ کے نزدیک بارہ ہے، اللہ کی کتاب میں جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ان میں سے چار قابلِ عزت ہیں.
چار عزت والے مہینے ذیعقد، ذی الحجہ، محّرم اور رجب ہیں. رجب "ترجیب” سے مشتق ہے. اہلِ عرب کے ہاں "ترجیب” تعظیم کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، یوں رجب کے معنی حد درجہ تعظیم بزرگی، عزت کے علاوہ بے ضرر اور بے زبان ہیں.
سات دنوں میں دو دن اور بارہ مہینوں میں سے چار ماہ نہایت محترم ہیں، جمعہ اور پیر کے دنوں کو دیگر دنوں پر فضیلت حاصل ہے اور رجب، ذیعقد، ذی الحجہ اور محرم کو حرام مہینے قرار دیا گیا ہے.
حضرت عکرمہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا، ” رجب اللہ کا مہینہ ہے، شعبان میرا اور رمضان میری اُمّت کا مہینہ ہے.”
ماہِ رجب کو ہمیشہ اور ہر مزہب میں عزت و حرمت حاصل رہی ہے. حدیث مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا، "سُنو رجب رجب عزت والے مہینوں میں سے ہے، اسی میں حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی ہی میں روزہ رکھا تھا اور اپنے ساتھیوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا تو اللہ نے ان کو نجات دی اور ڈوبنے سے بچا لیا اور زمین کو طوفان کے سبب کفروسرکشی سے پاک کر دیا.
اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ ماہ رجب کی عظمت و حرمت و فضیلت پچھلے مزاہب سے مسلّمہ چلی آ رہی ہے اور آج بھی اس میں کچھ فرق نہیں آیا. اس مہینے میں کسی قوم پر اللہ تبارک و تعالٰی نے گزشتہ امتوں کو باقی مہینوں میں تو عزاب میں مبتلا کیا لیکن اس ماہ میں کسی امت کو عزاب نہیں دیا. اسے شہر اللہ الاصم اس لئے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے مروی ہے کہ ماہِ رجب کا چاند طلوع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلّم جمعہ کے دن منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا، ” سنو یہ اللہ کا بہرہ مہینہ ہے، یہ تمھاری زکٰوۃ کا مہینہ ہے، لہٰزا جس پر قرض ہو وہ اپنا قرض ادا کرنے پر بقیہ مال کی زکٰوۃ ادا کرے”
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رضی اللہ تعالٰی عنہہ ثبت ہالنسہ میں نحایہ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں، اللہ تعالٰی نے رجب کو اپنا مہینہ قرار دیا ہے کیونکہ جیسے بہرہ آدمی کچھ نہیں سنتا یہ مہینہ بھی ہتھیاروں کی آوازیں نہیں سنتا. اسی لئے دور جہالت میں کفار بھی ان محترم مہینوں کا احترام کرتے اور کوئی کسی پر تلوار نہ چلاتا، جنگیں رُک جاتیں. امام رافعی تحریر کرتے ہیں کہ رجب یقیناً اللہ تعالٰی کا مہینہ ہے. اسے بہرہ اس لئے کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ بھی اس ماہ جنگ و جدل نہ رکھتے اور اپنے ہتھیاروں کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے. پورا مہینہ امن و امان میں رہتا اور کوئی کسی سے خوفزدہ نہ ہوتا تھا. ” اس مہینے کو مطہر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ روزہ دار کو گناہوں اور خطاؤں سے پاک کر دیتا ہے. حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ آتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلّم دعا فرماتے:
ترجمہ: ” اللہ ہمارے رجب اور شعبان کو با برکت بنا اور ہمیں رمضان تک پہنچا”

