Author Archive

سنہری مچھلی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی چھوٹے سے گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا. اس کا نام دینو تھا. دینو ابھی بہت چھوٹا تھا کہ اس کا باپ فوت ہو گیا. وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا. دینو ایک بہت ہی ایماندار اور شریف لڑکا تھا. وہ صبح صبح گھر سے نکلتا اور جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنا اور اپنی ماں کا پیٹ پالتا تھا. ایک دن صبح صبح روکھی  سوکھی روٹی کھا کر ماں کو سلام کر کے جنگل کی طرف روانہ ہو گیا. اس نے سوچا گھر کا راشن ختم ہو چکا ہے، آج میں بہت زیادہ لکڑیاں کاٹوں گا. دینو نے ایک بہت ہی موٹا اور تناور درخت ڈھونڈا اور لکڑیاں کاٹنے لگا. اس درخت کے پاس ہی بہت بڑی جھیل تھی. لکڑیاں کاٹتے کاٹتے دینو کا کلہاڑا ہاتھ سے چھوٹ کر پاس سے گزرتی ہوئی جھیل میں جا گرا. دینو بہت پریشان ہوا اور سوچنے لگا کہ یہ کلہاڑا اس کی روزی کمانے کا واحد ذریعہ تھا، جو اب اس کے پاس نہیں رہا تھا. اب وہ گھر کا سامان کیسے خریدے گا اور ماں کو کیا جواب دے گا. یہ سوچ کر دینو جھیل کے پاس بیٹھ کر رونے لگا. دینو زور زور سے رو رہا تھا. اسی جھیل کے اندر ایک بہت ہی پیاری سنہری مچھلی اپنی دادی کے ساتھ رہا کرتی تھی. جب سنہری مچھلی نے جھیل کے اوپر رونے کی آواز سنی تو وہ جھیل کے اوپر آ گئی. سنہری مچھلی نے ایک چھوٹے لڑکے کو روتے دیکھا تو پوچھا تم کیوں رو رہے ہو؟ دینو نے سنہری مچھلی کو بتایا کہ اس کا کلہاڑا جھیل میں گر گیا ہے جس سے وہ لکڑیاں کاٹ کر گزارہ کیا کرتا تھا. یہ سن کر سنہری مچھلی نہ کہا تم مت روؤ، میں تمھارا کلہاڑا تلاش کرتی ہوں. یہ کہہ کر سنہری مچھلی اپنی دادی اماں کے پاس آئی اور ساری بات بتائی. سنہرے مچھلی کی دادی اماں نے کہا  کہ مجھے وہ لکڑہارا بہت غریب لگتا ہے ، تم اسے اپنا سونے کا کلہاڑا تحفے میں دے دو. سنہری مچھلی نے سونے کا کلہاڑا لیا  اور لکڑہارے کے پاس آ کر کہا. یہ لو تمہارا کلہاڑا. دینو نے جب اپنے لوہے کے کلہاڑے کی بجائے سونے کا کلہاڑا دیکھا تو اس نے کہا یہ میرا کلہاڑا نہیں ہے. میرا کلہاڑا تو لوہے کا تھا.
سنہری مچھلی اپنی دادی اماں کے پاس واپس آئی اور اسے ساری بات سنائی. سنہری مچھلی کی دادی اماں نے کہا وہ لکڑہارا تو بہت ایماندار ہے. تم اسے اس کا لوہے کا کلہاڑا تلاش کر دو اور اپنا سونے کا کلہاڑا بھی اسے تحفے میں دے دو.
سنہری مچھلی لوہے کا کلہاڑا تلاش کرنے لگی، جو اسے جلد ہی مل گیا. وہ دونوں کلہاڑے لے کر دینو کے پاس آئی اور کہا یہ رہا تمہارا لوہے کا کلہاڑا اور یہ سونے کا کلہاڑا تمھاری ایمانداری کا انعام ہے. دینو دونوں کلہاڑے لے کر بہت خوش ہوا اور سنہری مچھلی کا شکریہ ادا کیا. گھر واپس آ کر دینو نے سارا واقعہ اپنی ماں کو سنایا . اس کی ماں بہت خوش ہوئی. دینو نے اس سونے کے کلہاڑے سے ایک لکڑی کاٹی. جیسے ہی دینو نے سونے کا کلہاڑا لکڑی پر مارا وہ سونے کی بن گئی. دینو بہت حیران ہوا. دینو جہاں بھی وہ سونے کا کلہاڑا مارتا وہ چیز سونے کی بن جاتی. اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے سارا گھر سونے میں تبدیل ہو گیا. دینو اور اس کی ماں بہت خوش ہوئے اور یہ سب دینو کی ایمانداری کا انعام تھا.
دینو کے ہمسائیوں میں ایک بہت ہی مغرور اور لالچی عورت اور اس کا بیٹا رہتے تھے. جب انہیں اس بات کا علم ہوا کہ دینو کو جھیل میں سنہری مچھلی نے ایک سونے کا کلہاڑا دیا ہے جس سے اس کا گھر سونے میں بدل گیا ہے. تو وہ عورت اپنے بیٹے کے ساتھ لوہے کا کلہاڑا لے کر جھیل پر گئی اور اپنے بیٹے کو سمجھانے لگی کہ تم جان بوجھ کر اپنا لوہے کا کلہاڑا جھیل میں پھینکنا، پھر جیسے ہی سنہری مچھلی اوپر آئے اسے کہنا کہ میرا کلہاڑا جھیل میں گر گیا ہے. میں بہت غریب لڑکا ہوں اور اگر وہ لوہے کا کلہاڑا لے کر آئے تو اسے کہنا یہ تو میرا کلہاڑا نہیں ہے، میرا کلہاڑا تو سونے کا تھا. یہ ساری باتیں سنہری مچھلی نے سن لیں  اور واپس آ کر اپنی دادی اماں کو بتائیں. اس کی دادی ماں نے کہا مجھے یہ عورت اور لڑکا لالچی معلوم ہوتے ہیں. تم انہیں اپنا جادو کا کلہاڑا دے دو تا کہ انہیں لالچ کی سزا ملے. سنہری مچھلی اپنی دادی کے کہنے کے مطابق جادو والا سونے کا کلہاڑا لے آئی اور اس لڑکے کو کہا کہ یہ تمھارا کلہاڑا ہے؟ اس لڑکے نے کہا ہاں یہ میرا کلہاڑا ہے، یہ میرا کلہاڑا ہے جو جھیل میں گر گیا تھا. مجھے میرا کلہاڑا واپس دو، جسے پا کر وہ لڑکا اور اس کی ماں بہت خوش ہو گئے. گھر کی ہر ایک چیز ٹوٹ چکی تھی. یہ دیکھ کر لڑکا اور اس کی ماں بیٹھ کر رونے لگے مگر اب رونے کا کیا فائدہ. یہ تو ان کے لالچ کا نتیجہ تھا. سچ ہے، لالچ بہت بری بلا ہے.

