Posts filed under ‘Blessed Personalities : متبرک ہستیاں’

اُردو شاعر: حسرت موہانی

آپ کا نام سیّد فضل الحسن اور تخلص حسرت موہانی تھا. آپ کے نام کے ساتھ موہانی اس لئے لگتا ہے کیونکہ آپ قصبہ موہان ضلع انائو میں پیدا ہوئے. آپ کی پیدائش 1875ء میں ہوئی. حسرت موہانی کے والد کا نام سیّد اظہر حسین تھا. آپ نے ابندائی تعلیم اپنے گھر پر ہی حاصل کی تھی. بی-اے کا امتحان 1903ء میں علی گڑھ سے پاس کیا.  آپ شاعر اس لئے بنے کہ شروع ہی سے آپ کو شاعری سے خاس لگاؤ تھا. آپ اپنا کلام تسنیم لکھنوی کو دکھانے لگے. 1903ء میں آپ نے علی گڑھ ایک رسالہ "اردوئے معلی” کے عنوان سے جاری کیا. اسی دوران آپ نے شعرائے متقدمین کے دیوانوں کا انتخاب کرنا شروع کر دیا. سودیشی تحریکوں میں بھی حصّہ لیتے رہے چنانچہ علامہ شبلی نے ایک مرتبہ کہا تھا”تم آدمی ہو یا جن، پہلے شاعر تھے، پھر سیاستدان بنے اور اب بنئے بن گئے ہو.”
حستر معہانی پہلے کانگریسی تھے. تب گورنمنٹ کانگرس کے خلاف تھی چنانچہ 1907ء میں آپ نے ایک مضمون شائع کیا جس کی وجہ سے آپ کو جیل بھیج دیا گیا. اس کے بعد 1947ء تک آپ کا جیل میں آنا جانا لگا رہا کبھی قید اور کبھی رہا… اسی قیدی اور رہائی کو دور میں آپ کی مالی حالت تباہ ہو گئی تھی اور رسالہ بھی بند ہو چکا تھا. حسرت موہانی نے ان سب مشکلات کا بہت خندہ پیشانی سے سامنا کیا اور مشق سخن کو ترک نہ کیا
حسرت موہانی کی سادہ زندگی 1951ء میں ختم ہوئی اور آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے.
Advertisements

جون 10, 2011 at 08:10 تبصرہ کریں

رابعہ بصری

مرخین حضرت رابعہ بصری کی پیدائش کے بارے میں دو رائے دیتے ہیں. کچھ 95 ہجری اور اکثر 97 ہجری سے اتفاق کرتے ہیں. رابعہ بصری ایک متقی اور متوکل بزرگ حضرت شیخ اسماعیل رحمۃاللہ علیہ کے گھر میں پیدا ہونے والی چوتھی بیٹی تھیں. عربی زبان میں رابعہ کا مطلب چوتھی ہے.

جب آپ کی ولادت ہوئی تو گھرمیں فاقوں کی نوبت تھی لہزا بی بی صاحبہ نے کہا پڑوس سے کچھ قرض لے لیں تا کہ یہ کڑوا وقت کٹ جائے. شیخ صاحب آدھی رات کو پڑوسی کے دروازے پر بادلِ نا خواستہ دستک دینے گئے کیونکہ غیر اللہ سے سوال کرنا ان کی غیرت ایمانی کو گوارہ نہ تھا. پڑوسی نیند میں تھا. کسی نے دروازہ کھٹکھانے کی آواز سنی نہ دروازہ کھولا. خالی ہاتھ گھر لوٹے تو بی بی صاحبہ بہت پریشان ہوئی. شیخ صاحب رحمۃاللہ علیہ بھی اسی پریشانی کے عالم میں سو گئے. خواب میں سرورِ کائنات حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلّم تشریف لائے. بیٹی کی ولادت پر مبارک باد دی اور فرمایا اسمٰعیل! پریشان نہ ہو تیری یہ بچی عارفہ کاملہ ہو گی. اگر مالی پریشانی ہے تو صبح حاکم بصرہ عیسٰی زردان کے پاس جانا. میری طرف سے ایک خط لکھ لینا کہ تم مجھ پر ہر روز سو مرتبہ اور ہر جمعرات کو چار سو مرتبہ درود بھیجتے ہو. اس جمعرات کو تحفہ دینا بھول گئے ہو. اس لئے چار سو دینار کفارہ حاملِ رقعہِ ھزا کو دے دو.