جون 7, 2011 at 15:24 تبصرہ کریں

ماه ربیع الثانی کے اعمال

ربيع الثاني اسلامي قمري سال کا چوتھا مہينہ ہے، يہ بڑي فضيلت اور برکت والا مہينہ ہے، اس ماہ کو ربيع الآخر بھي کہا جاتا ہے، ربيع الثاني کے مہينہ ميں نوافل و وظائف کا پڑھنا بے شمار ثواب حاصل کرنےکا باعث ہے۔
پہلي شب
اس ماہ کي پہلي شب نماز مغرب کي ادائيگي کے بعد عشاء کي نماز سے قبل آٹھ رکعت نفل نماز دو رکعت کر کے اس طرح پڑھے کہ پہلي رکعت ميں سورہ فاتحہ کے بعد تين بار سورہ کوثر دوسري رکعت ميں سورہ فاتحہ کے بعد تين مرتبہ سورہ کافرون، اس کےبعد باقي تمام رکعتوں ميں سورہ فاتحہ کے بعد ہر رکعت ميں تين تين مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے، اس نماز کو پڑھنے سے اللہ تعالي ہر طرح کي پريشاني و مشکل سے خلاصي عطا فرماتا ہے۔
تيسري شب
جو کوئي ربيع الثاني کي تيسري شب نماز عشا کے بعد چار رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت ميں سورہ فاتحہ کے بعد تين تين مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے، سلام پھيرنے کے بعد چاليس مرتبہ يہ پڑھے "يابدوح يا بديع” انشا اللہ تعالي جو بھي نيک حاجت ہو گی پوري ہو گی۔
پانچويں شب
اس ماہ کي پانچويں شب کو نماز عشا کے بعد چار رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت ميں سورہ فاتحہ کے بعد نو مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے، پروردگار عالم نوافل کي مداومت کرنے والے کو جنت الفردوس ميں جگہ عطا فرمائے گا۔
پندرہ تاريخ
جو کوئي ربيع الثانی کي پندرہ تاريخ کو چاشت کے بعد چودہ رکعت نفل نماز دو رکعت کر کے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت ميں سورہ فاتحہ کے بعد سات سات مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے سلام پھيرنے کے بعد نہايت توجہ و يکسوئی کے ساتھ ساٹھ مرتبہ يہ پڑھے۔
"يا ملک”
جو چاہے گا وہ حاصل ہو گا۔
پندرھويں اور انتيسويں شب
اس ماہ کي پندرہ اور انتيس شب کو نماز عشاء کے بعد چار رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت ميں سورہ فاتحہ کے بعد پانچ پانچ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے، سلام پھيرنے کے بعد اللہ تعالي سے دعا مانگے انشا اللہ جو بھی جائز دلی مراد ہوگی وہ پوري ہوگی۔
ماہِ ربیع الثانی میں وفات پانے والے اولیائے کرام و بزرگانِ دین
یکم ربیع الثانی:
٭ حضرت ابو سعید چشتی دست رسول ۔۔۔۔۔۔ ١٠٤٣ھ ٭ حضرت امام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی
٢ربیع الثانی:
٭ حضرت شاہ اکرم چشتی۔۔۔۔۔۔١٠٢٦ھ
٣ ربیع الثانی:
٭ حضرت ام المؤمنین زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا۔۔۔۔۔۔٤ھ ٭ حضرت مولوی کرامت علی جونپوری۔۔۔۔۔۔١٢٩٠ھ ٭ حضرت خواجہ حبیب عجمی
٤ ربیع الثانی:
٭ حضرت سید شاہ جمال لاہوری۔۔۔۔۔۔١٠٤٩ھ
٥ ربیع الثانی:
٭ حضرت سید ابراہیم ایرجی دہلوی۔۔۔۔۔۔٩٥٣ھ ٭ حضرت قاری محمد عبدالرحمن پانی پتی۔۔۔۔۔۔١٣١٤ھ ٭ حضرت شاہ محکم الدین صاحب السیر۔۔۔۔۔۔١١٩٧ھ
٦ ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ عبدالکبیر پانی پتی۔۔۔۔۔۔٩٤٧ھ ٭ حضرت عارف باللہ بنڈل شاہ بابا ٭ فقیہ اعظم مولانا محمد شریف کوٹلی لوہاراں
٧ ربیع الثانی:
٭ حضرت امام المسلمین سیدنا مالک بن انس رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔١٧٩ھ ٭ حضرت آغا محمد ترک بخاری دہلوی۔۔۔۔۔۔٧٣٩ھ ٭ حضرت امام مالک ٭ حضرت خواجہ غلام فرید
٨ ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ عبدالحئی چشتی جونپوری۔۔۔۔۔۔١٠٨١ھ
٩ ربیع الثانی:
٭ حضرت مفتی غلام محمد لاہوری ۔۔۔۔۔۔١٢٧٦ھ ٭ حضرت امام احمد بن حنبل ٭ حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی الٰہ آبادی۔۔۔۔۔۔حضرت مولوی میر باز خان
١٠ربیع الثانی:
٭ حضرت ابراہیم حلبی۔۔۔۔۔۔١١٩٠ھ
١١ ربیع الثانی:
٭ حضرت شمس الدین خراسانی۔۔۔۔۔۔٤٥٧ھ ٭ حضرت ابو سعید علی معروف بہ مبارک مخزومی واسطی۔۔۔۔۔۔٥١٣ھ ٭ حضرت امام عبدالغنی ملتانی۔۔۔۔۔۔٥٤٣ھ ٭ حضرت شخ بہاؤالدین جونپوری رزق کشا ۔۔۔۔۔۔٩٦٣ھ ٭ حضرت سید شاہ حسین گیلانی لاہوری۔۔۔۔۔۔١٢٠٥ھ ٭ حضرت سید شاہ محمد بن سید عثمان ۔۔۔۔۔۔١٠١١ھ ٭ حضرت سید حاجی عبداللہ گیلانی۔۔۔۔۔۔١١٤١ھ ٭ ضرت مولانا شاہ محمد وارث رسول نما بنارسی۔۔۔۔۔۔١١٦٣ھ ٭ حضرت محبوب سبحانی شیخ سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ،
١٢ ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ عبداللہ برقی خوارزمی۔۔۔۔۔۔٣٧٦ھ ٭ حضرت شیخ امان عرف عبدالملک۔۔۔۔۔۔٩٧٥ھ ٭ حضرت شاہ جمال۔۔۔۔۔۔١٠٠٠ھ ٭ حضرت شیخ جمال اللہ نوشاہی۔۔۔۔۔۔١١٤٢ھ ٭ حضرت سید گدا رحمن بن محبوب علی معشوق صفات ۔۔۔۔۔۔٩٨٧ھ
١٣ربیع الثانی:
٭ حضرت سید موسی جون۔۔۔۔۔۔٢١٣ھ ٭ حضرت ابو سالم شاذلی۔۔۔۔۔۔٥٤٧ھ ٭ حضرت سید نور الدین مبارک غزنوی۔۔۔۔۔۔٦٣٢ھ ٭ حضرت میاں عبدالحئی حیدرآبادی۔۔۔۔۔۔١١٧١ھ ٭ حضرت خواجہ غلام محمد تونسوی
١٤ربیع الثانی:
٭ حضرت ابو اسحق مغربی۔۔۔۔۔۔٤٦١ھ ٭ حضرت سید حسن شاہ ۔۔۔۔۔۔ ٦٩٩ھ ٭ حضرت خضر رومی ٧٤٦ھ ٭ حضرت شیخ عبدالحمید گنگوہی۔۔۔۔۔۔٩٨٥ھ ٭ حضرت شاہ محمد ماہ قلندر دہلوی۔۔۔۔۔۔١٠٠٠ھ ٭ حضرت شاہ شمس سبزواری ملتانی ٭ حضرت شاہ گدا رحمن
١٥ ربیع الثانی:
٭ حضرت شاہ مجتبیٰ عرف مجا قلندر لاہر پوری۔۔۔۔۔۔١٠٨٤ھ ٭ حضرت شاہ منور علی قادری عمر دراز۔۔۔۔۔۔١١٩٩ھ ٭ حضرت سیدنا شاہ مصطفی حیدر حسن میاں
١٦ ربیع الثانی:
٭ حضرت خواجہ بدر الدین غزنوی۔۔۔۔۔۔٦٥٧ھ ٭ ٭ حضرت ابو القاسم قیشری ٭ حضرت میاں موج دریا بخاری
١٧ ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ ابو الفضل جوہری۔۔۔۔۔۔٣١٩ھ ٭ حضرت عبداللہ محمد بن ابراہیم قریشی بغدادی۔۔۔۔۔۔٥٩٩ھ ٭ حضرت شیخ محمد بن یقوب سوسی دمشقی۔۔۔۔۔۔٦٠٧ھ ٭ حضرت حاجی شرف الدین ۔۔۔۔۔۔٧٠٧ھ ٭ حضرت سید شمس الدین بغدادی ۔۔۔۔۔۔ ٧٧١ھ ٭ حضرت شیخ مجتبیٰ گوہر قلندر۔۔۔۔۔۔١٠٥٧ھ ٭ حضرت میراں موج دریا لاہوری٭ حجرت سید محمد شاہ دُولہ سبزواری
١٨ ربیع الثانی:
٭ حضرت سلطان الاولیاء خواجہ نظام الدین اولیا معشوق الٰہی دہلوی۔۔۔۔۔۔٧٢٥ھ ٭ حضرت شیخ نور الدین نور قطب عالم پنڈوی۔۔۔۔۔۔٨١٣ھ ٭ حضرت قاضی محمد صدر الدین ہزاروی
١٩ ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ الاسلام ابو اسمعیل خواجہ عبداللہ انصاری۔۔۔۔۔۔٤٨١ھ ٭ حضرت مولوی قطب الہدیٰ رائے بریلوی۔۔۔۔۔۔١٢٢٦ھ ٭ حضرت شیخ شریف بدرالدین حسن مغربی۔۔۔۔۔۔٥٤٩ھ ٭ حضرت شیخ نصیر الدین بلخی۔۔۔۔۔۔٧٥٦ھ ٭ حضرت سید یٰسۤن بغدادی۔۔۔۔۔۔٧٩٨ھ ٭ حضرت شیخ بہکہاری عرف نظام الدین کاکوروی ۔۔۔۔۔۔ ٩٨١ھ ٭ ٭ حضرت علامہ مولانا نور الدین عبدالرحمن جامی السامی ٭ حضرت شاہ دولہا دریائی گجراتی
٢٠ ربیع الثانی:
٭ حضرت شاہ حمید ابدال۔۔۔۔۔۔١٠٦١٠ھ ٭ حضرت شاہ محمد کاظم قلندر۔۔۔۔۔۔١٢٤١ھ
٢١ ربیع الثانی:
٭ حضرت ملا حسین واعظ کاشقی۔۔۔۔۔۔٩١٠ھ ٭ حضرت شیخ محب اللہ چشتی صابری۔۔۔۔۔۔١٠٥٨ھ
٢٢ ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی للخاطب الشیخ اکبر۔۔۔۔۔۔٦٣٨ھ ٭ حضرت مخدوم شیخ احمد گجراتی۔۔۔۔۔۔٨٨٠ھ ٭ حضرت شاہ عبدالرحمن نگرامی
٢٣ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ مجد الدین بغدادی۔۔۔۔۔۔٦٦١ھ ٭ حضرت خواجہ عبدالشہیدنقشبندی۔۔۔۔۔۔٩٨٢ھ ٭ حضرت مولانا ابو الاحیاء محمد نعیم قادری رزاقی لکھنوی ۔۔۔۔۔۔ ١٣١٨ھ
٢٤ربیع الثانی:
٭ حضرت خواجہ کلیم اللہ جہان آبادی۔۔۔۔۔۔١١٤٢ھ ٭ حضرت شرف الدین ابو اسحق شامی۔۔۔۔۔۔٣٢٩ھ
٢٥ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ حمزہ دہر سوی۔۔۔۔۔۔٩٥٧ھ ٭ مولوی حکیم محمد قطب الدین جھنگوی۔۔۔۔۔۔١٣٧٩ھ ٭ حضرت حافظ محمد صاحب قادری عمر زئی پشاوری
٢٦ربیع الثانی:
٭ مولوی علی محمد جماعتی۔۔۔۔۔۔١٣٨٦ھ ٭ ٭ حضرت سیدنا شاہ اولاد رسول مارہروی
٢٧ربیع الثانی:
٭ حضرت ابو سعید اعرابی ۔۔۔۔۔۔٣٦٢ھ ٭ حضرت ابو سلیمان احمد خطابی (صاحب معالم السنن)۔۔۔۔۔۔٣٨٨ھ ٭ حضرت خواجہ داؤد طائی
٢٨ربیع الثانی:
٭ حضرت شاہ اجمل سنبھلی (بھارت)
٢٩ ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ فرید الدین عطار نیشاپوری۔۔۔۔۔۔٦٢٧ھ ٭ حضرت شیخ حمید الدین صوفی ناگوری۔۔۔۔۔۔٦٧٣ھ
٣٠ربیع الثانی:
٭ حضرت سید جمال الدین احمد ہانسوی۔۔۔۔۔۔٦٥٩ھ ٭ حضرت شیخ جمال الدین احمد جورقانی۔۔۔۔۔۔٦٦٩ھ

