Archive for جنوری, 2011

نماز کی اہمیت اور فضیلت

نماز کی اہمیت
قرآن مجید اور احادیث کریمہ میں جا بجا نماز کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہوا، (اور نماز قائم رکھو اور زکوہ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو)۔ (البقرہ ۴۳، کنز الایمان فی ترجمتہ القرآن)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا، (نگہبانی کرو سب نمازوں کی اور بیچ کی نماز (عصر) کی)۔ (البقرہ ۲۳۸، کنز الایمان)۔ ایک اور مقام پر فرمایا گیا، (اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں) ۔ (ھود ۱۱۴، کنز الایمان)
دن کے دونوں کناروں سے صبح و شام مراد ہیں۔ زوال سے قبل کا وقت صبح میں اور بعد کا شام میں داخل ہے۔ صبح کی نماز فجر اور شام کی نماز ظہر و عصر ہیں اور رات کے حصوں کی نمازیں مغرب اور عشاء ہیں۔ (تفسیر خزائن العرفان)
قرآن کریم میں نماز پڑھنے کو مشرکوں کی مخالفت قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا، (اور نماز قائم رکھو اور مشرکوں (میں) سے نہ ہو) ۔ (الروم ، ۳۱)
گویا نماز نہ پڑھنا مشرکوں کی مثل ہونا ہے۔ اس کی وضاحت آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی سے بھی ہوتی ہے کہ (بندے اور کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑنا ہے)۔ (مسلم)
قرآن کریم میں ایک جگہ بے نمازیوں کے لیے یوں وعید فرمائی گئی۔
(تو ان کے بعد انکی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں (یعنی ضائع کیں) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غئی کا جنگل پائیں گے)۔ (مریم ۵۹، کنز الایمان)
غئی دوزخ کے نچلے حصے میں ایک کنواں ہے جس میں اہل دوزخ کی پیپ گرتی ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ جہنم کی سب سے زیادہ گرم اور گہری وادی ہے اور اس میں ایک کنواں ہے جب جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے تو اللہ عزوجل اس کنوئیں کو کھول دیتا ہے جس سے وہ بدستور بھڑکنے لگتی ہے۔ یہ کنواں بےنمازیوں ، زانیوں ، شرابیوں ، سود خوروں اور والدین کو ایذا دینے والوں کے لیے ہے۔
قرآن کریم میں منافقوں کی ایک نشانی یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ نماز پڑھنے میں سستی کرتے ہیں اور اسے بوجھ سمجھتے ہیں۔
ارشاد ہوا، (اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو بھارے جی سے ، لوگوں کو دکھاوا کرتے ہیں)۔ (النساء،۱۴۲)
منافقوں کے متعلق سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، (منافقوں پر فجر اور عشاء سے زیادہ کوئی نماز بھاری نہیں اور یہ اگر جانتے کہ ان نمازوں میں کیا ثواب ہے تو زمین پر گھسٹتے ہوئے بھی پہنچتے)۔ (بخاری ، مسلم)۔
قرآن کریم میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نماز پڑھنا ان لوگوں کے لیے ہرگز مشکل نہیں ہے جو اللہ تعالی اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
ارشادہوا، (اور بیشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر نہیں جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں، جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا)۔ (البقرہ ۴۵،۴۶)
قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوگئی کہ ہر مسلمان پر پانچوں نمازیں پابندی سے ادا کرنا فرض ہے۔ نماز پڑھنے میں سستی کرنا خصوصاََ فجر اور عشاء کی نمازیں نہ پڑھنا منافقوں کی نشانی ہے۔ یہ بھی معلوم ہو اکہ نماز نہ پڑھنا کافروں کا طریقہ ہے اسی لیے صحابہ کرام اعمال میں سے نماز کے سوا کسی عمل کے چھوڑنے کو کفر نہیں سمجھتے تھے۔
نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایئے کہ حدیث پاک میں بچپن ہی سے نماز پڑھنے کی تاکید فرمائی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، (جب بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو نماز میں غفلت پر انہیں مارو اور اس عمر سے ان کے بستر بھی علیحدہ کردو۔ (ابو داؤد
دن و رات یعنی چوبیس گھنٹوں میں اللہ تعالیٰ نے پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں اور ان میں سے ہرنماز کی فرضیت کا تعلق اپنے وقت کے ساتھ وابستہ و قائم ہے، چنانچہ وقت داخل ہونے پر ہی نماز فرض ہوتی ہے، اس سے پہلے نہیں اور وقت کے اندر ہی ادا ہوتی ہے اور وقت گزرنے پر نماز قضا ہوجاتی ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ جس طرح پانچ نمازوں کی اہمیت ہے اسی طرح ان کو اپنے وقت پرادا کرنے کی بھی اہمیت ہے اور نماز کو وقت بے وقت پڑھنا ٹھیک نہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقت پر فرض کی گئی ہے‘‘۔(سورہ نساء آیت ۱۰۳)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ نماز وقت کی پابندی کے ساتھ فرض ہے اور نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا ضروری ہے اور اس کو قضا کر دینا گناہ ہے۔
حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ’’جب بندہ اول وقت میں نماز پڑھتا ہے توہ وہ نماز آسمان کی طرف چڑھتی ہے یہاں تک کہ عرش تک پہنچ جاتی ہے اور نماز پڑھنے والے کیلئے قیامت کے دن تک استغفار کرتی رہتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تیری اس طرح سے حفاظت کرے جس طرح تو نے میری حفاظت کی ہے اور جب بندہ بے وقت نماز پڑھتا ہے تو وہ نماز اوپر چڑھتی ہے لیکن اس کیلئے نور نہیں ہوتا، اس وجہ سے وہ آسمان تک جا کر ٹھہر جاتی ہیں، پھراس کو بوسیدہ (اور پرانے) کپڑے کی طرح لپیٹ کر بے وقت نماز پڑھنے والے کے چہرہ پر مار دیا جاتا ہے اور وہ نماز یہ بد دعا دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے بھی اسی طرح ضائع کرے جس طرح تو نے مجھے ضائع کیا ہے۔(کنزالعمال)
مطلب یہ ہے کہ وقت پر پڑھی ہوئی نماز کے اندر قبولیت و نورانیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ عرش تک پہنچ جاتی ہے اور نمازی کیلئے تاقیامت حفاظت کی دعا کرتی رہتی ہے اور بغیر معقول عذر کے بے وقت پڑھی ہوئی نماز کے اندر مقبولیت ونورانیت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ عرش تک نہیں پہنچ پاتی اور نمازی کی طرف برے طریقہ سے لوٹا دی جاتی ہے اور وہ نمازی کو بددعا دیتی ہے۔
بعض احادیث وروایات میں نماز کو ٹھیک ٹھیک اور صحیح طرح پڑھنے پر بھی اس طرح کی قبولیت کا اور غلط طریقہ پر پڑھنے پر اس طرح نماز کے مردود ہونے کا ذکر ملتا ہے، دونوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں کیونکہ نماز کو ٹھیک اور صحیح ادا کرنے میں نماز کو وقت پر پڑھنا بھی شامل ہے اور غلط طریقہ سے پڑھنے میں اس کو بے وقت پڑھنا بھی شامل ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلٰی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اے علی تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو، ایک تو نماز جب اس کا وقت آجائے، دوسرے جنازہ جب حاضر ہوجائے، تیسرے جوان لڑکی کا جب (نکاح کا)جوڑ مل جائے۔ (ترمذی)
اور مسند احمد ومستدرک حاکم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ’’بے شک رسول اللہ صلٰی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے علی تین چیزوں میں دیر نہ کرو ایک تو نماز میں جب اس کا وقت آجائے، دوسرے جنازہ میں جب حاضر ہو جائے، تیسرے جوان لڑکی (کے نکاح میں )جب اس کا جوڑ مل جائے۔(مسند احمد، مستدرک حاکم)
فائدہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز ان اعمال میں سے ہے جنہیں وقت آنے کے بعد مؤخر نہیں کرنا چاہئے، یعنی وقت پر ادا کرنا چاہئے۔ اس سے نماز کو وقت پر ادا کرنے کی اہمیت و تاکید معلوم ہوئی۔ یہ حدیث سند کے اعتبار سے درست ہے۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’’میں نے رسول اللہ صلٰی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلٰی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ جس نے فرض نماز پڑھی اور اس کو اس کے وقت پر ہی ادا کیا تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کیلئے عہد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہ دیں اور جس نے نماز کو قائم نہیں کیا اور اس کو اس کے وقت پر نہیں پڑھا تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کیلئے کوئی عہد نہ ہوگا، اللہ تعالیٰ چاہیں گے تو اسے عذاب دیں گے اور چاہیں گے تو اس پر رحم فرمائیں گے۔ (مسندالبزار)
حضرت ابوعمروشیبانی نبی صلٰی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ: ’’رسول اللہ صلٰی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ تو نبی صلٰی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ فضیلت والا عمل اپنے وقت پر نماز پڑھنا اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا اور جہاد کرنا ہے۔(مسند احمد)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کو وقت پر پڑھنا افضل ترین اعمال میں سے ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بعض دوسری سندوں کے ساتھ بھی تھوڑے بہت الفاظ کے فرق کے ساتھ مروی ہے، چنانچہ ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں: رسول اللہ صلٰی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے افضل عمل اپنے وقت پر نماز پڑھنا اور اللہ عزوجل کے راستہ میں جہاد کرنا ہے۔(شعب الایمان)
اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: سب سے افضل عمل نماز کو اپنے وقت پر ادا کرنا اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا ہے۔ (مسند البزارک)
اور محمد بن نصرمروزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’تعظیم قدر الصلاۃ‘‘ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے:’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلٰی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ تو رسول اللہ صلٰی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا۔
اور ایک روایت ان الفاظ میں روایت کی ہے کہ : ’’حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلٰی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟تو نبی صلٰی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نمازوں کو اپنے وقت پر پڑھنا۔
اور ان الفاظ میں بھی روایت کی ہے کہ: ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلٰی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ رسول اللہ صلٰی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا۔
نیز ان الفاظ میں بھی ایک روایت نقل کی ہے کہ : ’’حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلٰی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ رسول اللہ صلٰی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نمازوں کو اپنے اپنے وقت پر ادا کرنا۔
ان تمام روایات سے مختلف الفاظ کے ساتھ نماز کو اپنے وقت پر پڑھنے کی فضیلت معلوم ہوئی کہ نماز جب اپنے وقت پرادا کی جاتی ہے تو یہ نیک اعمال میں افضل ترین عمل شمار ہوتا ہے۔
اس لئے نماز کو وقت پر ادا کرنے کا بھرپور اہتمام کرنا چاہئے۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے تھے کہ نمازی کو چاہئے کہ نمازاس طرح پڑھا کرے کہ اس کا وقت فوت نہ ہو اور نماز کے وقت کا فوت ہو جانا گھر اور مال دولت سے زیادہ عظیم چیز ہے۔(موطاامام مالک)
مطلب یہ تھا کہ گھر اور مال کی اتنی اہمیت نہیں جتنی کہ نماز کو وقت پرپڑھنے کی ہے، لہٰذا گھر بار اور مال ودولت میں لگ کر نماز کو قضا کرنا درست نہیں۔
نماز کی فضیلت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبانی
  • نماز دین کا ستون
  • نماز مومن کی معراج
  • نمازایمان کی نشانی
  • نماز شکر گزاری کا بھترین ذریعہ
  • نماز میزان عمل
  • ہر عمل نماز کا تابع
  • روز قیامت پہلا سوال نماز کے بارے میں
  • نمازی کے ساتھ ہر چیز خدا کی عبادت گزار
  • نمازی کا گھر آسمان والوں کے لئے نور
نماز کے اثرات اور فوائد
  • گناہوں سے دوری کا ذریعہ
  • گناہوں کی نابودی کا سبب
  • شیطان کو دفع کرنے کا وسیلہ
  • بلاؤں سے دوری
نمازوں کو چھوڑ دینا بہت ہی شدید گناہِ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے. اس لئے ابھی بھی وقت ہے. ہوش کے ناخن لیں اور اپنی دنیا اور آخرت دونوں سنوار لیں.

جنوری 31, 2011 at 08:31 تبصرہ کریں

انور مسعود کی مزاحیہ پنجابی شاعری

اج کہیہ پکائیے !
چوہدری: اَج کہیہ پکائیے دس تیراکہیہ خیال اے
رحماں: میں  کہیہ خیال دساں میریکہیہ مجال اے
چوہدری: رحمیاں چل اَج فیر چسکے ای لا لئیے
لبَھ جان چنگیاں تے بھنڈیاں پکا لئیے
رحماں: واہ واتُساں بُجھیاں نیں دلاں دیاں چوریاں
میرا وی ایہہ دل سی پکائیے اج توریاں
لُونواں والی بھِنڈی ہووے پوٹا پوٹا لمی ہووے
ہری تے کچُور ہووے سوہنی ہووے کولی ہووے
وچ ہون بکرے دی پُٹھ دیاں بوٹیاں
نال ہون چھنڈیاں تندور دیاں روٹیاں
مکھنے دا پیڑا ہووے لسی دا پیالہ
بھِنڈیاں دے نخرے تے گرم مصالحہ ہووے
بھنڈیاں بنانا وی تے کوئی کوئی جاندا
رنھناں پکانا وی تےکوئی کوئی جاندا
اُٹھاں فیر چوہدری پھڑاں میں تیاریاں
بھنڈیاں بناواں اج رج کے کراریاں
چوہدری: رحمیاں ہزار ہون مزیدار بھنڈیاں
ہوندیاں نے کُجھ ذرا لیس دار بھِنڈیاں
رحماں: دفع کرو چوہدری جی سبزیاں دی تھوڑ اے
سانوں ایہہ لسُوڑیاں پکان دی کی لوڑ اے
بندہ کاہنوں بھنڈیاں دی لیس دی ہواڑ لَئے
ایہدے نالوں پَولی دی سریش بھانویں چاہڑ لَئے
چوہدری : فیر  کہیہ خیال اے تیرا جھڑی نہ منا لَئیے
جے تو آکھیں رحمیاں کریلے نہ پکا لئَیے
رحماں: ریس اے کوئی چوہدری جی آپ دے خیال دی
جمی اے کوئی سبزی کریلیاں دے نال دی
ڈِھڈ وچ اِنج جویں لو لگ پئی اے
تساں گل کیتی اے تے رال واگ پئی اے
سچ پچھو چوہدری جی ایہو میری راء اے
مینوں وی چروکناں کریلیاں دا چاء اے
چوہدری جی ہووے جے کریلا چنگا پلیا
وچ ہووے قیمہ اُتے دھاگہ ہووے ولیا
گنڈھیاں ٹماٹراں دے نال ہووے تُنیاں
فیر ہووے گھر دے گھہیو وچ بھُنیا
فیر کوئی چوہدری جی اُوس دا سواد اے
پار وی پکایا سی تُوانوں وی تے یاد اے
چوہدری : ہوربیبا مینوں ایہدی مینوں ہر گل بھاؤندی
رحمیاں کریلیاں وچ کوڑ ذرا ہوندی اے
رحماں: دفع کرو زہر تے چریتا مینوں لگدا ئے
نِم تے دھریک دا بھراں مینوں لگدائے
پلے پلے دنداں جیِبھ پئی سکدی
کھا مر لئی تے تریہہ نیں مکدی
تُمے دیاں گولیاں کریلیاں تو پھکیاں
اینہاں نالوں چاہڑ لو کونین دیاں ٹکیاں
چوہدری: رحمیاں فیر انج کر تُوں کوئی راء دے
پُچھیں تے بتاؤنواں دا وی اپنا سواد اے
رحماں: رب تہاڈا بھلا کرے کِڈی سوہنی گل اے
ایہو جیئے ذائقے والا ہور کہیڑا پھل اے
کالے کالے لشکدے تے گول مول چاہڑ لو
چوہدری جی لون تے وتاؤں چًول چاہڑ لوں
چوہدری: رحمیاں پکانے نوں تے جی بڑ کردائے
بُھٹیاں دی گرمی تو جی ذرا ڈر دائے
رحماں: سچ اے جی چوہدری جی ڈھڈ کاہنوں بالنا
کھان والی چیز اے کوئی وینگناں دا سالنا
بھٹھیاں دے ڈک وچ سُٹنے ضرور نے
کاہنوں پَے بھخائے ، ساڈے ڈھڈ کوئی تندور نیں
دفع کروبھٹھیاں نوں بَھٹھے کاہنوں ساڑیئے
حبشیاں نوں چوہدری جی گھر کاہنوں واڑئیے
کالیاں دے نال کاہنوں مارئیے اُڈاریاں
ساڈیاں تےہیں امریکہ نال یاریاں
چوھدری : وَدھ وَدھ بولناایں ایویں بڑبولیا
سبزیاں توں جا تُوں سیاستاں نوں پھولیا
دوجے دی وی سُن کجھ دوجے نوں وی کہن دے
حکومتاں دی گل توں حکومتاں تے رہن دے
چنگا فیر بُجھ میرا کی خیال اے ؟
رحماں: بُجھ لئی چوہدری جی چھولیاں دی دال اے
انور مسعود دی بنیان
بنین لین جاندے او
بنین لے کے آندے او
پاندے اور تے پیندی نئیں
پے جائے تے لیندی نئیں
لے جائے تے دوجی واری
پَون جوگی ریندی نئیں
بنین میں دیاں گا
پاؤ گے تے پے جائے
لاؤ گے تے لَے جائے
لَے جائے تے دوجی واری
پَون جوگی رہ جائے
بنین میری ودھیا
بنین میری ٹاپ دی
وڈھیاں نوں پوری آوے
نکیاں دے ناپ دی
چیز ہووے اصلی تے
مُنوؤں پئی بولدی
تُپ نالوں گوری لگے
رسی اُتے ڈولدی
جنے ورے چاؤ تُسی
ایس نوں ہنڈا لَو
فیر پویں بچیاں دا
جانگیا بنا لَو

جنوری 27, 2011 at 11:55 تبصرہ کریں

شرعی پردہ کے احکامات

بے پردگی دین کی کھلی بغاوت ہے
بے پردگی اعلانیہ گناہ ہے ۔ یعنی کھلی بغاوت ہے۔ رسول صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ ”میری پوری امت معافی کے لائق ہے مگر اعلانیہ گناہ کرنے والے معافی کے لائق نہیں۔“
"دیوث جنت میں داخل نہیں ہو گا”
حضرت عمار بن یاسر رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین شخص کبھی جنت میں داخل نہ ہوں گے۔
  • دیوث
  • مردوں کی طرح شکل بنانے والی عورتیں
  • ہمیشہ شراب پینے والا
صحابہ رضوان الله علیہم اجمعین نے عرض کیا ”دیوث کون ہے ؟“
فرمایا : وہ شخص جس کو اس کی پروا نہیں کہ اس کے گھر کی عورتوں کے پاس کون شخص آتا ہے اور کون جاتا ہے ۔ ( رواہ الطبرانی فی الکبیر مطولا)
ایک موقع پر حضرت سعد بن عبادہ رضی الله تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں اپنی بیوی کو کسی غیر مرد ( نامحرم) کے ساتھ دیکھوں تو اس کو اپنی تلوار سے قتل کردوں گا۔
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے صحابہ! کیا تمہیں سعد رضی الله تعالیٰ عنہ کی غیرت پر تعجب (حیرت) ہے ۔ سنو)! میں سعد رضی الله تعالیٰ عنہ سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے۔ ( مشکوٰة)
عورتوں کے باہر نکلنے کا ضابطہ
سب سے بڑی چیز جو ایک مرد کو عورت کی طرف یا عورت کو مرد کی طرف مائل کرنے والی ہے وہ نظر ہے۔
قرآن پاک میں دونوں فریق کو حکم دیا ہے کہ اپنی نظریں پست رکھیں ۔ سورہ نور، رکوع نمبر چار میں اول مردوں کو حکم فرمایا: ” آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزگی کی بات ہے ۔ بے شک الله تعالیٰ اس سے خوب باخبر ہے، جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں۔“
اس کے بعد عورتوں کو خطاب فرمایا:” اور مسلمان عورتوں سے فرما دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر یہ کہ مجبوری سے خود کھل جائے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں اور اپنے حسن و جمال کو (کسی پر) ظاہر نہ ہونے دیں ( سوائے ان کے جو شرعاَ محروم ہیں) اور مسلمانوں ( تم سے جو ان احکام میں کوتاہی ہو تو ) تم سب الله تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔“ ( سورہ نور،آیت نمبر31)
الله عزوجل سورہ احزاب آیت 33 میں خواتین اسلام کو حکم فرماتے ہیں : ﴿وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاھلیة الاولی﴾ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمة الله علیہ اس آیت شریفہ کے ذیل میں لکھتے ہیں : ” اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں عورتیں بے پردہ پھرتیں اور اپنے بدن اور لباس کی زیبائش کا اعلانیہ مظاہرہ کرتی تھیں۔ اس بد اخلاقی اور بےحیائی کی روش کو مقدس اسلام کب برداشت کر سکتا ہے؟ اسلام نے عورتوں کو حکم دیا کہ گھروں میں ٹھہریں اور زمانہ جاہلیت کی طرح باہر نکل کر اپنے حسن وجمال کی نمائش نہ کرتی پھریں۔“
حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، عورت چھپا کر رکھنے کی چیز ہے اور بلاشبہہ جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلتی ہے تو اسے شیطان دیکھنے لگتا ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ عورت اس وقت سب سے زیادہ الله تعالیٰ سے قریب ہوتی ہے جب کہ وہ اپنے گھر کے اندر ہوتی ہے ۔ ( الترغیب والترہیب للمنذری 626 از طبرانی)
تشریح: اس حدیث میں اول تو عورت کا مقام بتایا ہے یعنی یہ کہ وہ چھپا کر رکھنے کی چیز ہے۔ عورت کو بحیثیت عورت گھر کے اندر رہنا لازم ہے، جوعورت پردہ سے باہر پھرنے لگے وہ حدود نسوانیت سے باہر ہو گئی۔ اس کے بعد فرمایا کہ عورت جب گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھنا شروع کر دیتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ جب عورت باہر نکلے گی تو شیطان کی یہ کوشش ہو گی کہ لوگ اس کے خدوخال اور حسن وجمال اور لباس و پوشاک پر نظر ڈال ڈال کر لطف اندوز ہوں ۔ اس کے بعد فرمایا کہ عورت اس وقت سب سے زیادہ الله تعالیٰ کے قریب ہوتی ہے جب کہ وہ گھر کے اندر ہوتی ہے جن عورتوں کو الله تعالیٰ کی نزدیکی کی طلب اور رغبت ہے وہ گھر کے اندر ہی رہنے کو پسند کرتی ہیں اور حتی الامکان گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرتی ہیں۔
اسلام نے عورتوں کو ہدایت دی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو عورتیں اپنے گھر کے اندر ہی رہیں کسی مجبوری سے باہر نکلنے کی جو اجازت دی گئی ہے اس میں متعدد پابندیاں لگائی گئی ہیں مثلاً یہ کہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں اور یہ بھی حکم فرمایا کہ عورت راستے کے درمیان نہ چلے بلکہ راستے کے کنارے پر چلے ، مردوں کے ہجوم ( رش یا بھیڑ) میں داخل نہ ہو ۔ اگر اسے باہر جانا ہی پڑے تو پورے بدن پر برقعہ یا لمبی موٹی یا گہرے رنگ والی چادر لپیٹ کر چلے ( راستہ نظر آنے کے لیے ایک آنکھ کا کھلا رہنا کافی ہے ) یا برقعہ میں جو جالی آنکھوں کے سامنے استعمال کی جاتی ہے وہ لگا لیں یا برقعہ یا چادر اس طرح اوڑھ لیں کہ ماتھے تک بال وغیرہ ڈھک جائے اور نیچے سے چہرہ ناک تک چھپ جائے۔ صرف دونوں آنکھیں ( راستہ نظر آنے کے لیے ) کھلی رہیں ۔ آج کل جوان لڑکیاں برائے نام چادر اوڑھ لیتی ہیں اور چادر بھی باریک چکن کی ہوتی ہے اور تنگ بھی ، اس سے ہرگز شرعی پردہ نہیں ہوتا اور ان کا اس چادر کے ساتھ باہر نکلنا بے پردہ نکلنے کی طرح ہے، جو سراسر ناجائز اور حرام ہے .
قرآن کریم میں جس چادر کا ذکر ہے، اس سے ہرگز ایسی چادر مراد نہیں۔ عورتیں جب گھر سے کسی مجبوری کی وجہ سے نکلیں تو بجنے والا کوئی زیور نہ پہنا ہو ۔ کسی غیر محرم سے اگر ضروری بات کرنی پڑے تو بہت مختصر کریں، ہاں ناں کا جواب دے کر ختم کر ڈالیں ۔ گفتگو کے انداز میں نزاکت اور لہجہ میں جاذبیت کے طریقے پر بات نہ کریں ۔ جس طرح چال ڈھال اور رفتار کے انداز دل کھنچتے ہیں اسی طرح گفتار ( باتوں) کے نزاکت والے انداز کی طرف بھی کشش ہوتی ہے ۔ عورت کی آواز میں طبعی اور فطری طور پر نرمی اور لہجہ میں دل کشی ہوتی ہے ۔ پاک نفس عورتوں کی یہ شان ہے کہ غیر مردوں سے بات کرنے میں بتکلف ایسا لب و لہجہ اختیار کریں جس میں خشونیت اور روکھا پن ہو، بقول مفتی رشید احمد صاحب رحمہ الله کے کہ ” بے تکلف ایسا لہجہ بنائے کہ سننے والا یوں محسوس کرے کہ کوئی چڑیل بول رہی ہے۔ “ ( بحوالہ: شرعی پردہ) تاکہ کسی بدباطن کا قلبی میلان نہ ہونے پائے اور عورت بغیر محرم کے سفر نہ کرے، محرم بھی وہ ہو جس پر بھروسہ ہو۔ فاسق محرم جس پر اطمینان نہ ہو اس کے ساتھ سفر کرنا درست نہیں ہے ۔ اسی طرح شوہر یا محرم کے علاوہ کسی نامحرم مرد کے ساتھ تنہائی میں رہنے یا رات گزارنے کی بالکل اجازت نہیں ہے اور محرم بھی وہ جس پر اطمینان ہو ۔ یہ سب احکام درحقیقت عفت وعصمت محفوظ رکھنے کے لیے دیے گئے ہیں۔
شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا جائز نہیں
عورتوں کے گھر سے نکلنے کے لیے ایک ادب یہ بھی سکھایا گیا ہے کہ وہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلیں۔
حضرت معاذ رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”جو عورت بھی الله اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے ۔ اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں کسی کو آنے دے اور شوہر کی مرضی کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلے اور اس بارے میں وہ کسی کی اطاعت نہ کرے ۔“ ( مستدرک حاکم، طبرانی)
فائدہ: حقیقت یہ ہے کہ گھر سے نکلنے کے لیے شوہر سے اجازت لینا ایک ایسا اصول ہے جو عورت کو عفیف و پاک دامن رہنے میں بڑی مدد دیتا ہے ۔ جو عورتیں اپنے شوہروں کی اجازت کے بغیر جہاں چاہے آتی جاتی ہیں اور جسے چاہے شوہر کی غیر موجودگی میں گھر بلا لیتی ہیں، ان کا اخلاق و کردار آہستہ آہستہ بگڑتا چلا جاتا ہے اور وہ گناہوں کی دلدل میں دھنستی چلی جاتی ہیں۔
ایک حدیث میں حضرت انس رضی الله تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جوعورت بھی گھر سے شوہر کی اجازت کے بغیر نکلتی ہے الله رب العزت اس سے ناراض رہتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ گھر واپس آجائے۔ یا شوہر اس سے راضی ہو جائے۔ (کنزالعمال)
