Archive for جون, 2011

ایک ماں کی سچی کہانی

یہ کہانی ایک ایسی عورت کی ہے جس نے اپنے بچوں کی خاطر ہر طرح کے مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور زندگی کے کسی موڑ پر بھی صبر اور حوصلہ کا دامن نہیں چھوڑا. یہ کہانی ہے ایک ایسی ماں کی محنت اور محبت کی جس نے یہ ثابت کر دیا کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں عورت اس کا مقابلہ کسی مرد کے بغیر بھی کس سکتی ہے. آئیے یہ غم بھری کہانی اس عورت کی زبانی ہی سنیئے:
میرا نام روشن آراء ہے. پتہ نہیں ماں باپ نے یہ نام کیوں رکھا کیونکہ نام سے تو میں روشن آراء ہوں لیکن حقیقت میں روشنی میرے پاس کبھی نہیں آئی. میری قسمت میں جتنے غم آئے کاش وہ کبھی کسی کو نہ ملیں، زندگی کی کوئی رات اور کوئی دن خوشی سے اور ہنستے ہوئے نہیں گزرامگر اتنا ضرور ہے کہ آنے والی کل کے انتظار میں رات کو سوتے وقت تھوڑا مسکرا لیتی تھی کہ کل کا دن شاید کوئی خوشی کی نوید لائے. میری شادی 20 سال کی عمر میں ہی ہو گئی تھی. شادی کے چند سال تو بہت اچھے گزرے، شوہر بھی اچھے اور ہمیشہ مسکرانے والے تھے. اپنی زندگی میں انہوں نے مجھے کوئی غم نہیں دیا. کماتے بہت زیادہ نہیں تھے پر پھر بھی دن اچھے گزر رہے تھے مگر تیسرے بچے کی پیدائش کے ایک ہفتے بعد ہی مجھے یہ خبر ملی کہ میرے شوہے کی ایک حادثے میں موت ہو گئی ہے اور میں بیوہ ہو گئی ہوں. میری تو دنیا ہی اجڑ گئی تھی. کئی دنوں تک تو مجھے کوئی ہوش ہی نہیں تھا مگر ایک مہینے کے بعد میں کچھ سنبھلی تو میری ساس اور میرے دیور نے کمرے میں آ کر کہا دیکھو اب تمہارا شوہر تو چلا گیا ہے اور یہاں کمانے والا بھی اب تمھارا ایک دیور ہی ہے. سسر بھی چل پھر نہیں سکتے اور اب کوئی اور آسرا بھی نہیں جو تمھیں ہم اپنے ساتھ رکھ سکیں لہٰزا بہتر یہ ہو گا کہ تم اپنے گھر چلی جاؤ اور چاہو تو اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جاؤ اور اگر دوسری شادی کرنا چاہو اور رکاوٹ ہو تو بچوں کو ہمارے پاس بھیج دینا. مجھے یہ سن کر بہت حیرت ہوئی کہ اب یہ لوگ بھی میرا بوجھ نہیں اُٹھا سکتے تو میں نے ان سے کہا کہ ماں اس گھر میں تو میرے شوہر کی یادیں ہیں اور ویسے بھی میں آپ پر بوجھ نہیں بنوں گی کیوں کہ میں سلائی کڑھائی تو جانتی ہوں، محنت کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال لوں گی. آپ صرف مجھے اس گھر میں رہنے دیں. رہا شادی کا سوال تو وہ میں اب نہیں کروں گی. یہ بچے ہی میرا سہارا ہیں اور کوئی دوسرا باپ انہیں پیار نہیں دے سکتا مگر انہوں نے میری بات نہ مانی اور مجھے کہا کہ تم تین دن کے اندر فیصلہ کر لو تا کہ ہم یہاں سے چلے جائیں کیونکہ اب اس مکان کو بیچ کر تمھارا دیور کوئی چھوٹا موٹا کام شروع کرے گا. میں نے جب یہ سنا تو میرا دل غموں سے بھر آیا تب میں نے کہا ٹھیک ہے جب آپ مجھے رکھنا ہی نہیں چاہتے تو میں تین دن رُک کر کیا کروں گی لہٰزا میں نے اگلے دن ہی گھر چھوڑ دیا اور اپنی ماں کے گھر آ گئی. میں ماں کے گھر میں کچھ ہی دنوں رہی تھی کہ بھابیوں نے میرے بھائیوں کے کان بھرنے شروع کر دئیے کہ روشن آراء کے بچے ہمارے بچوں کو مارتے ہیں انہیں کھیلنے نہیں دیتے حالانکہ میں اپنے بچوں کو اپنے کمرے میں ہی بند رکھتی تھی. نہ  تو ان کو میرا کوئی بھائی کھیلنے کے لئے باہر لے جاتا بس یہ بےچارے آپس میں ہی کھیل کر کمرے میں ہی سو جاتے تھے. آہستہ آہستہ میں نے اپنا کچھ زیور بیچ کر ایک سلائی مشین لی اور محلے سے سلائی کا کام منگوانا شروع کر دیا. اللہ کی رحمت سے میرا کام لوگوں کو پسند آ گیا. اب میں نے اپنے بچوں کو محلے کے ایک سکول میں داخل کرا دیا اور خود انہیں چھوڑنے بھی جاتی اور لینے بھی.
پتہ نہیں یہ عورت ہی عورت کی دشمن کیوں ہوتی ہے. میری بھابیوں کو میرا اس گھر میں رہنا پسند ہی نہیں تھا اس لئے وہ میری بوڑھی ماں جو ہر وقت میرے غم میں نڈھال رہتی تھی اسے بھڑکاتی رہتی کہ کوئی غریب سا رنڈوا مرد دیکھ کر اس کی شادی کرواؤ اور اسے رخصت کرو ورنہ اس کی عمر کیسے کٹے گی اور اس کے بھائی اسے کب تک سنبھالیں گے اور ویسے بھی اب ہمارے بچے بڑے ہو رہے ہیں گھر میں جگہ تنگ پڑ جائے گی اور اگر کوئی اس کے بچوں کو لینے کو تیار نہ ہوں تو ایک ایک کر کے کسی بے اولاد کو دے دیں. پل جائیں گے لیکن ان ظالم بھائیوں کو یہ خیال نا آیا کہ ان بچوں کی خاطر میں نے اپنا سسرال چھوڑا تھا اور شادی نا کرنے کا ارادہ کر لیا تو کیا میں ان بچوں کے بغیر رہ سکتی ہوں. کیا کوئی بھی ماں اپنے بچوں کے بغیر جی سکتی ہے؟ شاید ایسا تو کوئی جانور بھی نہ کرسکے. اس رات میں سو نہ سکی اور اگلے دن اپنی کچھ چیزیں اور ایک چوڑی جو میرے شوہر کی آخری نشانی تھی بیچ کر میں نے گلی میں ہی ایک دو کمروں کا مکان کرائے پر لیا اور وہاں اپنے بچوں کے ساتھ رہنے لگی.
اب خرچے بھی بڑھ گئے تھے اس لئے مجھے سلائی کا کام بھی بڑھانا تھا. اس سب میں میری ایک دوست نے میری بہت مدد کی اور اپنی ماں سے کہہ کر اس نے مجھے ایک بوتیک کی مالکن سے ملوایا. اسے میرا کام پسند آ گیا اور وہ مجھے ہر مہینے اتنا کام دینے لگی کہ میں اپنا گزارا کرنے لگی اس کے باوجود میرے بچوں کو بہت محرومیوں کا سامنا کرنا پڑا. اس دوران میرے بھائیوں نے میری خبر تو کیا لینی تھی کہ وہ میری ماں سے بھی تنگ آ گئے تھے اس لئے میں اپنی بیمار ماں کو بھی اس گھر میں لے آئی تھی. بوتیک کی مالکن جس سے میں کام لیتی تھی اس نے مجھے کہا کہ اگر میں تمھیں ایک چھوٹی سے فیکٹری لگا دوں تو کیا تم یہ کام سنبھال سکو گی؟ میں نے کہا کیوں نہیں لہٰزا اس نے میرے اس گھر میں ہی مجھے کچھ مشینیں لگوا دیں اور کہا کہ اب تم مجھے میرا آرڈر پورا کروا کہ دیا کرنا. میں یہ کام خوش اسلوبی سے سر انجام دیتی آئی.
بفضلِ خدا آج میرا ایک بیٹا میڈیکل سائینس کا فائنل امتحان دے رہا ہے اور دوسرا بیٹا بینک میں ملازمت کرتا ہے اور بیٹی کی شادی ہونے والی ہے. میرے بیٹے کہتے ہیں کہ ماں اب یہ کام چھوڑ دو لیکن میں یہ کام نہیں چھوڑوں گی جب تک مجھ میں ہمت ہے. اپنے لئے کچھ رقم اورکفن خرید رکھا ہے نہ جانے میری ماں کی طرح کب میں میرے بچوں پر بوجھ بن جاؤں. آج میری ماں زندہ نہیں ہے اور اب مجھے بھی مرنا ہے. لیکن خدا کا شکر ہے کہ میرے بچے نمازی ہیں اور میرا بہت احترام کرتے ہیں.
بس میرا دوسری عورتوں کے لئے یہی پیغام ہے کہ وہ کبھی بھی کسی موڑ پر ہمت نا ہاریں اور کوشش کرتی رہیں کیونکہ ہمت کرنے والوں کا ساتھ خدا ضرور دیتا ہے.
Advertisements

جون 29, 2011 at 10:33 تبصرہ کریں

ماہِ رجب کی فضیلت و اہمیت احادیث کی روشنی میں

فرامین نبوی صلّی اللہ علیہ وسلّم میں "رجب” کے روزوں اور اس کی عبادت کے بے شمار فضائل بیان کئے گئے ہیں..
امام غزالی "مکاشفتہ القلوب” میں روایت کرتے ہیں: "جاب ماہِ رجب کی پہلی شب جمعہ کا ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہر فرشتہ رجب کے روزے رکھنے والے کے لئے دعائے مغفرت کرتا ہے. کہا جاتا ہے کہ رجب نیکیوں کے بیج بونے کا مہینہ ہے، شعبان آب پاشی کا مہینہ ہے جب کہ رمضان فصل کاٹنے کا مہینہ ہے. جو شخص رجب میں عبادت کا بیج نہیں بوتا شعبان میں آنسوؤں سے اس بیج کو سیراب نہیں کرتا وہ رمضان میں فصلِ رحمت کیوں کر کاٹ سکے گا؟ رجب جسم کو پاک کرتا ہے، شعبان دل کو اور رمضان روح کو پاک کرتا ہے. رجب ماہِ حرام کہلاتا ہے، حرمت والا مہینہ.
امام غزالی فرماتے ہیں: اس مہینے کو رجب کہا جاتا ہے اور رجب جنت میں ایک نہر کا نام ہے، جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا ہے. آپ مزید فرماتے ہیں کہ نہرِ رجب سے وہی پانی پئیے گا جو رجب کے روزے رکھے گا. بزرگانِ دین فرماتے ہیں: ” رجب میں تین حروف ہیں، ر.ج.ب.
"ر” سے مراد رحمت الٰہی
"ج” سے مراد بندے کے جرم
"ب” سے مراد بر یعنی احسان و بھلائی. 
یہ اللہ عزو جل کا صفاتی نام ہے یعنی بھلائی کرنے والا. گویا اللہ عزوجل فرماتا ہے. بندے کے جرم کو میری رحمت اور بھلائی کے درمیان کر دو.(مکاشفتہ القلوب)
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہ ایک بار سرکارِ دو عالم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم کا گزر ایک مقام سے ہوا، جہاں چند قبریں تھیں، آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: ان قبر والوں پر عزاب ہو رہا ہے. میں نے اللہ  عزوجل سے ان کے عزاب میں تخفیف کے لئے دُعا کی ہے. اے ثوبان، اگر یہ لوگ رجب کا ایک ہی روزہ رکھ لیتے اور ایک رات ہی شب بیداری کر لیتے ، ان پر کبھی عزاب نہ ہوتا. آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: قسم ہے، اس ذات عالی کی جس کے قبضئہ قدرت میں میری جان ہے، کوئی مسلمان ایسا نہیں کہ جو رجب کا ایک روزہ بھی رکھ لے اور اس کی ایک رات عبادت بھی کر لے، مگر اللہ عزوجل اس کے لئے ایک سال کی عبادت لکھے گا.
ایک حدیث میں آتا ہے جو رجب میں دس روزے رکھ لے، اللہ عزوجل  اسے موتیوں اور یاقوت سے مزین دو باز عطا فرمائے گا جس سے وہ پُل صراط سے چمکتی ہوئی بجلی کی طرح گزر جائے گا.
ایک حدیث میں ہے کہ جس نے رجب رجب کے سارے روزے رکھے، تو آسمان سے ندا آتی ہے کہ اے اللہ کے دوست خوش خبری سن اور موت کے وقت اسے شربت پلایا جاتا ہے، جس سے وہ سیراب مرتا ہے، یعنی اسے موت کے وقت پیاس نہیں لگتی  اور وہ قبر میں بھی سیراب داخل ہوتا ہے اور اس میں سے نکلے گا تب بھی سیراب اور جنت میں بھی سیراب جائے گا.
حضرت سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے مروی ہے کہ سرور کائنات سرکارِ دو عالم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: رجب اللہ کا مہینہ ہے، جس نے اس کی تعظیم کی، اللہ عزوجل دین و دنیا میں اس کی تعظیم فرمائے گا.
کنزالایمان میں ارشاد ہے کہ اہل عرب حرمت والے (چار) مہینوں کی تعظیم کیا کرتے تھے اور ان میں لڑنا حرام جانتے تھے. اسلام میں ان مہینوں کی حرمت اور عظمت اور زیادہ ہو گئی، اور ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو، اس کی تفسیر میں لکھا ہے گناہ اور نافرمانی کے ذریعے اپنی جان پر ظلم نہ کرو. تو گویا ان مہینوں میں زیادہ گناہوں سے بچنے کی ضرورت ہے، تا کہ ان مہینوں کی تعظیم کی جائے.
سیّدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہہ کی ایک روایت ہے کہ  سرکارِ دو عالم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: جس نے ماہِ حرام (رجب) میں تین روزے رکھے، اس کے لئے نو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا. رجب کے روزے کی فضیلت میں آتا ہے جو رجب کا پہلا روزہ رکھتا ہے، جنہم اس سے اتنی دور ہو جاتی ہے جتنا کہ زمین آسمان سے دور ہے. رجب میں جو ایک روزہ رکھے گا، اسے ایک مہینے کے روزوں کا ثواب ملے گا اور دو ہزار نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی جائیں گی اور دو ہزار برائیاں مٹائی جائیں گی.
تین روزے کی ایک فضیلت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ رجب میں جو تین روزے رکھے گا، تو اس کے اور دوزخ کے درمیان اللہ تعالٰی ایک خندق بنا دے گا، جس کی لمبائی ستر ہزار برس ہو گی. گویا وہ جہنم سے ستر ہزار برس کی راہ دور کر دیا جائے گا. حضرت سیّدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم  سرکارِ دو عالم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ پندرہ رجب کا روزہ رکھنے والے کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں وہ جس سے چاہے داخل ہو جائے. ایک روایت میں ہے کہ جس نے ستائیس رجب کا روزہ رکھا اس کے لئے یہ روزہ تمام عمر کے روزوں کا کفارہ ہو جائے گا. اگر وہ اسی سال مر جائے تو شہید ہو گا.
رجب بہت مقدس، معظم اور مبارک مہینہ ہے. اس کی تعظیم کرنا ہماری دنیا اور آخرت کے لئے بے حد مفید ہے، جتنا ہو سکے اس میں روزے بھی رکھنے چاہئییں، اور زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت میں مصروف رہنا چاہئیے. زندگی کو غنیمت جانئیے، الحمدللہ آج ہم زندہ ہیں، اس زندگی سے فائدہ اُٹھانا چاہئیے، نا معلوم پھر یہ موقع ملے، نہ ملے..
اللہ آپ کے، ہمارے، ہر مسلمان کے تمام دیدہ و دانستہ کئے گئے گناہوں کو اپنی رحمت سے معاف فرمائے اور ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے.
آج کا یہ موضوع مسلمان قوم کے لئے ایک بیش قیمتی تحفہ ہے. خود بھی اس تحفہ سے فیض یاب ہوں اور دوسروں کو بھی اس ماہ کی فضیلت کے بارے میں بتائیں. اگر آپ کی وجہ سے کسی کے اعمال سُدھر جائیں اور کوئی ایک گناہ سے اپنے قدم پیچھے ہٹا لے تو یہ آپ کے لئے اور ہمارے لئے صدقہ جاریہ ہے.

جون 24, 2011 at 07:14 تبصرہ کریں

خوابوں کی کہانی



جون 22, 2011 at 05:46 تبصرہ کریں

بے زبان کی فریاد

ہمارے پڑوسیوں نے ایک کُتّا پال رکھا تھا جس کا مسکن ایک رکشا تھا جو وہ رات کو چلاتے تھے. کتا سارا دن تو اپنے مسکن یعنی رکشے میں پڑا اونگھتا رہتا تھا لیکن رات کا اندھیرا ہوتے ہی ایسی آفت مچاتا کہ خدا کی پناہ.کوئی چور یا ایرا غیرا گلی میں سے گزر نہیں سکتا تھا. تاہم،وہ اپنی گلی میں رہنے والوں کو کچھ نہ کہتا تھا. کیونکہ بچہ ہو یا بوڑھا، وہ ہر ایک کو پہچانتا تھا.
اسی محلے میں نوید بھی رہتا تھا جو بڑا بے رحم اور سنگدل تھا. چوری چکاری کرنا اور جانوروں کو ستانا اس کا مشغلہ تھا. کسی بھی جانور خواہ وہ کتا ہو یا بلی، کو پتھر مارنا اپنا فرض سمجھتا تھا. یہ بات سہیل کو بہت ناپسند تھی.وہ نوید کو سمجھاتا کہ یار! ان جانوروں پر ظلم نہ کیا کرو. یہ بے زبان ہیں لیکن نا حق ستانے سے اللہ تعالٰی سے فریاد کرتے ہیں. پھر یہ بات اللہ تعالٰی کو بھی نا پسند ہے کہ ہم اس کی بے زبان مخلوق کو ستائیں لیکن نوید کب ایسی باتوں کا نوٹس لیتا تھا.
ایک دن نوید رات کو گلی میں سے گزر رہا تھا کہ کتے کو دیکھتے ہی حسبِ عادت ایک پتھر اُٹھا کر مار دیا. پھر کیا تھا؟ نوید کو کتے سے جان چھڑانی مشکل ہو گئی.نوید آگے آگے اور کتا مسلسل اس کے پیچھے اس کے گھر تک آیا.نوید کو کتے کی اس حرکت پر بہت غصہ تھا.وہ کئی دنوں تک سوچتا رہا.آخر اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی. اس نے تھوڑا سا گوشت لا کر گلی میں مین ہول کے پاس ڈال دیا پھر جیسے ہی کتا مین ہول کے پاس گوشت کھانے پہنچا، اس نے بڑی پھرتی سے اسے مین ہول میں دھکا دے دیا. شدید سردی کے دن تھے،وہ بے زبان پانے میں گرتے ہی زور زور سے چلانے لگا.اتنے میں ایک دوسرے شخص کا گرز ہوا.اس نے جب آواز سن کر مین ہول میں جھانکا تو عجیب منظر نظر آیا، فوراً اسے پانی سے نکالا اور اپنی گرم چادر میں لپیٹ کر اس کے مسکن یعنی رکشے میں سیٹ کے نیچے بٹھا دیا.
دوستو! جب نوید کتے کو دھکا دے کر تیزی سے بھاگا تو اس کا پیر ایک بڑے پتھر سے ٹکرایا اور وہ گر پڑا. بڑی مشکل سے پڑوسیوں نے اس کو گھر پہنچایا بھر جب اسے ہسپتال لے گئے اور ایکسرے ہوا تو رپورٹ کے مطابق ناقابلِ یقین حد تک اس کی ہڈی دو ٹکڑے ہو چکی تھی.ڈاکٹروں نے اس کی ٹانگ کا آپریشن کر دیا.
کچھ ماہ بعد جب وہ صحت یاب ہو کر بیساکھی کے سہارے اس گلی سے گزر رہا تھا تو اس کی نظر پھر اس کتے پر پڑی تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے. اُدھر جب کتے نے اسے دیکھا تو بھاگتا ہوا آیا اور اس کے قدموں میں لپٹ گیا. وہ پیار سے نوید کے پاؤں چاٹنے لگا، جیسے کہہ رہا ہو کہ "غلطی میری تھی.”
بچو! ہمیں کبھی کسی جانور کو بے حق نہیں ستانا چاہیے. وہ بے زبان ہو کر بھی زبان رکھتے ہیں اور اللہ تعالٰٰی سے فریاد کرتے ہیں. اللہ تعالٰی سب کی سنتا ہے، جیسے نوید کو اس کے کیے کی سزا مل گئی.

جون 20, 2011 at 10:28 1 comment

حسرت موہانی کی مشہور شاعری

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک وہ عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے
بار بار اُٹھنا تری جانب نگاہِ شوق کا
وہ ترا غرفے سے وہ نظریں لڑانا یاد ہے
تجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بے باک ہو جانا میرا
اور ترا دانتوں میں وہ انگلی دبانا یاد ہے
کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاً
اور دوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ہے
جان کر سوتا تجھے، وہ قصد پا بوسی مرا
اور ترا ٹھکرا کے سر وہ مسکرانا یاد ہے
تجھ کو جب تنہا کبھی پانا وہ ازراہِ لحاظ
حالِ دل باتوں ہی باتوں میں جتانا یاد ہے
جب سوا میرے تمہارا کوئی دیوانہ نہ تھا
سچ کہو تم کو بھی وہ کارخانہ یاد ہے
آ گیا گر وصل کی شب بھی کہیں  ذکرِ فراق
وہ ترا رو رو کی مجھ کو رُلانا یاد ہے
دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیے
وہ تیرا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے
آج تک نظروں میں وہ صحبتِ راز و نیاز
اپنا جانا یاد ہے، تیرا بلانا یاد ہے
میٹھی میٹھی چھیڑ کی باتیں نرالی پیار کی
ذکرِ دشمن کا وہ باتوں میں اُڑانا یاد ہے
دیکھنا جو مجھ کو برگشتہ تو سو سو باز ہے
جب منا لینا تو پھر خود سے روٹھ جانا یاد ہے
چوری چوری ہم سے تم آ کر ملے تھے جس جگہ
مدتیں گزریں پر اب تک وہ ٹھکانہ یاد ہے
غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلاف
وہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے
شوق میں مہندی کے وہ بے دست و پا ہونا ترا
اور مرا وہ چھیڑنا وہ گدگدانا یاد ہے
باوجود ادعائے اتقائے اے حسرت مجھے
آج تک عہد ہوس کو وہ فسانہ یاد ہے
تجھ سے پاسِ وفا نہ ہوا
ہم سے پھر بھی ترا گلہ نا ہوا
ایسے بگڑے کہ پھر جفا بھی نہ کی
دشمنی کا بھی حق ادا نہ ہوا
کچھ عجب چیز ہے وہ چشمِ سیاہ
تیر جس کا کبھی خطا نہ ہوا
تم جفا کار تھے، کرم نہ کیا
میں وفادار تھا خفا نہ ہوا
حیف ہے اس کی باشاہی پر
تیرے کوچے کا جو گدا نہ ہوا
چھڑ گئی جب جمالِ یار کی بات
ختم تا دیر سلسلہ نا ہوا
قانعِ رنجشِ عشق تھا حسرت
عیشِ دنیا سے آشنا نہ ہوا

جون 13, 2011 at 05:42 تبصرہ کریں

اُردو شاعر: حسرت موہانی

آپ کا نام سیّد فضل الحسن اور تخلص حسرت موہانی تھا. آپ کے نام کے ساتھ موہانی اس لئے لگتا ہے کیونکہ آپ قصبہ موہان ضلع انائو میں پیدا ہوئے. آپ کی پیدائش 1875ء میں ہوئی. حسرت موہانی کے والد کا نام سیّد اظہر حسین تھا. آپ نے ابندائی تعلیم اپنے گھر پر ہی حاصل کی تھی. بی-اے کا امتحان 1903ء میں علی گڑھ سے پاس کیا.  آپ شاعر اس لئے بنے کہ شروع ہی سے آپ کو شاعری سے خاس لگاؤ تھا. آپ اپنا کلام تسنیم لکھنوی کو دکھانے لگے. 1903ء میں آپ نے علی گڑھ ایک رسالہ "اردوئے معلی” کے عنوان سے جاری کیا. اسی دوران آپ نے شعرائے متقدمین کے دیوانوں کا انتخاب کرنا شروع کر دیا. سودیشی تحریکوں میں بھی حصّہ لیتے رہے چنانچہ علامہ شبلی نے ایک مرتبہ کہا تھا”تم آدمی ہو یا جن، پہلے شاعر تھے، پھر سیاستدان بنے اور اب بنئے بن گئے ہو.”
حستر معہانی پہلے کانگریسی تھے. تب گورنمنٹ کانگرس کے خلاف تھی چنانچہ 1907ء میں آپ نے ایک مضمون شائع کیا جس کی وجہ سے آپ کو جیل بھیج دیا گیا. اس کے بعد 1947ء تک آپ کا جیل میں آنا جانا لگا رہا کبھی قید اور کبھی رہا… اسی قیدی اور رہائی کو دور میں آپ کی مالی حالت تباہ ہو گئی تھی اور رسالہ بھی بند ہو چکا تھا. حسرت موہانی نے ان سب مشکلات کا بہت خندہ پیشانی سے سامنا کیا اور مشق سخن کو ترک نہ کیا
حسرت موہانی کی سادہ زندگی 1951ء میں ختم ہوئی اور آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے.