مارچ 9, 2011 at 07:10 تبصرہ کریں

ربیع الاوّل کے فضائل

نثار تیری چہل پہل پر ہزار عیدیں ربیع الاول
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں
اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ربیع الاول مبارک ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ابتداء میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت موسم ربیع یعنی فصل بہار کا آغاز تھا۔ یہ مہینہ فیوضات و برکات کے اعتبار سے افضل ہے کہ باعث تخلیق کائنات رحمۃ اللعالمین احمد مجتبیٰ محمد مصطفی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا میں قدم رنجہ فرمایا۔ 12 ربیع الاول شریف بروز پیر، مکۃ المکرمہ کے محلہ بنی ہاشم میں آپ کی ولادت باسعادت صبح صادق کے وقت ہوئی۔ 12 ربیع الاول ہی میں آپ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے۔ اسی ماہ کی 10 تاریخ کو محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین سیدہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا تھا۔
مشائخ عظام اور علمائے کرام فرماتے ہیں کہ حضور پر نور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم کا وقت ولادت باسعادت لیلۃ القدر سے بھی افضل ہے۔ کیوں کہ لیلۃ القدر میں فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ولادت پاک کے وقت خود رحمۃ للعالمین شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ لیلۃ القدر میں صرف امتِ مسلمہ پر فضل و کرم ہوتا ہے اور شب عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات پر اپنا فضل و کرم فرمایا ۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے کہ
وَمَا اَرْ سَلْنَاکَ اِلَّا رَحْمَۃٌ لِّلْعٰالَمِیْنَ ط
بارھویں ربیع الاوّل مبارک کو یعنی ولادت پاک کے دن خوشی و مسرت کا اظہار کرنا۔ مساکین کو کھانا کھلانا۔ اور میلاد شریف کا جلوس نکالنا اور جلسے منعقد کرنا اور کثرت سے درود شریف پڑھنا بڑا ثواب ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام سال امن و امان عطا فرمائے گا اور اس کے تمام جائز مقاصد پورے فرمائے گا۔
مسلمانوں کو اس ماہ مبارک میں گنبد خضرا کی شبیہ والے اور صلوٰۃ و سلام لکھے ہوئے سبز پرچم لہرانے چاہئیں اور بارہویں تاریخ کو بالخصوص جلوس میلاد شریف اور مجالس منعقد کیا کریں ( ماثبت من السنۃ)
حکایت:
ابو لہب جو مشہور کافر تھا اور سید دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ میں چچا تھا ۔ جب رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارک ہوئی تو ابو لہب کی لونڈی ثویبہ نے آپ کی ولادت باسعادت کی خوش خبری اپنے مالک ابو لہب کو سنائی ۔ تو ابولہب نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں اپنی لونڈی کو آزاد کردیا۔
جب ابو لہب مرگیا تو کسی نے خواب میں دیکھا اور حال دریافت کیا۔ تو اس نے کہا کہ کفر کی وجہ سے دوزخ کے عذاب میں گرفتار ہوں مگر اتنی بات ہے کہ ہر پیر کی رات عذاب میں تخفیف ہو جاتی ہے۔ اور جس انگلی کے اشارے سے میں نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا تھا اس سے مجھے پانی ملتا ہے جب میں انگلی چوستا ہوں ۔
ابن جوزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب ابو لہب کافر( جس کی مذمت میں سورہ لہب نازل ہوئی) کو یہ انعام ملا تو بتاؤ اس مسلمان کو کیا صلہ ملے گا جو اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی منائے۔ اس کی جزاء اللہ کریم سے یہی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل عمیم سے اسے جنت النعیم میں داخل فرمائے گا ۔ الحمدللہ ربّ العالمین ۔
میلاد پاک کرنا اور اس میں محبت کرنا ایمان کی علامت ہے اور میلاد پاک کا ثبوت قرآن مجید ،احادیث شریفہ اور اقوال بزرگانِ دین سے ملتا ہے۔ میلاد شریف میں ہزاروں برکتیں ہیں۔ اس کو بدعت کہنا دین سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔
محفل میلاد کی حقیقت:
حقیقت صرف یہ ہے کہ مسلمان ایک جگہ جمع ہوں، سب محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہوں اور صحیح العقیدہ ، سنی علماء یا کوئی ایک عالم دین مسلمانوں کے سامنے حضور سراپا نور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارک ، آپ کے معجزات ، آپ کے اخلاق کریمہ، فضائل اور مناقب صحیح روایات کے ساتھ بیان کرے۔ اور آخر میں بارگاہِ رسالت میں درود و سلام با ادب کھڑے ہو کر پیش کریں۔ اگر توفیق ہو تو شیرینی پر فاتحہ دلا کر فقراء و مساکین کو کھلائیں۔ احباب میں تقیسم کریں پھر اپنی تمام حاجتوں کیلئے دعا کریں۔ یہ تمام امور قرآن و سنت اور علمائے امت کے اقوال سے ثابت ہیں صرف اللہ جل شانہ، کی ہدایت کی ضرورت ہے۔
انعقادِ میلاد، اللہ تعالیٰ کی سنّت ہے:
محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد شریف خود خالق اکبر جل شانہ، نے بیان کیا ہے ۔
لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُوْمِنِیْنَ رَؤُوْفٌ الرَّحِیْم o (پ ١١ سورۃ توبہ ١٢٨)
(ترجمہ) بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے۔ تمہاری بھلائی کے بہت چاہنے والے ہیں اور مسلمانوں پر کمال مہربان (کنزالایمان)
اس آیت شریفہ میں پہلے اللہ جل شانہ، نے فرمایا کہ ” مسلمانوں تمہارے پاس عظمت والے رسول تشریف لائے” یہاں تو اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت شریفہ بیان فرمائی ، پھر فرمایا کہ ”وہ رسول تم میں سے ہیں” اس میں اپنے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب شریف بیان فرمایا ہے ، پھر فرمایا ”تمہاری بھلائی کے بہت چاہنے والے اور مسلمانوں پر کرم فرمانے والے مہربان ہیں” یہاں اپنے محبوب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت بیان فرمائی۔
میلاد ِ مروجہ میں یہی تین باتیں بیان کی جاتی ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ سرکار ابد قرارا کا میلاد شریف بیان کرنا سنت الٰہیہ ہے۔
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری دلیل:
اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَا ئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَ وَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰیَۃً مِّنْکَ ط (پ ٧، سورۃ المائدہ، ١١٤)
(ترجمہ) اے اللہ اے رب ہمارے ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی ۔(کنزالایمان)
مندرجہ بالا دعا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب ہے کہ انہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک خوانِ نعمت اللہ کی نشانی کے طور پر نازل ہونے کی دعا کی ، اور نزول آیت و خوانِ نعمت کو اپنے لیے اور بعد میں آنے والوں یومِ عید قرار دیا، یہی وجہ ہے کہ خوانِ نعمت کے نزول کے دن ”اتوار” کو دنیائے عیسائیت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس دن روز مرّہ کے کام کاج چھوڑ کر تعطیل مناتی ہے ۔
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری دلیل:
اللہ تعالیٰ حکم فرما رہا ہے ،
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ O(پ ١١، سورۃ یونس، ٥٨)
(ترجمہ) تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت ، اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں، وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے (کنزالایمان)
مفسرینِ کرام مثلاً علامہ ابن جوزی (م ۔٥٩٧ھ) ، امام جلال الدین سیوطی (م۔ ٩١١ھ) علامہ محمود آلوسی (م۔ ١٢٧٠ھ) اور دیگر نے متذکرہ آیت مقدسہ کی تفسیر میں ”فضل اور رحمت” سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مراد لیا ہے (حوالے کیلئے دیکھیں: زاد المسیر، جلد ٤، صفحہ ٤٠۔ تفسیر درِّ منثور ، جلد ٤، صفحہ ٣٦٨۔ تفسیر روح المعانی ، جلد ٦، صفحہ ٢٠٥) مفسرینِ کرام کی وضاحت و صراحت کے بعد یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے عموم میں کائنات اور اس کے لوازمات بھی شمار ہونگے لیکن فضل و رحمت سے مطلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مراد ہوگی کہ جملہ کائنات کی نعمتیں اسی نعمتِ عظمیٰ کے طفیل ہیں اور اس ذات کی تشریف آوری کا یوم بھی فضل و رحمت سے معمور ہے ، پس ثابت ہو اکہ یومِ میلاد، ذاتِ با برکات کے سبب اس قابل ہوا کہ اسی دن اللہ کے حکم کے مطابق خوشی منائی جائے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ میلاد کی خوشیوں کےلئے یوم کا تعین کیا جا سکتا ہے ۔
خیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
محترم قارئین! اگر قرآنِ مجید سے مزید دلائل پیش کئے جائیں تو عرض ہے اول تا آخر مکمل قرآن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت اور صفات بیان کرتا ہے ، پارہ ٣،سورۃ آلِ عمران ، آیات ٨١اور٨٢ میںاس مجلس میلاد کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے عالمِ ارواح میں انبیاءِ کرام کو جمع کر کے منعقد فرمائی۔
میلاد بیان کرنا سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
بعض لوگ لا علمی کی بنا پر میلاد شریف کا انکار کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا میلاد بیان کیا ہے۔ سیدنا حضرت عباس رضی اللہ عنہ، فرماتے ہیں کہ سیدالعرب و العجم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ کسی گستاخ نے آپ کے نسب شریف میں طعن کیا ہے تو ،
فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ مَنْ اَنَا فَقَا لُوْ اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔۔ قَالَ اَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدُ الْمُطَّلِبْ اِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلْنِیْ فِیْ خَیْرِ ہِمْ ثُمَّ جَعَلَہُمْ فِرْقَتَیْنِ فَجَعَلْنِیْ فِیْ خَیْرِ ہِمْ فِرْقَۃً ثُمَّ جَعَلَہُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلْنِیْ فِیْ خَیْرِ ہِمْ قَبِیْلَۃً ثُمَّ جَعَلَہُمْ بُیُوْتًا فَاَنَا خَیْرُ ہُمْ نَفْسًا وَخَیْرُہُمْ بَیْتًا ( رواہ الترمذی ، مشکوٰۃ شریف رضی اللہ تعالی عنہ ٥١٣)
(ترجمہ) پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں کون ہوں؟ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔ فرمایا میں عبدالمطلب کے بیٹے کا بیٹا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی ان میں سب سے بہتر مجھے بنایا پھر مخلوق کے دو گروہ کئے ان میں مجھے بہتر بنایا پھر ان کے قبیلے کئے اور مجھے بہتر قبیلہ بنایا پھر ان کے گھرانے بنائے مجھے ان میں بہتر بنایا تو میں ان سب میں اپنی ذات کے اعتبار اور گھرانے کے اعتبار سے بہتر ہوں۔
اس حدیث شریف سے ثابت ہو اکہ حضور پر نور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم نے بذاتِ خود محفلِ میلاد منعقد کی جس میں اپنا حسب و نسب بیان فرمایا ۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ محفل میلاد کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس مجلس و محفل میں ان لوگوں کو رد کیا جائے جو آپ کی بدگوئی کرتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں
سارے اچھوں میں اچھا سمجھئے جسے
ہے اس اچھے سے اچھا ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم
سارے اونچوں سے اونچا سمجھئے جسے
ہے اس اونچے سے اونچا ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم
تعیّن تاریخ پر قرآنی دلیل:
وَزَکِّرْہُمْ بِاَ یَّامِ اللّٰہِ ط (پ ١٣۔ سورۃ ابراہیم)
(اے موسیٰ) ان کو یاد دلاؤ اللہ تعالیٰ کے دن
ہر عام و خاص جانتا ہے کہ ہر دن اور رات اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں۔ پھر اللہ کے دنوں سے کیا مراد ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان دنوں سے مراد خدا تعالیٰ کے وہ مخصوص دن ہیں جن میں اس کی نعمتیں بندوں پر نازل ہوئی ہیں۔ چنانچہ اس آیت کریمہ میں سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہو اکہ آپ اپنی قوم کو وہ دن یاد دلائیں جن میں اللہ جل شانہ، نے بنی اسرائیل پر من و سلویٰ نازل فرمایا۔
مقام غور یہ ہے کہ اگر من و سلوٰی کے نزول کا دن بنی اسرائیل کو منانے کا حکم ہوتا ہے تو آقائے دو جہاں سید کون و مکاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پاک (جو تمام نعمتوں میں اعلیٰ اور افضل ہے) کا دن بطور عید منانا، اس کی خوشی میں جلوس نکالنا، جلسے منعقد کرنا ، مساکین و فقراء کے لئے کھانا تقسیم کرناکیوں کر بدعت و حرام ہوسکتا ہے؟
حدیث شریف سے تعیّن یوم پر دلیل:
عَنْ اَبِیْ قَتَا دَۃ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الْاَثْنَیْنِ فَقَالَ فِیْہِ وُلِدْتُ وَفِیْہِ اُنْزِلَ عَلَیَّ (مشکوٰۃ صفحہ ١٧٩)
(ترجمہ) سیدنا حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں اسی دن پیدا ہوا۔ اور اسی روز مجھ پر قرآن نازل ہوا۔
اس حدیث شریف نے واضح کر دیا کہ کسی دن کا تعین و تقرر کرنا ناجائز نہیں ہے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بروز پیر دو نعمتیں نازل فرمائی گئی تھیں ایک ولادت مقدسہ اور دوسرے نزول قرآن ، اسی لئے آپ نے پیر کے دن کو روزہ رکھنے کے لیے معیّن فرمایا۔
ماہِ ربیع الاول شریف کیلئے خصوصی ہدایات:
ربیع الاول شریف کے مقدس مہینے میں حصول برکات کیلئے ، عبادات کی کثرت (نماز، روزہ اور صدقات و خیرات) کیجئے۔ گناہوں سے بچنے کا خصوصی اہتمام اس مہینے میں کرنا چاہئے، جھوٹ ، غیبت، چغلی، ایذا رسانی، الزام تراشی، غصہ و برہمی وغیرہ سے اپنی ذات کو آلودہ نہ کیجئے، عید میلاد النبی صلٰی اللہ علیہ وسلم کے دن اپنے چہروں پر مسکراہٹ سجائے رکھئے،کسی سے بھی (اپنا ہو یا پرایا) جھگڑا کرنے سے اجتناب کیجئے۔
ایک خاص تحفہ:
ماہ ربیع الاول شریف کی کسی بھی جمعرات کے دن یا شبِ جمعہ گلاب کے چند پھول لے کر اپنے گھر میں باوضو ہو کر بیٹھیں ، پھولوں کو سامنے رکھیں ، درود شریف تین مرتبہ پڑھیں پھر
اَللّٰہ نَاصِرٌ۔۔۔۔۔۔ اَللّٰہُ حَافِظٌ ۔۔۔۔۔۔ اللّٰہُ الصَّمَد
٣١٣ مرتبہ پڑھیں اور تین مرتبہ درود شریف پڑھ کر پھولوں پر دم کردیں ، اور یہ پھول مٹھائی وغیرہ کے ساتھ ملا کر کھالیں، مشائخ سے منقول ہے کہ جو ایسا کرے گا پورے سال بھر رزق میں برکت ہوگی، مفلسی قریب نہیں آئے گی۔

فروری 14, 2011 at 07:15 تبصرہ کریں

جشن عید میلاد النبی

کائنات ہست وبود میں خدا تعالیٰ نے بے حد وحساب عنایات واحسانات فرمائے ہیں۔ انسان پر لاتعداد انعامات و مہربانیاں فرمائی ہیں اور اسی طرح ہمیشہ فرماتا رہے گا کیونکہ وہ رحیم وکریم ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہزاروں نعمتیں دیں لیکن کبھی کسی پر احسان نہیں جتلایا، اس ذات رؤف الرحیم نے ہمیں پوری کائنات میں شرف و بزرگی کا تاج پہنایا اور احسنِ تقویم کے سانچے میں ڈھال کر رشکِ ملائک بنایا ۔ ہمیں ماں باپ، بہن بھائی اور بچوں جیسی نعمتوں سے نوازا۔ غرضیکہ ہزاروں ایسی عنایات جو ہمارے تصور سے ماورا ہیں اس نے ہمیں عطا فرمائیں لیکن بطور خاص کسی نعمت اور احسان کا ذکر نہیں کیا اس لئے کہ وہ تو اتنا سخی ہے کہ اسے کوئی مانے یا نہ مانے وہ سب کو اپنے کرم سے نوازتا ہے اور کسی پر اپنے احسان کو نہیں جتلاتا۔
لیکن ایک نعمت عظمیٰ ایسی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے جب حریم کبریائی سے اسے بنی نوع انسان کی طرف بھیجا اور امت مسلمہ کو اس نعمت سے سرفراز کیا تو اس پر احسان جتلاتے ہوئے فرمایا:
لَقَدْ مَنَّ اللّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(سورۃ آل عمران 3 : 164)

