Posts filed under ‘Afsanay : افسانے’

اسے تقدیر کہتے ہیں…….

امی سے خالہ ثریا کی محبت بے مثال تھی. طے تھا کہ باجی کلثوم کا رشتہ خالہ ثریا کے بیٹے جنید سے کریں گی تا کہ محبت کے بندھن مزید پکے ہوں. پھر ایک سال تک منگنی رہی لیکن جب شادی کی بات چلی تو خالہ نے انکشاف کیا کہ ان کا بیٹا شادی کے لئے راضی نہیں ہے. اچانک ہی امّی جان کو صدمہ پہنچا اور وہ اپنی چھوٹی بہن سے ناراض ہو گئیں، یوں دونوں کی محبت میں دراڑ پڑ گئی. امی جان نے اپنی بیٹی کی شادی غیروں میں کر دی. اس کے بعد بہن کے گھر آنا جانا بھی متروک ہوا لیکن ثریا خالہ کا چھوٹا بیٹا ہم سے دور نہ ہوا. وہ بدستور امی کے پاس آتا تھا کیونکہ امی نے بچپن میں اسے پالا تھا، وہ پانچ سال ہمارے گھر رہا تھا پھر خالہ لے گئیں. نوید کو امی سے بہت پیار تھا اور ناراضگی کے باوجود وہ ہمارے ہاں آ جاتا تھا.
بچپن کا وہ زمانہ سنہری تھا. ہم خالہ ثریا کے بچوں کے ساتھ کھیلتے تھے. خالہ سے فرمائش کرتے، جو کہتے وہ پکا کر لاتیں. وہی محبت اب بھی نوید کے دل میں تازہ تھی. اگرچہ حالات بدل گئے تھے پر دل نہیں بدلے تھے.
بچپن سے میری اور نوید کی دوستی رہی تھی، وہ میرا شیدائی تھا، اس کی محبت بیکراں تھی، ہم سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ ہماری جدائی ہو گی، تاہم امی کو خالہ کی طرف سے جو دکھ ملا تھا اس کی وجہ سے میرا دل بُرا ہو چکا تھا.
میں نوید سے کھچی کھچی رہنے لگی، وہ بات کرتا تو سنی ان سنی کر دیتی، سیدھے منہ اس کی بات کا جواب نہ دیتی.
کوئی رشتہ دار اگر ماں سے بد زن ہو جائے، بچوں کے رویوں میں فرق آ ہی جاتا ہے. پہلے جب وہ آتا تھا اس کو خوش آمدید کہتی تھی اور کچھ نہ کچھ کھانے پینے کے لئے سامنے لا رکھتی تھی لیکن اب میرا دل نہ چاہتا کہ بات کروں.
نوید نے میرے رویے کا کوئی اثر نہ لیا، اس کی توجہ اور محبت میں ذرا کمی نہ آئی. وہ جب آتا میری پسند کی چیزیں لاتا. امی تو اس کو اب بھی اتنا ہی چاہتی تھیں اور پہلے کی طرح پیار بھی کرتی تھیں لیکن میں نہیں کر سکتی تھی. امی سے کہتی کہ جب خالہ جان نے آپ کو دھوکا دیا ہے تو آپ کیوں ان کے بچوں سے دور نہیں ہو جاتیں .
کیا پتہ تمہاری خالہ کا قصور نہ ہو بلکہ جنید نے خود انکار کیا ہو، آج کل کی اولاد اپنی مرضی چاہتی ہے. امی یہ جواب دیتیں تو میں جتلاتی تھی کہ امی آپ کتنی بھولی ہیں، یہ آپ کی خود فریبی ہے ورنہ کون اپنوں کو چھوڑتا ہے ضرور ادھر کچھ مفاد پرستی کا معاملہ ہو گا.
ماں پر میری ان باتوں کا اثر نہیں ہوتا تھا. بدستور وہ نوید سے پیار کئے جاتی تھیں اور میں کہتی تھی دیکھ لینا ماں ایک دن یہ بھی آپ کو دھوکا دے گا.
ایک روز میں اپنے کمرے میں لیٹی ہوئی تھی کہ اچانک پیٹ میں شدید درد ہونے لگا اور میں تکلیف سے بے حال ہو گئی. اسی وقت نوید آ گیا. جب اس نے میری کراہیں سنی تو فوراً دوڑا گیا اور ڈاکٹر لے آیا. ڈاکٹر نے چیک کیا اور کہا اسے فوراً ہسپتال لے آؤ کیونکہ آنت کا درد ہے اور پھٹنے کا خطرہ ہے.
فوراً ہسپتال لے گئے.آپریشن ہوا اور میری جان بچ گئی. اس روز نوید نہ ہوتا تو میرا بچنا محال تھا.
دل میں محبت تو تھی پر ناراضگی کے وقتی بادل چھا گئے تھے. جب اس نے بہت پرواہ کی اور دوران علالت دل سے عیادت کرتا رہا تو مجھے بھی نوید کی قدر ہو گئی اور اب میں اس کے انتظار میں رہنے لگی.
صحت یابی کے بعد میں کچھ چڑچڑی ہو گئی تو ڈاکٹر نے ہدایت کی کہ میرے لئے روز شام کی سیر ضروری ہے…..امی کہتی نوید کے ساتھ چلی جاؤ… یوں میں نوید کے ہمراہ روز شام کو نزدیکی پارک میں چہل قدمی کو جانے لگی.
انہی دنوں میرے لئے ددھیال سے ایک رشتہ آیا.نوید کو علم ہوا تو وہ بہت پریشان رہنے لگا. ایک روز اس نے اپنی پریشانی کا سبب بتا دیا کہ کنول میں تم سے شادی کا آرزو مند تھا اور اب بھی ہوں. خدارا کسی اور رشتے پر ہاں مت کر دینا.
میں نے اس کو کوئی جواب نہ دیا، گھر آ کر خوب غوروفکر کیا. امی اور خالہ کی ناراضگی ہو چکی تھی تو کیا اب یہ رشتہ ممکن ہو سکے گا؟ یہ ایک غور طلب بات تھی. اگلے دن وہ آیا میں سیر کو نہ گئی کمرے سے ہی نہ نکلی. اس نے محسوس کیا کہ کنول مجھ سے ناراض ہے. وہ میرے کمرے میں آ گیا اور پوچھا کہ تم ٹھیک تو ہو. میں تمھارے لئے آتا ہوں اور تم کمرے سے باہر ہی نہیں آ رہی… خیریت ہے؟
میں چپ رہی جواب نہ پا کر بولا: اگر تم اسی طرح مجھ سے ناراض رہی تو میں مر جاؤں گا.
مر جاؤ گے تو کیا، میری جان تو چھوٹے گی… جانے کینونکر یہ الفاظ میرے منہ سے نکل گئے. اس کو بہت دکھ ہوا اور بغیر کچھ کہے وہ ہمارے گھر سے چلا گیا، کبھی نہ آنے کے لئے.
نوید کے جانے کے بعد میرا دم گھٹنے لگا. اب سوچا کہ جو ہوا غلط ہوا. کیوں اس کے ساتھ اتنا برا روّیہ اختیار کر لیا. خود پر قابو نہ رکھ سکی تو خالہ جان کے گھر پر فون کر دیا. خدا کا شکر ہے نوید نے فون اٹھایا، ہیلو کہا تو آواز پہچان کر کہنے لگا، کہو کیوں فون کیا ہے؟ تم آتے کیوں نہیں؟ مجھے سیر کو جانا ہے.
سیر یا چہل قدمی کو کیونکہ دونوں میں فرق ہے.
جو سمجھو لیکن آ جاؤ، بلکہ ابھی، میرے لہجے کے والہانہ پن سے وہ بے اختیار ہو کر آ گیا اور اسے سامنے پا کر میں خوش ہو گئی. افسردگی کا جو دور پڑا ہوا تھا ختم ہو گیا اور میں خوش دلی سے اس کے ساتھ گفتگو کرنے لگی. تب اس کو اندازہ ہو گیا کہ میں اس کے لئے اور وہ میرے لئے نا گزیر ہیں.
اس روز میں نے اقرار کر لیا کہ شادی اسی سے کروں گی، جو رشتہ زیر غور تھا میں نے اس سے انکار کر دیا اور نوید کو ہدایت کی کہ اپنی امی کو بھیج دو. اگلے روز خالہ ثریا آ گئیں.
امی بہن کو سامنے دیکھ کر حیران ہوئیں. تب خالہ نے کہا….آپا….تم کلثوم کو میری بہو بنانا چاہتی تھی اور میں بھی یہی چاہتی تھی لیکن یہ سنجوگ قسمت میں نہیں تھا…. کیونکہ جنید کسی اور لڑکی کے چکر میں پڑ گیا تھا لیکن نوید کا معاملہ ایسا نہیں ہے. وہ دل سے کنول کو چاہتا ہے، اس لئے میں پھر ایک بار تمہارے سامنے جھولی پھیلا رہی ہوں. خدارا انکار مت کرنا کنول کا رشتہ مجھے دے دو…..
یہ بھی میری بھانجی ہے، اس کو بہو بنا کر میری دلی آرزو پوری ہو جائے گی اور ہم بہنوں میں ایک بار پھر پیار کا وہ پل تعمیر ہو جائے گا جو جنید کے انکار کی وجہ سے عارضی طور پر ٹوٹ گیا ہے.
یہ رشتہ اب نہیں ہو سکتا، میری کلثوم کو جو دکھ پہنچا اس کا کیا ہو گا، کیا وہ نہ سوچے گی ماں نے پھر سے خالہ کے ساتھ ناتا جوڑ لیا. تم جانتی ہو ٹھکرائے جانے کا دکھ؟ میری بڑی بیٹی کیا کم تھی یا چھوٹی زیادہ خوبصورت ہے، جو رشتہ لینے آ گئی ہو.
آپا یہ بات نہیں ہے. جنید کی مرضی نہ تھی مگر نوید تو آپ لوگوں کا دیوانہ ہے. وہ دل سے مجبور ہے، خدا کے لئے انکار مت کیجئے.
ہوا کرے ثریا…لیکن ہم دل سے مجبور نہیں ہیں. امی نے اپنا غصہ نکالا کیونکہ رشتہ ٹوٹنے کے بعد کلثوم آپی کافی دیر تک "اپ سیٹ”رہی تھیں…..خالہ مایوس لوٹ گئیں. جا کر نوید کو یہ بری خبر دی کہ تمہاری خالہ نے انکاد کر دیا ہے. وہ کسی طور نہیں مان رہیں . بولو اب کیا کرنا ہے.
امی آپ مذاق تو نہیں کر رہیں. نوید کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا.
میں سچ کہہ رہی ہوں. اس میں مذاق کی کونسی بات ہے. ان کا تم سے لگاؤ اپنی جگہ ہے لیکن رشتہ کا معاملہ اور طرح کا ہے. اس بات کو سنجیدگی سے لو.