جون 10, 2011 at 08:10 تبصرہ کریں

ماہِ رجب کی فضیلت و اہمیت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا یہ اللہ کا مہینہ ہے
فتح مکہ سے قبل جب مومنین مدینہ منورہ سے مکہ معّظمہ کی جانب جانے لگے تو انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں کفار ہم سے عزت والے مہینے میں نہ لڑیں، اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی.
ترجمہ: بے شک مہینوں میں گنتی اللہ کے نزدیک بارہ ہے، اللہ کی کتاب میں جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ان میں سے چار قابلِ عزت ہیں.
چار عزت والے مہینے ذیعقد، ذی الحجہ، محّرم اور رجب ہیں. رجب "ترجیب” سے مشتق ہے. اہلِ عرب کے ہاں "ترجیب” تعظیم کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، یوں رجب کے معنی حد درجہ تعظیم بزرگی، عزت کے علاوہ بے ضرر اور بے زبان ہیں.
سات دنوں میں دو دن اور بارہ مہینوں میں سے چار ماہ نہایت محترم ہیں، جمعہ اور پیر کے دنوں کو دیگر دنوں پر فضیلت حاصل ہے اور رجب، ذیعقد، ذی الحجہ اور محرم کو حرام مہینے قرار دیا گیا ہے.
حضرت عکرمہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا، ” رجب اللہ کا مہینہ ہے، شعبان میرا اور رمضان میری اُمّت کا مہینہ ہے.”
ماہِ رجب کو ہمیشہ اور ہر مزہب میں عزت و حرمت حاصل رہی ہے. حدیث مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا، "سُنو رجب رجب عزت والے مہینوں میں سے ہے، اسی میں حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی ہی میں روزہ رکھا تھا اور اپنے ساتھیوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا تو اللہ نے ان کو نجات دی اور ڈوبنے سے بچا لیا اور زمین کو طوفان کے سبب کفروسرکشی سے پاک کر دیا.
اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ ماہ رجب کی عظمت و حرمت و فضیلت پچھلے مزاہب سے مسلّمہ چلی آ رہی ہے اور آج بھی اس میں کچھ فرق نہیں آیا. اس مہینے میں کسی قوم پر اللہ تبارک و تعالٰی نے گزشتہ امتوں کو باقی مہینوں میں تو عزاب میں مبتلا کیا لیکن اس ماہ میں کسی امت کو عزاب نہیں دیا. اسے شہر اللہ الاصم اس لئے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے مروی ہے کہ ماہِ رجب کا چاند طلوع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلّم جمعہ کے دن منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا، ” سنو یہ اللہ کا بہرہ مہینہ ہے، یہ تمھاری زکٰوۃ کا مہینہ ہے، لہٰزا جس پر قرض ہو وہ اپنا قرض ادا کرنے پر بقیہ مال کی زکٰوۃ ادا کرے”
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رضی اللہ تعالٰی عنہہ ثبت ہالنسہ میں نحایہ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں، اللہ تعالٰی نے رجب کو اپنا مہینہ قرار دیا ہے کیونکہ جیسے بہرہ آدمی کچھ نہیں سنتا یہ مہینہ بھی ہتھیاروں کی آوازیں نہیں سنتا. اسی لئے دور جہالت میں کفار بھی ان محترم مہینوں کا احترام کرتے اور کوئی کسی پر تلوار نہ چلاتا، جنگیں رُک جاتیں. امام رافعی تحریر کرتے ہیں کہ رجب یقیناً اللہ تعالٰی کا مہینہ ہے. اسے بہرہ اس لئے کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ بھی اس ماہ جنگ و جدل نہ رکھتے اور اپنے ہتھیاروں کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے. پورا مہینہ امن و امان میں رہتا اور کوئی کسی سے خوفزدہ نہ ہوتا تھا. ” اس مہینے کو مطہر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ روزہ دار کو گناہوں اور خطاؤں سے پاک کر دیتا ہے. حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ آتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلّم دعا فرماتے:
ترجمہ: ” اللہ ہمارے رجب اور شعبان کو با برکت بنا اور ہمیں رمضان تک پہنچا”

جون 7, 2011 at 15:24 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]