اپریل 26, 2011 at 06:18 تبصرہ کریں

مزاحیہ اردو نظمیں

کوچئہ یار میں جو میں نے جبیں سائی کی
اس کے ابا نے میری خوب پزیرائی کی
میں نے تو سمجھا تھا کہ وہ شخص مسیحا ہو گا
اس نے میری تو مگر تارا مسیحائی کی
وہ بھری بزم میں کہتی ہے مجھے انکل جی
ڈپلومیسی ہے یہ کیسی میری ہمسائی کی
رات ہجرے میں علاقے کی پولیس گھس آئی
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
میں جسے ہیر سمجھتا تھا وہ رانجھا نکلی
بات نیت کی نہیں بات ہے بینائی کی
اے میری بیگم نہ تو میری خودی کمزور کر
یہ شریفوں کا محلّہ ہے نہ اتنا شور کر
شب کے پر تسکین لمحوں میں نہ مجھ کو بور کر
اس سعادت مند شوہر کو نہ یوں اگنور کر
***
دیدہ دل تیری چاہت کے لئے بیتاب ہیں
مجھ سے شوہر آج کل بازار میں نایاب ہیں
***
میرے آنے پر پابندی کبھی جانے پہ ہے
ہے کبھی پینے پہ قدغن اور کبھی کھانے پہ ہے
شام تک یہ بوجھ کتنا تیرے دیوانے پہ ہے
ایک بچہ بغل میں ہے دوسرا شانے پہ ہے
***
بیٹھا ہے مجھ پہ ظالم دونوں گھٹنے جوڑ کر
یہ تیرا بچہ رہے میری گردن توڑ کر
جب سے بیگم نے مجھے مرغا بنا رکھا ہے
میں نے نظروں کی طرح سر بھی جھکا رکھا ہے
برتنو!آج میرے سر پہ برستے کیوں ہو
میں نے دھو دھا کے تمہیں کتنا سجا رکھا ہے
پہلے بیلن نے بنایا میرے سر پر گومڑ
اور چمٹے نے میرا گال سجا رکھا ہے
سارے کپڑے تو جلا ڈالے میری بیگم نے
زیب تن کرنے کو بنیان پھٹا رکھا ہے
اے کنوارو! یونہی آباد رہو شاد رہو
ہم کو بیگم نے تو سولی پر چڑھا رکھا ہے
وہی دنیا میں مقدر کا سکندر ٹہرا!
جس نے خود کو یہاں شادی سے بچا رکھا ہے
حق نسواں کی جو لیڈر ہیں بتائیں تو زرا
کس نے سرتاج کو جوتی پر اٹھا رکھا ہے
روز لیتی ہے تلاشی وہ پولیس کی مانند
پوچھتی ہے کہاں پیسوں کو چھپا رکھا ہے
پی جا اس مر کی تلخی کو بھی ہنس کے اے شوہر
مار کھانے میں بھی قدرت نے مزہ رکھا ہے

