Archive for مئی, 2011

نوشی گیلانی کی شاعری

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا
جو میرے حصّے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا
***
جلائے رکھوں گی صبح تک میں تمھارے رستوں میں اپنی آنکھیں
مگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا
***
جو حرف لوحِ وفا پہ لکھے ہوئے ہیں ان کو بھی دیکھ لینا
جو رائیگاں ہو گئیں وہ ساری عبارتیں بھی شمار کرنا
***
یہ سردیوں کے اداس موسم کی دھڑکنیں برف ہو گئی ہیں
جب ان کی یخ بستگی پرکھنا، تمازتیں بھی شمار کرنا
***
تم اپنی مجبوریوں کے قصے ضرور لکھنا وضاحتوں سے
جو میری آنکھوں میں جل بجھی ہیں وہ خواہشیں بھی شمار کرنا
کوئی مجھ کو میرا بھرپور سراپا لا دے
میرے بازو، میری آنکھیں، میرا چہرہ لا دے
***
ایسا دریا جو کسی اور سمندر میں گرے
اس سے بہتر ہے مجھ کو میرا صحرا لا دے
***
کچھ نہیں چاہئیے تجھ سے اے میری عمرِ رواں
میرا بچپن، میرا جگنو، میری گڑیا لا دے
***
نیا موسم میری بینائی کو تسلیم نہیں
میری آنکھوں کو وہی خواب پرانا لا دے
***
جس کی آنکھیں مجھے اندر سے بھی پڑھ سکتی ہوں
کوئی چہرہ تو میرے شہر میں ایسا لا دے
***
کشتیءجاں تو بھنور میں ہے کئی برسوں سے
اب تو ڈبو دے یا کنارہ لا دے
رکتا بھی نہیں ٹھیک سے چلتا بھی نہیں ہے
یل دل کہ تیرے بعد سنبھلتا بھی نہیں ہے
***
یہ شہر کسی آئینہ کردار بدن پر
الزام لگاتے ہوئے ڈرتا بھی نہیں ہے
***
اک عمر سے ہم اُس کی تمنا میں ہیں بے خواب
وہ چاند جو آنگن میں اترتا بھی نہیں ہے
***
پھر دل میں تیری یاد کے منظر ہیں فروزاں
ایسے میں کوئے دیکھنے والا بھی نہیں ہے
***
اس عمر کے صحرا سے تیری یاد کا بادل
ٹلتا بھی نہیں ہے اور برستا بھی نہیں ہے
***
ہمراہ بھی خواہش سے نہیں رہتا ہمارے
اور بامِ رفاقت سے اترتا بھی نہیں ہے
دل میرا اِک کتاب کی صورت
جس میں وہ ہے گلاب کی صورت
ہم سے پوچھو کہ ہم گزار آئے
زندگی کو عذاب کی صورت
***
حسن کچے گھڑے کا شیدائی تھا
عشق موجِ چناب کی صورت
عشق میں اس طرح نہیں ہوتا
یہ نہیں ہے نصاب کی صورت
***
میں کڑی دوپہر کی تنہائی
وہ شبِ مہتاب کی کی صورت
پوچھتا ہے کہ میری غزلوں میں
کون ہے اضطراب کی صورت
***
میں وفا کی وہی پرانی کتاب
وہ نئے انتساب کی صورت
جو نہیں کر سکے، کبھی وہ سوال
اس نے لکھا جواب کی صورت
تیری خوشبو نہیں ملتی تیرا لہجہ نہیں ملتا
ہمیں تو شہر میں کوئی تیرے جیسا نہیں ملتا
***
یہ کیسی دھند میں ہم تم سفر آغاز کر بیٹھے
تمھیں آنکھیں نہیں ملتیں ہمیں چہرہ نہیں ملتا
***
ہر اک تدبیر اپنے رائیگاں ٹھہری محبت میں
کسی بھی خواب کو تعبیر کا رستہ نہیں ملتا
***
بھلا اس کے دکھوں کی رات کا کوئی مداوا ہے
وہ ماں جس کو کبھی کھویا ہوا بچہ نہیں ملتا
***
زمانے کے قرینے سے وہ اپنے ساتھ رکھتا ہے
مگر میرے لئے اس کو کوئی لمحہ نہیں ملتا
***
مسافت میں دعائے ابر ان کا ساتھ دیتی ہے
جنہیں صحرا کے دامن میں کوئی دریا نہیں ملتا
***
جہاں ظلمت رگوں میں اپنے پنجے گاڑ دیتی ہے
اسی تاریک رستے پر دیا جلتا نہیں ملتا
Advertisements

مئی 14, 2011 at 08:39 تبصرہ چھوڑیں

تھے کچھ ارماں میرے بھی….

ہمیشہ کی طرح آج بھی باغ میں ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی. سر کے اوپر وہی نیلا آسمان، پاؤں کے نیچے نرم نرم گھاس اور ارد گرد لوگوں کی چہل پہل، ان خوبصورت نظاروں کو جتنا بھی دیکھو جی نہیں بھرتا لیکن آج تو یہ نظارے مزید حسین لگ رہے ہیں. نیلے آسمان پر خوب بادل نظر آ رہے ہیں اور ان بادلوں کی وجہ سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے. جب یہ ہوا درختوں کو چھوتی ہوئی مجھ تک پہنچتی ہے تو مزید  ٹھنڈی ہو چکی ہوتی ہے اس لئے اس ہوا کے چھونے سے ایک تازگی کا احساس ہو رہا ہے. یوں تو یہ باغ سبزے کی وجہ سے بہت حسین ہے مگر آج اس خوبصورت موسم نے باغ کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دئیے ہیں.
میں باغ میں بیٹھی ان نظاروں سے لطٍف اندوز ہو رہی تھی کہ اچانک میری نظر ایک بوڑھی عورت پر پڑی جو شاید 75-70 سال کی تھیں. ان کی جھکی کمر اور چہرے پر موجود بے بسی کو دیکھ کر میری نظریں ایک پل کو ٹھہر گئیں.
اور میں باغ کی ساری خوبصورتی  کو یکسر بھول گئی. پھر نا جانے کیوں میری نظریں اسے تلاش کرنے لگیں جس کے ساتھ یہ خاتون آئیں تھیں. مگر ان کے ادر گرد مجھے ان کے گھر کا کوئی فرد دکھائی نہ دیا. ویسے ان کے ساتھ ایک خاتون موجود تھی. یہ خاتون شاید ملازمہ تھی. یہ بوڑھی عورت اور ان کی ملازمہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے میری طرف بڑھ رہی تھیں. جب یہ دونوں میرے بالکل قریب پہنچیں تو بوڑھی عورت مجھ سے پوچھنے لگی، "بیٹی کیا میں تمہارے پاس اس اسٹول پر بیٹھ جاؤں؟ بس میں ہی بیٹھوں گی. یہ باغ کا چکر لگانے چلی جائے گی.” انہوں نے عاجزی سے پوچھا.
میں جھٹ سے بولی”جی بڑی آنٹی آپ میرے پاس بیٹھ جائیں.”
"مجھے بزرگوں سے باتیں کرنا بہت پسند ہے.”
میں نے دل ہی دل میں سوچا ان آنٹی سے باتیں کرنے کا مزہ آئے گا.
جلد ہی ہمارے درمیان گفت و شنید کا سلسلہ شروع ہو گیا. باتوں ہی باتوں میں مجھے پتہ چلا کہ بڑی آنٹی نے شادی نہیں کی. مجھے اس بات پر بہت حیرت ہوئی اور میں بڑی آنٹی سے وجہ پوچھنے لگی. پہلے تو انہوں نے مجھے ٹالنے کہی بہت کوشش کی مگر پھر میرے اصرار پر وجہ بتانے کے لئے راضی ہو گئیں. اب میں آپ کو ان کی داستان ان کی زبانی سناؤں گی…
"ہم دو بہن بھائی تھے. میرا بھائی میرے سے سترہ (17)سال بڑا تھا. والد میری پیدائش سے چند ماہ قبل ایک ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہو گئے اور والدہ میری پیدائش کے وقت وفات پا گئیں. یوں ہم دونوں بہن بھائی اس دنیا میں تنہا رہ گئے. بھائی نے ملازمت شروع کر لی اور میری دیکھ بھال کے لئے ایک  ملازمہ رکھ لی. وقت گزرتا گیا اور میں 15 سال کی ہو گئی. اب ہم بہن بھائی نے سوچا کہ برسوں کی تنہائیوں کو ختم کیا جائے. لہٰزا بھائی نے شادی کر لی. میری بھابھی بہت خوش مزاج اور اچھی تھی. 5 سالوں میں خدا تعالٰی نے انہیں دو بیٹے اور دو بیٹیاں عطا کیں. لیکن شاید اب خوشیاں ہمارے نصیب میں نہ تھی. تبھی وقت کا ایک پہیہ ایک بار پھر سے گھوما اور خدا نےمیرے بھائی اور بھابھی کو اپنے پاس بلا لیا. اب بھائی کے چاروں چھوٹے چھوٹے بچوں کی زمہ داری مجھ پر تھی. میں نے ان کی پرورش کے لئے محلے کے لوگوں کے کپڑے سینے شروع کر دئیے. جب بچے تھوڑے بڑے ہوئے تو دونوں لڑکوں نے ملازمت کرنا چاہی مگر مجھے یہ گراں گزرا کیونکہ میں ان بچوں کو پڑھا لکھا کر اونچے عہدوں پر فائز دیکھنا چاہتی تھی. مجھے ان بچوں سے بہت پیار تھا. ان میں مجھے اپنے بھائی کی جھلک نظر آتی تھی. لہٰزا میں نے دن دگنی رات چوگنی محنت کر کے اپنے خواب کو پورا کیا، انہیں خوب پڑھایا لکھایا . پڑھائی مکمل کرتے ساتھ ہی دونوں لڑکوں کو اچھی ملازمت مل گئ. اب میں دونوں لڑکیوں کی شادی کی فکر کرنے لگی. مجھے اکثر لوگ کہا کرتے تھے تم نے بچوں کی اچھی پرورش کر کے اپنا فرض پورا کیا اب یہ خود کو سنبھالنے کے قابل ہیں لہٰزا تم شادی کر لو. اپنی شادی کا سوچ کر میرے ذہن میں برے برے خیال آتے.
میں سوچتی تھی کی اگر میں شادی کر کے اس گھر سے چلی گئی تو ان بچوں کا کیا ہو گا. ان کی شادیاں، گھر کو سنبھالنا  اور اسی طرح کی دوسری ذمہ داریوں کے بارے میں سوچنے لگتی.
 میرے لئے تو بس یہی بچے میری زندگی تھے. آہستہ آہستہ میں نے چاروں بچوں کی شادیاں کر دیں. بیٹیاں بیدا کر دیں اور بہوئیں گھر لے آئی. میں نے سوچا کہ میری دو بیٹیوں کی کمی یہ دونوں بہوئیں پوری کر دیں گی. مگر قسمت کا لکھا کچھ اور ہی تھا. شادی کے بعد چاروں بچوں نے نظریں پھیر لیں. بیٹیوں نے گھر آنا چھوڑ دیا اور بیٹے کبھی آ کر میرا حال نہیں پوچھتے. بہوئیں سارا دن مجھے میرے کمرے سے باہر نکلنے نہیں دیتیں اور اپنے بچوں کو میرے ساتھ بات کرنے سے بھی منع کرتی ہیں. بس روز ایک ملازمہ کے ہاتھ میرے کمرے میں کھانا بھجوا دیا جاتا ہے اور کچھ کہوں تو کہتی ہیں کہ آپ ہماری ساس نہیں جو ہم پر حکم چلائیں. آپ تو خدا کا شکر ادا کریں کہ ہم آپ کو اپنے گھر رہنے دے رہی ہیں. اب میں سوچتی ہوں کہ کاش بچوں کی شادی کرنے سے پہلے خود اپنی شادی کروا لی ہوتی.

مئی 12, 2011 at 06:34 1 comment

نوشی گیلانی

نوشی گیلانی 1964 میں بہاولپور میں پیدا ہوئی. نوشی گیلانی اردو شاعرہ ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی. آپ پاکستان کے بہترین اردو شاعروں میں سے ایک ہیں. نوشی گیلانی نے بڑی کامیابی کے ساتھ شاعری کے پانچ مجموعے شائع کیے ہیں. ان کی اردو شاعری جو پاکستان میں شائع کی گئی ان میں درج ذیل شامل ہیں:

  • محبتیں جب شمار کرنا (1973)
  • اُداس ہونے کے دن نہیں (1977)
  • پہلا لفظ محبّت لکھا (2003)
  • اے میرے شریکِ رسالِ جان
  • ہم تیرا انتظار کرتے رہے

ان کی شاعری کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا اور ان کی شاعری برطانیہ میں بھی پڑھی گئی. انہوں نے لوک گلوکار "پٹھانے خان” کو خراج تحسین پیش کیا.

نوشی گیلانی 1995 میں سان فرانسسکو میں قیام پذیر ہوئی لیکن سعید خان سے شادی کے بعد انہوں نے آسٹریلیا جانے کا فیصلہ کیا. انہوں نے 25 اکتوبر 2008 میں سعید خان سے شادی کی جو کہ آسٹریلیا کے رہنے والے اُردو شاعر ہیں اور حال میں وہ سڈنی-آسٹیلیا میں رہ رہے ہیں.

وہ نوجوان خواتین اُردو شاعروں کی اہم رکن ہیں. آپ نے شاعری کے میدان میں بہت اعلٰی کام کیا ہے اور ان کی شاعری نوجوان طبقے میں بہت پسند کی جاتی ہے.

مئی 10, 2011 at 05:54 تبصرہ چھوڑیں

ہنسنا منع ہے!!!

بیوی: دیکھا میں نے بغیر دیکھے آپ سے شادی کی….
شوہر: میری ہمّت دیکھو تمہیں دیکھ کر بھی تم سے شادی کر لی…
ایک پٹھان اور سردار پانی پینے گئے، وہاں گلاس الٹا پڑا تھا..
سردار: اس کا تو منہ ہی بند ہے
پٹھان: اور یہ تو نیچے سے بھی پھٹا ہوا ہے..
تین لوگ مرنے کے بعد جنّت کے دروازے پر پہنچے
پہلا بولا: میں مولوی ہوں میں نے زندگی بھر عبادت کی ہے مجھے اندر آنے دو..
آواز آئی نیکسٹ
دوسرا بولا:میں ڈاکٹر ہوں، میں نے زندگی بھر لوگوں کی مدد کی ہے مجھے اندر آنے دو…
آواز آئی نیکسٹ
تیسرا بولا: میں شادی شدا ہوں
آواز آئی، بس کر رُلائے گا کیا، چل اندر آ جا
استاد پٹھان سے..
تم کہاں پیدا ہوئے تھے؟
پٹھان: نورتھ وزیرستان
استاد: اس کے سپیلنگ سناؤ
پٹھان: ایک منٹ میڈم، ہم کو لگتا ہے کہ ہم یو-کے میں پیدا ہوا تھا
ایک لڑکی نے اپنا رزلٹ نیٹ پر دیکھا..
حیران ہوکہ بولی! کیا… میں فیل ہو گئی وہ بھی انگلش میں؟؟؟
ان پوسیبل
بیوی: سنا ہے کہ جنّت میں شوہر کو بیوی کے ساتھ نہیں رہنے دیں گے
شوہر: سہی سنا ہے…
بیوی: ایسا کیوں؟؟؟
شوہر: پگلی اسی لئے تو اسے جنّت کہتے ہیں
ماہر نفسیات: مبارک ہو! آپ کا علاج مکمل ہو گیا. اب آپ بلکل ٹھیک ہیں
دماغی مریض: کیا فائدہ! آپ کے علاج سے پہلے میں فرانس کا بادشاہ تھا، اب میں ایک عام آدی ہوں
تین بچے آپس میں بات کر رہے تھے،
ایک نے کہا: میں بھورے رنگ کی کار لوں گا، میرے ابّو کے بال بھورے ہیں.
دوسرے نے کہا: میں کالے رنگ کی کار لوں گا، میرے ابو کے بال کالے ہیں.
اب تیسے کی باری تھی، وہ پٹ سے بولا:
"اور میں بغیر چھت کی کار لوں گا، میرے ابّو گنجے ہیں”
مریض: مجھے عجیب سی بیماری ہو گئی ہے، جب میری بیوی کچھ بولتی ہو تو مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا..
حکیم: یہ بیماری نہیں تم پر اللہ کی خاص رحمت ہے….
سردار: تم بائیک اتنی تیز کیوں چلا رہے ہو؟
پٹھان: یہ خط ارجنٹ دینا ہے
سردار: کہاں؟
پٹھان: ابھی ایڈریس دیکھنے کا ٹائم نہیں ہے
سردار: او-کے گو فاسٹ
مرغا: جان میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں اور تمھارے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں
مرغی: ہائے اللہ سچّی!!!
مرغا: ہاں
مرغی: چل پھر آج انڈہ تو دے دے میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے…

مئی 7, 2011 at 07:54 تبصرہ چھوڑیں

درُود پاک کی برکت کا ایک واقعہ

ایک دن آقائے دو جہاں صلّی اللہ علیہ وسلّم اِسلامی لشکر کے ساتھ جہاد کے لئے تشریف لے جا رہے تھے، راستے میں ایک جگہ پڑاؤ کیا اور حکم دیا کہ یہیں پر جو کچھ کھانا ہے کھا لو!
جب کھانا کھانے لگے تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم! روٹی کے ساتھ نان خورش نہیں ہے. ایسے میں صحابہ کرام نے دیکھا کہ ایک شہد کی مکھی ہے اور وہ بڑے زور زور سے بھنبھناتی ہے. عرض کیا یا رسول اللہ  صلّی اللہ علیہ وسلّم! یہ مکھی کیوں شور مچاتی ہے؟ آپ  صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا یہ کہہ رہی ہے کہ مکھیاں بے قرار ہیں اس وجہ سے کہ صحابہ کرام کے پاس سالن نہیں ہے حالانکہ یہاں قریب ہی غار میں ہم نے چھتّہ لگایا ہوا ہے. وہ کون لائے گا؟ ہم اسے اٹھا کر لا نہیں سکتیں.
فرمایا پیارے علی! (کرم اللہ وجہہ) اِس مکھی کے پیچھے پیچھے جائیں اور شہد لے آئیں. چنانچہ حضرت حیدرِ کرّار رضی اللہ تعالٰی عنہہ ایک چوبی پیالہ پکڑ کر اُس مکھی کے پیچھے ہو لیے، وہ مکھی آگے آگے اس غار میں پہنچ گئی اور آپ نے وہاں جا کر شہد مصفّا نچوڑ لیا اور دربارِ رسالت میں حاضر ہوئے. سرکارِ دو عالم  صلّی اللہ علیہ وسلّم نے وہ شہد تقسیم فرما دیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کھانا کھانے لگے تو مکھی پھر آ گئی اور بھنبھنانا شروع کر دیا.
صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے عرض کی یا رسُول اللہ  صلّی اللہ علیہ وسلّم! مکھی پھر اسی طرح شور کر رہی ہے، تو فرمایا میں نے اس سے ایک سوال کیا ہے اور یہ اس کا جواب دے رہی ہے. میں نے اس پوچھا ہے کہ تمہاری خوراک کیا ہے؟ مکھی کہتی ہے کہ پہاڑوں اور بیابانوں میں جو پھول ہوتے ہیں وہ ہماری خوراک ہے.
میں نے پوچھا کہ پھول تو کڑوے بھی ہوتے ہیں، پھیکے بھی اور بد مزہ بھی، تو تیرے منہ میں جا کر نہایت شیریں اور صاف شہد کیسے بن جاتا ہے؟ تو مکھی نے جواب دیا یا رسول اللہ  صلّی اللہ علیہ وسلّم ہمارا ایک میر اور سردار ہے، ہم اس کے تابع ہیں. جب ہم پھولوں کا رس چوستی ہیں تو ہمارا امیر آپ  صلّی اللہ علیہ وسلّم کی ذاتِ اقدس پر درُود پاک پڑھنا شروع کر دیتا ہے اور ہم بھی اس کے ساتھ مل کر درُود پاک پڑھتی ہیں تو وہ بد مزہ اور کڑوے پھلوں کا رس درُود پاک کی برکت سے میٹھا ہو جاتا ہے اور اسی کی برکت و رحمت کی وجہ سے وہ شہدِ شفاء بن جاتا ہے. (سبحٰن اللہ)
اگر درُود پاک کی برکت سے کڑوے اور بد مزہ پھلوں کا رس نہایت میٹھا شہد بن سکتا ہے، تلخی شیریں میں بدل سکتی ہے تو درُود پاک کی برکت سے گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں.
یوں ہی درُود پاک کی برکت سے ہماری نا مکمّل نمازیں اور نا تمام سجدے و دیگر عبادتیں بھی قبوٌل ہو سکتی ہیں.
آپ کا نامِ نامی اے صلِّ علٰی
ہر جگہ ہر مصیبت میں کام آ گیا