امی جان….. کسی طرح بھی خالہ کو منائیے ورنہ میں اس جہان سے چلا جاؤں گا. خدا نہ کرے…. مریں تیرے دشمن.میں دوبارہ جاؤں گی. منت سماجت کروں گی.آخر کو میری بہن ہےمان جائے گی.
خالہ دوبارہ آ گئیں اور رونے لگیں.”خدارا مجھ کو خالی جھولی نہ لوٹاؤ، ورنہ یہیں پڑی رہوں گی اور جب تک تم ہاں نہ کرو گی اس در سے خالی نہیں جاؤں گی” انہوں نے میری والدہ کے پاؤں پکڑ لئے. امی کا دل نرم ہو گیا. آخر کو دونوں بہنیں تھیں اور انکا پیار بھی بے مثال تھا.
انہوں نے چھوٹی بہن کو گلے لگا لیا اور کہا کہ امید رکھو میں اپنی بڑی بیٹی کو منانے کی کوشش کروں گی.کلثوم کو منانا بہت ضروری ہے ورنہ یہ رشتہ نہ ہو سکے گا.
امی نے باجی کلثوم کو بلوا کر بات کی کہ اس طرح تیری خالہ کنول کا رشتہ نوید کے لئے مانگ رہی ہیں…..تمہاری کیا صلاح ہے؟….یہ سن کر آپا جذباتی ہو گئیں .دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں کہ امی جان….آپ پچھلی بات بھول گئی ہیں……دوبارہ دھوکا کھانے جا رہی ہیں….اب ہرگز ان کو منہ نہیں لگانا. اگر آپ نے پھر ان کے ساتھ ناتا جوڑا تو میں کبھی آپ کے گھر نہ آؤں گی….یہ سمجھ لینا کہ کلثوم مر گئی.
ایسی سخت بات سن کر امی دہل گئیں. ان کو بیٹی بہن سے زیادہ پیاری تھی. وعدہ کیا کہ وہ کلثوم کی مرضی کے خلاف خالہ سے رابطہ نہ رکھیں گی. میں نے آپا کی باتیں سن لیں، تو مجھ پر قیامت بیت گئی.آپا کو ٹھکرانا میرے بس کی بات نہ تھی. ان کا دکھ اپنی جگہ تھا، تب ہی میں اپنے کمرے میں چلی گئی اور دروازہ بند کر کے خوب روئی.
شام کو امی نے نوید کو فون کیا کہ ہماری طرف مت آنا….ورنہ کلثوم میرے گھے سے چلی جائے گی، اور میں بیٹی کو دوبارہ زخم نہیں دے سکتی، جو آپ لوگوں نے دئیے تھے
جب نوید نے یہ بات سنی، اس کا برا حال ہوا اور وہ موٹر بائیک لے کر گھر سے نکل گیا…..اتنی تیزی سے چلائی کہ ایکسیڈینٹ ہو گیا. لوگ اسے ہسپتال لے گئے. شکر ہے کہ جان بچ گئی. ثریا خالہ کو ہسپتال سے فون آیا کہ تمہارا بیٹا زخمی ہو گیا ہے اور زیر علاج ہے. وہ دیوانہ وار دوڑیں اور جب ڈاکٹر نے بتایا کہ اب حالت خطرے سے باہر ہے تو وہیں سجدے میں گر کر خالق کا شکر ادا کیا. فوراً گھر آ کر صدقہ دیا اور توبہ کی کہ اب کسی کا دل نہ دکھاؤں گی.
امی، خالہ، نوید اور میں سب یہی چاہتے تھے کہ یہ رشتہ ہو جائے، مگر قدرت کو منظور نہیں تھا.آپا نے ایسی رکاوٹ ڈالی کہ ہم سب اپنی اپنی جگہ بے دم ہو کر رہ گئے.
امی کو ایک ترکیب سوجھی…..خالہ کے سامنے ایک شرط رکھ دی کہ جس کو پورا کرنا دشوار تھا، کہا کہ میں اب تم لوگوں پر اعتبار نہیں کر سکتی…. ہاں اگر میری بیٹی کے نام مکان لکھ دو تو رشتہ دے دوں گی…..ماں نے یہ بات نوید کو بتائی…..یہ شرط بھی ان کے لئے امید کی ایک کرن تھی. وہ امید کی اس کرن کے سہارے بہت کچھ کرنے کے لئے تیار ہو گیا.
اس نے بھاگ دوڑ شروع کر دی اور سعودی عربیہ کا ویزا لینے میں کامیاب ہو گیا. پھر زیادہ کمانے کی آس لے کر سعودیہ چلا گیا تاکہ میرے لئے مکان خرید سکے…..ادھر امی نے موقع غنیمت جانا اور میرا رشتہ طے کر دیا.
سوائے صبر کے کوئی چارہ نہ رہا تھا.میں نوید کو بھی با خبر نہ کر سکی کیونکہ میرے پاس اس کا پتہ نہ تھا، ادھر جنید نہیں چاہتا تھا کہ رشتہ ہماری طرف ہو ، کیونکہ اسکی بیوی غیر خاندان کی تھی اور اس کو آپا اور جنید کی منگنی ٹوٹنے کا علم تھا. اگر میں ان کے گھر بھابھی بن کر جاتی تو   جنید بھائی اور انکی بیوی کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہونے کا امکان تھا اور وہ اپنے ماضی کی داستان کو کھولنا نہیں چاہتے تھے.
ان ساری بد نصیبیوں کے ساتھ میری شادی میرے پھوپھی زاد اکبر سے ہو گئی، وہ مجھے پسند بھی کرتے تھے لیکن مجھے علم نہ تھا. وہ اپنی امی کو کہتے رہے کہ کنول کا رشتہ مانگ لیں. پھوپھی تو ہم سے تعلق رکھنا نہ چاہتی تھیں، بیٹے کی وجہ سے مجبور ہو گئیں. یوں میں اکبر کی بیوی بن کر ان کے گھر آ گئی.
چاہا تو مجھے نوید نے تھا پر میں اکبر کے نصیب میں تھی، ان کی دلہن بن گئی. وہ میرا بہت خیال رکھتے تھے لیکن میرے دل میں نوید کی تصویر تھی، اس کی یاد مجھے ہر پل ستاتی تھی. ایک مشرقی عورت ہونے کی ناطے اپنے محبوب کی یاد کو سینے میں دفن کر دیا.
ادھر خالہ نے نوید کو نہ بتایا کہ میری شادی ہو گئی ہے. سال بعد جب وہ گھر لوٹا تو ہمارے گھر بھی آیا. امی سے پوچھا…کنول کہاں ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس کی شادی کر دی.
یہ اطلاع نوید کے لئے نویدِ مرگ تھی مگر اس نے ضبط کیا اور شکوہ کیا کہ خالہ میں تو آپ کو ماں سمجھتا تھا. آپ نے مجھ سے دھوکا کیا. آپ کی شرط پوری کرنے کے لئے میں پردیس میں دن رات مزدوری کرتا رہا اور آپ میرا انتظار نہ کر سکیں. امی خاموش ہو گئیں. کیا جواب دیتیں جو ہونا تھا ہو چکا.
انہی دنوں خالو فوت ہو گئے. یہ ایسا رشتہ تھا کہ ان کے گھر جانا تھا . سوائے آپا کلثوم کے ہم سب وہاں گئے…نوید بہت افسردہ تھا…مجھے دیکھ کر بے اختیار میرے پاس آ گیا اور شکوہ کیا کہ تم بھی میرا ایک سال انتظار نہ کر سکیں.
میں مجبور تھی. کچھ نہیں بول سکتی تھی لیکن ایک پل کے لئے بھی تم کو نہ بھلا سکی.
تم اب بھی اپنے شوہر سے طلاق لے سکتی ہو. اگر مجھ سے محبت ہے تو طلاق لے لو…..میں تم سے شادی کر لوں گا.
نہیں نوید….شاید تم بھول رہے ہو کہ میں ایک مشرقی لڑکی ہوں، میں طلاق نہیں لے سکتی اور پھر تمہیں پتہ ہے کہ میں اپنی پھوپھی کی بہو ہوں. والد صاحب اس امر کو قبول نہیں کریں گے. اب ایسا کچھ ممکن نہیں …..یہ میرا حتمی جواب تھا.
ایک ماہ بعد وہ واپس سعودی عربیہ لوٹ گیا اور پھر واپس نہیں آیا. سنا ہے کہ وہاں سے کسی اور ملک چلا گیا ہے. لیکن میں کہیں نہیں جا سکتی. میرا ایک گھر ہے، جس کا تقدس مجھے عزیز ہے. اب تو میں دو بیٹیوں کی ماں ہوں، مجھے اپنی اولاد کا مستقبل بھی عزیز ہے لہٰزا اپنے شوہر کو چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی جبکہ اکبر میرا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں….. بے شک نوید میرا پیار ہے مگر ہم دونوں اب اجنبی ہیں، کبھی ایک نہیں ہو سکتے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو میں کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتی. اسی میں میری اور میرے بچوں کی عافیت اور بھلائی ہے.
بے شک مجھ کو کبھی کبھی نوید کی بہت یاد ستاتی ہے مگر ہمارے مزہب میں شوہر کو دھوکا دینا حرام ہے لہٰزا میں جی چاہنے کے باوجود بھی نوید کے ساتھ رابطہ نہیں کروں گی. جب عورت اپنے خاوند کے سوا کسی اور مرد کے بارے میں سوچتی ہے تو سونے سے مٹی بن جاتی ہے.
ایک بار میں بہت بیمار ہو گئی تھی. اتنی کہ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا، اکبر نے ہمت نہ ہاری اور میرا علاج کرانے بیرون ملک لے گئے. روپیہ پانی کی طرح بہایا…..
خدا نے ان کے خلوص اور بچوں کی خاطر مجھے نئی زندگی اور شفاء دی تو میں نے دل سے عہد کیا کہ کبھی اکبر سے بے وفائی نہ کروں گی. ہمیشہ ان کی بن کر رہوں گی کیونکہ میرے رب کی یہی مرضی ہے.
جو انسان اپنے خالق کی مرضی کے آگے سر جھکاتا ہےوہ دنیا میں سرخروہو جاتا ہے اور آخرت میں بھی، جبکہ تقدیر کے دھارے موڑنےکی چاہ میں اکثر ہم ذلیل و خوار ہو جاتے ہیں….پس میں آج مطمئن ہوں کہ اپنے رب کی رضا پر راضی ہوں.
Advertisements

اپریل 9, 2011 at 07:32 تبصرہ چھوڑیں

ماسی ریشم اور قدرت کا انوکھا انتقام

(جو لوگ غرور اور تکبر کرتے ہوئے رشتوں کا احترام بھول جاتے ہیں، ایسے ہی ایک خاندان کی کہانی جو نہایت عبرتناک ہے)

ماسی ریشم دور کے رشتے میں میری خالہ تھی ۔ا س کی شادی سیالکوٹ کے نواح میں مشہور قصبے کوٹلی بہرام میں ہوئی تھی۔ یہ بات 30-1920 کی ہے ورنہ اب تو کوٹلی بہرام سیالکوٹ کا ایک محلہ بن گیا ہے اور شہر اس سے بہت آگے تک پھیل گیا ہے. ماسی ریشم کی شادی کوٹلی بہرام میں ہوئی ۔ اُس کا خاوند قریب ہی کے گاﺅ ں گودھپور میں زمینداراہ کرتا تھا۔ ان کی ایک بیٹی ہو ئی اور ماسی کا خاوند وفات پا گیا۔ اس طرح ایک خوبصورت طر ح دار لڑکی کو عین جوانی میں بیوگی کے شدید ترین المیے سے دوچار ہو نا پڑا ۔ ماسی ریشم ان پڑھ تھی لیکن بہت تیز طرار اور ذہین تھی اور بہا در بھی ۔ اس کے مرحوم خاوند کے بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ وہ ان میں سے کسی سے شادی کر لے یا پھر اس گھر سے نکل جائے ، مگر وہ کسی دباﺅ میں نہ آئی۔ اس نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا اور خاوند کے حصے کی زمین حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ بعد میں اس نے کوٹلی بہرام کی رہائش گاہ ترک کر دی اور گودھپور میں ایک مختصر سا مکان بنا کر وہاں منتقل ہو گئی ۔

ماسی ریشم کی بیٹی رشیداں جوان ہو گئی تو اس کی شادی اپنے گاﺅں ہی میں ایک نوجوان خادم سے ہو گئی ۔ خادم حسین ایک غریب ، بے سہارا نوجوان تھا اور ڈرائیوری کرتا تھا ۔ ماسی نے اسے اپنے گھر ہی میں ٹھہرا لیا اور اس طر ح دونوں خوش اور مطمئن ہو گئے ۔ ایک تو گھر کے لئے ایک مر د مل گیا ، دوسرا اس کو بیوی کے ساتھ ایک ماں بھی مل گئی اور چھت کا سایہ بھی ۔ لیکن خادم حسین کی بدنصیبی کہ ما سی ریشم اپنی بعض خوبیوں کے باوجود بدمزاج اور مغرور عورت تھی ۔ لحا ظ نام کی کوئی چیز اس میں نہ تھی اور اسے احساس تک نہ ہوتا تھا کہ کسی کی عزت نفس کا پاس کیا جاتا ہے ۔ وہ مخاطب کو کھڑے کھڑے تول کر رکھ دیتی اور اس کی توہین و تذلیل میں کو ئی کسر اٹھا نہ رکھتی ،چنانچہ اپنی عادت سے مجبور ہو کر وہ خادم حسین کو خوب خوب کچوکے لگاتی اور اسے ذلیل و خوار کر کے شاید اسے تسکین ملا کرتی ۔ خادم حسین ایسے مو قعہ پر فریاد طلب نگاہو ں سے اپنی بیوی رشیداں کی طر ف دیکھا کر تا ، لیکن وہ بےنیازی اور بےتکلفی کا انداز اختیار کر کے خاموش رہتی ۔

تنہائی کا موقع ملتا تو ساس کے رویے کی شکایت بھی کرتا ، مگر رشیداں کا مزاج بھی بہت حد تک اپنی اماں سے ملتا جلتا تھا، اکلوتی لا ڈلی ہو نے کی وجہ سے غرور اور بے نیا زی کا عنصر اس میں بھی بد درجہ اتم تھا، چنا چہ اپنی ماں کے خلاف شوہر کی شکایت سن کر وہ برا سا منہ بنا لیتی اور خادم حسین شرمندہ ہو کر چپ ہو جاتا ۔ مزید مصیبت یہ تھی کہ خادم حسین کو رشیداں سے تنہائی کے مواقع بہت کم ملتے تھے ۔ پرانی طرز کا ایک ہی بڑا سا کمرہ تھا جس میں یہ تینو ں افراد رہتے تھے اور ماسی ریشم ایک بے رحم ، بے حس محتسب کی طر ح کڑی نظروں سے دونوں کی نگرانی کرتی تھی ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود رشیداں بی بی نے ایک بیٹے کو جنم دے دیا اوریہ اپنی نو عیت کا پہلا اور آخری حادثہ ثابت ہوا۔ یہی وہ حالات تھے جب خادم حسین بےبس اور پریشان ہو کر ادھر ادھر ہا تھ پاﺅ ں مارنے پر مجبور ہو گیا ۔ وہ بھی خوبصورت تھا، جوان رعنا تھا اور خوش ذوق تھا، چنانچہ اس نے سیالکوٹ شہر ہی میں ایک لڑکی سے تعلقات استوار کر لئے اور اسے اپنی توجہات کا مرکز بنا لیا، چنانچہ اب اس نے ساس کے گھر میں آنا کم کر دیا اور ایک روز سنا کہ خادم حسین نے اس خاتون سے باقاعدہ شادی کرلی۔

خادم حسین کی دوسری شادی کی خبر ماسی ریشم اور اس کی بیٹی پر بجلی بن کر گری ۔ پہلے چند دن تو انہو ں نے خوب واویلا کیا، سینہ کوبی کی ۔ خادم حسین کا ماتم کیا اور پھر اس کا نام آتے ہی وہ زخمی شیرنیو ں کی طر ح غرانے لگتیں اور اس کی سات پشتوں کو بے نقط سنا ڈالتیں لیکن عملاً وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھیں ۔ خادم حسین نے ان کے ہاں آنا جانا بالکل ترک کر دیا تھا ۔ ماسی ریشم اگرچہ نما ز روزے کی پابند تھی ، لیکن وہ ہمیشہ ہی سے قبروں ، درگاہو ں کی پرستار تھی ۔ وہ بڑی ہی باقاعدگی کے ساتھ ہر جمعرات کو امام صاحب کے مزار پر حاضری دیتی (سیالکوٹ میں ایک شہید بزرگ کا مزار) قبر شریف کا طواف کرتی ، حتیٰ کہ سجدے میں گر جاتی تھی ۔ اسی طر ح وقتاً فوقتاً بابل شہید کے قبرستان میں بھی حاضر ہونا اس کے نزدیک گویا فرض واجب تھا ۔ وہا ں بہت سے بزرگوں اور شہیدوں کے مزار ہیں ۔ وہ باری باری سب کے ہا ں حاضر ہوا کرتی اور ان کی خدمت میں اپنی حاجتیں پیش کرتی ۔ خادم حسین کی شادی کا حادثہ پیش آیا تو مقبروں پر دونوں ماں بیٹی کی حاضریو ں کا تناسب کہیں بڑھ گیا ۔

کوئی دن نہ جاتا کہ وہ ارد گرد کی درگاہوں پر حاضر نہ ہوا کرتیں ، کبھی بابا ملو ک شاہ پر ، کبھی منڈیر شریف اور کبھی ہمارے گاﺅں کے قریب نہر کنارے کوﺅں والے سائیں کے پاس۔ راستے میں وہ خادم حسین اور اس کے آباﺅ اجداد کو منہ بھر بھر کے گالیاں دیا کرتیں اور قبر پر جا تے ہی سجدے میں گر جاتیں ۔ قبر کے چکر ضرور لگا تیں اور پائنتی کی طرح کھڑے ہو کر آنسو بہاتیں ۔ یہ ان کا مستقل معمول بن گیا تھا ۔ آخر کا ر ان کی تگ و دو رنگ لائی اور قسمت کا مارا خادم حسین ایک روز اپنی دوسری بیوی کو لیکر گودھپور انکے گھر آ گیا ۔ پتہ نہیں اسے کیا زعم تھا یا وہ کسی خو ش فہمی میں مبتلا تھا۔ بہرحال ان دونو ں کو کمرے میں بٹھا کر ریشم بی بی چپکے سے باہر نکلی اور پڑوس سے ایک قریبی رشتہ دار کو بلا لائی جس نے کمال چابک دستی سے خادم حسین کے ہا تھ باندھے اور پھر ڈنڈوں اور جوتوں سے دونو ں کی وہ ٹھکائی کی کہ خادم کے چودہ طبق روشن ہو گئے ۔

ا س کارِخیر میں اُس کے بارہ سالہ بیٹے عامر نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ وہ زمین پر گرے ہوئے اپنے سگے باپ پر بار بار جو تے برساتا اور اس کی دوسری بیوی پر بھی خو ب خو ب غصہ نکالتا اوراس وقت تو ماسی ریشم اور رشیداں دونو ں قہقہہ لگا کر خو ب ہنسیں جب عامر نے قینچی لیکر اپنی سوتیلی ماں کے بال کا ٹ ڈالے تھے ۔ جسے اسی ریشم نے اپنے نواسے کے کارنامے کے طور پر ایک عرصہ تک کمرے کے ایک کونے میں لٹکا ئے رکھا تھا. بہرحال خادم حسین کی وہ درگت بنی کہ شاید ہی کسی عاشق کی بنی ہوگی ۔ اسے انہو ں نے پانی پلا پلا کے مارا اور جب اس کے لیے اپنے پاﺅں پرکھڑے ہونا محال ہو گیا تو پڑوسی عامر نے سہارا دے کر دونوں میاں بیوی کو سڑک تک پہنچایا اور تانگے پر بٹھا کر سیالکوٹ روانہ کر دیا ۔ غیر معمولی توہین و تذلیل کا یہ عمل خادم حسین کے لئے اتنا سبق آموز ثابت ہوا کہ وہ جلد ہی بیوی اور دو بیٹیو ں کو لیکر کراچی چلا گیا ۔ اس نے سیا لکوٹ کی سکونت کو مستقل طور پر ترک کر دیا اور پھر کبھی واپس لو ٹ کر نہ آیا ۔ اب ماسی ریشم اور رشیداں بی بی کی ساری امیدوں کا واحد مر کز عامر تھا ۔

وہ اسکو ل میں پڑھتا تو تھا لیکن اپنے اکلو تے ہو نے کا بھرپور فائدہ اٹھانا جانتا تھا۔ اسے یہ بھی شعور تھا کہ وہ مستقبل میں اچھی خاصی قیمتی جائیداد کا مالک بنے گا ، اس لئے اس نے آوارگی کا ہر وہ چلن اختیار کر لیا جو اس کے بس میں تھا ، چنانچہ اس نے کم از کم دو اضافی سال میٹرک میں لگائے اور تیسرے سال میں بڑی مشکلو ں سے تیسرے درجے میں امتحان پاس کر لیا اور چونگی محرر کی حیثیت سے ملا زم ہو گیا۔ اس کے لیے اس کی نانی نے خاصی بڑی رقم رشوت میں لگائی تھی ۔

یہ 67-1966 کی بات ہے ۔ اس کی تنخواہ ستر روپے مقرر تھی۔ میں نے اکتوبر 1966ء میں ایم ۔اے کا امتحان دیا تھا اور مجھے فوری طور پر اپنے علا قے ہی میں ایک پرائیوٹ کالج میں لیکچرر شپ مل گئی تھی ۔ میری ڈھائی سو روپے تنخواہ لگی تھی اور میری والدہ نے ایک دن تعجب سے کہا تھا: تم نے سولہ جماعتیں پڑھی ہیں اور ڈھائی سو روپے تنخواہ لے رہے ہو جبکہ ریشم کا نواسہ تنخواہ کے علاوہ روزانہ اپنی ماں کو پچا س روپے لا کر دیتا ہے۔ چنانچہ اس کی بد عنوانی اور غیر ذمہ داری نے اپنا آپ دکھایا اور اسے چھ ہی ماہ کے بعد نوکری سے برطر ف کر دیا گیا ۔ اب ماسی ریشم نے گودھپور والی زمین میں سے کچھ حصہ فروخت کر دیا اور کوٹلی بہرام کے موڑ پر سڑک کے کنا رے اپنے ایک کمرشل پلاٹ پر آٹھ دکا نیں تعمیر کر ڈالیں۔ ان میں سے دو میں عامر نے سٹیشنری اور جنرل سٹور بنا لیا۔ تجا رتی نقطہ نگاہ سے دکا نیں بڑے ہی اچھے ٹھکانے پر تھیں . جہا ں مستقبل میں کاروبار چمکنے کے امکانات بہت روشن تھے ۔

باقی دوکانیں کرائے پر دے دی گئیں اور عامر کی شادی کر دی گئی ۔ اسے عامر کی خوش قسمتی ہی سے تعبیر کرنا چاہئے کہ اس کی بیوی ایک تربیت یافتہ ملازمت پیشہ نرس تھی ۔ وہ سگھڑ اور سمجھ دار بھی تھی ، لیکن عامر نے گویا قسم کھا رکھی تھی کہ وہ عقل سے کام نہیں لے گا اور ہر معاملے میں چھچھورے پن کا مظاہرہ کرے گا، چنانچہ اس نے اردگرد کے گرلز اسکولوں کی استانیوں سے خاص اپنائیت کا تعلق قائم کر لیا اور انہیں دل کھول کر اسٹیشنری کا سامان ادھار پر دیتا رہا ۔ وہ تحفے تحائف دینے میں بھی بڑا فراخ دل واقع ہوا تھا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی دکا نداری بڑی ہی مشکلو ں سے ایک سال تک چلی ، سرمایہ ختم ہو گیا اور اسے کا روبار کا سلسلہ معطل کرنا پڑا ، تاہم وہ چنداں پریشاں نہ تھا ۔ گھر کا نظام دکا نو ں کے کرائے اور بیوی کی نوکری کے سہارے چل رہا تھا۔

مکمل فراغت کا فیضان عامر کو یہ حاصل ہوا کہ وہ یکے بعد دیگرے سات بیٹیوں کا با پ بن گیا ۔ ماسی ریشم اور بہن رشیداں نے سر توڑ کوشش کی ، مختلف مقبروں پر بار بار حاضر ہوئیں ، چادریں چڑھائیں ، منتیں مانیں ، لیکن کسی بزرگ نے بھی مداخلت نہ کی اور عامر کو ایک بھی بیٹا نہ ملا ۔ حد یہ ہوئی کہ اس دوران میں ماسی ریشم نے حج بھی کر لیا ۔ ظاہر ہے کہ وہا ں بھی اس نے سب سے زیا دہ دعائیں عامر کے بیٹے کے لیے ہی کی ہوں گی لیکن افسوس بیل منڈھے نہ چڑھی اور ساتویں بیٹی کے بعد وہ مایوس ہو کر کویت چلا گیا ۔ بدنصیبی کویت میں بھی عامر کے ہم رکاب رہی ۔ اسے و ہا ں گئے ہوئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ایک روز وہ ٹریفک کے ایک حادثے کا شکار ہو گیا۔ وہ سڑک عبور کر رہا تھا کہ ایک تیز رفتار کار نے اسے ٹکر مار دی ۔ اس کی دونوں ٹانگیں کئی جگہ سے ٹوٹ گئیں۔ باقی جسم پر بھی شدید چو ٹیں آئیں اور وہ کئی دن تک ہسپتال میں بےہوش پڑا رہا ۔

جان تو اس کی بچ گئی، مگر تقریباً دو سال تک وہ ہسپتال میں زیر علا ج رہا اور جب بیساکھیو ں کے سہارے چلنے کے قابل ہوا تو پاکستان آ گیا ۔ میں اس کی مزاج پرسی کے لئے چلا گیا ، بڑی قابل رحم تھی حالت اس کی ۔ اس کی بوڑھی نانی اسے اس حال میں نہ دیکھ سکی اور ایک روز یکایک دم توڑ گئی ۔ پتہ چلا کہ اس کے دماغ کی شاہ رگ پھٹ گئی ۔ یہ بڑی عبرت ناک بات ہے کہ میں نے ماسی ریشم اور رشیداں بی بی کے خاندان میں کبھی بھی سکون نہیں دیکھا ۔ وہ ہمیشہ مسائل، مصائب اور امراض میں مبتلا نظر آئیں اور اس کا سبب میرے نزدیک دونو ں ماں بیٹی کی بداخلا قی ، تکبر اور غیر حقیقت پسندانہ اسلوب ِ حیات تھا ۔ دکھ اور پریشانیاں ان پر بارش کی طر ح برستی رہیں ۔ ایک بار پتہ چلا کہ بہن رشیداں کو سر پر شدیدچوٹ لگی ہے اور و ہ اپنے حواس کھو بیٹھی ہے۔ میں اس کی عیادت کے لئے گیا۔ وہ چارپائی پر گم صم بیٹھی تھی اور بٹر بٹر فضا میں گھور رہی تھی۔ میں اس کے قریب بیٹھ گیا ، اس نے مجھے نہیں پہچانا۔ سر کی چو ٹ نے اس کی یادداشت پر گہرا اثر ڈالا تھا ۔

عامر نے بتایا کہ چند روز پہلے وہ پڑوسیوں کے ہاں صحن میں بیٹھی تھی ۔ ان پڑوسیوں کے ہاں جن کی مدد سے اس نے اپنے خاوند کی پٹائی کرائی تھی کہ تیز ہوا چلنے سے چھت سے لکڑی کا ایک تختہ لڑھکا اور رشیداں بی بی کے سر پر آگرا جس سے وہ بے ہوش ہو گئی اور کئی گھنٹوں کے علاج کے بعد ہو ش میں آئی تو اس کا حافظہ جواب دے گیا تھا ۔ ڈھائی تین سال اسی حالت میں مبتلا رہ کر وہ وفات پا گئی ۔ میں تعزیت کے لئے گیا تو عامر نے بتایا کہ اس نے یہاں کی ساری جا ئیداد دکانیں اور مکان بیچ کر اسلام آباد منتقل ہونے کا پروگرام بنا لیا ہے ۔ اس نے دکھ ا ور نفرت کے احساس سے کہا ۔ یہ جگہ انسانو ں کے رہنے کی نہیں ہے ، زندگی کی کوئی سہو لت بھی تو حاصل نہیں ہے یہاں میں چاہتا ہوں کہ میری بیٹیاں اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کریں اور آزادی کے ماحول میں زندگی گزاریں ۔

"لیکن سات بیٹیوں کے ساتھ اپنے آپ کواسلام آباد کے اجنبی ماحول میں کیسے ایڈ جسٹ کریں گے۔ یہا ں آپ کی برادری ہے، خاندان ہے ، حلقہ تعارف ہے ۔ وہا ں یہ سہولتیں میسر نہیں آئیں گی ۔ وہاں آپ کو رشتوں کے حوالے سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ “ میں نے اس کے منصوبے سے اختلاف کیا۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں ۔ عامر کہنے لگا ” لڑکیا ں پڑھ لکھ کر عملی زندگی میں آئیں گی تو خو د ہی مسائل کو حل کر لیں گی ۔ میں انگلی پکڑ کر کب تک ان کی راہنمائی کروں گا “ اور پھر وہا ں امام بری کا مزار بھی تو ہے ، وہ امام صا حب سے بڑی درگاہ ہے۔ “ اور عامر نے واقعی ایسا کر دکھایا ۔ ا س نے دکانیں ، پلاٹ ، زمین سب کچھ بیچ دیا اور اسلام آباد چلا گیا ۔

پتہ نہیں وہاں کس حال میں ہے ؟ یو ں لگتا ہے کہ جس طرح ماسی ریشم اور رشیداں کی قسمت سے انہیں کبھی سکھ کا سانس لینا نصیب نہ ہوا تھا ، اسی طر ح عامر کا مقدر ان جوتو ں سے بندہ گیا ہے جو اس نے اپنے باپ کے سر پر مارے تھے ۔ ایسا لگتا ہے یہ جوتے اسے در بدر کی ٹھوکریں کھا نے پر مجبور کرتے رہیں گے اور وہ ساری عمر ذلت و رسوائی کی جا نب اپنا سفر جاری رکھے گا۔

دسمبر 10, 2010 at 08:56 تبصرہ چھوڑیں


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]