Archive for مارچ, 2011

رابعہ بصری

مرخین حضرت رابعہ بصری کی پیدائش کے بارے میں دو رائے دیتے ہیں. کچھ 95 ہجری اور اکثر 97 ہجری سے اتفاق کرتے ہیں. رابعہ بصری ایک متقی اور متوکل بزرگ حضرت شیخ اسماعیل رحمۃاللہ علیہ کے گھر میں پیدا ہونے والی چوتھی بیٹی تھیں. عربی زبان میں رابعہ کا مطلب چوتھی ہے.

جب آپ کی ولادت ہوئی تو گھرمیں فاقوں کی نوبت تھی لہزا بی بی صاحبہ نے کہا پڑوس سے کچھ قرض لے لیں تا کہ یہ کڑوا وقت کٹ جائے. شیخ صاحب آدھی رات کو پڑوسی کے دروازے پر بادلِ نا خواستہ دستک دینے گئے کیونکہ غیر اللہ سے سوال کرنا ان کی غیرت ایمانی کو گوارہ نہ تھا. پڑوسی نیند میں تھا. کسی نے دروازہ کھٹکھانے کی آواز سنی نہ دروازہ کھولا. خالی ہاتھ گھر لوٹے تو بی بی صاحبہ بہت پریشان ہوئی. شیخ صاحب رحمۃاللہ علیہ بھی اسی پریشانی کے عالم میں سو گئے. خواب میں سرورِ کائنات حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلّم تشریف لائے. بیٹی کی ولادت پر مبارک باد دی اور فرمایا اسمٰعیل! پریشان نہ ہو تیری یہ بچی عارفہ کاملہ ہو گی. اگر مالی پریشانی ہے تو صبح حاکم بصرہ عیسٰی زردان کے پاس جانا. میری طرف سے ایک خط لکھ لینا کہ تم مجھ پر ہر روز سو مرتبہ اور ہر جمعرات کو چار سو مرتبہ درود بھیجتے ہو. اس جمعرات کو تحفہ دینا بھول گئے ہو. اس لئے چار سو دینار کفارہ حاملِ رقعہِ ھزا کو دے دو.

صبح جب شیخ صاحب خط لے کر حاکم بصرہ عیسٰی کے پاس گئے تو اس نے دوڑ لگائی دروازے پر پہنچا. شیخ صاحب کا نہایت مودبانہ انداز میں شکریہ ادا کیا کہ آپ کی وجہ سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے مجھے یاد فرمایا. اسی خوشی میں ہزار دینار غرباءمیں تقسیم کئے اور چار سو دینار شیخ صاحب کو دئیے.

چار پانچ سال کی عمر میں ہی والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا. جب آٹھ برس کی عمر کو پہنچیں تو بصرہ سخت قحط کا شکار ہو گیااور کسی شقی القلب نے پکڑ کر آپ رحمۃ اللہ علیہ کو بصرہ کے ایک متمول شخص عتیق کے ہاتھوں بیچ دیا. چار پانچ سال تک آپ انکی خدمت کرتی رہی. باقی تینوں بہنیں کہاں گئیں آپ رحمۃ اللہ علیہ کو انکی کوئی خبر نہیں تھی.

انکا حاکم بہت ظالم تھا بہت بھوکا پیاسا رکھتا تھا اور سخت کام بھی لیتا. ایک روز آپ کسی کام سے جا رہی تھیں کہ کوئی نا محرم سامنے آ گیا.آپ اسے دیکھ کر بھاگیں، بھاگتے ہوئے ٹھوکر کھا کے گر گئیں اور ان کا ہاتھ ٹوٹ گیا. ربِّ کریم سے رو رو کر عرض کیا” میں غریب، یتیم اور قیدی ہوں، اب ہاتھ بھی ٹوٹ گیا، اس کا مجھے کچھ غم نہیں مگر میں چاہتی ہوں کہ ساری امانتیں، ہاتھ، پاؤں، عزت،جان وغیرہ جو تیری میرے پاس ہیں انھیں اسی طرح لوٹا دوں کہ تو مجھ سے راضی ہو جائے. پتا نہیں تو مجھ سے راضی بھی ہے یا نہیں، اگر تو راضی ہے تو سارے دکھ میرے لئے راحتیں ہیں، اگر تو راضی نہیں تو پھر یہ سب میرے اعمال کی شامتیں ہیں”.

سیدہ رابعہ بصری کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہر دکھ کو صبرواستقامت سے برداشت کیا. بس ایک پل میں ہی کایا پلٹ گئی، آزادی مل گئی، جو مالک بنا ہوا تھا غلامی کے لئے آمادہ ہو گیا، خدا کے سوا ن کا کوئی سہارا نہ تھا. تاجر عتیق کی غلامی سے آزاد ہونے کے بعد سیدہ رابعہ بصرہ سے ایک بڑے علمی مرکز کوفہ چلی گئیں جہاں اس وقت کے بڑے بڑے علماء موجود رہتے تھے. وہاں آپ نے بہت کم وقت میں قرآن حفظ کر لیا. بڑے بڑے علماء آپ رحمۃاللہ علیہ سے بہت عقیدت رکھتے تھے.

حضرت رابعہ بصری کے ایمان و استقلال کی جو کیفیت تھی اس کو ایک تحریر میں بیان کرنا مشکل ہے. اب ان کے گرد فرشتوں کی موجودگی کا ادراک حاصل کریں. ایک دفعہ آپ رحمتہ اللہ علیہ دوران نماز سو گئیں، اتنے میں ایک چور آ گیا اور چادر اٹھا کر چل دیا مگر اسے دروازہ نظر نہ آیا، اس نے گھبرا کر چادر رکھ دی تو دروازہ نظر آ گیا. تین دفعہ ایسا ہی ہوا. چور کو آواز آئی اب بھی نہ باز آئے تو دائمی اندھے ہو جاؤ گے. اس گھر کی مالکہ ہماری دوست ہے، اس نے اپنے آپ کو ہماری حفاظت میں دے رکھا ہے، ایک دوست سو رہا ہے تو دوسرا جاگ رہا ہے.

ایک دفعہ ایک بزرگ ملاقات اور کھانے کی خواہش سےحاضر ہوئے. سیّدہ رابعہ بصری نے گوشت ہنڈیا میں ڈال کر چولہے پر چڑھایا ہوا تھا لیکن آگ نہیں جلائی، زہدوتقوٰی کی گفتگو میں نہ بزرگ کو بھوک رہی اور نہ سیّدہ رابعہ کو آگ جلانے کا خیال آیا، دیکھا تو ہنڈیا میں لزیز کھانا پکا ہوا تھا.

سب تعریفیں اللہ جل شانہ کیلئے ہیں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی مالک نہیں، جو سب خزانوں، سب طاقتوں کا مالک ہے، جو ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا، جس کا کوئی شریک کوئی ہمسر نہیں. باقی ہر شے فانی ہے. عدم سے وجود اور وجود سے عدم، یہی انسان کا اور ہر مخلوق کا مقدر ہے. اسی اصل تقدیر کے مطابق سیّدہ رابعہ طاہرہ عارفہ کاملہ بصریہ نے جس دوست کی رضا کے لئے زندگی گزار دی، اسی نے185 ہجری میں ملاقات کے لئے بلا لیا.

مارچ 31, 2011 at 06:43 تبصرہ کریں

رومانوی شاعری

مارچ 29, 2011 at 06:12 تبصرہ کریں

بِسم اللہ کی تاثیر

بادشا روم قیصر نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ایک خط بھیجا جس میں لکھا تھا کہ میرے سر میں درد رہتا ہے، کوئی علاج بتائیں. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بادشاہ کو ایک ٹوپی بھیجی اور کہا کہ اسے سر پہ رکھا کرو سر درد جاتا رہے گا چنانچہ بادشاہ جب سر پر وہ ٹوپی رکھتا تو درد ختم ہو جاتا اور جب اتارتا تو درد دوبارہ شروع ہو جاتا.

بادشاہ کو اس سب سے بڑا تعجب ہوا اور اسی تجسس میں جب بادشاہ قیصر روم نے ٹوپی چیری تو اس کے اندر ایک رُکّا پایا جس پر بِسم اللہ الرحمان الرحیم تحریر کیا ہوا تھا

.بس یہی بات بادشا قیصر روم کے دل میں گھر کر گئی اور وہ سوچنے لگا کہ دین اسلام اس قدر محترم ہے کہ اس کی تو ایک آیت ہی باعثِ شفاء ہے تو پھر پورا دین نجات کیوں نا ہو گا اور اس نے اسلام قبول کر لیا.(سُبحٰن اللہ)

ایک اور واقعہ:

ایک مرتبہ حضرت عیسٰی علیہ السلام  کا گزر ایک قبر پر ہوا جس میں میّت کو عذاب دیا جا رہا تھا لیکن جب دوبارا وہاں سے گزر ہوا تو دیکھا کہ قبر میں رحمتوں کے فرشتے ہیں اور عذاب کی تاریکی کے بجائے اب وہاں مغفرت کا نُور تھا.

آپ علیہ السلام کو اس پر تعجب ہوا اور اللہ تعالٰی سے اس مسئلہ کے حل کی دُعا کی تو جواب میں اللہ تعالٰی نے انکی طرف وحی بھیجی کہ یہ بندہ گنہگار تھا جس کی وجہ سے یہ عذاب میں مبتلا تھا، اس کا بچہ مدرسے میں داخل کر دیا گیا، استاد نے اسے پہلے دن

بِسم اللہ الرحمان الرحیم

پڑھائی تب مُجھے اپنے بندے سے حیا آئی کہ میں زمین کے اندر اسے عذاب دیتا ہوں جبکہ اس کا بیٹا زمین کے اوپر میرا نام لیتا ہے. اس لئے اس کی قبر سے عذاب ہٹا دیا گیا اور رحمتوں کے فرشتے نازل فرما دئیے گئے.(سُبحٰن اللہ)

مارچ 26, 2011 at 08:18 تبصرہ کریں

مظلوم اونٹ کی کہانی

آج کی کہانی بچوں کے نام:

پیارے بچو!!!!

سندھ کے ریگستانی علاقے میں ایک چھوٹا سا گاؤں تھا.یہ کہانی اس گاؤں کے ایک لڑکے کی ہے جس کانام خدا بخش تھا. سب گاؤں والے خدابخش کو بخشو کے نام سےپکارتے تھے

یہ گاؤں صحرائے تھر کے ساتھ لگتا تھا جس کی وجہ سے گاؤں والوں کے لئے پینے کا پانی حاصل کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا. گاؤں کے لوگ اپنی زندگیوں کا قیمتی وقت پانی کی تلاش میں گزار دیتے تھے، کبھی سال میں ایک آدھ بار بارش ہو جاتی تھی اور پانی گڑھوں یا تالابوں کی شکل میں جمع ہو جاتا تو گاؤں والے وہاں سے پانی حاصل کرتے. گاؤں میں کئی جگہوں پر سینکڑوں فٹ گہرے کنویں تھے. گاؤں والوں کو کئی کئی میل کا سفر طے کر کے پانی لینے جانا پڑتا. ان ساری مشکلات میں وہ اونٹوں کی مدد لیتے تھے کینونکہ صحرا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنا اونٹوں کے بغیر ممکن نہیں اس لئے گاؤں کے اکثر لوگوں کے پاس اونٹ تھے.

بخشو جس کے بارے میں آپ نے اوپر پڑھا اُس کے باپ نے بھی دو اونٹ پال رکھے تھے. یہ اونٹ ان کے مختصر سے کنبے کا حصہ بن چکے تھے. بخشو کے باپ کو ان اونٹوں سے بہت پیارتھا. وہ انکو اپنے ہاتھوں سے دانہ ڈالتا اور تو اور بخشو کی ماں بھی ان کا بہت خیال رکھتی تھی.

مگر میرے پیارے دوستو!!!!!!

بخشو کی عادت اپنے والدین سے بالکل مختلف تھی. اس کا دماغ ہر وقت شرارتوں میں لگا رہتا. وہ اکثر ان اونٹوں کے چارے میں مٹی ملا دیتا، کبھی ان کے پینے کے پانی میں صابن گھول دیتا، بخشو کا باپ اونٹوں کو چرانے کے لئے جنگل میں چھوڑتا اور بخشو کو انکی نگرانی پر لگا دیتا. یہ موقع بخشو کے لئے سنہری موقع ہوتا تھا. وہ اس موقع سے خوب فائدہ اُٹھاتا. بخشو چھوٹے چھوٹے پتھر جمع کر کے کسی درخت پر چڑھ جاتا اور نشانہ لے لے کرمارتا، بیچارے اونٹ درد سے بلبلاتے اور ان کی درد بخشو کو بہت مزہ دیتی تھی. بعض اوقات تو خارش کی وجہ سے اونٹوں کے جسم پر کہیں کہیں زخم بھی ہو جاتے تھے، بخشو غلیل سے انہی زخموں پر نشانہ لگاتا، اونٹ اُچھل کر اِدھراُدھر بھاگتے تو بخشو کو بڑا مزہ آتا.

بخشو کے چچا نے جب اُسے ایسی حرکتیں کرتے ہوئے دیکھا تو اُس کو اس سب سے منع کیا اور اُسے ہدایت کی کہ یہ بے زبان جانوربد دُعائیں دیتے ہیں، ان کی بد دُعا لگ جاتی ہے پر بخشو نے اس نصیحت پے کوئی کان نا دھرا اور اپنی ہرکتوں سے باز نہ آیا. ایک دن گاؤں کے ایک بزرگ نے بخشو کی یہ حرکت دیکھی تو اسے سمجھاتے ہوئے کہا بابا کینہ شتر اونٹ کی دشمنی سے ڈر، جب یہ بے زبان جانور اپنا غصّہ نکالنے پر آتا ہے تو جان لے کر ہی چھوڑتا ہے.ُ

پیارے بچو ایک اور خاص بات…..

بخشو کے گاؤں میں کوئی مدرسہ نہیں تھا، اس کا سارا دن انہی شرارتوں میں گزر جاتا تھا، اس کے ہم عمر بھی اسی کی طرح جنگل میں اونٹ چراتے تھے اور شرارتیں کرتے تھے، ایک دن مغرب کے وقت یہ لڑکے اونٹ چرا کر گاؤں کو لَوٹ کر آ رہے تھے کہ ان کے کانوں میں یہ بات پڑی کہ گاؤں کی مسجد میں نئے امام صاحب آئے ہیں، بچے صرف انکو دیکھنے کے شوق میں نماز پڑھنے چلے گئے، دیکھا تو ایک سفید عمامہ والے باوقار مولانا صاحب مصلح پر تھے.

مولانا صاحب نے بڑے اچھی آواز میں قرات کی، نمازیوں کو بڑا مزہ آیا، نماز کے بعد مولوی صاحب نے اعلان کیا کہ کل سے یہاں بچوں کے لئے صبح قرآن مجید کی تعلیم کا آغاز ہو گا، نمازی حضرات اپنے اپنے بچوں کو داخل کرائیں تا کہ ان کے بچے قرآن مجید کی تعلیم سے محروم نہ رہیں، عشاء کی نماز کے بعد قرآن مجید کا درس ہوا کرے گا.

اگلے دن بخشو اور اس کے کئی دوستوں کو امام صاحب کے پاس پڑھنے کے لئے بٹھا دیا گیا، انکو تو الف با بھی نہیں آتی تھی، امام صاحب نے انہیں نورانی قاعدا شروع کروا دیا، رات کو مولوی صاحب درسِِ قرآن میں اچھی اچھی باتیں بتاتے جس سے لوگوں کی اصلاح ہونے لگی، ایک دن مولوی صاحب نے بخشو اور اس کے دوستوں کو جنگل میں اونٹوں کے ساتھ شرارتیں کرتے ہوئے دیکھ لیا، اس وقت تو کچھ نہ بولے مگر رات کو درسِ قرآن میں انہوں نے موقع کی مناسبت سے یہ واقع سنایا:

ایک دن حضور نبی کریم صلی اللہ عليہ وسلّم نے پوچھا اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ ايک انصاری صحابی نے آکر عرض کيا يہ ميرا اونٹ ہے۔

آپ صلی اللہ عليہ وسلّم نے فرمايا جس اللہ نے تمہيں اس کا مالک بنايا ہے، تم اس اونٹ کے بارے ميں اللہ سے نہيں ڈرتے،  يہ اونٹ تمہاری شکايات کر رہا ہے، تم اس کو بھوکا رکھتے ھو اس سے اسکی طاقت سے زيادہ کام ليتے ہو۔

اس کے بعد وہ انصاری صحابی اونٹ کا زيادہ خيال رکھنے لگے اس کو چارہ بھی زيادہ ديتے اور اس کو آرام کا موقع بھی ديتے۔امام صاحب سے يہ واقع سن کر بخشو اور اس کے دوستوں کو بہت اثرہوا اس لئے کہ روزانہ اللہ اور اس کے پيارے حضور نبی صلی اللہ عليہ وسلّم کی باتيں سن سن کر انکے دلوں ميں اللہ اور پيارے حضور نبی صلی اللہ عليہ وسلّم کی محبت دل ميں بيٹھ گئی تھی.

بخشو اور اس کے دوستوں نے اس کے بعد اونٹوں  کوکبھی نہيں تنگ کيا.

تو پیارے دوستو اپنےآپ بھی وعدہ کر لو کہ آج کے بعد کسی بے زبان جانور کو تنگ نہیں کرو گے اور انکا بھی اتنا ہی خیال رکھو گے جتنا اپنا رکھتے ہو.

مارچ 24, 2011 at 06:35 تبصرہ کریں

درُود شریف کے فوائد

درُود پاک ایسی نعمت ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا.درُود پاک کے بے شُمار فوائد ہیں جن میں سے چند بزرکانِ دین نے اپنی اپنی کتابوں میں بیان کیے ہیں. میں ان فوائد میں سے چند یہاں بیان کروں گا:

1.حبیبِ خُداصلی اللہ علیہ وسلّم پر درُودِپاک پڑھنے والے پر اللہ تعالٰی درُود بھیجتا ہے. ایک کے بدلے ایک نہیں بلکہ ایک کے بدلے کم از کم دس.

2.درُودِپاک پڑھنے والےکے لیے رب تعالٰی کے فرشتے رحمت اور بخشش کی دُعائیں کرتے ہیں.

3.جب تک بندہ درُودِپاک پڑھتا ہے فرشتےاس کے لیے دُعائیں کرتے رہتے ہیں.

4.درُودِپاک گناہوں کا کفارہ ہے.

5.درُود شریف سے عمل پاک ہو جاتے ہیں.

6.درُودِپاک خود پڑھنے والے کے لیے اللہ تعالٰی سے استغفار کرتا ہے.

7.درُودِپاک پڑھنے سے درجے بلند ہوتے ہیں.

8.درُودِپاک پڑھنے والے کے لیے ایک قیراط ثواب لکھا جاتا ہے جو کہ اُحد پہاڑ جتنا ہے.

9.درُودِپاک پڑھنے والے کو پیمانے بھر بھر کے ثواب ملتا ہے.

10.جو شخص درُودِپاک کو ہی وظیفہ بنا لے اُس کے دُنیا اور آخرت کے سارے کام اللہ تعالٰی خود اپنے ذمےلے لیتا ہے.

11.درُودِپاک پڑھنے کا ثواب غُلام آزاد کرنے سے بھی افضل ہے.

12.درُودِپاک پڑھنے والا ہر قسم کے ہولوں سے نجات پاتا ہے.

13.درُودِپاک پڑھنے والے کے لیے شفاعت واجب ہو جاتی ہے.

14.درُودِپاک پڑھنے والے کے لیے اللہ تعالٰی کی رضا اور رحمت لکھ  دی جاتی ہے.

15.اللہ تعالٰی کے غضب سے امان لکھ دیا جاتا ہے.

16.اس کی پیشانی پر لکھ دیا جاتا ہےکہ یہ نفاق سے بری ہے.

17.لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ دوزخ سے بری ہے.

18.درُودِپاک پڑھنے والے کو قیامت کے دن عرشِ الٰہی کے سائے میںجگہ دی جائے گی.

19.درُودِپاک پڑھنے والے کی نیکیوں کا پلڑا وزنی ہوگا.

20.درُودِپاک پڑھنے والے کے لئے جب وہ حوض کوثر پر جائے گا خصُوصی عنایت ہو گی.

21.درُودِپاک پڑھنے والا کل سخت پیاس کے دن امان میں ہو گا.

22.پُل صراط سے نہایت آسانی سے اور تیزی سے گزر جائے گا.

23.پُل صراط پر اُسے نُور عطا ہوگا.

24.درُودِپاک پڑھنےوالا موت سے پہلے اپنا مکان جنّت میں دیکھ لیتا ہے.

25.درُودِپاک پڑھنے والے کو جنّت میں کثرت سے بیویاں عطا ہوں گی.

26.درُودِپاک کی برکت سے مال بڑھتا ہے.

27.درُودِپاک پڑھنا عبادت ہے.

28.درُودِپاک اللہ کے نزدیک سب نیک عملوں سے پیاراہے.

29.درُودِپاک مجلسوں کی زینت ہے.

30.درُودِپاک تنگدستی کو دُور کرتا ہے.

31.درُودِپاک پڑھنے والا قیامت کے دن سب لوگوں سے حبیبِ خُداصلی اللہ علیہ وسلّم کے زیادہ قریب ہو گا.

32.درُودِپاک پڑھ کر جس کو بخشا جائے اُسے بھی نفع دیتا ہے.

33.درُودِپاک پڑھنے والے کو اللہ تعالٰی کا اورپھر اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلّم کا قُرب نصیب ہوتا ہے.

34.درُودِپاک پڑھنے سے دُشمنوں پر فتح و نصرت حاصل ہوتی ہے.

35.درُودِپاک پڑھے والے کا دِل زنگار سے پاک ہوتا ہے.

36.درُودِپاک پڑھنے والے سے لوگ محبّت کرتے ہیں.

37.درُودِپاک پڑھنے والا لوگوں کی غیبت سے محفوظ رہتا ہے.

38. سب سے بڑی نعمت یہ کہ درُودِپاک پڑھنے والے کو حبیبِ خُداصلی اللہ علیہ وسلّم کی خواب میں زیارت نصیب ہوتی ہے.(سُبحٰن اللہ).

39.ایک بار درُودپاک پڑھنے سے دس گناہ معاف ہوتے ہیں، دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، دس درجے بلند ہوتے ہیں،دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں.

40.درُودپاک پڑھنے والے کی دُعا قبول ہوتی ہے.

41.درُودپاک پڑھنے والے کا کندھا جنّت کے دروازے پرحبیبِ خُداصلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے مُبارک کے ساتھ چھُوئے گا.

42.درُودپاک پڑھنے والا قیامت کے دن سب سے پہلے آقائے دو جہاں حبیبِ خُداصلی اللہ علیہ وسلّم کے پاس پہنچ جائے گا.

43.درُود پاک پڑھنے سے دل کی صفائی حاصل ہوتی ہے.

44.درُود پاک پڑھنے والے کو جانکنی میں آسانی حاصل ہوتی ہے.

45.جس مجلس میں درُود پاک پڑھا جائے اُس مجلس کو فرشتے رحمت سے گھیر لیتے ہیں.

46.فرشتے درُود پاک پڑھنے والے سے محبت کرتے ہیں.فرشتے درُود پاک پڑھنے والے کے درُود شریف کو سونے کی قلموںسے چاندی کا کاغذوں پر لکھتے ہیں.

47.درُود پاک پڑھنے والے کا درُود شریف فرشتے دربارِرسالت میں لے جا کر یوں عرض کرتے ہیں”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم!فلاں کے بیٹے فلاں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلّم کے دربار میں درُودِپاک کا تحفہ حاضرکیا ہے.

48.درُود پاک پڑھنے والے کا گناہ تین دن تک فرشتے نہیں لکھتے.

49.درُود پاک پڑھنے والے کے گھر پر آفتیں اور بلائیں نہیں آتیں.

50.درُود پاک پڑھنے سے جنّت وسیع ہوتی جاتی ہے.

مارچ 22, 2011 at 06:55 تبصرہ کریں

Kuch Urdu Ashar

مارچ 19, 2011 at 06:02 تبصرہ کریں

میں محض ایک باورچی ہوں! (ایک باورچی کی آپ بیتی)

میرے قریبی دوست اور رشتہ دار جانتے ہیں کہ میں ایک اچھا باورچی ہوں لیکن میں نے کبھی اس بات پر غرور نہیں کیا۔ میں خود کو شیف بھی کہہ سکتا تھا کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ ماڈرن لفظ زیادہ معزز لگتا ہے لیکن سچ بات ہے شیف کے لفظ میں مجھے ایک خاص قسم کی چالاکی اور پیشہ ورانہ تفاخر محسوس ہوتا ہے۔ اس لئے میں دیسی لفظ باورچی کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔ ہمارے اسی معاشرے میں جب دولت کی ریل پیل نہیں ہوئی تھی اور دولت چند ہاتھوں میں جمع نہیں ہوئی تھی تو خاندانی باورچی شادی بیاہ کے موقع پر بلائے جاتے تھے۔ یہ لاکھوں روپے کی کیٹرنگ نہیں ہوتی تھی نہ ہی یہ اسٹیٹس سمبل بنا تھا کہ شادیوں پر چار چار دن انواع و اقسام کے کھانوں کے سلسلے چلتے رہیں۔
خاندانی باورچی ہر شادی کے موقع پر مرکزی کردار ہوتا تھا. بڑے وقار سے بلایا جاتا تھا اور اسے کرسی دی جاتی تھی۔ پھر وہ صاحب تقریب سے مذاکرات کرتا تھا اور ہر قسم کے بجٹ کے مطابق دیانتداری سے صحیح مشورہ دیتا تھا۔ مجھے یاد ہے میرے ایک دوست کی بہن کی شادی میں دولہا والے بغیر بتائے زیادہ تعداد میں باراتی لے کر آ گئے۔ میرا دوست بہت پریشان ہوا اور اس نے خاندانی باورچی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ خاندانی باورچی نے کہا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس موقع پر میرے پاس صدری نسخہ موجود ہے جو سینہ بہ سینہ چلا آرہا ہے وہ یہ ہے کہ میں پلاؤ اور قورمے کی دیگوں میں ہلکا ہلکا روح کیوڑا ڈال دوں گا جس سے ذائقے میں فرق نہیں پڑے گا لیکن لوگ زیادہ کھا نہیں سکیں گے ۔چنانچہ یہ نسخہ کارگر ثابت ہوا اور کھانا پورا ہو گیا۔
یہ خاندانی باورچی اپنے کلائنٹ کا بہت خیال رکھتے تھے۔ وہ اپنے کلائنٹ کو پہلے تو ایک کاغذ پر کھانے میں استعمال ہونے والے مصالحہ جات اور گوشت وغیرہ کی مقدار لکھواتے تھے اور پھر تقریب کے موقع پر جب دیگیں چڑھتی تھیں، خوشبوئیں اڑتی تھیں اور ٹھن ٹھن کی آوازیں شادی کے گھر پہنچتی تھیں تو کئی محلوں تک خبر جاتی تھی کہ کس کے گھر شادی ہے۔ آج تو یہ سب رسمیں ختم ہو چکی ہیں کہیں کسی نامعلوم جگہ سے دیگچوں میں کھانا پک اَپ میں لایا جاتا ہے اور انڈیل دیا جاتا ہے۔ ایک بات میں بھول گیا کہ دیگیں تیار ہونے کے بعد گھر کا سخت گیر تجربہ کار بزرگ کرسی ڈال کے دیگوں کے پاس بیٹھ کر کھانا کھلنے کا انتظار کرتا تھا اور جب آواز آتی کہ کھانا لگا دیں تو وہ اپنی نگرانی میں دیگوں سے کھانا نکلواتا تھا اور سب کچھ اس کی ہدایت کے مطابق ہوتا تھا کہ کب ہاتھ روک دیں کب کون سا آئٹم زیادہ کر دیں اور کس کو کم کردیں۔ یہ تجربہ اس بزرگ نے صدیوں کے ریاض سے پایا ہوتا تھا۔ جب وہ خوش اسلوبی سے کھانا”ورتا” لیتا تھا تو براتیوں سے حسب ذوق داد وصول کرتا تھا اور اگلی شادی کے موقع تک گوشہ گمنامی میں چلا جاتا تھا جیسے وہ خاندانی باورچی غائب ہوئے ہیں، ویسے ہمارے معاشرے سے یہ بزرگ بھی رخصت ہو گئے ہیں۔
سو میں کہہ رہا تھا کہ میں ایک باورچی ہوں اور تاریخ میں باورچیوں کا رتبہ بہت بلند رہا ہے۔ بادشاہوں کے شاہی مطبخ میں دنیا سے چن چن کے باورچی لائے جاتے تھے۔ یہ اصل نسل کے باورچی ایسا کھانا بناتے تھے کہ بادشاہ دسترخوانوں پر جنگیں جیت لیا کرتے تھے۔ یہ شاہی باورچی نہ چھٹی لے سکتے تھے نہ کہیں جا سکتے تھے کیونکہ اس صورت میں انہیں بادشاہ کے غیض و غضب کا نشانہ بنتے ہوئے ہاتھ کٹوانے پڑتے تھے۔ ان شاہی باورچیوں نے جو کھانے اختراع کئے اور انہیں جو نام دیئے آج ہمارے کوکنگ چینلوں پر خوبصورت یونیفارم میں شیف حضرات انہی پکوانوں کو تیار کرنے کا سوانگ رچاتے ہیں اور ہمیں بے وقوف بناتے ہیں لیکن سچی بات ہے کہ اگر کسی چینل نے میری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا لیا تو میں ایسی کوئی ڈش نہیں بناؤں گا جس سے غریبوں کے گھروں میں ٹھنڈے پڑے ہوئے چولہوں اور ان کی محدود آمدنی کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں ترساؤں۔ اس لئے مجھے امید ہے کہ مجھے کوئی چینل موقع نہیں دے گا۔
میں نے باورچی بننے کا فیصلہ کیوں کیا ہے اس کی بے شمار وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس وقت سب سے زیادہ نفع بخش کاروبار ہی یہی ہے دوسرا یہ کہ ہمارے معاشرے میں ایک نئے رول ماڈل نے کامیابی سے جگہ پائی ہے، وہ باورچی یا شیف ہے۔ اگرچہ امریکہ اور مغربی ممالک میں یہ رول ماڈل بہت پہلے سے موجود ہے لیکن ہمارے ہاں اسے اب موقع ملا ہے۔
تو صاحبوں! اب میرے باورچی بننے کی خواہش آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی۔ اصل میں بات یہ ہے کہ میں اینکر پرسن بننا چاہتا تھا کہ شام آٹھ بجے اپنا دفتر لگا کے بیٹھ جاؤں اور حکومت وقت کو ناکوں چنے چبوا دوں لیکن کسی بھی چینل نے میری سیاسی بصیرت پر بھروسہ نہیں کیا۔ اس پر طرہ یہ کہ اینکر پرسن اب کسی کامیڈین کو ساتھ بٹھا کر شو کرتے ہیں۔ میں کہاں سے یہ ٹیلنٹ لاتا اس لئے میں نے اپنے ارمانوں پر اوس ڈال دی اور دیسی باورچی بننے کی فرمائش کر دی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فوڈ چینل جو ڈشیں اور تراکیب سکھاتے ہیں وہ مجھے نہیں آتیں۔ مجھے تو میری ماں اور بیوی نے جو سالن بنانے سکھائے ہیں میں تو وہی سکھا سکتا ہوں اور یہ وہ ڈشیں ہیں جو کسی بھی معمولی آمدنی یا محدود آمدنی والے گھر میں تیار کی جاسکتی ہیں۔ ان ڈشوں کو آسان نہ سمجھیں یہ سب سے مشکل ہوتی ہیں جو سکھائی جاتی ہیں وہ آسان ہوتی ہیں۔
میری سب سے مہنگی ڈش کریلے گوشت ہے جو مجھے میری ماں، میری بیوی اور استاد دامن نے سکھائی تھی۔ تینوں کی ترکیب ایک جیسی تھی مثلاً یہ کہ کریلے گوشت میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ بکرے کے گوشت کا کون سا حصہ آپ استعمال کر رہے ہیں۔ خیر اس کے بعد میری ڈشیں آسان ہیں۔ بگھارے بینگن، کڑھی، ماش کی دال، دال چاول، بھنڈی، توری، چکڑ چھولے، انڈہ چنے، خاگینہ، بینگن کا بھرتہ، آلو انڈا، آلو کی ٹکیاں وغیرہ وغیرہ۔ میری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ میری اس صلاحیت کو کوئی فوڈ چینل افورڈ نہیں کر سکتا۔
اب میں آپ کو اصل بات بتاؤں کہ میں دنیا کے دو بڑے شیفوں کو اپنا رول ماڈل سمجھتا ہوں۔ ایک سنجیو کپور ہیں جو زندہ ہیں۔ وہ اتنی میٹھی آواز میں لفظ ’بڑھیا‘ استعمال کرتے ہیں کہ انتظار حسین کو مات کر جاتے ہیں وہ ہر کھانا بناتے ہوئے کہتے ہیں "یہ مرچ بہت بڑھیا ہے اسے ناریل میں ملا دیں بڑھیا قسم کی ساؤتھ انڈین ڈش بن جائے گی”۔ میرے دوسرے بڑے رول ماڈل انگلینڈ کے آنجہانی کیتھ فلائیڈ ہیں جن کا گزشتہ برس زیادہ شراب پینے کی وجہ سے انتقال ہوگیا ہے۔ Keath Floyed میرے حساب سے اس فوڈ چینل انڈسٹری کے باوا آدم تھے۔ وہ دنیا کے ہر خطے میں اپنے جہاز سے اپنے عملے کے ساتھ سفر کرتے تھے اور دنیا کا ہر کھانا وہاں کی روایت کے مطابق بناتے تھے۔ انہوں نے افریقہ میں کئی خوبصورت جگہوں پر غریب افریقی بچوں کے ساتھ شتر مرغ کی ڈش بنائی۔ چین میں سانپ کی ڈش بنائی۔ عرب ملکوں میں دنبے کے ذبح ہونے کے بعد میزبان کے ساتھ اسے سیخ پر چڑھایا۔ ہر بار اس نے اپنا ڈرنک نہیں چھوڑا اور وہ اسی ڈرنک کی نذر ہو گیا۔ میں اس پر رشک اس لئے کرتا ہوں کہ وہ ایسا باورچی تھا جو کھانا بنانے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی تفریح سمجھتا تھا۔ ڈرنک کو چھوڑ کر میں بھی کھانا بنانے کو اپنی تفریح سمجھتا ہوں۔ اگرچہ مجھے کوئی چینل قبول نہیں کرے گا کیونکہ میں ایسا فوڈ بناؤں گا جو غریب کا ہو گا اور ساحر لدھیانوی کی طرح میں بھی کہوں گا بڑے بڑے شیف حضرات سے:
اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

مارچ 16, 2011 at 07:21 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]