ترجمہ: ”بے شک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہیں میں سے عظمت والا رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے“۔
درج بالا آیہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ :امت مسلمہ پر میرا یہ احسان، انعام اور لطف و کرم ہے کہ میں نے اپنے محبوب کو تمہاری ہی جانوں میں سے تمہارے لئے پیدا کیا۔ تمہاری تقدیریں بدلنے، بگڑے ہوئے حالات سنوارنے اور شرف وتکریم سے نوازنے کیلئے تاکہ تمہیں ذلت وگمراہی کے گڑھے سے اٹھا کر عظمت وشرفِ انسانیت سے ہمکنار کر دیا جائے۔
لوگو! آگاہ ہو جاؤ کہ میرے کارخانہ قدرت میں اس سے بڑھ کر کوئی نعمت تھی ہی نہیں۔ جب میں نے وہی محبوب تمہیں دے دیا جس کی خاطر میں کائنات کو عدم سے وجود میں لایا اور اس کو انواع واقسام کی نعمتوں سے مالا مال کر دیا تو ضروری تھا کہ میں رب العالمین ہوتے ہوئے بھی اس عظیم نعمت کا احسان جتلاؤں ایسا نہ ہو کہ امت مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے بھی عام نعمت سمجھتے ہوئے اس کی قدرومنزلت سے بے نیازی کا مظاہرہ کرنے لگے۔اب یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا فرض ہے کہ وہ ساری عمر اس نعمت کے حصول پر اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرے اور خوشی منائے جیسا کہ اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے۔
قُلْ بِفَضْلِ اللّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُواْ هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ(يونس 10 : 58)
ترجمہ: ”آپ فرما دیں کہ اللہ کے فضل سے اس کی رحمت سے (جواُن پر نازل ہوئی) اس پر ان کو خوش ہونا چاہئے یہ تو ان چیزوں سے جو وہ جمع کر رہے ہیں کہیں بڑھ کر ہے“۔
ربیع الاول، تمام مسلمانوں کے لئے بہت متبرک مہینہ ہے. اس مہینہ کی 12 تاریخ کو ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفٰی صلٰی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے. عاشقان رسول صلٰی اللہ علیہ وسلم اس دن کو عید کی طرح مناتے ہیں. اس دن کو عید میلاد النبی بھی کہا جاتا ہے. بروز ولادت روزہ رکھنا آپ صلٰی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے. اس متبرک مہینہ میں زیادہ سے زیادہ درود پاک کا ورد کرنا چاہئے. بہت سے مسلمان اس ماہ میں محفل میلاد کا اہتمام کرتے ہیں. یہ دن امت مسلمہ کے لیے کتنا مبارک اور اہم ہےجب ہم اللہ کی عطا کر دہ نعمتوں اور زندگی میں حاصل چھوٹی سے چھوٹی خوشیوں پراللہ کا شکر ادا کرتے ہیں تو اس کے حبیب نبی صلی االلہ علیہ وسلم کے لئے کیوں نہیں جس کے لئے اس نے قرآن میں واضع طو ر پر بیان کیا ہے. جب ہم اپنی زندگی میں حاصل ہونے والی چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں تو وجود محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعمت عطا ہونے پر سب سے بڑھ کر خوشی منائی جائے اور اس خوشی کے اظہار کا بہترین موقع ماہ ربیع الاوّل ہے۔
ماہِ ربیع الاوّل کی تیاریاں
ماہِ ربیع الاوّل کو ایسے منایا جائے کہ دیکھنے والا ہمارے وجود اور کردار میں خوشی محسوس کرے۔ لہٰذا ماہِ صفر میں ہی استقبال ربیع الاوّل کے پروگرام اس نہج پر ترتیب دینا شروع کر دیں۔
* جس رات ربیع الاوّل کا چاند نظر آئے اس رات۔ اپنے دوستوں اور عزیزواقارب کو ماہِ ربیع الاوّل پر آمد پر مبارکباد دیں۔
* اپنے بچوں کو بھی اس ماہ کی اہمیت بتائیں
* آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خوشی میں بچوں میں شیرینی بانٹیں تاکہ شعوری طور پر بچوں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی کا احساس پیدا ہوشکرانے کے نوافل کا اہتمام کریں کہ اللہ تعلی نے دنیا سے گمراہی اور ظلمتوں کے اندھیروں کے خاتمے کے لئے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا
اللہ ہمیں قرآن وسنت پرعمل پیرا ہونے کی تو فیق دےآمین
نبی پاک صلٰی اللہ علیہ وسلم کی شان میں پڑھی جانے والی کچھ نعتیں پیشِ خدمت ہیں:

 

جشن عید میلاد النبی کا روح پرور منظر


فروری 10, 2011 at 07:21 تبصرہ کریں

سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ

دنیا کی ہر فضا میں ہے اجالا رسول کا
یہ ساری کائنات ہے صدقہ رسول کا
خوشبوئے گلاب ہے پسینہ رسول کا
آپ سب کو ہو مبارک مہینہ رسول کا
ربیع الاوّل اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ہے.
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة“ (سورة الاحزاب:۱۲)
”یقینا تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔“
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے بعد اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے درمیان کا عرصہ جو کم و بیش 571 سال کا عرصہ ہے ایسا تھا کہ پوری دنیا کفر و ذلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں غوتہ زن تھی۔ ارض و سماء کے درمیان روحانی تعلق اور رشتہ وحی منقطع ہو چکا تھا۔ لوگوں کی مذہبی، اخلاقی، تمدنی معیشی اور معاشرتی زندگی موت سے بھی بدتر تھی۔ کفر کی سیاہ راتیں چھا چکی تھیں۔ شرافت، دیانت، شرم و حیا، انصاف، محبت و اخوت چادر اور چار دیواری کا تقدس بری طرح پامال ہو چکا تھا۔ زنا، شراب نوشی، چوریاں، ڈکیتیاں، لوٹ مار، جدال و قتال، خون ریزی، دختر کشی، ظلم و ستم بامِ عروج پر تھا۔ ہر قبیلہ دوسرے قبیلے سے نبرد آزما تھا۔ حربی جذبات اس قدر وافر تھے کہ ذرا سی بات پر خون کی ندیاں بہہ جاتیں اور جدال و قتال کا سلسلہ صدیوں تک جاری رہتا۔ الحاد و بے دینی کا دور دورہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں غیر اللہ کو شریک ٹھہرانا ان تمام برائیوں میں سرفہرست تھا۔ چاند سورج اور نجوم، کواکب، جنات اور آگ کی پرستش کی جاتی تھی۔ حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر علیہما السلام کو اللہ وحدہ لا شریک کے بیٹے تصور کیا جاتا تھا۔ بت پرستی عام تھی حتیٰ کہ بیت اللہ میں 360 بتوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ مولانا حالی نے اشعار کے ذریعہ اس دور کا نقشہ اس طرح پیش کیا ہے۔
قبیلے قبیلے کا بت اک جدا تھا
کسی کا ہبل تھا کسی کا صفا تھا
یہ عزیٰ پہ وہ نائلہ پر فدا تھا
اسی طرح گھر نیا اک خدا تھا
نہاں ابر ظلمت میں تھا مہر انور
اندھیرا تھا فاران کی چوٹیوں پر
چلن ان کے جتنے تھے سب وحشیانہ
ہر اک لوٹ اور مار میں تھا یگانہ
فسادوں میں کٹتا تھا ان کا زمانہ
نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ
وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے
درندے ہوں جنگل میں بے باک جیسے
کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا
کہیں پہلے گھوڑا دوڑانے پہ جھگڑا
یونہی روز چلتی تھی تلوار ان میں
یونہی ہوتی رہتی تھی تکرار ان میں
عرب کے لوگ جو اپنے افعال و کردار کے لحاظ سے جہنم کے کنارے پر پہنچ چکے تھے، رحمت حق جوش میں آئی اور ان کی اصلاح اور نجات کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
”اللہ نے اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کو اور کنانہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو پسند فرمایا اور بنی ہاشم میں سے مجھ کو چن لیا۔“ (مشکوٰة)
ربیع الاول کا مہینہ اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں سرور کائنات، پیکر حسن و جمال، رحمت مجسم پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی۔ ربیع الاول کی نو تاریخ عام الفیل بمطابق 22 اپریل 571ء سوموار کا دن تھا۔ وقت صبح صادق کا اور موسم بہار کا تھا۔ رات کی ظلمتیں چھٹ رہی تھیں، دن کا اجالا ہر سو پھیل رہا تھا۔ جب نازش انسانیت، نگہبان آدمیت، سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے۔
ہوئی پہلوئے آمنہ سے ہویدا
دعائے خلیل و نوید مسیحا (علیہما السلام)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد مبارک کی بشارت انجیل میں بھی موجود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعائے ابراہیم بن کر آئے۔
ربنا وابعث فیھم رسولاً منھم یتلوا علیھم ایٰتک ویعلمھم الکتاب والحکمة ویزکیھم انک انت العزیز الحکیم (البقرة:۹۲۱)
”اے ہمارے رب ان میں انہیں میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب و حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے یقینا تو غلبہ والا حکمت والا ہے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشارت عیسیٰ بن کر آئے۔
( واذ قال عیسیٰ ابن مریم یٰبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التورٰة ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد ) (الصف:۶ )
”اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا اے (میری قوم) بنی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں بشارت (خوشخبری) سنانے والا ہوں جن کا نام احمد ہے۔“
آپ اپنی والدہ ماجدہ کے خواب کی تعبیر بن کر آئے۔ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ آپ ابھی والدہ ماجدہ آمنہ کے شکم میں تھے، انہوں نے خواب دیکھا کسی نے کہا تیرے پیٹ میں امت کا سردار ہے جب وہ پیدا ہو تو کہنا ”میں اسے ہر حاسد کے شر سے واحد (خدائے واحد) کی پناہ میں دیتی ہوں اور اس کا نام محمد رکھنا۔ حضرت آمنہ کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک نور مجھ سے نکلا ہے جس سے میں نے شام کے شہر بصریٰ کے محل دیکھے۔
علامہ شبلی نعمانی مختلف ارباب سیر کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں۔ ”آج کی رات ایوان کسریٰ کے چودہ کنگرے گر گئے۔ آتش کدہ فارس بجھ کیا، دریائے ساوہ خشک ہو گیا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ایوان کسریٰ نہیں بلکہ شان عجم، شوکت روم، اوج چین کے قصر ہائے فلک بوس گر پڑے۔ صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی۔ شیرازہ مجوسیت بکھر گیا۔ نصرانیت کے اوراق خزاں دیدہ ایک ایک کر کے جھڑ گئے۔
توحید کا غلغلہ بپا ہوا۔ چمنستان سعادت میں بہار آ گئی، آفتاب ہدایت کی شعاعوں سے ہر طرف روشنی پھیل گئی۔ مردہ زمین سرسبز و شاداب ہو گئی۔ اخلاق انسانی کا آئینہ پرتو قدس سے چمک اٹھا۔ یعنی یتیم عبداللہ جگر گوشہ آمنہ، شاہِ حرم، حکمران عرب، فرماں روائے عالم، سید الکونین امام القبلتین، مجسمہ رحمت، پیکرِ حسن و جمال، عالم قدس، قدس سے عالم امکان میں تشریف لائے۔ اللھم صلی علٰی سیدنا ونبینا محمد وبارک وسلم
ہے فرش سے تا عرش عجب بارش انوار
ہر سمت سے رحمت کی گھٹا جھوم رہی ہے
اک نغمہ پر کیف ہواﺅں میں رقصاں
فطرت بھی سرعرش عُلا جھوم رہی ہے
پیغمبر دو جہاں اس دنیا میں اس حالت میں تشریف لائے کہ آپ کی ولادت باسعادت سے قبل ہی آپ کے والد گرامی اس دنیا سے رحلت کر چکے تھے۔ چھ سال کے ہوئے تو ماں کی شفقت سے محروم ہو گئے۔ آٹھ سال کے ہوئے تو دادا جان کے سایہ عاطفیت سے بھی محروم ہو گئے۔ اس کے بعد آپ کے چچا ابوطالب آپ کے کفیل بنے۔ آپ نے بچپن میں بکریاں بھی چرائیں، جیسے ہی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو تجارت کی طرف مائل ہو گئے اور مکہ کی مشہور ترین اور صاحب ثروت خاتون خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا سامان لے کر ان کے غلام کے ہمراہ تجارتی قافلہ کے ساتھ شام جانے کا قصد کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ ان کا سارا مال تجارت بڑے نفع کے ساتھ فروخت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت و امانت اور صداقت سے اور غلام کی زبانی آپ کے اخلاق کریمانہ اور حسن معاملگی سے متاثر ہو کر آپ کو پیغام نکاح بھیج دیا۔ حالانکہ وہ بیوہ تھیں۔ آپ نے اپنے چچا سے مشاورت کے بعد اسے قبول کر لیا۔ آپ کے نکاح کے وقت آپ کی عمر 25 سال اور خدیجة الکبریٰ کی عمر چالیس برس تھی۔
نکاح کے بعد سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے اپنا سارا مال و منال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کر دیا۔ آپ نے اس مال کو فقرائ، مساکین، یتامیٰ، بیوگان اور دیگر حاجت مندوں میں خرچ کیا۔ آپ نے نبوت سے پہلے نہ تو کبھی شراب کو منہ لگایا نہ ہی آستانوں کا ذبیحہ کھایا اور نہ ہی غیر اللہ کی نذر و نیاز کو ہاتھ تک لگایا۔ آپ کو معبودان باطل سے سخت نفرت تھی۔ آپ طبعی طور پر مکہ کے مشرکانہ ماحول اور جاہلانہ رسومات، فرسودات سے متنفر تھے۔ جب آپ کی عمر مبارک 40 سال کی ہوئی تو آپ نے خلوت نشینی اختیار کر لی۔ آپ سامان خوردونوش لے کر غارِ حرا چلے جاتے اور کئی کئی دن عبادت و ریاضت اور تفکر میں مگن رہتے۔ غار حرا میں بیت اللہ آپ کی نظروں کے سامنے ہوتا۔ رمضان المبارک کی 21 ویں شب تھی۔ آپ غار حرا میں مکمل یکسوئی اور التفات سے عبادت الٰہی میں مشغول تھے کہ اللہ کی طرف سے جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور ختم المرسلین کے سر مبارک پر کائنات کی سرداری کا تاج سجا دیا، ارشاد ہوا:
( اقراءباسم ربک الذی خلق٭ خلق الانسان من علق٭ اقراءوربک الاکرم٭ الذی علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم ) (علق: ۱-۵)
”پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے، جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔“
ان آیات کے نزول کے بعد آپ پر کئی دن تک وحی نازل نہیں ہوئی جب آپ کی طبیعت میں وحی کا اشتیاق پڑا اور آپ شدت سے وحی کا انتظار کرنے لگے تو ایک دن آپ چادر اوڑھ کر محو استراحت تھے کہ رب کائنات کی طرف سے دوسری وحی نازل ہوئی۔ ارشاد ہوتا ہے:
( یا ایھا المدثر٭ قم فانذر وربک فکبر٭ وثیابک فطھر٭ والرجز فاھجر٭ ولا تمنن تستکثر٭ ولربک فاصبر ) (مدثر:۱-۷)
”اے کپڑا اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا اور آگاہ کر دے۔ اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر۔ اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر۔ ناپاکی کو چھوڑ دے اور احسان کر کے زیادہ لینے کی خواہش نہ کر۔ اور اپنے رب کی راہ میں صبر کر۔“
ان آیات میں اللہ رب العزت نے اپنے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو آئندہ کا لائحہ عمل بتلایا ہے کہ اب آرام و راحت کا وقت بیت چکا، اب آپ اللہ تعالیٰ کی توحید کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے اور شرک کی بیخ کنی کے لئے کمر بستہ ہو جائیے۔ چنانچہ آپ نے مکة المکرمہ  کی تیرہ سالہ زندگی میں اللہ کی توحید اور اس کی یکتائی کا پرچم بلند کئے رکھا اس دوران آپ کو بہت زیادہ مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ کو راہ حق سے ہٹانے کے لئے بڑے بڑے لالچ دئیے گئے۔ مال و منال کے جھانسے دئیے گئے۔ حسیناؤں کے ساتھ شادی کے چغمے دئیے گئے۔ مکۃ کی سرداری کا عہدہ بھی پیش کیا گیا۔ مگر آپ کو کسی بھی ذریعہ سے راہ راست سے پھسلایا نہ جا سکا اور نہ ہی آپ کے قدموں میں جنبش پیدا ہوئی۔ آپ نے ثم استقاموا کی عملی تفسیر پیش کی۔ سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا آپ کو داغ مفارقت دے گئیں، آپ پریشان رہنے لگے۔ ادھر کفار مکہ نے مظالم کی انتہا کر دی۔ اللہ رب العزت نے آپ کے غم کو ہلکا کرنے اور آپ کی تسلی و تشفی اور اظہار محبت کے لئے معراج کروائی۔ جس کا تذکرہ پارہ نمبر پندرہ کے شروع میں کیا گیا ہے۔ آپ نے اس سفر میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ اور مسجد اقصیٰ سے سدرة المنتہیٰ اور بیت المعمور کا نظارہ کیا۔ اللہ کا قرب حاصل ہوا۔ اور خالق کائنات کے ساتھ ہمکلام ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ پھر اللہ کے حکم سے مکة المکرمہ چھوڑ کر یثرب کی طرف ہجرت کی۔ آپ کی تشریف آوری سے یثرب مدینة النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اور اسے اسلامی ریاست کا پہلا دارالخلافہ بننے کا عظیم اعزاز اور شرف حاصل ہوا۔
مدنی زندگی میں معاشرتی، معاشی، سیاسی، مذہبی اور سماجی فلاح و بہبود کے سنہری اصول اور طریقے بتائے گئے۔ کفر و اسلام کے درمیان کئی جنگیں بھی ہوئیں۔ جن میں زیادہ تر مشہور جنگ بدر، جنگ احد، جنگ احزاب، جنگ خیبر اور جنگ تبوک ہیں۔ ۸ آٹھ ہجری میں مکہ فتح ہو گیا اور دس ہجری میں آپ نے کم و بیش سوا لاکھ جانباز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ فریضہ حج ادا فرمایا۔ میدان عرفات میں آپ نے خطبہ حج میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ بڑے جامع انداز میں بیان فرمایا۔ جس میں آپ نے حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد، عورتوں کے حقوق، غلاموں کے حقوق کا تذکرہ فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے سود کی حرمت کا واضح طور پر اعلان فرمایا۔ زمانہ جاہلیت کے تمام جھگڑوں کی جڑ کاٹ دی۔ اور معاشرے میں الفت و محبت، اخوت و مساوات کی فضا پیدا کرنے کی تلقین فرمائی۔ آپ جیسے ہی خطبہ حج سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل فرما کر اسلام کے مکمل ہونے کا اعلان فرما دیا۔
( الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ) (مائدہ:۳)
”آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا۔ اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہو گیا۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس مدینہ منورہ تشریف لائے۔ 29 صفر کو آپ کی طبیعت ناساز ہوئی۔ درد سر اور بخار میں تیزی آ گئی، تیرہ چودہ دن آپ علیل رہے۔ بیماری کی حالت میں آپ نے کئی دن نمازوں کی امامت خود ہی فرمائی۔ جب بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امام مقرر فرما دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں سترہ نمازوں کی امامت کا شرف اور اعزاز حاصل کیا۔
12 ربیع الاول بروز سوموار نماز فجر کے وقت آپ کی طبیعت کچھ سنبھل گئی۔ آپ نے اپنے حجرہ مبارکہ کا پردہ اٹھایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو لبوں پر تبسم جاری ہو گیا۔ طلوع آفتاب کے بعد بار بار غشی پڑنے لگی۔ اسی دوران آپ نے مسواک بھی کی۔ آپ کے سامنے پانی کا پیالہ رکھا ہوا تھا اس میں دونوں ہاتھ ڈبو کر چہرہ انور پر ملتے تھے اور فرماتے تھے ”لا الہ الا اللہ ان للموت سکرات“ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں موت کی بڑی تکلیف ہے۔ اس کے بعد ہاتھ پھیلا کر کہنے لگے: ”فی الرفیق الاعلیٰ“ اسی میں آپ کی وفات ہو گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللھم صلی علی محمد وعلٰی الہ واصحابہ وبارک وسلم دائما ابدا
آپ کی وفات کی خبر سن کر محبان رسول کے ہوش و حواس گم ہو گئے۔ آوازیں بند ہو گئیں۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ زمین پر بیٹھ گئے اور ان میں کوئی سکت نہ رہی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اتنا غم لیا کہ عقل کھو بیٹھے اور انہوں نے تلوار کھینچ لی اور کہا جو شخص یہ کہے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے میں اس کو قتل کر دوں گا۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں آپ کے چہرہ انور سے چادر ہٹا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا:
میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ بے شک وفات پا گئے ہیں۔ پھر آپ باہر تشریف لے آئے، مدینہ کے لوگ زاروقطار رو رہے تھے۔ عمر فاروق جو غم سے نڈھال اور ہواس کھو بیٹھے تھے تلوار لے کر کھڑے تھے اور یہ کہہ رہے تھے جو شخص یہ کہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں میں اس کو قتل کر دوں گا۔ ایسے حالات میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حالات کو کنٹرول کیا اور آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا:
”لوگو سنو! جو شخص محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا تھا (وہ جان لے کہ) محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں۔ اور تم میں سے جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ زندہ ہے۔ وہ کبھی نہیں مرے گا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
وما محمد الا رسول قدخلت من قبلہ الرسل
ابن ابی شیبہ میں ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان آیات کو تلاوت فرمایا۔
انک میت وانھم میتون٭ وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد٭
”بے شک آپ بھی مرنے والے ہیں اور بے شک وہ (سب لوگ) بھی مرنے والے ہیں۔ اور آپ سے پہلے کسی بشر کے لئے ہمیشگی و دوام نہیں ہے۔“
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد سب لوگوں کی زبان پر وہی آیتیں تھیں جو سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر تلاوت کی تھیں۔

