سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ

فروری 7, 2011 at 07:03 تبصرہ کیجیے

دنیا کی ہر فضا میں ہے اجالا رسول کا
یہ ساری کائنات ہے صدقہ رسول کا
خوشبوئے گلاب ہے پسینہ رسول کا
آپ سب کو ہو مبارک مہینہ رسول کا
ربیع الاوّل اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ہے.
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة“ (سورة الاحزاب:۱۲)
”یقینا تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔“
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے بعد اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے درمیان کا عرصہ جو کم و بیش 571 سال کا عرصہ ہے ایسا تھا کہ پوری دنیا کفر و ذلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں غوتہ زن تھی۔ ارض و سماء کے درمیان روحانی تعلق اور رشتہ وحی منقطع ہو چکا تھا۔ لوگوں کی مذہبی، اخلاقی، تمدنی معیشی اور معاشرتی زندگی موت سے بھی بدتر تھی۔ کفر کی سیاہ راتیں چھا چکی تھیں۔ شرافت، دیانت، شرم و حیا، انصاف، محبت و اخوت چادر اور چار دیواری کا تقدس بری طرح پامال ہو چکا تھا۔ زنا، شراب نوشی، چوریاں، ڈکیتیاں، لوٹ مار، جدال و قتال، خون ریزی، دختر کشی، ظلم و ستم بامِ عروج پر تھا۔ ہر قبیلہ دوسرے قبیلے سے نبرد آزما تھا۔ حربی جذبات اس قدر وافر تھے کہ ذرا سی بات پر خون کی ندیاں بہہ جاتیں اور جدال و قتال کا سلسلہ صدیوں تک جاری رہتا۔ الحاد و بے دینی کا دور دورہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں غیر اللہ کو شریک ٹھہرانا ان تمام برائیوں میں سرفہرست تھا۔ چاند سورج اور نجوم، کواکب، جنات اور آگ کی پرستش کی جاتی تھی۔ حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر علیہما السلام کو اللہ وحدہ لا شریک کے بیٹے تصور کیا جاتا تھا۔ بت پرستی عام تھی حتیٰ کہ بیت اللہ میں 360 بتوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ مولانا حالی نے اشعار کے ذریعہ اس دور کا نقشہ اس طرح پیش کیا ہے۔
قبیلے قبیلے کا بت اک جدا تھا
کسی کا ہبل تھا کسی کا صفا تھا
یہ عزیٰ پہ وہ نائلہ پر فدا تھا
اسی طرح گھر نیا اک خدا تھا
نہاں ابر ظلمت میں تھا مہر انور
اندھیرا تھا فاران کی چوٹیوں پر
چلن ان کے جتنے تھے سب وحشیانہ
ہر اک لوٹ اور مار میں تھا یگانہ
فسادوں میں کٹتا تھا ان کا زمانہ
نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ
وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے
درندے ہوں جنگل میں بے باک جیسے
کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا
کہیں پہلے گھوڑا دوڑانے پہ جھگڑا
یونہی روز چلتی تھی تلوار ان میں
یونہی ہوتی رہتی تھی تکرار ان میں
عرب کے لوگ جو اپنے افعال و کردار کے لحاظ سے جہنم کے کنارے پر پہنچ چکے تھے، رحمت حق جوش میں آئی اور ان کی اصلاح اور نجات کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
”اللہ نے اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کو اور کنانہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو پسند فرمایا اور بنی ہاشم میں سے مجھ کو چن لیا۔“ (مشکوٰة)
ربیع الاول کا مہینہ اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں سرور کائنات، پیکر حسن و جمال، رحمت مجسم پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی۔ ربیع الاول کی نو تاریخ عام الفیل بمطابق 22 اپریل 571ء سوموار کا دن تھا۔ وقت صبح صادق کا اور موسم بہار کا تھا۔ رات کی ظلمتیں چھٹ رہی تھیں، دن کا اجالا ہر سو پھیل رہا تھا۔ جب نازش انسانیت، نگہبان آدمیت، سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے۔
ہوئی پہلوئے آمنہ سے ہویدا
دعائے خلیل و نوید مسیحا (علیہما السلام)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد مبارک کی بشارت انجیل میں بھی موجود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعائے ابراہیم بن کر آئے۔
ربنا وابعث فیھم رسولاً منھم یتلوا علیھم ایٰتک ویعلمھم الکتاب والحکمة ویزکیھم انک انت العزیز الحکیم (البقرة:۹۲۱)
”اے ہمارے رب ان میں انہیں میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب و حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے یقینا تو غلبہ والا حکمت والا ہے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشارت عیسیٰ بن کر آئے۔
( واذ قال عیسیٰ ابن مریم یٰبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التورٰة ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد ) (الصف:۶ )
”اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا اے (میری قوم) بنی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں بشارت (خوشخبری) سنانے والا ہوں جن کا نام احمد ہے۔“
آپ اپنی والدہ ماجدہ کے خواب کی تعبیر بن کر آئے۔ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ آپ ابھی والدہ ماجدہ آمنہ کے شکم میں تھے، انہوں نے خواب دیکھا کسی نے کہا تیرے پیٹ میں امت کا سردار ہے جب وہ پیدا ہو تو کہنا ”میں اسے ہر حاسد کے شر سے واحد (خدائے واحد) کی پناہ میں دیتی ہوں اور اس کا نام محمد رکھنا۔ حضرت آمنہ کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک نور مجھ سے نکلا ہے جس سے میں نے شام کے شہر بصریٰ کے محل دیکھے۔
علامہ شبلی نعمانی مختلف ارباب سیر کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں۔ ”آج کی رات ایوان کسریٰ کے چودہ کنگرے گر گئے۔ آتش کدہ فارس بجھ کیا، دریائے ساوہ خشک ہو گیا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ایوان کسریٰ نہیں بلکہ شان عجم، شوکت روم، اوج چین کے قصر ہائے فلک بوس گر پڑے۔ صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی۔ شیرازہ مجوسیت بکھر گیا۔ نصرانیت کے اوراق خزاں دیدہ ایک ایک کر کے جھڑ گئے۔
توحید کا غلغلہ بپا ہوا۔ چمنستان سعادت میں بہار آ گئی، آفتاب ہدایت کی شعاعوں سے ہر طرف روشنی پھیل گئی۔ مردہ زمین سرسبز و شاداب ہو گئی۔ اخلاق انسانی کا آئینہ پرتو قدس سے چمک اٹھا۔ یعنی یتیم عبداللہ جگر گوشہ آمنہ، شاہِ حرم، حکمران عرب، فرماں روائے عالم، سید الکونین امام القبلتین، مجسمہ رحمت، پیکرِ حسن و جمال، عالم قدس، قدس سے عالم امکان میں تشریف لائے۔ اللھم صلی علٰی سیدنا ونبینا محمد وبارک وسلم
ہے فرش سے تا عرش عجب بارش انوار
ہر سمت سے رحمت کی گھٹا جھوم رہی ہے
اک نغمہ پر کیف ہواﺅں میں رقصاں
فطرت بھی سرعرش عُلا جھوم رہی ہے
پیغمبر دو جہاں اس دنیا میں اس حالت میں تشریف لائے کہ آپ کی ولادت باسعادت سے قبل ہی آپ کے والد گرامی اس دنیا سے رحلت کر چکے تھے۔ چھ سال کے ہوئے تو ماں کی شفقت سے محروم ہو گئے۔ آٹھ سال کے ہوئے تو دادا جان کے سایہ عاطفیت سے بھی محروم ہو گئے۔ اس کے بعد آپ کے چچا ابوطالب آپ کے کفیل بنے۔ آپ نے بچپن میں بکریاں بھی چرائیں، جیسے ہی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو تجارت کی طرف مائل ہو گئے اور مکہ کی مشہور ترین اور صاحب ثروت خاتون خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا سامان لے کر ان کے غلام کے ہمراہ تجارتی قافلہ کے ساتھ شام جانے کا قصد کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ ان کا سارا مال تجارت بڑے نفع کے ساتھ فروخت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت و امانت اور صداقت سے اور غلام کی زبانی آپ کے اخلاق کریمانہ اور حسن معاملگی سے متاثر ہو کر آپ کو پیغام نکاح بھیج دیا۔ حالانکہ وہ بیوہ تھیں۔ آپ نے اپنے چچا سے مشاورت کے بعد اسے قبول کر لیا۔ آپ کے نکاح کے وقت آپ کی عمر 25 سال اور خدیجة الکبریٰ کی عمر چالیس برس تھی۔
نکاح کے بعد سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے اپنا سارا مال و منال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کر دیا۔ آپ نے اس مال کو فقرائ، مساکین، یتامیٰ، بیوگان اور دیگر حاجت مندوں میں خرچ کیا۔ آپ نے نبوت سے پہلے نہ تو کبھی شراب کو منہ لگایا نہ ہی آستانوں کا ذبیحہ کھایا اور نہ ہی غیر اللہ کی نذر و نیاز کو ہاتھ تک لگایا۔ آپ کو معبودان باطل سے سخت نفرت تھی۔ آپ طبعی طور پر مکہ کے مشرکانہ ماحول اور جاہلانہ رسومات، فرسودات سے متنفر تھے۔ جب آپ کی عمر مبارک 40 سال کی ہوئی تو آپ نے خلوت نشینی اختیار کر لی۔ آپ سامان خوردونوش لے کر غارِ حرا چلے جاتے اور کئی کئی دن عبادت و ریاضت اور تفکر میں مگن رہتے۔ غار حرا میں بیت اللہ آپ کی نظروں کے سامنے ہوتا۔ رمضان المبارک کی 21 ویں شب تھی۔ آپ غار حرا میں مکمل یکسوئی اور التفات سے عبادت الٰہی میں مشغول تھے کہ اللہ کی طرف سے جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور ختم المرسلین کے سر مبارک پر کائنات کی سرداری کا تاج سجا دیا، ارشاد ہوا:
( اقراءباسم ربک الذی خلق٭ خلق الانسان من علق٭ اقراءوربک الاکرم٭ الذی علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم ) (علق: ۱-۵)
”پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے، جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔“
ان آیات کے نزول کے بعد آپ پر کئی دن تک وحی نازل نہیں ہوئی جب آپ کی طبیعت میں وحی کا اشتیاق پڑا اور آپ شدت سے وحی کا انتظار کرنے لگے تو ایک دن آپ چادر اوڑھ کر محو استراحت تھے کہ رب کائنات کی طرف سے دوسری وحی نازل ہوئی۔ ارشاد ہوتا ہے:
( یا ایھا المدثر٭ قم فانذر وربک فکبر٭ وثیابک فطھر٭ والرجز فاھجر٭ ولا تمنن تستکثر٭ ولربک فاصبر ) (مدثر:۱-۷)
”اے کپڑا اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا اور آگاہ کر دے۔ اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر۔ اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر۔ ناپاکی کو چھوڑ دے اور احسان کر کے زیادہ لینے کی خواہش نہ کر۔ اور اپنے رب کی راہ میں صبر کر۔“
ان آیات میں اللہ رب العزت نے اپنے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو آئندہ کا لائحہ عمل بتلایا ہے کہ اب آرام و راحت کا وقت بیت چکا، اب آپ اللہ تعالیٰ کی توحید کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے اور شرک کی بیخ کنی کے لئے کمر بستہ ہو جائیے۔ چنانچہ آپ نے مکة المکرمہ  کی تیرہ سالہ زندگی میں اللہ کی توحید اور اس کی یکتائی کا پرچم بلند کئے رکھا اس دوران آپ کو بہت زیادہ مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ کو راہ حق سے ہٹانے کے لئے بڑے بڑے لالچ دئیے گئے۔ مال و منال کے جھانسے دئیے گئے۔ حسیناؤں کے ساتھ شادی کے چغمے دئیے گئے۔ مکۃ کی سرداری کا عہدہ بھی پیش کیا گیا۔ مگر آپ کو کسی بھی ذریعہ سے راہ راست سے پھسلایا نہ جا سکا اور نہ ہی آپ کے قدموں میں جنبش پیدا ہوئی۔ آپ نے ثم استقاموا کی عملی تفسیر پیش کی۔ سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا آپ کو داغ مفارقت دے گئیں، آپ پریشان رہنے لگے۔ ادھر کفار مکہ نے مظالم کی انتہا کر دی۔ اللہ رب العزت نے آپ کے غم کو ہلکا کرنے اور آپ کی تسلی و تشفی اور اظہار محبت کے لئے معراج کروائی۔ جس کا تذکرہ پارہ نمبر پندرہ کے شروع میں کیا گیا ہے۔ آپ نے اس سفر میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ اور مسجد اقصیٰ سے سدرة المنتہیٰ اور بیت المعمور کا نظارہ کیا۔ اللہ کا قرب حاصل ہوا۔ اور خالق کائنات کے ساتھ ہمکلام ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ پھر اللہ کے حکم سے مکة المکرمہ چھوڑ کر یثرب کی طرف ہجرت کی۔ آپ کی تشریف آوری سے یثرب مدینة النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اور اسے اسلامی ریاست کا پہلا دارالخلافہ بننے کا عظیم اعزاز اور شرف حاصل ہوا۔
مدنی زندگی میں معاشرتی، معاشی، سیاسی، مذہبی اور سماجی فلاح و بہبود کے سنہری اصول اور طریقے بتائے گئے۔ کفر و اسلام کے درمیان کئی جنگیں بھی ہوئیں۔ جن میں زیادہ تر مشہور جنگ بدر، جنگ احد، جنگ احزاب، جنگ خیبر اور جنگ تبوک ہیں۔ ۸ آٹھ ہجری میں مکہ فتح ہو گیا اور دس ہجری میں آپ نے کم و بیش سوا لاکھ جانباز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ فریضہ حج ادا فرمایا۔ میدان عرفات میں آپ نے خطبہ حج میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ بڑے جامع انداز میں بیان فرمایا۔ جس میں آپ نے حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد، عورتوں کے حقوق، غلاموں کے حقوق کا تذکرہ فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے سود کی حرمت کا واضح طور پر اعلان فرمایا۔ زمانہ جاہلیت کے تمام جھگڑوں کی جڑ کاٹ دی۔ اور معاشرے میں الفت و محبت، اخوت و مساوات کی فضا پیدا کرنے کی تلقین فرمائی۔ آپ جیسے ہی خطبہ حج سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل فرما کر اسلام کے مکمل ہونے کا اعلان فرما دیا۔
( الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ) (مائدہ:۳)
”آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا۔ اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہو گیا۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس مدینہ منورہ تشریف لائے۔ 29 صفر کو آپ کی طبیعت ناساز ہوئی۔ درد سر اور بخار میں تیزی آ گئی، تیرہ چودہ دن آپ علیل رہے۔ بیماری کی حالت میں آپ نے کئی دن نمازوں کی امامت خود ہی فرمائی۔ جب بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امام مقرر فرما دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں سترہ نمازوں کی امامت کا شرف اور اعزاز حاصل کیا۔
12 ربیع الاول بروز سوموار نماز فجر کے وقت آپ کی طبیعت کچھ سنبھل گئی۔ آپ نے اپنے حجرہ مبارکہ کا پردہ اٹھایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو لبوں پر تبسم جاری ہو گیا۔ طلوع آفتاب کے بعد بار بار غشی پڑنے لگی۔ اسی دوران آپ نے مسواک بھی کی۔ آپ کے سامنے پانی کا پیالہ رکھا ہوا تھا اس میں دونوں ہاتھ ڈبو کر چہرہ انور پر ملتے تھے اور فرماتے تھے ”لا الہ الا اللہ ان للموت سکرات“ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں موت کی بڑی تکلیف ہے۔ اس کے بعد ہاتھ پھیلا کر کہنے لگے: ”فی الرفیق الاعلیٰ“ اسی میں آپ کی وفات ہو گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللھم صلی علی محمد وعلٰی الہ واصحابہ وبارک وسلم دائما ابدا
آپ کی وفات کی خبر سن کر محبان رسول کے ہوش و حواس گم ہو گئے۔ آوازیں بند ہو گئیں۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ زمین پر بیٹھ گئے اور ان میں کوئی سکت نہ رہی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اتنا غم لیا کہ عقل کھو بیٹھے اور انہوں نے تلوار کھینچ لی اور کہا جو شخص یہ کہے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے میں اس کو قتل کر دوں گا۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں آپ کے چہرہ انور سے چادر ہٹا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا:
میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ بے شک وفات پا گئے ہیں۔ پھر آپ باہر تشریف لے آئے، مدینہ کے لوگ زاروقطار رو رہے تھے۔ عمر فاروق جو غم سے نڈھال اور ہواس کھو بیٹھے تھے تلوار لے کر کھڑے تھے اور یہ کہہ رہے تھے جو شخص یہ کہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں میں اس کو قتل کر دوں گا۔ ایسے حالات میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حالات کو کنٹرول کیا اور آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا:
”لوگو سنو! جو شخص محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا تھا (وہ جان لے کہ) محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں۔ اور تم میں سے جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ زندہ ہے۔ وہ کبھی نہیں مرے گا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
وما محمد الا رسول قدخلت من قبلہ الرسل
ابن ابی شیبہ میں ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان آیات کو تلاوت فرمایا۔
انک میت وانھم میتون٭ وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد٭
”بے شک آپ بھی مرنے والے ہیں اور بے شک وہ (سب لوگ) بھی مرنے والے ہیں۔ اور آپ سے پہلے کسی بشر کے لئے ہمیشگی و دوام نہیں ہے۔“
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد سب لوگوں کی زبان پر وہی آیتیں تھیں جو سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر تلاوت کی تھیں۔

Entry filed under: Islam : اسلام, Islamic Months: اسلامی مہینے. Tags: , , , , , , , , .

پروین شاکر کے بارے میں جشن عید میلاد النبی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Trackback this post  |  Subscribe to the comments via RSS Feed


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا “اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]

%d bloggers like this: