Archive for جنوری, 2011

باطل عقائد و رسومات اور ماہِ صفر

ماہ صفر المظفر کو جاہل لوگ منحوس سمجھتے ہیں ، اس میں شادی کرنے اور لڑکیوں کو رخصت کرنے سے، نیا کاروبار شروع کرنے اور سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ خصوصاً ماہ صفر کی ابتدائی تیرہ تاریخیں بہت زیادہ منحوس گمان کی جاتی ہیں اور ان کو تیرہ تیزی کہتے ہیں۔ تیرہ تیزی کے عنوان سے سفید چنے (کابلی چنا) کی نیاز بھی دی جاتی ہے ۔ نیاز و فاتحہ کرنا مستحب ہے لیکن یہ سمجھنا کہ اگر تیرہ تیزی کی فاتحہ نہ دی اور سفید چنے پکا کر تقسیم نہ کئے تو گھر کے کفیل افراد (خصوصاً کمانے والے) کا روزگار متاثر ہوگا ، یہ باطل نظریہ ہے۔ نیاز و فاتحہ ہر طرح کے رزقِ حلال پر دی جا سکتی ہے اور ہر ماہ کی ہر تاریخ کو دی جا سکتی ہے۔ محض ماہِ صفر سے کسی نیاز کو مقید کرنا جہالت ہے۔
ماہِ صفر کے آخری چہار شنبہ کو ”آخری بدھ ” کے عنوان سے لوگ بہت مناتے ہیں، خصوصاً ٹیکسٹائل (کپڑے کا کاروبار) قالین بافی ، لوہار ، بڑھئی اور بنارسی (کھڈی لوم) کا کام کرنے والے اپنے کاروبار بند کر دیتے ہیں ، سیر و تفریح کو جاتے ہیں، نہاتے دھوتے ہیں، خوشیاں مناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس روز صحت کا غسل فرمایا تھا۔ اور بیرونِ شہر (یعنی مدینہ طیبہ کے باہر) سیرو تفریح کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ یہ سب باتیں بےاصل اور بے بنیاد ہیں ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ الرضوان نے تحقیق فرمائی ہے کہ ماہِ صفر کے آخری ہفتہ میں سید العرب والعجما کا مرض شدت کے ساتھ تھااور فوراً بعد ربیع الاول شریف میں آقائے دوجہاں علیہ الصلوٰۃ والسلام ظاہری حیات کا عرصہ گزار کر وصال فرما گئے تھے۔ ان تاریخوں میں جو باتیں لوگوں میں مشہور ہیں، وہ خلافِ شرع و حقیقت ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس روز بلائیں آتی ہیں اور طرح طرح کی باتیں بیان کی جاتی ہیں. ان سب خرافات کو مندرجہ ذیل احادیث رد کرتی ہیں۔
حدیث:
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ لَا عَدْوٰی وَلَا ھَامَۃَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صَفَرَ۔ (مسلم شریف جلد دوم صفحہ ٢٣١، جامع صغیر جلد دوم صفحہ ٨٨٥)
(ترجمہ) سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے مروی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہ متعدی بیماری ہے اور نہ ہامہ اور نہ منزل قمر اور نہ صفر ۔
حدیث:
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ لَا عَدْوٰی وَلَا طِیَرۃَ وَ اُحِبُّ الْفَالَ الصَّالِحَ (مسلم شریف جلد دوم صفحہ ٢٣١)
(ترجمہ) معروف محدّث و مُعَبِّر امام محمد بن سیرین علیہ الرحمۃ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ”بیماری کا لگنا اور بدشگونی کوئی چیز نہیں فالِ بد کچھ نہیں البتہ نیک فال مجھے پسند ہے۔”
حدیث:
امام مسلم علیہ الرحمہ فال سے متعلق احادیث نقل کرتے ہیں ، حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے حضرت انس رضی اللہ عنہ، سے روایت کیا،
وَیُعْجِبْنِیُ الْفَأْلُ الْکَلِمَۃُ الْحَسَنَۃُ و الْکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ (صحیح مسلم مطبوعہ اصح المطابع، جلد دوم، صفحہ ٢٣١)
(ترجمہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ”فال” سے متعلق فرمایا، ” اور مجھے اچھا شگون (فال) پسند ہے یعنی نیک کلمہ ، اچھا کلمہ۔”
کوئی مہینہ منحوس نہیں ہوتا
حدیث:
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ الشُّوْمُ فِیْ الدَّارِ وَالْمَرْ أَۃِ وَالْفَرَسِ (مسلم جلد دوم صفحہ ٢٣٢)
(ترجمہ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ”نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے، گھر ، عورت اور گھوڑے میں۔”
حدیث شریف:
عَنْ اِبْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ قَالَ اِنْ یَّکُنْ مِّنَ الشُّوْمِ شَیْءٌ حَقٌّ فَفِی الْفَرَسِ وَالْمَرْأَۃِ وَ الدَّارِ (مسلم جلد دوم، صفحہ ٢٣٢)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ”اگر بدشگونی کسی چیز میں ہو تو گھوڑے ، عورت اور گھر میں ہوگی۔”
حدیث:
عَنْ جَابِرِ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ قَالَ اِنْ کَانَ فِیْ شَیْءٍ فَفِیْ الرُّبْعِ وَالْخَادِمِ وَ الفَرَوسِ (مسلم جلد دوم صفحہ ٢٣٢)
(ترجمہ)حضرت جابر رضی اللہ عنہ، سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ”اگر کچھ نحوست ہو تو زمین اور غلام اور گھوڑے میں ہوگی۔”
تشریح احادیث:
امام نووی علیہ الرحمۃ نے کہا کہ ان احادیث میں امام مالک نے کہا کہ کبھی گھر کو اللہ تعالیٰ ہلاکت کاسبب بنا دیتا ہے یا اسی طرح کسی عورت یا گھوڑے یا غلام کو اورمطلب یہ ہے کہ کبھی نحوست ان چیزوں سے ہوجاتی ہے۔ اور امام خطابی و دیگر بہت سے علما نے کہا کہ یہ بطور استثناء کے ہے یعنی شگون لینا منع ہے مگر جب کوئی گھر میں رہنا پسند نہ کرے یا عورت سے صحبت کو مکروہ جانے یا گھوڑے یا خادم کو بُرا سمجھے تو ان کو نکال ڈالے بیع اور طلاق سے (شرح صحیح مسلم النووی)
نوٹ: گھوڑے سے مراد ” سواری” (کار /بس وغیرہ) ہے اور غلام سے مراد نوکر چاکر ہیں۔
حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مفہوم:
حافظ الحدیث حضرت امام محی الدین نووی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں ۔
لَاعَدْوٰیکا مطلب یہ ہے کہ ایک بیماری دوسرے کو نہیں لگتی ۔ زمانہئ جاہلیت میں لوگوں کا اعتقاد تھا کہ جو شخص بیمار کےساتھ بیٹھتا ہے یا اس کے ساتھ کھاتا پیتا ہے تو اس کی بیماری اس کو بھی لگ جاتی ہے۔
وَلَا ھَامَّۃَ۔ ہامہ ایک جانور کا نام ہے۔ اہلِ عرب میں یہ باطل نظریہ تھا کہ یہ جانور میت کی ہڈیوں سے پیدا ہوتا ہے جو اُڑتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ مقتول کے سر سے ایک جانور باہر نکلتا ہے۔ اس کا نام ہامہ ہے وہ ہمیشہ فریاد کرتا ہے کہ مجھ کو پانی دو یہاں تک کہ اس کا مارنے والا مارا جاتا ہے۔امام نووی نے تفسیر ” مالک بن انس” کے حوالہ سے لکھا ہے کہ وہ (اہلِ عرب) اعتقاد رکھتے تھے کہ مقتول کی روح جانور میں منتقل ہو جاتی ہے۔ سرکار نامدارعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس عقیدہ کو باطل فرمایا۔
نوء کی جمع انواء ہے جس کا معنیٰ قمر کی منزلیں ہیں۔ وہ اٹھائیس منزلیں ہیں یعنی وہ راتیں کہ جن میں چاند کے مکمل ہونے کے ارتقائی مراحل اور پھر بتدریج تنزل کے مراحل ۔حتیٰ کہ چاند اٹھائیسویں شب میں مکمل غروب ہوجاتا ہے اہل عرب کا خیال تھا کہ چاند کی بڑھتی اور گھٹتی عمر کی منزلیں بارش آنے کا سبب ہیں ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا رد فرمایا کہ نزولِ باراں بتقدیر الٰہی ہے۔
وَلَا صَفَرَ۔ یعنی صفر نہیں۔ اس میںبہت تاویلات ہیں بعض کے نزدیک” صفر ”سے مراد یہی مہینہ ہے جو محرم شریف کے بعد آتا ہے۔امام مالک اور ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ بعض کے نزدیک ”صفر” پیٹ میں پایا جانے والا ایک سانپ ہے اور وہ بھوک کے وقت کاٹتا ہے اور ایذاء دیتا ہے اور ایک آدمی سے دوسرے میں سرایت کر جاتا ہے۔۔۔۔ پس حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا کہ یہ سب باطل اور خرافات ہیں۔ (شرح صحیح مسلم جلد دوم صفحہ ٤٣٠۔٤٣١)
ایک اور حدیث میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا،” بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں” (مسلم شریف )
عرب کی یہ عادت بھی تھی کہ شگون لیتے تھے۔ وہ اس طرح کہ جب کسی کام کا قصد کرتے یا کسی جگہ جاتے تو پرندہ یا جانور کو ہنکارتے تو اگر یہ دائیں طرف بھاگتا تو اسے مبارک جانتے اور نیک فال لیتے اور اگر بائیں طرف بھاگتا تو اسے نحس اور نا امید جانتے ۔ شارع علیہ السلام نے اس عقیدہ کو بھی باطل قرار دیا۔ متذکرہ دونوں احادیث سے معلوم ہوا کہ تقدیر الٰہی، اہلِ دنیا کی حرکات و سکنات کی پابند نہیں بلکہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی مشیّت کی پابند ہے جبکہ بد فالی (بدشگونی) رسمِ کفار ہے ، بہر حال مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے ۔

جنوری 6, 2011 at 06:25 تبصرہ کریں

ماہ صفر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں

ماہِ صفر اسلامی مہینوں میں دوسرامہینہ ہے، اس مہینے کو تاریخ اسلامی میں ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کیلئے ہولناک انتظامات کیئے جارہے تھے ۔
اسی ماہ صفر کی 26 تاریخ تھی، نبوت کوچودھواں سال تھا، جمعرات کا دن سورج بلند ہونا شروع ہوا اور ادھر کفار مکہ بھی اپنی اپنی کوششوں میں مصروف ہوئے اور رحمت للعالمین ، مظلوموں کے ساتھی امن و سلامتی کی علامت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نجات پانے کے رستے تلاش کرنے لگے۔
یہی وہ دن ہے کہ جس دن سردارانِ قریش نے ایک میٹنگ بلائی جس میں اس امت کا فرعون ابوجہل بن ہشام قبیلہ بنومخزوم کے سرپرست ، جبیر بن مطعم بنی نوفل بن عبدمناف کے شیبہ بن ربیعہ اور اس کا بھائی عتبہ بن ربیعہ اور سفیان بن حرب بنی عبد شمس بن مناف کے ،نضر بن حارث بنی عبدالدار کے ، ابوالبختری بن ہشام اورزمعہ بن اسود اورحکیم بن حزام بنی اسد بن عبدالعزی کے ، نبیہ بن حجاج اورمنبہ بن حجاج بنی سہم کے اور امیہ بن خلف بنی جمح کے سردار بن کر سامنے آئے ، ان کی مزید سربراہی کیلئے ابلیس نے اپنی خدمات مفت پیش کیں ۔فیصلہ یہ ہوا کہ نجات کا صرف ایک ہی راستہ ہے وہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنا، جس کیلئے قریش کے قبیلوں سے ایک ایک فرد چنا گیا تاکہ اس خون میں سب شریک ہوں اور بنوعبدمناف(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبیلے کا نام) بدلے میں کسی سے جنگ نہ کرسکے گا۔
ادھر اللہ علام الغیوب کی طرف سے جبریل امین آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حکم ہجرت لے کر آئے، ساتھ یہ بھی کہا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ گزاریں۔ یہ 27 صفر کا دن تھا کہ اسی رات قریش کے اکابر مجرمین نے اپناسارا دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مہم میں گزارا،جب رات ذراتاریک ہوئی تو یہ لوگ گھات لگا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو جائیں تو یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ٹوٹ پڑیں۔ بہرحال قریش اپنے منصوبے کے نفاذ کی انتہائی تیاری کے باوجود ناکامی سے دوچار ہوئے اور اس نازک ترین لمحہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا” تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ اور میری یہ سبز حضرمی چادر اوڑھ کر سو رہو، تمہیں ان سے کوئی تکلیف نہ پہنچے گی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی چادر اوڑھ کر سویا کرتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور کفار کی صفیں چیریں،مٹی سے ایک مٹھی لی اور ان کی طرف اچھالی جس سے اللہ تعالی نے ان کی نگاہیں پکڑ لیں اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر کے گھر تشریف لے گئے اور پھر ان کے مکان کی ایک کھڑکی سے نکل کر دونوں حضرات نے رات ہی رات یمن کا رخ کیا اور چند میل دورواقع ثور نامی پہاڑ پر ایک غار میں جا پہنچے، جسے بعد میں غار ثورکے نام سے پہچانا گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبداللہ بھی یہیں رات گزارتے. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ بڑے ذہین و فتین تھے رات چھا جانے کے بعد آپ کے پاس جاتے اور صبح اس حالت میں کرتے کہ مکہ والے سمجھتے کہ انہوں نے رات یہیں گزاری ہے اس طرح وہ کفار مکہ کی سازشیں آپ تک پہنچاتے۔
چوتھے دن بروز سوموار یکم ربیع الاول 1ھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار سے آگے مدینہ کا سفر عبداللہ بن اریقط اللیثی کی رہنمائی میں کیا جو صحرائی اور بیابان راستوں کا ماہر تھا اور ابھی قریش ہی کے دین پر تھا، لیکن قابل اطمینان بھی تھا ۔
٭صفر 2ھ اگست 623ء غزوہ ابواء یاودان: اس مہم میں ستر مہاجرین ہمراہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس تشریف لے گئے اور مدینے میں حضرت سعد بن عبادہ کو اپنا قائم مقام مقرر کیا، مہم کا مقصد قریش کے ایک قافلے کی راہ روکنا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ودان تک پہنچے لیکن کوئی معاملہ پیش نہ آیا، اسی غزوہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ضمرہ کے سردار وقت عمرو بن مخشی الضمری سے حلیفانہ معاہدہ کیا جس کی تحریر یہ تھی ”یہ بنو ضمرہ کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریر ہے ۔ یہ لوگ اپنے جان اور مال کے بارے میں مامون رہیں گے اور جو ان پر حملہ کرے گا اس کے خلاف ان کی مدد کی جائے گی ، الا یہ کہ یہ خود اللہ کے دین کے خلاف جنگ کریں۔ یہ معاہدہ اس وقت کے لئے ہے جب تک سمندر ان کو تر کرے (یعنی ہمیشہ کیلئے) اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مدد کے لئے انہیں آواز دیں تو انہیں آنا ہو گا۔
یہ پہلی فوجی مہم تھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود تشریف لے گئے تھے اور پندرہ دن مدینے سے باہر گزار کر واپس آئے ، اس مہم کے پرچم کا رنگ سفید تھا اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ علمبردار تھے۔
٭ ماہ صفر 4ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عضل اور قارہ (قبیلوں کے نام) کے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور ذکر کیا کہ ان کے اندر اسلام کا کچھ چرچا ہے لہٰذا آپ ان کے ہمراہ کچھ لوگوں کو دین سکھانے اور قرآن پڑھانے کیلئے روانہ فرما دیں آپ نے دس افراد کو روانہ فرمایااور عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا حضرت عاصم بن ثابت کو ان کا امیر مقرر کیا۔ جب یہ لوگ رابغ اور جدہ کے درمیان قبیلہ ہذیل کے رجیع نامی ایک چشمے پر پہنچے تو ان پر عضل اورقارہ کے مذکورہ افراد نے قبیلہ ہذیل کی ایک شاخ بنولحیان کوچڑھا دیااور بنولحیان کے کوئی ایک سوتیر انداز ان کے پیچھے لگ گئے، انہیں پکڑ لیا گیا اور انہیں امن کا وعدہ دینے لگے لیکن حضرت عاصم نے ان کی بات کا یقین نہ کیا اور اپنے رفقاءسمیت ان سے جنگ شروع کر دی ، بالآخر تیروں کی بوچھاڑ میں سات افراد شہید ہوگئے اور تین باقی رہ گئے، اب دوبارہ بنو لحیان نے اپنا عہد و پیماں دہرایا اس پر تینوں صحابہ کرام ان کے پاس آئے لیکن انہوں نے قابو پاتے ہی بدعہدی کی اور انہیں اپنی کمانوں کی تانت سے باندھ لیا اس پر تیسرے صحابی نے یہ کہتے ہوئے جانے سے انکار کر دیا کہ یہ پہلی بدعہدی ہے جس پر انہوں نے انہیں قتل کردیا اور باقی دو صحابہ حضرت حبیب اور زید رضی اللہ عنہم کو مکہ لے جاکر بیچ دیا گیا ان دونوں نے بدر کے روز اہل مکہ کے سرداروں کو قتل کیا تھا۔
٭صفر 4ھ بئر معونہ یہ اس مہینے کادوسرا حادثہ المناک واقعہ تھا
جس کاخلاصہ یہ ہے کہ ابوبراءعامر بن مالک جوملاعب الاسنة یعنی نیزوں کا کھلاڑی کے لقب سے مشہور تھا، مدینہ خدمت نبوی میں حاظر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کی دعوت دی، جو اس نے قبول تو نہ کی مگر دوری بھی اختیار نہیں کی ۔ اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ آپنے اصحاب کو دعوت دین کیلئے اہل نجد کے پاس بھیجیں تو مجھے امید ہے کہ وہ لوگ آ پ کی دعوت قبول کر لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ان سے خطرہ ہے۔ ابربراءنے کہا کہ آپ کے صحابہ میری پناہ میں ہوں گے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے70 آدمیوں کو اس کے ہمراہ بھیجا، منذر بن عمرو کو ان کا امیر مقرر کیا۔ مئر معونہ پہنچ کر حرام بن ملحان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط دے کر عدواللہ عامر بن طفیل کے پاس روانہ کیا جس نے کچھ نہ دیکھا اور ایک آدمی کو پیچھے سے اشارہ کر دیا جس نے حضرت حرام کواس زور کا نیزہ مارا کہ آر پار ہو گیا اور ان کے آخری الفاظ تھے ” اللہ اکبر! ربِ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔ “
اس کے بعد فوراہی اس سرکش عامر نے باقی صحابہ کرام پر حملہ کرنے کے لئے اپنے قبیلے کو آواز دی، مگر انہوں نے ابوبراء کی  پناہ کے پیش نظر اس کی آواز پر کان نہ دھرے اس نے مایوس ہو کر بنو سلیم کو آواز دی اس کے تین قبیلوں عصیہ ، رعل ، اور ذکوان نے اس پر لبیک کہا اور جھٹ آ کر ان صحابہ کرام کا محاصرہ کر لیا۔ جواباً صحابہ کرام نے بھی لڑائی کی مگر سب کے سب شہید ہو گئے ۔
فتح خیبرکے بعد کے کئی واقعات بھی اسی ماہ صفر میں پیش آئے جن میں سے:
٭ صفر 7 ھ حضرت جعفر اور ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہم کا حبشہ سے خیبر پہنچنا۔
٭صفر 7 ھ حضرت صفیہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی جس میں ان کی اسلام کے بعد آزادی، ان کا مہر قرار پائی۔
٭صفر 7 ھ سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھنی ہوئی بکری کا ہدیہ بھیجا جو کہ زہر آلود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک ٹکڑا چبایا اور نگلنے کی بجائے تھوک دیااور فرمایا کہ یہ ہڈی مجھے بتا رہی ہے کہ اس میں زہر ملایا گیا ہے۔
٭صفر 7 ھ اہل فدک سے نصف پیداوار پرمصالحت ۔
٭صفر 7 ھ وادی القری تشریف لے گئے جوکہ ایک یہودی علاقہ تھا ان کے ساتھ عرب بھی شامل ہو گئے، جب مسلمان وہاں اترے تو انہوں نے تیروں سے استقبال کیا، وہ پہلے ہی صف بندی کئے ہوئے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام مارا گیا، جس نے غنیمت غیبر سے ایک چادر چرائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ چادر اس پر آگ بن کر بھڑک رہی ہے ۔“اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی جو انہوں نے نہ مانی مبارزت ہوئی جس میں ان کے گیارہ آدمی مارے گئے، جب ایک ماراجاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اسلام کی دعوت دیتے ۔اس دن جب نماز کا وقت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ نماز پڑھتے اور پھر دوبارہ یہود کے مقابلے میں چلے جاتے اسی طرح شام ہو گئی۔ دوسرے دن ابھی سورج نیزہ برابر بھی نہ ہوا تھا کہ انہوں نے اپنا تمام کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈھیر کر دیا۔
٭خیبر سے مدینہ واپسی بھی غالبا اسی صفر 7ھ کے آخر میں ہوئی۔
٭صفر 8ھ میں سریہ غالب بن عبداللہ پیش آیا
٭صفر9 ھ : سریہ قطبہ بن عامر پیش آیا۔
٭آخری فوجی مہم : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کی آخری اور ایک بڑی فوجی مہم کی تیاری اسی مہینے میں کرائی جس کا سپہ سالار حضرت اسامہ بن زید کو مقرر کیا اور حکم دیا کہ بلقاء کا علاقہ اور داروم کی فلسطینی زمین سواروں کے ذریعہ روندآو ۔

جنوری 3, 2011 at 07:21 تبصرہ کریں

Newer Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad Poetry
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے”
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad Poetry