Posts filed under ‘Aalmi Adab : عالمی ادب’

جلال الدین محمد رومی (1207-1273)

مولانا جلال الدین محمد رومی ایران ہی کے نہیں بلکہ امت مسلمہ کے سب سے جلیل القدر صوفی شاعر ہونے کا امتیازی مقام رکھتے ہیں ۔ رومی ساتویں صدی ہجری کے ایسے بزرگ ہیں جن پر عملاً صوفیت کے عہد زریں کی انتہا ہوتی ہے ۔ انہوں نے درویشوں کے ایک ایسے سلسلے کی بنیادء ڈالی جو” مولویہ“ یا جلالیہ کے نام سے مشہور ہوا اور جنہیں اہل یورپ رقصاں درویش کہتے ہیں ۔ عرب و عجم کی محفلیں آج بھی مولانا روم کے ذکر سے منور ہیں اور تاقیامت چمکتی رہیں گی ان کی مشہور عالم اور زندہ جاوید مثنوی اہل نظر اور صاحبانِ باطن کیلئے سرمایہ تسکین اور راحت دل و جان ہے جس سے بندگان خدا عشق و عمل اور حیات و عالم کی حقیقت سمجھتے ہوئے روحانی فیض پاتے ہیں اور شعور و آگہی کی منازل طے کرتے چلے جاتے ہیں ۔

آپ کا روشن کلام اسرار و رموز کا ایک خزینہ اور معرفت و عرفان کا ایک گنجینہ ہے۔ اس لحاظ سے مولانا رومی ایک ایسے عہد ساز اور عصر آفرین انسان ہیں جن پر تاریخ اسلام اور تاریخ عالم کو ہمیشہ ناز رہے گا ۔آپ کا نام نامی محمد، لقب جلال الدین اور عرف مولانا روم ہے ۔ آپ 6 ربیع الاول 604ھ بمطابق 1207کو بمقام بلخ ( خراسان ) آپ کی ولادت ہوئی ۔ چونکہ آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ روم میں گزرا ، اِس لئے آپ نے مولانا روم کے نام سے شہرت پائی ۔

Advertisements

ستمبر 29, 2010 at 04:29 تبصرہ کریں

خلیل جبران کے اقوال

انسان اور فطرت

ایک دن صبح میں بیٹھا فطرت پر غور کر رہا تھا کہ بادِ نسیم کا ہلکا سا جھونکا درختوں سے ہوتا ہوا میرے پاس سے گزر گیا. میں نے اس جھونکے کو ایک بھوے بھٹکے یتیم کی طرح آہیں بھرتے سنا  "اے بادِ نسیم تو کیوں آہیں بھرتی ہے؟” میں نے پوچھا بادِ نسیم نے جواب دیا  "اس لیے کہ میں شہر سے لوٹ کر آئی ہوں. جس کی سڑکیں سورج کی گرمی کی وجہ سے ابھی تک تپ رہی ہیں. محتلف بیماریوں کے جراثیم نرم و نازک پاکیزہ لباس کے ساتھ چمٹ گئے ہیں. کیا تم اب بھی آہیں بھرنے کا طعنہ دیتے ہو؟”.

پھر میں نے پھولوں کے اشک آلود چہروں کی طرف دیکھا وہ آہستہ آہستہ سسکیاں لے رہے تھے.”اے حسین و جمیل پھولوں! تم کیوں روتے ہو؟”  میں نے سوال کیا. ایک پھول نے اپنا نرم و نازک سر اٹھایا اور سرگوشی کے لہجے میں کہنے لگا. "ہم اس لیے روتے ہیں کہ ابھی کوئی شخص ہمیں توڑ کر لے جائے گا اور شہر کی کسی منڈی میں فروخت کر دے گا”.

پھر میں نے ندی کو بیوی کی طرح آہ زاری کرتے سنا جیسے وہ اپنے اکیلے بچے کی موت پر ماتم کر رہی ہو

"اے پاکیزہ ندی بھلا تو کیوں رو رہی ہے”؟ میں نے ہمدردی سے سوال کیا.

یہ سن کر ندی نے کہا "میں اس لیے رو رہی ہوں کہ انسان نے مجھے شہر جانے پر مجبور کر دیا ہے. وہ مجھے گندی نالیوں میں ڈال کر میری پاکیزگی کو ملوث کرتا ہے اور میری صفائی قلب کو نجاست سے گندہ کرتا ہے”.

پھر میں نے پرندوں کو آہیں بھرتے سنا پھر میں نے پوچھا "اے پیارے پرندوں تمہیں کیا دکھ ہے؟ تم کیوں آہیں بھرتے ہوِ اُن میں سے ایک پرندہ اُڑ کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا! "یہ ابن آدم ابھی مسلح ہتھیاروں سے لیس ہو کر میرے اس کھیت میں آئیں گے اور اس طرح ہم پر حملہ آور ہوں گے جیسے ہم سچ مچ ان کے دشمن ہیں ہم اس وقت ایک دوسرے کو الوداع کہہ رہے ہیں کیوں کی ہمیں پتہ نہیں کہ کون شام کو صحیح سلامت گھر لوٹے گا اور کون موت کا شکار ہو گا. ہم جہاں جاتے ہیں موت ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتی”

اب پہاڑوں کے پیچھے سورج طلوع ہو رہا ہے اور درختوں کی چوٹیوں پر اپنی سنہری کرنوں کو بکھیر رہا ہے. میں نے سراپا حُسن کی طرف دیکھا اور کہا "جس چیز کو دست قدرت نے جنم دیا ہے. انسان اُس کو کیوں برباد کر رہا ہے؟”.

حسن

حسن کی بھی اپنی ہی ایک زبان ہوتی ہے. یہ زبان لفظوں اور ہونٹوں کی محتاج نہیں ہوتی. یہ ایک غیر فانی زبان ہے اور کائنات کا ہر انسان اسے سمجھتا ہے. یہ آفاقی زبان جھیل کی مانند ہے جو ہمیشہ خاموش رہتی ہے لیکن گنگناتی اور شور مچاتی ندیوں کواپنی گہرائی میں اتار لیتی ہے اور پھر وہی ازلی اور ابدی سکون چھا جاتا ہے.

ماں کی گود
قادسیہ کی وادی میں جہاں ایک بڑا دریا بہتا ہے دو چھوٹی چھوٹی ندیاں باہم ملنے پر یوں گویا ہوئیں.
پہلی بولی
"کہو سہیلی راستہ کیسے کٹا تمہارا”
دوسری نے کہا.
"بہن میرا راستہ تو بہت ہی خراب تھا. پن چکی کا پہیہ ٹوٹا ہوا تھا اور چکی والا بوڑھا جو راستہ کاٹ کر مجھے اپنے کھیتوں میں لے جایا کرتا تھا مر چکا ہے. میں ہاتھ پاؤں مارتی جو دھوپ میں بیٹھے مکھیاں مارتے رہتے ہیں. ان کے کیچڑ سے پہلو بچاتی آرہی ہوں، مگر تمہاری راہ کیسی تھی؟
پہلی ندی بولی
"میری راہ بلکل مختلف تھی. میں پہاڑوں پر سے اُچکتی ، شرمیلی بیلوں اور معطر پھولوں سے اُلجھتی چلی آرہی ہوں. چاندی کی کٹوریاں بھر بھر کر مرد اور عورتیں میرا پانی پیتے تھے اور چھوٹے چھوٹے بچے اپنے گلابی پاؤں میرے کنارے کھنگالتے تھے. میرے چاروں طرف قہقہے تھے اور رسیلے گیت تھے لیکن افسوس کہ بہن تیرا راستہ خوشگوار نہ تھا.
"چلو جلدی چلو” دریا کی چیخ سنائی دی ، چلو چپ چاپ بڑھتے چلو مجھ میں سما جاؤ. ہم سمندر کی طرف جا رہے ہیں. آؤ میری گود میں پہنچ کر تم اپنی سب کوفت بھول جاؤ گی. خوشی اور غم کے تمام قصے خودبخود محو ہو جائیں گے.
"آؤ کے ہم اپنے راستے کی تمام کلفتیں بھول جائیں گے. سمندر میں اپنی ماں کی گود میں پہنچ کر ہم سب کچھ بھول جائیں گے.”

اگست 24, 2010 at 06:59 1 comment

شیکسپیئر کے فلسفی مسخرے

شیکسپیئر دنیائے ادب کے اُفق کا وہ چمکتا ستارہ ہے جس کی مقبولیت کا گراف ہمیشہ بلند رہا ہے۔ اس کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب اس کی کردار نگاری ہے۔ چونکہ اس کا زندگی کا مشاہدہ نہایت گہرا تھا۔ اس لئے اس نے کئی لازوال اور آفاقی کردار تخلیق کئے۔ اس کے متنوع کرداروں میں مسخرہ نہایت اہم ہے۔مسخرہ کے کردار کو اپنے ڈراموں میں اس نے خاص مقصد کيلئے پیش کیا ہے اور وہ خاص مقصد ڈراموں کے کرداروں کی خوبیوں ، خامیوں اور بے وقوفیوں پر تنقید و تبصرہ کے علاوہ زندگی کے متعلق اپنے نظريے کی وضاحت بھی ہے۔ طربیہ ہو یا المیہ دونوں میں مسخرے اپنی بزلہ سنجی سے قارئین اور ناظرین کی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں ۔ تاہم عام مسخروں کی طرح شیکسپیئر کے مسخرے اپنی حرکات و سکنات سے تماش بینوں کو نہیں ہنساتے بلکہ وہ نہایت ذہانت سے زندگی کی فلسفیانہ توجیح کرتے ہیں ۔

یہ ٹھیک ہے کہ شیکسپیئر نے ایسے لازوال کردار (Falstoff)  تخلیق کئے ہیں جو اپنی حرکات و سکنات وغیرہ سے بھی ہنساتے ہیں ۔ لیکن یہ شیکسپیئر کا امتیاز ہے کہ اس نے فلسفی مسخرے تخلیق کئے ہیں ۔ جو ڈرامے کے دوسرے کرداروں پر نہ صرف فکر انگیز تنقید و تبصرے کرتے ہیں بلکہ اپنے "اقوال زریں ” سے زندگی کے متنوع پہلو اجاگر کرتے ہیں ۔انہیں لازوال کرداروں میں لیئر کا مسخرہTwelfth Night کا Feste اور As you Like it کا ٹچ اسٹون اہم ہیں ۔شاہ لئیر کے مسخرے کو انگریزی ادب کے کئی نقادوں نے بہت سراہا اور پسند کیا۔ وہ بذلہ سنجی اور ذہانت میں اپنی مثال آپ ہے۔ ڈرامے میں وہ ایک ایسے پڑھے لکھے اور ذہین فلسفی کی طرح نظر آتا ہے جسے کئی محاورے، ضرب الامثال اور دیسی حکایتیں ازبر ہیں اور شاہ لیئر کی بےوقوفیوں کو ظاہر کرنے کیلئے وہ انہیں بےدریغ استعمال کرتا ہے۔ اور زندگی کی روزمرہ استعمال کی چیزوں کوبھی تمثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔

لیئر جب اپنی چھوٹی بیٹی کو اس کی راست بازی کی سزا اور اپنی بڑی بیٹیوں کو ان کی چاپلوسی کا انعام آدھی آدھی سلطنت کی صورت میں دینے کے بعد دامن جھاڑے بیٹھا ہوتا ہے تو مسخرہ اس سے کہتا ہے کہ اب آپ ایسے صفر کی مانند ہو گئے ہیں جس سے پہلے کوئی ہندسہ نہیں ہوتا یا ایسی خالی پھلی کی مانند ہیں جس کے دانے دوسروں کومل چکے ہیں ۔ وہ بادشاہ لئیر کو بے وقوف کہتا ہے تو وہ چراغ پا ہوکر کہتا ہے تم نے مجھے یہ کیوں کہا؟ اس پر مسخرہ جواب دیتا ہے کہ جتنے اچھے اچھے خطاب آپ کو پیدائش کے وقت حاصل تھے وہ تو آپ نے دوسروں کو دے دئيے ہیں ۔ لیئر نے اپنی چاپلوس اور دھوکے باز بیٹیوں کو سلطنت دے کر جو غلطی کی ہے اور اس سے جونتائج آئندہ برآمد ہونے والے ہیں ۔ یہ مسخرہ ان سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ جوں جوں اس کی بیٹیوں کی اصلیت کھلتی جاتی ہے۔ مسخرہ اس پر اپنا تبصرہ جاری رکھتا ہے۔

لئیر کی بڑی بیٹی بادشاہ کے نوکر کنت کو سنگین سزا دیتی ہے تو وہ گانا گاتا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے۔ کہ اگر باپ پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ہو گا تو اولاد اس کی طرف سے اندھی ہو جائے گی۔ یعنی بيگانگی کا مظاہرہ کرے گی۔لیکن جب باپ دولت سے بھرے تھیلے لائے گا تو پھر بچے بڑے مہربان ہوتے ہیں۔ اور تقدیر ایسی پیشہ ور طوائف کی مانند ہے جو اپنے خزانوں کی چابی غریب کی طرف نہیں گھماتی۔گونرل جب بادشاہ پر سلطنت کے معاملات میں ملازموں کے ذریعے خلل ڈالنے کا الزام لگا کر سنگین نتائج کی دھمکی دیتی ہے تو مسخرہ پھر گاتے ہوئے کہتا ہے کہ ایک چڑیا نے کوئل کے انڈوں پر بیٹھ کر بچے نکالے اور انہیں کافی عرصہ تک پالتی رہی جب بچے بڑے ہوئے تو ان میں سے ایک نے چڑیا کا سر کتر لیا۔ مسخرہ شاہ کو دراصل یہ سمجھانا چاہتا تھا کہ اس نے بیٹیاں نہیں آستیں کے سانپ پالے ہیں ۔

اس کے علاوہ یہ فلسفی بادشاہ کو کئی اقوال زریں بھی سناتا ہے۔ ان میں بعض تو ایسے ہیں کہ اگر بادشاہ  فیصلہ کرنے سے پہلے سن سمجھ لیتا تواس کا انجام ایسا المناک نہ ہوتا۔ اقوال درج ذیل ہیں ۔

Have more than thou showest

Learn More than thou trowest

Set less than thou throwest

لیکن لیئر کا انجام المناک ہونا ہی تھا کیونکہ الميے کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے۔ گو کہ ارسطو نے اس بات پر زور نہیں دیا کہ الميي tragedy کا انجام ہیرو کی دردناک موت پر ہی ہو۔ تاہم شیکسپیئر کب ارسطو کے قوانین و اصولوں کو خاطر میں لاتا تھا۔ لئیر کے ساتھ جو کچھ ہوا سو ہوا لیکن اس بے چارے فلسفی مسخرے کا انجام بھی ہیرو کے ساتھ کر کے شیکسپیئر نے کچھ اچھا نہیں کیا۔ دوسرا اہم فلسفی مسخرہ As you like it کا ٹچ اسٹون ہے۔ وہ بھی مخصوص منطق کے ساتھ دوسرے کرداروں پر تنقید و تبصرہ کرتا ہے اور حقیقتاً دوسروں کی بے وقوفیوں و خامیوں کو پرکھنے کی کسوٹی ثابت ہوتا ہے۔ محبت کے معاملات ہوں یا زندگی کے دوسرے پہلو ہر قسم کے تجربات سے گزرا ہوا ہے۔ اسے اپنی درباری زندگی پر فخر ہے اسے وہ اچھے طور طریقوں والی زندگی سمجھتا ہے۔ روز لینڈ سے باتیں کرتے ہوئے محبت کے تجربات یوں بیان کرتا ہے۔

we that our true lovers run into strange capers but as all is mortal in nature so is all nature so is all nature in love mortal in folly.

وہ اپنی مخصوص منطق سے کچھ بھی ثابت کر سکتا ہے۔ Corin سے وہ پوچھتا ہے کیا تم کبھی دربار میں رہے ہو۔ تو وہ کہتا ہے نہیں ۔ اس پر ٹچ اسٹون کہتا ہے پھر تم دوزخ کے مستحق ہو۔ وہ پوچھتا ہے کیوں ؟چونکہ تم دربار نہیں گئے تم شریفانہ طور طریقوں سے آگاہ نہیں اس کا مطلب ہے کہ تم ضرور بدمعاش ہو اور چونکہ بدمعاشی گناہ ہے۔ اس لئے تم واصل جہنم ہو گے۔ اسی طرح ایک جگہ Celia اور Rosalind باتیں کر رہی ہیں تو اس کو یہ آن دھمکتا اور انہیں کہتا ہے تمہارے والد گرامی بلا رہے ہیں ۔ Celia پوچھتی ہے کیا تم پیغام رساں ہو۔ یہ کہتا ہے میں اپنے عزت و وقار کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آپ کو بلا لاؤں ۔ روز لینڈ پوچھتی ہے تم نے یہ حلف کہاں سے سیکھا۔ جواباً کہتا ہے کہ میں نے یہ ایک Knight سے سیکھا ہے۔ جو اپنی عزت کی قسم کھا کر کہہ رہا تھا۔ پان کیک اچھے ہوتے ہیں اور رائی اچھی نہیں ہوتی۔

اب میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہاں کیک کچھ بھی نہیں اور رائی بہت مزے دار ہے۔ اوراب میں یہ ثابت کر سکتا ہوں کہ نائٹ نے جھوٹی قسم کھائی ہے۔ Celia پوچھتی ہے تم اپنے علم کے وسیع ذخیرے سے کیسے ثابت کر سکتے ہو۔ ٹچ اسٹون کہتا ہے آپ دونوں کھڑی ہوکر اپنی ڈاڑھیوں کی قسم کھا کر کہیں کہ میں برا آدمی ہوں ۔ اگر ہماری ڈاڑھیاں ہوتی تو ہم قسم کھاتے ہیں کہ تم برے آدمی ہو۔ جو چیز موجود نہ ہو تو اس کی قسم کھانے سے کیا قسم جھوٹی نہیں ہو گی۔ پس یہی معاملہ نائٹ کا ہے۔ کیونکہ اس کی کوئی عزت و وقار نہ تھا۔ لہٰذا اس نے جھوٹی قسم کھائی۔غرضیکہ اس کی اس منطق اور رایوں کی بدولت نواب Duke کواقرار کرنا پڑا۔

He was his fully like a stalkung horse and under the presentation of that he shoots his wit(A ct V sceme iv)

کنگ لئیر اور As you like it کے مسخرے کی یہ نسبت Twelftl Night کا Feste زیادہ فلسفیانہ فکر نہیں رکھتا۔ لیکن دوسرے کرداروں کے ساتھ مسخرہ پن اور طنز ومزاح سے ان کی ناہمواریوں کو بڑی ذہانت سے اجاگر کرتا ہے۔ وہ خود کہتا ہے کہ Better a witty fool than a foolish wit.اولیویا اسے کہتی ہے کہ تم نرے خشک مسخرے اور بے ایمان ہو۔ وہ کہتا ہے کہ اگر میں خشک ہوں تو شراب دے دیں اور اگر میں بےایمان ہوں تو ایماندار بننے کا موقع دیں اگر نہ بن سکا یہ کام درزی سے کروا لیں ۔ وہ میری مرمت کر دے گا۔ پھر مزید کہتا ہے۔

any thing that is mended is but patched Virtue that trangress (offends) is but patched with sin and sin that amends is but ratched with virtue.

touchstone  کی طرح وہ بھی بہترین گویا ہے۔ ایک گانے میں اس نے ارضی محبت اور موجودہ لمحہ سے لطف اندوزی اٹھانے کا تصور واضح کیا ہے کہ جوانی نہیں رہے گی۔ دیر کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ وغیرہ وغیرہ، گانے سنئيے اور سر دُھنيے۔

What is a love it is not hereaftor Present mirth hoth present laughter what%27s to come is still unsure in delay there lies no plenty there come kiss me sweet and twenty Youth,s a stuff will not endure

