Posts filed under ‘Aap Beeti : آپ بیتی’

سفارش طلب

سفارش طلب سے نمٹنے کے کئی طریقے ہیں. بعض لوگ گلو خلاصی کے لئے نہایت فیاضی سے جھوٹا وعدہ کر دیتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں، لیکن یہ بزدلوں اور مصلحت کوشوں کا طریقہ ہے. آپ ایسا ہرگز نہ کیجئے گا ورنہ آپ کا بھی وہی حشر ہو گا جو ہمارے دوست کا ہوا. آپ میرے دوست کی کہانی خود اس کی زبانی سنئے:
” ایک مرتبہ میں لاہور میں ایک معمولی سا ٹیچر بن گیا لیکن گاؤں میں مشہور ہو گیا کہ پروفیسر ہو گیا ہوں چنانچہ سفارش کا تانتا لگ گیا. سب سے پہلے ایک پرانے ہم جماعت کامران صاحب آ گئے. بولے”منشی فاضل کا امتحان دیا ہے. دوسرا پرچہ بہت نکمّا ہوا ہے. پروفیسر قاضی صاحب ممتحن ہیں. انہیں کہہ کے پاس کرا دو.”
ایک روایت کے مطابق پروفیسر قاضی صاحب تک ان کی بیوی بھی مشکل سے ہی پہنچتی تھی. میری رسائی سے تو وہ سراسر باہر تھے، لیکن کامران صاحب کو ٹالنے اور کسی حد تک اپنی پرعفیسری کا رعب جمانے کے لئے کہہ دیا.
"ارے قاضی-وہ تو ہمارا لنگوٹیا ہے. تمھیں فرسٹ ڈویژن دلوا دیں گے.”
اس کے بعد کامران سے سرخروئیکی خاطر دُعائیں تو بہت مانگیں لیکن وہ فیل ہو گیا اور جب کامران نے نتیجہ سنا تو فوراً لکھا.”اب گاؤں کبھی نا آنا ورنہ مار ڈالوں گا.” دو ہی دن گزرے تھے کہ میرے ہمسائے مبّشر صاحب اپنے بیٹے کی سفارش لے کر آ دھمکے.بولے.” کاکے جمیل نے میٹرک کا امتحان دیا ہے. ریاضی کا پرچہ تھوڑا گڑبڑ ہو گیا ہے. محسن صاحب کے پاس پرچے ہیں، انہیں اشارہ کر دیجئے گا.”
اشارے کے لفظ سے ظاہر تھا کہ مبّشر صاحب کے ذہن میں میرے رسوخ کا بلندتصور تھا چنانچہ اس وقت تو کہہ دیا کہ فکر نہ کریں مبّشر صاحب محسن صاحب کا کان پکڑ کے لڑکے کو پاس کرا دوں گا. لیکن حقیقت یہ تھی کہ محسن صاحب کے کان میری گرفت سے یکسر باہر تھے. بہر حال مجھے معلوم تھا کہ لڑکا فیل ہی ہو گا. چنانچہ اپنی بریت اور کار گزاری دکھانے کے لئے ایک ترکیب نکالی…. ایک دن مبّشر صاحب اور ان کے بیٹے جمیل کو بلا بھیجا اور کسی قدر جلال میں آ کر مبّشر صاحب سے خطاب کیا.
"واہ مبّشر صاحب واہ. آپ نے ہماری خوب کرکری کرا دی، ہم محسن صاحب کے پاس گئے تو انہوں نے پرچہ نکال کر ہمارے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ تم خود ہی انصاف سے جو چاہو نمبر دے دو. اور پرچہ دیکھتا ہوں تو اوٹ پٹانگ لکھا ہے. اکبر کے بیٹے کا نام دین الٰہی تھا اور پرویز لاٹھیں بیچا کرتا تھا، جانگیر کبوتر پالتا تھا، اس کے علاوہ ہجے غلط، املاء خراب. خدا جانے یہ لڑکا پورا سال کیا کرتا رہا ہے؟”
اس پر ہماری کارگزاری سے مطمئن ہو کر مبّشر صاحب نے اپنا ڈنڈا اور جمیل کے رسید کرتے ہوئے فرمایا:
"کم بخت تاش کھیلتا رہا ہے اور کیا کرتا رہا ہے؟”
لیکن کچھ دن بعد جب نتیجہ نکلا تو جمیل پاس ہو گیا اور پھر باپ کا ڈنڈا لے کر میری تلاش میں پھرنے لگا….
Advertisements