اپریل 23, 2011 at 05:39 تبصرہ کریں

محسن نقوی

سیّد محسن نقوی پاکستان کے عظیم اردو شاعر تھے.محسن نقوی کا اصل نام غلام عباس تھا. آپ اہل تشیع کے مشہور خطیب تھے. ان کی موت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا قتل ہوا تھا. ان کی وفات 15 جنوری 1996 کو ہوئی. سیّد محسن نقسی ڈیرہ غازی خان کے نزدیک ایک گاؤں میں پیدا ہوئے.
انہوں نے گریجوئیشن تک کی تعلین ملتان کے ایک  سرکاری کالج بوسن سے  حاصل کی. آپ نے ایم-اے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیا. اسی دوران آپ کا پہلا مجموعہ کلام چھپا. اس کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے، وہیں آپ ایک دہشت گرد کے ہاتھوں شہید ہوئے. اب تک ان کے کئی مجموعہ کلام چھپ چکے ہیں جن میں سے کچھ کے نام یہاں شامل کئے گئے ہیں:
  • بندِ قبا
  • بزرگِ صحرا
  • ریزہ حرف
  • عذاب دید
  • طلوعِ اشک
  • رختِ شب
  • خیمہ جاں
  • موجِ ادراک
  • فرات فکر
محسن نقوی اہلِ بیت کے شاعر کے طور پر بھی جانے جاتے تھے. انہوں نے کربلا پر جو شاعری لکھی وہ دنیا بھر میں پڑھی اور پسند کی جاتی ہے. انہوں نے اپنی شاعری نہ صرف الف-لیلٰی کے موضوع تک محدود رکھی بلکہ انہوں نے دینا کے حکمرانوں کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا جنہیں اپنے لوگوں کی کوئی فکر نہ تھی.
گو کہ محسن نقوی نے شاعری کے میدان میں بہت شہرت حاصل کی لیکن یہاں انکی شاعری میں سے ایک ہی غزل پیش کی جائے گی:
میں دل پر جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو؟
میں تیرے شہر کے سارے دئیے بجھا دوں گا
ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں
ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا
وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے
پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا
اسی خیال میں گزری ہے شامِ درد اکثر
کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا
تو آسمان کی صورت ہے، گر پڑے گا کبھی
زمین ہوں میں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا
بڑھا رہی ہیں میرے دکھ، تیری نشانیاں
میں تیرے خط، تری تصویر تک جلا دوں گا
بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسن
اس آئینے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا

اپریل 21, 2011 at 07:18 تبصرہ کریں

وضو کی دُعائیں

وضو کرنے سے قبل مسواک کرنا سُنّت ہے اور پھر کہیں اے اللہ میں تیرے لئے وضو کرتی یا کرتا ہوں، تو مجھے شیطانی وسوسوں سے بچا.
  • سب سے پہلے جب وضو کے لئے ہاتھ دھوئیں تو اللہ تعالٰی سے یہ دعا کریں کہ میرے ہاتھوں کو گردشوں، نحوست اور گناہوں سے دور فرما.
  • جب کلی کریں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی میرے منہ سے غیبت اور برے فعل نہ نکلیں اور تیرا ذکر اور شکر نکلے.
  • جب ناک میں پانی ڈالیں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی اس ناک سے جنّت کی خوشبو سونگھنا نصیب فرما نا اور جہنّم کی بدبو سے بچا.
  • جب چہرہ دھوئیں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی اس چہرہ کو مرتے دم تک روشن رکھنا اور آخرت میں بھی نور سے منور کرنا.
  • جب دایاں ہاتھ دھوئیں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس میں نامہ اعمال دینا اور بائیں ہاتھ میں عمل نامہ نہ دینا.
  • جب مسح کرنے کے لئے ہاتھ اونچے کریں تو آنکھوں پر ہاتھ لگا کر یہ دعا کریں اللہ تعالٰی ان آنکھوں سے دنیا میں تیرے گھر اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے روضہ مبارک کا دیدار نصیب فرما. میرے بچوں کی خوشیاں اور خیر دکھا.
  • جب سر پر مسح کریں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن محشر کی گرمی سے بچا کر عرش کا سایہ عطا فرما.
  • جب کان پر ہاتھ پھیریں تو یہ دعا کریں کہ اس کان سے خوشخبری سنیں، غم اور صدمے کی خبر نہ سنیں، جنّت کی خوشخبری سنیں.
  • جب گردن پر مسح کریں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن میری گردن کو گناہوں کے بوجھ سے آزاد کر دے.
  • جب دایاں پاؤں دھوئیں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی مجھے صراط مستقیم پر چلانا اور جب بایاں پاؤں دھوئیں تو یہ دعا کریں کہ مجھے پُل صراط جلدی پار کرا دینا.
(حضور صلے اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ وضو اگر ان دُعاؤں کے ساتھ کیا جائے تو تمہاری نماز بھی درست اور توجہ کے ساتھ ہو گی اور دین و دنیا میں بھلائی اور کامیابی ہو گی اور دل کو سکون ملے گا.)

اپریل 19, 2011 at 06:10 تبصرہ کریں

اداس شاعری

اپریل 16, 2011 at 05:21 تبصرہ کریں

اپنوں نے غم دئیے…….

ایسے گھر کی کہانی جسے گھر کے چراغ سے آگ لگ گئی تھی


سنجیدہ بچپن سے ہی بڑی شوخ مزاج لڑکی تھی. پتہ نہیں اس کے والدین نے اس کا نام سنجیدہ کیوں رکھا تھا. اپنی عادات اور رویّوں کی وجہ سے وہ اپنے نام کے بالکل بر عکس تھی. ہر وقت شرارتیں کرنا اور دوسروں کو تنگ کرنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا. سنجیدہ اپنے اس طرز عمل کی وجہ سے بہت مشہور تھی. بہت سے لوگ سنجیدہ کی اس چلبلی سی عادت سے بہت جلتے بھی تھے. کچھ بڑی بوڑھیاں اسے سمجھاتیں کہ زیادہ ہنسنے کھیلنے سے دشمنوں کی نظر لگ جاتی ہے اس لئے کم ہنسا کھیلا کرو مگر سنجیدہ ان سب کی باتوں کو بھی ہنسی میں ہی اڑا دیتی تھی اور اپنی ہی طبیعت میں خوش رہتی تھی.
سنجیدہ صرف خوش مزاج ہی نہیں بلکہ طبعاً بہت حساس اور سمجھدار بھی تھی. وہ اپنی ماں اور بہن کا بہت خیال رکھتی تھی اور ان کے متعلق سوچتی رہتی.
یہ بتانا تو میرے ذہن سے نکل ہی گیا کہ سنجیدہ کی ایک بہن بھی تھی جس کا نام ماجدہ تھا. ابھی دونوں چھوٹی ہی تھیں کہ ان کے والد ایک ٹریفک حادثہ میں وفات پا گئے. اس موقع پر ان کی والدہ کو بچیوں کی پرورش کے لئے ایک سکول میں ٹیچنگ کرنا پڑی. بچیوں کی دیکھ بھال گھر پر ان کی دادی کی ذمہ داری تھی. دادا اور دادی دونوں ان بچیوں پر جان چھڑکتے تھے. پھر پہلے دادا اور چند سال بعد دادی کی وفات ہو گئی. اس وقت تک دونوں بچیاں جوان ہو چکی تھیں.
سنجیدہ کی نسبت اس کی بہن ماجدہ بہت چالاک مگر بظاہر خاموش لڑکی تھی. ماں سکول ٹیچر تھی اس لئے دونوں بہنیں پڑھائی میں خاصی لائق تھیں. البتہ اگر مقابلہ کیا جاتا تو ماجدہ پڑھائی اور دیگر امور خانہ میں سنجیدہ سے تھوڑی کمزور تھی. اسی وجہ سے ماجدہ کے دل میں سنجیدہ کے لئے کدورت رہا کرتی تھی. وہ کسی نہ کسی بہانے سنجیدہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی. وہ کوشش کرتی کہ سہیلیوں اور ماں کے پاس سنجیدہ کی برائی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دے. اس کے بر عکس سنجیدہ ہمیشہ اس سے پیار کرتی اور اسکی بہتری کا سوچا کرتی تھی.
دونوں بہنوں میں ایک سال کا فرق تھا لیکن وہ ہم جماعت تھیں. میں بھی ان کے بچپن کی سہیلی تھی. ہم تینوں نے ایف-اے تک اکٹھے تعلیم حاصل کی اور بڑی گہری سہیلیاں تھیں.
دوران تعلیم ہم تینوں میں بڑی اچھی دوستی تو تھی مگر اس کے ساتھ ساتھ مقابلہ بھی بہت تھا. ویسے تو ہم تینوں خوش شکل تھیں لیکن سنجیدہ ہر تقریب میں ہم پر بازی لے جاتی تھی. کالج کا کوئی فنکشن ہو یا محلے میں کوئی شادی بیاہ، سنجیدہ ہی ہر کسی کی نگاہ کا مرکز ہوتی تھی. اس کا شوخ انداز اس کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتاجبکہ ماجدہ اس پر جلتی رہتی تھی.
ایف-اے کرنے کے بعد میری شادی میرے کزن سے ہو گئی اور میں اپنے شوہر کے ساتھ دوسرے شہر چلی آئی. اب گھر کی مصروفیات کی وجہ سے ان سہیلیوں سے رابطہ کم ہو گیا.
اس وقت ٹیلیفون عام نہ تھے. میں امی کو بھی خط لکھا کرتی تھی یا کبھی کبھار فون کر لیتی. ایک خط میں امی نے مجھے سنجیدہ کی شادی کے بارے میں بتایا تو مجھے بہت خوشی ہوئی. میں نے بھی سنجیدہ کو اس کی شادی پر مبارکباد کا خط لکھا جس کا اس نے بہت پیار سے جواب دیا. اس کے خط سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اپنے گھر میں بہت خوش ہے. مجھے بھی اس پر بہت خوشی ہوئی کہ میری سہیلی اچھی زندگی گزار رہی ہے. وہ اپنے خصائل اور عادات اور رنگ روپ کی بنا پر اس قابل تھی کہ اپنے گھر میں راج کرتی.
میں شادی کے بعد دوسرے شہر میں ہونے اور گھر کی مصروفیات کی وجہ سے امی کے گھر سال دو سال بعد ہی آتی تھی. اس بار میں دو سال بعد اپنے میکے آئی تو گھر آتے ہی میں نے سب سے پہلے ان دو سہیلیوں کے بارے میں اپنی امی سے پوچھا. امی ان کا ذکر سن کر رونے لگیں. مجھے بہت فکر لاحق ہوئی” کیا ہوا امی خیریت تو ہے نا؟” مجھے تشویش ہوئی. امی کی خاموشی نے تو مجھے اور فکر مند کر دیا تھا.
"امی!مجھے جلدی سے بتائیں کیا ہوا ہے. سب خیر خیریت تو ہے نا؟”