عورت کا خوشبو لگا کر نکلنا
برقعہ کے اوپر یا اندرونی لباس ( یعنی کپڑوں پر ) کسی قسم کی مہکنے والی، پھیلنے والی خوشبو لگا کر باہر نکلنا شریعت کے نزدیک اتنی بُری بات ہے کہ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کرنے والی عورت کو زنا کار فرمایا۔ (نسائی)
اگر ایسی خوشبو لگی ہو جس کی مہک باہر نہ آئے، بلکہ اندر ہی محدود رہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ چونکہ عورت کو صرف اپنے شوہر سے ہی قریب تر ہو کر رہنا ہے۔ اس لیے شوہر نزدیک تر ہو کرہلکی خوشبو کو سونگھ لے گا۔ شوہر کے علاوہ کسی اور کو جب خوشبو سونگھانی ہی نہیں ہے تو تیز مہکنے والی خوشبو کی ضرورت نہیں ۔ کیوں کہ خوشبو اور وہ بھی عورت کی … جنسی جذبات بھڑکانے میں خاص اثر رکھتی ہے۔
بغیر محرم کے عورت لمبا سفر نہ کرے
عورت کی عزت وناموس کی حفاظت کے لیے شریعت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ جب عورت لمبا سفر کر ے تو اکیلی (تنہا) نہ کرے، بلکہ محرم کے ساتھ کرے۔ اس طرح وہ فتنوں سے محفوظ رہ سکتی ہے اور محرم بھی وہ جس پر بھروسہ ہو۔ فاسق محرم جس پر اطمینان نہ ہو اس کے ساتھ سفر کرنا درست نہیں کیوں کہ ایسا محرم نامحرم کے حکم میں ہے۔
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو عورت الله اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اسے چاہیے کہ تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر … باپ، بھائی شوہر، بیٹے یا کسی محرم کے بغیر نہ کرے ۔ (ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ)
تین دین کے سفر سے مراد شرعاً وہ مقدار ہے جس پر نماز قصر کرنا جائز ہو۔ اگر عورت کا سفر کے لیے باہر نکلنا شہر کے اندر ہو تو اس کے ساتھ محرم ہونا بہتر ہے ۔ لیکن ضروری نہیں ۔ اسی طرح اگر وہ سفر (48 میل) یا تقریباً77 کلومیٹر سے کم ہو تو بھی محرم کا ساتھ ہونا ضروری نہیں، بشرطیکہ اکیلے سفر کرنے میں کسی فتنے میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو اور اگر کسی فتنہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو تو پھر اکیلے سفر سے بچنا چاہیے ، اگر عورت (48 میل) یا تقریباً77 کلومیٹر سے زیادہ دور کہیں سفر میں جانا چاہتی ہے ۔ چاہے کراچی سے حیدر آباد یا سکھر یا لاہور تک کا سفر کرنا چاہتی ہے یا حج کے سفر پر جانا چاہتی ہے تو دیگر تمام پابندیوں کے ساتھ ساتھ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس سفر میں اس کے ساتھ اس کا محرم مرد یا شوہر ضرور ہو۔
ایک اور حدیث میں حضرت ابن عباس رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی اجنبی (نامحرم) مرد کسی عورت سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ ہی کوئی عورت بغیر محرم کے سفر کرے۔ ایک شخص یہ سن کر کھڑا ہو گیا اور اس نے عرض کیا : یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم! میرا نام فلاں فلاں غزوہ (جہاد) کے لیے لکھا جا چکا ہے ۔ حالانکہ میری بیوی حج کے لیے نکل چکی ہے ۔ حضور صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جاؤ! اپنی بیوی کے ساتھ حج ادا کرو۔ (بخاری)
اتفاقی حادثات میں پردے کا حکم
اتفاقی حادثات مثلاً کسی کے گھر میں آگ لگ جائے یا کہیں سیلاب آجائے یا زلزلہ آجائے یا کوئی عورت ڈوب رہی ہو یا کسی وقت جنگ کے درمیان عورتوں کی خدمات کی ضرورت پڑ جائے تو ایسی صورتوں میں عورتوں سے ستروحجاب (پردہ)، استیذان (اجازت لے کر گھر میں جانا وغیرہ) اور اجازت شوہر کے احکام حسب ضرورت ختم ہو جائیں گے۔
عورت کی آواز کا پردہ
ایک مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح خواتین کے لیے اپنے جسم کو نامحرم مردوں سے چھپانا ضروری ہے ، اسی طرح اپنی آواز کو بھی نامحرم مردوں تک پہنچنے سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے، البتہ جہاں ضرورت ہو وہاں نامحرم مرد سے پردہ کے پیچھے سے بات کرسکتی ہے، اسی طرح ٹیلی فون پر بھی ضرورت کے وقت بات کر سکتی ہے ، البتہ ادب یہ ہے کہ نامحرم سے بات کرتے وقت عورت اپنی آواز کی قدرتی لچک اور نرمی کو ختم کرکے ذرا خشک لہجے میں بات کرے، تاکہ قدرتی لچک اور نرمی ظاہر نہ ہونے پائے اور نامحرم مرد کو عورت کے نرم انداز گفتگو سے بھی کسی گناہ کی لذت لینے کا موقع نہ مل سکے۔ اس سے شریعت کی احتیاط کا اندازہ لگائیے
آج کل ہمارے معاشرے میں جن گھروں میں کچھ پردہ کا اہتمام ہوتا ہے ، وہاں بھی عورت کی آواز کے سلسلے میں عموماً کوئی احتیاط نہیں کی جاتی، بلکہ نامحرم مردوں سے بلاضرورت بات چیت ہوتی رہتی ہے اور ان سے گفتگو میں ایسا انداز ہوتا ہے جیسے اپنے محرم کے ساتھ گفتگو کا انداز ہوتا ہے، مثلاً جس بے تکلفی سے انسان اپنی ماں کے ساتھ، اپنی بیٹی کے ساتھ، اپنی بیوی کے ساتھ اوراپنی سگی بہن کے ساتھ بات چیت کرتا ہے اور ہنستا بولتا ہے اوراس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے، لیکن بعض اوقات یہ انداز نامحرم عورتوں کے ساتھ گفتگو کے وقت بھی ہوتا ہے ۔ اور نامحرم عورتیں نامحرم مردوں کے ساتھ یہی انداز اختیار کر لیتی ہیں اور گفتگو کے دوران ہنسی مذاق، دل لگی اور چھیڑ چھاڑ سبھی کچھ ہوتا ہے ، آج یہ باتیں ہمارے معاشرے میں عام ہیں ۔ یاد رکھیے! جس طرح عورت کے جسم کا پردہ ہے، اسی طرح اس کی آواز کا بھی پردہ ہے، جس طرح عورت کے ذمہ یہ ضروری ہے کہ اپنے آپ کو نامحرم مرد کے سامنے آنے سے بچائے ، اسی طرح اس کے ذمہ یہ بھی ضروری ہے کہ اپنی آواز کو بھی بلاضرورت نامحرم مردوں تک جانے سے روکے ، البتہ جہاں ضرورت ہے وہاں بقدر ضرورت (ضرورت کی حد تک) گفتگو کرنا جائز ہے۔ اور اسی طرح نامحرم مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ بلا ضرورت نامحرم عورت کی آواز کی طرف کان نہ لگائیں ۔ ( یعنی نہ سنیں)
اور نامحرم عورت کی آواز یا نامحرم مرد کی آواز کو خواہش نفس (شہوت ) کی تسکین کی خاطر سننا یقینا ناجائز اور گناہ ہے ۔ حج جو کہ فرض ہے اورحج میں زور سے تلبیہ ( یعنی لبیک اللھم لبیک) پڑھا جاتا ہے، لیکن عورتوں کے لیے حکم یہ ہے کہ عورتیں تلبیہ زور سے نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ آواز میں پڑھیں۔
بعض جگہ دیکھا گیا ہے کہ عورتوں کی دینی تقریات، اجتماعات وغیرہ میں اسپیکر لگے ہوتے ہیں ۔ جن کے ذریعے عورتوں کی تقاریر ، نعتوں وغیرہ کی آواز دور دور تک سنائی دیتی ہے ۔ یہ بھی ناجائز ہے ، کیوں کہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ کسی بند مکان میں عورتوں کا اجتماع ہو اور اگر عورتوں کے رش یا کثرت کی وجہ سے ان سب تک بات پہنچانے کے لیے اسپیکر بھی لگانے پڑیں تو عورتوں کی آواز باہر نہ جائے۔
فیشنی برقعہ کا حکم
موجودہ دور میں فیشنی برقعہ رائج ہے ، اگر وہ تنگ ہو کہ جسم کے ساتھ چپکا ہوا ہو اور اس سے جسم کی ساخت اور ہیئت ظاہر ہوتی ہو یا اتنا باریک ہو کہ اس سے سر کے بال یا چہرہ اور دیگر اعضا نظر آتے ہوں یا برقعہ کا نقاب اتنا چھوٹا رکھا کہ دونوں طرف کے رخسار صاف نظر آسکیں یا ایسا باریک نقاب برقعہ میں لگایا جو خدوخال اور حسن وجمال کو اور بھی نمایاں کر دے اور خود برقعہ ہی بجائے پردے کے کشش کا سامان بن گیا ہو ۔ نیز برقعہ پھولوں کا بنانا ، چمک دار یا باریک کپڑے کا برقعہ ہونا یا کڑھائی وغیرہ سے برقعے کو مزین کرنا بدنفس لوگوں کو برقعہ والی کی طرف متوجہ کر دیتا ہے، برقعے کیا ہوئے پردے کے بجائے نظروں کو کھینچنے کا سامان بن گئے اور وہی مثل ہو گئی کہ جو نہ دیکھے وہ بھی دیکھے۔ العیاذ بالله۔ شرعاً ایسے برقعے استعمال کرنا جائز نہیں۔
چادر اور برقعہ کیسا ہونا چاہیے؟
شریعت میں برقع اور چادر کے لیے کوئی خاص وضع قطع یا رنگ منقول نہیں ہے، بلکہ جس رنگ کا بھی ہو درست ہے، البتہ اس کے لیے چند شرائط ہیں اور جس برقعہ میں ذیل میں ذکر کردہ یہ شرائط موجود ہوں وہ شرعی برقعہ ہے، اسی طرح جس چادر میں یہ شرائط موجود ہوں اس سے پردہ کا حکم پورا ہو جائے گا۔ شرائط یہ ہیں:
پورے بدن کو چھپائے ہوئے ہو۔
برقعہ یا چادر بذات خود سادہ اور باوقار ہو ، پُرزینت نہ ہو اور جاذب نظر رنگوں سے یا کڑھائی وغیرہ سے مزین نہ ہو۔
برقعہ یا چادر اتنا دبیز ( موٹا یا گہرارنگ) ہو کہ اس میں جسم کے اعضا نہ نظر آتے ہوں۔
برقعہ یا چادر اتنا کشادہ اور فراخ ہو ( کُھلا ہو) جس سے جسم کے نشیب وفراز اور اعضا کی بناوٹ وہیئت ظاہر نہ ہو۔
راستہ دیکھنے کے لیے ایک آنکھ یا بوقت ضرورت دونوں آنکھیں کھلی رکھنے کی گنجائش ہے ، لیکن واضح رہے کہ ہر ممکن کوشش کریں کہ آنکھوں کے علاوہ چہرہ یا اُس کا کچھ حصہ ( رخسار، ماتھا وغیرہ) بالکل ظاہر نہ ہو او راگر آنکھوں کے آگے جالی وغیرہ لگالی جائے، جو برقعہ میں لگائی جاتی ہے کہ آنکھیں چھپ جائیں تو یہ بہت ہی بہتر ہے۔ اور بدن پر موجود کپڑوں کو چھپانا بھی ضروری ہے۔
دونوں ہاتھ گٹوں تک اور دونوں پیر اگر کھلے رہیں ، یعنی ظاہر ہوں تو کوئی حرج نہیں، البتہ انہیں بھی دستانوں اور موزوں سے اگر چھپا لیا جائے تو بہت ہی بہتر ہے۔
مروجہ لباس کی خرابی
آج کل ایسے کپڑوں کا رواج ہو گیا ہے کہ کہ کپڑوں کے اندر سے جسم نظر آتا ہے، بہت سے مرد اور عورتوں کو دیکھا گیا ہے کہ ایسے کپڑوں کی شلوار بنا کر پہن لیتے ہیں جس میں پوری ٹانگ نظر آتی ہے ایسے کپڑے کا پہننا نہ پہننا برابر ہے اور اس سے نماز بھی نہیں ہوتی ،عورت کی نماز درست ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ اس کے چہرے اور گٹھوں تک دونوں ہاتھ اور دونوں قدموں کے علاوہ پورا جسم ڈھکا (چھپا) ہوا ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ اکثر عورتوں کی نماز اس لیے نہیں ہوتی کہ سر پر ایسا باریک دوپٹہ ہوتا ہے جس سے بال نظر آتے ہیں اور بعض عورتوں کی نماز اس لیے نہیں ہوتی کہ بانہیں کھلی ہوتی ہیں ، اگر ڈھانکی ہوئی ہیں تو اسی باریک دوپٹے سے ڈھانک لیتی ہیں جس سے سب کچھ نظر آتا ہے ، بعض عورتیں ساڑھی باندھتی ہیں اور بلاؤزر اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ ناف پر ختم ہو جاتا ہے اور آدھا پیٹ نظر آتا ہے۔ اس سے نماز نہیں ہوتی۔
ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ عورت کو ایسا باریک دوپٹا نہ اوڑھنا چاہیے کہ سر کے بال اور جسم نظر آئے۔
عورتو ں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسا کپڑا پہنیں جس کی آستینیں پور ی ہوں۔ آدھی آستین کا کرتہ یا قمیض پہننا سخت گناہ ہے اور ایسا باریک لباس بھی پہننا منع ہے جس سے بدن نظر آتا ہو، ایسی عورتیں قیامت میں برہنہ (ننگی) اٹھائی جائیں گی۔
اس کو خوب سمجھ لیں اور دنیا کے رواج کو نہ دیکھیں، دین کو دیکھیں ، دنیا میں تھوڑی سی گرمی کی تکلیف ہو ہی گئی اور فیشن والوں نے کچھ کہہ ہی دیا تو اس سے کیا ہوتا ہے ۔ جنت کے عمدہ کپڑے اور طر ح طرح کی نعمتیں تو نصیب ہوں گی۔ جہاں سب کچھ ہی ہماری خواہش کے مطابق ہو گا۔
سسرال والے مردوں سے پردے کی خاص تاکید
حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (نامحرم) عورتوں کے پاس مت جایا کرو۔ ایک شخص نے عرض کی، یا رسول الله( صلی الله علیہ وسلم)! عورت کے سسرال کے مردوں کے متعلق کیا حکم ہے ؟ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سسرالی رشتہ دار تو موت ہیں۔ (بخاری ومسلم)
اس حدیث میں جو سب سے زیادہ قابل توجہ بات ہے وہ یہ ہے کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے سسرال کے مردوں کو موت سے تشبیہ دی ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنے جیٹھ، دیور اور نندوئی وغیرہ سے اور اسی طرح سسرال کے دوسرے مردوں سے گہرا پردہ کرے، یوں تو ہر نامحرم سے پردہ کرنا لازم ہے، لیکن جیٹھ، دیور او ران کے رشتہ داروں کے سامنے آنے سے اسی طرح بچنا ضروری ہے جیسے موت سے بچنے کو ضروری خیال کرتے ہیں ۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ان لوگوں کو اپنا سمجھ کر بلا لیا جاتا ہے اور بلا تکلف جیٹھ، دیور اور شوہر کے عزیز واقارب اندر چلے جاتے ہیں ۔اور بہت زیادہ گھل مل جاتے ہیں ۔ اور ہنسی دل لگی تک نوبتیں آجاتی ہیں ۔ شوہر یہ سمجھتا ہے کہ یہ تو اپنے لوگ ہیں ۔ ان سے کیا روک ٹوک کی جائے ۔ لیکن جب کسی کی طبیعت بھاوج ( بھابھی) پر آجاتی ہے تو! افسوسناک حالات وجود میں آجاتے ہیں ۔ اور جب دونوں طرف سے یگانگت کے جذبات ہوں، کثرت سے آنا جانا ہو، بھرپور نظریں پڑتی ہوں اور شوہر گھر سے غائب ہو تو پھر نہ ہونے والے کام تک ہو جاتے ہیں ۔ ایک پڑوسی کسی عورت کو اتنی جلدی اغوا نہیں کر سکتا ۔ جتنی جلدی اور با آسانی دیور یا جیٹھ اپنی بھابھی کو اغوا کرنے اور برُے کام پر آمادہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
انہیں حالات کے پیش نظر آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے سسرال کے مردوں سے بچنے اور پردہ کرنے کی سخت تاکید فرمائی ہے اور ان لوگوں کوموت بتا کر یہ سمجھایا ہے کہ ان سے ایسا پرہیز کرو، جیسے موت سے بچنے کو طبیعت چاہتی ہے۔ اور ان لوگوں کو بھی حکم ہے کہ اپنی بھاوج ( بھابھی) اور سالے کی بیوی سے میل جول نہ رکھیں اور اس پر نظر نہ ڈالیں۔
تنبیہ
پردہ حق شرعی ہے، شوہر کا حق نہیں ہے ۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ شوہر جس سے پردہ کرائے اس سے پردہ کرنا ضروری ہے اور جس کے سامنے آنے کو شوہر کہے اس کے سامنے آنا چاہیے۔ یہ سراسر غلط ہے۔ کسی بھی نامحرم کے سامنے آنے کی اجازت نہیں اور خلاف شرع شوہر کی اجازت اور اس کے حکم کا کچھ اعتبار نہیں۔
حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ الله اپنے ایک مطبوعہ وعظ میں فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں پردہ نہ کرنے سے کوئی خطرہ کی بات نہیں ہے۔ ماشاء الله ہماری بیوی بہت نیک ہے ، بیٹیاں، بہنیں، بہوئیں بہت نیک ہیں۔ بہت شریف ہیں، ان کی آنکھ میں تو برائی آ ہی نہیں سکتی۔ تو دل میں کہاں سے آئے گی؟ یہ تو بہت بعید ہے اور ہمارے بھائی اور دوسرے قریبی رشتہ دار ہمارے چچا زاد، پھوپھی زاد، خالہ زاد، ماموں زاد سارے زاد شامل کر لیں، بہت ہی شریف زادے ہیں ، اس برائی کا تو ہمارے یہاں تصور بھی نہیں ہو سکتا۔ یہ مسئلہ جتنا اہم ہے اتنی ہی اس معاملہ میں زیادہ غفلت پائی جاتی ہے۔ عوام کے علاوہ خواص میں، علماء میں بھی بہت زیادہ غفلت پائی جاتی ہے۔ قرآن کریم کے صریح حکم پر عمل بالکل نہیں ہو رہا ہے ۔ گویا کہ یہ حکم قرآن میں نازل ہی نہیں ہوا۔ ان کے عمل اور حالات سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا پردہ کا حکم قرآن میں ہے ہی نہیں۔
میں چند خاندانوں کے واقعات بتاتا ہوں جو آپ سے زیادہ پارسا ہیں۔ آپ کی طرح ان کو بھی اپنی پارسائی پر بڑا ناز اور غرور ہوا۔ اور الله کے احکام کو پس پشت ڈال دیا اور پردہ نہیں کیا تو انجام کیا ہوا ؟
پہلا واقعہ
یہ واقعہ کراچی کا ہے۔ ایک صاحب جو ماشاءالله بہت دین دار تھے اور دینی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ انہیں حج بیت الله کی بھی سعادت حاصل تھی۔ اس کے باوجود محض اس وجہ سے کہ ان کے یہاں سالی سے پردے کا رواج نہ تھا۔ ان کا اپنی سالی سے خفیہ تعلق ہو گیا۔ کئی سالوں تک یہ تعلق رہا، وہ مانع حمل( حمل نہ ہونے والی گولیاں) استعمال کرتی رہی ، یہاں تک کہ اس کی شادی ہو گئی اور وہ اپنے شوہر کے پاس چلی گئی۔
دوسرا واقعہ
ایک صاحب نماز روزے کے پابند، ان کی اہلیہ بھی شریف گھرانے کی چشم وچراغ، انہوں نے پردے کا اہتمام نہیں کیا۔ دوست احباب کے یہاں ان کا جانا اور دوستوں کا ان کے یہاں آنا جانا رہتا تھا،اسی دوران ان کے ایک دوست سے ان کی بیوی کی آنکھ لڑ گئی۔ آہستہ آہستہ تعلق بڑھتا گیا، چونکہ دن میں شوہر تو اپنے کام پر چلا جاتا، بچے اسکول چلے جاتے اور بیوی صاحبہ اپنے شوہر کے دوست کے ساتھ اپنے ہی گھر میں خلوت( تنہائی) کے مزے لوٹتی رہی۔ کچھ عرصے کے بعد شوہر کو بھی پتہ چل گیا۔ اصلاح کی کوشش کی۔ جب ناکامی ہوئی تو مجبوراً بیوی کو طلاق دے دی۔
یہ واقعات تو کچھ بھی نہیں. یہ تو صرف ایک جھلک ہے اس برائی کی جو اللہ کے احکامات اور نبی پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے رو گردانی کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں پھیل رہی ہے.

جنوری 24, 2011 at 07:49 تبصرہ کریں

حضرت ابراہیم علیہ السلام

حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت بلند مرتبہ نبی گزرے ہیں. آپ کے بعد جس قدر نبی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے وہ آپ ہی کی نسل سے تھے، پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے خاندان سے تھے، یہی وجہ ہے کہ مسلمان اب بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت کہلاتے ہیں۔
آپ جس وقت دنیا میں تشریف لائے اس وقت نہ صرف بت پرستی کا بڑا زور تھا بلکہ اس زمانے کا بادشاہ نمرود بھی اپنے آپ کو خدا کہلاتا اور لوگوں سے اپنی پوجا کرواتا تھا۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ کے والد آزر صرف بت پرست ہی نہ تھے، بلکہ بت گر بھی تھے، وہ بت بناتے، لوگ ان سے ان جھوٹے خداؤں کو خرید کر لے جاتے اور پھر ان کی عبادت کرتے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام ابھی بچے ہی تھے کہ آپ اپنے باپ کے کام کو دیکھ دیکھ کر سخت حیران ہوتے کہ جن بتوں کو ان کے والد بناتے ہیں وہ ہلنے جلنے سے بھی معذور اور محتاج ہیں۔ کس قدر احمق ہیں یہ لوگ جو ان بے جان مورتیوں کو خدا سمجھ رہے ہیں۔
جب ذرا سیانے ہوئے تو آپ کا یہ عقیدہ پختہ ہوگیا کہ لکڑی،پتھر اور مٹی کے یہ بت کوئی حقیقت نہیں رکھتے، لیکن جب آپ لوگوں سے کہتے کہ تم ان کی کیوں پوجا کرتے ہو، ان میں اگر کوئی خوبی ہے تو مجھے بھی بتاؤ تو آپ کے سوال کا جواب تو کوئی نہ دے سکتے۔ صرف یہ کہہ کر ٹال دیتے کہ ہم تو وہی کرتے ہیں جو ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے ہیں۔
ایک دن ان بت پرستوں کا شہر سے باہر کوئی میلہ تھا، تمام لوگ میلے میں گئے ہوئے تھے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایسے میلوں ٹھیلوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی اور اگر کسی نے میلے پر جانے پر اصرار بھی کیا تو آپ نے انکار کر دیا۔ جب سارا شہر خالی ہو گیا تو آپ نے بت خانہ کے تمام بتوں کو توڑ پھوڑ دیا اور بعد میں کلہاڑی بڑے بت کے کندھے پر رکھ دی۔ شام کو جب یہ لوگ واپس لوٹے اور انہوں نے اپنے خداؤں کی یہ درگت دیکھی تو بہت برا فروختہ ہوئے اور تلاش کرنے لگے کہ یہ حرکت کس نے کی ہے، آخر سب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر شبہ کیا۔ آخر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلا کر پوچھا کہ یہ بت کس نے توڑے ہیں۔
آپ نے جواب دیا مجھ سے پوچھنے کی بجائے اپنے خداؤں سے کیوں نہیں پوچھتے، جن کی تم عبادت کرتے اور مرادیں مانگتے ہو۔ پھر فرمایا دیکھو کلہاڑی تو بڑے بت کے کندھے پر ہے، اس سے پوچھو کہیں اس نے ہی تو تمہارے جھوٹے خداؤں کا صفایا نہیں کر دیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کو بت پرستی سے روکا۔ اس پر ان کا باپ سخت ناراض ہوا اور کہا کہ آئندہ اگر تو نے مجھ سے ایسی بات کہی تو تجھے سنگ سار کر دوں گا اور کہا کہ تم میرے پاس سے ہمیشہ کے لیے چلے جاؤ، آپ نے باپ کو سلام کیا اور فرمایا کہ میں چلا جاتا ہوں اور تمہاری مغفرت کے لیے دعا کرتا رہوں گا۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کامل یقین ہو گیا کہ مٹی اور پتھر کے یہ بت خدا نہیں ہو سکتے تو آپ سوچنے لگے کہ آخر خدا کون ہے، رات جب نیلے آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے دیکھے تو سوچنے لگے کہ یہ چمکتے دمکتے ستارے خدا ہوں گے، مگر تھوڑی دیر کے بعد جب ستارے بھی غائب ہو گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سوچنے لگے کہ جن چیزوں پر زوال آ جائے وہ تو خدا نہیں ہوسکتیں اور اب آپ نے چمکتے ہوئے چاند کو دیکھا تو کہنے لگے ستارے تو نہیں یہ چاند ضرور خدا ہو گا۔ مگر جب وہ بھی غائب ہو گیا تو آپ کہنے لگے کہ یہ بھی خدا نہیں ہو سکتا اور اگر خدا مجھے ہدایت نہ دیتا تو یقیناً میں گمراہ ہو گیا ہوتا۔ اب آپ نے جگمگاتے ہوئے روشن سورج کو دیکھا کہ یہ سب سے بڑا ہے، یہی میرا رب ہو گا، لیکن شام کو جب وہ بھی غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا، اے قوم میں تمہارے ان معبودوں سے سخت بیزار ہوں، جن کو تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو اور فرمایا کہ میں اس خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور میں مشرک نہیں ہوں۔
اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم آپ سے سخت ناراض ہو گئی اور ان سے جھگڑا کرنے لگی، آپ نے ان سے فرمایا کہ تم مجھ سے خدا کے متعلق جھگڑا کرتے ہو، جس نے مجھے توحید کا سیدھا راستہ بتایا اور میں تمہارے ان معبودوں سے ہرگز نہیں ڈرتا اور میں تمہارے ان جھوٹے خدائوں سے ڈر بھی کیسے سکتا ہوں جبکہ تم ان چیزوں کو خدا کا شریک ٹھہرانے سے نہیں ڈرتے جن کو حق سمجھنے کے لیے اللہ کی طرف سے تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔
جب وہاں کے بادشاہ نمرود کو پتہ چلا تو اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دربار میں بلایا اور آپ سے جھگڑنے لگا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ میرا خدا وہ ہے جو مارتا بھی ہے اور جلاتا بھی، نمرود نے کہا یہ کون سی بات ہے یہ تو میں بھی کرتا ہوں، چنانچہ ایک ایسے قیدی کو بلا کر آزاد کر دیا جس کو سزائے موت کا حکم ہو چکا تھا اور ایک بےگناہ آدمی کو پکڑ کر قتل کر دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بے دھڑک ہو کر کہا کہ میرا راب ہر روز مشرق سے سورج طلوع کرتا ہے، میں دیکھوں گا اگر کل تو اس کو مغرب سے طلوع کر دے، اس پر نمرود لاجواب ہو گیا اور حکم دیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو زندہ جلا دیا جائے چنانچہ ایک زبردست چتا تیار کی گئی اور نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس جلتی ہوئی آگ میں پھینکوا دیا مگر وہ آگ خدا کے حکم سے ٹھنڈی ہوگئی اور آپ کو ہرگز گزند نہ پہنچا سکی۔
جب حضرت ہاجرہ کے بطن سے حضرت اسمعیل علیہ السلام پیدا ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم سے اپنی بیوی ہاجرہ اور لخت جگر حضرت اسمعیل کو ایک ایسی وادی میں چھوڑ آئے، جہاں دور دور تک آبادی کا نام و نشان تک نہ تھا، اس زمین میں نہ کہیں پانی تھا اور نہ کہیں کھیتی باڑی ہو سکتی تھی۔
حضرت ہاجرہ  خود پانی کی تلاش میں ادھر ادھر دوڑیں، لیکن پانی نہ ملا، خدا کی قدرت سے حضرت اسمعیل جہاں ایڑیاں رگڑ رہے تھے وہاں پانی کا چشمہ پیدا ہوگیا، یہی چشمہ آج کل زمزم کے نام سے مشہور ہے۔
جب حضرت اسمعیل علیہ السلام چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بیٹے کی قربانی طلب کی۔ چنانچہ آپ نے اللہ کا یہ حکم حضرت اسمعیل علیہ السلام کو سنایا، اس پر حضرت اسمعیل علیہ السلام نے کہا، اے والدِ محترم، اللہ تعالٰی نے آپ کو جو حکم دیا ہے اس کو ضرور پورا کریں، آپ انشاءاللہ مجھے اس امتحان میں ثابت قدم پائیں گے، شیطان نے حضرت اسمعیل علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ورغلانے کی بہت کوشش کی، لیکن آپ نے اسے جھڑک دیا اور کنکریاں مار کر بھگا دیا۔اب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے تاکہ تڑپیں نہیں اور اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لی کہ محبت پدری کہیں اس فرض کی ادائیگی کے آڑے نہ آئے اور اپنے بیٹے کے گلے پر چھری چلا دی، اسی وقت غیب سے آواز آئی کہ، اے ابراہیم علیہ السلام، تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا اور حقیقت میں یہ بہت بڑی قربانی ہے اور جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آنکھوں پر بندھی پٹی کھولی تو حضرت اسمعیل کی  بجائے ایک دنبہ ذبح کیا ہوا پڑا تھا۔
جب حضرت اسمعیل علیہ السلام جوان ہوئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان دونوں باپ بیٹوں نے ازسر نو خانہ کعبہ تعمیر کیا اور دعا کی کہ اے اللہ اس شہر مکہ کو امن والا بنا دے، مجھ کو اور میری اولاد کو بتوں کا پجاری نہ بنانا، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام دعا فرما رہے تھے کہ اللہ میری نسل سے ایک ایسا نبی پیدا کر جو گمراہ لوگوں کو تیری آیتیں پڑھ کر سنایا کرے اور انہیں دانائی اور حکمت کی باتیں سکھائے۔ اسی خانہ کعبہ کی زیارت اور حج کے لیے ہر سال لاکھوں مسلمان مکہ معظمہ جاتے ہیں۔

جنوری 20, 2011 at 10:17 تبصرہ کریں

اردو مزاحیات

جنوری 17, 2011 at 12:27 1 comment

ایک نمازی کی آپ بیتی

جانے کیا وجہ ہے کہ مسجد جانے سے ہمیشہ میری جان جاتی ہے اور بچپن میں تو جمعے کا خطبہ سن کر باقاعدہ چھریاں نظر آنا شروع ہو جاتی تھیں۔ اذان کی آواز سنتے ہی جوتیاں کبھی صوفوں، کبھی پیٹی، کبھی ڈولی کے نیچے اور کبھی گیراج میں پڑے کباڑ میں چھپانے کو دوڑتا تھا۔ چونکہ امی ہمیں ہر صورت مسجد بھیجنے پر مصر رہتی تھیں اس لئے سدباب کے طور پر ہم نے بہن بھائیوں کی جوتیوں کی بھی شامت لانی شروع کر دی اور جب اس کاروائی کی زد میں امی کی جوتیاں بھی آنے لگیں تو چمٹے سے ہونے والی ٹھکائی اور ننگے پیر مسجد جانے کی سزا کی بدولت یہ عادت چھوٹ گئی۔
بچپن تو یہ بات سمجھ میں آئے بغیر گزر گیا کہ مسجد جانے سے کیا مسئلہ ہے لیکن اب بھی مسجد نا جانے کا بہانہ ڈھونڈتا ہوں۔ کیوں؟ اس کے لئے آپ کو ایک نمازی کی آپ بیتی پڑھنا ہوگی۔ تفصیل سے غیبت کی میری بے شک عادت ہے لیکن آپ بیتی مختصراً کہنے کا عادی ہوں اور یہ دونوں کا ملغوبہ ہے۔ تو کہانی شروع ہوتی ہے یہاں سے
نماز کے لئے تکبیر کہی گئی مولوی صاحب نے کہا صفیں سیدھی کر لیں (دائیں بائیں نمازی میرے پاؤں پر کھڑے ہو گئے)۔ اگر مولوی صاحب نے کہا کاندھے سے کاندھا ملا لیں (نمازیوں نے اپنے ہی پیر ملا لئے اور مجھ سے کاندھے جوڑ لئے)۔ اب قیام میں حالت کچھ ایسی ہے کہ یا تو لوگ میرے پیروں پر کھڑے ہوتے ہیں یا میں ان کے کندھوں سے لٹکا ہوتا ہوں۔
قعدے اور تشہد کی روداد یہ ہے کہ بیٹھتے ہی ٹانگیں کاک ٹیل گلاس یا غلیل کی طرح کھول لیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی تشریف اتنی نازک اور فریجائل ہوتی ہے کہ احتیاطاً اس پر بیٹھنا نامناسب سمجھتے ہیں اور مجھ پر ایسے گرنے لگتے ہیں جیسے شاہراہ ریشم پر ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ۔ نتیجہ یہ کہ میں دو تووں کے بیچ میں آیا ٹام بن جاتا ہوں.
آگے والا نماز سے پہلے فارغ ہو جائے تو اپنی قمیض کو پیچھے سے 14 اگست کا جھنڈا بنا کر لہراتا ہے اور میری سجدے کی جگہ پر کھسک آتا ہے، اور قسم لے لو کتنی دفعہ تو ایسا ہوا ہے کہ میرے سجدہ زدہ سر پر ہی براجمان ہو گیا۔ نمازیوں کو لمبی قمیضیں پہننے کا شوق تو بہت ہوتا ہے لیکن جب وہ ”ہوا میں اڑتا جائے میرا لال دوپٹہ ململ کا“ کی عملی تصویر بنی ہوتی ہیں تو سنبھالنے کی ان کو توفیق نہیں ہوتی۔ ہونی بھی نہیں چاہئے (ہلن جلن سے نماز خراب ہوتی ہے)۔
فرض نماز کے فوراً بعد ایک دین دار بندہ اٹھ کر ”میری آپکی ساری دنیا کی بھلائی اللہ تعالٰی نے دین میں رکھی ہے ۔۔۔“ کی کیسٹ چلاتا ہے۔ اللہ کی لگن اور لوگوں کو راہ راست پر لانے کی دھن میں یہ بندہ اتنا مگن ہوتا ہے کہ نماز کے بعد اکٹھے ہوئے بے راہ لوگوں کی جماعت کو تبلیغ کے لئے یہ بندہ میرے سامنے سے اور مجھے دھکے دے کر گزر جاتا ہے اور عین نمازیوں کے بیچ بے راہ لوگوں کو بٹھا کر عمدہ اور چنگھاڑتی تقریر شروع کر دیتا ہے۔
لیکن میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ میری داڑھی نہیں ہے، میں شلوار آدھی پنڈلیوں تک اونچی نہیں باندھتا، سیدھے گھیر والا کرتا نہیں پہنتا، نا میرے سر پر امامہ بندھا ہے ، نا میں نماز کے دوران بار بار ”اعضائے پوشیدہ“ کی خبر گیری کرتا ہوں اور اکثر پینٹ جیسے حرام لباس میں نماز پڑھتا ہوں ۔
میں نے کئی بار چاہا کہ ان اصحاب کو کچھ کہوں لیکن چونکہ میں مسجد کامستقل نمازی نہیں اور نا ہی مسجد کمیٹی کو باقاعدہ ایک لگی بندھی رقم ہدیہ و چندہ کرتا ہوں۔ اس لئے مجھے مسجد کا چوہدری بننے کا کوئی حق ہے نا ہی اسلام کا ٹھیکیدار بننے کا۔

جنوری 13, 2011 at 10:03 1 comment

حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ

پہلی صدی کے عظیم درویش کے بچپن کے حالات
حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ ایک ولی کامل تھے ۔ آپ کو حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہ کا دودھ پینے کا شرف حاصل ہے ۔ کیونکہ آپ کی والدہ حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہ کی کنیز تھیں اور ماں کی مصروفیت کے اوقات میں آپ ان کو اپنا دودھ پلا دیا کرتی تھیں۔ اس طر ح جو قطرات شیر بھی دہن مبارک میں پہنچ جاتے تھے وہی تزکیہ باطن اور رفع منزلت کا باعث بن جاتے تھے ۔ آپ نے حضور آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس پیالے سے پانی بھی پیا ہے ۔ ان کی گود میں بھی کھیلے ہیں او ر دعائیں بھی لی ہیں ۔ آپ کی والدہ محترمہ جب آپ کو گود میں لیا کرتیں برابر یہ دعا کرتی رہتیں کہ بار الٰہی ! میرے اس بچے کو مقتدائے خلق بنانا۔ آپ کا نام حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا رکھا ہوا ہے ۔ پیدا ہونے کے بعد جب آپ کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سامنے لایا گیا تو انہوں نے آپ کی خوبصورتی دیکھتے ہی فرمایا کہ اس بچہ کا نا م حسن رکھو ۔
ترکِ دنیا کا سبب
ممکن نہ تھا کہ جو بچہ سرکار دو عالم کے گھرمیں پرورش پائے ۔ ام المو منین کا دودھ پئے اور جو عہد نبوت میں پیدا ہو وہ آگے چل کر سرآمد روزگار نہ بنے ۔ آپ اپنی ذہانت کی وجہ سے بہت جلد علوم ظاہری میں کامل ہو گئے اور ہوش سنبھالتے ہی بصرہ میں گوہرفروشی شروع کر دی اور اس تجا رت کو اتنی وسعت دی کہ روم ایران تک جا نے لگے ۔ آپ بہ سلسلہ تجارت روم گئے ہوئے تھے ۔ وہاں وزیراعظم سے ملا قا ت ہو ئی جو آپ کو شہر سے باہر لے گیا دیکھا کہ میدان میں دیبا کا ایک شاندار خیمہ ہے ۔ جس کی ریشمی ڈوریاں طلائی میخوں سے بندھی ہوئی ہیں ۔ فلاسفروں، طبیبوں اور مہ پار ہ کنیزوں کے انبوہ آتے ہیں اور خیمہ کے قریب کچھ کہہ کر چلے جا تے ہیں ۔ چنا نچہ اس طرح قیصر اور قیصرہ بھی آئیں ۔ حضرت نے حقیقت پوچھی ،وزیر اعظم بولا کہ اس خیمہ میں شہزادہ کی لاش رکھی ہے جو مجھ کو نہا یت محبوب تھا ۔ یہ سب یہاں آکر یہ کہتے ہیں کہ اگر دولت سے ،فوج سے، علا ج سے تجھے بچایا جا سکتا تو ضرور بچالیا جاتا ۔ لیکن جس نے تجھ پر موت طاری کی اس کی مرضی کے خلا ف کوئی دم نہیں مار سکتا ۔ یہ سنتے ہی آپ کا دل دنیا کی طرف سے سرد پڑ گیا اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر عبادت الٰہی میں مصروف ہو گئے ۔
خشیت ا لہٰی اور عجز و انکساری
اب تو یہ حالت تھی کہ را ت دن مجاہدہ و ریا ضت میں مصروف رہتے تھے اور دنیا سے بالکل قطع تعلق کر لیا تھا ۔ ہیبت الٰہی اس درجہ غالب تھی کہ ہمہ وقت لرزاں و ترساں رہتے تھے اور کثیر البکا تھے ۔
ایک دفعہ مسجد کی چھت پر بیٹھ کر اس قدر روئے کہ آنسو پانی کی طر ح پر نالے سے بہہ نکلے۔ اسی طر ح کسی جنازہ کی نماز پڑھائی تو دفن کے بعد ایسی رقت طا ری ہوئی کہ وہاں کی خا ک کیچڑ بن گئی اور فرمایا لوگو! کیوں بھولے ہوئے ہو ۔ اس عالم سے کیوں نہیں ڈرتے جس کی ابتداء یہ قبر ہے ۔ آخر تم سب کو یہ منزل پیش آنی ہے ۔ اس وقت قبرستان میں جتنے لوگ تھے سب زار وقطار رو رہے تھے ۔ خو ف کی یہ شدت اور یہ اتقا، ملاحظہ فرمائیے کہ شباب و جوانی میں نہیں عالم طفولیت میں آپ سے کوئی گناہ سر زد ہو گیا تھا تو جب کوئی کپڑا پہنتے اس کے گریبان پر اسے ثبت کر دیتے اور پھر روتے روتے بےہوش ہوجاتے۔ عجز و انکساری اس درجہ بڑھی ہوئی تھی کہ خود کو ہر انسان سے کم تر سمجھتے تھے ۔ ایک روز آپ نے لب دجلہ ایک حبشی شخص کو ایک عورت کے ساتھ بیٹھے اور ایک صراحی سے کچھ پیتے دیکھا ۔ خیا ل کیا کہ یہ شخص تو ضرور مجھ سے بہتر نہ ہو گا۔ اتنے میں ایک کشتی غر ق ہوئی اور اس نے فوراً کود کر چھ افرا د کو پانی سے نکال لیا اور کہا کہ اگر آپ خو د کو مجھ سے بہتر سمجھتے ہیں تو جہاں میں نے چھ آدمیوں کی جانیں بچائی ہیں ، آپ ایک ہی کو بچا لیتے ۔پھر کہنے لگا کہ حضرت اس صراحی میں محض پانی ہے۔ اور یہ عورت میر ی ماں ہے ۔ یہ سب کچھ آپ کی آزمائش کے لیے تھا کہ آپ کی نظر کا اندازہ کروں آپ اسی وقت متنبہ ہو گئے اور پھر خود کو کسی سے بہتر نہ سمجھا ۔ کسی نے پو چھا آپ بہتر ہیں یا کتا ۔ فرمایا نجات پاﺅں تو اس سے ضرور بہتر ہوں ورنہ ایک کتا مجھ جیسے سینکڑوں سے بہترہے ۔
وصال مبارک
آخری عہد بنی امیہ میں آپ نے وفات پائی ۔ ایک بزرگ نے خواب میں دیکھا کہ آسمان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور فرشتے منا دی کر رہے ہیں۔ کہ ” حسن خدا تک پہنچ گیا اور وہ ان سے خوش ہوا“ یکم رجب 110ھ کو بصرہ میں وصال ہوا۔

جنوری 10, 2011 at 12:21 1 comment

Older Posts


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا "اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]