سچّی کہانی: جو کیا سو پایا

اپریل 12, 2011 at 05:45 تبصرہ کیجیے

“کوئی مجھے دو گھونٹ پانی پلا دے، ارے کوئی ہے جو میری کروٹ بدل دے، جسم دکھ رہا ہے.اللہ کا واسطہ کوئی مجھے روٹی کا ایک ٹکڑا دے دے.”
ایسی آوازیں امّاں جنت کی گلی سے گزرو تو آخری سرے تک پیچھا کرتی تھیں. کچھ تو ازراہ ہمدردی اندر جھانک لیتے اور کچھ سنی ان سنی کر کے گزر جاتے کیونکہ یہ تو روز کا واویلا تھا. لوگ اس کے نزدیک جاتے ہوئے بھی ڈرتے. اور تو اور اس کا اپنا نازوں پالا اکلوتا بیٹا ماں کو تڑپتے دیکھ کر یوں گزرجاتا گویا کچھ ہوا ہی نہیں. بہو بھی سارا دن اونچی آواز میں ٹی وی یا ڈیک چلائے رکھتی تا کہ امّاں کے شور سے اسکا مزہ خراب نہ ہو.
وہ نت نئے پکوان پکاتے اور کھاتے مگر کسی کو اماں کا دھیان نہ آتا جو ایک ٹکڑے کے لئے سارا دن تڑپتی رہتی. وہ بھوک اور کمزوری کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتی. بہو اس حالت کو عموماً امّاں کا ڈرامہ قرار دیتی.
بہو آواز اور مزاج کی اتنی تیز تھی کہ کوئی اس کے ہوتے ہوئے امّاں کی چارپائی کے قریب بھی نہ پھٹک سکتا تھا کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے.
آخر اس کے ساتھ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟؟؟؟؟؟؟
کیا اللہ کو اس کے حال پر رحم نہیں آتا؟؟؟؟؟؟
میں یہ اکثر سوچا کرتی تھی اور سب سے پوچھا کرتی تھی….
آخر ایک دن میری دادی جان نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا. میری دادی امّاں جنت کی ہم عمر تھیں. دادی امّاں نے بتایا کہ امّاں جنت کی ساس بی بی زہرہ ایک نیک فطرت خاتون تھیں. وہ سب کے دکھ درد کی سانجھی تھیں. وہ اپنے شوہر خان محمد کی دوسری بیوی تھی. اس کے ہاں دو بیٹیاں ہوئیں جو دنیا میں چند دن رہ کر رخصت ہو گئیں. اب اس کے کوئی اولاد نہ تھی.خان محمد کہ پہلی بیوی سے ایک بیٹا جان محمد تھا. یہ امّاں جنت اسی جان محمد کی بیوی تھی. باپ کے مرنے کے بعد جان محمد کا اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ رویّہ ٹھیک نہ رہا. زہرہ تو اس سے بڑا پیار کرتی. وہ اپنی اولاد کی کمی اس کو دیکھ کر پورا کرتی لیکن وہ اس کی بے عزتی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا.
زہرہ کے میاں نے مرتے وقت اپنے طرف سے ایک نیکی یہ کی تھی کہ زمین اور گھر اس کے نام کر دیا تھا. اس کے اولاد نہ تھی تو خطرہ تھا کہ کوئی اس کا پرسان حال نہ ہو گا. تاہم یہ بات جان محمد کو پسند نہ آئی کہ باپ نے وارث ہوتے ہوئے عورت کے نام سب کچھ کر دیا . باپ کے گزر جانے کے بعد تو اس کا رویّہ اور بھی برا ہو گیا.
زہرہ سیدھی سادھی عورت تھی. لوگ اسے کہتے تھے کہ دولت تمہارے پاس ہے تم دب کر کیوں رہتی ہو لیکن اس کا ایک ہی جواب ہوتا کہ کوئی برائی کر لے پر مجھ سے نہ ہو. وہ میرا بیٹا ہے. ایک دن نادم ہو کر ضرور لوٹے گا، لیکن جان محمد سدھرنے والا نہیں تھا. اس کی بیوی جنت بھی بڑی تیز زبان عورت تھی. وہ جس قدر خوبصورت تھی اسی قدر فتنہ پسند بھی تھی. وہ اپنے شوہر سے بھی سنگدلی میں دو ہاتھ آگے تھی. کون سا ظلم تھا جو اس نہ زہرہ پر نہ کیا لیکن اس نیک بخت نے کبھی اُف تک نہ کی اور برداشت کرتی رہی. پے در پے پریشانیوں اور دکھوں نے اسے فالج کا مریض بنا دیا.
اس زمانے میں فالج بڑا تکلیف دِہ مرض تھا. اب زہرہ ہر کام کے لئے جنت کی محتاج ہو گئی لیک جنت کے دل میں خوفِ خدا اور رحم نہ آیا. چنانچہ زہرہ کو ایک کونے میں ڈال دیا گیا. وہ بھوکی پیاسی وہاں پڑی رہتی.کسی کو کچھ بتانے کے قابل بھی نہ تھی. ویسے بھی وہ صبر کا پیکر تھی اور چپ ہی رہتی تھی.
