Posts filed under ‘Funny Poetry : مزاحیہ شاعری’

Namkeen Ghazal

Advertisements

جولائی 4, 2011 at 10:41 تبصرہ کریں

مزاحیہ اردو نظمیں

کوچئہ یار میں جو میں نے جبیں سائی کی
اس کے ابا نے میری خوب پزیرائی کی
میں نے تو سمجھا تھا کہ وہ شخص مسیحا ہو گا
اس نے میری تو مگر تارا مسیحائی کی
وہ بھری بزم میں کہتی ہے مجھے انکل جی
ڈپلومیسی ہے یہ کیسی میری ہمسائی کی
رات ہجرے میں علاقے کی پولیس گھس آئی
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
میں جسے ہیر سمجھتا تھا وہ رانجھا نکلی
بات نیت کی نہیں بات ہے بینائی کی
اے میری بیگم نہ تو میری خودی کمزور کر
یہ شریفوں کا محلّہ ہے نہ اتنا شور کر
شب کے پر تسکین لمحوں میں نہ مجھ کو بور کر
اس سعادت مند شوہر کو نہ یوں اگنور کر
***
دیدہ دل تیری چاہت کے لئے بیتاب ہیں
مجھ سے شوہر آج کل بازار میں نایاب ہیں
***
میرے آنے پر پابندی کبھی جانے پہ ہے
ہے کبھی پینے پہ قدغن اور کبھی کھانے پہ ہے
شام تک یہ بوجھ کتنا تیرے دیوانے پہ ہے
ایک بچہ بغل میں ہے دوسرا شانے پہ ہے
***
بیٹھا ہے مجھ پہ ظالم دونوں گھٹنے جوڑ کر
یہ تیرا بچہ رہے میری گردن توڑ کر
جب سے بیگم نے مجھے مرغا بنا رکھا ہے
میں نے نظروں کی طرح سر بھی جھکا رکھا ہے
برتنو!آج میرے سر پہ برستے کیوں ہو
میں نے دھو دھا کے تمہیں کتنا سجا رکھا ہے
پہلے بیلن نے بنایا میرے سر پر گومڑ
اور چمٹے نے میرا گال سجا رکھا ہے
سارے کپڑے تو جلا ڈالے میری بیگم نے
زیب تن کرنے کو بنیان پھٹا رکھا ہے
اے کنوارو! یونہی آباد رہو شاد رہو
ہم کو بیگم نے تو سولی پر چڑھا رکھا ہے
وہی دنیا میں مقدر کا سکندر ٹہرا!
جس نے خود کو یہاں شادی سے بچا رکھا ہے
حق نسواں کی جو لیڈر ہیں بتائیں تو زرا
کس نے سرتاج کو جوتی پر اٹھا رکھا ہے
روز لیتی ہے تلاشی وہ پولیس کی مانند
پوچھتی ہے کہاں پیسوں کو چھپا رکھا ہے
پی جا اس مر کی تلخی کو بھی ہنس کے اے شوہر
مار کھانے میں بھی قدرت نے مزہ رکھا ہے

اپریل 23, 2011 at 05:39 تبصرہ کریں

اطہر شاہ خاں‌ مسٹر جیدی

اطہر شاہ خان 1943ء میں برطانوی ہندوستان کے شہر رام پور میں پیدا ہوئے۔ خاندانی لحاظ سے اخون خیل پٹھان ہیں۔ آپ پاکستانی ڈرامہ نگار، مزاحیہ و سنجیدہ شاعر اور اداکار ہیں۔ اپنے تخلیق کردہ مزاحیہ کردار "جیدی” سے پہچانے جاتے ہیں۔ اصلی نام اطہر شاہ خان ہے۔ مزاحیہ شاعری میں بھی "جیدی” تخلص کرتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی وژن کے پیش کردہ مزاحیہ مشاعروں کے سلسلہ "کشت زعفران” سے مزاحیہ شاعری میں مقبولیت حاصل کی۔
تخلیقی کام
اطہر شاہ خان نے ٹیلی وژن اور سٹیج پر بطور ڈرامہ نگار اپنے تخلیقی کام کا آغاز کیا۔ آپ کے تحریر کردہ مزاحیہ ڈراموں نے بےپناہ مقبولیت حاصل کی۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں اطہر نے بتایا کہ وہ ایک دفعہ اپنے ہی ایک ڈرامے کے ایک اداکار کے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کر رہے تھے کہ سواری میں کوئی نقص پیدا ہو گیا، جب اسے ٹھیک کرنے کیلئے رکے تو لوگوں نے اداکار کو پہچان لیا لیکن مصنف (یعنی اطہر شاہ خان) کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔ بقول اطہر شاہ خان کے اس واقعہ نے انہیں اداکاری پر مائل کیا جس کے نتیجہ میں جیدی کا کردار تخلیق ہوا۔ جیدی کے کردار پر مرکوز پاکستان ٹیلی وژن کا آخری ڈرامہ "ہائے جیدی” 1997ء میں پیش کیا گیا۔
نمونۂ کلام
ویسے تو زندگی میں کچھ بھی نہ اس نے پایا
جب دفن ہو گیا تو شاعر کے بھاگ جاگے
وہ سادگی میں ان کو دو سامعین سمجھا
بس آٹھویں غزل پر منکر نکیر بھاگے
*********
یارب دل جیدی میں ایک زندہ تمنا ہے
تو خواب کے پیاسے کو تعبیر کا دریا دے
اس بار مکاں بدلوں تو ایسی پڑوسن ہو
"جو قلب کو گرما دے اور روح کو تڑپا دے”
مزاحیہ کلام اطہر شاہ خاں‌ مسٹر جیدی
::: چار بیویاں :::
بیویاں چار ہیں اور پھر بھی حسینوں سے شغف
بھائی تو بیٹھ کے آرام سے گھر بار چلا
اجرت عشق نہیں دیتا نہ دے بھاڑ میں جا
لے ترے دام سے اب تیرا گرفتار چلا
سنسنی خیز اسے اور کوئی شے نہ ملی
میری تصویر سے وہ شام کا اخبار چلا
یہ بھی اچھا ہے کہ صحرا میں بنایا ہے مکاں
اب کرائے پہ یہاں سایۂ دیوار چلا
اک اداکار رکا ہے تو ہوا اتنا ہجوم
مڑ کے دیکھا نہ کسی نے جو قلمکار چلا
چھیڑ محبوب سے لے ڈوبے گی کشتی جیدی
آنکھ سے دیکھ اسے ہاتھ سے پتوار چلا
::: خواب :::
تعبیروں کی حسرت میں، کیسے کیسے خواب بنے
دولت اک دن برسے گی، اب تو اپنی باری ہے
اللہ جب بھی دیتا ہے چھپر پھاڑ کے دیتا ہے
اس امید پہ ساری عمر چھپر تلے گزاری ہے
::: آنکھ میں موتیا :::
رنگ خوشبو گلاب دے مجھ کو
اس دعا میں عجب اثر آیا
میں نے پھولوں کی آرزو کی تھی
آنکھ میں موتیا اتر آیاا
::: پورا مسلمان :::
اگرچہ پورا مسلمان تو نہیں لیکن
میں اپنے دین سے رشتہ تو جوڑ سکتا ہوں
نماز و روزہ و حج و زکوٰۃ کچھ نہ سہی
شب برات پر پٹاخہ تو چھوڑ سکتا ہوں
::: ہمارا علم :::
ہمارے علم نے بخشی ہے ہم کو آگاہی
یہ کائنات ہے کیا، اس زمیں پہ سب کیا ہے
مگر بس اپنے ہی بارے میں کچھ نہیں معلوم
مروڑ کل سے جو معدے میں ہے سبب کیا ہے
::: ماموں‌ :::
ناکام محبت کا ہر اک دُکھ سہنا
ہر حال میں انجام سے ڈرتے رہنا
قدرت کا بڑا انتقام ہے جیدی
محبوبہ کی اولاد کا ماموں کہنا!
::: ادھار :::
ادا کیا تھا جو میں نے اس کا ادھا ر آدھا
جبھی سے تو اس کو رہ گیا اعتبار آدھا
ضرور مٹی کا تیل ساقی پلا گیا ہے
جو پورے ساغر سے ہو رہا ہے خمار آدھا
اگر تیرا ہاتھ دل پہ ہوتا تو کیا نہ ہوتا
کہ نبض دیکھی تو رہ گیا ہے بخار آدھا
وہ زہر میں ڈال کر وٹامن بھی دے رہا ہے
تو اس سے ظاہر ہے اس کی نفرت میں پیار آدھا
یہ آدھی چلمن ہے یا مری آنکھ میں ہے جالا؟
دکھائی کیوں دے رہا ہے روئے نگار آدھا

مارچ 2, 2011 at 06:13 تبصرہ کریں

انور مسعود کی مزاحیہ پنجابی شاعری

اج کہیہ پکائیے !
چوہدری: اَج کہیہ پکائیے دس تیراکہیہ خیال اے
رحماں: میں  کہیہ خیال دساں میریکہیہ مجال اے
چوہدری: رحمیاں چل اَج فیر چسکے ای لا لئیے
لبَھ جان چنگیاں تے بھنڈیاں پکا لئیے
رحماں: واہ واتُساں بُجھیاں نیں دلاں دیاں چوریاں
میرا وی ایہہ دل سی پکائیے اج توریاں
لُونواں والی بھِنڈی ہووے پوٹا پوٹا لمی ہووے
ہری تے کچُور ہووے سوہنی ہووے کولی ہووے
وچ ہون بکرے دی پُٹھ دیاں بوٹیاں
نال ہون چھنڈیاں تندور دیاں روٹیاں
مکھنے دا پیڑا ہووے لسی دا پیالہ
بھِنڈیاں دے نخرے تے گرم مصالحہ ہووے
بھنڈیاں بنانا وی تے کوئی کوئی جاندا
رنھناں پکانا وی تےکوئی کوئی جاندا
اُٹھاں فیر چوہدری پھڑاں میں تیاریاں
بھنڈیاں بناواں اج رج کے کراریاں
چوہدری: رحمیاں ہزار ہون مزیدار بھنڈیاں
ہوندیاں نے کُجھ ذرا لیس دار بھِنڈیاں
رحماں: دفع کرو چوہدری جی سبزیاں دی تھوڑ اے
سانوں ایہہ لسُوڑیاں پکان دی کی لوڑ اے
بندہ کاہنوں بھنڈیاں دی لیس دی ہواڑ لَئے
ایہدے نالوں پَولی دی سریش بھانویں چاہڑ لَئے
چوہدری : فیر  کہیہ خیال اے تیرا جھڑی نہ منا لَئیے
جے تو آکھیں رحمیاں کریلے نہ پکا لئَیے
رحماں: ریس اے کوئی چوہدری جی آپ دے خیال دی
جمی اے کوئی سبزی کریلیاں دے نال دی
ڈِھڈ وچ اِنج جویں لو لگ پئی اے
تساں گل کیتی اے تے رال واگ پئی اے
سچ پچھو چوہدری جی ایہو میری راء اے
مینوں وی چروکناں کریلیاں دا چاء اے
چوہدری جی ہووے جے کریلا چنگا پلیا
وچ ہووے قیمہ اُتے دھاگہ ہووے ولیا
گنڈھیاں ٹماٹراں دے نال ہووے تُنیاں
فیر ہووے گھر دے گھہیو وچ بھُنیا
فیر کوئی چوہدری جی اُوس دا سواد اے
پار وی پکایا سی تُوانوں وی تے یاد اے
چوہدری : ہوربیبا مینوں ایہدی مینوں ہر گل بھاؤندی
رحمیاں کریلیاں وچ کوڑ ذرا ہوندی اے
رحماں: دفع کرو زہر تے چریتا مینوں لگدا ئے
نِم تے دھریک دا بھراں مینوں لگدائے
پلے پلے دنداں جیِبھ پئی سکدی
کھا مر لئی تے تریہہ نیں مکدی
تُمے دیاں گولیاں کریلیاں تو پھکیاں
اینہاں نالوں چاہڑ لو کونین دیاں ٹکیاں
چوہدری: رحمیاں فیر انج کر تُوں کوئی راء دے
پُچھیں تے بتاؤنواں دا وی اپنا سواد اے
رحماں: رب تہاڈا بھلا کرے کِڈی سوہنی گل اے
ایہو جیئے ذائقے والا ہور کہیڑا پھل اے
کالے کالے لشکدے تے گول مول چاہڑ لو
چوہدری جی لون تے وتاؤں چًول چاہڑ لوں
چوہدری: رحمیاں پکانے نوں تے جی بڑ کردائے
بُھٹیاں دی گرمی تو جی ذرا ڈر دائے
رحماں: سچ اے جی چوہدری جی ڈھڈ کاہنوں بالنا
کھان والی چیز اے کوئی وینگناں دا سالنا
بھٹھیاں دے ڈک وچ سُٹنے ضرور نے
کاہنوں پَے بھخائے ، ساڈے ڈھڈ کوئی تندور نیں
دفع کروبھٹھیاں نوں بَھٹھے کاہنوں ساڑیئے
حبشیاں نوں چوہدری جی گھر کاہنوں واڑئیے
کالیاں دے نال کاہنوں مارئیے اُڈاریاں
ساڈیاں تےہیں امریکہ نال یاریاں
چوھدری : وَدھ وَدھ بولناایں ایویں بڑبولیا
سبزیاں توں جا تُوں سیاستاں نوں پھولیا
دوجے دی وی سُن کجھ دوجے نوں وی کہن دے
حکومتاں دی گل توں حکومتاں تے رہن دے
چنگا فیر بُجھ میرا کی خیال اے ؟
رحماں: بُجھ لئی چوہدری جی چھولیاں دی دال اے
انور مسعود دی بنیان
بنین لین جاندے او
بنین لے کے آندے او
پاندے اور تے پیندی نئیں
پے جائے تے لیندی نئیں
لے جائے تے دوجی واری
پَون جوگی ریندی نئیں
بنین میں دیاں گا
پاؤ گے تے پے جائے
لاؤ گے تے لَے جائے
لَے جائے تے دوجی واری
پَون جوگی رہ جائے
بنین میری ودھیا
بنین میری ٹاپ دی
وڈھیاں نوں پوری آوے
نکیاں دے ناپ دی
چیز ہووے اصلی تے
مُنوؤں پئی بولدی
تُپ نالوں گوری لگے
رسی اُتے ڈولدی
جنے ورے چاؤ تُسی
ایس نوں ہنڈا لَو
فیر پویں بچیاں دا
جانگیا بنا لَو

جنوری 27, 2011 at 11:55 تبصرہ کریں

اردو مزاحیات

جنوری 17, 2011 at 12:27 1 comment

مزاحیہ اردو شاعری

 

نومبر 25, 2010 at 12:22 تبصرہ کریں

بال بانکا

ایک عورت ایک دن ہمجولیوں کے درمیان
کررہی تھی اپنے شوہر کی بیاں کچھ خوبیاں
کہہ رہی تھی زور دے کر اس کے فرضی واقعات
سن رہی تھیں غور سے محفل میں ساری ناریاں
جب وہ بولی بال بانکا ان کا ہو سکتا نہیں
سب نے یہ سمجھا کہ عورت کر رہی ہے شیخیاں
اک سہیلی نے یہ پوچھا کر کے لہجہ طنزیہ
کیا بہادر ہیں زیادہ آپ کے شوہر میاں
وہ یہ بولی ہنس کے پیاری کیا کہوں میں آپ سے
بات جو میں کہہ رہی ہوں اس کو سمجھو میری جاں
صرف یہ مطلب ہے میری سیدھی سچی بات کا
اے مری ہمجولیوں! ہیں گنجے بے چارے میاں

اکتوبر 14, 2010 at 10:46 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]