"بیٹا! کیا بتاؤں اس گھر کو تو کسی کی نظر کھا گئی ہے. سنجیدہ تو وہ سنجیدہ ہی نہیں رہی. اس پر تو قیامت گزر گئی ہے. بے چاری کے ساتھ بہت برا ہوا ہے.” پھر امی تفصیل بتانے لگیں "سنجیدہ کی شادی ہوئی تو وہ اپنے گھر میں بہت خوش تھی. اس کے سسرال والے بھی بہت اچھے لوگ تھے. مگر پھر اس کا شوہر……..”
امی نے بات روکتے ہوئے کہا”اللہ تعالٰی کسی بھی عورت کو یہ وقت نہ دکھائے. دعا کرو کہ کبھی کسی کے ہستے بستے گھر کو نظر نہ لگے” یہ بات کہہ کر امی اداس ہو گئیں. آخر وہ بھی بیٹیوں والی تھیں اور کسی معصوم بیٹی کا دکھ کیسے دیکھ سکتی تھیں.
"پھر کیا ہوا؟” اتنا سا سن کر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا. میں سنجیدہ کے بارے میں سب کچھ جلدی جلدی جاننا چاہتی تھی.
"سنجیدہ اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوش تھی. اس کا دیور باہر رہتا ہے. اس نے ان دونوں کو اپنے پاس پندرہ دن کے لئے سیر کو بلایا. یہ سنجیدہ کی زندگی کے یادگار دن تھے. واپس آ کر سنجیدہ بڑی خوشی سے اپنی تصاویر ہر کسی کو دکھا رہی تھی. اس کے پیر خوشی سے زمین پر نہ لگتے تھے. وہ اپنے شوہر شاہد کی تعریفیں کرتی نہ تھکتی تھی. اسے بہت پیار کرنے والا شوہر ملا تھا.
ہم اسے دیکھتے تو اس کی قسمت پر رشک کرتے تھے اور اسے دعا دیتے تھے کہ خدا اسے نظر بد سے بچائے کیونکہ حاسدین کی نظر سب کھا جاتی ہے.
سبھی لوگ خوش تھے سوائے سنجیدہ کی چھوٹی بہن کے. اسے بہن کی خوشی پر رشک کی بجائے غصہ آتا. بظاہر اس نے محسوس نہ ہونے دیا مگر وہ اندر ہی اندر سنجیدہ کی اس خوشحال زندگی پر جلتی رہتی تھی. وہ اکثر کہا کرتی تھی کہ دیکھ لینا ایک دن سنجیدہ سے بہتر گھر میں جاؤں گی. یہ کیا ہے.
سنجیدہ کی ماں بھی بہت خوش تھی. جب بھی سنجیدہ اپنے شوہر کے ہمراہ اپنے میکے آتی تو ماجدہ کو بہت برا لگتا. وہ کوشش کرتی کہ سنجیدہ میں کوئی نہ کوئی نقص ڈالے. کبھی کہتی یہ تم نے کیا بڑی بوڑھیوں کی طرح اوپر چادر ڈال رکھی ہے، کبھی اس کی لپسٹک میں کوئی خامی نکال لیتی. کبھی کہتی تمہیں تو ڈھنگ کے کپڑے پہننے کا سلیقہ ہی نہیں رہا. بعض اوقات وہ اسے موٹا ہونے کا طعنہ دیتی اور کہا کرتی دیکھو اتنی موٹی اور بھدی نہ ہو جانا کہ اپنے میاں کے ساتھ چلتی اچھی نہ لگو. اس طرح وہ ہر دفعہ نیا کیڑا   تلاش کر کے سنجیدہ کا دل دکھانے کا بہانہ ہاتھ سے نہ جانے دیتی تھی. تاہم سنجیدہ نے ان باتوں کو کبھی سنجیدگی سے نہ لیا. وہ سمجھتی تھی کہ اس کی بہن اس کی بھلائی کے لئے سب کچھ کہہ رہی ہے. وہ ماجدہ کے لئے بھی اپنے سسرال میں کوئی اچھا سا رشتہ تلاش کر رہی تھی تا کہ اس کی بھی شادی کر دی جائے.
دن اسی طرح گزرتے گئے. شاہد بھی سنجیدہ کے ساتھ بہت خوش تھا. وہ بھی اس کی تعریف کرتے نہ تھکتا اور خود کو خوش قسمت کہا کرتا تھا.
اسی دوران خدا اس جوڑے پر مہربان ہوا جس پر یہ دونوں بہت خوش تھے. دن رات وہ اپنے ہونے والے بچے کا نام سوچا کرتے اور باتیں کر کے بہت خوش ہوتے تھے.
ایک طرف یہ خوشیاں تھیں اور دوسری طرف قسمت ان کے لئے کچھ اور ہی فیصلہ کر رہی تھی. ہوا یہ کہ ایک دن شوہر سے ضد کر کے وہ موٹر سائیکل پر اس کے ساتھ کہیں جا رہی تھی، شاہد اسے کار پر جانے کا اصرار کر رہا تھا. لیکن وہ نہ مانی اور وہ دونوں موٹر سائیکل پر چل دئیے. واپس آتے ہوئے ایک اچانک آنے والے سپیڈ بریکر سے موٹر سائیکل اچھلی اور سنجیدہ موٹر سائیکل سے گر گئی. گرتے ہی وہ بے ہوش ہو گئی. اسے فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا. ڈاکٹروں نے اس کی حالت کے پیش نظر اس کا فوری طور پر آپریشن کیا. حادثے میں اس کی جان تو بچ گئی مگر اس کی گود کا خوبصورت پھول اب اس کے پاس نہ رہا تھا. وہ اپنے ہونے والے بچے سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے.
وہ تین دن تک زیر علاج رہی. لیڈی ڈاکٹر نے اس کے گھر والوں کو بتایا کہ حادثے کی وجہ سے وہ نہ صرف اپنے بچے سے محروم ہو گئی ہے بلکہ حادثے کی پیچیدگیوں کی وجہ سے اب وہ کبھی ممتا کے رشتے میں نہیں بندھ سکے گی. یہ سن کر سنجیدہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی. اس کی دنیا اندھیر ہو گئی.
یہ خبر شاہد پر بجلی بن کر گری. سارے خاندان میں سوگ کی فضا تھی مگر قسمت کے لکھے کے سامنے سبھی بے بس تھے.آخر تقدیر کا لکھا کون مٹا سکتا ہے.
اس سارے ہنگامے میں اگر کوئی مطمئن تھا تو وہ سنجیدہ کی بہن ماجدہ تھی. بظاہر تو وہ بڑی اداس دکھائی دیتی مگر اسے اندر سے بہت عجیب سی خوشی محسوس ہوتی تھی جس کا اظہار اس کے لہجے سے ہوتا تھا.
کچھ دن ہسپتال رہنے کے بعد سنجیدہ گھر آئی. وہ بہت بجھی بجھی سی رہنے لگی تھی. ہر وقت ہنسنے ہنسانے والی سنجیدہ واقعی سنجیدہ ہو گئی تھی. وہ شدید ڈپریشن کا شکار تھی. ہر وقت اپنے کمرے میں پڑی چھت کو گھورتی رہتی. کبھی کبھی رونے لگتی اور  کہتی کہ اب مجھے کوئی ماں نہیں کہہ سکے گا. میں کسی بچے کو اپنی بانہوں میں نہیں کھلا سکوں گی.
شاہد اس کی دلجوئی کی بھرپور کوشش کرتا اور کہتا کہ مجھے تمہاری زندگی عزیز ہے. پھر یہ کہ ڈاکٹر کوئی خدا تو نہیں کہ ان کا کہا حرف آخر ہو. خدا ہمیں ضرور اولاد سے نوازے گا. تم بس خوش رہا کرو. سب ٹھیک ہو جائے گا.
پہلے سنجیدہ کی ماں اس کے پاس آ گئی مگر وہ بھی سرکاری ملازم تھی، زیادہ چھٹیاں نہ کر سکتی تھی اس لئے اس نے ماجدہ کو سنجیدہ کے پاس بھیج دیا تا کہ اس سے بہن کا دل بہلا رہے.
شاید ماجدہ اسی وقت کے انتظار میں تھی. ،ماجدہ نے اس گھر میں آتے ہی سنجیدہ پر حسب عادت نکتہ چینی شروع کر دی مثلاً یہ کہ وہ شاہد کو توجّہ نہیں دیتی، اس نے اپنا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے، وہ اب زیادہ دلکش نہیں لگتی وغیرہ وغیرہ. یہی نہیں اس دوران ماجدہ نے شاہد کو بھی توجّہ دینا شروع کر دی. وہ شاہد جو سنجیدہ پر جان چھڑکتا تھا اب اس سے دور ہونے لگا. وہ ہر وقت ماجدہ سے ہنس ہنس کر بات کرتا مگر سنجیدہ اس معاملے پر کوئی توجّہ نہ دیتی.
رفتہ رفتہ یہ ہوا کہ شاہد اور ماجدہ بہت قریب آ گئے. شاہد نے اب سنجیدہ کو یہ باور کرانا شروع کر دیا کہ اس کی وجہ سے ان کی ہنستی بستی زندگی جہنم بن گئی. سنجیدہ کی ماں کو پتہ چلا تو وہ دوڑی آئی مگر شاہد نے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ اب زیادہ دیر سنجیدہ کے ساتھ نہیں چل سکتا.
حالات کو دیکھ کر سنجیدہ اپنی ماں اور بہن کے ساتھ چند دن کے لئے میکے آ گئ. اس دوران شاہد نے اسے طلاق بھجوا دی. اس نے یہ بھی کہا کہ اسے اولاد کی تمنا ہے. وہ زیادہ دیر تک اس بانجھ دھرتی کو اپنے گھر کی زینت نہیں بنا سکتا.
شاہد نے شروع میں ماجدہ کے رشتے کے لئے اس کی والدہ پر اصرار کیا. جب اس کی والدہ رشتہ پر آمادہ نہ ہوئی کیونکہ اس کو بڑی بیٹی کا دکھ تھا تو شاہد اور ماجدہ نے کورٹ میرج کر لی.
اس تازہ واقعہ نے تو سنجیدہ کو مزید کمزور اور بیمار کر دیا. شدید ڈپریشن کی وجہ سے وہ بات بے بات رو دیتی تھی. اس پر قیامت ڈھانے والے کوئی غیر نہیں بلکہ اس کا اپنا شوہر اور بہن تھے”.
میں نے امی سے جب سنجیدہ کی کہانی سنی تو خود پر قابو نہ رکھ سکی. فوراً اس سے ملنے اس کے گھر گئی. سنجیدہ کو دیکھ کر لگا جیسے کوئی ڈھانچہ چل پھر رہا ہو. مجھے دیکھ کر اس کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو رواں ہو گئے. وہ چیخ چیخ کر کہنے لگی کہ "میں نے تو کبھی کسی کو دکھ نہیں دیا، میں تو ہمیشہ لوگوں میں خوشیاں بانٹتی رہی ہوں، پھر میرے اپنوں نے ہی میری زندگی کیوں اجاڑ دی. میرے دل کا خون کر دیا.” وہ دھاڑیں مار مار کر رو دی اور میرے بھی آنسو نکل پڑے. میں کافی دیر اس کے پاس بیٹھی اسے دلاسا دیتی رہی مگر میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا. پھر میں جتنے دن امی کے ہاں رہی روز سنجیدہ سے ملنے جاتی. اس کے بعد کبھی اس نے مجھ سے کھل کر دل کی بات نہ کی. اسے چپ لگ گئی تھی.
میں ایک ماہ امی کے ہاں رہنے کے بعد واپس آ گئی. گھر آ کر بھی سنجیدہ کے بارے میں سوچتی رہی. وقت نے اسے کس قدر بدل دیا تھا.
ایک دن میں نے امی کو فون کیا تو ان کی آواز رندھی ہوئی تھی. میں نے پوچھا کیا ہوا تو امی نے روتے ہوئے بتایا "سنجیدہ فوت ہو گئی……”
یہ خبر مجھ پر بجلی بن کر گری. امی بتا رہی تھیں کہ مرنے کے بعد اس پر کس قدر روپ چڑھا تھا، یوں جیسے وہ آرام کی نیند سو رہی ہو. واقعی اس نے دنیا میں آ کر بہت دکھ سہے تھے. وہ بھی پھر اپنوں کے دئیے دکھ. بے حس زمانے کے زخم جن کی کسک اسے قبر کی چار دیواری میں لے گئی. خدا اسے قبر میں ابدی سکون عطا فرمائے.(آمین)

 

اپریل 14, 2011 at 07:07 تبصرہ کریں

سچّی کہانی: جو کیا سو پایا

"کوئی مجھے دو گھونٹ پانی پلا دے، ارے کوئی ہے جو میری کروٹ بدل دے، جسم دکھ رہا ہے.اللہ کا واسطہ کوئی مجھے روٹی کا ایک ٹکڑا دے دے.”
ایسی آوازیں امّاں جنت کی گلی سے گزرو تو آخری سرے تک پیچھا کرتی تھیں. کچھ تو ازراہ ہمدردی اندر جھانک لیتے اور کچھ سنی ان سنی کر کے گزر جاتے کیونکہ یہ تو روز کا واویلا تھا. لوگ اس کے نزدیک جاتے ہوئے بھی ڈرتے. اور تو اور اس کا اپنا نازوں پالا اکلوتا بیٹا ماں کو تڑپتے دیکھ کر یوں گزرجاتا گویا کچھ ہوا ہی نہیں. بہو بھی سارا دن اونچی آواز میں ٹی وی یا ڈیک چلائے رکھتی تا کہ امّاں کے شور سے اسکا مزہ خراب نہ ہو.
وہ نت نئے پکوان پکاتے اور کھاتے مگر کسی کو اماں کا دھیان نہ آتا جو ایک ٹکڑے کے لئے سارا دن تڑپتی رہتی. وہ بھوک اور کمزوری کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتی. بہو اس حالت کو عموماً امّاں کا ڈرامہ قرار دیتی.
بہو آواز اور مزاج کی اتنی تیز تھی کہ کوئی اس کے ہوتے ہوئے امّاں کی چارپائی کے قریب بھی نہ پھٹک سکتا تھا کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے.
آخر اس کے ساتھ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟؟؟؟؟؟؟
کیا اللہ کو اس کے حال پر رحم نہیں آتا؟؟؟؟؟؟
میں یہ اکثر سوچا کرتی تھی اور سب سے پوچھا کرتی تھی….
آخر ایک دن میری دادی جان نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا. میری دادی امّاں جنت کی ہم عمر تھیں. دادی امّاں نے بتایا کہ امّاں جنت کی ساس بی بی زہرہ ایک نیک فطرت خاتون تھیں. وہ سب کے دکھ درد کی سانجھی تھیں. وہ اپنے شوہر خان محمد کی دوسری بیوی تھی. اس کے ہاں دو بیٹیاں ہوئیں جو دنیا میں چند دن رہ کر رخصت ہو گئیں. اب اس کے کوئی اولاد نہ تھی.خان محمد کہ پہلی بیوی سے ایک بیٹا جان محمد تھا. یہ امّاں جنت اسی جان محمد کی بیوی تھی. باپ کے مرنے کے بعد جان محمد کا اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ رویّہ ٹھیک نہ رہا. زہرہ تو اس سے بڑا پیار کرتی. وہ اپنی اولاد کی کمی اس کو دیکھ کر پورا کرتی لیکن وہ اس کی بے عزتی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا.
زہرہ کے میاں نے مرتے وقت اپنے طرف سے ایک نیکی یہ کی تھی کہ زمین اور گھر اس کے نام کر دیا تھا. اس کے اولاد نہ تھی تو خطرہ تھا کہ کوئی اس کا پرسان حال نہ ہو گا. تاہم یہ بات جان محمد کو پسند نہ آئی کہ باپ نے وارث ہوتے ہوئے عورت کے نام سب کچھ کر دیا . باپ کے گزر جانے کے بعد تو اس کا رویّہ اور بھی برا ہو گیا.
زہرہ سیدھی سادھی عورت تھی. لوگ اسے کہتے تھے کہ دولت تمہارے پاس ہے تم دب کر کیوں رہتی ہو لیکن اس کا ایک ہی جواب ہوتا کہ کوئی برائی کر لے پر مجھ سے نہ ہو. وہ میرا بیٹا ہے. ایک دن نادم ہو کر ضرور لوٹے گا، لیکن جان محمد سدھرنے والا نہیں تھا. اس کی بیوی جنت بھی بڑی تیز زبان عورت تھی. وہ جس قدر خوبصورت تھی اسی قدر فتنہ پسند بھی تھی. وہ اپنے شوہر سے بھی سنگدلی میں دو ہاتھ آگے تھی. کون سا ظلم تھا جو اس نہ زہرہ پر نہ کیا لیکن اس نیک بخت نے کبھی اُف تک نہ کی اور برداشت کرتی رہی. پے در پے پریشانیوں اور دکھوں نے اسے فالج کا مریض بنا دیا.
اس زمانے میں فالج بڑا تکلیف دِہ مرض تھا. اب زہرہ ہر کام کے لئے جنت کی محتاج ہو گئی لیک جنت کے دل میں خوفِ خدا اور رحم نہ آیا. چنانچہ زہرہ کو ایک کونے میں ڈال دیا گیا. وہ بھوکی پیاسی وہاں پڑی رہتی.کسی کو کچھ بتانے کے قابل بھی نہ تھی. ویسے بھی وہ صبر کا پیکر تھی اور چپ ہی رہتی تھی.
جنت اپنے گھر کا دروازہ بند رکھتی کہ کیہں آس پڑوس سے کوئی آ نہ جائے. کب تک یہ بات راز رہتی. ایک دن ساتھ والی ہمسائی کو خبر ہوئی تو دو چار عورتیں مل کر امّاں کی عیادت کے لئے آ گئیں. دیکھا تو زہرہ کا حال بہت خراب تھا. سردیوں کا موسم تھا. گاؤں کی سردی اور اس بیچاری بڑھیا پر صرف ایک کھیس پڑا تھا. ٹھنڈ سے اس کا جسم نیلا پڑا تھا. ساری چارپائی گندگی سے بھری ہوئی تھی. زہرہ پر اتنا ظلم ہوا کہ اس کی جگہ کوئی جانور ہوتا تو کب کا مر چکا ہوتا مگر وہ بہت سخت جان تھی. کبھی کبار تکلیف کے مارے اس کے آنسو چھلک جاتے مگر وہ زبان سے خاموش ہی رہا کرتی تھی.
محلے کی عورتوں کو دیکھ کر وہ آبدیدہ ہو گئی. سب نے جنت کو برا بھلا کہا  اور زہرہ کو نہلا دھلا کر صاف چارپائی پر لٹایا. وہ سب بلند آواز کلمہ پڑھنے لگیں. شاید اسی انتظار میں زہرہ کی سانسیں چل رہی تھیں. جب محلے کی عورتوں نے کلمے کا ورد شروع کیا تو زہرہ بھی منہ میں ہلکا ہلکا کلمہ پڑھنے لگی.
اس کے ساتھ ہی وہ پر سکون ہوتی چلی گئی اور پھر پتہ نہیں کب اس کی سانسوں کا زہرہ کے ساتھ رشتہ ٹوٹ گیا. لوگوں نے مل کر اس کی تدفین کی.
اس کے بعد تو جنت کا سکون غارت ہوتا چلا گیا.بیٹے کی شادی کی تو بہو لڑاکا ملی. وہ بات بات پر اسے زہرہ کے ساتھ بد سلوکی کے طعنے دیتی. جان محمد بھی بوڑھا ہو چکا تھا. جوان بیٹے سے روز بے عزت ہوتا مگر یہ سوچ کر خاموش رہتا کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی ہوتی ہے. اس نے بھی کسی سے ایسا ہی سلوک کیا تھا. اور آخر ایک دن دنیا سے رُخصت ہو گیا.
جان محمد کیا مرا جنت کے لئے مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے. بہو اور بیٹا تو ایک طرف اس کے پوتے پوتیاں بھی دادی سے انتہائی بد سلوکی کیا کرتے تھے. کبھی کبھار تو بیٹا اس پر ہاتھ بھی اٹھا دیتا. سب کہتے جو بویا وہی کاٹ رہی ہے یہ بڑھیا.
اب جنت دماغی مریض ہو چکی تھی. سب کہتے امّاں زہرہ کے ساتھ سب کو ہمدردی تھی اس لئے اس کے پاس چلے جاتے لیکن جنت کے پاس کسی کا جانے کو جی نہ چاہتا تھا. لوگ کہتے دیکھنا اس کا انجام کس قدر برا ہوتا ہے.
لوگوں کی کہی ہوئی بات درست ثابت ہوئی. کینسر کی وجہ سے اس کی رنگت ہلدی ہو گئی تھی، جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا، کروٹ نہ بدلنے کی وجہ سے جسم میں کیڑے پڑ گئے تھے، اس کا جسم گلنا شروع ہو گیا تھا. اب جنت کو رہ رہ کر زہرہ یاد آ رہی تھی. اپنے ظلم کی معافی مانگنے کا وقت بھی اس کے پاس نہیں رہا تھا.
ایک دن جنت کی بہو اور بیٹا اس کو کمرے میں ڈال کر باہر سے کنڈی لگا کر خود شادی میں بچوں سمیت دوسرے شہر چلے گئے. امّاں کا آخری وقت تھا. وہ اسی رات مر گئی.
شام کے وقت کسی نے دروازہ کھولا اور عورتوں کو بلا کر تدفین کا انتظام کروایا. اس کے بیٹے کا انتظار کرنے کا وقت نہیں تھا کیونکہ لاش سڑ رہی تھی. امّاں کو گاؤں کے لوگوں نے ہی دفنایا. ویسے بھی اس کے بیٹے کو ماں کی کونسی پروا تھی جو اس کا انتظار کرتے. اس لئے سب نے اس کو قبر میں پہنچانا ہی بہتر سمجھا.
یہ تھا ظلم کا انجام. لیکن میں یہ سوچ رہی ہوں کہ کیا اس کی بہو کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو گا؟یقیناً وہ بھی تو اپنے ظلم کا بدلہ پائے گی. کب تک ایسا چلے گا؟ ان بھٹکے ہوئے لوگوں کو کب عقل آئے گی؟

اپریل 12, 2011 at 05:45 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad Poetry
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے”
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad Poetry