جنت اپنے گھر کا دروازہ بند رکھتی کہ کیہں آس پڑوس سے کوئی آ نہ جائے. کب تک یہ بات راز رہتی. ایک دن ساتھ والی ہمسائی کو خبر ہوئی تو دو چار عورتیں مل کر امّاں کی عیادت کے لئے آ گئیں. دیکھا تو زہرہ کا حال بہت خراب تھا. سردیوں کا موسم تھا. گاؤں کی سردی اور اس بیچاری بڑھیا پر صرف ایک کھیس پڑا تھا. ٹھنڈ سے اس کا جسم نیلا پڑا تھا. ساری چارپائی گندگی سے بھری ہوئی تھی. زہرہ پر اتنا ظلم ہوا کہ اس کی جگہ کوئی جانور ہوتا تو کب کا مر چکا ہوتا مگر وہ بہت سخت جان تھی. کبھی کبار تکلیف کے مارے اس کے آنسو چھلک جاتے مگر وہ زبان سے خاموش ہی رہا کرتی تھی.
محلے کی عورتوں کو دیکھ کر وہ آبدیدہ ہو گئی. سب نے جنت کو برا بھلا کہا  اور زہرہ کو نہلا دھلا کر صاف چارپائی پر لٹایا. وہ سب بلند آواز کلمہ پڑھنے لگیں. شاید اسی انتظار میں زہرہ کی سانسیں چل رہی تھیں. جب محلے کی عورتوں نے کلمے کا ورد شروع کیا تو زہرہ بھی منہ میں ہلکا ہلکا کلمہ پڑھنے لگی.
اس کے ساتھ ہی وہ پر سکون ہوتی چلی گئی اور پھر پتہ نہیں کب اس کی سانسوں کا زہرہ کے ساتھ رشتہ ٹوٹ گیا. لوگوں نے مل کر اس کی تدفین کی.
اس کے بعد تو جنت کا سکون غارت ہوتا چلا گیا.بیٹے کی شادی کی تو بہو لڑاکا ملی. وہ بات بات پر اسے زہرہ کے ساتھ بد سلوکی کے طعنے دیتی. جان محمد بھی بوڑھا ہو چکا تھا. جوان بیٹے سے روز بے عزت ہوتا مگر یہ سوچ کر خاموش رہتا کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی ہوتی ہے. اس نے بھی کسی سے ایسا ہی سلوک کیا تھا. اور آخر ایک دن دنیا سے رُخصت ہو گیا.
جان محمد کیا مرا جنت کے لئے مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے. بہو اور بیٹا تو ایک طرف اس کے پوتے پوتیاں بھی دادی سے انتہائی بد سلوکی کیا کرتے تھے. کبھی کبھار تو بیٹا اس پر ہاتھ بھی اٹھا دیتا. سب کہتے جو بویا وہی کاٹ رہی ہے یہ بڑھیا.
اب جنت دماغی مریض ہو چکی تھی. سب کہتے امّاں زہرہ کے ساتھ سب کو ہمدردی تھی اس لئے اس کے پاس چلے جاتے لیکن جنت کے پاس کسی کا جانے کو جی نہ چاہتا تھا. لوگ کہتے دیکھنا اس کا انجام کس قدر برا ہوتا ہے.
لوگوں کی کہی ہوئی بات درست ثابت ہوئی. کینسر کی وجہ سے اس کی رنگت ہلدی ہو گئی تھی، جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا، کروٹ نہ بدلنے کی وجہ سے جسم میں کیڑے پڑ گئے تھے، اس کا جسم گلنا شروع ہو گیا تھا. اب جنت کو رہ رہ کر زہرہ یاد آ رہی تھی. اپنے ظلم کی معافی مانگنے کا وقت بھی اس کے پاس نہیں رہا تھا.
ایک دن جنت کی بہو اور بیٹا اس کو کمرے میں ڈال کر باہر سے کنڈی لگا کر خود شادی میں بچوں سمیت دوسرے شہر چلے گئے. امّاں کا آخری وقت تھا. وہ اسی رات مر گئی.
شام کے وقت کسی نے دروازہ کھولا اور عورتوں کو بلا کر تدفین کا انتظام کروایا. اس کے بیٹے کا انتظار کرنے کا وقت نہیں تھا کیونکہ لاش سڑ رہی تھی. امّاں کو گاؤں کے لوگوں نے ہی دفنایا. ویسے بھی اس کے بیٹے کو ماں کی کونسی پروا تھی جو اس کا انتظار کرتے. اس لئے سب نے اس کو قبر میں پہنچانا ہی بہتر سمجھا.
یہ تھا ظلم کا انجام. لیکن میں یہ سوچ رہی ہوں کہ کیا اس کی بہو کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو گا؟یقیناً وہ بھی تو اپنے ظلم کا بدلہ پائے گی. کب تک ایسا چلے گا؟ ان بھٹکے ہوئے لوگوں کو کب عقل آئے گی؟

Entry filed under: متفرق. Tags: , , , , , , .

اسے تقدیر کہتے ہیں……. اپنوں نے غم دئیے…….

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Trackback this post  |  Subscribe to the comments via RSS Feed


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا “اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]

%d bloggers like this: