Archive for اپریل, 2011

خوبصورتی کی حفاظت

Advertisements

اپریل 30, 2011 at 05:22 تبصرہ کریں

یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے

اپریل 28, 2011 at 12:29 تبصرہ کریں

سنہری مچھلی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی چھوٹے سے گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا. اس کا نام دینو تھا. دینو ابھی بہت چھوٹا تھا کہ اس کا باپ فوت ہو گیا. وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا. دینو ایک بہت ہی ایماندار اور شریف لڑکا تھا. وہ صبح صبح گھر سے نکلتا اور جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنا اور اپنی ماں کا پیٹ پالتا تھا. ایک دن صبح صبح روکھی  سوکھی روٹی کھا کر ماں کو سلام کر کے جنگل کی طرف روانہ ہو گیا. اس نے سوچا گھر کا راشن ختم ہو چکا ہے، آج میں بہت زیادہ لکڑیاں کاٹوں گا. دینو نے ایک بہت ہی موٹا اور تناور درخت ڈھونڈا اور لکڑیاں کاٹنے لگا. اس درخت کے پاس ہی بہت بڑی جھیل تھی. لکڑیاں کاٹتے کاٹتے دینو کا کلہاڑا ہاتھ سے چھوٹ کر پاس سے گزرتی ہوئی جھیل میں جا گرا. دینو بہت پریشان ہوا اور سوچنے لگا کہ یہ کلہاڑا اس کی روزی کمانے کا واحد ذریعہ تھا، جو اب اس کے پاس نہیں رہا تھا. اب وہ گھر کا سامان کیسے خریدے گا اور ماں کو کیا جواب دے گا. یہ سوچ کر دینو جھیل کے پاس بیٹھ کر رونے لگا. دینو زور زور سے رو رہا تھا. اسی جھیل کے اندر ایک بہت ہی پیاری سنہری مچھلی اپنی دادی کے ساتھ رہا کرتی تھی. جب سنہری مچھلی نے جھیل کے اوپر رونے کی آواز سنی تو وہ جھیل کے اوپر آ گئی. سنہری مچھلی نے ایک چھوٹے لڑکے کو روتے دیکھا تو پوچھا تم کیوں رو رہے ہو؟ دینو نے سنہری مچھلی کو بتایا کہ اس کا کلہاڑا جھیل میں گر گیا ہے جس سے وہ لکڑیاں کاٹ کر گزارہ کیا کرتا تھا. یہ سن کر سنہری مچھلی نہ کہا تم مت روؤ، میں تمھارا کلہاڑا تلاش کرتی ہوں. یہ کہہ کر سنہری مچھلی اپنی دادی اماں کے پاس آئی اور ساری بات بتائی. سنہرے مچھلی کی دادی اماں نے کہا  کہ مجھے وہ لکڑہارا بہت غریب لگتا ہے ، تم اسے اپنا سونے کا کلہاڑا تحفے میں دے دو. سنہری مچھلی نے سونے کا کلہاڑا لیا  اور لکڑہارے کے پاس آ کر کہا. یہ لو تمہارا کلہاڑا. دینو نے جب اپنے لوہے کے کلہاڑے کی بجائے سونے کا کلہاڑا دیکھا تو اس نے کہا یہ میرا کلہاڑا نہیں ہے. میرا کلہاڑا تو لوہے کا تھا.
سنہری مچھلی اپنی دادی اماں کے پاس واپس آئی اور اسے ساری بات سنائی. سنہری مچھلی کی دادی اماں نے کہا وہ لکڑہارا تو بہت ایماندار ہے. تم اسے اس کا لوہے کا کلہاڑا تلاش کر دو اور اپنا سونے کا کلہاڑا بھی اسے تحفے میں دے دو.
سنہری مچھلی لوہے کا کلہاڑا تلاش کرنے لگی، جو اسے جلد ہی مل گیا. وہ دونوں کلہاڑے لے کر دینو کے پاس آئی اور کہا یہ رہا تمہارا لوہے کا کلہاڑا اور یہ سونے کا کلہاڑا تمھاری ایمانداری کا انعام ہے. دینو دونوں کلہاڑے لے کر بہت خوش ہوا اور سنہری مچھلی کا شکریہ ادا کیا. گھر واپس آ کر دینو نے سارا واقعہ اپنی ماں کو سنایا . اس کی ماں بہت خوش ہوئی. دینو نے اس سونے کے کلہاڑے سے ایک لکڑی کاٹی. جیسے ہی دینو نے سونے کا کلہاڑا لکڑی پر مارا وہ سونے کی بن گئی. دینو بہت حیران ہوا. دینو جہاں بھی وہ سونے کا کلہاڑا مارتا وہ چیز سونے کی بن جاتی. اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے سارا گھر سونے میں تبدیل ہو گیا. دینو اور اس کی ماں بہت خوش ہوئے اور یہ سب دینو کی ایمانداری کا انعام تھا.
دینو کے ہمسائیوں میں ایک بہت ہی مغرور اور لالچی عورت اور اس کا بیٹا رہتے تھے. جب انہیں اس بات کا علم ہوا کہ دینو کو جھیل میں سنہری مچھلی نے ایک سونے کا کلہاڑا دیا ہے جس سے اس کا گھر سونے میں بدل گیا ہے. تو وہ عورت اپنے بیٹے کے ساتھ لوہے کا کلہاڑا لے کر جھیل پر گئی اور اپنے بیٹے کو سمجھانے لگی کہ تم جان بوجھ کر اپنا لوہے کا کلہاڑا جھیل میں پھینکنا، پھر جیسے ہی سنہری مچھلی اوپر آئے اسے کہنا کہ میرا کلہاڑا جھیل میں گر گیا ہے. میں بہت غریب لڑکا ہوں اور اگر وہ لوہے کا کلہاڑا لے کر آئے تو اسے کہنا یہ تو میرا کلہاڑا نہیں ہے، میرا کلہاڑا تو سونے کا تھا. یہ ساری باتیں سنہری مچھلی نے سن لیں  اور واپس آ کر اپنی دادی اماں کو بتائیں. اس کی دادی ماں نے کہا مجھے یہ عورت اور لڑکا لالچی معلوم ہوتے ہیں. تم انہیں اپنا جادو کا کلہاڑا دے دو تا کہ انہیں لالچ کی سزا ملے. سنہری مچھلی اپنی دادی کے کہنے کے مطابق جادو والا سونے کا کلہاڑا لے آئی اور اس لڑکے کو کہا کہ یہ تمھارا کلہاڑا ہے؟ اس لڑکے نے کہا ہاں یہ میرا کلہاڑا ہے، یہ میرا کلہاڑا ہے جو جھیل میں گر گیا تھا. مجھے میرا کلہاڑا واپس دو، جسے پا کر وہ لڑکا اور اس کی ماں بہت خوش ہو گئے. گھر کی ہر ایک چیز ٹوٹ چکی تھی. یہ دیکھ کر لڑکا اور اس کی ماں بیٹھ کر رونے لگے مگر اب رونے کا کیا فائدہ. یہ تو ان کے لالچ کا نتیجہ تھا. سچ ہے، لالچ بہت بری بلا ہے.

اپریل 26, 2011 at 06:18 تبصرہ کریں

مزاحیہ اردو نظمیں

کوچئہ یار میں جو میں نے جبیں سائی کی
اس کے ابا نے میری خوب پزیرائی کی
میں نے تو سمجھا تھا کہ وہ شخص مسیحا ہو گا
اس نے میری تو مگر تارا مسیحائی کی
وہ بھری بزم میں کہتی ہے مجھے انکل جی
ڈپلومیسی ہے یہ کیسی میری ہمسائی کی
رات ہجرے میں علاقے کی پولیس گھس آئی
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
میں جسے ہیر سمجھتا تھا وہ رانجھا نکلی
بات نیت کی نہیں بات ہے بینائی کی
اے میری بیگم نہ تو میری خودی کمزور کر
یہ شریفوں کا محلّہ ہے نہ اتنا شور کر
شب کے پر تسکین لمحوں میں نہ مجھ کو بور کر
اس سعادت مند شوہر کو نہ یوں اگنور کر
***
دیدہ دل تیری چاہت کے لئے بیتاب ہیں
مجھ سے شوہر آج کل بازار میں نایاب ہیں
***
میرے آنے پر پابندی کبھی جانے پہ ہے
ہے کبھی پینے پہ قدغن اور کبھی کھانے پہ ہے
شام تک یہ بوجھ کتنا تیرے دیوانے پہ ہے
ایک بچہ بغل میں ہے دوسرا شانے پہ ہے
***
بیٹھا ہے مجھ پہ ظالم دونوں گھٹنے جوڑ کر
یہ تیرا بچہ رہے میری گردن توڑ کر
جب سے بیگم نے مجھے مرغا بنا رکھا ہے
میں نے نظروں کی طرح سر بھی جھکا رکھا ہے
برتنو!آج میرے سر پہ برستے کیوں ہو
میں نے دھو دھا کے تمہیں کتنا سجا رکھا ہے
پہلے بیلن نے بنایا میرے سر پر گومڑ
اور چمٹے نے میرا گال سجا رکھا ہے
سارے کپڑے تو جلا ڈالے میری بیگم نے
زیب تن کرنے کو بنیان پھٹا رکھا ہے
اے کنوارو! یونہی آباد رہو شاد رہو
ہم کو بیگم نے تو سولی پر چڑھا رکھا ہے
وہی دنیا میں مقدر کا سکندر ٹہرا!
جس نے خود کو یہاں شادی سے بچا رکھا ہے
حق نسواں کی جو لیڈر ہیں بتائیں تو زرا
کس نے سرتاج کو جوتی پر اٹھا رکھا ہے
روز لیتی ہے تلاشی وہ پولیس کی مانند
پوچھتی ہے کہاں پیسوں کو چھپا رکھا ہے
پی جا اس مر کی تلخی کو بھی ہنس کے اے شوہر
مار کھانے میں بھی قدرت نے مزہ رکھا ہے

اپریل 23, 2011 at 05:39 تبصرہ کریں

محسن نقوی

سیّد محسن نقوی پاکستان کے عظیم اردو شاعر تھے.محسن نقوی کا اصل نام غلام عباس تھا. آپ اہل تشیع کے مشہور خطیب تھے. ان کی موت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا قتل ہوا تھا. ان کی وفات 15 جنوری 1996 کو ہوئی. سیّد محسن نقسی ڈیرہ غازی خان کے نزدیک ایک گاؤں میں پیدا ہوئے.
انہوں نے گریجوئیشن تک کی تعلین ملتان کے ایک  سرکاری کالج بوسن سے  حاصل کی. آپ نے ایم-اے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیا. اسی دوران آپ کا پہلا مجموعہ کلام چھپا. اس کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے، وہیں آپ ایک دہشت گرد کے ہاتھوں شہید ہوئے. اب تک ان کے کئی مجموعہ کلام چھپ چکے ہیں جن میں سے کچھ کے نام یہاں شامل کئے گئے ہیں:
  • بندِ قبا
  • بزرگِ صحرا
  • ریزہ حرف
  • عذاب دید
  • طلوعِ اشک
  • رختِ شب
  • خیمہ جاں
  • موجِ ادراک
  • فرات فکر
محسن نقوی اہلِ بیت کے شاعر کے طور پر بھی جانے جاتے تھے. انہوں نے کربلا پر جو شاعری لکھی وہ دنیا بھر میں پڑھی اور پسند کی جاتی ہے. انہوں نے اپنی شاعری نہ صرف الف-لیلٰی کے موضوع تک محدود رکھی بلکہ انہوں نے دینا کے حکمرانوں کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا جنہیں اپنے لوگوں کی کوئی فکر نہ تھی.
گو کہ محسن نقوی نے شاعری کے میدان میں بہت شہرت حاصل کی لیکن یہاں انکی شاعری میں سے ایک ہی غزل پیش کی جائے گی:
میں دل پر جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو؟
میں تیرے شہر کے سارے دئیے بجھا دوں گا
ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں
ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا
وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے
پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا
اسی خیال میں گزری ہے شامِ درد اکثر
کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا
تو آسمان کی صورت ہے، گر پڑے گا کبھی
زمین ہوں میں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا
بڑھا رہی ہیں میرے دکھ، تیری نشانیاں
میں تیرے خط، تری تصویر تک جلا دوں گا
بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسن
اس آئینے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا

اپریل 21, 2011 at 07:18 تبصرہ کریں

وضو کی دُعائیں

وضو کرنے سے قبل مسواک کرنا سُنّت ہے اور پھر کہیں اے اللہ میں تیرے لئے وضو کرتی یا کرتا ہوں، تو مجھے شیطانی وسوسوں سے بچا.
  • سب سے پہلے جب وضو کے لئے ہاتھ دھوئیں تو اللہ تعالٰی سے یہ دعا کریں کہ میرے ہاتھوں کو گردشوں، نحوست اور گناہوں سے دور فرما.
  • جب کلی کریں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی میرے منہ سے غیبت اور برے فعل نہ نکلیں اور تیرا ذکر اور شکر نکلے.
  • جب ناک میں پانی ڈالیں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی اس ناک سے جنّت کی خوشبو سونگھنا نصیب فرما نا اور جہنّم کی بدبو سے بچا.
  • جب چہرہ دھوئیں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی اس چہرہ کو مرتے دم تک روشن رکھنا اور آخرت میں بھی نور سے منور کرنا.
  • جب دایاں ہاتھ دھوئیں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس میں نامہ اعمال دینا اور بائیں ہاتھ میں عمل نامہ نہ دینا.
  • جب مسح کرنے کے لئے ہاتھ اونچے کریں تو آنکھوں پر ہاتھ لگا کر یہ دعا کریں اللہ تعالٰی ان آنکھوں سے دنیا میں تیرے گھر اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے روضہ مبارک کا دیدار نصیب فرما. میرے بچوں کی خوشیاں اور خیر دکھا.
  • جب سر پر مسح کریں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن محشر کی گرمی سے بچا کر عرش کا سایہ عطا فرما.
  • جب کان پر ہاتھ پھیریں تو یہ دعا کریں کہ اس کان سے خوشخبری سنیں، غم اور صدمے کی خبر نہ سنیں، جنّت کی خوشخبری سنیں.
  • جب گردن پر مسح کریں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن میری گردن کو گناہوں کے بوجھ سے آزاد کر دے.
  • جب دایاں پاؤں دھوئیں تو یہ دعا کریں کہ اللہ تعالٰی مجھے صراط مستقیم پر چلانا اور جب بایاں پاؤں دھوئیں تو یہ دعا کریں کہ مجھے پُل صراط جلدی پار کرا دینا.
(حضور صلے اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ وضو اگر ان دُعاؤں کے ساتھ کیا جائے تو تمہاری نماز بھی درست اور توجہ کے ساتھ ہو گی اور دین و دنیا میں بھلائی اور کامیابی ہو گی اور دل کو سکون ملے گا.)

اپریل 19, 2011 at 06:10 تبصرہ کریں

اداس شاعری

اپریل 16, 2011 at 05:21 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]