Archive for فروری, 2011

جمعتہ المبارک کے فضائل و برکات

مبشر صادق کا فرمان مبارک ہے کو جو شخص تین جمعہ سستی سے چھوڑ دے تو اللہ تعالی اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ جو شخص بلا عذر ایک جمعہ چھوڑے گا وہ سات ہزار سال دوزخ میں رہے گا۔
جمعتہ المبارک کی فضیلت و اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ رب العزت نے جس طرح تمام نبیوں میں آقائے نامدار فخر موجودات محمد مصطفی رضی اللہ عنہ کو آخری نبی منتخب فرمایا فرشتوں میں حضرت جبریل کو بزرگی عطا فرمائی۔ تمام کتب سماوی میں قرآن کریم کو فضیلت بخشی، مہینوں میں شعبان کو بزرگی عطا فرمائی، راتوں میں سب سے افضل رات شب قدر کو فرمایا چنانچہ اسی طرح تمام دنوں سے بہتر جمعہ کا دن فرمایا۔
قرآن حکیم میں رب کائنات کا فرمان ہے اے ایمان والو! جب جمعہ کی نماز کے لئے پکارا جائے تو نماز کے لئے فورا دوڑو اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم سمجھو اور جب نماز ادا کرچکو تو زمین میں پھیل جاؤ اور خدا کا فضل روزی تلاش کرو اور اللہ تعالی کو بہت یاد کرو تاکہ تم کامیابی پاؤ۔
احادیث مبارکہ میں جمعتہ المبارک کے بے شمار فضائل بیان کئے گئے ہیں۔
1۔ رحمت دو عالم رضی اللہ عنہ کا ارشاد گرامی ہے کہ دلوں کا سرور، نیکیوں کا سردار، نیکیوں کا خزینہ اور تمام دنوں سے بہتر جمعتہ المبارک کا دن ہے جس نے اس دن کو پا لیا اس کیلئے سو شہیدوں کا ثواب ہے۔
2۔ معلم اخلاق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خدائے تعالی کے نزدیک نماز جمعہ تمام دنیا و مافیا سے بہتر ہے اللہ تعالی کے نزدیک جمعتہ المبارک کی بہت اہمیت ہے. اللہ تعالٰی نے جمعتہ المبارک کے دن حضرت آدم کو پیدا کیا، اس دن جنت میں داخل کیا گیا اور زمین پر اتارا گیا۔ جمعہ کے دن ہی قیامت ہو گی۔ مسلم شریف
3۔ محبوب خدا رضی اللہ عنہ کا ارشاد گرامی ہے جمعتہ المبارک کی عظمت عیدالفطر اور عیدالاضحی سے بھی زیادہ ہے۔ابن ماجہ
4۔ سلطان الانبیاء رضی اللہ عنہ کا فرمان عالیشان ہے جمعتہ المبارک کے دن ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے کہ اگر اس گھڑی میں کوئی بھی دعا مانگی جائے اللہ تعالی پوری فرماتا ہے۔ بخاری مسلم شریف
5۔ خاتم المرسلین رضی اللہ عنہ نے فرمایا جمعتہ المبارک کا دن چمکتا دن ہے اور جمعہ کی رات روشن رات ہے۔
6۔ شفیع المذنبین رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات کو فوت ہوجاتا ہے تو اللہ تعالی اس کو قبر کے عذاب سے محفوظ رکھتا ہے۔
جمعتہ المبارک کی نماز چھوڑنے کا عذاب۔
مبشر صادق رضی اللہ عنہ کافرمان مبارک ہے کہ جو شخص تین جمعہ سستی سے چھوڑ دے تو اللہ تعالی اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے پھر فرمایا جو شخص بلا عذر ایک جمعہ چھوڑے گا وہ سات ہزار سال دوزخ میں رہے گا۔
جمعتہ المبارک کا اہتمام
جمعتہ المبارک کیلئے خاص اہتمام کرنیوالے پر خصوصی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے چنانچہ ختم الرسل مولائے کل صلٰی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے جمعتہ المبارک کے دن غسل کرنا واجب ہے۔ جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے گا اللہ تعالی اس کا درجہ بلند فرماتا ہے اور جس نے ایک جمعہ نہایت اہتمام کے ساتھ پڑھا تو اس شخص کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ آپ صلٰی اللہ علیہ وسلم نے جمعتہ المبارک کے خطبہ کے دوران خاموش رہنے کی تاکید فرمائی ہے.
جمعتہ المبارک کے دن کی خصوصی عبادات
جمعتہ المبارک کا دن عبادت و ریاضت اور ذکر و اذکار میں گزارنا چاہئے اس دن کثرت کے ساتھ حضرت محمد مصطفی صلٰی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھنا چاہئے۔ غم خوارِ امت نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن سو بار مجھ پر درود شریف پڑھے گا تو اللہ تعالی اس کے80 سال کے گناہ بخش دے گا اور اس پر میری شفاعت واجب ہو گی۔
آقائے مکی مدنی صلٰی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص سورہ کہف پارہ 15 کو جمعہ کے دن یا رات میں پڑھے گا اس کو ایک نور اس کی جگہ سے مکہ تک حاصل ہوگا۔ ستر ہزار فرشتے اس کی مغفرت کیلئے دعا کریں گے اور وہ بہت سی بیماریوں اور دجال کے فتنوں سے محفوظ رہیگا۔
حضور رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن عصر کی نماز سے مغرب تک ایک جگہ بیٹھا رہے اور "یااللہ یا رحمن” پڑھتا رہے جو حاجت چاہے گا پوری ہو گی۔
نبی الحرمین رضی اللہ عنہ کا فرمان عالیشان ہے کہ جو نماز جمعہ کے بعد سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ الناس سات دفعہ پڑھتا ہے تو وہ دوسرے جمعہ تک برائی سے پناہ میں رہتا ہے۔
خاتم النبین صلٰی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن صدقہ دے گا چاہے روٹی کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو تو اللہ تعالی اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ جو شخص جمعہ کے دن اپنے گھر میں کھانے کی فراخی کریگا حق تعالی اس کی قبر فراخ کرے گا۔
معزز قارئین جمعتہ المبارک کے مزید بے شمار فضائل و برکات اور عبادات ہیں لہذا ہمیں یہ مبارک دن بے ہودہ کاموں میں نہیں گزارناچاہئے بلکہ اس دن کی فیوض و برکات سے فیض یاب ہونے کیلئے تمام دن عبادت و ریاضت میں گزارنا چاہئے خصوصاَ درود شریف کی کثرت کرنی چاہئے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں
کہ رسول اللہ صلٰی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو
کیونکہ جبرئیل علیہ السلام اپنے رب کی جانب سے
میرے پاس ابھی یہ پیغام لے کر آئے تھے
کہ روئے زمین پر جو کوئی مسلمان آپ صلٰی اللہ علیہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا
تو میں اس پر دس رحمتیں نازل کروں گا اور میرے فرشتے اس کے لئے دس مرتبہ دعائے مغفرت کریں گے۔
"طبرانی، ترغیب”
اسی سے ملتی جلتی روایت سنن ابو داؤد میں کچھ یوں ہے
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا!
تمھارے بہتر دنوں میں سے ایک جمعہ کا دن ہے
اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اسی دن ان کا انتقال ہوا اسی دن صور پھونکا جائے گا
اور اس دن سب لوگ بیہوش ہوں گے
اس لیے اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمھارا دردو میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے
نیز سنن ابو داؤد میں ہے
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
تمہارے بہتر دنوں میں ایک دن جمعہ کا دن ہے
لہذا اس دن میں مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو
کیونکہ تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے
اور سنن نسائی میں اسحق بن منصور، حسین جعفی، عبدالرحمن بن یزید بن جابر، ابواشعث صنعانی، اوس بن اوس سے ایک روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے کہ
حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
تمام دنوں میں تم لوگوں کے واسطے جمعہ کا دن ہے
اس روز حضرت آدم کی ولادت مبارکہ ہوئی اور اس روز ان کی روح قبض ہوئی
اور اس روز صور پھونکا جائے گا اور وہ لوگ بے ہوش ہو جائیں گے
تو اس روز تم لوگ بہت زیادہ درود شریف بھیجو اس لئے کہ تم لوگ جو درود بھیجو گے وہ میرے سامنے پیش ہوگا.
آخر میں دلی دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس دن کی رحمتوں اور برکتوں سے سرفراز ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔”آمین، ثم آمین”
Advertisements

فروری 28, 2011 at 08:03 تبصرہ کریں

جیسے کو تیسا

ایک بڑھیا تھی۔ وہ بڑھیا اپنا سارا گہنا پاتا پہن کر کہیں جا رہی تھی۔  گہنا کیا تھا؟ یہی کانوں میں جھمکے تھے۔ باہوں میں گنگن تھے اور گلے میں ہار تھا۔ مگر یہ سارے زیور تھے سونے کے۔ بے چاری بڑھیا کے پیچھے دو ٹھگ لگ گئے۔ دونوں بڑے چال باز، مکار اور عیار تھے۔ دونوں آپس میں گہرے دوست تھے۔ دونوں چاہتے تھے کہ بڑھیا سے سارے کا سارا زیور ہتھیا لیں۔ لیکن بڑھیا نے بھی اپنے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے تھے، وہ ٹھگ تو ٹھگ تھے ہی…. یہ بڑھیا ان کی بھی نانی تھی۔
ایک ٹھگ نے آگے بڑھ کر علیک سلیک کے بعد پوچھا کہ بڑی اماں کہاں جا رہی ہو؟
بیٹا! شہر جا رہی ہوں بڑھیا نے جواب دیا۔
پھر تو خوب ساتھ ہوا۔ بڑی اماں ہم بھی تو شہر ہی جارہے ہیں۔ دوسرا ٹھگ بولا۔
ہاں بیٹا! اچھا ہوگیا۔ بڑھیا نے کہا۔
تھوڑی دور چلنے کے بعد ایک ٹھگ بولا۔
بڑی اماں کوئی کہانی ہی سناﺅ جس سے سفر کی تھکان معلوم نہ ہو اور وقت بھی جلد کٹ جائے۔
بیٹا! میں بھلا کون سی کہانی سناﺅں؟ تم ہی کچھ کہو۔
ہم سنائیں۔ دوسرا ٹھگ بولا۔ مگر بڑی اماں ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ اگر تم نے ہماری کہانی کو جھوٹ کہا تو ہم تمہارے کنگن اتار لیں گے۔ بڑھیا نے ان کی یہ شرط مان لی اور ایک ٹھگ کہانی سنانے لگا۔
بڑی اماں! ہماری ایک گائے تھی۔ بڑی خوب صورت موٹی موٹی آنکھیں تھیں اس کی۔ لمبے لمبے کان تھے۔ دودھ اتنا دیتی تھی کہ ہم دوہتے دوہتے تھک جاتے تھے لیکن دودھ پھر بھی ختم نہ ہوتا تھا۔ اس میں خاص بات یہ تھی کہ اگر ہم اس کے داہنے سینگ پر بیٹھ جاتے تو مغرب میں پہنچ جاتے اور جب بائیں پر بیٹھتے تو مشرق میں آجاتے۔
پاکستان بننے پر جب ہم قافلے کے ساتھ پاکستان آرہے تھے تو ہم پر فسادیوں نے حملہ کر دیا۔ ایک سنسناتی ہوئی گولی آئی اور ہماری گائے کو لگی جس سے بے چاری وہیں ڈھیر ہو گئی۔
بڑا افسوس ہوا۔ بڑھیا نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
بڑی اماں! اب تم کچھ سناﺅ۔ ٹھگ نے تیر نشانے پر نہ لگتے دیکھ کر کہا۔
میں سناﺅں؟ بڑھیا نے کہا۔ اگر تم نے میری بات کو غلط جانا تو تمہیں ایک سو روپیہ دینا پڑے گا۔
ٹھگو نے کہا۔ ہمیں منظور ہے۔
تو پھر سنو بیٹوں! جب میری شادی ہوئی تو میرے والد نے ایک بیل بھی مجھے جہیز میں دیا۔ بڑا اچھا بیل تھا۔ کسی کو کچھ نہ کہتا تھا، ایک دفعہ یوں ہی باہر کھیت میں کوئی دوسرا بیل اس سے لڑ پڑا۔ ایسا لڑا کہ ہمارے بیل کے ماتھے پر اچھا خاصا زخم ہو گیا ہم نے بہیترے علاج کرائے لیکن زخم نہ بھر سکا…. کرنا خدا کا یوں ہوا کہ بنولے کا دانہ اس کے زخم میں کہیں سے گر گیا۔ ہوتے ہوتے وہ اچھا خاصا پودا بن گیا۔ اس میں ایسی نفیس کپاس لگی کہ تمہیں کیا بتاﺅں، وہ کپاس ہم نے جمع کرنی شروع کر دی۔ اتنی کپاس جمع ہو گئی کہ اب گھر میں جگہ نہ رہی، گھر گھر ہمارے بیل کے چرچے ہونے لگے، بڑی بڑی دور سے لوگ اس انوکھے بیل کو دیکھنے کے لیے آتے۔ اس کی کپاس کو دیکھتے اور تعریفوں کے پل باندھ دیتے۔ اب ہمارے پاس اتنی زیادہ کپاس ہو گئی کہ سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ ہم نے اسے بیلوا کر کاٹنا شروع کیا اور اس کا کپڑا لتا بنانے لگے، کئی قسم کے کپڑے بنوائے، جن میں کھیس بھی تھے، ان کھیسوں میں سے دو کھیس کہیں چوری ہو گئے۔ بیٹا! خدا جھوٹ نہ بلوائے، یہ کھیس جو تم اوڑھے ہوئے ہو، وہی ہیں جو چوری ہوئے تھے۔ مہربانی کر کے یہ کھیس اتار دو۔
دونوں ٹھگوں نے اپنے کھیس بڑھیا کو دے دیے اور کرتے بھی کیا۔ شرط جو تھی۔ مجبور تھے۔
ہاں تو بیٹا! بڑھیا نے پھر کہانی کا سلسلہ شروع کیا۔ ہم نے اس کپاس میں سے ململ کے تھان بنوائے۔ ململ کے تھانوں میں سے ایک تھان گم ہو گیا۔ یہ جو تمہاری پگڑیاں ہیں، اسی تھان کی ہیں، یہ بھی اتاردو۔
انہوں نے پگڑیاں بھی اتار دیں۔ نہ اتارتے تو شرط کے مطابق سو روپیہ دیتے۔
اب شہر نزدیک ہی تھا۔ ایک ٹھگ بولا۔ بڑی اماں! بھوک لگ رہی ہے۔
اچھا بیٹا! شہر آیا ہی سمجھو۔ مجھے اپنے کنگن بیچنے ہیں۔ کنگن بیچ لیں اور پھر آرام سے کسی جگہ بیٹھ کر کھانا کھائیں گے۔
وہ خاموش ہو گئے اور سوچنے لگے کہ بڑھیا کنگن بیچ لے پھر کوئی داﺅ چلائیں گے۔ وہ بڑھیا کے ساتھ چلتے ہوئے اپنی دماغی سڑکوں پر تدبیروں کے گھوڑے دوڑانے لگے۔
اب وہ شہر میں پہنچ گئے تھے۔ ہر طرف خوب چہل پہل تھی۔ کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ بڑھیا نے اپنے کنگن اتار لیے اور ان سے کہنے لگی:
بیٹا! سنار کی دکان آ گئی ہے۔ تم یہاں بیٹھو میں اپنے کنگن بیچ لوں۔
وہ سنار کی دکان کے قریب ہی بیٹھ گئے اور بڑھیا سنار کی دکان پر پہنچ گئی۔
کیا چاہیے اماں تمہیں؟ سنار نے پوچھا۔
میں اپنے دو نوکر بیچنا چاہتی ہوں وہ سامنے بیٹھے ہیں۔
نوکروں کی تو ہمیں بہت ضرورت ہے۔
سنار نے کہا۔ بولو اماں! کیا قیمت ہے ان دونوں کی؟
تین سو روپے۔ بڑھیا نے کہا اور بات دو سو روپے پر طے ہو گئی۔
میں نوکروں سے پوچھ لوں کہ ان میں سے ایک بکنا چاہتا ہے یا دونوں؟ بڑھیا نے کہا اور پھر بلند آواز سے پوچھنے لگی۔ بیٹا! ایک بیچوں یا دونوں؟
ادھر سے جواب ملا۔ اماں! دونوں بیچ دے۔ ایک کو کہاں رکھے گی؟
بڑھیا نے دو سو روپوں میں دونوں ٹھگوں کو سنار کے ہاتھ بیچ دیا اور ان کے پاس آ کر کہنے لگی۔ بیٹا! تم یہیں بیٹھو۔ میں تمہارے لیے کھانا لے کر آتی ہوں۔
کچھ مٹھائی بھی لیتی آنا اماں! دونوں نے کہا اور بڑھیا اچھی بات کہہ کر نو دو گیارہ ہو گئی۔
تھوڑی دیر بعد سنار نے انہیں بلایا اور دریاں جھاڑنے کا حکم دیا تو ان کو حقیقت معلوم ہوئی اور انہوں نے کہا۔
ارے وہ تو ہماری بھی نانی نکلی۔

فروری 24, 2011 at 05:55 تبصرہ کریں

خوشحال خان خٹک (1613-1689)

پشتو کے مشہور شاعر خوشحال خان خٹک (1613۔1689 عیسوی) صوبہ سرحد کے شہر نوشہرہ کے نزدیک ۱کوڑہ نامی قصبے میں پیدا ہوئے آپ خٹک قبیلے کے سربراہ تھے اور آپ نے کچھ عرصہ کے لئے مغلیہ حکمرانوں کے لئے بھی خدمات سرانجام دیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو حربی شاعر کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔ جنگی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنے قلم کو بھی تلوار کی طرح استعمال کیا۔ اور اپنے گردا گرد پھیلی ہوئی دنیا میں اپنے افکار کی جڑیں مضبوط کرتے رہے۔ مغل بادشاہ شاہ جہان نے آپ کو اپنے ایک فوجی دستے کا سالار مقرر کیا اور آپ نے بلخ، بدخشاں اور کانگڑہ کی مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بعد ازاں آپ اورنگزیب کے ساتھ منسلک ہو گئے اور لاتعداد مہمات میں شامل رہے ۔ خوشحال خان خٹک مروجہ دینی اور دنیاوی تعلیم سے آراستہ تھے ۔ آپ کی شعری تخلیقات میں ہندو ستان کے عصری تخلیقی ادب کی تمام تر خصوصیات واضح طور پر نظر آتی ہیں۔
آپ کی شعری تخلیقات کو تین ادوار میں منقسم کیا جا سکتا ہے۔ ابتدائی شاعری روحانی تفکرات سے پر ہے۔ قیدی کی حیثیت سے لکھی گئی نظمیں حقیقی زندگی کے مختلف ادوار کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہیں اور اس کے بعد کے دور کی نظمیں صوفیانہ انداز میں مذہبی جذبات کی ترجمانی کرتی ہیں۔ آپ کی شاعری میں قبائلی روایات و انداز کے ساتھ ساتھ اخلاقی ، فطری اور انسانی حسن کی ترجمانی جا بجا نظر آتی ہے۔ روحانی تجربات اور آزادی پر مبنی موضوعات کو آپ نے اپنے پر قوت انداز میں اس طرح ادا کیا ہے کہ آپ کی شاعری عوام الناس میں بے پناہ مقبولیت حاصل کرتی نظر آتی ہے۔ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود آپ کے گیت آج بھی حجروں اور چوپالوں میں اپنی تانیں بکھیر رہے ہیں۔ پشتو جاننے والا ہر شخص اپنے سینے میں خوشحال خان خٹک کی شاعری کا کچھ نہ کچھ حصہ لازمی طور پر سنبھالے بیٹھا ہے۔
خوشحال خان کی شاعری میں عربی الفاظ و اصطلاحات محض قرآن کے مطالعہ سے ہی نہیں آئے بلکہ ان کا گہرا مطالعہ ،عربی کے ساتھ ساتھ فارسی زبان کی بے ساختہ شعری تعلیمات کو بھی آپ کی شاعری میں لے آیا۔ آپ کی شاعری میں زباندانی کے تجربوں کے ساتھ ساتھ سر اور لے میں ہم آہنگی بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ آپ نے عربی شاعری کی صنف بیت کو زیادہ تر اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ جو کہ نہ صرف پشتو زبان میں بلکہ لا تعداد دوسری زبانوں میں بھی بے پناہ مقبول ہے۔ اگرچہ جنگ وحرب آپ کا پیشہ تھا لیکن شاعری جیسے نازک جذبے کو آپ نے اپنے آپ سے الگ نہیں ہونے دیا۔
اورنگزیب ہی کے زمانے میں شہنشاہ نے یوسف زئی قبائل کو زیادہ ترجیح دینی شروع کر دی اور خوشحال کو گرفتار کر کے جئے پور کے قلعہ میں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ قید و بند کی صعوبتوں کے بعد خوشحال خان خٹک کی تمام تر زندگی مغلوں کے خلاف مہمات میں بسر ہوئی اور انہوں نے پشتون قبائل کو متحد کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ ان کی اس دور کی نظمیں بادشاہی نظام کے خلاف اور قبائل کے اتحاد کے لئے جدوجہد پر مبنی مضامین پر مشتمل ہیں۔اسی دور کی نظموں میں پشتون تشخص کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاقیات، تصوف ، اقدار اور روایات پر مبنی ان کی شاعری آج تک زبان زدِ خاص وعام ہے۔ خوشحال خان خٹک نے جلا وطنی کے عالم میں۱۶۸۹ء میں وفات پائی اور اپنے پسندیدہ گاؤں سرائے ۱کوڑہ میں دفن کیے گئے۔

فروری 21, 2011 at 05:59 تبصرہ کریں

لوہار اور عورت

ایک نیک و پرہیزگار شخص مصر پہنچا ۔ وہاں اس نے ایک لوہار کودیکھا وہ اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر سرخ اور دہکتا ہوا لوہا آگ کی بھٹی سے باہر نکال رہا ہے مگرآگ  کی حرارت و گرمی کا اس پر کوئي اثر نہيں تھا ۔ اس شخص نے اپنے دل میں کہا کہ :یہ توکوئي بہت ہی پہنچا ہوا اور پرہیزگار آدمی معلوم ہوتا ہے۔ وہ اس لوہار کے پاس گيا سلام کیا اورکہنے لگا :تمہيں قسم ہے اس خداکی جس نے تمہیں یہ کرامت عطا کی ہے میرے حق میں کوئی دعا کر دو ۔ لوہار نے جیسے ہی یہ باتیں سنیں اس پر گریہ طاری ہوگیا اور کہنے لگا : میرے بارے میں جوتم سوچ رہے ہو ویسا نہيں ہے میں نہ تو کوئی متقی ہوں اور نہ ہی صالحین میں میرا شمار ہوتا ہے ۔ آنے والے شخص نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟
اس طرح کا کام اللہ کے نیک بندوں کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا ؟
اس نے جواب دیا ٹھیک کہتے ہو مگر میرے ساتھ اس کی کچھ اور وجہ ہے آنے والے شخص نے جب زیادہ اصرار کیا تو لوہار نے کہا : ایک دن میں اسی دوکان میں کام کر رہا تھا ، ایک بہت ہی حسین و خوش اندام عورت کہ اس سے پہلے اتنی خوبصورت عورت کہیں نہیں دیکھی تھی میرے پاس آئي اور کہنے لگی کہ میں بہت ہی غریب و مفلس ہوں ۔ میں اس کودیکھتے ہی اس کا عاشق ہو گیا اوراس کے حسن میں گرفتار ہو گیا میں نے اس سے کہا کہ اگر تو میرے ساتھ ہم بستر ہو جائے تو میں تیری ہر ضرورت پوری کردوں گا ۔ یہ سن کر اس عورت کا پورا جسم لرز اٹھا اوراس پرایک بہت ہی عجیب وغریب کیفیت طاری ہو گئی کہنے لگی :
اے مرد خداسے ڈر میں اس قماش کی عورت نہیں ہوں ۔ اس کے جواب میں میں نے کہا  تو ٹھیک  ہے اٹھ اور یہاں سے کہیں اور کا راستہ دیکھ ۔ وہ عورت چلی گئی مگر تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ دوبارہ واپس آئی اورکہنے لگی غربت تنگدستی مجھے مارے ڈال رہی ہے اوراسی چیز نے مجھے مجبورکر دیا ہے کہ تیری خواہش پر ہاں ، بھر لوں ۔
میں نے دوکان بند کی اوراس کولے کراپنے گھر پہنچا جب میں گھر کے کمرےمیں داخل ہوا تو میں کمرے کےدروازے کواندر سے تالا لگانے لگا
عورت نے پوچھا  : کیوں تالا لگارہے ہو یہاں توکو‏ئی بھی نہيں ہے ؟ میں نے جواب دیا کہيں کوئي آ نہ جائے اورپھر میری عزت چلی جائے ۔ عورت نے کہا : اگرایسا ہے توخدا سے کیوں نہيں ڈرتے ؟
جب میں اس کے جسم کے قریب ہوا تو دیکھا کہ اس کا جسم اس طرح سے لرز رہا تھا جیسے باد بہاری کی زد میں آکر بید کے خشک پتے ہلتے رہتے ہیں ۔اوراس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگي ہوئي تھی ،
میں نے اس سے کہا کہ تو یہاں کس سے ڈر رہی ہے ؟ اس نے کہا اس وقت خدا ہم دونوں کو دیکھ رہا ہے تو میں کیونکر خوف نہ کھاؤں ۔ اس  عورت نے بہت ہی گڑگڑا کر کہا :
اے مرد اگر تو مجھے چھوڑدے تو میں وعدہ کرتی ہوں کہ خداوند عالم تیرے جسم کودنیا وآخرت دونوں جہان میں آگ کے شعلوں میں نہيں جلائے گا ۔ اس کی التجا اور چہرے پربہتے ہوئے آنسو مجھ پر اثر کر گئے میں نے اپنا ارادہ  ترک کر دیا اور اس کی جوضرورت تھی وہ بھی پوری کردی یوں وہ عورت خوشی خوشی اپنے گھر لوٹ گئي ۔
اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ خاتون جن کے سر پر یاقوت کا چمکتا ہوا تاج ہے مجھ سے کہہ رہی ہیں : اللہ تمہيں جزائے خیر دے ،میں نے پوچھا آپ کون ہيں ؟ بزرگ خاتون نے کہا کہ میں اسی ضرورت مند اور محتاج لڑکی کی ماں ہوں کہ جس کی غربت کھینچ کر اسے تمہارے پاس لائی تھی لیکن خوف خدا کی وجہ سے تم نے اسے چھوڑ دیا اب میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ دنیا وآخرت میں تمہیں آگ سے محفوظ رکھے ۔
میں نے ان بزرگ خاتون سے پوچھا آپ کا تعلق کس گھرانے سے ہے اس نے جواب دیا کہ میرا شجرہ نسب رسول خدا کے گھرانے سے ملتا ہے یہ سن کر میں نے ان بزرگ خاتون کا بے پناہ شکریہ ادا کیا ۔اس دن کے بعد سے آگ  کی تپش اور حرارت مجھ میں کوئي اثر نہيں کرتی ۔