صبح جب شیخ صاحب خط لے کر حاکم بصرہ عیسٰی کے پاس گئے تو اس نے دوڑ لگائی دروازے پر پہنچا. شیخ صاحب کا نہایت مودبانہ انداز میں شکریہ ادا کیا کہ آپ کی وجہ سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے مجھے یاد فرمایا. اسی خوشی میں ہزار دینار غرباءمیں تقسیم کئے اور چار سو دینار شیخ صاحب کو دئیے.

چار پانچ سال کی عمر میں ہی والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا. جب آٹھ برس کی عمر کو پہنچیں تو بصرہ سخت قحط کا شکار ہو گیااور کسی شقی القلب نے پکڑ کر آپ رحمۃ اللہ علیہ کو بصرہ کے ایک متمول شخص عتیق کے ہاتھوں بیچ دیا. چار پانچ سال تک آپ انکی خدمت کرتی رہی. باقی تینوں بہنیں کہاں گئیں آپ رحمۃ اللہ علیہ کو انکی کوئی خبر نہیں تھی.

انکا حاکم بہت ظالم تھا بہت بھوکا پیاسا رکھتا تھا اور سخت کام بھی لیتا. ایک روز آپ کسی کام سے جا رہی تھیں کہ کوئی نا محرم سامنے آ گیا.آپ اسے دیکھ کر بھاگیں، بھاگتے ہوئے ٹھوکر کھا کے گر گئیں اور ان کا ہاتھ ٹوٹ گیا. ربِّ کریم سے رو رو کر عرض کیا” میں غریب، یتیم اور قیدی ہوں، اب ہاتھ بھی ٹوٹ گیا، اس کا مجھے کچھ غم نہیں مگر میں چاہتی ہوں کہ ساری امانتیں، ہاتھ، پاؤں، عزت،جان وغیرہ جو تیری میرے پاس ہیں انھیں اسی طرح لوٹا دوں کہ تو مجھ سے راضی ہو جائے. پتا نہیں تو مجھ سے راضی بھی ہے یا نہیں، اگر تو راضی ہے تو سارے دکھ میرے لئے راحتیں ہیں، اگر تو راضی نہیں تو پھر یہ سب میرے اعمال کی شامتیں ہیں”.

سیدہ رابعہ بصری کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہر دکھ کو صبرواستقامت سے برداشت کیا. بس ایک پل میں ہی کایا پلٹ گئی، آزادی مل گئی، جو مالک بنا ہوا تھا غلامی کے لئے آمادہ ہو گیا، خدا کے سوا ن کا کوئی سہارا نہ تھا. تاجر عتیق کی غلامی سے آزاد ہونے کے بعد سیدہ رابعہ بصرہ سے ایک بڑے علمی مرکز کوفہ چلی گئیں جہاں اس وقت کے بڑے بڑے علماء موجود رہتے تھے. وہاں آپ نے بہت کم وقت میں قرآن حفظ کر لیا. بڑے بڑے علماء آپ رحمۃاللہ علیہ سے بہت عقیدت رکھتے تھے.

حضرت رابعہ بصری کے ایمان و استقلال کی جو کیفیت تھی اس کو ایک تحریر میں بیان کرنا مشکل ہے. اب ان کے گرد فرشتوں کی موجودگی کا ادراک حاصل کریں. ایک دفعہ آپ رحمتہ اللہ علیہ دوران نماز سو گئیں، اتنے میں ایک چور آ گیا اور چادر اٹھا کر چل دیا مگر اسے دروازہ نظر نہ آیا، اس نے گھبرا کر چادر رکھ دی تو دروازہ نظر آ گیا. تین دفعہ ایسا ہی ہوا. چور کو آواز آئی اب بھی نہ باز آئے تو دائمی اندھے ہو جاؤ گے. اس گھر کی مالکہ ہماری دوست ہے، اس نے اپنے آپ کو ہماری حفاظت میں دے رکھا ہے، ایک دوست سو رہا ہے تو دوسرا جاگ رہا ہے.

ایک دفعہ ایک بزرگ ملاقات اور کھانے کی خواہش سےحاضر ہوئے. سیّدہ رابعہ بصری نے گوشت ہنڈیا میں ڈال کر چولہے پر چڑھایا ہوا تھا لیکن آگ نہیں جلائی، زہدوتقوٰی کی گفتگو میں نہ بزرگ کو بھوک رہی اور نہ سیّدہ رابعہ کو آگ جلانے کا خیال آیا، دیکھا تو ہنڈیا میں لزیز کھانا پکا ہوا تھا.

سب تعریفیں اللہ جل شانہ کیلئے ہیں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی مالک نہیں، جو سب خزانوں، سب طاقتوں کا مالک ہے، جو ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا، جس کا کوئی شریک کوئی ہمسر نہیں. باقی ہر شے فانی ہے. عدم سے وجود اور وجود سے عدم، یہی انسان کا اور ہر مخلوق کا مقدر ہے. اسی اصل تقدیر کے مطابق سیّدہ رابعہ طاہرہ عارفہ کاملہ بصریہ نے جس دوست کی رضا کے لئے زندگی گزار دی، اسی نے185 ہجری میں ملاقات کے لئے بلا لیا.

مارچ 31, 2011 at 06:43 تبصرہ کریں

حضرت ابراہیم علیہ السلام

حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت بلند مرتبہ نبی گزرے ہیں. آپ کے بعد جس قدر نبی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے وہ آپ ہی کی نسل سے تھے، پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے خاندان سے تھے، یہی وجہ ہے کہ مسلمان اب بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت کہلاتے ہیں۔
آپ جس وقت دنیا میں تشریف لائے اس وقت نہ صرف بت پرستی کا بڑا زور تھا بلکہ اس زمانے کا بادشاہ نمرود بھی اپنے آپ کو خدا کہلاتا اور لوگوں سے اپنی پوجا کرواتا تھا۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ کے والد آزر صرف بت پرست ہی نہ تھے، بلکہ بت گر بھی تھے، وہ بت بناتے، لوگ ان سے ان جھوٹے خداؤں کو خرید کر لے جاتے اور پھر ان کی عبادت کرتے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام ابھی بچے ہی تھے کہ آپ اپنے باپ کے کام کو دیکھ دیکھ کر سخت حیران ہوتے کہ جن بتوں کو ان کے والد بناتے ہیں وہ ہلنے جلنے سے بھی معذور اور محتاج ہیں۔ کس قدر احمق ہیں یہ لوگ جو ان بے جان مورتیوں کو خدا سمجھ رہے ہیں۔
جب ذرا سیانے ہوئے تو آپ کا یہ عقیدہ پختہ ہوگیا کہ لکڑی،پتھر اور مٹی کے یہ بت کوئی حقیقت نہیں رکھتے، لیکن جب آپ لوگوں سے کہتے کہ تم ان کی کیوں پوجا کرتے ہو، ان میں اگر کوئی خوبی ہے تو مجھے بھی بتاؤ تو آپ کے سوال کا جواب تو کوئی نہ دے سکتے۔ صرف یہ کہہ کر ٹال دیتے کہ ہم تو وہی کرتے ہیں جو ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے ہیں۔
ایک دن ان بت پرستوں کا شہر سے باہر کوئی میلہ تھا، تمام لوگ میلے میں گئے ہوئے تھے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایسے میلوں ٹھیلوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی اور اگر کسی نے میلے پر جانے پر اصرار بھی کیا تو آپ نے انکار کر دیا۔ جب سارا شہر خالی ہو گیا تو آپ نے بت خانہ کے تمام بتوں کو توڑ پھوڑ دیا اور بعد میں کلہاڑی بڑے بت کے کندھے پر رکھ دی۔ شام کو جب یہ لوگ واپس لوٹے اور انہوں نے اپنے خداؤں کی یہ درگت دیکھی تو بہت برا فروختہ ہوئے اور تلاش کرنے لگے کہ یہ حرکت کس نے کی ہے، آخر سب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر شبہ کیا۔ آخر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلا کر پوچھا کہ یہ بت کس نے توڑے ہیں۔
آپ نے جواب دیا مجھ سے پوچھنے کی بجائے اپنے خداؤں سے کیوں نہیں پوچھتے، جن کی تم عبادت کرتے اور مرادیں مانگتے ہو۔ پھر فرمایا دیکھو کلہاڑی تو بڑے بت کے کندھے پر ہے، اس سے پوچھو کہیں اس نے ہی تو تمہارے جھوٹے خداؤں کا صفایا نہیں کر دیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کو بت پرستی سے روکا۔ اس پر ان کا باپ سخت ناراض ہوا اور کہا کہ آئندہ اگر تو نے مجھ سے ایسی بات کہی تو تجھے سنگ سار کر دوں گا اور کہا کہ تم میرے پاس سے ہمیشہ کے لیے چلے جاؤ، آپ نے باپ کو سلام کیا اور فرمایا کہ میں چلا جاتا ہوں اور تمہاری مغفرت کے لیے دعا کرتا رہوں گا۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کامل یقین ہو گیا کہ مٹی اور پتھر کے یہ بت خدا نہیں ہو سکتے تو آپ سوچنے لگے کہ آخر خدا کون ہے، رات جب نیلے آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے دیکھے تو سوچنے لگے کہ یہ چمکتے دمکتے ستارے خدا ہوں گے، مگر تھوڑی دیر کے بعد جب ستارے بھی غائب ہو گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سوچنے لگے کہ جن چیزوں پر زوال آ جائے وہ تو خدا نہیں ہوسکتیں اور اب آپ نے چمکتے ہوئے چاند کو دیکھا تو کہنے لگے ستارے تو نہیں یہ چاند ضرور خدا ہو گا۔ مگر جب وہ بھی غائب ہو گیا تو آپ کہنے لگے کہ یہ بھی خدا نہیں ہو سکتا اور اگر خدا مجھے ہدایت نہ دیتا تو یقیناً میں گمراہ ہو گیا ہوتا۔ اب آپ نے جگمگاتے ہوئے روشن سورج کو دیکھا کہ یہ سب سے بڑا ہے، یہی میرا رب ہو گا، لیکن شام کو جب وہ بھی غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا، اے قوم میں تمہارے ان معبودوں سے سخت بیزار ہوں، جن کو تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو اور فرمایا کہ میں اس خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور میں مشرک نہیں ہوں۔
اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم آپ سے سخت ناراض ہو گئی اور ان سے جھگڑا کرنے لگی، آپ نے ان سے فرمایا کہ تم مجھ سے خدا کے متعلق جھگڑا کرتے ہو، جس نے مجھے توحید کا سیدھا راستہ بتایا اور میں تمہارے ان معبودوں سے ہرگز نہیں ڈرتا اور میں تمہارے ان جھوٹے خدائوں سے ڈر بھی کیسے سکتا ہوں جبکہ تم ان چیزوں کو خدا کا شریک ٹھہرانے سے نہیں ڈرتے جن کو حق سمجھنے کے لیے اللہ کی طرف سے تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔
جب وہاں کے بادشاہ نمرود کو پتہ چلا تو اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دربار میں بلایا اور آپ سے جھگڑنے لگا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ میرا خدا وہ ہے جو مارتا بھی ہے اور جلاتا بھی، نمرود نے کہا یہ کون سی بات ہے یہ تو میں بھی کرتا ہوں، چنانچہ ایک ایسے قیدی کو بلا کر آزاد کر دیا جس کو سزائے موت کا حکم ہو چکا تھا اور ایک بےگناہ آدمی کو پکڑ کر قتل کر دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بے دھڑک ہو کر کہا کہ میرا راب ہر روز مشرق سے سورج طلوع کرتا ہے، میں دیکھوں گا اگر کل تو اس کو مغرب سے طلوع کر دے، اس پر نمرود لاجواب ہو گیا اور حکم دیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو زندہ جلا دیا جائے چنانچہ ایک زبردست چتا تیار کی گئی اور نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس جلتی ہوئی آگ میں پھینکوا دیا مگر وہ آگ خدا کے حکم سے ٹھنڈی ہوگئی اور آپ کو ہرگز گزند نہ پہنچا سکی۔
جب حضرت ہاجرہ کے بطن سے حضرت اسمعیل علیہ السلام پیدا ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم سے اپنی بیوی ہاجرہ اور لخت جگر حضرت اسمعیل کو ایک ایسی وادی میں چھوڑ آئے، جہاں دور دور تک آبادی کا نام و نشان تک نہ تھا، اس زمین میں نہ کہیں پانی تھا اور نہ کہیں کھیتی باڑی ہو سکتی تھی۔
حضرت ہاجرہ  خود پانی کی تلاش میں ادھر ادھر دوڑیں، لیکن پانی نہ ملا، خدا کی قدرت سے حضرت اسمعیل جہاں ایڑیاں رگڑ رہے تھے وہاں پانی کا چشمہ پیدا ہوگیا، یہی چشمہ آج کل زمزم کے نام سے مشہور ہے۔
جب حضرت اسمعیل علیہ السلام چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بیٹے کی قربانی طلب کی۔ چنانچہ آپ نے اللہ کا یہ حکم حضرت اسمعیل علیہ السلام کو سنایا، اس پر حضرت اسمعیل علیہ السلام نے کہا، اے والدِ محترم، اللہ تعالٰی نے آپ کو جو حکم دیا ہے اس کو ضرور پورا کریں، آپ انشاءاللہ مجھے اس امتحان میں ثابت قدم پائیں گے، شیطان نے حضرت اسمعیل علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ورغلانے کی بہت کوشش کی، لیکن آپ نے اسے جھڑک دیا اور کنکریاں مار کر بھگا دیا۔اب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے تاکہ تڑپیں نہیں اور اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لی کہ محبت پدری کہیں اس فرض کی ادائیگی کے آڑے نہ آئے اور اپنے بیٹے کے گلے پر چھری چلا دی، اسی وقت غیب سے آواز آئی کہ، اے ابراہیم علیہ السلام، تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا اور حقیقت میں یہ بہت بڑی قربانی ہے اور جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آنکھوں پر بندھی پٹی کھولی تو حضرت اسمعیل کی  بجائے ایک دنبہ ذبح کیا ہوا پڑا تھا۔
جب حضرت اسمعیل علیہ السلام جوان ہوئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان دونوں باپ بیٹوں نے ازسر نو خانہ کعبہ تعمیر کیا اور دعا کی کہ اے اللہ اس شہر مکہ کو امن والا بنا دے، مجھ کو اور میری اولاد کو بتوں کا پجاری نہ بنانا، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام دعا فرما رہے تھے کہ اللہ میری نسل سے ایک ایسا نبی پیدا کر جو گمراہ لوگوں کو تیری آیتیں پڑھ کر سنایا کرے اور انہیں دانائی اور حکمت کی باتیں سکھائے۔ اسی خانہ کعبہ کی زیارت اور حج کے لیے ہر سال لاکھوں مسلمان مکہ معظمہ جاتے ہیں۔

جنوری 20, 2011 at 10:17 تبصرہ کریں

حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ

پہلی صدی کے عظیم درویش کے بچپن کے حالات
حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ ایک ولی کامل تھے ۔ آپ کو حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہ کا دودھ پینے کا شرف حاصل ہے ۔ کیونکہ آپ کی والدہ حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہ کی کنیز تھیں اور ماں کی مصروفیت کے اوقات میں آپ ان کو اپنا دودھ پلا دیا کرتی تھیں۔ اس طر ح جو قطرات شیر بھی دہن مبارک میں پہنچ جاتے تھے وہی تزکیہ باطن اور رفع منزلت کا باعث بن جاتے تھے ۔ آپ نے حضور آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس پیالے سے پانی بھی پیا ہے ۔ ان کی گود میں بھی کھیلے ہیں او ر دعائیں بھی لی ہیں ۔ آپ کی والدہ محترمہ جب آپ کو گود میں لیا کرتیں برابر یہ دعا کرتی رہتیں کہ بار الٰہی ! میرے اس بچے کو مقتدائے خلق بنانا۔ آپ کا نام حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا رکھا ہوا ہے ۔ پیدا ہونے کے بعد جب آپ کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سامنے لایا گیا تو انہوں نے آپ کی خوبصورتی دیکھتے ہی فرمایا کہ اس بچہ کا نا م حسن رکھو ۔
ترکِ دنیا کا سبب
ممکن نہ تھا کہ جو بچہ سرکار دو عالم کے گھرمیں پرورش پائے ۔ ام المو منین کا دودھ پئے اور جو عہد نبوت میں پیدا ہو وہ آگے چل کر سرآمد روزگار نہ بنے ۔ آپ اپنی ذہانت کی وجہ سے بہت جلد علوم ظاہری میں کامل ہو گئے اور ہوش سنبھالتے ہی بصرہ میں گوہرفروشی شروع کر دی اور اس تجا رت کو اتنی وسعت دی کہ روم ایران تک جا نے لگے ۔ آپ بہ سلسلہ تجارت روم گئے ہوئے تھے ۔ وہاں وزیراعظم سے ملا قا ت ہو ئی جو آپ کو شہر سے باہر لے گیا دیکھا کہ میدان میں دیبا کا ایک شاندار خیمہ ہے ۔ جس کی ریشمی ڈوریاں طلائی میخوں سے بندھی ہوئی ہیں ۔ فلاسفروں، طبیبوں اور مہ پار ہ کنیزوں کے انبوہ آتے ہیں اور خیمہ کے قریب کچھ کہہ کر چلے جا تے ہیں ۔ چنا نچہ اس طرح قیصر اور قیصرہ بھی آئیں ۔ حضرت نے حقیقت پوچھی ،وزیر اعظم بولا کہ اس خیمہ میں شہزادہ کی لاش رکھی ہے جو مجھ کو نہا یت محبوب تھا ۔ یہ سب یہاں آکر یہ کہتے ہیں کہ اگر دولت سے ،فوج سے، علا ج سے تجھے بچایا جا سکتا تو ضرور بچالیا جاتا ۔ لیکن جس نے تجھ پر موت طاری کی اس کی مرضی کے خلا ف کوئی دم نہیں مار سکتا ۔ یہ سنتے ہی آپ کا دل دنیا کی طرف سے سرد پڑ گیا اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر عبادت الٰہی میں مصروف ہو گئے ۔
خشیت ا لہٰی اور عجز و انکساری
اب تو یہ حالت تھی کہ را ت دن مجاہدہ و ریا ضت میں مصروف رہتے تھے اور دنیا سے بالکل قطع تعلق کر لیا تھا ۔ ہیبت الٰہی اس درجہ غالب تھی کہ ہمہ وقت لرزاں و ترساں رہتے تھے اور کثیر البکا تھے ۔
ایک دفعہ مسجد کی چھت پر بیٹھ کر اس قدر روئے کہ آنسو پانی کی طر ح پر نالے سے بہہ نکلے۔ اسی طر ح کسی جنازہ کی نماز پڑھائی تو دفن کے بعد ایسی رقت طا ری ہوئی کہ وہاں کی خا ک کیچڑ بن گئی اور فرمایا لوگو! کیوں بھولے ہوئے ہو ۔ اس عالم سے کیوں نہیں ڈرتے جس کی ابتداء یہ قبر ہے ۔ آخر تم سب کو یہ منزل پیش آنی ہے ۔ اس وقت قبرستان میں جتنے لوگ تھے سب زار وقطار رو رہے تھے ۔ خو ف کی یہ شدت اور یہ اتقا، ملاحظہ فرمائیے کہ شباب و جوانی میں نہیں عالم طفولیت میں آپ سے کوئی گناہ سر زد ہو گیا تھا تو جب کوئی کپڑا پہنتے اس کے گریبان پر اسے ثبت کر دیتے اور پھر روتے روتے بےہوش ہوجاتے۔ عجز و انکساری اس درجہ بڑھی ہوئی تھی کہ خود کو ہر انسان سے کم تر سمجھتے تھے ۔ ایک روز آپ نے لب دجلہ ایک حبشی شخص کو ایک عورت کے ساتھ بیٹھے اور ایک صراحی سے کچھ پیتے دیکھا ۔ خیا ل کیا کہ یہ شخص تو ضرور مجھ سے بہتر نہ ہو گا۔ اتنے میں ایک کشتی غر ق ہوئی اور اس نے فوراً کود کر چھ افرا د کو پانی سے نکال لیا اور کہا کہ اگر آپ خو د کو مجھ سے بہتر سمجھتے ہیں تو جہاں میں نے چھ آدمیوں کی جانیں بچائی ہیں ، آپ ایک ہی کو بچا لیتے ۔پھر کہنے لگا کہ حضرت اس صراحی میں محض پانی ہے۔ اور یہ عورت میر ی ماں ہے ۔ یہ سب کچھ آپ کی آزمائش کے لیے تھا کہ آپ کی نظر کا اندازہ کروں آپ اسی وقت متنبہ ہو گئے اور پھر خود کو کسی سے بہتر نہ سمجھا ۔ کسی نے پو چھا آپ بہتر ہیں یا کتا ۔ فرمایا نجات پاﺅں تو اس سے ضرور بہتر ہوں ورنہ ایک کتا مجھ جیسے سینکڑوں سے بہترہے ۔
وصال مبارک
آخری عہد بنی امیہ میں آپ نے وفات پائی ۔ ایک بزرگ نے خواب میں دیکھا کہ آسمان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور فرشتے منا دی کر رہے ہیں۔ کہ ” حسن خدا تک پہنچ گیا اور وہ ان سے خوش ہوا“ یکم رجب 110ھ کو بصرہ میں وصال ہوا۔

جنوری 10, 2011 at 12:21 1 comment

حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ

اللہ تعالی اپنے پیارے محبوب علیہ الصلوۃ والسلام سے اس حد تک محبت فرماتا ہے کہ جس کی نظیر نہيں ملتی اور ان کو عزیز رکھتا ہے کہ جو اس کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں اور ان کا درجہ و مرتبہ تو اس کی بارگاہ اقدس میں بہت بلند ہے جو حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق کی حد تک محبت کرتے ہیں ایسے ہی عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے بعد سرفہرست نام حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔ حاکم نے حضرت ابن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ:

"تابعین میں میرا بہترین دوست اویس قرنی (رضی اللہ تعالی عنہ) ہے۔”

حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس قدر مستور الحال تھے کہ لوگ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو دیوانہ سمجھتے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ سادگی اور فقر کا اعلی نمونہ تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کوڑے کے ڈھیر سے پھٹے پرانے کپڑوں کے چیتھڑے اٹھا کر لاتے اور ان کو دھو کر جوڑتے اور سی کر خرقہ بنا لیتے اللہ تعالی کے نزدیک آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ لباس بہت ہی پسندیدہ تھا۔ ساری زندگی دنیا کی کسی بھی چيز سے محبت نہ کی اللہ تعالے اور اس کے حبیب علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت میں مستفرق رہے ایسی ہی بلند مرتبہ ہستیوں کی فضیلت احادیث مبارکہ میں بھی بیان ہوئی ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالے عنہ فرماتے ہيں کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ:

"بہت سے لوگ (ایسے) ہیں جو بے حد پریشان غبار آلود ہيں اور جن کو دروازے سے دھکے دے کر نکالا جاتا ہے اگر وہ (کسی بات پر) اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ تعالی ان کی قسم کو سچا اور پورا کر دے۔”

حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت و مرتبہ کی مثال اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی کہ خود حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی زبان اطہر سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا مقام جو اللہ تعالی کی بارگاہ میں ہے بیان فرمایا۔ مسلم شریف کی حدیث پاک ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:

"اہل یمن سے ایک شخص تمہارے پاس آۓ گا جسے اویس (رضی اللہ تعالی عنہ) کہا جاتا ہے اور یمن میں اس کی والدہ کے علاوہ اس کا کوئی رشتہ دار نہیں اور والدہ کی خدمت اسے یہاں آنے سے روکے ہوۓ ہے اسے برص کی بیماری ہے جس کے لیے اس نے اللہ تعالی سے دعا کی۔ اللہ تعالی نے اسے دور کر دیا صرف ایک دینار یا درہم کی مقدار باقی ہے جس شخص کو تم میں سے وہ ملے تو اس سے کہے کہ وہ تم سب کی مغفرت کے لیے اللہ تعالی سے دعا کرے اور مغفرت چاہے۔”

حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کا مرتبہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس قدر مقبول ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں اللہ تعالی سے بخشش کی دعا فرمائی تو اللہ تعالی نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک کثیر تعداد کو بخش دیا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ انتہائی متقی اور پرہیز گار تھے۔ تقوی کا یہ حال تھا کہ ایک مرتبہ تین روز تک کچھ بھی نہ کھایا پیا راستے میں چلے جا رہے تھے کہ زمین پر ایک ٹکڑا پڑا ہوا دکھائی دیا کھانے کے لیے اسے اٹھایا اور چاہتے تھے کہ کھائيں لیکن معاَ دل میں خیال آیا کہ کہيں حرام نہ ہو چنانچہ اسی وقت پھینک دیا اور اپنی راہ لی۔

اللہ کے مقبول بندے وہی ہوتے ہيں جو اللہ تعالے کے دوست ہوتے ہيں۔ اللہ تعالے ان کو دوست رکھتا ہے جو اس کے پیارے محبوب علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق کی حد تک محبت کرتے ہیں اور حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ اس شرط پر پورے اترتے ہيں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:

"اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں جو نہ نبی ہيں نہ شہید پھر بھی انبیاء اور شہداء قیامت کے دن ان کے مرتبہ پر رشک کریں گے جو انہيں اللہ تعالی کے یہاں ملے گا لوگوں نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ کون لوگ ہوں گے؟ حضور علیہ الصلوۃ ولسلام نے فرمایا: کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو آپس میں ایک دوسرے کے رشتہ دار تھے اور نہ آپس میں مالی لین دین کرتے تھے بلکہ صرف اللہ کے دین کی بنیاد پر ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے بخدا ان کے چہرے نورانی ہوں گے اور ان کے چاروں طرف نور ہی نور ہو گا انہیں کوئی خوف نہ ہو گا اس وقت جب کہ لوگ خوف میں مبتلا ہوں گے اور نہ کوئی غم ہو گا اس وقت جب کہ لوگ غم میں مبتلا ہوں گے۔” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت مبارک پڑھی:

الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون ۔

حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ عاشقان رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سردار ہیں جو بھی مسلمان عشق مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے سرشاد ہے وہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ پر بجا طور پر فخر کرتا ہے۔ حضرت اویس رضی اللہ تعالی عنہ کے عشق مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ایک مشہور واقعہ جو کتب میں مذکور ہے وہ یہ ہے کہ مروی ہے جب غزوہ احد میں حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کو زخم آۓ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خون پاک کو صاف فرماتے تھے اور اسے زمین پر گرنے نہیں دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر خون سے ایک قطرہ بھی زمین پر گرا تو یقینا اللہ تعالی آسمانوں سے زمین والوں پر عذاب نازل کرے گا پھر فرمایا،

"یا اللہ! میری قوم کو معاف فرما دے کیوں کہ وہ مجھے نہیں جانتی اور میری حقیقت نہیں پہچانتی”

اسی اثناء میں عتبہ بن ابی وقاص نے ایک پتھر حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف پھینکا جو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نچلے لب مبارک پر لگا اور دندان مبارک شہید ہو گئے۔ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کو جب اس بات کی خبر ہوئی تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے عشق مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جذبے سے مغلوب و سرشار ہو کر اپنے تمام دانت توڑ ڈالے۔

عشق مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا وہ مطہر و منزہ جذبہ جو حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کے قلب اطہر میں موجزن تھا تاریخ انسانی میں اس کی مثال نہیں ملتی اپ محبت و عشق کے جس عظیم مقام و مرتبہ پر فائز تھے اسے دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے بھی رشک کیا۔ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کے باطنی فیضان سے حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کا سینہ پاک منور و تاباں تھا اس باطنی فیضان کے نور سے آپ نے حقیقت محمدی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو پا لیا تھا وہ اسرار الہی جسے ہر کوئی نہیں پا سکتا اسے آپ نے مدینہ طیبہ سے دور یمن میں بیٹھ کر پا لیا اور پھر مخلوق خدا سے کنارہ کشی اس لیے اختیار کر لی کہ لوگوں پر آپ کا مقام و مرتبہ ظاہر نہ ہو جاۓ۔

حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی آپ پر خصوصی نگاہ کرم تھی آپ کا شمار سرکار مدینہ علیہ الصلوۃ والسلام کے دوستوں میں ہوتا ہے آپ کے حالات کی کیفیت سے نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کو آگاہی حاصل تھی۔ رسول کریم علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق و محبت کی تڑپ و لگن جو حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دل میں موجود تھی اس کا علم سرور کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو بخوبی تھا۔ حضور سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے۔ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ نے محبت سے عشق تک کی تمام منازل کو طے کر رکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سرخیل ہيں اور اس راہ پر چلنے والوں کے ایک عظیم قائد و رہنما ہيں۔

جس دیوانگی اور وارفتگی کے جذبے کے ساتھ آپ نے رسول کریم علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق کیا وہ جذبہ عشق کی انتہائی بلندیوں پر پہنچا ہوا تھا جس نے آپ کے اور حضور سرکار مدینہ علیہ الصلوۃ والسلام کے مابین ایک مضبوط باطنی و روحانی تعلق قائم کر دیا۔ یہ پروردگار عالم کا آپ پر خصوصی فضل و کرم تھا کہ اس نے اپنے پیارے محبوب علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت و عشق کی دولت سے آپ کے قلب پاک کو مالا مال کر دیا تھا۔

حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کا سینہ عشق کاملہ کا فیض حاصل کرنے والوں نے بہت فائدہ اٹھایا اور اپنی زندگیوں کو ایک نئی جہت دی آپ کے قلب منور میں حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق و محبت کا جو الاؤ روشن تھا اس کی روشنی تاریک دلوں کو منور کرنے کے لیے ہدایت و رہنمائی کا ایک عظیم مینارہ نور تھی۔ آپ مستجاب الدعوات اور بارگاہ الہی کے مقبول و برگزیدہ بندے تھے، مستحور الحال اور اپنے حال میں مست و مگن رہنے والے حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کے ولئی خاص، خیر التابعین حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کی شخصیت عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم رکھنے والوں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے آپ کی سیرت طیبہ محبت و عشق کا دعوی کرنے والوں کے لیے ایک عظیم درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے آپ کے نصائح و اقوال مثلاَ شیان حق کے لیے منبع ہدایت ہیں۔

 

دسمبر 23, 2010 at 06:18 1 comment


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]