فروری 7, 2011 at 07:03 تبصرہ کریں

باطل عقائد و رسومات اور ماہِ صفر

ماہ صفر المظفر کو جاہل لوگ منحوس سمجھتے ہیں ، اس میں شادی کرنے اور لڑکیوں کو رخصت کرنے سے، نیا کاروبار شروع کرنے اور سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ خصوصاً ماہ صفر کی ابتدائی تیرہ تاریخیں بہت زیادہ منحوس گمان کی جاتی ہیں اور ان کو تیرہ تیزی کہتے ہیں۔ تیرہ تیزی کے عنوان سے سفید چنے (کابلی چنا) کی نیاز بھی دی جاتی ہے ۔ نیاز و فاتحہ کرنا مستحب ہے لیکن یہ سمجھنا کہ اگر تیرہ تیزی کی فاتحہ نہ دی اور سفید چنے پکا کر تقسیم نہ کئے تو گھر کے کفیل افراد (خصوصاً کمانے والے) کا روزگار متاثر ہوگا ، یہ باطل نظریہ ہے۔ نیاز و فاتحہ ہر طرح کے رزقِ حلال پر دی جا سکتی ہے اور ہر ماہ کی ہر تاریخ کو دی جا سکتی ہے۔ محض ماہِ صفر سے کسی نیاز کو مقید کرنا جہالت ہے۔
ماہِ صفر کے آخری چہار شنبہ کو ”آخری بدھ ” کے عنوان سے لوگ بہت مناتے ہیں، خصوصاً ٹیکسٹائل (کپڑے کا کاروبار) قالین بافی ، لوہار ، بڑھئی اور بنارسی (کھڈی لوم) کا کام کرنے والے اپنے کاروبار بند کر دیتے ہیں ، سیر و تفریح کو جاتے ہیں، نہاتے دھوتے ہیں، خوشیاں مناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس روز صحت کا غسل فرمایا تھا۔ اور بیرونِ شہر (یعنی مدینہ طیبہ کے باہر) سیرو تفریح کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ یہ سب باتیں بےاصل اور بے بنیاد ہیں ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ الرضوان نے تحقیق فرمائی ہے کہ ماہِ صفر کے آخری ہفتہ میں سید العرب والعجما کا مرض شدت کے ساتھ تھااور فوراً بعد ربیع الاول شریف میں آقائے دوجہاں علیہ الصلوٰۃ والسلام ظاہری حیات کا عرصہ گزار کر وصال فرما گئے تھے۔ ان تاریخوں میں جو باتیں لوگوں میں مشہور ہیں، وہ خلافِ شرع و حقیقت ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس روز بلائیں آتی ہیں اور طرح طرح کی باتیں بیان کی جاتی ہیں. ان سب خرافات کو مندرجہ ذیل احادیث رد کرتی ہیں۔
حدیث:
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ لَا عَدْوٰی وَلَا ھَامَۃَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صَفَرَ۔ (مسلم شریف جلد دوم صفحہ ٢٣١، جامع صغیر جلد دوم صفحہ ٨٨٥)
(ترجمہ) سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے مروی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہ متعدی بیماری ہے اور نہ ہامہ اور نہ منزل قمر اور نہ صفر ۔
حدیث:
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ لَا عَدْوٰی وَلَا طِیَرۃَ وَ اُحِبُّ الْفَالَ الصَّالِحَ (مسلم شریف جلد دوم صفحہ ٢٣١)
(ترجمہ) معروف محدّث و مُعَبِّر امام محمد بن سیرین علیہ الرحمۃ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ”بیماری کا لگنا اور بدشگونی کوئی چیز نہیں فالِ بد کچھ نہیں البتہ نیک فال مجھے پسند ہے۔”
حدیث:
امام مسلم علیہ الرحمہ فال سے متعلق احادیث نقل کرتے ہیں ، حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے حضرت انس رضی اللہ عنہ، سے روایت کیا،
وَیُعْجِبْنِیُ الْفَأْلُ الْکَلِمَۃُ الْحَسَنَۃُ و الْکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ (صحیح مسلم مطبوعہ اصح المطابع، جلد دوم، صفحہ ٢٣١)
(ترجمہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ”فال” سے متعلق فرمایا، ” اور مجھے اچھا شگون (فال) پسند ہے یعنی نیک کلمہ ، اچھا کلمہ۔”
کوئی مہینہ منحوس نہیں ہوتا
حدیث:
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ الشُّوْمُ فِیْ الدَّارِ وَالْمَرْ أَۃِ وَالْفَرَسِ (مسلم جلد دوم صفحہ ٢٣٢)
(ترجمہ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ”نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے، گھر ، عورت اور گھوڑے میں۔”
حدیث شریف:
عَنْ اِبْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ قَالَ اِنْ یَّکُنْ مِّنَ الشُّوْمِ شَیْءٌ حَقٌّ فَفِی الْفَرَسِ وَالْمَرْأَۃِ وَ الدَّارِ (مسلم جلد دوم، صفحہ ٢٣٢)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ”اگر بدشگونی کسی چیز میں ہو تو گھوڑے ، عورت اور گھر میں ہوگی۔”
حدیث:
عَنْ جَابِرِ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ قَالَ اِنْ کَانَ فِیْ شَیْءٍ فَفِیْ الرُّبْعِ وَالْخَادِمِ وَ الفَرَوسِ (مسلم جلد دوم صفحہ ٢٣٢)
(ترجمہ)حضرت جابر رضی اللہ عنہ، سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ”اگر کچھ نحوست ہو تو زمین اور غلام اور گھوڑے میں ہوگی۔”
تشریح احادیث:
امام نووی علیہ الرحمۃ نے کہا کہ ان احادیث میں امام مالک نے کہا کہ کبھی گھر کو اللہ تعالیٰ ہلاکت کاسبب بنا دیتا ہے یا اسی طرح کسی عورت یا گھوڑے یا غلام کو اورمطلب یہ ہے کہ کبھی نحوست ان چیزوں سے ہوجاتی ہے۔ اور امام خطابی و دیگر بہت سے علما نے کہا کہ یہ بطور استثناء کے ہے یعنی شگون لینا منع ہے مگر جب کوئی گھر میں رہنا پسند نہ کرے یا عورت سے صحبت کو مکروہ جانے یا گھوڑے یا خادم کو بُرا سمجھے تو ان کو نکال ڈالے بیع اور طلاق سے (شرح صحیح مسلم النووی)
نوٹ: گھوڑے سے مراد ” سواری” (کار /بس وغیرہ) ہے اور غلام سے مراد نوکر چاکر ہیں۔
حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مفہوم:
حافظ الحدیث حضرت امام محی الدین نووی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں ۔
لَاعَدْوٰیکا مطلب یہ ہے کہ ایک بیماری دوسرے کو نہیں لگتی ۔ زمانہئ جاہلیت میں لوگوں کا اعتقاد تھا کہ جو شخص بیمار کےساتھ بیٹھتا ہے یا اس کے ساتھ کھاتا پیتا ہے تو اس کی بیماری اس کو بھی لگ جاتی ہے۔
وَلَا ھَامَّۃَ۔ ہامہ ایک جانور کا نام ہے۔ اہلِ عرب میں یہ باطل نظریہ تھا کہ یہ جانور میت کی ہڈیوں سے پیدا ہوتا ہے جو اُڑتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ مقتول کے سر سے ایک جانور باہر نکلتا ہے۔ اس کا نام ہامہ ہے وہ ہمیشہ فریاد کرتا ہے کہ مجھ کو پانی دو یہاں تک کہ اس کا مارنے والا مارا جاتا ہے۔امام نووی نے تفسیر ” مالک بن انس” کے حوالہ سے لکھا ہے کہ وہ (اہلِ عرب) اعتقاد رکھتے تھے کہ مقتول کی روح جانور میں منتقل ہو جاتی ہے۔ سرکار نامدارعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس عقیدہ کو باطل فرمایا۔
نوء کی جمع انواء ہے جس کا معنیٰ قمر کی منزلیں ہیں۔ وہ اٹھائیس منزلیں ہیں یعنی وہ راتیں کہ جن میں چاند کے مکمل ہونے کے ارتقائی مراحل اور پھر بتدریج تنزل کے مراحل ۔حتیٰ کہ چاند اٹھائیسویں شب میں مکمل غروب ہوجاتا ہے اہل عرب کا خیال تھا کہ چاند کی بڑھتی اور گھٹتی عمر کی منزلیں بارش آنے کا سبب ہیں ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا رد فرمایا کہ نزولِ باراں بتقدیر الٰہی ہے۔
وَلَا صَفَرَ۔ یعنی صفر نہیں۔ اس میںبہت تاویلات ہیں بعض کے نزدیک” صفر ”سے مراد یہی مہینہ ہے جو محرم شریف کے بعد آتا ہے۔امام مالک اور ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ بعض کے نزدیک ”صفر” پیٹ میں پایا جانے والا ایک سانپ ہے اور وہ بھوک کے وقت کاٹتا ہے اور ایذاء دیتا ہے اور ایک آدمی سے دوسرے میں سرایت کر جاتا ہے۔۔۔۔ پس حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا کہ یہ سب باطل اور خرافات ہیں۔ (شرح صحیح مسلم جلد دوم صفحہ ٤٣٠۔٤٣١)
ایک اور حدیث میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا،” بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں” (مسلم شریف )
عرب کی یہ عادت بھی تھی کہ شگون لیتے تھے۔ وہ اس طرح کہ جب کسی کام کا قصد کرتے یا کسی جگہ جاتے تو پرندہ یا جانور کو ہنکارتے تو اگر یہ دائیں طرف بھاگتا تو اسے مبارک جانتے اور نیک فال لیتے اور اگر بائیں طرف بھاگتا تو اسے نحس اور نا امید جانتے ۔ شارع علیہ السلام نے اس عقیدہ کو بھی باطل قرار دیا۔ متذکرہ دونوں احادیث سے معلوم ہوا کہ تقدیر الٰہی، اہلِ دنیا کی حرکات و سکنات کی پابند نہیں بلکہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی مشیّت کی پابند ہے جبکہ بد فالی (بدشگونی) رسمِ کفار ہے ، بہر حال مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے ۔

جنوری 6, 2011 at 06:25 تبصرہ کریں

Older Posts Newer Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad Poetry
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے”
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad Poetry