فروری 17, 2011 at 07:38 تبصرہ کریں

ربیع الاوّل کے فضائل

نثار تیری چہل پہل پر ہزار عیدیں ربیع الاول
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں
اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ربیع الاول مبارک ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ابتداء میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت موسم ربیع یعنی فصل بہار کا آغاز تھا۔ یہ مہینہ فیوضات و برکات کے اعتبار سے افضل ہے کہ باعث تخلیق کائنات رحمۃ اللعالمین احمد مجتبیٰ محمد مصطفی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا میں قدم رنجہ فرمایا۔ 12 ربیع الاول شریف بروز پیر، مکۃ المکرمہ کے محلہ بنی ہاشم میں آپ کی ولادت باسعادت صبح صادق کے وقت ہوئی۔ 12 ربیع الاول ہی میں آپ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے۔ اسی ماہ کی 10 تاریخ کو محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین سیدہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا تھا۔
مشائخ عظام اور علمائے کرام فرماتے ہیں کہ حضور پر نور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم کا وقت ولادت باسعادت لیلۃ القدر سے بھی افضل ہے۔ کیوں کہ لیلۃ القدر میں فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ولادت پاک کے وقت خود رحمۃ للعالمین شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ لیلۃ القدر میں صرف امتِ مسلمہ پر فضل و کرم ہوتا ہے اور شب عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات پر اپنا فضل و کرم فرمایا ۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے کہ
وَمَا اَرْ سَلْنَاکَ اِلَّا رَحْمَۃٌ لِّلْعٰالَمِیْنَ ط
بارھویں ربیع الاوّل مبارک کو یعنی ولادت پاک کے دن خوشی و مسرت کا اظہار کرنا۔ مساکین کو کھانا کھلانا۔ اور میلاد شریف کا جلوس نکالنا اور جلسے منعقد کرنا اور کثرت سے درود شریف پڑھنا بڑا ثواب ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام سال امن و امان عطا فرمائے گا اور اس کے تمام جائز مقاصد پورے فرمائے گا۔
مسلمانوں کو اس ماہ مبارک میں گنبد خضرا کی شبیہ والے اور صلوٰۃ و سلام لکھے ہوئے سبز پرچم لہرانے چاہئیں اور بارہویں تاریخ کو بالخصوص جلوس میلاد شریف اور مجالس منعقد کیا کریں ( ماثبت من السنۃ)
حکایت:
ابو لہب جو مشہور کافر تھا اور سید دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ میں چچا تھا ۔ جب رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارک ہوئی تو ابو لہب کی لونڈی ثویبہ نے آپ کی ولادت باسعادت کی خوش خبری اپنے مالک ابو لہب کو سنائی ۔ تو ابولہب نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں اپنی لونڈی کو آزاد کردیا۔
جب ابو لہب مرگیا تو کسی نے خواب میں دیکھا اور حال دریافت کیا۔ تو اس نے کہا کہ کفر کی وجہ سے دوزخ کے عذاب میں گرفتار ہوں مگر اتنی بات ہے کہ ہر پیر کی رات عذاب میں تخفیف ہو جاتی ہے۔ اور جس انگلی کے اشارے سے میں نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا تھا اس سے مجھے پانی ملتا ہے جب میں انگلی چوستا ہوں ۔
ابن جوزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب ابو لہب کافر( جس کی مذمت میں سورہ لہب نازل ہوئی) کو یہ انعام ملا تو بتاؤ اس مسلمان کو کیا صلہ ملے گا جو اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی منائے۔ اس کی جزاء اللہ کریم سے یہی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل عمیم سے اسے جنت النعیم میں داخل فرمائے گا ۔ الحمدللہ ربّ العالمین ۔
میلاد پاک کرنا اور اس میں محبت کرنا ایمان کی علامت ہے اور میلاد پاک کا ثبوت قرآن مجید ،احادیث شریفہ اور اقوال بزرگانِ دین سے ملتا ہے۔ میلاد شریف میں ہزاروں برکتیں ہیں۔ اس کو بدعت کہنا دین سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔
محفل میلاد کی حقیقت:
حقیقت صرف یہ ہے کہ مسلمان ایک جگہ جمع ہوں، سب محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہوں اور صحیح العقیدہ ، سنی علماء یا کوئی ایک عالم دین مسلمانوں کے سامنے حضور سراپا نور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارک ، آپ کے معجزات ، آپ کے اخلاق کریمہ، فضائل اور مناقب صحیح روایات کے ساتھ بیان کرے۔ اور آخر میں بارگاہِ رسالت میں درود و سلام با ادب کھڑے ہو کر پیش کریں۔ اگر توفیق ہو تو شیرینی پر فاتحہ دلا کر فقراء و مساکین کو کھلائیں۔ احباب میں تقیسم کریں پھر اپنی تمام حاجتوں کیلئے دعا کریں۔ یہ تمام امور قرآن و سنت اور علمائے امت کے اقوال سے ثابت ہیں صرف اللہ جل شانہ، کی ہدایت کی ضرورت ہے۔
انعقادِ میلاد، اللہ تعالیٰ کی سنّت ہے:
محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد شریف خود خالق اکبر جل شانہ، نے بیان کیا ہے ۔
لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُوْمِنِیْنَ رَؤُوْفٌ الرَّحِیْم o (پ ١١ سورۃ توبہ ١٢٨)
(ترجمہ) بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے۔ تمہاری بھلائی کے بہت چاہنے والے ہیں اور مسلمانوں پر کمال مہربان (کنزالایمان)
اس آیت شریفہ میں پہلے اللہ جل شانہ، نے فرمایا کہ ” مسلمانوں تمہارے پاس عظمت والے رسول تشریف لائے” یہاں تو اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت شریفہ بیان فرمائی ، پھر فرمایا کہ ”وہ رسول تم میں سے ہیں” اس میں اپنے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب شریف بیان فرمایا ہے ، پھر فرمایا ”تمہاری بھلائی کے بہت چاہنے والے اور مسلمانوں پر کرم فرمانے والے مہربان ہیں” یہاں اپنے محبوب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت بیان فرمائی۔
میلاد ِ مروجہ میں یہی تین باتیں بیان کی جاتی ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ سرکار ابد قرارا کا میلاد شریف بیان کرنا سنت الٰہیہ ہے۔
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری دلیل:
اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَا ئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَ وَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰیَۃً مِّنْکَ ط (پ ٧، سورۃ المائدہ، ١١٤)
(ترجمہ) اے اللہ اے رب ہمارے ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی ۔(کنزالایمان)
مندرجہ بالا دعا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب ہے کہ انہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک خوانِ نعمت اللہ کی نشانی کے طور پر نازل ہونے کی دعا کی ، اور نزول آیت و خوانِ نعمت کو اپنے لیے اور بعد میں آنے والوں یومِ عید قرار دیا، یہی وجہ ہے کہ خوانِ نعمت کے نزول کے دن ”اتوار” کو دنیائے عیسائیت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس دن روز مرّہ کے کام کاج چھوڑ کر تعطیل مناتی ہے ۔
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری دلیل:
اللہ تعالیٰ حکم فرما رہا ہے ،
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ O(پ ١١، سورۃ یونس، ٥٨)
(ترجمہ) تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت ، اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں، وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے (کنزالایمان)
مفسرینِ کرام مثلاً علامہ ابن جوزی (م ۔٥٩٧ھ) ، امام جلال الدین سیوطی (م۔ ٩١١ھ) علامہ محمود آلوسی (م۔ ١٢٧٠ھ) اور دیگر نے متذکرہ آیت مقدسہ کی تفسیر میں ”فضل اور رحمت” سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مراد لیا ہے (حوالے کیلئے دیکھیں: زاد المسیر، جلد ٤، صفحہ ٤٠۔ تفسیر درِّ منثور ، جلد ٤، صفحہ ٣٦٨۔ تفسیر روح المعانی ، جلد ٦، صفحہ ٢٠٥) مفسرینِ کرام کی وضاحت و صراحت کے بعد یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے عموم میں کائنات اور اس کے لوازمات بھی شمار ہونگے لیکن فضل و رحمت سے مطلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مراد ہوگی کہ جملہ کائنات کی نعمتیں اسی نعمتِ عظمیٰ کے طفیل ہیں اور اس ذات کی تشریف آوری کا یوم بھی فضل و رحمت سے معمور ہے ، پس ثابت ہو اکہ یومِ میلاد، ذاتِ با برکات کے سبب اس قابل ہوا کہ اسی دن اللہ کے حکم کے مطابق خوشی منائی جائے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ میلاد کی خوشیوں کےلئے یوم کا تعین کیا جا سکتا ہے ۔
خیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
محترم قارئین! اگر قرآنِ مجید سے مزید دلائل پیش کئے جائیں تو عرض ہے اول تا آخر مکمل قرآن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت اور صفات بیان کرتا ہے ، پارہ ٣،سورۃ آلِ عمران ، آیات ٨١اور٨٢ میںاس مجلس میلاد کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے عالمِ ارواح میں انبیاءِ کرام کو جمع کر کے منعقد فرمائی۔
میلاد بیان کرنا سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
بعض لوگ لا علمی کی بنا پر میلاد شریف کا انکار کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا میلاد بیان کیا ہے۔ سیدنا حضرت عباس رضی اللہ عنہ، فرماتے ہیں کہ سیدالعرب و العجم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ کسی گستاخ نے آپ کے نسب شریف میں طعن کیا ہے تو ،
فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ مَنْ اَنَا فَقَا لُوْ اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔۔ قَالَ اَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدُ الْمُطَّلِبْ اِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلْنِیْ فِیْ خَیْرِ ہِمْ ثُمَّ جَعَلَہُمْ فِرْقَتَیْنِ فَجَعَلْنِیْ فِیْ خَیْرِ ہِمْ فِرْقَۃً ثُمَّ جَعَلَہُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلْنِیْ فِیْ خَیْرِ ہِمْ قَبِیْلَۃً ثُمَّ جَعَلَہُمْ بُیُوْتًا فَاَنَا خَیْرُ ہُمْ نَفْسًا وَخَیْرُہُمْ بَیْتًا ( رواہ الترمذی ، مشکوٰۃ شریف رضی اللہ تعالی عنہ ٥١٣)
(ترجمہ) پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں کون ہوں؟ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔ فرمایا میں عبدالمطلب کے بیٹے کا بیٹا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی ان میں سب سے بہتر مجھے بنایا پھر مخلوق کے دو گروہ کئے ان میں مجھے بہتر بنایا پھر ان کے قبیلے کئے اور مجھے بہتر قبیلہ بنایا پھر ان کے گھرانے بنائے مجھے ان میں بہتر بنایا تو میں ان سب میں اپنی ذات کے اعتبار اور گھرانے کے اعتبار سے بہتر ہوں۔
اس حدیث شریف سے ثابت ہو اکہ حضور پر نور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم نے بذاتِ خود محفلِ میلاد منعقد کی جس میں اپنا حسب و نسب بیان فرمایا ۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ محفل میلاد کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس مجلس و محفل میں ان لوگوں کو رد کیا جائے جو آپ کی بدگوئی کرتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں
سارے اچھوں میں اچھا سمجھئے جسے
ہے اس اچھے سے اچھا ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم
سارے اونچوں سے اونچا سمجھئے جسے
ہے اس اونچے سے اونچا ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم
تعیّن تاریخ پر قرآنی دلیل:
وَزَکِّرْہُمْ بِاَ یَّامِ اللّٰہِ ط (پ ١٣۔ سورۃ ابراہیم)
(اے موسیٰ) ان کو یاد دلاؤ اللہ تعالیٰ کے دن
ہر عام و خاص جانتا ہے کہ ہر دن اور رات اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں۔ پھر اللہ کے دنوں سے کیا مراد ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان دنوں سے مراد خدا تعالیٰ کے وہ مخصوص دن ہیں جن میں اس کی نعمتیں بندوں پر نازل ہوئی ہیں۔ چنانچہ اس آیت کریمہ میں سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہو اکہ آپ اپنی قوم کو وہ دن یاد دلائیں جن میں اللہ جل شانہ، نے بنی اسرائیل پر من و سلویٰ نازل فرمایا۔
مقام غور یہ ہے کہ اگر من و سلوٰی کے نزول کا دن بنی اسرائیل کو منانے کا حکم ہوتا ہے تو آقائے دو جہاں سید کون و مکاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پاک (جو تمام نعمتوں میں اعلیٰ اور افضل ہے) کا دن بطور عید منانا، اس کی خوشی میں جلوس نکالنا، جلسے منعقد کرنا ، مساکین و فقراء کے لئے کھانا تقسیم کرناکیوں کر بدعت و حرام ہوسکتا ہے؟
حدیث شریف سے تعیّن یوم پر دلیل:
عَنْ اَبِیْ قَتَا دَۃ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الْاَثْنَیْنِ فَقَالَ فِیْہِ وُلِدْتُ وَفِیْہِ اُنْزِلَ عَلَیَّ (مشکوٰۃ صفحہ ١٧٩)
(ترجمہ) سیدنا حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں اسی دن پیدا ہوا۔ اور اسی روز مجھ پر قرآن نازل ہوا۔
اس حدیث شریف نے واضح کر دیا کہ کسی دن کا تعین و تقرر کرنا ناجائز نہیں ہے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بروز پیر دو نعمتیں نازل فرمائی گئی تھیں ایک ولادت مقدسہ اور دوسرے نزول قرآن ، اسی لئے آپ نے پیر کے دن کو روزہ رکھنے کے لیے معیّن فرمایا۔
ماہِ ربیع الاول شریف کیلئے خصوصی ہدایات:
ربیع الاول شریف کے مقدس مہینے میں حصول برکات کیلئے ، عبادات کی کثرت (نماز، روزہ اور صدقات و خیرات) کیجئے۔ گناہوں سے بچنے کا خصوصی اہتمام اس مہینے میں کرنا چاہئے، جھوٹ ، غیبت، چغلی، ایذا رسانی، الزام تراشی، غصہ و برہمی وغیرہ سے اپنی ذات کو آلودہ نہ کیجئے، عید میلاد النبی صلٰی اللہ علیہ وسلم کے دن اپنے چہروں پر مسکراہٹ سجائے رکھئے،کسی سے بھی (اپنا ہو یا پرایا) جھگڑا کرنے سے اجتناب کیجئے۔
ایک خاص تحفہ:
ماہ ربیع الاول شریف کی کسی بھی جمعرات کے دن یا شبِ جمعہ گلاب کے چند پھول لے کر اپنے گھر میں باوضو ہو کر بیٹھیں ، پھولوں کو سامنے رکھیں ، درود شریف تین مرتبہ پڑھیں پھر
اَللّٰہ نَاصِرٌ۔۔۔۔۔۔ اَللّٰہُ حَافِظٌ ۔۔۔۔۔۔ اللّٰہُ الصَّمَد
٣١٣ مرتبہ پڑھیں اور تین مرتبہ درود شریف پڑھ کر پھولوں پر دم کردیں ، اور یہ پھول مٹھائی وغیرہ کے ساتھ ملا کر کھالیں، مشائخ سے منقول ہے کہ جو ایسا کرے گا پورے سال بھر رزق میں برکت ہوگی، مفلسی قریب نہیں آئے گی۔

فروری 14, 2011 at 07:15 تبصرہ کریں

جشن عید میلاد النبی

کائنات ہست وبود میں خدا تعالیٰ نے بے حد وحساب عنایات واحسانات فرمائے ہیں۔ انسان پر لاتعداد انعامات و مہربانیاں فرمائی ہیں اور اسی طرح ہمیشہ فرماتا رہے گا کیونکہ وہ رحیم وکریم ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہزاروں نعمتیں دیں لیکن کبھی کسی پر احسان نہیں جتلایا، اس ذات رؤف الرحیم نے ہمیں پوری کائنات میں شرف و بزرگی کا تاج پہنایا اور احسنِ تقویم کے سانچے میں ڈھال کر رشکِ ملائک بنایا ۔ ہمیں ماں باپ، بہن بھائی اور بچوں جیسی نعمتوں سے نوازا۔ غرضیکہ ہزاروں ایسی عنایات جو ہمارے تصور سے ماورا ہیں اس نے ہمیں عطا فرمائیں لیکن بطور خاص کسی نعمت اور احسان کا ذکر نہیں کیا اس لئے کہ وہ تو اتنا سخی ہے کہ اسے کوئی مانے یا نہ مانے وہ سب کو اپنے کرم سے نوازتا ہے اور کسی پر اپنے احسان کو نہیں جتلاتا۔
لیکن ایک نعمت عظمیٰ ایسی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے جب حریم کبریائی سے اسے بنی نوع انسان کی طرف بھیجا اور امت مسلمہ کو اس نعمت سے سرفراز کیا تو اس پر احسان جتلاتے ہوئے فرمایا:
لَقَدْ مَنَّ اللّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(سورۃ آل عمران 3 : 164)

ترجمہ: ”بے شک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہیں میں سے عظمت والا رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے“۔
درج بالا آیہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ :امت مسلمہ پر میرا یہ احسان، انعام اور لطف و کرم ہے کہ میں نے اپنے محبوب کو تمہاری ہی جانوں میں سے تمہارے لئے پیدا کیا۔ تمہاری تقدیریں بدلنے، بگڑے ہوئے حالات سنوارنے اور شرف وتکریم سے نوازنے کیلئے تاکہ تمہیں ذلت وگمراہی کے گڑھے سے اٹھا کر عظمت وشرفِ انسانیت سے ہمکنار کر دیا جائے۔
لوگو! آگاہ ہو جاؤ کہ میرے کارخانہ قدرت میں اس سے بڑھ کر کوئی نعمت تھی ہی نہیں۔ جب میں نے وہی محبوب تمہیں دے دیا جس کی خاطر میں کائنات کو عدم سے وجود میں لایا اور اس کو انواع واقسام کی نعمتوں سے مالا مال کر دیا تو ضروری تھا کہ میں رب العالمین ہوتے ہوئے بھی اس عظیم نعمت کا احسان جتلاؤں ایسا نہ ہو کہ امت مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے بھی عام نعمت سمجھتے ہوئے اس کی قدرومنزلت سے بے نیازی کا مظاہرہ کرنے لگے۔اب یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا فرض ہے کہ وہ ساری عمر اس نعمت کے حصول پر اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرے اور خوشی منائے جیسا کہ اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے۔
قُلْ بِفَضْلِ اللّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُواْ هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ(يونس 10 : 58)
ترجمہ: ”آپ فرما دیں کہ اللہ کے فضل سے اس کی رحمت سے (جواُن پر نازل ہوئی) اس پر ان کو خوش ہونا چاہئے یہ تو ان چیزوں سے جو وہ جمع کر رہے ہیں کہیں بڑھ کر ہے“۔
ربیع الاول، تمام مسلمانوں کے لئے بہت متبرک مہینہ ہے. اس مہینہ کی 12 تاریخ کو ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفٰی صلٰی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے. عاشقان رسول صلٰی اللہ علیہ وسلم اس دن کو عید کی طرح مناتے ہیں. اس دن کو عید میلاد النبی بھی کہا جاتا ہے. بروز ولادت روزہ رکھنا آپ صلٰی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے. اس متبرک مہینہ میں زیادہ سے زیادہ درود پاک کا ورد کرنا چاہئے. بہت سے مسلمان اس ماہ میں محفل میلاد کا اہتمام کرتے ہیں. یہ دن امت مسلمہ کے لیے کتنا مبارک اور اہم ہےجب ہم اللہ کی عطا کر دہ نعمتوں اور زندگی میں حاصل چھوٹی سے چھوٹی خوشیوں پراللہ کا شکر ادا کرتے ہیں تو اس کے حبیب نبی صلی االلہ علیہ وسلم کے لئے کیوں نہیں جس کے لئے اس نے قرآن میں واضع طو ر پر بیان کیا ہے. جب ہم اپنی زندگی میں حاصل ہونے والی چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں تو وجود محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعمت عطا ہونے پر سب سے بڑھ کر خوشی منائی جائے اور اس خوشی کے اظہار کا بہترین موقع ماہ ربیع الاوّل ہے۔
ماہِ ربیع الاوّل کی تیاریاں
ماہِ ربیع الاوّل کو ایسے منایا جائے کہ دیکھنے والا ہمارے وجود اور کردار میں خوشی محسوس کرے۔ لہٰذا ماہِ صفر میں ہی استقبال ربیع الاوّل کے پروگرام اس نہج پر ترتیب دینا شروع کر دیں۔
* جس رات ربیع الاوّل کا چاند نظر آئے اس رات۔ اپنے دوستوں اور عزیزواقارب کو ماہِ ربیع الاوّل پر آمد پر مبارکباد دیں۔
* اپنے بچوں کو بھی اس ماہ کی اہمیت بتائیں
* آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خوشی میں بچوں میں شیرینی بانٹیں تاکہ شعوری طور پر بچوں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی کا احساس پیدا ہوشکرانے کے نوافل کا اہتمام کریں کہ اللہ تعلی نے دنیا سے گمراہی اور ظلمتوں کے اندھیروں کے خاتمے کے لئے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا
اللہ ہمیں قرآن وسنت پرعمل پیرا ہونے کی تو فیق دےآمین
نبی پاک صلٰی اللہ علیہ وسلم کی شان میں پڑھی جانے والی کچھ نعتیں پیشِ خدمت ہیں:

 

جشن عید میلاد النبی کا روح پرور منظر


فروری 10, 2011 at 07:21 تبصرہ کریں

سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ

دنیا کی ہر فضا میں ہے اجالا رسول کا
یہ ساری کائنات ہے صدقہ رسول کا
خوشبوئے گلاب ہے پسینہ رسول کا
آپ سب کو ہو مبارک مہینہ رسول کا
ربیع الاوّل اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ہے.
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة“ (سورة الاحزاب:۱۲)
”یقینا تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔“
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے بعد اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے درمیان کا عرصہ جو کم و بیش 571 سال کا عرصہ ہے ایسا تھا کہ پوری دنیا کفر و ذلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں غوتہ زن تھی۔ ارض و سماء کے درمیان روحانی تعلق اور رشتہ وحی منقطع ہو چکا تھا۔ لوگوں کی مذہبی، اخلاقی، تمدنی معیشی اور معاشرتی زندگی موت سے بھی بدتر تھی۔ کفر کی سیاہ راتیں چھا چکی تھیں۔ شرافت، دیانت، شرم و حیا، انصاف، محبت و اخوت چادر اور چار دیواری کا تقدس بری طرح پامال ہو چکا تھا۔ زنا، شراب نوشی، چوریاں، ڈکیتیاں، لوٹ مار، جدال و قتال، خون ریزی، دختر کشی، ظلم و ستم بامِ عروج پر تھا۔ ہر قبیلہ دوسرے قبیلے سے نبرد آزما تھا۔ حربی جذبات اس قدر وافر تھے کہ ذرا سی بات پر خون کی ندیاں بہہ جاتیں اور جدال و قتال کا سلسلہ صدیوں تک جاری رہتا۔ الحاد و بے دینی کا دور دورہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں غیر اللہ کو شریک ٹھہرانا ان تمام برائیوں میں سرفہرست تھا۔ چاند سورج اور نجوم، کواکب، جنات اور آگ کی پرستش کی جاتی تھی۔ حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر علیہما السلام کو اللہ وحدہ لا شریک کے بیٹے تصور کیا جاتا تھا۔ بت پرستی عام تھی حتیٰ کہ بیت اللہ میں 360 بتوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ مولانا حالی نے اشعار کے ذریعہ اس دور کا نقشہ اس طرح پیش کیا ہے۔
قبیلے قبیلے کا بت اک جدا تھا
کسی کا ہبل تھا کسی کا صفا تھا
یہ عزیٰ پہ وہ نائلہ پر فدا تھا
اسی طرح گھر نیا اک خدا تھا
نہاں ابر ظلمت میں تھا مہر انور
اندھیرا تھا فاران کی چوٹیوں پر
چلن ان کے جتنے تھے سب وحشیانہ
ہر اک لوٹ اور مار میں تھا یگانہ
فسادوں میں کٹتا تھا ان کا زمانہ
نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ
وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے
درندے ہوں جنگل میں بے باک جیسے
کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا
کہیں پہلے گھوڑا دوڑانے پہ جھگڑا
یونہی روز چلتی تھی تلوار ان میں
یونہی ہوتی رہتی تھی تکرار ان میں
عرب کے لوگ جو اپنے افعال و کردار کے لحاظ سے جہنم کے کنارے پر پہنچ چکے تھے، رحمت حق جوش میں آئی اور ان کی اصلاح اور نجات کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
”اللہ نے اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کو اور کنانہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو پسند فرمایا اور بنی ہاشم میں سے مجھ کو چن لیا۔“ (مشکوٰة)
ربیع الاول کا مہینہ اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں سرور کائنات، پیکر حسن و جمال، رحمت مجسم پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی۔ ربیع الاول کی نو تاریخ عام الفیل بمطابق 22 اپریل 571ء سوموار کا دن تھا۔ وقت صبح صادق کا اور موسم بہار کا تھا۔ رات کی ظلمتیں چھٹ رہی تھیں، دن کا اجالا ہر سو پھیل رہا تھا۔ جب نازش انسانیت، نگہبان آدمیت، سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے۔
ہوئی پہلوئے آمنہ سے ہویدا
دعائے خلیل و نوید مسیحا (علیہما السلام)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد مبارک کی بشارت انجیل میں بھی موجود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعائے ابراہیم بن کر آئے۔
ربنا وابعث فیھم رسولاً منھم یتلوا علیھم ایٰتک ویعلمھم الکتاب والحکمة ویزکیھم انک انت العزیز الحکیم (البقرة:۹۲۱)
”اے ہمارے رب ان میں انہیں میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب و حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے یقینا تو غلبہ والا حکمت والا ہے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشارت عیسیٰ بن کر آئے۔
( واذ قال عیسیٰ ابن مریم یٰبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التورٰة ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد ) (الصف:۶ )
”اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا اے (میری قوم) بنی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں بشارت (خوشخبری) سنانے والا ہوں جن کا نام احمد ہے۔“
آپ اپنی والدہ ماجدہ کے خواب کی تعبیر بن کر آئے۔ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ آپ ابھی والدہ ماجدہ آمنہ کے شکم میں تھے، انہوں نے خواب دیکھا کسی نے کہا تیرے پیٹ میں امت کا سردار ہے جب وہ پیدا ہو تو کہنا ”میں اسے ہر حاسد کے شر سے واحد (خدائے واحد) کی پناہ میں دیتی ہوں اور اس کا نام محمد رکھنا۔ حضرت آمنہ کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک نور مجھ سے نکلا ہے جس سے میں نے شام کے شہر بصریٰ کے محل دیکھے۔
علامہ شبلی نعمانی مختلف ارباب سیر کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں۔ ”آج کی رات ایوان کسریٰ کے چودہ کنگرے گر گئے۔ آتش کدہ فارس بجھ کیا، دریائے ساوہ خشک ہو گیا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ایوان کسریٰ نہیں بلکہ شان عجم، شوکت روم، اوج چین کے قصر ہائے فلک بوس گر پڑے۔ صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی۔ شیرازہ مجوسیت بکھر گیا۔ نصرانیت کے اوراق خزاں دیدہ ایک ایک کر کے جھڑ گئے۔
توحید کا غلغلہ بپا ہوا۔ چمنستان سعادت میں بہار آ گئی، آفتاب ہدایت کی شعاعوں سے ہر طرف روشنی پھیل گئی۔ مردہ زمین سرسبز و شاداب ہو گئی۔ اخلاق انسانی کا آئینہ پرتو قدس سے چمک اٹھا۔ یعنی یتیم عبداللہ جگر گوشہ آمنہ، شاہِ حرم، حکمران عرب، فرماں روائے عالم، سید الکونین امام القبلتین، مجسمہ رحمت، پیکرِ حسن و جمال، عالم قدس، قدس سے عالم امکان میں تشریف لائے۔ اللھم صلی علٰی سیدنا ونبینا محمد وبارک وسلم
ہے فرش سے تا عرش عجب بارش انوار
ہر سمت سے رحمت کی گھٹا جھوم رہی ہے
اک نغمہ پر کیف ہواﺅں میں رقصاں
فطرت بھی سرعرش عُلا جھوم رہی ہے
پیغمبر دو جہاں اس دنیا میں اس حالت میں تشریف لائے کہ آپ کی ولادت باسعادت سے قبل ہی آپ کے والد گرامی اس دنیا سے رحلت کر چکے تھے۔ چھ سال کے ہوئے تو ماں کی شفقت سے محروم ہو گئے۔ آٹھ سال کے ہوئے تو دادا جان کے سایہ عاطفیت سے بھی محروم ہو گئے۔ اس کے بعد آپ کے چچا ابوطالب آپ کے کفیل بنے۔ آپ نے بچپن میں بکریاں بھی چرائیں، جیسے ہی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو تجارت کی طرف مائل ہو گئے اور مکہ کی مشہور ترین اور صاحب ثروت خاتون خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا سامان لے کر ان کے غلام کے ہمراہ تجارتی قافلہ کے ساتھ شام جانے کا قصد کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ ان کا سارا مال تجارت بڑے نفع کے ساتھ فروخت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت و امانت اور صداقت سے اور غلام کی زبانی آپ کے اخلاق کریمانہ اور حسن معاملگی سے متاثر ہو کر آپ کو پیغام نکاح بھیج دیا۔ حالانکہ وہ بیوہ تھیں۔ آپ نے اپنے چچا سے مشاورت کے بعد اسے قبول کر لیا۔ آپ کے نکاح کے وقت آپ کی عمر 25 سال اور خدیجة الکبریٰ کی عمر چالیس برس تھی۔
نکاح کے بعد سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے اپنا سارا مال و منال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کر دیا۔ آپ نے اس مال کو فقرائ، مساکین، یتامیٰ، بیوگان اور دیگر حاجت مندوں میں خرچ کیا۔ آپ نے نبوت سے پہلے نہ تو کبھی شراب کو منہ لگایا نہ ہی آستانوں کا ذبیحہ کھایا اور نہ ہی غیر اللہ کی نذر و نیاز کو ہاتھ تک لگایا۔ آپ کو معبودان باطل سے سخت نفرت تھی۔ آپ طبعی طور پر مکہ کے مشرکانہ ماحول اور جاہلانہ رسومات، فرسودات سے متنفر تھے۔ جب آپ کی عمر مبارک 40 سال کی ہوئی تو آپ نے خلوت نشینی اختیار کر لی۔ آپ سامان خوردونوش لے کر غارِ حرا چلے جاتے اور کئی کئی دن عبادت و ریاضت اور تفکر میں مگن رہتے۔ غار حرا میں بیت اللہ آپ کی نظروں کے سامنے ہوتا۔ رمضان المبارک کی 21 ویں شب تھی۔ آپ غار حرا میں مکمل یکسوئی اور التفات سے عبادت الٰہی میں مشغول تھے کہ اللہ کی طرف سے جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور ختم المرسلین کے سر مبارک پر کائنات کی سرداری کا تاج سجا دیا، ارشاد ہوا:
( اقراءباسم ربک الذی خلق٭ خلق الانسان من علق٭ اقراءوربک الاکرم٭ الذی علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم ) (علق: ۱-۵)
”پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے، جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔“
ان آیات کے نزول کے بعد آپ پر کئی دن تک وحی نازل نہیں ہوئی جب آپ کی طبیعت میں وحی کا اشتیاق پڑا اور آپ شدت سے وحی کا انتظار کرنے لگے تو ایک دن آپ چادر اوڑھ کر محو استراحت تھے کہ رب کائنات کی طرف سے دوسری وحی نازل ہوئی۔ ارشاد ہوتا ہے:
( یا ایھا المدثر٭ قم فانذر وربک فکبر٭ وثیابک فطھر٭ والرجز فاھجر٭ ولا تمنن تستکثر٭ ولربک فاصبر ) (مدثر:۱-۷)
”اے کپڑا اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا اور آگاہ کر دے۔ اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر۔ اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر۔ ناپاکی کو چھوڑ دے اور احسان کر کے زیادہ لینے کی خواہش نہ کر۔ اور اپنے رب کی راہ میں صبر کر۔“
ان آیات میں اللہ رب العزت نے اپنے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو آئندہ کا لائحہ عمل بتلایا ہے کہ اب آرام و راحت کا وقت بیت چکا، اب آپ اللہ تعالیٰ کی توحید کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے اور شرک کی بیخ کنی کے لئے کمر بستہ ہو جائیے۔ چنانچہ آپ نے مکة المکرمہ  کی تیرہ سالہ زندگی میں اللہ کی توحید اور اس کی یکتائی کا پرچم بلند کئے رکھا اس دوران آپ کو بہت زیادہ مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ کو راہ حق سے ہٹانے کے لئے بڑے بڑے لالچ دئیے گئے۔ مال و منال کے جھانسے دئیے گئے۔ حسیناؤں کے ساتھ شادی کے چغمے دئیے گئے۔ مکۃ کی سرداری کا عہدہ بھی پیش کیا گیا۔ مگر آپ کو کسی بھی ذریعہ سے راہ راست سے پھسلایا نہ جا سکا اور نہ ہی آپ کے قدموں میں جنبش پیدا ہوئی۔ آپ نے ثم استقاموا کی عملی تفسیر پیش کی۔ سیدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا آپ کو داغ مفارقت دے گئیں، آپ پریشان رہنے لگے۔ ادھر کفار مکہ نے مظالم کی انتہا کر دی۔ اللہ رب العزت نے آپ کے غم کو ہلکا کرنے اور آپ کی تسلی و تشفی اور اظہار محبت کے لئے معراج کروائی۔ جس کا تذکرہ پارہ نمبر پندرہ کے شروع میں کیا گیا ہے۔ آپ نے اس سفر میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ اور مسجد اقصیٰ سے سدرة المنتہیٰ اور بیت المعمور کا نظارہ کیا۔ اللہ کا قرب حاصل ہوا۔ اور خالق کائنات کے ساتھ ہمکلام ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ پھر اللہ کے حکم سے مکة المکرمہ چھوڑ کر یثرب کی طرف ہجرت کی۔ آپ کی تشریف آوری سے یثرب مدینة النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اور اسے اسلامی ریاست کا پہلا دارالخلافہ بننے کا عظیم اعزاز اور شرف حاصل ہوا۔
مدنی زندگی میں معاشرتی، معاشی، سیاسی، مذہبی اور سماجی فلاح و بہبود کے سنہری اصول اور طریقے بتائے گئے۔ کفر و اسلام کے درمیان کئی جنگیں بھی ہوئیں۔ جن میں زیادہ تر مشہور جنگ بدر، جنگ احد، جنگ احزاب، جنگ خیبر اور جنگ تبوک ہیں۔ ۸ آٹھ ہجری میں مکہ فتح ہو گیا اور دس ہجری میں آپ نے کم و بیش سوا لاکھ جانباز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ فریضہ حج ادا فرمایا۔ میدان عرفات میں آپ نے خطبہ حج میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ بڑے جامع انداز میں بیان فرمایا۔ جس میں آپ نے حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد، عورتوں کے حقوق، غلاموں کے حقوق کا تذکرہ فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے سود کی حرمت کا واضح طور پر اعلان فرمایا۔ زمانہ جاہلیت کے تمام جھگڑوں کی جڑ کاٹ دی۔ اور معاشرے میں الفت و محبت، اخوت و مساوات کی فضا پیدا کرنے کی تلقین فرمائی۔ آپ جیسے ہی خطبہ حج سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل فرما کر اسلام کے مکمل ہونے کا اعلان فرما دیا۔
( الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ) (مائدہ:۳)
”آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا۔ اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہو گیا۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس مدینہ منورہ تشریف لائے۔ 29 صفر کو آپ کی طبیعت ناساز ہوئی۔ درد سر اور بخار میں تیزی آ گئی، تیرہ چودہ دن آپ علیل رہے۔ بیماری کی حالت میں آپ نے کئی دن نمازوں کی امامت خود ہی فرمائی۔ جب بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امام مقرر فرما دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں سترہ نمازوں کی امامت کا شرف اور اعزاز حاصل کیا۔
12 ربیع الاول بروز سوموار نماز فجر کے وقت آپ کی طبیعت کچھ سنبھل گئی۔ آپ نے اپنے حجرہ مبارکہ کا پردہ اٹھایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو لبوں پر تبسم جاری ہو گیا۔ طلوع آفتاب کے بعد بار بار غشی پڑنے لگی۔ اسی دوران آپ نے مسواک بھی کی۔ آپ کے سامنے پانی کا پیالہ رکھا ہوا تھا اس میں دونوں ہاتھ ڈبو کر چہرہ انور پر ملتے تھے اور فرماتے تھے ”لا الہ الا اللہ ان للموت سکرات“ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں موت کی بڑی تکلیف ہے۔ اس کے بعد ہاتھ پھیلا کر کہنے لگے: ”فی الرفیق الاعلیٰ“ اسی میں آپ کی وفات ہو گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللھم صلی علی محمد وعلٰی الہ واصحابہ وبارک وسلم دائما ابدا
آپ کی وفات کی خبر سن کر محبان رسول کے ہوش و حواس گم ہو گئے۔ آوازیں بند ہو گئیں۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ زمین پر بیٹھ گئے اور ان میں کوئی سکت نہ رہی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اتنا غم لیا کہ عقل کھو بیٹھے اور انہوں نے تلوار کھینچ لی اور کہا جو شخص یہ کہے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے میں اس کو قتل کر دوں گا۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں آپ کے چہرہ انور سے چادر ہٹا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا:
میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ بے شک وفات پا گئے ہیں۔ پھر آپ باہر تشریف لے آئے، مدینہ کے لوگ زاروقطار رو رہے تھے۔ عمر فاروق جو غم سے نڈھال اور ہواس کھو بیٹھے تھے تلوار لے کر کھڑے تھے اور یہ کہہ رہے تھے جو شخص یہ کہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں میں اس کو قتل کر دوں گا۔ ایسے حالات میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حالات کو کنٹرول کیا اور آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا:
”لوگو سنو! جو شخص محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا تھا (وہ جان لے کہ) محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں۔ اور تم میں سے جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ زندہ ہے۔ وہ کبھی نہیں مرے گا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
وما محمد الا رسول قدخلت من قبلہ الرسل
ابن ابی شیبہ میں ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان آیات کو تلاوت فرمایا۔
انک میت وانھم میتون٭ وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد٭
”بے شک آپ بھی مرنے والے ہیں اور بے شک وہ (سب لوگ) بھی مرنے والے ہیں۔ اور آپ سے پہلے کسی بشر کے لئے ہمیشگی و دوام نہیں ہے۔“
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد سب لوگوں کی زبان پر وہی آیتیں تھیں جو سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر تلاوت کی تھیں۔

فروری 7, 2011 at 07:03 تبصرہ کریں

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]