مئی 5, 2011 at 11:56 تبصرہ چھوڑیں

درُود پاک کی برکت سے آخرت میں انعامات

سیّدنا عبداللہ عُمر رضی اللہ تعالٰی عنھما سے روایت ہے فرمایا کہ روزِ قیامت اللہ تعالٰی کے حکم سے حضرت ابو البشر آدم علیہ السلام عرشِ الٰہی کے پاس سبز حلہ پہن کر تشریف فرما ہوں گے اور یہ دیکھتے ہوں گے کہ میری اولاد میں سے کس کس کو جنت میں لے جاتے ہیں.
                        اچانک آدم علیہ السلام دیکھیں گے کہ سیّدنا انبیاء والمرسلین صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک اُمّتی کو فرشتے دوزخ میں لے جارہے ہیں. حضرت آدم علیہ السلام یہ دیکھ کر ندا دیں گے اے اللہ تعالٰی کے حبیب! (صلّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلّم) آپ کے ایک اُمّتی کو ملائکہ کرام دوزخ میں لے جا رہے ہیں. سیّدِ دو عالم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں یہ سن کر میں اپنا تہبند مضبوط پکڑ کر اُن فرشتوں کے پیچھے دوڑوں گا اور کہوں گا اے رب تعالٰی کے فرشتو! ٹھہر جاؤ!
                        فرشتے یہ سُن کر عرض کریں گے یا حبیب اللہ! ہم فرشتے ہیں اور فرشتے اللہ کی حکم عدولی نہیں کر سکتے. اور ہم وہ کام کرتے ہیں جس کا ہمیں دربارِ الٰہی سے حکم ملتا ہے. یہ سن کر بنی اکرم صلّی اللہ عیلہ وسلّم اپنی ریش مُبارک پکڑ کر دربارِ الٰہی میں عرض کریں گے کہ اے میرے ربِّ کریم! کیا تیرا میرے ساتھ یہ وعدہ نہیں ہے کہ تجھے تیری امت کے بارے میں رسوا نہیں کروں گا.
                        تو عرشِ الٰہی سے حکم آئے گا اے فرشتو! میرے حبیب کی اطاعت کرو! اور اس بندے کو واپس میزان پر لے چلو! فرشتے اس کو فوراً میزان پر لے چلیں گے اور جب اس کے اعمال کا وزن کریں گے تو میں اپنی جیب سے ایک نُور کا سفید کاغذ نکالوں گا اور بِسم اللہ شریف پڑھ کر نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دوں گا تو اس کا نیکیوں والا پلڑا وزنی ہو جائے گا.
                        اچانک ایک شور برپا ہو جائیگا کہ میں کامیاب ہو گیا، کامیاب ہو گیا، اس کو جنت میں لے جاؤ! جب فرشتے اس کو جنت میں لے جاتے ہوں گے تو وہ کہے گا اے میرے رب کے فرشتو! ٹھہرو!اِس بزرگ سے کُچھ عرض کر لوں!
                        تب وہ عرض کرے گا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کا کیسا نورانی چہرہ ہے اور آپ کا خلق کتنا عظیم ہے، آپ نے میرے آنسوؤں پر رحم کھایا اور میری لغزشوں کو معاف کرایا. آپ کون ہیں؟ فرمائیں گے میں تیرا نبی مُحمّد مصطفٰی( صلّی اللہ علیہ وسلّم) ہوں، اور یہ تیرا درُود پاک تھا جو تو نے مجھ پر پڑھا ہوا تھا، وہ میں نے تیرے آج کے دن کے لیے محفوظ رکھا ہوا تھا.
یہ با برکت معلومات پڑھنے کے بعد دس دفعہ درُود شریف پڑھیں اور آخرت میں اپنی بخشش کا انتظام کریں. (سبحٰن اللہ)

مئی 3, 2011 at 06:17 تبصرہ چھوڑیں

Newer Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Advertisements
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad Poetry
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے”
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad Poetry