مارچ 11, 2012 at 06:55 تبصرہ چھوڑیں

ایک ماں کی سچی کہانی

یہ کہانی ایک ایسی عورت کی ہے جس نے اپنے بچوں کی خاطر ہر طرح کے مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور زندگی کے کسی موڑ پر بھی صبر اور حوصلہ کا دامن نہیں چھوڑا. یہ کہانی ہے ایک ایسی ماں کی محنت اور محبت کی جس نے یہ ثابت کر دیا کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں عورت اس کا مقابلہ کسی مرد کے بغیر بھی کس سکتی ہے. آئیے یہ غم بھری کہانی اس عورت کی زبانی ہی سنیئے:
میرا نام روشن آراء ہے. پتہ نہیں ماں باپ نے یہ نام کیوں رکھا کیونکہ نام سے تو میں روشن آراء ہوں لیکن حقیقت میں روشنی میرے پاس کبھی نہیں آئی. میری قسمت میں جتنے غم آئے کاش وہ کبھی کسی کو نہ ملیں، زندگی کی کوئی رات اور کوئی دن خوشی سے اور ہنستے ہوئے نہیں گزرامگر اتنا ضرور ہے کہ آنے والی کل کے انتظار میں رات کو سوتے وقت تھوڑا مسکرا لیتی تھی کہ کل کا دن شاید کوئی خوشی کی نوید لائے. میری شادی 20 سال کی عمر میں ہی ہو گئی تھی. شادی کے چند سال تو بہت اچھے گزرے، شوہر بھی اچھے اور ہمیشہ مسکرانے والے تھے. اپنی زندگی میں انہوں نے مجھے کوئی غم نہیں دیا. کماتے بہت زیادہ نہیں تھے پر پھر بھی دن اچھے گزر رہے تھے مگر تیسرے بچے کی پیدائش کے ایک ہفتے بعد ہی مجھے یہ خبر ملی کہ میرے شوہے کی ایک حادثے میں موت ہو گئی ہے اور میں بیوہ ہو گئی ہوں. میری تو دنیا ہی اجڑ گئی تھی. کئی دنوں تک تو مجھے کوئی ہوش ہی نہیں تھا مگر ایک مہینے کے بعد میں کچھ سنبھلی تو میری ساس اور میرے دیور نے کمرے میں آ کر کہا دیکھو اب تمہارا شوہر تو چلا گیا ہے اور یہاں کمانے والا بھی اب تمھارا ایک دیور ہی ہے. سسر بھی چل پھر نہیں سکتے اور اب کوئی اور آسرا بھی نہیں جو تمھیں ہم اپنے ساتھ رکھ سکیں لہٰزا بہتر یہ ہو گا کہ تم اپنے گھر چلی جاؤ اور چاہو تو اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جاؤ اور اگر دوسری شادی کرنا چاہو اور رکاوٹ ہو تو بچوں کو ہمارے پاس بھیج دینا. مجھے یہ سن کر بہت حیرت ہوئی کہ اب یہ لوگ بھی میرا بوجھ نہیں اُٹھا سکتے تو میں نے ان سے کہا کہ ماں اس گھر میں تو میرے شوہر کی یادیں ہیں اور ویسے بھی میں آپ پر بوجھ نہیں بنوں گی کیوں کہ میں سلائی کڑھائی تو جانتی ہوں، محنت کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال لوں گی. آپ صرف مجھے اس گھر میں رہنے دیں. رہا شادی کا سوال تو وہ میں اب نہیں کروں گی. یہ بچے ہی میرا سہارا ہیں اور کوئی دوسرا باپ انہیں پیار نہیں دے سکتا مگر انہوں نے میری بات نہ مانی اور مجھے کہا کہ تم تین دن کے اندر فیصلہ کر لو تا کہ ہم یہاں سے چلے جائیں کیونکہ اب اس مکان کو بیچ کر تمھارا دیور کوئی چھوٹا موٹا کام شروع کرے گا. میں نے جب یہ سنا تو میرا دل غموں سے بھر آیا تب میں نے کہا ٹھیک ہے جب آپ مجھے رکھنا ہی نہیں چاہتے تو میں تین دن رُک کر کیا کروں گی لہٰزا میں نے اگلے دن ہی گھر چھوڑ دیا اور اپنی ماں کے گھر آ گئی. میں ماں کے گھر میں کچھ ہی دنوں رہی تھی کہ بھابیوں نے میرے بھائیوں کے کان بھرنے شروع کر دئیے کہ روشن آراء کے بچے ہمارے بچوں کو مارتے ہیں انہیں کھیلنے نہیں دیتے حالانکہ میں اپنے بچوں کو اپنے کمرے میں ہی بند رکھتی تھی. نہ  تو ان کو میرا کوئی بھائی کھیلنے کے لئے باہر لے جاتا بس یہ بےچارے آپس میں ہی کھیل کر کمرے میں ہی سو جاتے تھے. آہستہ آہستہ میں نے اپنا کچھ زیور بیچ کر ایک سلائی مشین لی اور محلے سے سلائی کا کام منگوانا شروع کر دیا. اللہ کی رحمت سے میرا کام لوگوں کو پسند آ گیا. اب میں نے اپنے بچوں کو محلے کے ایک سکول میں داخل کرا دیا اور خود انہیں چھوڑنے بھی جاتی اور لینے بھی.
پتہ نہیں یہ عورت ہی عورت کی دشمن کیوں ہوتی ہے. میری بھابیوں کو میرا اس گھر میں رہنا پسند ہی نہیں تھا اس لئے وہ میری بوڑھی ماں جو ہر وقت میرے غم میں نڈھال رہتی تھی اسے بھڑکاتی رہتی کہ کوئی غریب سا رنڈوا مرد دیکھ کر اس کی شادی کرواؤ اور اسے رخصت کرو ورنہ اس کی عمر کیسے کٹے گی اور اس کے بھائی اسے کب تک سنبھالیں گے اور ویسے بھی اب ہمارے بچے بڑے ہو رہے ہیں گھر میں جگہ تنگ پڑ جائے گی اور اگر کوئی اس کے بچوں کو لینے کو تیار نہ ہوں تو ایک ایک کر کے کسی بے اولاد کو دے دیں. پل جائیں گے لیکن ان ظالم بھائیوں کو یہ خیال نا آیا کہ ان بچوں کی خاطر میں نے اپنا سسرال چھوڑا تھا اور شادی نا کرنے کا ارادہ کر لیا تو کیا میں ان بچوں کے بغیر رہ سکتی ہوں. کیا کوئی بھی ماں اپنے بچوں کے بغیر جی سکتی ہے؟ شاید ایسا تو کوئی جانور بھی نہ کرسکے. اس رات میں سو نہ سکی اور اگلے دن اپنی کچھ چیزیں اور ایک چوڑی جو میرے شوہر کی آخری نشانی تھی بیچ کر میں نے گلی میں ہی ایک دو کمروں کا مکان کرائے پر لیا اور وہاں اپنے بچوں کے ساتھ رہنے لگی.
اب خرچے بھی بڑھ گئے تھے اس لئے مجھے سلائی کا کام بھی بڑھانا تھا. اس سب میں میری ایک دوست نے میری بہت مدد کی اور اپنی ماں سے کہہ کر اس نے مجھے ایک بوتیک کی مالکن سے ملوایا. اسے میرا کام پسند آ گیا اور وہ مجھے ہر مہینے اتنا کام دینے لگی کہ میں اپنا گزارا کرنے لگی اس کے باوجود میرے بچوں کو بہت محرومیوں کا سامنا کرنا پڑا. اس دوران میرے بھائیوں نے میری خبر تو کیا لینی تھی کہ وہ میری ماں سے بھی تنگ آ گئے تھے اس لئے میں اپنی بیمار ماں کو بھی اس گھر میں لے آئی تھی. بوتیک کی مالکن جس سے میں کام لیتی تھی اس نے مجھے کہا کہ اگر میں تمھیں ایک چھوٹی سے فیکٹری لگا دوں تو کیا تم یہ کام سنبھال سکو گی؟ میں نے کہا کیوں نہیں لہٰزا اس نے میرے اس گھر میں ہی مجھے کچھ مشینیں لگوا دیں اور کہا کہ اب تم مجھے میرا آرڈر پورا کروا کہ دیا کرنا. میں یہ کام خوش اسلوبی سے سر انجام دیتی آئی.
بفضلِ خدا آج میرا ایک بیٹا میڈیکل سائینس کا فائنل امتحان دے رہا ہے اور دوسرا بیٹا بینک میں ملازمت کرتا ہے اور بیٹی کی شادی ہونے والی ہے. میرے بیٹے کہتے ہیں کہ ماں اب یہ کام چھوڑ دو لیکن میں یہ کام نہیں چھوڑوں گی جب تک مجھ میں ہمت ہے. اپنے لئے کچھ رقم اورکفن خرید رکھا ہے نہ جانے میری ماں کی طرح کب میں میرے بچوں پر بوجھ بن جاؤں. آج میری ماں زندہ نہیں ہے اور اب مجھے بھی مرنا ہے. لیکن خدا کا شکر ہے کہ میرے بچے نمازی ہیں اور میرا بہت احترام کرتے ہیں.
بس میرا دوسری عورتوں کے لئے یہی پیغام ہے کہ وہ کبھی بھی کسی موڑ پر ہمت نا ہاریں اور کوشش کرتی رہیں کیونکہ ہمت کرنے والوں کا ساتھ خدا ضرور دیتا ہے.

جون 29, 2011 at 10:33 تبصرہ چھوڑیں

میں محض ایک باورچی ہوں! (ایک باورچی کی آپ بیتی)

میرے قریبی دوست اور رشتہ دار جانتے ہیں کہ میں ایک اچھا باورچی ہوں لیکن میں نے کبھی اس بات پر غرور نہیں کیا۔ میں خود کو شیف بھی کہہ سکتا تھا کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ ماڈرن لفظ زیادہ معزز لگتا ہے لیکن سچ بات ہے شیف کے لفظ میں مجھے ایک خاص قسم کی چالاکی اور پیشہ ورانہ تفاخر محسوس ہوتا ہے۔ اس لئے میں دیسی لفظ باورچی کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔ ہمارے اسی معاشرے میں جب دولت کی ریل پیل نہیں ہوئی تھی اور دولت چند ہاتھوں میں جمع نہیں ہوئی تھی تو خاندانی باورچی شادی بیاہ کے موقع پر بلائے جاتے تھے۔ یہ لاکھوں روپے کی کیٹرنگ نہیں ہوتی تھی نہ ہی یہ اسٹیٹس سمبل بنا تھا کہ شادیوں پر چار چار دن انواع و اقسام کے کھانوں کے سلسلے چلتے رہیں۔
خاندانی باورچی ہر شادی کے موقع پر مرکزی کردار ہوتا تھا. بڑے وقار سے بلایا جاتا تھا اور اسے کرسی دی جاتی تھی۔ پھر وہ صاحب تقریب سے مذاکرات کرتا تھا اور ہر قسم کے بجٹ کے مطابق دیانتداری سے صحیح مشورہ دیتا تھا۔ مجھے یاد ہے میرے ایک دوست کی بہن کی شادی میں دولہا والے بغیر بتائے زیادہ تعداد میں باراتی لے کر آ گئے۔ میرا دوست بہت پریشان ہوا اور اس نے خاندانی باورچی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ خاندانی باورچی نے کہا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس موقع پر میرے پاس صدری نسخہ موجود ہے جو سینہ بہ سینہ چلا آرہا ہے وہ یہ ہے کہ میں پلاؤ اور قورمے کی دیگوں میں ہلکا ہلکا روح کیوڑا ڈال دوں گا جس سے ذائقے میں فرق نہیں پڑے گا لیکن لوگ زیادہ کھا نہیں سکیں گے ۔چنانچہ یہ نسخہ کارگر ثابت ہوا اور کھانا پورا ہو گیا۔
یہ خاندانی باورچی اپنے کلائنٹ کا بہت خیال رکھتے تھے۔ وہ اپنے کلائنٹ کو پہلے تو ایک کاغذ پر کھانے میں استعمال ہونے والے مصالحہ جات اور گوشت وغیرہ کی مقدار لکھواتے تھے اور پھر تقریب کے موقع پر جب دیگیں چڑھتی تھیں، خوشبوئیں اڑتی تھیں اور ٹھن ٹھن کی آوازیں شادی کے گھر پہنچتی تھیں تو کئی محلوں تک خبر جاتی تھی کہ کس کے گھر شادی ہے۔ آج تو یہ سب رسمیں ختم ہو چکی ہیں کہیں کسی نامعلوم جگہ سے دیگچوں میں کھانا پک اَپ میں لایا جاتا ہے اور انڈیل دیا جاتا ہے۔ ایک بات میں بھول گیا کہ دیگیں تیار ہونے کے بعد گھر کا سخت گیر تجربہ کار بزرگ کرسی ڈال کے دیگوں کے پاس بیٹھ کر کھانا کھلنے کا انتظار کرتا تھا اور جب آواز آتی کہ کھانا لگا دیں تو وہ اپنی نگرانی میں دیگوں سے کھانا نکلواتا تھا اور سب کچھ اس کی ہدایت کے مطابق ہوتا تھا کہ کب ہاتھ روک دیں کب کون سا آئٹم زیادہ کر دیں اور کس کو کم کردیں۔ یہ تجربہ اس بزرگ نے صدیوں کے ریاض سے پایا ہوتا تھا۔ جب وہ خوش اسلوبی سے کھانا”ورتا” لیتا تھا تو براتیوں سے حسب ذوق داد وصول کرتا تھا اور اگلی شادی کے موقع تک گوشہ گمنامی میں چلا جاتا تھا جیسے وہ خاندانی باورچی غائب ہوئے ہیں، ویسے ہمارے معاشرے سے یہ بزرگ بھی رخصت ہو گئے ہیں۔
سو میں کہہ رہا تھا کہ میں ایک باورچی ہوں اور تاریخ میں باورچیوں کا رتبہ بہت بلند رہا ہے۔ بادشاہوں کے شاہی مطبخ میں دنیا سے چن چن کے باورچی لائے جاتے تھے۔ یہ اصل نسل کے باورچی ایسا کھانا بناتے تھے کہ بادشاہ دسترخوانوں پر جنگیں جیت لیا کرتے تھے۔ یہ شاہی باورچی نہ چھٹی لے سکتے تھے نہ کہیں جا سکتے تھے کیونکہ اس صورت میں انہیں بادشاہ کے غیض و غضب کا نشانہ بنتے ہوئے ہاتھ کٹوانے پڑتے تھے۔ ان شاہی باورچیوں نے جو کھانے اختراع کئے اور انہیں جو نام دیئے آج ہمارے کوکنگ چینلوں پر خوبصورت یونیفارم میں شیف حضرات انہی پکوانوں کو تیار کرنے کا سوانگ رچاتے ہیں اور ہمیں بے وقوف بناتے ہیں لیکن سچی بات ہے کہ اگر کسی چینل نے میری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا لیا تو میں ایسی کوئی ڈش نہیں بناؤں گا جس سے غریبوں کے گھروں میں ٹھنڈے پڑے ہوئے چولہوں اور ان کی محدود آمدنی کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں ترساؤں۔ اس لئے مجھے امید ہے کہ مجھے کوئی چینل موقع نہیں دے گا۔
میں نے باورچی بننے کا فیصلہ کیوں کیا ہے اس کی بے شمار وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس وقت سب سے زیادہ نفع بخش کاروبار ہی یہی ہے دوسرا یہ کہ ہمارے معاشرے میں ایک نئے رول ماڈل نے کامیابی سے جگہ پائی ہے، وہ باورچی یا شیف ہے۔ اگرچہ امریکہ اور مغربی ممالک میں یہ رول ماڈل بہت پہلے سے موجود ہے لیکن ہمارے ہاں اسے اب موقع ملا ہے۔
تو صاحبوں! اب میرے باورچی بننے کی خواہش آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی۔ اصل میں بات یہ ہے کہ میں اینکر پرسن بننا چاہتا تھا کہ شام آٹھ بجے اپنا دفتر لگا کے بیٹھ جاؤں اور حکومت وقت کو ناکوں چنے چبوا دوں لیکن کسی بھی چینل نے میری سیاسی بصیرت پر بھروسہ نہیں کیا۔ اس پر طرہ یہ کہ اینکر پرسن اب کسی کامیڈین کو ساتھ بٹھا کر شو کرتے ہیں۔ میں کہاں سے یہ ٹیلنٹ لاتا اس لئے میں نے اپنے ارمانوں پر اوس ڈال دی اور دیسی باورچی بننے کی فرمائش کر دی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فوڈ چینل جو ڈشیں اور تراکیب سکھاتے ہیں وہ مجھے نہیں آتیں۔ مجھے تو میری ماں اور بیوی نے جو سالن بنانے سکھائے ہیں میں تو وہی سکھا سکتا ہوں اور یہ وہ ڈشیں ہیں جو کسی بھی معمولی آمدنی یا محدود آمدنی والے گھر میں تیار کی جاسکتی ہیں۔ ان ڈشوں کو آسان نہ سمجھیں یہ سب سے مشکل ہوتی ہیں جو سکھائی جاتی ہیں وہ آسان ہوتی ہیں۔
میری سب سے مہنگی ڈش کریلے گوشت ہے جو مجھے میری ماں، میری بیوی اور استاد دامن نے سکھائی تھی۔ تینوں کی ترکیب ایک جیسی تھی مثلاً یہ کہ کریلے گوشت میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ بکرے کے گوشت کا کون سا حصہ آپ استعمال کر رہے ہیں۔ خیر اس کے بعد میری ڈشیں آسان ہیں۔ بگھارے بینگن، کڑھی، ماش کی دال، دال چاول، بھنڈی، توری، چکڑ چھولے، انڈہ چنے، خاگینہ، بینگن کا بھرتہ، آلو انڈا، آلو کی ٹکیاں وغیرہ وغیرہ۔ میری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ میری اس صلاحیت کو کوئی فوڈ چینل افورڈ نہیں کر سکتا۔
اب میں آپ کو اصل بات بتاؤں کہ میں دنیا کے دو بڑے شیفوں کو اپنا رول ماڈل سمجھتا ہوں۔ ایک سنجیو کپور ہیں جو زندہ ہیں۔ وہ اتنی میٹھی آواز میں لفظ ’بڑھیا‘ استعمال کرتے ہیں کہ انتظار حسین کو مات کر جاتے ہیں وہ ہر کھانا بناتے ہوئے کہتے ہیں "یہ مرچ بہت بڑھیا ہے اسے ناریل میں ملا دیں بڑھیا قسم کی ساؤتھ انڈین ڈش بن جائے گی”۔ میرے دوسرے بڑے رول ماڈل انگلینڈ کے آنجہانی کیتھ فلائیڈ ہیں جن کا گزشتہ برس زیادہ شراب پینے کی وجہ سے انتقال ہوگیا ہے۔ Keath Floyed میرے حساب سے اس فوڈ چینل انڈسٹری کے باوا آدم تھے۔ وہ دنیا کے ہر خطے میں اپنے جہاز سے اپنے عملے کے ساتھ سفر کرتے تھے اور دنیا کا ہر کھانا وہاں کی روایت کے مطابق بناتے تھے۔ انہوں نے افریقہ میں کئی خوبصورت جگہوں پر غریب افریقی بچوں کے ساتھ شتر مرغ کی ڈش بنائی۔ چین میں سانپ کی ڈش بنائی۔ عرب ملکوں میں دنبے کے ذبح ہونے کے بعد میزبان کے ساتھ اسے سیخ پر چڑھایا۔ ہر بار اس نے اپنا ڈرنک نہیں چھوڑا اور وہ اسی ڈرنک کی نذر ہو گیا۔ میں اس پر رشک اس لئے کرتا ہوں کہ وہ ایسا باورچی تھا جو کھانا بنانے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی تفریح سمجھتا تھا۔ ڈرنک کو چھوڑ کر میں بھی کھانا بنانے کو اپنی تفریح سمجھتا ہوں۔ اگرچہ مجھے کوئی چینل قبول نہیں کرے گا کیونکہ میں ایسا فوڈ بناؤں گا جو غریب کا ہو گا اور ساحر لدھیانوی کی طرح میں بھی کہوں گا بڑے بڑے شیف حضرات سے:
اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

مارچ 16, 2011 at 07:21 تبصرہ چھوڑیں

ایک نمازی کی آپ بیتی

جانے کیا وجہ ہے کہ مسجد جانے سے ہمیشہ میری جان جاتی ہے اور بچپن میں تو جمعے کا خطبہ سن کر باقاعدہ چھریاں نظر آنا شروع ہو جاتی تھیں۔ اذان کی آواز سنتے ہی جوتیاں کبھی صوفوں، کبھی پیٹی، کبھی ڈولی کے نیچے اور کبھی گیراج میں پڑے کباڑ میں چھپانے کو دوڑتا تھا۔ چونکہ امی ہمیں ہر صورت مسجد بھیجنے پر مصر رہتی تھیں اس لئے سدباب کے طور پر ہم نے بہن بھائیوں کی جوتیوں کی بھی شامت لانی شروع کر دی اور جب اس کاروائی کی زد میں امی کی جوتیاں بھی آنے لگیں تو چمٹے سے ہونے والی ٹھکائی اور ننگے پیر مسجد جانے کی سزا کی بدولت یہ عادت چھوٹ گئی۔
بچپن تو یہ بات سمجھ میں آئے بغیر گزر گیا کہ مسجد جانے سے کیا مسئلہ ہے لیکن اب بھی مسجد نا جانے کا بہانہ ڈھونڈتا ہوں۔ کیوں؟ اس کے لئے آپ کو ایک نمازی کی آپ بیتی پڑھنا ہوگی۔ تفصیل سے غیبت کی میری بے شک عادت ہے لیکن آپ بیتی مختصراً کہنے کا عادی ہوں اور یہ دونوں کا ملغوبہ ہے۔ تو کہانی شروع ہوتی ہے یہاں سے
نماز کے لئے تکبیر کہی گئی مولوی صاحب نے کہا صفیں سیدھی کر لیں (دائیں بائیں نمازی میرے پاؤں پر کھڑے ہو گئے)۔ اگر مولوی صاحب نے کہا کاندھے سے کاندھا ملا لیں (نمازیوں نے اپنے ہی پیر ملا لئے اور مجھ سے کاندھے جوڑ لئے)۔ اب قیام میں حالت کچھ ایسی ہے کہ یا تو لوگ میرے پیروں پر کھڑے ہوتے ہیں یا میں ان کے کندھوں سے لٹکا ہوتا ہوں۔
قعدے اور تشہد کی روداد یہ ہے کہ بیٹھتے ہی ٹانگیں کاک ٹیل گلاس یا غلیل کی طرح کھول لیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی تشریف اتنی نازک اور فریجائل ہوتی ہے کہ احتیاطاً اس پر بیٹھنا نامناسب سمجھتے ہیں اور مجھ پر ایسے گرنے لگتے ہیں جیسے شاہراہ ریشم پر ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ۔ نتیجہ یہ کہ میں دو تووں کے بیچ میں آیا ٹام بن جاتا ہوں.
آگے والا نماز سے پہلے فارغ ہو جائے تو اپنی قمیض کو پیچھے سے 14 اگست کا جھنڈا بنا کر لہراتا ہے اور میری سجدے کی جگہ پر کھسک آتا ہے، اور قسم لے لو کتنی دفعہ تو ایسا ہوا ہے کہ میرے سجدہ زدہ سر پر ہی براجمان ہو گیا۔ نمازیوں کو لمبی قمیضیں پہننے کا شوق تو بہت ہوتا ہے لیکن جب وہ ”ہوا میں اڑتا جائے میرا لال دوپٹہ ململ کا“ کی عملی تصویر بنی ہوتی ہیں تو سنبھالنے کی ان کو توفیق نہیں ہوتی۔ ہونی بھی نہیں چاہئے (ہلن جلن سے نماز خراب ہوتی ہے)۔
فرض نماز کے فوراً بعد ایک دین دار بندہ اٹھ کر ”میری آپکی ساری دنیا کی بھلائی اللہ تعالٰی نے دین میں رکھی ہے ۔۔۔“ کی کیسٹ چلاتا ہے۔ اللہ کی لگن اور لوگوں کو راہ راست پر لانے کی دھن میں یہ بندہ اتنا مگن ہوتا ہے کہ نماز کے بعد اکٹھے ہوئے بے راہ لوگوں کی جماعت کو تبلیغ کے لئے یہ بندہ میرے سامنے سے اور مجھے دھکے دے کر گزر جاتا ہے اور عین نمازیوں کے بیچ بے راہ لوگوں کو بٹھا کر عمدہ اور چنگھاڑتی تقریر شروع کر دیتا ہے۔
لیکن میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ میری داڑھی نہیں ہے، میں شلوار آدھی پنڈلیوں تک اونچی نہیں باندھتا، سیدھے گھیر والا کرتا نہیں پہنتا، نا میرے سر پر امامہ بندھا ہے ، نا میں نماز کے دوران بار بار ”اعضائے پوشیدہ“ کی خبر گیری کرتا ہوں اور اکثر پینٹ جیسے حرام لباس میں نماز پڑھتا ہوں ۔
میں نے کئی بار چاہا کہ ان اصحاب کو کچھ کہوں لیکن چونکہ میں مسجد کامستقل نمازی نہیں اور نا ہی مسجد کمیٹی کو باقاعدہ ایک لگی بندھی رقم ہدیہ و چندہ کرتا ہوں۔ اس لئے مجھے مسجد کا چوہدری بننے کا کوئی حق ہے نا ہی اسلام کا ٹھیکیدار بننے کا۔

جنوری 13, 2011 at 10:03 1 comment

شیخ چلی سے انٹرویو

اسلام علیکم! آج میں آپ کی ملاقات ایک نہایت مشہور اور دلچسپ شخصیت سے کرواؤں گی.  آپ یقیناَ آج کی مہمان شخصیت سے مل کر بہت خوش ہوں گے. ‘ آئیےملتے ہیں آپ سب کے جانے پہچانے….جناب….شیخ چلی صاحب!….السلام علیکم شیخ صاحب!
(سامنےوالی کرسی پر شیخ چلی بیٹھا ہےجس نے پھٹے پرانےکپڑے پہن رکھے ہیں‘ بازئووں کےکف کھلے ہیں‘ شیو بڑھی ہوئی ہےاور قمیض کےگلےکا اوپر والا بٹن ٹوٹا ہوا ہے)
شیخ (سر ہلا کر سلام کا جواب دیتا ہے)
میں: شیخ صاحب….وعلیکم السلام تو کہیی….!!!
شیخ: (غصےسے) تم ضرور فضول خرچی کروانا….بھئی جب سر ہلانےسےکام چل جاتا ہےتو منہ گھِسانےسےفائدہ؟
میں: شیخ چلی صاحب….آپ اتنےکنجوس کیوں ہیں؟
شیخ: تم حاتم طائی ہو؟
میں: حاتم طائی تو نہیں ….لیکن کنجوس بھی نہیں ہوں.
شیخ: کنجوس کون ہوتا ہے؟
میں: بھئی کنجوس وہ ہوتا ہےجو بلاوجہ کی بچتیں کرتا رہتا ہے
شیخ: تم غلط کہہ رہی ہو.
میں: میں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہوں.
شیخ: شرط لگا لو.
میں: اسلام میں شرط حرام ہے.
شیخ: یہ بھی غلط ہے.
میں: نعوذباللہ….یہ آپ کیا کہہ رہےہیں‘بھئی اسلام میں شرط لگانا حرام ہے۔
شیخ: کیا نماز کے لیے وضو شرط نہیں….حج کے لیے احرام شرط نہیں….شادی کے لیے نکاح شرط نہیں؟؟؟؟
میں: شیخ صاحب وہ یہ شرطیں نہیں ہیں جو آپ لگانے پر تلے ہوئے ہیں.
شیخ: بہرحال ….تم بےشک مجھےکنجوس کہتےرہو….میں کنجوس نہیں ہوں….بالکل بھی نہیں۔
میں: ابھی پتا چل جاتا ہے….یہ بتائیےکہ آپ نے کبھی کوئی پھل کھایا ہے.
شیخ: روزکھاتا ہوں۔
میں: ارے….کمال ہے….یعنی شیخ چلی ….اور روزانہ پھل….کون ساپھل کھاتےہیں آپ؟
شیخ: میں پورے دن میں صرف ایک روٹی کھاتا ہوں.
میں: روٹی پھل تو نہیں ہے جناب….
شیخ: پوری بات سن لو….چونگی کی طرح درمیان میں نہ آؤ….
میں: جی جی فرمائیں!!
شیخ: میں پورے دن میں صر ف ایک روٹی کھاتا ہوں اور باقی سارا دن صبر کرتا ہوں۔
میں: اور پھل؟
شیخ: لگتا ہے تم مسلمان نہیں یا تمہارا ایمان کمزور ہے.
میں: توبہ توبہ….یہ….یہ آپ کیا کہہ رہےہیں….الحمد للہ میں ایک پکی مسلمان ہوں۔
شیخ: تو پھر خود ہی بتاؤ کیا تم نےنہیں سنا کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے….میں سارا دن صبر کرتا ہوں اور رات کو صبر کا میٹھا پھل کھاتا ہوں۔
میں: (حیرت سے) صبر کا پھل کیسا ہوتا ہے؟
شیخ: تم نےکھانا ہے؟
میں: ضرور ضرور….
شیخ تو پھر صبر کرو….!!!
میں: کمال ہے….اچھا شیخ چلی صاحب….یہ فرمائیے کہ آپ ہی کنجوس ہیں یا آپ کےخاندان میں کوئی اور بھی کنجوس گذرا ہے؟
شیخ: اللہ جنت نصیب کرے….دادا جان ہی کے نقش قدم پر تو ہم چل رہے ہیں
میں: وہ کس قسم کےکنجوس تھے….؟
شیخ: (آہ بھرتے ہوئے) ان کی بچت پرستی کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ اپنی جوانی کےایام میں انہوں نے”ٹوتھ پکس“ ….سمجھتےہوناں ”ٹوتھ پکس“…. وہ جو دانت میں بوٹی پھنس جائے تو تنکا مارتےہیں….!!!
میں: جی جی….میں سمجھ رہی ہوں۔
شیخ: ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ دادا جان نے دس کلو جھاڑو کےتنکےاپنےسامنےکٹوا کر اپنےہر بچےکو پچاس پچاس ہزار تیلیاں دی تھیں‘ یقین کرو آج بھی میرےگھر میں وہی تیلیاں ٹوتھ پکس کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں اور انشاءاللہ امید ہے چارپانچ سال تک مزید چلیں گی۔
میں: اوہ مائی گاڈ….واقعی؟
شیخ: یہ تو کچھ بھی نہیں….خالو جان کی وفات کا واقعہ سناؤں تو تم دم بخود رہ جاؤ….!!!
میں: پلیز پلیز….سنائیے!!!
شیخ: ہائےہائے….کیا یاد دلا دیا….مرحوم چھت پر بیٹھے آم چوس رہے تھے‘ اچانک گٹھلی آم میں سےنکل کر نیچےگٹر میں جا گری….خالو نےآؤ دیکھا نہ تاؤ….اوپر سےچھلانگ لگا دی اور سیدھےگٹر میں….پورےچار دن بعد ان کا جسدِ خاکی راوی سےبرآمد ہوا ….لیکن آفرین ہے کہ گٹھلی بہر حال ان کے ہاتھ میں دبی ہوئی تھی۔
میں: آ پ نےکبھی زندگی میں کوئی فضول خرچی بھی کی؟
شیخ: (کانوں کو ہاتھ لگاتےہوئے) ایک دفعہ کی تھی….اور یقین کرو لیاری میں شیخ یونین سےخارج ہوتے ہوتے بچا تھا۔
میں: (آنکھیں پھاڑتےہوئے) اچھا جی؟؟؟
شیخ: ہاں جی….ہوا یوں کہ میں نےخط کا لفافہ بند کرنے کے لیے ایک روپے کی گوند خرید لی….اوئے ہوئے ہوئے ہوئے….جیسے ہی نانا حضور کو پتا چلا ان کےتن بدن میں آگ لگ گئی….وہ شیخ یونین کےتاحیات صدر تھی….انہوں نےفوری طور پر میری اس فضول خرچی پر ایک ہنگامی میٹنگ کال کی اور گرج کر بولے….ابےشیخ چلی….تُو نےایک معمولی سا لفافہ جوڑنے کے لیےایک روپے کی خطیر رقم گوند پر خرچ کر دی‘ حالانکہ یہ کام باآسانی تھوک سے بھی کیا جا سکتا تھا….جا….آج سےتو ہم میں سےنہیں….!!!
میں: پھر….پھر کیا ہوا؟
شیخ: ہونا کیا تھا….میں فوری طور پر نانا حضور کے پاؤں پر گر گیا اور گڑگڑا کر اپنےبھیانک جرم کی معافی مانگنے لگا….اس پر انہوں نے مجھےحکم دیا کہ اب تمہاری سزا صرف اسی صورت میں معاف ہوسکتی ہےکہ تم بچت کا کوئی انوکھا طریقہ متعارف کراؤ۔
میں: پھر….آپ نےکیا کیا؟
شیخ: کرنا کیا تھا….ایک ایسی بچت کر کےدکھائی کہ نانا خوشی سےجھوم اٹھےاور مجھےشیخ یونین میں واپس لےلیا۔
میں: (حیرت سے)ایسا کیا کِیا آپ نے؟
شیخ: میں نےانہیں ایک روپے میں دس سال تک کا پرفیوم تیار کر کےدکھا دیا
میں: ایک روپےمیں دس سال تک کے لیے پرفیوم….یہ….یہ کیا کہہ رہےہیں….کیا ایسا ممکن ہے؟
شیخ (قہقہہ لگا کر) ہاں بیٹی….ممکن ہے….اور یاد رکھ….اسےکنجوسی نہیں….عقلمندی کہتے ہیں۔
میں: لیکن….لیکن یہ پرفیوم تیار کیسے ہوتا ہے؟
شیخ: کوئی مسئلہ ہی نہیں….ایک روپے کی دو اگربتیاں لو….ایک بالٹی پانی میں دونوں اگربتیاں پیس کر ڈال دو….دس سال کا پرفیوم تیار!!!
میں: (گہرا سانس لے کر) بہت اچھے….بھئی بہت اچھے….تو گویا آپ یہی پرفیوم استعمال کرتے ہیں۔
شیخ: بالکل….لیکن روز نہیں….صرف شادی بیاہ کے موقعوں پر….اور تمہیں پتا ہےاس پرفیوم کا سب سےبڑا فائدہ یہ ہے کہ اسےلگایا ہو تو بندہ رش میں سے بھی یوں گذر جاتا ہے جیسےمکھن میں سے بال….!!!
میں: (الجھےہوئےلہجےمیں) میں سمجھی نہیں….!!!
شیخ: میں سمجھاتا ہوں….دیکھو….جیسے ہی یہ پرفیوم لگا کر میں کہیں سےگذرتا ہوں….لوگ تیزی سےراستہ دینا شروع کر دیتے ہیں۔
میں: (غصے سے) بھئی آخر کیوں؟
شیخ (قہقہہ لگا کر میرے آگےہاتھ کرتا ہے) ابےوہ سمجھتےہیں شائد کوئی جنازہ آرہا ہے….!!!
میں: اچھا شیخ صاحب….آپ ماشاءاللہ اتنےعقل مند ہیں‘ آپ کی تعلیم کتنی ہے؟
شیخ: الحمد للہ….ایل ایل بی
میں: (آنکھیں پھاڑ کر) ایل ایل بی….
شیخ: جی….ایل ایل بی….یعنی….لنگر لوٹنے میں بےمثال
میں: (گہرا سانس لےکر)بڑی عجیب چیز ہیں آپ….اچھا ہمارے ناظرین کو یہ تو بتائیے کہ آپ زیادہ چلی میں کیوں رہتے ہیں؟
شیخ: چلی میں….ابےتُو گھاس تو نہیں کھا گئی….میرا نام اس لیےچلی نہیں کہ میں چلی میں رہتا ہوں۔
میں: (حیرت سے) تو پھر؟
شیخ: اصل میں مجھے ریڈ چلی….یعنی کہ سرخ مرچ بڑی پسند ہے….اسی لیے چلی مشہور ہو گیا ہوں۔
میں: اوہ….تو یہ بات ہی….ویسےآپ رہتےکہاں ہیں؟
شیخ: اسلام آباد میں!!!
میں: (حیرت سے) اسلام آباد میں….لیکن وہ تو بڑا مہنگا شہر ہی….آپ کیسےوہاں رہنا افورڈ کر لیتےہیں؟
شیخ: (قہقہہ لگا کر) ابے….سب سےزیادہ بچت ہی اسلام آباد میں ہوتی ہے۔
میں: یہ….یہ کیا کہہ رہےہیں آپ….اسلام آباد میں تو بڑے خرچے ہوتےہیں….اور آپ کہہ رہے ہیں کہ بچت ہوتی ہے.
شیخ: (منہ بنا کر)ایک تو تجھےہر چیز مثال دے کر سمجھانا پڑتی ہے….دیکھ….میرا ایک بھانجا ایم این اے ہے….ایک کیس میں پھنس گیا تھا‘ اوپر سےحکومت مخالف پارٹی میں تھا….بس….رگڑے پہ رگڑا….رگڑے پہ رگڑا….میں نےکہا ابے اسلام آباد میں رہائش رکھ اورپارٹی بدل لے….بس ….اُس نےمیری بات مان لی‘ اسلام آباد شفٹ ہوتے ہی پارٹی بدل لی….ایک منٹ میں اس کی ہر کیس سےبچت ہوگئی….!!!
میں: اوہو….میں پیسوں کی بچت کی بات کر رہی ہوں؟
شیخ: ابے گھامڑ ….اِس قصےمیں تجھے پیسوں کی کوئی بچت نظر نہیں آرہی؟
میں: (غصے سے)آپ مجھےگھامڑ نہیں کہہ سکتے
شیخ: باقی دنیا بےشک کہتی رہی؟
میں: (غصے سے) پلیز….آپ حد سےبڑھ رہے ہیں….آپ کو لڑکیوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے. میں آپ کےیہ سارےجملےکٹ کروا دوں گی۔
شیخ: ابےناراض نہ ہو….دیکھ غصےمیں بالکل مکی مائوس جیسی  لگ رہی ہے.
میں: آپ….آپ مجھےکارٹون کہہ رہےہیں….فوراً….فوراً سوری کریں
شیخ: اچھا بابا کر لیتا ہوں….(کیمرےکی طرف منہ کر کے) بھائی مکی مائوس تم جہاں بھی ہو میں تم سےسوری کرتا ہوں
میں: (غصےسےہاتھوں کی مٹھیاں بھینچتے ہوئے) شیخ صاحب….ریکارڈنگ کے بعد آپ کون سے راستے سے گھر جائیں گے؟
شیخ: جدھر سے بھی تم لےجاؤ؟
میں: میں لےجاؤں….کیا مطلب؟
شیخ: بھئی تم ہی مجھےانٹرویو کے لیے لائی تھی….تم ہی لےکر جاؤ گی.
میں: (منہ پر بدلے کے انداز میں ہاتھ پھیرتے ہوئے) ٹھیک ہے….ایسا لے کر جاؤں گی کہ آپ یاد کریں گے۔
شیخ: شکراً ….شکراً….!!!
میں: (گہرا سانس لے کر) یہ بتائیے کہ آپ کون سی چیز شوق سے کھاتے ہیں؟
شیخ: پہلے خیالی پلاؤ شوق سےکھاتا تھا….لیکن اماں کہتی ہیں روز روز چاول کھانے سے زکام ہو جاتا ہےاس لیے اب صرف شوق سےترس کھاتا ہوں۔
میں: اور پیتےکیا ہیں؟
شیخ: کبھی غصہ ….کبھی آنسو
میں: زندگی کا کوئی ایسا لمحہ جب آپ بہت پریشان ہوئےہوں؟
شیخ: ہائےہائے کم بخت کیا یاد دلا دیا….ایک دفعہ میں چاول کھا رہا تھا کہ چاول کا ایک دانہ زمین پر گر گیا….ہائے ہائے مت پوچھو میں نے کتنا تلاش کیا‘ لیکن نہیں ملنا تھا‘ نہ ملا….کیسےبتاؤں کہ میرا کیا حال ہوا‘ میں نےگھر جا کر ابا کو بتایا تو وہ یہ بھیانک حادثہ سنتے ہی سکتے میں آگئے….اور فوراً تین دن کےسرکاری سوگ کا اعلان کر دیا اور کہنےلگے….خبردار سوگ کے دنوں میں گھر میں کوئی کھانا وانا نہیں پکے گا….یقین کرو….پورے تین دن نیاز کی دال پر گذارا کرنا پڑا۔
میں: محسوس ہوتا ہےکہ آپ نے زیادہ تر بچت کی تربیت اپنے ابا سے لی ہے؟
شیخ: بالکل ٹھیک کہا تم نے….اصل میں ابا بچت کے چیمئپن تھے….بچپن میں ہم سب بچوں کو جمع کر لیتےاور بچت کےمختلف طریقے سمجھاتے….ابا نے قبل از مسیح کی ایک سائیکل رکھی ہوئی تھی جسےوہ گھر میں ہی چلاتے تھےاور پتا ہے کبھی پورا پیڈل نہیں گھماتےتھے.
میں: وہ کیوں ؟
شیخ بھئی وہ فرماتے تھےکہ جب آدھا پیڈل گھمانےسے سائیکل چل جاتی ہےتو پورا پیڈل گھسانےسےکیا فائدہ….اس سائیکل کےاصول انہوں نےبڑے سخت وضع کر رکھےتھے‘ میں نےکبھی اس کو مستری کی دوکان پر نہیں جاتےدیکھا‘ پنکچر ہوجاتی تھی تو ابا خود ہی آٹےکا پنکچر لگا دیا کرتےتھے‘ بعد میں ہوا بھرنے کےلیے زمین پر لیٹ جاتےاور سائیکل کے”وال“ کو منہ میں ڈال کر پوری قوت سے پھونکیں مارا کرتے تھے….ٹھیک ڈیڑھ گھنٹے بعد جب وہ اٹھتے تو ان کا چہرہ لال سرخ ہوتا اور وہ ہماری طرف فاتحانہ انداز میں دیکھ کر مسکرا تےاور کہتے….دیکھا….اسےکہتےہیں بچت!!!
میں: ماشاءاللہ….اللہ نظر نہ لگائے….آپ تو واقعی بڑی پہنچی ہوئی شخصیت ہیں….اچھا یہ بتائیےکہ آپ غصہ بھی کرتے ہیں؟
شیخ: بہت زیادہ ….ابھی دیکھیں ناں ….کل میرا چھوٹا بچہ بھاگتا ہوا آیا اور کہنے لگا بھوک لگی ہے….میں نے دو تھپڑ رسید کر دیئے۔
میں: یہ تو بڑی غلط بات ہے….بھوک لگنا کون سی برائی ہے….آپ نےاُس بیچارےکو کیوں مارا؟
شیخ:….میں بھوک کےخلاف نہیں ہوں….لیکن بندہ بار بار کھانا کھاتا اچھا لگتا ہے کیا؟؟
میں: تو کیا آپ کا بچہ پہلےکھانا کھا چکا تھا؟
شیخ: یار کم بخت نےدو دن پہلےپیٹ بھر کر کھایا تھا….مجھےتو سمجھ نہیں آتی کہ اس کا پیٹ ہے یا کنواں….!!!
میں: (گہرا سانس لےکر) موسیقی سےکچھ لگاؤ ہے؟
شیخ: نہیں یار….الو کا پٹھا سارا سارا دن گلی ڈنڈا کھیلتا رہتا ہے
میں: میں آپ کی بات کر رہی ہوں
شیخ: اوہ….سوری‘ میں سمجھا میرے بیٹے کی بات کر رہی ہو‘ہاں ہاں کیوں نہیں….مجھےتو موسیقی بہت پسند ہے۔
میں: کس قسم کے گانےسنتے ہیں؟
شیخ: صرف اور صرف بچت والے….!!!
میں: (حیرت سے) بچت والے….وہ کون سےگانے ہوتے ہیں؟
شیخ: (گنگنا کر) سونا نہ چاندی نہ کوئی محل تجھ کو میں دے سکوں گا……..!!!
میں: اور ناپسند کون سےگانےہیں؟
شیخ: جن میں فضول خرچی ہو!!!
میں: مثلاً….!!!
شیخ: (گنگنا کر)”تیری دو ٹکیا کی نوکری ….میرا لاکھوں کا ساون جائے….“
اور یہ والا….”نچ مجاجن نچ مجاجن….نچ مجاجن نچ….“
میں: نچ مجاجن میں کون سی فضول خرچی ہے جی؟
شیخ: تو نےکبھی کسی مجاجن کا ناچ دیکھا ہے؟
میں: (گھبرا کر) نن….نہیں؟
شیخ: کسی دن دیکھ….اور پھر آکر بتانا کہ کتنا خرچہ ہوا!!!
میں: شیخ چلی صاحب….آپ نےکبھی کوئی اپنےسےبھی دوگنا کنجوس دیکھا؟
شیخ: بھری پڑی ہے دنیا….میں تو کچھ بھی نہیں
میں: کوئی مثال دیجئے!!!
شیخ: دیکھ ایک مہربانی کر….یہ بار بار مجھے یہ نہ کہا کر کہ مثال دیجئے….مثال دیجئے….قسم خدا کی ایسا لگتا ہے جیسے میرے پلے سے کوئی چیز تجھے جا رہی ہے….!!!
میں: اوکےاوکے….میں احتیاط کروں گی….آپ اپنی بات کی وضاحت کیجئے!!
شیخ: (خوش ہوکر) ہاں….یہ ہوئی ناں بات….اصل میں یار یہاں بڑے بڑے کنجوس پڑے ہیں….ابھی عبدالستار ایدھی ہی کو دیکھ لو….ڈھنگ کی جوتی تک نہیں پہنتا….اور میں نےان کےایک انٹرویو میں پڑھا تھا کہ انہوں نے شادی کے بعد اپنی بیگم سےکہا تھا کہ ایک ہی صابن سارا سال استعمال کرنا ہے۔
میں: تمیز سےبات کیجئے….اور یاد رکھئے….ایدھی صاحب اس لیے سادہ رہتے ہیں کہ وہ ضرورت کی ساری چیزیں ضرورت مندوں میں بانٹ دیتے ہیں….ان جیسا خدا ترس انسان اور کون ہو گا۔
شیخ: اور اپنےمتعلق کیا خیال ہے؟
میں: کیا مطلب….میں کہاں سےکنجوس ہوگئی؟؟
شیخ: تم بالوں سےکنجوس لگتی ہو
میں: (حیرت سے) بالوں سے….وہ….وہ کیسےبھئی؟؟؟
شیخ مجھے نہیں لگتا کہ تم نےدو سال سے کوئی کنگھی خریدی ہو
میں: (غصے سے) کمال ہے….یہ میرا سٹائل ہےبھئی
شیخ: (قہقہہ لگا کر) تمہارا سٹائل….(پھر قہقہہ لگاتا ہے)
میں: اس میں ہنسنےوالی کون سی بات ہے؟
شیخ: (مسلسل ہنستے ہوئے) سٹائل….کمال ہے بھئی….سٹائل (مسلسل ہنستا ہے)
میں: (زچ ہوتےہوئے) دیکھیں….میں نےخود اپنےبال اس طرح رکھےہوئے ہیں۔
شیخ: (ہنستےہوئے) خود….ہاہاہاہاہا….یار یہ تم لوگ جو کام بھی خود سےکرتےہو‘ ہمیشہ الجھا ہوا کرتےہو۔
میں: میرے بالوں کو چھوڑئےاور آپ فرمائیے کہ آپکے کتنے بچے ہیں؟
شیخ: ماشاءاللہ ….چار درجن….!!!
میں: میں نے بچے پوچھے ہیں….انڈے نہیں!!!
شیخ: بتایا تو ہے….ماشاءاللہ چار درجن!!!
میں: بچوں کےمعاملے میں آپ نےاتنی فضول خرچی کیوں کی؟ اتنے بچوں کا خرچہ کیسے افورڈ کرتے ہیں آپ؟
شیخ: (قہقہہ لگا کر) ابے یہ فضول خرچی نہیں….بچت ہے….بہت بڑی بچت!!!
میں: (حیرت سے) بچت….لیکن وہ کیسی؟
شیخ: بھئی ہر بچےکو میں نے مختلف لنگروں پر لائن میں لگوایا ہوتا ہے….ماشاءاللہ ہر بچہ رات کو نت نئے کھانے لاتا ہے….کبھی آؤ ہمارے گھر….ایک وقت میں بیس بیس ڈشیں کھاتےہیں ہم ….!!!
میں: اس کا مطلب ہے بچے بھی آپ پر گئے ہیں؟
شیخ: (منہ بنا کر) ظاہری بات ہے مجھ پر ہی جانا تھا….کیا تیرےبچےتجھ پر نہیں؟؟؟
میں: (گھبرا کر) مم….میرا مطلب ہے….بچت میں آپ کے بچے بالکل آپ کی طرح ہیں۔
شیخ: الحمد للہ….ساری اولاد بچت ایکسپرٹ ہے….ابھی پچھلے ہفتےکی بات ہے‘ میرے پندھرویں بیٹے کےگٹر میں پانچ روپے گر گئے‘ اس نے دس روپے دےکر نکلوائے!!!
میں: واہ ….یہ ہوئی ناں بات….اچھا  صاحب یہ بتائیے کہ کبھی خدا کی راہ میں بھی کچھ دیتےچہیں؟
شیخ: دیکھو بھائی….ہر بندےکا خدا کی راہ میں دینےکا اپنا اپنا طریقہ ہوتا ہے….کچھ لوگ 100کمائیں تو 10اللہ کی راہ میں دے دیتے ہیں‘لیکن میرا اپنا سٹائل ہے….!!!
میں: ماشاءاللہ….کیاسٹائل ہےجی؟
شیخ: میں جتنےکماتا ہوں‘اوپر کی طرف پھینکتا ہوں‘ جتنےاُسےچاہیےہوتےہیں وہ رکھ لیتا ہے‘ باقی میں لے جاتا ہوں۔
میں: (گہرا سانس لےکر) یہ تو بتائیےکہ نہاتے کب کب ہیں؟
شیخ: (گہرا سانس لےکر) ….اپنی تو آدھی بارش میں گذر گئی….آدھی تیمم میں….!!!
میں: ایک بات کہوں….بُرا تو نہیں مانیں گے؟
شیخ:  یار پیسےنہ مانگ لینا….مجھے شک ہے کہ تم کوئی ایسی حرکت ضرور کرو گی….!!!
میں: کیا بات کر رہے ہیں….ایسی کوئی بات نہیں….میں تو یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ شائد آپ کو علم نہیں کہ آپ کی قمیض کاایک بٹن ٹوٹا ہواہے.
شیخ: مجھےعلم ہے
میں: (حیرت سے) یعنی آپ کو علم ہے پھر بھی آپ نے نیا بٹن نہیں لگوایا
شیخ: اگلےمہینےکی 21 تاریخ کو لگوائوں گا
میں: 21 کو کیوں؟
شیخ: 21 کو کمیٹی نکلنی ہے
میں: اُف….اتنی بچت….بھئی ایک بٹن پر خرچہ ہی کتنا آتا ہے.
شیخ: اربوں روپے بھی آسکتا ہے….بشرطِ کہ بٹن ایٹم بم کا ہو.
میں: لیکن میں تو آپ کی قمیض کے بٹن کی بات کر رہی ہوں.
شیخ: بٹن کو اُدھر سےپکڑو یا اِدھرسے

….بات ایک ہی ہے

میں: (گہرا سانس لےکر) زندگی میں کبھی کسی کو خیرات بھی دی ؟
شیخ: ہاں….ایک دفعہ ایک فقیر کو روپیہ دیا تھا.
میں: سبحان اللہ….فقیر نےکیا کہا؟
شیخ خوش ہوکر بولا….مانگ کیا مانگتا ہے؟
میں: آپ نےکیا مانگا؟
شیخ: میں نےکہا….بھائی میرا روپیہ واپس کر دے.
میں: (گہرا سانس لےکر) خیرات بخشش کا ذریعہ ہوتی ہے….کر دیا کیجئے
شیخ: کرتا تو ہوں….لیکن لوگ سمجھیں تو تب ہے ناں….اسلامی اصولوں کےمطابق خیرات کروں ‘ تب بھی خوش نہیں ہوتے۔
میں: کیا آپ نےایسا کوئی عمل کیا ؟
شیخ: ہاں ہاں یار….دو مہینے پہلےمحلے کی مسجد والے مسجد کی تعمیر کےلیے چندہ لینے آئے‘ یقین کرو میں نےدس ہزار کا چیک کاٹ کر اسی وقت ان کےحوالےکر دیا۔
میں: سبحان اللہ….سبحان اللہ….کیا وسیع القلبی ہے.
شیخ: لیکن وہ پھر بھی اب تک ناراض ہیں.
میں: (حیرت سے) ناراض ہیں….کس لیے؟؟؟
شیخ: بھئی کہنے لگے چیک پر رقم تو لکھ دی ہے‘ اب دستخط بھی کر دیجئے….میں نے کہا بھائی میں نیکی کے کاموں میں نام نہیں ظاہر کرتا۔
میں: لاحول ولا قوہ….آپ کےدستخط کے بغیر چیک کیسے کیش ہو سکتا ہے.
شیخ: (لاپرواہی سے) یہ میرا مسئلہ نہیں….میں نےتو اپنی طرف سے پیسےدے دیے‘ اسلام میں ہے کہ خیرات ایسے دینی چاہیے کہ دوسرے ہاتھ کو خبر تک نہ ہو‘ اب اگر میں دستخط کر دیتا تو پتا نہیں کس کس کو خبر ہو جانی تھی۔
میں: کبھی خدانخواستہ کسی بیماری میں مبتلا ہوئے ہوں؟
شیخ: میں دل کا مریض ہوں….بیس تیس دفعہ بائیں ٹانگ میں ہارٹ اٹیک ہوچکا ہے۔
میں: ٹانگ میں ہارٹ اٹیک….بھئی آپ بھی کمال کرتے ہیں….ٹانگ میں ہارٹ اٹیک کیسےہوسکتا ہے؟
شیخ: مذاق نہ سمجھو ….ہماری بیماریاں ایسی ہی ہوتی ہیں….میرےپھوپھا کو دماغ میں موچ آگئی تھی….تایا کو گوڈے میں برین ہیمرج ہوگیا تھا….اور ماموں کی آنکھ میں ہیضہ ہو گیا تھا۔
میں: (آنکھیں پھاڑتےہوئے) یہ….یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں….ایسا ….ایسا کیسےہوسکتا ہے؟
شیخ: ہوسکتا ہے….ہوسکتا ہے….اس دنیا میں کیا نہیں ہوسکتا
میں: عجیب بات ہے….دل نہیں مانتا
شیخ: ہوسکتا ہےتمہارے دل میں موچ آگئی ہو
میں: (چلا کر) دل میں موچ کیسےآسکتی ہے؟ آپ مجھے پاگل کر دیں گے!!!
شیخ: (حیرت سے) تو کیا تم پاگل نہیں ہو؟
میں: پہلےتو نہیں تھی لیکن اب لگتا ہے کہ ہوجاؤں گی….آپ تو مسلسل مجھے زچ کرنے پر تلے ہوئے ہیں‘ میں نے کتنی  دفعہ بتایا ہے کہ آپ کا انٹرویو ہو رہا ہے لیکن آپ تو سمجھتے ہی نہیں….!!!
شیخ: (معذرت خواہانہ لہجےمیں) چلو اب معافی دے دو….مجھےمعافی مانگنا بہت اچھا لگتا ہے۔
میں: (ٹھنڈا پڑتے ہوئے) معافی مانگنا بڑے ظرف کی بات ہوتی ہے
شیخ: لیکن مجھےمعافی مانگنا ظرف کی وجہ سےاچھا نہیں لگتا
میں: پھر؟
شیخ: اصل میں ”مانگنا“ ہماری خاندانی روایت ہے….!!!
میں: شیخ چلی صاحب….اگر آپ کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور آجائےتو کیا کریں گے۔
شیخ: میں ”بھاگ کر دوڑ“ لگا دوں گا
میں: کیوں….حکومت میں آنےکی تو ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے.
شیخ اصل میں‘ میں حکومت میںاس لیےبھی نہیں آنا چاہتا کہ میرا ”نون….قاف“ درست نہیں۔
میں: (حیرت سے) نون ….قاف….بھئی یہ نون قاف کا حکومت سےکیا تعلق اور ویسے بھی یہ لفظ شین قاف ہوتا ہے‘ نون قاف نہیں!!!
شیخ: حکومت میں آنے کے لیے شین قاف نہیں….نون قاف کی ضرور ت ہوتی ہے….کبھی نون حکومت میں آجاتا ہےاور کبھی قاف
میں: آپ کون سےوالے”قاف“ کی بات کر رہے ہیں
شیخ: بھئی قاف دو ہی ہوتےہیں….ایک قینچی والا….ایک تمہارےوالا….!!!
میں: (غصے سے) کیا مطلب….میرےوالا قاف کون سا ہوتا ہے؟؟؟
شیخ: اوہو ….بھئی تمہارا نام ہے کوئن….اب یہ جو کوئن میں قاف آتا ہی….یہ تمہارےوالا قاف نہیں ہے کیا؟؟؟
میں: اوہ….سوری….میں کچھ اور سمجھی تھی.
شیخ: (بڑبڑاتےہوئے) میرا بھی یہی مقصد تھا
میں: شیخ صاحب !اگر آپ کےپاس خدانخواستہ….اللہ نہ کری….دس کروڑ روپیہ آجائے تو آپ کیا کریں گے؟
شیخ: آدھا غریبوں میں بانٹ دوں گا
میں: ویری گڈ….اور اگر آپ کےپاس دس گاڑیاں ہوں تو؟
شیخ: آدھی غریبوں میں بانٹ دوں گا
میں: اور اگر دس جہاز ہوں تو؟
شیخ: آدھےغریبو ں کو دے دوں گا….!!!
میں: اور اگر دس کوٹھیاں ہوں تو؟
شیخ: آدھی فوراً غریبوں کےنام کر دوں گا
میں: ماشا ءاللہ….اوراگر آپ کےپاس دس مرغیاں ہوں تو؟
شیخ: (چونک کر) کیا کہا….دس مرغیاں….تو پھر میں ساری کی ساری اپنے ہی پاس رکھوں گا۔
میں: کمال ہےشیخ صاحب….دس جہاز ‘ دس کوٹھیاں‘ دس کروڑ اوردس گاڑیاں تو آپ آدھی غریبوں میں بانٹ دیں گے‘ جبکہ معمولی سی دس مرغیاں ساری اپنےپاس رکھیں گےآخر کیوں؟
شیخ: اس لیےکہ میرے پاس دس جہاز‘ دس کوٹھیاں‘ دس کروڑ اور دس گاڑیاں تو نہیں ہیں‘ البتہ دس مرغیاں گھر میں موجود ہیں۔
میں: (گہرا سانس لےکر) شیخ چلی صاحب….آپ آج ہمارےمہمان تھے‘ ناظرین کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
شیخ: میں یہی کہنا چاہوں گا کہ پیسوں میں کنجوسی ضرور کریں لیکن اپنی نفرتوں اور برائیوں میں بھی کنجوسی سےکام لیں‘ بڑا مزا آئے گا۔
ناظرین اس کےساتھ ہی اپنے میزبان کوئن کو اجازت دیجئےاگلے ہفتےپھر کسی مصیبت….مم میرا مطلب ہے شخصیت کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ رب راکھا

نومبر 29, 2010 at 11:31 تبصرہ چھوڑیں

Pehle Hawai Safar Ki Hawaiyan

جولائی 9, 2010 at 10:09 1 comment


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]