Archive for مارچ, 2011

مرزا اسد اللہ خان غالب کی شاعری

مارچ 14, 2011 at 07:48 تبصرہ کریں

ایک گونگا تین بہرے

ایک بہرا جنگل میں بکریاں چرا رہا تھا اسے سخت بھوک لگ رہی تھی، مگر اس کی بیوی اب تک کھانا لے کر نہیں آئی تھی اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا آدمی بیٹھا گھاس کاٹ رہا تھا وہ شخص بھی بہرا تھا پہلے بہرے شخص نے کہا بھائی، میری بیوی میرے لیے کھانا نہیں لائی مجھے بھوک لگ رہی ہے، آپ میری بکریوں کی حفاظت کریں میں جب تک گھر سے کھانا کھا آتا ہوں۔
دوسرا بہرا سمجھا کہ یہ مجھے اپنی بکریوں کے لیے گھاس مانگ رہا ہے اس نے کہا، نہیں میں گھاس نہیں دوں گا۔
پہلا بولا۔ میں بہت جلد واپس آجاؤں گا، تم فکر نہ کرو۔
دوسرا بولا، یہ گھاس میں نے اپنی بکریوں کے لیے کاٹی ہے۔ میں یہ گھاس تمہیں نہیں دوں گا۔
پہلا سمجھا کہ دوسرا کہہ رہا ہے، تم جاؤ، وہ چلا گیا، جب وہ کھانا کھا کر واپس آیا تو اس نے اپنی بکریں دیکھیں جو پوری تھیں اور وہ آدمی بدستور گھاس کاٹ رہا تھا۔ اس نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر یہ چاہتا تو میری ساری بکریاں لے جاتا  مگر شریف آدمی لگتا ہے کیوں نہ میں اسے اپنی لنگڑی بکری تحفے میں دے دوں۔ وہ اپنی لنگڑی بکرے لے کر اس آدمی کے پاس گیا اور کہا، تم نے میری بکریوں کی حفاظت کی ہے اس لیے میں یہ بکری تمہیں تحفے میں دیتا ہوں لیکن یہ بکری لنگڑی ہے۔
دوسرے بہرے نے کہا۔ میں نے اس بکری کی ٹانگ نہیں توڑی۔
پہلا بولا۔ میں یہ بکری تمہیں خوشی سے دے رہا ہوں لے لو۔
دوسرا بہرا بولا۔میں نے تمہاری بکری کی ٹانگ نہیں توڑی۔ اسی دوران سامنے سے ایک شخص آتا دکھائی دیا وہ شخص بھی بہرا تھا دونوں بہروں نے اسے روکا، تیسرا بہرا شخص گھوڑے سے اتر آیا۔
پہلے بہرے نے کہا۔ میں اسے یہ بکرے دے رہا ہوں مگر یہ نہیں لے رہا ہے۔
دوسرا بہرا بولا۔ اس بکری کی ٹانگ میں نے نہیں توڑی۔
تیسرا شخص بولا۔ ہاں تم دونوں ٹھیک کہہ رہے ہو، یہ گھوڑا میں نے چوری کیا ہے میں یہ تمہیں واپس دیتا ہوں مجھے معاف کردو۔ انہوں نے سامنے سے ایک لمبی سفید داڑھی والے بوڑھے کو آتے دیکھا تو تینوں اس کے پاس گئے۔
پہلا بولا۔ باباجی، میں کھانا کھانے گیا اس نے میری بکریوں کی حفاظت کی، اس لیے میں اسے اپنی ایک بکرے دے رہا ہوں مگر یہ نہیں لے رہا ہے۔
دوسرا بہرا بولا۔ میں نے اس سے کہہ دیا کہ میں نے بکری کی ٹانگ نہیں توڑی مگر یہ مانتا ہی نہیں۔
تیسرا بہرا بولا۔ میں مانتا ہوں کہ میں نے چوری کی ہے اور یہ گھوڑا تمہارا ہے لیکن آپ لوگ مجھے معاف کردیں میں آئندہ چوری نہیں کروں گا۔ بوڑھا شخص تینوں کو غور سے دیکھنے لگا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، انہیں گھور کر دیکھنے لگا، وہ سمجھے یہ کوئی جادوگر ہے، جو ان پر جادو کرنا چاہتا ہے، وہ تینوں اپنی اپنی چیزیں لے کر بھاگ گئے۔

مارچ 11, 2011 at 06:46 تبصرہ کریں

ماه ربیع الثانی کے اعمال

ربيع الثاني اسلامي قمري سال کا چوتھا مہينہ ہے، يہ بڑي فضيلت اور برکت والا مہينہ ہے، اس ماہ کو ربيع الآخر بھي کہا جاتا ہے، ربيع الثاني کے مہينہ ميں نوافل و وظائف کا پڑھنا بے شمار ثواب حاصل کرنےکا باعث ہے۔
پہلي شب
اس ماہ کي پہلي شب نماز مغرب کي ادائيگي کے بعد عشاء کي نماز سے قبل آٹھ رکعت نفل نماز دو رکعت کر کے اس طرح پڑھے کہ پہلي رکعت ميں سورہ فاتحہ کے بعد تين بار سورہ کوثر دوسري رکعت ميں سورہ فاتحہ کے بعد تين مرتبہ سورہ کافرون، اس کےبعد باقي تمام رکعتوں ميں سورہ فاتحہ کے بعد ہر رکعت ميں تين تين مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے، اس نماز کو پڑھنے سے اللہ تعالي ہر طرح کي پريشاني و مشکل سے خلاصي عطا فرماتا ہے۔
تيسري شب
جو کوئي ربيع الثاني کي تيسري شب نماز عشا کے بعد چار رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت ميں سورہ فاتحہ کے بعد تين تين مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے، سلام پھيرنے کے بعد چاليس مرتبہ يہ پڑھے "يابدوح يا بديع” انشا اللہ تعالي جو بھي نيک حاجت ہو گی پوري ہو گی۔
پانچويں شب
اس ماہ کي پانچويں شب کو نماز عشا کے بعد چار رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت ميں سورہ فاتحہ کے بعد نو مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے، پروردگار عالم نوافل کي مداومت کرنے والے کو جنت الفردوس ميں جگہ عطا فرمائے گا۔
پندرہ تاريخ
جو کوئي ربيع الثانی کي پندرہ تاريخ کو چاشت کے بعد چودہ رکعت نفل نماز دو رکعت کر کے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت ميں سورہ فاتحہ کے بعد سات سات مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے سلام پھيرنے کے بعد نہايت توجہ و يکسوئی کے ساتھ ساٹھ مرتبہ يہ پڑھے۔
"يا ملک”
جو چاہے گا وہ حاصل ہو گا۔
پندرھويں اور انتيسويں شب
اس ماہ کي پندرہ اور انتيس شب کو نماز عشاء کے بعد چار رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت ميں سورہ فاتحہ کے بعد پانچ پانچ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے، سلام پھيرنے کے بعد اللہ تعالي سے دعا مانگے انشا اللہ جو بھی جائز دلی مراد ہوگی وہ پوري ہوگی۔
ماہِ ربیع الثانی میں وفات پانے والے اولیائے کرام و بزرگانِ دین
یکم ربیع الثانی:
٭ حضرت ابو سعید چشتی دست رسول ۔۔۔۔۔۔ ١٠٤٣ھ ٭ حضرت امام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی
٢ربیع الثانی:
٭ حضرت شاہ اکرم چشتی۔۔۔۔۔۔١٠٢٦ھ
٣ ربیع الثانی:
٭ حضرت ام المؤمنین زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا۔۔۔۔۔۔٤ھ ٭ حضرت مولوی کرامت علی جونپوری۔۔۔۔۔۔١٢٩٠ھ ٭ حضرت خواجہ حبیب عجمی
٤ ربیع الثانی:
٭ حضرت سید شاہ جمال لاہوری۔۔۔۔۔۔١٠٤٩ھ
٥ ربیع الثانی:
٭ حضرت سید ابراہیم ایرجی دہلوی۔۔۔۔۔۔٩٥٣ھ ٭ حضرت قاری محمد عبدالرحمن پانی پتی۔۔۔۔۔۔١٣١٤ھ ٭ حضرت شاہ محکم الدین صاحب السیر۔۔۔۔۔۔١١٩٧ھ
٦ ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ عبدالکبیر پانی پتی۔۔۔۔۔۔٩٤٧ھ ٭ حضرت عارف باللہ بنڈل شاہ بابا ٭ فقیہ اعظم مولانا محمد شریف کوٹلی لوہاراں
٧ ربیع الثانی:
٭ حضرت امام المسلمین سیدنا مالک بن انس رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔١٧٩ھ ٭ حضرت آغا محمد ترک بخاری دہلوی۔۔۔۔۔۔٧٣٩ھ ٭ حضرت امام مالک ٭ حضرت خواجہ غلام فرید
٨ ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ عبدالحئی چشتی جونپوری۔۔۔۔۔۔١٠٨١ھ
٩ ربیع الثانی:
٭ حضرت مفتی غلام محمد لاہوری ۔۔۔۔۔۔١٢٧٦ھ ٭ حضرت امام احمد بن حنبل ٭ حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی الٰہ آبادی۔۔۔۔۔۔حضرت مولوی میر باز خان
١٠ربیع الثانی:
٭ حضرت ابراہیم حلبی۔۔۔۔۔۔١١٩٠ھ
١١ ربیع الثانی:
٭ حضرت شمس الدین خراسانی۔۔۔۔۔۔٤٥٧ھ ٭ حضرت ابو سعید علی معروف بہ مبارک مخزومی واسطی۔۔۔۔۔۔٥١٣ھ ٭ حضرت امام عبدالغنی ملتانی۔۔۔۔۔۔٥٤٣ھ ٭ حضرت شخ بہاؤالدین جونپوری رزق کشا ۔۔۔۔۔۔٩٦٣ھ ٭ حضرت سید شاہ حسین گیلانی لاہوری۔۔۔۔۔۔١٢٠٥ھ ٭ حضرت سید شاہ محمد بن سید عثمان ۔۔۔۔۔۔١٠١١ھ ٭ حضرت سید حاجی عبداللہ گیلانی۔۔۔۔۔۔١١٤١ھ ٭ ضرت مولانا شاہ محمد وارث رسول نما بنارسی۔۔۔۔۔۔١١٦٣ھ ٭ حضرت محبوب سبحانی شیخ سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ،
١٢ ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ عبداللہ برقی خوارزمی۔۔۔۔۔۔٣٧٦ھ ٭ حضرت شیخ امان عرف عبدالملک۔۔۔۔۔۔٩٧٥ھ ٭ حضرت شاہ جمال۔۔۔۔۔۔١٠٠٠ھ ٭ حضرت شیخ جمال اللہ نوشاہی۔۔۔۔۔۔١١٤٢ھ ٭ حضرت سید گدا رحمن بن محبوب علی معشوق صفات ۔۔۔۔۔۔٩٨٧ھ
١٣ربیع الثانی:
٭ حضرت سید موسی جون۔۔۔۔۔۔٢١٣ھ ٭ حضرت ابو سالم شاذلی۔۔۔۔۔۔٥٤٧ھ ٭ حضرت سید نور الدین مبارک غزنوی۔۔۔۔۔۔٦٣٢ھ ٭ حضرت میاں عبدالحئی حیدرآبادی۔۔۔۔۔۔١١٧١ھ ٭ حضرت خواجہ غلام محمد تونسوی
١٤ربیع الثانی:
٭ حضرت ابو اسحق مغربی۔۔۔۔۔۔٤٦١ھ ٭ حضرت سید حسن شاہ ۔۔۔۔۔۔ ٦٩٩ھ ٭ حضرت خضر رومی ٧٤٦ھ ٭ حضرت شیخ عبدالحمید گنگوہی۔۔۔۔۔۔٩٨٥ھ ٭ حضرت شاہ محمد ماہ قلندر دہلوی۔۔۔۔۔۔١٠٠٠ھ ٭ حضرت شاہ شمس سبزواری ملتانی ٭ حضرت شاہ گدا رحمن
١٥ ربیع الثانی:
٭ حضرت شاہ مجتبیٰ عرف مجا قلندر لاہر پوری۔۔۔۔۔۔١٠٨٤ھ ٭ حضرت شاہ منور علی قادری عمر دراز۔۔۔۔۔۔١١٩٩ھ ٭ حضرت سیدنا شاہ مصطفی حیدر حسن میاں
١٦ ربیع الثانی:
٭ حضرت خواجہ بدر الدین غزنوی۔۔۔۔۔۔٦٥٧ھ ٭ ٭ حضرت ابو القاسم قیشری ٭ حضرت میاں موج دریا بخاری
١٧ ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ ابو الفضل جوہری۔۔۔۔۔۔٣١٩ھ ٭ حضرت عبداللہ محمد بن ابراہیم قریشی بغدادی۔۔۔۔۔۔٥٩٩ھ ٭ حضرت شیخ محمد بن یقوب سوسی دمشقی۔۔۔۔۔۔٦٠٧ھ ٭ حضرت حاجی شرف الدین ۔۔۔۔۔۔٧٠٧ھ ٭ حضرت سید شمس الدین بغدادی ۔۔۔۔۔۔ ٧٧١ھ ٭ حضرت شیخ مجتبیٰ گوہر قلندر۔۔۔۔۔۔١٠٥٧ھ ٭ حضرت میراں موج دریا لاہوری٭ حجرت سید محمد شاہ دُولہ سبزواری
١٨ ربیع الثانی:
٭ حضرت سلطان الاولیاء خواجہ نظام الدین اولیا معشوق الٰہی دہلوی۔۔۔۔۔۔٧٢٥ھ ٭ حضرت شیخ نور الدین نور قطب عالم پنڈوی۔۔۔۔۔۔٨١٣ھ ٭ حضرت قاضی محمد صدر الدین ہزاروی
١٩ ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ الاسلام ابو اسمعیل خواجہ عبداللہ انصاری۔۔۔۔۔۔٤٨١ھ ٭ حضرت مولوی قطب الہدیٰ رائے بریلوی۔۔۔۔۔۔١٢٢٦ھ ٭ حضرت شیخ شریف بدرالدین حسن مغربی۔۔۔۔۔۔٥٤٩ھ ٭ حضرت شیخ نصیر الدین بلخی۔۔۔۔۔۔٧٥٦ھ ٭ حضرت سید یٰسۤن بغدادی۔۔۔۔۔۔٧٩٨ھ ٭ حضرت شیخ بہکہاری عرف نظام الدین کاکوروی ۔۔۔۔۔۔ ٩٨١ھ ٭ ٭ حضرت علامہ مولانا نور الدین عبدالرحمن جامی السامی ٭ حضرت شاہ دولہا دریائی گجراتی
٢٠ ربیع الثانی:
٭ حضرت شاہ حمید ابدال۔۔۔۔۔۔١٠٦١٠ھ ٭ حضرت شاہ محمد کاظم قلندر۔۔۔۔۔۔١٢٤١ھ
٢١ ربیع الثانی:
٭ حضرت ملا حسین واعظ کاشقی۔۔۔۔۔۔٩١٠ھ ٭ حضرت شیخ محب اللہ چشتی صابری۔۔۔۔۔۔١٠٥٨ھ
٢٢ ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی للخاطب الشیخ اکبر۔۔۔۔۔۔٦٣٨ھ ٭ حضرت مخدوم شیخ احمد گجراتی۔۔۔۔۔۔٨٨٠ھ ٭ حضرت شاہ عبدالرحمن نگرامی
٢٣ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ مجد الدین بغدادی۔۔۔۔۔۔٦٦١ھ ٭ حضرت خواجہ عبدالشہیدنقشبندی۔۔۔۔۔۔٩٨٢ھ ٭ حضرت مولانا ابو الاحیاء محمد نعیم قادری رزاقی لکھنوی ۔۔۔۔۔۔ ١٣١٨ھ
٢٤ربیع الثانی:
٭ حضرت خواجہ کلیم اللہ جہان آبادی۔۔۔۔۔۔١١٤٢ھ ٭ حضرت شرف الدین ابو اسحق شامی۔۔۔۔۔۔٣٢٩ھ
٢٥ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ حمزہ دہر سوی۔۔۔۔۔۔٩٥٧ھ ٭ مولوی حکیم محمد قطب الدین جھنگوی۔۔۔۔۔۔١٣٧٩ھ ٭ حضرت حافظ محمد صاحب قادری عمر زئی پشاوری
٢٦ربیع الثانی:
٭ مولوی علی محمد جماعتی۔۔۔۔۔۔١٣٨٦ھ ٭ ٭ حضرت سیدنا شاہ اولاد رسول مارہروی
٢٧ربیع الثانی:
٭ حضرت ابو سعید اعرابی ۔۔۔۔۔۔٣٦٢ھ ٭ حضرت ابو سلیمان احمد خطابی (صاحب معالم السنن)۔۔۔۔۔۔٣٨٨ھ ٭ حضرت خواجہ داؤد طائی
٢٨ربیع الثانی:
٭ حضرت شاہ اجمل سنبھلی (بھارت)
٢٩ ربیع الثانی:
٭ حضرت شیخ فرید الدین عطار نیشاپوری۔۔۔۔۔۔٦٢٧ھ ٭ حضرت شیخ حمید الدین صوفی ناگوری۔۔۔۔۔۔٦٧٣ھ
٣٠ربیع الثانی:
٭ حضرت سید جمال الدین احمد ہانسوی۔۔۔۔۔۔٦٥٩ھ ٭ حضرت شیخ جمال الدین احمد جورقانی۔۔۔۔۔۔٦٦٩ھ

مارچ 9, 2011 at 07:10 تبصرہ کریں

عقل مند گدھا

جنگل کے بادشاہ ببر شیر نے چشمے کے کنارے والی چٹان کے نیچے گھنی جھاڑیوں سے جھانک کر دور تک پھیلے دھان کے لہلہاتے کھیت پر نظر ڈالی، بہت دور ایک درخت کے نیچے کوئی چیز ہلتی ہوئی نظر آرہی تھی، شہر نے پنجوں سے آنکھیں ملتے ہوئے دوبارہ اس طرف دیکھا، یقینا وہ کالا ہرن تھا، شیر رات سے بھوکا تھا۔ کالے ہرن کے لذیز گوشت کے تصور ہی سے اس کے منہ میں پانی آگیا اور ایک ماہر شکاری کی مانند جھاڑیوں کی آڑ لیتے ہوئے اس نے ہرن کی طرف قدم بڑھائے….
دوسری طرف بانسوں کے جھنڈ میں ایک چیتا بھی ہرن پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ بھوک سے اس کے پیٹ میں بھی چوہے دوڑ رہے تھے۔ چیتے نے بھی ہرن کی طرف بڑھنا شروع کیا۔
ہرن دونوں طرف سے بڑھتے ہوئے خطروں سے بے خبر نرم نرم گھاس کھانے میں مشغول تھا. کبھی کبھی وہ اپنی بادام جیسی آنکھیں گھما کر ادھر ادھر دیکھتا اور پھر گھاس کھانے لگتا۔ جانور خطرے کی بو سونگھ لیتے ہیں۔ ہرن کی بے چین آنکھی ظاہر کر رہی تھیں کہ اس نے خطرے کی بو سونگھ لی ہے۔ اس نے کان کھڑے کر کے گردن گھما کر چشمے کی طرف دیکھا جہاں میدان میں دو ریچھ کے بچے کھیل رہے تھے، ابھی ہرن پہاڑ کی طرف رخ کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ مشرق اور جنوب سے شیر اور چیتے نے جھاڑیوں سے چھلانگیں لگائیں اور دونوں تیر کی طرح ہرن کی طرف لپکے، ہرن لمبی لمبی قلانچیں مارتا ہوا پہاڑوں کی طرف بھاگا۔
شیر اور چیتے کی رفتار کے مقابلے میں ہرن کی رفتار کم تھی، لیکن وہ اپنے ہلکے اور سڈول جسم کی وجہ سے ان دونوں کو غچہ دیتے ہوئے بھاگ رہا تھا، اس بھاگ دوڑ میں ان تینوں نے میلوں کا فاصلہ طے کر لیا، آخر کار ہرن ایک چٹان پر چڑھ گیا، جو اتنی اونچی تھی کہ اس پر شیر اور چیتا نہیں چڑھ سکتے تھے، شیر اور چیتا چٹان کے نیچے زبانیں نکالے ہانپ رہے تھے اور ہرن کو للچائی نظروں سے دیکھ رہے تھے، جب سانسیں درست ہوئیں تو شیر نے کہا۔ ”یہ میرا شکار ہے پہلے میں نے تاکا تھا“۔
چیتے نے غصے سے جواب دیا۔ ”آپ جنگل کے بادشاہ ضرور ہیں لیکن یہ جنگل ہے انسانوں کی دنیا نہیں کہ بادشاہ جو چاہے کرے، جانور اپنے حقوق کی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں۔ یہ میرا شکار ہے“۔
شیر دہاڑا: ”انسان ہو یا جانور‘ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہر جگہ چلتا ہے میں تم سے زیادہ طاقتور ہوں“۔
شیر اور چیتے کی تکرار سن کر ہرن نے اطمینان کا سانس لیا اور کہا ”میرے محترم بادشاہ ہو! یہ میری خوش نصیبی ہوگی کہ میں آپ جیسے شاہی خاندار کے افراد کی غذا بنوں، لیکن پہلے آاپ دونوں طے کر لیں کہ آپ میں سے کون میرا لذیذ گوشت نوش فرمائے گا“۔
شیر اور چیتا دوبارہ تکرار کرنے لگے، اسی دوران ادھر سے ایک گدھے کا گزر ہوا تو ہرن نے جھٹ سے مشورہ دیا ”میرے خیال سے آپ دونوں اس سلسلے میں گدھے صاحب سے مشورہ لے لیں، کیوں کہ مشورہ دینے کے لیے عقلمند ہونا ضروری نہیں“۔
شیر نے کہا ”چلو مجھے منظور ہے، وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے“۔
چیتے نے گدھے کو حکم دیا ”گدھے کے بچے! ادھر آﺅ….“
گدھا پہلے تو ڈرا کہ کہیں یہ دونوں اسے ہی ہڑپ نہ کر لیں، پھر ڈرتے ڈرتے دانت نکالتا ہوا ان کے قریب آیا اور جب اس نے پورا قصہ سنا تو خوشی سے مشورہ دیا ”ہاں تو شیر صاحب آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ نے ہرن پر پہلے نظرِ بد ڈالی جب کہ چیتے صاحب کا دعویٰ ہے کہ ہرن کو دیکھ کر پہلے ان کی رال ٹپکی، کیوں کہ یہاں کوئی گواہ نہیں ہے اس لیے میرا مشورہ ہے کہ آپ دونوں اپنی اپنی جگہ تشریف لے جائیں اور جب میں رینکنا شروع کروں تو آپ دونوں دوڑنا شروع کر دیں جو بھی پہلے یہاں پہنچ جائے گا وہی ہرن میاں کو نوش فرمانے کا حق دار ہو گا“۔
شیر اور چیتا بھوک سے بے تاب تھے، لیکن دونوں کو اپنی تیز رفتاری پر ناز تھا اس لیے انہوں نے گدھے کی تجویز مان لی اور یہ طے ہوا کہ دونوں اپنی اپنی جگہ لوٹ جائیں گے اور اس دوران ہرن صاحب چٹان سے اتر کر نہا دھو کر ان میں سے ایک کی خوراک بننے کے لیے میدان میں کھڑے ہو جائیں گے اور جیسے ہی گدھے صاحب اپنی بے سری آواز میں رینکنا شروع کردیں گے، دوڑ شروع ہوجائے گی۔
شیر اور چیتا اپنی اپنی جگہ واپس چلے گئے، جب کافی دیر تک گدھے کے رینکنے کی آواز نہ آئی تو دونوں کا ماتھا ٹھنکا، پہلے تو انہوں نے ایک دوسرے کو گھورا، پھر چٹان کی طرف دوڑنا شروع کیا، جب وہ چٹان کے نزدیک پہنچے تو دیکھا وہاں چاروں طرف ویرانی اور سناٹا تھا۔ ہرن کا کہیں پتا نہ تھا اور گدھے کے سر سے سینگ ہی نہیں پورا گدھا غائب تھا۔
شیر نے غصہ سے چیخ کر کہا۔ ”اس گدھے کے بچے نے ہمیں دھوکا دیا“۔
چیتے نے سر جھکا کر افسوس سے کہا۔ ”شیر صاحب! گدھا وہ نہیں ہم دونوں ہیں“۔

مارچ 7, 2011 at 07:20 تبصرہ کریں

ہنسی کی دنیا!!!!

ایک سائیکل سوار کسی محلے سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک بچہ سائیکل کی زد میں آ گیا اور زور زور سے رونے لگا ،سائیکل سوار نے اسے جلدی سے بیس روپے دئیے اور اسے چپ کروانے لگا،بچہ فوراٌ چپ ہو گیا اور بولا:“انکل آپ پھر کب آئیں گے؟؟؟“
بیوی: آپ اتنے بدذوق ہیں کہ جب بھی میں گانا گاتی ہوں تو آپ باہرچلے جاتے ہیں۔
شوہر: میری بھی محلے میں کوئی عزت ہے، میں نہیں چاہتا کہ محلے والے سمجھیں کہ میں تمہیں مار رہا ہوں۔
مالک:(نوکرسے)جلدی سے بازار جاؤ اور اچھی کوالٹی کی ماچس لے کے آؤ اور دیکھنا کہیں وہ جعلی نا ہوں۔
نوکر بازار سے واپس آ کر بولا:میں نے ماچس کی ایک ایک تیلی جلا کر دیکھی ہے سب کی سب اصلی ہیں۔
بھکاری ایک شخص سے:خدا کے  نام پر ایک روپیہ دو جو مانگو گے دوں گا، اس شخص نے ایک روپیہ دے دیا-
بھکاری بولا: مانگ اب کیا مانگتا ہے-
اس  شخص نے کہا : مجھے میرا روپیہ واپس کردو-
ایک شاگرد امتحان ہال میں بیٹھا پرچہ دیکھ رہا تھا۔
استاد نے پوچھا: کیوں بھئی کیا پرچہ مشکل ہے۔
شاگرد نے کہا: پرچہ تو مشکل نہیں، مگر میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اس سوال کا جواب میری کس جیب میں ہے۔
بچہ چائینیز سے، کیا تم امریکن ہو۔
چائینیز، نہیں میں چائنیز ہوں۔
بچہ، نہیں تم امریکن ہو۔
چائینیز غصے سے، ہاں ہاں میں امریکن ہوں۔
بچہ، لیکن لگتے تو چائینیز ہو۔
ایک آدمی سبزی لینے گیا سبزی والا باربار سبزی پر پانی مار رہا تھا آدمی انتظار کرتا رہا جب کافی وقت گزر گیا تو آدمی غصے سے بولا۔
بھائی صاحب ! سبزی کو ہوش آگیا ہو تو تول بھی دو۔
کرایہ دار مالک مکان سے، دیکھیں محترم مکان کی ساری چھت ٹپک رہی ہے، کمروں میں، برآمدے میں، آنگن میں سب جگہ پانی ہی پانی ہے، میری مرغیاں ڈوبی جارہی ہیں۔
مالک مکان: تو جناب آپ بطخیں کیوں نہیں پال لیتے۔
ایک پاگل دوسرے سے، تمہیں پتا ہے کہ بھارت اور انڈیا میں جنگ ہو رہی ہے۔
دوسرا پاگل، ہاں ہاں میں نے بھی سنا ہے۔ وہ تو اچھا ہو کہ ہندوستان بیچ میں نہیں آیا ورنہ بڑی تباہی ہوتی۔
شوہر میں تنگ آگیا ہوں، تم ہمیشہ میرا گھر، میری کار ہی کہتی رہی ہو، کبھی ہمارا بھی کہا کرو۔
اب الماری میں کیا ڈھونڈ رہی ہو۔
بیوی: ہمارا دوپٹہ۔
ایک آدمی نے مکھی کی پہچان کا عجیب طریقہ نکالا۔
ایک روز اس نے اعلان کیا کہ آج میں نے چھ مکھیاں ماریں۔ تین نر تھیں اور تین مادہ۔
اس کے دوست نے پوچھا۔ نر اور مادہ کا آپ کو کیسے پتا چلا۔
اس نے جواب دیا: بڑی آسانی سے، تین مکھیاں مٹھائی پر بیٹھی تھیں اور تین آئینے پر۔
ایک کسان کا بیٹا پڑھ لکھ کر دوسرے ملک چلا گیا۔ کچھ دن بعد اس نے اپنے گاوں خط لکھا اور کہا کہ میری فیملی کو یہاں بھیج دیں۔کسان کو فیملی کا مطلب نہیں پتہ تھا۔
کئی لوگوں سے پوچھا،آخر ایک شخص نے فیملی کا مطلب رضائی بتایا۔ کسان نے اپنے بیٹے کو خط لکھا:”تمہاری فیملی کو چوہے کھا گئے ہیں،وہاں سے نئی فیملی خرید لو۔”
مالک:آخر تم نوکری کیوں چھوڑ رہے ہو؟
نوکر:آپ کو مجھ پر اعتماد نہیں ہے۔
مالک:گھر کی تمام چابیاں تو تمہیں دے رکھی ہیں۔
نوکر:لیکن ان میں سے ایک بھی چابی تجوری کو نہیں لگتی۔
استاد دو سگے بھائیوں سے :”تم دونوں نے اپنے والد کا نام مختلف کیوں لکھا ہے”؟
ایک بھائی:”ایک جیسا لکھ دیتے تو آپ کہتے کہ تم دونوں نے نقل کی ہے۔”
استاد: (شاگرد سے) ” تم آج بھی اسکول کا کام نہیں کرکے آئے ۔ مار کھانے کے لیے تیار ہوجاؤ
شاگرد: ”جناب! میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں
استاد: ”وہ کیوں؟“
شاگرد:” میری ماں نے ہدایت کر رکھی ہے کہ ہرچیز کھانے سے پہلے ہاتھ ضرور دھو لیا کرو۔“
پائلٹ(کنٹرول ٹاور سے) ہمارا پٹرول ختم ہو چکا ہے سرگودھا پر، براہ مہربانی ہدایت دیجئے۔
کنٹرول ٹاور(پائلٹ سے) گناہوں کی معافی مانگ لیجئے۔
کرکٹ ٹیم کے منیجر نے کپتان سے کہا ” یہ لو دو سو روپے ۔ نئی گیند خریدو یا کچھ بھی کرو، بس ہمیں یہ میچ ہر قیمت پر جیتنا ہے۔“
جب میچ شروع ہوا تو منیجر نے دیکھا کہ وہی پرانی گیند استعمال کی جارہی ہے۔ ا س نے کپتان کو بلا کر پوچھا۔
”گیند بھی نئی نہیں خریدی میری رقم کا کیا کیا؟“
”آپ ہی نے تو کہا تھا کہ ہمیں ہر قیمت پر میچ جیتنا ہے۔ چنانچہ ہم نے وہ دو سو روپے امپائر کو دے دیئے۔“ا
” میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم آٹھویں میں پاس ہوگئے تو تمہیں سائیکل خرید کر دوں گا مگر تم تو فیل ہوگئے ۔ آخر سارا سال تم کیا کرتے رہے؟“ باپ نے غصے سے اپنے بیٹے سے پوچھا۔
”وہ میں سارا سال سائیکل چلانے کی مشق کرتا رہا۔“ بیٹے نے معصومیت سے جواب دیا۔
مالک (نوکرسے) ” میں ذرا کام سے باہر جا رہا ہوں تم ہوشیاری سے کام لینا۔اور ہاں! اگر کوئی گاہک آئے تو اس سے ادب سے پیش آنا۔
تھوڑی دیر بعد مالک واپس آیا تو نوکر سے پوچھا ” کوئی آیا تھا؟
نوکر: جی ایک شخص آیا تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر کھڑے ہو جائو۔ میں نے اس کا حکم ادب سے مانا اور وہ تجویری اٹھا کر لے گیا۔
باپ اپنے بیٹے سے:یہ کیا یے؟تمہارے ٹیسٹ میں 0 نمبر ہیں؟
بیٹا:نہیں ابو ٹیچر کہ پاس اسٹار ختم ہو گئے تھے تو انہوں نےسیارے دینے شروع کر دیے
ماں اپنے لاڈ لے بیٹے سے:بیٹا!جب تم بڑے ہو کر جہاز چلاؤ گے تو مجھے کیسے پتا چلے گا کہ میرا بیٹا جہاز چلا رہا ہے؟
بیٹا:ماں میں جب بھی گھر کے اوپر سے گزروں گا،ایک بم پھنک دیا کروں گا۔
یہ ایک ڈراؤنی کہانی ہے
اگر ہمت ہے تو پڑھو۔
ایک دفعہ ایک بھیانک بوڑھا تیز بارش میں ، ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں بیچ رہا تھا۔
ایک آدمی اس سے خریدنے آیا۔
بوڑھے نے 300 روپے میں ایک کتاب بیچی۔
اور کہا:
کتاب کا آخری صفحہ نہ کھولنا ۔۔۔۔
ورنہ۔۔۔۔۔
پچھتاؤ گے۔
اس آدمی نے پوری کتاب ڈرتے ہوئے پڑھی
سوائے
اس آخری صفحے کے۔
ایک دن
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے ڈرتے ہوئے آخری صفحہ کھولا
اور
اس کو بری طرح جھٹکا لگا۔
اس پہ لکھا تھا:
*
*
*
*
*
*
*
قیمت: 30 روپے ۔

یہ ایک سچّا واقعہ ہے جو پچھلے مہینے لونا والا کے پاس پیش آیا ـ ہوا یوں کہ ایک لڑکا ممبئی سے پُنے اپنی کار سے جا رہا تھا، گھاٹ کے قریب اُسکی کار خراب ہوگئی دور دور تک کوئی نظر بھی نہیں آ رہا تھا ـ پھر وہ لِفٹ لینے کے چکر میں سڑک کے کنارے کنارے چلنے لگا ـ رات اندھیری اور طوفانی تھی، پانی جھماجھم برس رہا تھا وہ پوری طرح بھیگ کر تھر تھر کانپنے لگا ـ اُسے کوئی کار نہیں ملی اور پانی اِتنا تیز برس رہا تھا کہ کچھ میٹر دور کی چیزیں بھی دکھائی نہیں رہی تھیں ـ تبھی اُس نے ایک کار کو اپنی طرف آتے دیکھا، جب کار اُس کے قریب آئی تو رفتار دھیمی ہوگئی ـ لڑکے نے آو دیکھا نہ تاو، جھٹ سے کار کا پچھلا دروازہ کھولا اور اندر کود گیا ـ جب اُس نے اپنے مدد گار کو شکریہ ادا کرنے آگے جھکا تو اُسکے ہوش اُڑ گئے کیونکہ ڈرائیور کی سیٹ خالی تھی ـ ڈرائیور کی سیٹ خالی اور انجن کی آواز نہ ہونے کے باوجود بھی کار سڑک پر چل رہی تھی ـ تبھی لڑکے نے آگے سڑک پر ایک موڑ دیکھا، اپنی موت کو نزدیک دیکھ وہ لڑکا زور زور سے خدا کو یاد کرنے لگا ـ تبھی کھڑکی سے ایک ہاتھ آیا اور اُس نے کار کے سٹیرنگ وھیل کو موڑ دیا ـ کار آسانی سے مڑتے ہوئے آگے بڑھ گئی ـ لڑکا ہیبت زدہ دیکھتا رہا کہ کیسے ہر موڑ پر کھڑکی سے ایک ہاتھ اندر آتا اور سٹیرنگ وھیل کو موڑ دیتا ـ آخر کار اُس لڑکے کو کچھ دوری پر روشنی دکھائی دی ـ لڑکا جھٹ سے دروازہ کھول کر نیچے کودا پھر دیوانہ وار روشنی کی طرف دوڑا ـ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، قریب ہی ایک دھابے میں رُکا اور پینے کیلئے پانی مانگا ـ پھر وہ بری طرح رونے لگا ـ لوگوں نے دلاسہ دیکر پوچھا تو اُس نے اپنی بھیانک کہانی سنانی شروع کی، دھابے میں سنّاٹا چھا گیا تبھی سنتا اور بنتا دھابے میں پہنچے اور سنتا لڑکے کی طرف اِشارہ کرکے بنتا سے بولا کہ اُوے یہی وہ بیوقوف لڑکا ہے نا جو ہماری کار سے کودا تھا جب ہم کار کو دھکا لگا رہے تھے ـ

مارچ 4, 2011 at 07:25 تبصرہ کریں

اطہر شاہ خاں‌ مسٹر جیدی

اطہر شاہ خان 1943ء میں برطانوی ہندوستان کے شہر رام پور میں پیدا ہوئے۔ خاندانی لحاظ سے اخون خیل پٹھان ہیں۔ آپ پاکستانی ڈرامہ نگار، مزاحیہ و سنجیدہ شاعر اور اداکار ہیں۔ اپنے تخلیق کردہ مزاحیہ کردار "جیدی” سے پہچانے جاتے ہیں۔ اصلی نام اطہر شاہ خان ہے۔ مزاحیہ شاعری میں بھی "جیدی” تخلص کرتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی وژن کے پیش کردہ مزاحیہ مشاعروں کے سلسلہ "کشت زعفران” سے مزاحیہ شاعری میں مقبولیت حاصل کی۔
تخلیقی کام
اطہر شاہ خان نے ٹیلی وژن اور سٹیج پر بطور ڈرامہ نگار اپنے تخلیقی کام کا آغاز کیا۔ آپ کے تحریر کردہ مزاحیہ ڈراموں نے بےپناہ مقبولیت حاصل کی۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں اطہر نے بتایا کہ وہ ایک دفعہ اپنے ہی ایک ڈرامے کے ایک اداکار کے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کر رہے تھے کہ سواری میں کوئی نقص پیدا ہو گیا، جب اسے ٹھیک کرنے کیلئے رکے تو لوگوں نے اداکار کو پہچان لیا لیکن مصنف (یعنی اطہر شاہ خان) کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔ بقول اطہر شاہ خان کے اس واقعہ نے انہیں اداکاری پر مائل کیا جس کے نتیجہ میں جیدی کا کردار تخلیق ہوا۔ جیدی کے کردار پر مرکوز پاکستان ٹیلی وژن کا آخری ڈرامہ "ہائے جیدی” 1997ء میں پیش کیا گیا۔
نمونۂ کلام
ویسے تو زندگی میں کچھ بھی نہ اس نے پایا
جب دفن ہو گیا تو شاعر کے بھاگ جاگے
وہ سادگی میں ان کو دو سامعین سمجھا
بس آٹھویں غزل پر منکر نکیر بھاگے
*********
یارب دل جیدی میں ایک زندہ تمنا ہے
تو خواب کے پیاسے کو تعبیر کا دریا دے
اس بار مکاں بدلوں تو ایسی پڑوسن ہو
"جو قلب کو گرما دے اور روح کو تڑپا دے”
مزاحیہ کلام اطہر شاہ خاں‌ مسٹر جیدی
::: چار بیویاں :::
بیویاں چار ہیں اور پھر بھی حسینوں سے شغف
بھائی تو بیٹھ کے آرام سے گھر بار چلا
اجرت عشق نہیں دیتا نہ دے بھاڑ میں جا
لے ترے دام سے اب تیرا گرفتار چلا
سنسنی خیز اسے اور کوئی شے نہ ملی
میری تصویر سے وہ شام کا اخبار چلا
یہ بھی اچھا ہے کہ صحرا میں بنایا ہے مکاں
اب کرائے پہ یہاں سایۂ دیوار چلا
اک اداکار رکا ہے تو ہوا اتنا ہجوم
مڑ کے دیکھا نہ کسی نے جو قلمکار چلا
چھیڑ محبوب سے لے ڈوبے گی کشتی جیدی
آنکھ سے دیکھ اسے ہاتھ سے پتوار چلا
::: خواب :::
تعبیروں کی حسرت میں، کیسے کیسے خواب بنے
دولت اک دن برسے گی، اب تو اپنی باری ہے
اللہ جب بھی دیتا ہے چھپر پھاڑ کے دیتا ہے
اس امید پہ ساری عمر چھپر تلے گزاری ہے
::: آنکھ میں موتیا :::
رنگ خوشبو گلاب دے مجھ کو
اس دعا میں عجب اثر آیا
میں نے پھولوں کی آرزو کی تھی
آنکھ میں موتیا اتر آیاا
::: پورا مسلمان :::
اگرچہ پورا مسلمان تو نہیں لیکن
میں اپنے دین سے رشتہ تو جوڑ سکتا ہوں
نماز و روزہ و حج و زکوٰۃ کچھ نہ سہی
شب برات پر پٹاخہ تو چھوڑ سکتا ہوں
::: ہمارا علم :::
ہمارے علم نے بخشی ہے ہم کو آگاہی
یہ کائنات ہے کیا، اس زمیں پہ سب کیا ہے
مگر بس اپنے ہی بارے میں کچھ نہیں معلوم
مروڑ کل سے جو معدے میں ہے سبب کیا ہے
::: ماموں‌ :::
ناکام محبت کا ہر اک دُکھ سہنا
ہر حال میں انجام سے ڈرتے رہنا
قدرت کا بڑا انتقام ہے جیدی
محبوبہ کی اولاد کا ماموں کہنا!
::: ادھار :::
ادا کیا تھا جو میں نے اس کا ادھا ر آدھا
جبھی سے تو اس کو رہ گیا اعتبار آدھا
ضرور مٹی کا تیل ساقی پلا گیا ہے
جو پورے ساغر سے ہو رہا ہے خمار آدھا
اگر تیرا ہاتھ دل پہ ہوتا تو کیا نہ ہوتا
کہ نبض دیکھی تو رہ گیا ہے بخار آدھا
وہ زہر میں ڈال کر وٹامن بھی دے رہا ہے
تو اس سے ظاہر ہے اس کی نفرت میں پیار آدھا
یہ آدھی چلمن ہے یا مری آنکھ میں ہے جالا؟
دکھائی کیوں دے رہا ہے روئے نگار آدھا

مارچ 2, 2011 at 06:13 تبصرہ کریں

Newer Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad Poetry
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے”
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad Poetry