Posts filed under ‘Fun Stuff : فن سٹف’

Namkeen Ghazal

جولائی 4, 2011 at 10:41 تبصرہ کریں

ہنسنا منع ہے!!!

بیوی: دیکھا میں نے بغیر دیکھے آپ سے شادی کی….
شوہر: میری ہمّت دیکھو تمہیں دیکھ کر بھی تم سے شادی کر لی…
ایک پٹھان اور سردار پانی پینے گئے، وہاں گلاس الٹا پڑا تھا..
سردار: اس کا تو منہ ہی بند ہے
پٹھان: اور یہ تو نیچے سے بھی پھٹا ہوا ہے..
تین لوگ مرنے کے بعد جنّت کے دروازے پر پہنچے
پہلا بولا: میں مولوی ہوں میں نے زندگی بھر عبادت کی ہے مجھے اندر آنے دو..
آواز آئی نیکسٹ
دوسرا بولا:میں ڈاکٹر ہوں، میں نے زندگی بھر لوگوں کی مدد کی ہے مجھے اندر آنے دو…
آواز آئی نیکسٹ
تیسرا بولا: میں شادی شدا ہوں
آواز آئی، بس کر رُلائے گا کیا، چل اندر آ جا
استاد پٹھان سے..
تم کہاں پیدا ہوئے تھے؟
پٹھان: نورتھ وزیرستان
استاد: اس کے سپیلنگ سناؤ
پٹھان: ایک منٹ میڈم، ہم کو لگتا ہے کہ ہم یو-کے میں پیدا ہوا تھا
ایک لڑکی نے اپنا رزلٹ نیٹ پر دیکھا..
حیران ہوکہ بولی! کیا… میں فیل ہو گئی وہ بھی انگلش میں؟؟؟
ان پوسیبل
بیوی: سنا ہے کہ جنّت میں شوہر کو بیوی کے ساتھ نہیں رہنے دیں گے
شوہر: سہی سنا ہے…
بیوی: ایسا کیوں؟؟؟
شوہر: پگلی اسی لئے تو اسے جنّت کہتے ہیں
ماہر نفسیات: مبارک ہو! آپ کا علاج مکمل ہو گیا. اب آپ بلکل ٹھیک ہیں
دماغی مریض: کیا فائدہ! آپ کے علاج سے پہلے میں فرانس کا بادشاہ تھا، اب میں ایک عام آدی ہوں
تین بچے آپس میں بات کر رہے تھے،
ایک نے کہا: میں بھورے رنگ کی کار لوں گا، میرے ابّو کے بال بھورے ہیں.
دوسرے نے کہا: میں کالے رنگ کی کار لوں گا، میرے ابو کے بال کالے ہیں.
اب تیسے کی باری تھی، وہ پٹ سے بولا:
"اور میں بغیر چھت کی کار لوں گا، میرے ابّو گنجے ہیں”
مریض: مجھے عجیب سی بیماری ہو گئی ہے، جب میری بیوی کچھ بولتی ہو تو مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا..
حکیم: یہ بیماری نہیں تم پر اللہ کی خاص رحمت ہے….
سردار: تم بائیک اتنی تیز کیوں چلا رہے ہو؟
پٹھان: یہ خط ارجنٹ دینا ہے
سردار: کہاں؟
پٹھان: ابھی ایڈریس دیکھنے کا ٹائم نہیں ہے
سردار: او-کے گو فاسٹ
مرغا: جان میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں اور تمھارے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں
مرغی: ہائے اللہ سچّی!!!
مرغا: ہاں
مرغی: چل پھر آج انڈہ تو دے دے میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے…

مئی 7, 2011 at 07:54 تبصرہ کریں

مزاحیہ اردو نظمیں

کوچئہ یار میں جو میں نے جبیں سائی کی
اس کے ابا نے میری خوب پزیرائی کی
میں نے تو سمجھا تھا کہ وہ شخص مسیحا ہو گا
اس نے میری تو مگر تارا مسیحائی کی
وہ بھری بزم میں کہتی ہے مجھے انکل جی
ڈپلومیسی ہے یہ کیسی میری ہمسائی کی
رات ہجرے میں علاقے کی پولیس گھس آئی
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
میں جسے ہیر سمجھتا تھا وہ رانجھا نکلی
بات نیت کی نہیں بات ہے بینائی کی
اے میری بیگم نہ تو میری خودی کمزور کر
یہ شریفوں کا محلّہ ہے نہ اتنا شور کر
شب کے پر تسکین لمحوں میں نہ مجھ کو بور کر
اس سعادت مند شوہر کو نہ یوں اگنور کر
***
دیدہ دل تیری چاہت کے لئے بیتاب ہیں
مجھ سے شوہر آج کل بازار میں نایاب ہیں
***
میرے آنے پر پابندی کبھی جانے پہ ہے
ہے کبھی پینے پہ قدغن اور کبھی کھانے پہ ہے
شام تک یہ بوجھ کتنا تیرے دیوانے پہ ہے
ایک بچہ بغل میں ہے دوسرا شانے پہ ہے
***
بیٹھا ہے مجھ پہ ظالم دونوں گھٹنے جوڑ کر
یہ تیرا بچہ رہے میری گردن توڑ کر
جب سے بیگم نے مجھے مرغا بنا رکھا ہے
میں نے نظروں کی طرح سر بھی جھکا رکھا ہے
برتنو!آج میرے سر پہ برستے کیوں ہو
میں نے دھو دھا کے تمہیں کتنا سجا رکھا ہے
پہلے بیلن نے بنایا میرے سر پر گومڑ
اور چمٹے نے میرا گال سجا رکھا ہے
سارے کپڑے تو جلا ڈالے میری بیگم نے
زیب تن کرنے کو بنیان پھٹا رکھا ہے
اے کنوارو! یونہی آباد رہو شاد رہو
ہم کو بیگم نے تو سولی پر چڑھا رکھا ہے
وہی دنیا میں مقدر کا سکندر ٹہرا!
جس نے خود کو یہاں شادی سے بچا رکھا ہے
حق نسواں کی جو لیڈر ہیں بتائیں تو زرا
کس نے سرتاج کو جوتی پر اٹھا رکھا ہے
روز لیتی ہے تلاشی وہ پولیس کی مانند
پوچھتی ہے کہاں پیسوں کو چھپا رکھا ہے
پی جا اس مر کی تلخی کو بھی ہنس کے اے شوہر
مار کھانے میں بھی قدرت نے مزہ رکھا ہے

اپریل 23, 2011 at 05:39 تبصرہ کریں

اردو لطیفے

ایک دفعہ سوتے میں مرزا غالب نے بستر پر پیشاب کر دیا
بیوی نے مرزا صاحب سے کہا یہ آپ نے کیا کیا؟؟
تو مرزا صاحب فوراً بولے….
.
.
.

.

ناکامیِ عشق میں یہ حال ہوا غالب
آنسو نکل رہے ہیں رستہ بدل بدل کر
ایک دفعہ ایک نوجوان لڑکے نے ایک برقعہ میں کھڑی خاتون کو چھیڑنا چاہا اور بولاِ
رفتہ رفتہ میری نظر تجھ ہی سے لڑی ہے..
عورت نے کہا
بے شرم جس سے تو عشق لڑائے وہ تیری ماں سے بھی بڑی ہے
اتنے میں پاس کھڑے ایک ادھیڑ عمر آدمی نے بھی اس شرارت میں حصہ لیا اور بولا
ابے ہٹ یہ تیرے لئے نہیں یہ تو میرے لئے کھڑی ہے
معاف کیجئے ایک بہت ضروری فون کرنا ہے اور آپ پچھلے بیس منٹ سے ریسیور کان کو لگائے کھڑے ہیں.آخر یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟
دوسرا آدمی میرے محترم!میں فون پر اپنی بیوی سے مصروف کلام ہوں
شادی میں جن آ گیا
جن کو دیکھتے ہی لڑکیوں کی چیخیں نکل گئیں
ایک بابا نے کہا ساری لڑکیاں وضو کر کے آئیں
ساری لڑکیاں وضو کر کے آئیں
.
.
.
تو
.
.
.
جن کی چیخیں نکل گئیں
میک اپ کر کے جیو
پاکستانی فلموں کے ہیرو موٹے کیوں ہوتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟
آخر انہیں کئی کئی من ہیروئنوں کو اٹھانا بھی تو ہوتا ہے نہ…..
ورلڈ کپ ہارنے کے بعد
مصباح کی امی نے اس سے کہا:بیٹا بازار سے دہی لا دو
مصباح نے سوچا باہر نکلوں گا تو لوگ ماریں گے اس لیے برکا پہن کے نکلا…
بازار پہنچا ہی تھا کہ ایک عورت نے اس سے پوچھا
"تم مصباح ہو نا؟”
ًمصباح نے گھبرا کر کہا نہیں تو..
اس عورت نے کہا:”ڈرو مت میں عمر گل ہوں”
"جب مرغی انڈہ فری دیتی ہے تو بازار میں آٹھ روپے کا کیوں ملتا ہے؟؟”
آج نہیں بولو گے تو کل بھگتو گے….
ڈی-جوس
خاموشی کا بائیکاٹ
خاوند:”سوچا کال کر لوں”…..”تم مِس کر رہی ہو گی…
بیوی:”پانچ منٹ پہلے تو بات ہوئی تھی وہ کیا تھا؟؟”
.
.
.
.
.
خاوند:”او فٹے منہ”….پھر گھر کا نمبر مل گیا”
ایک چرسی قبرستان میں چرس پی رہا تھا. پولیس والے نے کہا کیا کر رہے ہو؟
اس نے کہا والد کے لئے دُعا کر رہا ہوں…
پولیس والے نے کہا قبر تو بچے کی ہے.
چرسی نے کہا والد بچپن میں ہی فوت ہو گیا تھا
ایک جیب کترے نے دوسرے جیب کترے کے ہاتھ میں تسبیح دیکھ کر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا”کیا اپنے پیشے سے تائب ہو گئے؟”
"نہیں یارا”دوسر جیب کترے نے منہ بسورتے ہوئے کہا”ابھی ابھی غلطی سے ایک مولوی کی جیب میں ہاتھ پڑ گیا تھا.
ایک صاحب دوستوں کی محفل سے اٹھ کر رات کافی دیر گئے گھر پہنچے دوسرے دن دوستوں نے پوچھا رات کو بھابی نے کچھ کہا تو نہیں؟؟؟
دوست نے شرمندہ ہو کر جواب دیا نہیں کچھ نہیں یہ سامنے کے دو دانت تو میں کئی دنوں سے نکلوانا چاہتا تھا.

اپریل 5, 2011 at 05:15 تبصرہ کریں

ہنسی کی دنیا!!!!

ایک سائیکل سوار کسی محلے سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک بچہ سائیکل کی زد میں آ گیا اور زور زور سے رونے لگا ،سائیکل سوار نے اسے جلدی سے بیس روپے دئیے اور اسے چپ کروانے لگا،بچہ فوراٌ چپ ہو گیا اور بولا:“انکل آپ پھر کب آئیں گے؟؟؟“
بیوی: آپ اتنے بدذوق ہیں کہ جب بھی میں گانا گاتی ہوں تو آپ باہرچلے جاتے ہیں۔
شوہر: میری بھی محلے میں کوئی عزت ہے، میں نہیں چاہتا کہ محلے والے سمجھیں کہ میں تمہیں مار رہا ہوں۔
مالک:(نوکرسے)جلدی سے بازار جاؤ اور اچھی کوالٹی کی ماچس لے کے آؤ اور دیکھنا کہیں وہ جعلی نا ہوں۔
نوکر بازار سے واپس آ کر بولا:میں نے ماچس کی ایک ایک تیلی جلا کر دیکھی ہے سب کی سب اصلی ہیں۔
بھکاری ایک شخص سے:خدا کے  نام پر ایک روپیہ دو جو مانگو گے دوں گا، اس شخص نے ایک روپیہ دے دیا-
بھکاری بولا: مانگ اب کیا مانگتا ہے-
اس  شخص نے کہا : مجھے میرا روپیہ واپس کردو-
ایک شاگرد امتحان ہال میں بیٹھا پرچہ دیکھ رہا تھا۔
استاد نے پوچھا: کیوں بھئی کیا پرچہ مشکل ہے۔
شاگرد نے کہا: پرچہ تو مشکل نہیں، مگر میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اس سوال کا جواب میری کس جیب میں ہے۔
بچہ چائینیز سے، کیا تم امریکن ہو۔
چائینیز، نہیں میں چائنیز ہوں۔
بچہ، نہیں تم امریکن ہو۔
چائینیز غصے سے، ہاں ہاں میں امریکن ہوں۔
بچہ، لیکن لگتے تو چائینیز ہو۔
ایک آدمی سبزی لینے گیا سبزی والا باربار سبزی پر پانی مار رہا تھا آدمی انتظار کرتا رہا جب کافی وقت گزر گیا تو آدمی غصے سے بولا۔
بھائی صاحب ! سبزی کو ہوش آگیا ہو تو تول بھی دو۔
کرایہ دار مالک مکان سے، دیکھیں محترم مکان کی ساری چھت ٹپک رہی ہے، کمروں میں، برآمدے میں، آنگن میں سب جگہ پانی ہی پانی ہے، میری مرغیاں ڈوبی جارہی ہیں۔
مالک مکان: تو جناب آپ بطخیں کیوں نہیں پال لیتے۔
ایک پاگل دوسرے سے، تمہیں پتا ہے کہ بھارت اور انڈیا میں جنگ ہو رہی ہے۔
دوسرا پاگل، ہاں ہاں میں نے بھی سنا ہے۔ وہ تو اچھا ہو کہ ہندوستان بیچ میں نہیں آیا ورنہ بڑی تباہی ہوتی۔
شوہر میں تنگ آگیا ہوں، تم ہمیشہ میرا گھر، میری کار ہی کہتی رہی ہو، کبھی ہمارا بھی کہا کرو۔
اب الماری میں کیا ڈھونڈ رہی ہو۔
بیوی: ہمارا دوپٹہ۔
ایک آدمی نے مکھی کی پہچان کا عجیب طریقہ نکالا۔
ایک روز اس نے اعلان کیا کہ آج میں نے چھ مکھیاں ماریں۔ تین نر تھیں اور تین مادہ۔
اس کے دوست نے پوچھا۔ نر اور مادہ کا آپ کو کیسے پتا چلا۔
اس نے جواب دیا: بڑی آسانی سے، تین مکھیاں مٹھائی پر بیٹھی تھیں اور تین آئینے پر۔
ایک کسان کا بیٹا پڑھ لکھ کر دوسرے ملک چلا گیا۔ کچھ دن بعد اس نے اپنے گاوں خط لکھا اور کہا کہ میری فیملی کو یہاں بھیج دیں۔کسان کو فیملی کا مطلب نہیں پتہ تھا۔
کئی لوگوں سے پوچھا،آخر ایک شخص نے فیملی کا مطلب رضائی بتایا۔ کسان نے اپنے بیٹے کو خط لکھا:”تمہاری فیملی کو چوہے کھا گئے ہیں،وہاں سے نئی فیملی خرید لو۔”
مالک:آخر تم نوکری کیوں چھوڑ رہے ہو؟
نوکر:آپ کو مجھ پر اعتماد نہیں ہے۔
مالک:گھر کی تمام چابیاں تو تمہیں دے رکھی ہیں۔
نوکر:لیکن ان میں سے ایک بھی چابی تجوری کو نہیں لگتی۔
استاد دو سگے بھائیوں سے :”تم دونوں نے اپنے والد کا نام مختلف کیوں لکھا ہے”؟
ایک بھائی:”ایک جیسا لکھ دیتے تو آپ کہتے کہ تم دونوں نے نقل کی ہے۔”
استاد: (شاگرد سے) ” تم آج بھی اسکول کا کام نہیں کرکے آئے ۔ مار کھانے کے لیے تیار ہوجاؤ
شاگرد: ”جناب! میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں
استاد: ”وہ کیوں؟“
شاگرد:” میری ماں نے ہدایت کر رکھی ہے کہ ہرچیز کھانے سے پہلے ہاتھ ضرور دھو لیا کرو۔“
پائلٹ(کنٹرول ٹاور سے) ہمارا پٹرول ختم ہو چکا ہے سرگودھا پر، براہ مہربانی ہدایت دیجئے۔
کنٹرول ٹاور(پائلٹ سے) گناہوں کی معافی مانگ لیجئے۔
کرکٹ ٹیم کے منیجر نے کپتان سے کہا ” یہ لو دو سو روپے ۔ نئی گیند خریدو یا کچھ بھی کرو، بس ہمیں یہ میچ ہر قیمت پر جیتنا ہے۔“
جب میچ شروع ہوا تو منیجر نے دیکھا کہ وہی پرانی گیند استعمال کی جارہی ہے۔ ا س نے کپتان کو بلا کر پوچھا۔
”گیند بھی نئی نہیں خریدی میری رقم کا کیا کیا؟“
”آپ ہی نے تو کہا تھا کہ ہمیں ہر قیمت پر میچ جیتنا ہے۔ چنانچہ ہم نے وہ دو سو روپے امپائر کو دے دیئے۔“ا
” میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم آٹھویں میں پاس ہوگئے تو تمہیں سائیکل خرید کر دوں گا مگر تم تو فیل ہوگئے ۔ آخر سارا سال تم کیا کرتے رہے؟“ باپ نے غصے سے اپنے بیٹے سے پوچھا۔
”وہ میں سارا سال سائیکل چلانے کی مشق کرتا رہا۔“ بیٹے نے معصومیت سے جواب دیا۔
مالک (نوکرسے) ” میں ذرا کام سے باہر جا رہا ہوں تم ہوشیاری سے کام لینا۔اور ہاں! اگر کوئی گاہک آئے تو اس سے ادب سے پیش آنا۔
تھوڑی دیر بعد مالک واپس آیا تو نوکر سے پوچھا ” کوئی آیا تھا؟
نوکر: جی ایک شخص آیا تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر کھڑے ہو جائو۔ میں نے اس کا حکم ادب سے مانا اور وہ تجویری اٹھا کر لے گیا۔
باپ اپنے بیٹے سے:یہ کیا یے؟تمہارے ٹیسٹ میں 0 نمبر ہیں؟
بیٹا:نہیں ابو ٹیچر کہ پاس اسٹار ختم ہو گئے تھے تو انہوں نےسیارے دینے شروع کر دیے
ماں اپنے لاڈ لے بیٹے سے:بیٹا!جب تم بڑے ہو کر جہاز چلاؤ گے تو مجھے کیسے پتا چلے گا کہ میرا بیٹا جہاز چلا رہا ہے؟
بیٹا:ماں میں جب بھی گھر کے اوپر سے گزروں گا،ایک بم پھنک دیا کروں گا۔
یہ ایک ڈراؤنی کہانی ہے
اگر ہمت ہے تو پڑھو۔
ایک دفعہ ایک بھیانک بوڑھا تیز بارش میں ، ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں بیچ رہا تھا۔
ایک آدمی اس سے خریدنے آیا۔
بوڑھے نے 300 روپے میں ایک کتاب بیچی۔
اور کہا:
کتاب کا آخری صفحہ نہ کھولنا ۔۔۔۔
ورنہ۔۔۔۔۔
پچھتاؤ گے۔
اس آدمی نے پوری کتاب ڈرتے ہوئے پڑھی
سوائے
اس آخری صفحے کے۔
ایک دن
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے ڈرتے ہوئے آخری صفحہ کھولا
اور
اس کو بری طرح جھٹکا لگا۔
اس پہ لکھا تھا:
*
*
*
*
*
*
*
قیمت: 30 روپے ۔

یہ ایک سچّا واقعہ ہے جو پچھلے مہینے لونا والا کے پاس پیش آیا ـ ہوا یوں کہ ایک لڑکا ممبئی سے پُنے اپنی کار سے جا رہا تھا، گھاٹ کے قریب اُسکی کار خراب ہوگئی دور دور تک کوئی نظر بھی نہیں آ رہا تھا ـ پھر وہ لِفٹ لینے کے چکر میں سڑک کے کنارے کنارے چلنے لگا ـ رات اندھیری اور طوفانی تھی، پانی جھماجھم برس رہا تھا وہ پوری طرح بھیگ کر تھر تھر کانپنے لگا ـ اُسے کوئی کار نہیں ملی اور پانی اِتنا تیز برس رہا تھا کہ کچھ میٹر دور کی چیزیں بھی دکھائی نہیں رہی تھیں ـ تبھی اُس نے ایک کار کو اپنی طرف آتے دیکھا، جب کار اُس کے قریب آئی تو رفتار دھیمی ہوگئی ـ لڑکے نے آو دیکھا نہ تاو، جھٹ سے کار کا پچھلا دروازہ کھولا اور اندر کود گیا ـ جب اُس نے اپنے مدد گار کو شکریہ ادا کرنے آگے جھکا تو اُسکے ہوش اُڑ گئے کیونکہ ڈرائیور کی سیٹ خالی تھی ـ ڈرائیور کی سیٹ خالی اور انجن کی آواز نہ ہونے کے باوجود بھی کار سڑک پر چل رہی تھی ـ تبھی لڑکے نے آگے سڑک پر ایک موڑ دیکھا، اپنی موت کو نزدیک دیکھ وہ لڑکا زور زور سے خدا کو یاد کرنے لگا ـ تبھی کھڑکی سے ایک ہاتھ آیا اور اُس نے کار کے سٹیرنگ وھیل کو موڑ دیا ـ کار آسانی سے مڑتے ہوئے آگے بڑھ گئی ـ لڑکا ہیبت زدہ دیکھتا رہا کہ کیسے ہر موڑ پر کھڑکی سے ایک ہاتھ اندر آتا اور سٹیرنگ وھیل کو موڑ دیتا ـ آخر کار اُس لڑکے کو کچھ دوری پر روشنی دکھائی دی ـ لڑکا جھٹ سے دروازہ کھول کر نیچے کودا پھر دیوانہ وار روشنی کی طرف دوڑا ـ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، قریب ہی ایک دھابے میں رُکا اور پینے کیلئے پانی مانگا ـ پھر وہ بری طرح رونے لگا ـ لوگوں نے دلاسہ دیکر پوچھا تو اُس نے اپنی بھیانک کہانی سنانی شروع کی، دھابے میں سنّاٹا چھا گیا تبھی سنتا اور بنتا دھابے میں پہنچے اور سنتا لڑکے کی طرف اِشارہ کرکے بنتا سے بولا کہ اُوے یہی وہ بیوقوف لڑکا ہے نا جو ہماری کار سے کودا تھا جب ہم کار کو دھکا لگا رہے تھے ـ

مارچ 4, 2011 at 07:25 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad Poetry
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے”
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad Poetry