بات سے بات نکلنے اور دوسروں کی بات سے اپنا مطلب کا نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت سے نہ صرف یہ مسخرہ بھرپور طور پر مسلح ہے بلکہ الفاظ کے استعمال کی اہمیت کو بھی جانتا ہے۔چنانچہ اولیو یا جب اس کا بجانے والا ڈرم دیکھ کر کہتی ہے کہ کیا تم اس کے ساتھ گزر بسر کر رہے ہو تو وہ کہتا ہے۔ نہیں میں چرچ کے ساتھ رہتا ہوں ۔ تو وہ پوچھتی ہے کیا تم پادری ہو۔ وہ جواب دیتا ہے نہیں ایسی کوئی بات نہیں اصل میں میرا گھر چرچ کے ساتھ جڑا ہے۔ لہٰذا میں چرچ میں رہتا ہوں ۔ سب اس کے بعد کہتا ہے ایک بزلہ سنج آدمی کيلئے جملہ چمڑے کے دستانے کی طرح ہے جسے وہ اپنے مطلب کے مطابق الٹا سکتا ہے۔ اورجب Voila اس سے کہتی ہے کہ کیا تم اولیویا کے مسخرے نہیں ہو تو جواباً کہتا ہے کہ لیڈی اولیویا کا کوئی مسخرہ نہیں ہے۔ جب تک وہ شادی نہ کرے مسخرے بھی شوہروں کی طرح ہوتے ہیں بلکہ ان دونوں میں شوہر بڑا مسخرہ ہے۔مختصر یہ کہ اس نے اپنی بذلہ سنجی اور لفظی مزاح سے پورے ڈرامے میں جان ڈال دی ہے۔

اب آتے ہیں شیکسپیئر کے ایک اور کردارPolonioy کی طرف شیکسپیئر نے اس کيلئے Fool کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ لیکن اپنی عادات و کردار ، مخصوص دانشورانہ سوچ اور ڈرامے کے دوسرے کرداروں کا خاص تجزیہ کرنے کی وجہ سے مسخروں کی صف میں جا کھڑا ہوتا ہے۔

ہر مزاحیہ کردار کی طرح وہ اپنے آپ کو صحیح سمجھتا ہے۔ دوسروں کے معاملات میں مداخلت اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے۔ گو کہ وہ سمجھتا ہے کہ۔ Brevity is the soul of wit لیکن ہر بات تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ اس کے علاوہ شکل و نادر الفاظ کو استعمال کر کے وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح اس کی باتوں میں وزن اور اثر پیدا ہو جائے گا۔وہ ہیلمٹ کے پاگل پن کا تجزیہ اپنی منطق کے مطابق کرتا ہے۔ البتہ ہلمٹ کی محبت،وعدوں اور قسموں کے متعلق بیٹی کو بڑے پتے کی بات بتاتا ہے۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ یہ قسمیں اور وعدے چڑیاں پکڑنے کے پھندے ہوتے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ جب انسان کا خون گرم ہوتا ہے تو وہ بلند بانگ وعدوں میں بڑی فیاضی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

Ay springes to catch woodcock 9 do know when the blood burns how prodigal the soal land the tongue vows.

شیکسپیئر نے مزاحیہ نگاری میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ مزاح کے تقریباً تمام حربے اس نے استعمال کئے ہیں ۔ مزاح نگار اکثر انہیں حربوں سے کام لیتے ہیں ۔ لیکن جہاں تک مزاحیہ کردار نگاری کا سوال ہے۔ عام روایتی مزاحیہ کرداروں کے ساتھ ساتھ اس نے جو فلسفی مسخرے متعارف کروائے ہیں اسی کا امتیاز ہے اور اس مضمون کا حصہ بھی صرف انہی فلسفی مسخروں کا تعارف پیش کرنا تھا.

اگست 21, 2010 at 05:44 تبصرہ کریں

خلیل جبران کی زندگی کے بارے میں

عربی زبان کے مشہور صاحب طرز ادیب ، جبران خلیل جبران 1883 ء میں پیدا ہوئے، مقام پیدائش بشریٰ ہے۔ جو لبنان کے مضافات میں الارزالخالد کے قریب واقع ہے۔ ابتدائی زندگی شمالی لبنان کی آزاد فضامیں گزری ۔ بارہ برس کی عمر میں ترک وطن کر کے ممالک متحدہ امریکہ چلے گئے۔ چند سال وہاں ٹھہر کر عربی زبان وادب کی تحصیل کیلئے بیروت آئے اورمدرسہ حکمت میں داخل ہو گئے.1903ء میں امریکہ واپس ہوئے اور پانچ برس تک وہاں رہے، اس عرصہ میں آپ کا زیادہ ترقیا م بو سٹن میں رہا ۔ جہاں آپ نے کچھ کتابیں عربی زبان میں تالیف کیں۔ 1908ء میں مصوری اور دیگر فنون لطیفہ کی تکمیل ، نیز یورپ کے بڑے بڑے شہروں کی سیاحت کے لئے پیرس کا سفر کیا ۔ تین سال پیرس میں رہ کر جامعہ فنون فرانسیسی سے امتیازی سندحاصل کی اورمجلس فنون فرانسیسی کا رُکن مقرر کیا گیا۔

1912ء میں پھر امریکہ گیا اور نیویارک میں مستقل اقامت اختیار کرلی۔  یہاں آپ نے عربی اور انگریزی میں بہت سی کتابیں اور مقالے لکھے جن کی وجہ سے آپ ساری دنیا کے اہل فن کی نگاہوں کا مرکز بن گئے۔ ان کتابوں کے علاوہ کچھ غیر فانی مقالات ہیں، جو مختلف اوقات میں شائع ہو کر یورپ کی اکثرزبانوں میں ترجمہ ہو چکے ہیں۔ خلیل جبران کی ایک کتاب ”الرسوم العشرون“ کے نام سے ہے جو اس کے سحر آفریں موقلم کی اشاراتی تصویروں کا نادرِ روز گار مجموعہ ہے۔ یہ کتاب 1919ء میں شائع ہوئی تھی۔ جبران کی انگریزی تالیفات دنیا کی اکثر زندہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔

مسرت کا مقام ہے کہ اردو بھی جبران خلیل جبران کے افکار سے ناآشنا نہیں ۔ سب سے پہلے قاضی عبدالغفار ، مصنف ”لیلیٰ کے خطوط“ نے آپ کے انگریزی شاہکار ”النبی“کا ترجمہ” اُس نے کہا“کے نام سے کیا۔ پھر اسی کتاب کا دوسرا ترجمہ ”مسائل ِحیات“ لاہور سے شائع ہوا۔ اس کے بعد ابوالعلاچشتی نے ” الارواح المتمردہ“ کو” سرکش روحیں “کے نام سے براہِ راست عربی سے اردو میں منتقل کیا۔ سب سے آخر میں بشیر ہندی نے ”پاگل “ملک کے سامنے پیش کی ،جو” المجنون“کے غالباً انگریزی ایڈیشن کا ترجمہ ہے۔

ترس کھا ایسی ملت پر

ترس کھا ایسی ملت پر جو توہمات سے پر اور عقیدے سے خالی ہو

ترس کھا ایسی ملت پر جو وہ زیبِ تن کرتی ہو جو اس نے نہیں بنا، وہ کھاتی ہو جو اس نے نہیں بویا، وہ شراب پیتی ہو جو کسی اور نے کشید کی

ترس کھا ایسی ملت پر جو غنڈے کو ہیرو سمجھےاور فاتح کو بھر بھر جھولی درازی عمر کی دعا دے

ترس کھا ایسی ملت پر جو نیند میں بہادر اور جاگتے میں بزدل ہو

ترس کھا ایسی ملت پر جس کی صدا سوائے جلوسِ جنازہ کبھی بلند نہ ہو، سوائے زیرِ شمشیر کبھی گردن نہ اٹھےترس کھا ایسی ملت ہر جس کا مدبر لومڑ اور فلسفی مداری ہو اور ہنر ان کا صرف لیپا پوتی اور نقالی ہو

ترس کھا ایسی ملت پر جو نقارہ بجا کر نئے حاکم کا استقبال کرے اور آوازے کس کے رخصت کرے اور پھر نقارہ بجائے اگلے حاکم کے لیے

ترس کھا ایسی ملت پر جس کے دانشمند گزرتے وقت کے ساتھ بہرے ہوتے چلے جائیں، جس کے قوی اب تک گہوارے میں ہوں

ترس کھا ایسی ملت پر جو ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور ہر ٹکڑا خود کو ملت جانے

( گلشنِ پیمبر۔ خلیل جبران۔انیس سو تینتیس )

اگست 18, 2010 at 05:36 1 comment

انگریزی پر عربی زبان کا اثر

انگریزی زبان میں عربی زبان کے بہت سے الفاظ پائے جاتے ہیں اور ان الفاظ سے نکلے ہوئے الفاظ علاحدہ ہیں۔ ان میں کچھ لفظ ایسے ہیں جو انگریزی زبان بولنے والے روزانہ استعمال کرتے ہیں۔مثلاً زیرو، الکحل، صوفہ وغیرہ۔ عربی زبان کے جو الفاظ انگریزی زبان میں مستعمل ہیں ان میں سے زیادہ تر براہِ راست انگریزی زبان میں داخل نہیں ہوئے ہیں بلکہ دیگر زبانوں جیسے لاطینی، فرانسیسی اور ہسپانوی کے ذریعے داخل ہوئے ہیں۔ جو علمائے کرام بارھویں صدی عیسوی میں علم کیمیا، علم طب، علم نجوم اور علم الحساب کے متلاشی تھے انھوں نے عربی کتب کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا۔ قدیم اسپین میں عربوں کی بنائی ہوئی قرطبہ کی یونیورسٹی جس کی بنیاد نویں صدی میں پڑ چکی تھی، تمام یورپی ممالک کے طلبہ کی دلچسپی کا مرکز بنی۔ یہی صورت حال عرب اسپین کی دوسری یونیورسٹیوں میں پائی جاتی تھی۔
عرب فاتحین چھٹی صدی عیسوی سے لے کر پندرھویں صدی تک تقریباً آدھی دنیا پر حکومت کرنے لگے تھے اور ہر میدان میں چاہے وہ علمی ہو یا صنعتی، تجارتی ہو یا زراعتی، معاشی ہو یا سماجی ترقی کے ہر زینے پر پہنچ چکے تھے ۔ یہی سبب ہے کہ دیگر اقوام کی تہذیب و تمدن اور زبان و فلسفہ پر عربی زبان اور عربی تہذیب یعنی مسلم تہذیب کے اثرات نظر آتے ہیں۔ عربی زبان کے بعض الفاظ علم نباتات، علم نجوم، علم کیمیا، علم طبیعیات، علم الحساب، علم طب و جراحی، علم جغرافیہ، سیاحت، موسیقی، علم پارچہ بافی اوررنگ سازی کی اصطلاحات گھلے ملے ہیں۔ انگریزی میں ان کی شکلیں اصل سے بہت مختلف ہوگئی ہیں۔
ان الفاظ کی اصل جاننے کے لیے ان کی مختلف اشکال اور تلفظ پر نظر کرنا ضروری ہے ۔ عموماً عربی زبان کے وہ الفاظ جو سولھویں صدی سے پیشتر انگریزی میں داخل ہوئے ہیں وقت کے ساتھ ساتھ انگریزی تلفظ کی بنا پر خالص انگریزی کے الفاظ معلوم ہوتے ہیں جیسے جبرالٹر (Gibralter) یعنی جبل الطارق، اوسینا (Avicinna) یعنی ابوعلی سینا وغیرہ۔ موجود علم کیمیا میں کئی لفظ عربی سے ماخود ہیں جیسے لفظ الکمی (Alchemy) یعنی کیمیا گری۔ یونانی زبان میں کیمیا (Chyma) کے معنی ہیں پگھلی ہوئی دھات، عربی میں یہ Alchemy بنا اور انگریزی میں عربی زبان سے داخل ہوا۔ اسی طرح لفظ الگزیر (Elixir) ال اکسیر کی بگڑی ہوئی شکل ہے ۔ اس کا اصل یونانی لفظ زیران (Xerion) ہے جس کی کچھ خصوصیات تھیں۔ ان خصوصیات کی بنا پر یہ عربی میں ”ال اکسیر“ ہو گیا اور اس کے بعد لاطینی زبان سے ہوتا ہوا چاسر کے انگریزی کلام میں داخل ہوا۔
الکحل (Alcohal) عربی لفظ ہے لیکن یہ مرکب شے عربوں کی پیدا کردہ نہیں ہے ۔ اس کا پہلے پہل تذکرہ نویں یا دسویں صدی کی اطالوی زبان میں ملتا ہے ۔ مسلمان الکحل کو ایک سفوف کی حیثیت سے جانتے تھے جو ابرں کو رنگنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ الکلی (Alkali) عربی لفظ القلی، پوٹاشیم کی کیمیائی علامت "K” کا ماخذ ہے ۔ ”انٹی منی“ کا اصل عربی لفظ ”التمد“ ہے جو ایک دھات ہے ۔ علم کیمیا کو باقاعدہ سائنس کی شکل دینے والے مسلمان ہیں کیونکہ اس میدان میں جہاں یونانی صرف صنعتی تجربات اور دھندلے نظریات رکھتے تھے وہاں عرب کے باشندے باقاعدہ مشاہدات اور مکمل تجربات کیا کرتے تھے ۔ انھوں نے المبک (Alembic) یعنی قرنبیق ایجاد کیا اور اس کا نام رکھا ”المبک۔“ یہ ایک ایسا برتن ہے جس کی مدد سے تجربہ گاہ میں بھپکا دیا جاتا ہے ۔ آج بھی دنیا کی ایک مشہور دوا ساز کمپنی ”المبک“ کے نام سے موسوم ہے ۔
علم الحساب کے میدان میں عربی زبان کا اثر صاف نظر آتا ہے ۔ زیرو (Zero) جس کی طاقت علم حساب میں سب سے زیادہ سمجھی جاتی ہے ، عربی کے زیر اثر وجود میں آیا۔ 976 میں محمد بن احمد اپنی کتاب ”سائنس کی کنجیاں“ میں لکھتے ہیں کہ اگر گنتی میں کوئی عدد عشری جگہ پر نہ ہو تو ایک چھوٹا سا دائرہ استعمال کرنا چاہیے تاکہ اعداد کی قطار قائم رہے ۔ مسلمانوں نے اس دائرے کو ”صفر“ یعنی خالی کہا۔ لاطینی علما نے صفر کو زیفرم (Zepherum) میں تبدیل کر دیا اور بعد میں اطالویوں نے اس کی تخفیف کرکے اسے زیرو بنا دیا، یہی زیرو آج انگریزی میں مستعمل ہے ۔ الگورزم (Algorism) یعنی عربی ”اعشاریہ“ عہد مامون کے مشہور ریاضی داں محمد بن موسیٰ النحوارزمی کی نسبت سے یہ لفظ بنا ہے ۔ 813 میں النحوارزمی نے اپنے نجومی خاکوں میں ہندوستانی اعداد استعمال کیے ۔ اس کے بعد الگورزم کے معنی ہو گئے ہر وہ حسابی طریقہ جو عشری علامت پر منحصر ہوتا ہے اور یہی نظریہ آج بھی مروج ہے ۔
علم فلکیات اور علم نجوم میں بھی عربی زبان کے الفاظ انگریزی زبان میں درآئے ہیں مثلاً ازیمت (Azimuth) زنت (Zenith) المیانک (Almanac) وغیرہ۔ ”ازیمت“ اس قوس آسمانی کو کہتے ہیں جو سمت الّر اس سے افق تک پھیلی ہوئی ہے ۔ یہ عربی لفظ سمت سے بنا ہے ۔ ”زنت“ کے معنی سمت الراس کے ہیں یعنی آسمان میں وہ نقطہ جو دیکھنے والے کے ٹھیک سرپر ہو۔ آج کل یہ لفظ عام زبان میں نقطہ عروج کی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا ہے – آلات موسیقی اور ان کے نام جیسے لوٹ (Lute) تمبورین (Tamburine) ریبک (Rebeck) گٹار (Guitar) وغیرہ عربی زبان کے رہین منت ہیں۔ ”لوٹ“ عربی لفظ ال۔اد (Al=Ud) سے بنا ہے ۔ عربی ریبک (Rebeck) یا ربائبل (Rebible) آلہ موسیقی ہسپانوی زبان میں ریبل (Rebel) اور پرتگالی میں ریبیکا (Rebeca) کہلانے لگا اور آج بھی یہ لفظ پر تگالی میں وائلن (Violin) کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔
فن تعمیر میں بھی عربی زبان کے بعض الفاظ مثلاً ”مینار“ جس کے معنی روشنی کے گھر کے ہیں۔ مینارٹ (Minaret) لفظ مدھانہ (Madhana) سے بنا ہے یعنی وہ جگہ جہاں سے موذن کھڑے ہوکر اذان دیتا ہے ۔ اڈمرل (Admiral) اور جبرالٹر بھی (Gibralter) عربی الفاظ سے بنے ہیں۔ ”اڈمرل“ یعنی بحری بیڑے کا افسر اعلیٰ عربی زبان کے دو الفاظ امیر (سردار) اور البحر (سمندر) سے مل کر بنا ہے ۔ اڈمرل اسی ”امیر البحر“ کی بگڑی ہوئی شکل ہے ۔ کپڑوں کی کئی قسمیں ان عرب ممالک کے نام سے موسوم ہیں جہاں وہ تیار کیے جاتے تھے ۔ چانسر (Chancer) کے زمانے میں فسٹین (Fustian) کے نام سے جو کپڑا مشہور تھا وہ فستات (Fustat)کا بنا ہوا تھا جو مصر کے مسلمان حکمرانوں کا اولین پایہ تخت تھا۔ دمسک (Damask) نامی کپڑا پہلے پہل دمشق میں جو کہ دنیائے تجارت کا بڑا مرکز تھا بنایا گیا۔ مسلن (Muslin) (ململ) اسے اطالوی تاجر موصل سے درآمد کیا کرتے تھے ۔ بغداد اطالوی زبان میں بل ڈاکو (Baldaco) کہلاتا ہے ۔اس طرح وہ ریشمی کپڑا جو بغداد میں بنایا جاتا تھا اور جو آج کل گرجا گھروں میں زینت کے لیے لٹکایا جاتا ہے بل ڈاچنو (Baldachino) کے نام سے مشہور ہوا۔
ایران کا تفٹھا (Taftah) ٹفیٹا (Taffeta) کے نام سے مشہور ہے ۔ بغداد کا اٹابیا (Atabiya) یا ”اتاب“ محلہ جہاں ایک صحابی کے خاندان والے رہتے تھے بارھویں صدی عیسوی میں ایک خاص قسم کے کپڑے کے لیے مشہور تھا جو اسپین میں پہنچ کر ”اٹابی سلک“ کے نام سے مشہور ہوا۔ فرانس اور اٹلی میں یہ ٹابس (Tabis) کے نام سے رائج ہوا اور آج بھی اسی نام سے پورے یوروپ میں معروف ہے ۔ للاک (Lilac)ایک قسم کا رنگ ہے جو ایران میں بھی اسی نام سے مشہور تھا۔ یہی رنگ آج کل سلک کے کپڑوں کی رنگائی میں استعمال کیا جاتا ہے ۔اِملی کو انگریزی میں ٹامرنڈ (Tamrind)کہتے ہیں۔ ہندوستان میں عربوں نے جب پہلے پہل اِملی کے درختوں کی کثرت دیکھی تو انھوں نے اس کو ”ثمرالہند“ یعنی ہندوستان کا پھل کہا۔ لفظ ثمرکا حرف ”ث“ انگریزی میں ”ت“ یا ”ٹ“ بن گیا اور ”الہند“ کا مخفف ”انڈ“ ہو گیا۔ اس طرح ثمرالہند بگڑتے بگڑتے انگریزی زبان میں ”ٹامرنڈ“ بن گیا۔ اورینج (Orange) بھی عربی سے ماخوذ ہے ۔ اور ”نارنج“ سے بنا ہے ۔ اصل لفظ ”نارنج“ تھا جو ”نارینج“ میں بدلا اور بعد میں ”اورینج“ میں تبدیل ہو گیا اور یہی انگریزی میں مستعمل ہے ۔
سیرپ (Syrup) عربی لفظ ”شراب“ سے بنا ہے ۔ اسی طرح لیمن (Lemon) سوگر (Sugar) بازار، کارواں، میاٹرس (Matress)، صوفہ، چیک (Cheque)، ٹیرف (Tariff)، میگزین (Magazine)، رسک (Risk)، المامیٹر (Almameter) اور کئی دوسرے الفاظ عربی زبان کے زیر اثر وجود میں آئے ہیں اور انگریزی، ہسپانوی، اطالوی اور دوسری یورپی زبانوں میں مستعمل ہیں۔ بہت سے مسلمان عرب علما کے نام بھی انگریزی زبان میں اس طرح گڈمڈ ہو گئے ہیں کہ وہ خالص انگریزی نام معلوم ہوتے ہیں جیسے ابن رشد (مشہور فلسفی) انگریزی میں اوِروس (Averoes) کے نام سے مشہور ہیں۔ ابن سینا مشہور فلسفی و سائنس داں اوِسنّا (Avicinna) اور عظیم طبیب ابن زہر (Avenzoa) کے نام سے مشہور و معروف ہیں۔

اگست 6, 2010 at 05:32 تبصرہ کریں


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]