Archive for مئی, 2011

نماز کے طبّی فوائد

نماز اسلام کا بنیادی ستون ہے اور فرائض میں شامل ہے. نماز محض ایک فرض ہی نہیں ہے بلکہ اس کے طبّی فوائد بھی ہیں. نماز اور ارکان نماز کی سائنسی توجیہہ حسبِ ذیل ہیں جو توجہ طلب ہیں:
نماز میں دونوں ہاتھوں کا کانوں تک اُٹھانا یوں اہم ہے کہ اس عمل سے بازوؤں، گردن اور شانوں کے پٹھوں کی ورزش ہوتی ہے. جدید تحقیق کے مطابق دل کے مریضوں کے لئے یہ ورزش بے حد مفید ثابت ہوتی ہے جو نماز پڑھنے سے خودبخود ہو جاتی ہے. اور یہ یا اس طرح کی ورزش عام حالات میں فالج کے خطرے سے بھی محفوظ رکھتی ہے. نماز میں قیام کرنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے، کیونکہ انسان کے جسم کا وزن دونوں پاؤں پر یکساں پڑتا ہے. آنکھیں سجدے کی جگہ پر لگی رہنے سے دل بھی یکسو ہوتا ہے اور خون کی روانی میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے.
رکوع کرنے سے بالائی نصف جسم میں جھکنے کی وجہ سے زیادہ خون پمپ ہوتا ہے. پنڈلیوں، ریڑھ کی ہڈی، ناف اور گردن کو ان کے عضلاتی اور اعصابی تناؤ سے قوت حاصل ہوتی ہے اور اندرونی پیٹ کے عضلات پر دباؤ سے پیٹ کے مشتمولات جگر، آنتوں، گردوں اور مثانے کی مالش ہوتی ہے، جس سے ان اعضاء کو فرحت ملتی ہے.
رکوع کے عمل سے معدے اور آنتوں کی خرابیاں دور ہو جاتی ہیں، نیز پیٹ کے عضلات کا ڈھیلا پن ختم ہو جاتا ہے. رکوع کی وضع سے بالائی جسم کے نصف اعضاء کے دوران خون اور ان کے اعصاب پر اثر پڑتا ہے.
اس طرح سائنس کی زبان میں نماز پڑھنے والے کے حیاتیاتی نظام سے حواس کے تمام فطری وظائف کا متبر ہے، جسم اور ذہن کی صحیح راہ نمائی ہوتی رہتی ہے، رکوع سے حرام مغز کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے. جن لوگوں کے اعضاء سُن ہو جاتے ہیں وہ اس شکایت سے بہت جلد نجات حاصل کر سکتے ہیں. رکوع سےکمر درد کے مریض اور جن کے حرام مغز میں ورم آ گیا ہو، جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں. یہی نہیں بلکہ رکوع سے گردوں میں پتھری بننے کا عمل بھی سست پڑ جاتا ہے. پتھری رکوع کی وجہ سے جلد نکل بھی جاتی ہے. رکوع سے ٹانگوں کی بیماریوں میں مبتلا اور فالج زدہ مریض چلنے پھرنے کے قابل ہو جاتے ہیں. رکوع میں آنکھوں کی طرف دوران خون کے بہاؤ کی وجہ سے دماغ و نگاہ کی کارکردگی میں اضافہ ہو جاتا ہے.
رکوع کی حالت میں نمازی جب اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنے گھٹنوں کو پکڑتا ہے تو اس کی ہتھیلیوں اور انگلیوں میں گردش کرنے والی بجلی گھٹنوں میں جزب ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے گھٹنوں میں صحت مند لعاب برقرار رہتا ہے. اور ایسے لوگ گھٹنوں اور جوڑوں کے درد سے محفوظ رہتے ہیں. رکوع کرنے سے اور دوبارہ سیدھے کھڑے ہونے سے چہرے اور سر کا دورانِ خون نارمل ہو جاتا ہے جس سے شریانوں میں لچک کی استعداد بڑھنے سے ہائی بلڈ پریشر اور فالج کے امکانات کم ہو جاتے ہیں. رکوع کے بے شمار فوائد ہیں.
نماز میں سجدے کا دورانیہ صرف چند سیکنڈ کا ہوتا ہے لیکن جب نمازی سجدہ کرتا ہے تو اس کے دماغ کی شریانوں کی طرف خون کا بہاؤ زیادہ ہو جاتا ہے. صرف سجدے کی حالت میں دماغ، اعصاب، آنکھوں اور سر کے دیگر حصوں کی طرف خون کی ترسیل متوازن ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے دماغ اور نگاہ کی کارکردگی بہت تیز ہو جاتی ہے. سجدے کے دوران خون اور زمین کی کشش کا اضافی دباؤ ہاتھوں، پیشانی، چہرے اور سینے اور دل کی طرف بڑھ جاتا ہے اور پھر چند سیکنڈ بعد سجدے سے سر اُٹھاتے ہی نارمل ہو جاتا ہے. اسی طرح خون کی نالیوں کی مقررہ حرکات اور طاقتور پمپنگ سے رکوع کی قوت لچک بڑھ جاتی ہے. خون کی بال جیسی باریک رگوں میں خون کے بہاؤ کی وہ سست رفتاری جو آرام طلب زندگی سے یا رکوع کی سختی سے پیدا ہو جاتی ہے، سجدے کے باعث دور ہو جاتی ہے. جدید ترین تحقیق کے مطابق اگر پیشانی کی درمیانی کو دو سے تین منٹ کے لئے دبایا جائے تو اس سے ذہنی انتشار میں کمی واقع ہوتی ہے. سجدے کے دوران عین اسی مقام کو زمین کے ساتھ مس کیا جاتا ہے. سجدے میں ٹانگوں اور رانوں کے پچھلے عضلات، کمر اور پیٹ کے عضلات کھنچے ہوئے ہوتے ہیں. یہ ایک ایسی بہترین ورزش ہے جو ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط اور لچک دار بناتی ہے. اندرونی اعصاب کو تقویت بخشتی ہے. پوری نماز ایسے ہی طبّی فوائد کا مجموعہ ہے.
Advertisements

مئی 31, 2011 at 06:18 تبصرہ کریں

بائیں ہاتھ سے پانی پینا

مئی 28, 2011 at 05:09 تبصرہ کریں

خوبصورت جلد کے لیے گھریلو ٹوٹکے

خوبصورت لگنا ہر مرد و عورت کا خواب ہے. خوبصورت لگنے کے لیے صحت مند اور تروتازہ جلد نہایت ضروری ہے. جلد کو تروتازہ رکھنے کے لیے جلد کی حفاظت اور نشونما کا خیال رکھنا چاہیے. آزمودہ دیسی ٹوٹکوں کا استعمال آپ کے خواب کی تعبیر کا ضامن ہے.
ٹوٹکا نمبر 1:
پپیتا، کیلا اور دہی کو آپس میں ملا کر اچھی طرح گرائینڈ کریں. اپنے چہرے کو صاف اور خشک کر کے اس مکسچر کو چہرے پر لگائیں اور 30 منٹ تک لگا رہنے دیں. اس کے بعد چہرے کو ٹھنڈے پانی سے دھو لیں. آپ کی جلد چمکدار اور تروتازہ ہو جائیگی. اسے روزانہ استعمال کریں.
ٹوٹکا نمبر 2:
ایک چمچ بیسن لیں، اس میں گلاب کا عرق ڈالیں اور 6 سے 7 قطرے لیموں کا رس ڈالیں. تمام چیزوں کو اچھی طرح مکس کریں اور اچھی طرح چہرے اور گردن پر لگائیں. 15 منٹ تک لگا رہنے دیں پھر پانی سے منہ دھو لیں. اس سے آپ کی جلد میں نکھار آ جائیگا.
ٹوٹکا نمبر 3:
دو چائے کے چمچ بیسن، جار جائے کے چمچ دودھ اور ائک چائے کا چمچ شہد ملائیں. تمام چیزوں کو اچھی طرح مکس کر لیں اور چہرے پر لگائیں. تقریباً 20 منٹ کے بعد منہ دھو ڈالیں. آپ کے چہرے پر تروتازگی آ جائیگی. اس ٹوٹکے کو ہفتے میں ایک بار استعمال کریں.
ٹوٹکا نمبر 4:
ایک عدد لیموں اپنے نہانے والے پانی میں نچوڑیں اور روزانہ اسے دہرائیں. اس سے آپکی جلد میں چمک اور شگفتگی نظر آئیگی.
ٹوٹکا نمبر 5:
ایک چمچ چینی اور ایک مچم دہی برابر مقدار میں لیں. اسے اچھی طرح مکس کر لیں. اس سے چہرے کا مساج کریں اور پانچ منٹ بعد نیم گرم پانی سے چہرے کو دھو لیں. اس سے چہرے پر چمک آ جائیگی.

مئی 26, 2011 at 05:21 تبصرہ کریں

پاکستان کی سب سے بڑی مسجد

شاہ فیصل مسجد کو پاکستان کی سب سے بڑی مسجد ہونے کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیاء کی عظیم مسجد ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے. یہ جنوبی ایشیاء کی سب سے بڑی مسجد اپنے انوکھے طرز تعمیر کے سبب تمام مسلم امہ میں شہرت کی حامل ہے. فیصل مسجد اسلام آباد میں واقع ہے جو شہر کے آخری سرے پر مارگلہ کی دلکش پہاڑیوں کے دامن میں ایک خوبصورت منظر دیتی ہے. اس مسجد کی تعمیر کی تجویز  سعودی حکمران شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے اپنے دور اسلام میں دی. بعد میں تقریباً تین سال بعد ایک عالمی سطح کا مقابلہ منعقد کرایا گیا جس میں مختلف ممالک کے 43 ماہر فن تعمیر نے اپنے اپنے نمونے پیش کیے. چوتھے روز ترکی کےویدت والوکے کا پیش کردہ نمونہ تسلیم کر لیا گیا اور سعودی حکومت کی مالی امداد سے 1976ء میں اس مسجد کی تعمیر شروع کی گئی اور مسجد کا نام بھی شاہ فیصل کے نام سے منسوب کر دیا گیا.
1986ء میں مسجد کا تعمیراتی کام مکمل کر لیا گیا اور اس کے احاطہ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی تعمیر کی گئی. یہ مسجد کل 5000 مربع میٹر کے رقبے پر مشتمل ہے اور بیرونی احاطہ کو بھی شامل کر کے اس میں تقریباً 80 ہزار سے زائد نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں. اس کا فنِ تعمیر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور دیگر روایتی مساجد سے قدرے مختلف ہے. اس کی شکل ایک بڑے تکونی خیمے کی طرح ہے جس پر چار بہت بڑے بڑے مینار جلوہ افروز ہیں. یہ مینار ترکی کے جدید فنِ تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں. مسجد کے اندر درمیان میں ایک جدید برقی فانوس نصب ہے. اس مسجد کی اندرونی دیواروں پر جدید خطاطی کے زریعے قرآنی آیات لکھی گئی ہیں. اس مسجد کے فن تعمیر میں مختلف روایتی اندازوں کی واضح جھلک ہے. جن میں عربی، ترکی، ایرانی اور ہندی طرز تعمیر کا عنصر موجود ہے.
اس مسجد پر کل تعمیری لاگت کا اندازہ 120 ملین امریکی ڈالر تک لگایا گیا ہے اس کے خوبصورت میناروں کی بلندی 90 میٹر تک جبکہ حال ہی میں اس مسجد کی خوبصورت تصویر پاکستانی 5 ہزار روپے کے نئے بنک نوٹ پر بنائی گئی ہے. دور دور سے سیّاح اس مسجد کو دیکھنے آتے ہیں.

مئی 24, 2011 at 05:19 تبصرہ کریں

شہر فیصل آباد کی تاریخ

فیصل آباد شہر پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک اہم ترین شہر ہے. اس شہر کو زمانہ قدیم میں لائلپور کہا جاتا تھا. اب فیصل آباد اپنی صنعتی ترقی کی وجہ سے بہت اہمیّت کا حامل ہے. اس شہر کو مانچسٹر آف ایشیاء بھی کہا جاتا ہے. کراچی اور لاہور کے بعد یہ پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے.
فیصل آباد 1892ء میں برطانیہ کے سر چارلس جیمز لائل نے دریافت کیا. اس وقت اس کا نام اسی کی مناسبت سے لائلپور رکھا گیا. یہ شہر بھیڑ بکریوں اور دیگر مویشیوں کیلئے بہت معروف تھا کیونکہ یہاں جھاڑیاں اور سبزہ بہت زیادہ تھا. 1892ء میں اسے جھنگ اور گو گیمرہ کی نہروں سے سیراب کیا جاتا تھا. 1895 میں یہاں پہلی دفعہ رہائشی کالونیاں بنائی گئیں. اس وقت ٹوبہ ٹیک سنگھ اور شاہدرہ کے درمیانی علاقے کو ساندل بار کہا جاتا تھا.جبکہ فیصل آباد کی ابتدائی تاریخ میں یہاں پکا ماڑی نامی ایک قصبہ پہلے ہی موجود تھا جسے آجکل پکی ماڑی بھی کہا جاتا ہے.
فیصل آباد اُنیسویں صدی کے اوائل میں گوجرانوالہ، جھنگ اور ساہیوال کا حصہ ہوا کرتا تھا. لاہور جانے کے لئے تمام تاجر اور سیاح یہاں پڑاؤ کرتے تھے. آہستہ آہستہ اس کی اہمیت بڑھتی گئی اور اس بڑھتی ہوئی اہمیت کا اندازہ ایک سیاح انگریز کو بہتر طور پر ہوا تو اُس نے اِس شہر کو بنانے کی کوشش شروع کر دی. اس کا نمونہ کیپٹن پوہم ینگ نے ڈیزائن کیا جس میں ایک بہت بڑا کلاک ٹاور تعمیر کیا گیا جس کو آٹھ بازار جاتے تھے. ان بازاروں کو بڑے عمدہ فنِ تعمیر سے تیار کیا گیا. پھر شہر میں آہستہ آہستہ انڈسٹریل کاموں کا آغاز ہوتا گیا اور ملحقہ علاقوں میں سے لوگ شہر کی طرف آنا شروع ہو گئے. 1977ء میں اس شہر کا نام لائلپور سے فیصل آباد رکھا گیا. یہ نام سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل کی نسبت سے رکھا گیا کیونکہ اس نے فیصل آباد کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا. 1985ء میں اس شہر کوڈویژن کا درجہ دے دیا گیا جس میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ اور فیصل آباد اضلاع شامل کیے گئے.
ضلع فیصل آباد کا کل رقبہ 5،856 مربع کلو میٹر ہے جبکہ اس کی آبادی تقریباً 35،47،446 افراد پر مشتمل ہے. اس کی چھ تحصیلیں ہیں جس میں فیصل آباد شہر، فیصل آباد صدر، چک جھمرہ، جڑانوالہ سمندری اور تاندلیانوالہ شامل ہیں.
لائلپور ٹاؤن، جناح ٹاؤن، اقبال ٹاؤن اور مدینہ ٹاؤن فیصل آباد شہر کے اہم ترین مقامات ہیں. فیصل آباد کو ایگری کلچر یونیورسٹی کی وجہ سے عالمی سطح پر شہرت حاصل ہے جس میں تقریباً تمام شعبوں کے علیحدہ علیحدہ انسٹیٹیوٹ بنائے گئے ہیں. علاوہ ازیں ہمدرد یونیورسٹی، جی سی یونیورسٹی اور انجینرنگ اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی بھی اپنا خاص مقام رکھتی ہیں. پاکستان میں فیصل آباد کو ٹیکسٹائل کے شعبے میں بھی برتری حاصل ہے جس میں کئی ٹیکسٹائل ملز اور فنی تعلیمی ادارے شامل ہیں. فیصل آباد شہر سے 10 کلو میٹر کے فاصلے پر ائیر پورٹ ہے جہاں ملکی و غیر ملکی سطح کی پروازیں ہوتی ہیں. یہاں کئی تاریخی اور تفریحی مقامات بھی شامل ہیں جن میں کلاک ٹاور (گھنٹہ گھر)، جناح باغ، گتوالہ پارک اور دیگر فن لینڈ بھی شامل ہیں.

مئی 21, 2011 at 05:32 تبصرہ کریں

درُود پاک نہ پڑھنے کی وعید

 سیّدنا ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے کہ رسُولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا جو شخص مجھ پر درُود پڑھنا بھول گیا وہ جنت کے راستہ سے ہٹ گیا.
****
کُچھ لوگوں کو قیامت کے دن جنت میں جانے کا حکم ہو گا لیکن وہ جنّت کا راستہ بھول جائیں گے. عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم! وہ کون لوگ ہیں اور کیوں راستہ بھول جائیں گے، فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے میرا نام پاک سُنا اور مجھ پر درُود پاک نہ پڑھا.
****
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہہ سے روایت ہے کہ رسُول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا جو مجھ پر درُود پاک پڑھنا بھول گیا وہ جنت کا راستہ بھول جائے گا.( صلی اللہ علیہ وسلّم)
****
درُود پاک بھول جانے سے مراد درُود پاک نہ پڑھنا ہے، خصوصاً جبکہ سیّدِ عالم نُورِ مجسّم  صلی اللہ علیہ وسلّم کا نامِ نامی اسمِ گرامی سُنے، اور جنت کا راستہ بھول جانے سے مُراد یہ ہے کہ اگر وہ دیگر اعمالِ صالحہ کی بدولت جنّت کا حقدار بھی ہو گیا تو وہ جنّت جاتے ہوئے بھٹکتا پھرے گا اور اسے راستہ نہ مل سکے گا.

مئی 19, 2011 at 08:51 تبصرہ کریں

آزمودہ گھریلو ٹوٹکے

مئی 17, 2011 at 09:04 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]