جادو کا موتی

دسمبر 30, 2010 at 08:28 1 comment

ویت نام کے کسی گاؤں میں ایک شکاری رہتا تھا۔ اس کا  نام  ڈائزنگ تھا اور وہ اکیلا ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ ایک دن وہ شکار تلاش کر رہا تھا کہ اُسے ایک شکرا نظر آیا جو سانپ پر جھپٹنے ہی والا تھا۔ ڈائزنگ کو سانپ پر ترس آ گیا ۔اُس نے تیر سے شکرے کو مار گرایا۔
سانپ بھاگتے بھاگتے رک گیا پھن اُٹھا کر ڈائزنگ کو دیکھا اور پھر بولاٴٴتمہارا بہت بہت شکریہ ڈائزنگٴٴ۔ تم نے مجھ پر جو احسان کیا ہے۔ میَں اُس کا بدلہ دینا چاہتا ہوں۔ یہ لو۔ یہ جادو کا موتی ہے۔ اِسے زبان کے نیچے رکھو گے تو دنیا کے ہر جانور کی بولی کا مطلب سمجھ سکو گے، لیکن ایک بات یاد رکھنا اپنے اِس علم کو نیک کاموں میں استعمال کرنا۔
پھر اچانک سانپ غائب ہوگیا۔ اُسی وقت ڈائزنگ کو ایک پہاڑی کوے کی کائیں کائیں سنائی دی۔ اُس نے جادوئی موتی زبان کے نیچے رکھا اور کوے کی کائیں کائیں کی طرف کان لگا دئیے کوا کہہ رہا تھاٴٴیہاں قریب ہی ایک جھاڑی میں ایک موٹا تازہ ہرن بیٹھا ہے۔ اگر تم وعدہ کرو کہ اُس کی کلیجی مجھے دے دو گے تو میَں تمھیں اُس تک لے جاؤں گا۔ کوا ڈائزنگ کو اُس جھاڑی کے پاس لے گیا، ڈائزنگ نے تیر سے ہرن کو شکار کیا اُس کی کلیجی کوئے کو دی اور گوشت گھر لے گیا۔ پھر وہ کوے کے ساتھ مل کر شکار کرنے لگا۔ دونوں خوش تھے۔ ڈائزنگ کو شکار کے لیے زیادہ دوڑ دھوپ کرنی نہیں پڑتی تھی اور پہاڑی کوئے کو مفت میں کلیجی مل جاتی تھی۔
ایک دن کوے کو آنے میں دیر ہوگئی تو ڈائزنگ اکیلا ہی شکار کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ کچھ دیر بعد اُس نے ایک شکار مارا اور اُس کی کلیجی درخت شاخ پر رکھ دی کہ کوا آ کر کھا لے گا، لیکن وہ کلیجی کوئی دوسرا پرندہ کھا گیا۔ اتنے میں کوا کائیں کائیں کرتا ہوا آ گیا ۔ اُسے کلیجی نہیں ملی، تو اُس نے ڈائزنگ کو خوب بُرا بھلا کہا۔ ڈائزنگ کو غصہ آ گیا۔ اُس نے کمان میں تیر لگایا اور کوئے پر نشانہ لگایا۔ کوا اُچھل کر ایک طرف ہو گیا اور تیر کچھ دور جا کر زمین پر گر پڑا۔
کوا چیخ کر بولاٴٴپہلے تم نے وعدہ خلافی کی اور اب میری جان لینے کی کوشش کی ۔ تمھیں اِس کی سزا ملے گیٴٴ۔ یہ کہہ کر اُس نے تیر کو چونچ میں دبایا اور گائوں کی طرف اُڑ گیا۔ گائوں کے پاس ایک نہر تھی اُس نہر میں کسی آدمی کی لاش پڑی تھی۔ شاید ڈوب کر مرگیا تھا کوے نے ڈائزنگ کا تیر مردے کے جسم میں گھونپ دیا اور جنگل کی طرف اُڑ گیا۔ کچھ دیر بعد چند لوگ نہر کے پاس سے گزرے۔ اُنھوں نے نہر میں لاش دیکھی تو رک گئے لاش میں تیر لگا ہوا تھا۔ یہ تیر ڈائزنگ کا تھا۔ اُنھوں نے پولیس کو خبر کردی اور پولیس نے ڈائزنگ کو قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا۔
اب بے چارہ ڈائزنگ جیل کی کال کوٹھڑی میں پڑا آہیں بھرتا رہا۔ اُس کوٹھڑی میں بس مکھی مچھر تھے یا پسو اور چوہے جو اِدھر اُدھر دوڑتے پھرتے تھے۔ ڈائزنگ نے سوچا چلو اُنہی کی باتیں سن کر وقت گزاروں۔ اب وہ صبح ہوتے ہی جادوئی موتی زبان کے نیچے رکھ لیتا اور اُن جانوروں کی باتیں سنتا۔ ایک صبح ایک چڑیا دوسری چڑیا سے کہہ رہی تھی ٴٴاُس ملک کا بادشاہ بہت بے وقوف ہے۔ اُس کے غلے کے گودام سے روز رات کو چور چاولوں کی بوریاں چرا کر لے جاتے اگر یہی حال رہا تو چند دنوں میں سارا گودام خالی ہو جائے گاٴٴ۔
ڈائزنگ نے جیلر کو بلایا اور اُسے یہ بات بتائی۔ جیلر کو اُس کی بات کا یقین نہ آیا۔ اُس نے کہا تم کوئی جادو گر ہو کہ تمھیں یہاں بیٹھے بیٹھے چوری کی خبر مل گئی؟ ڈائزنگ بولا ٴٴمیری بات غلط ہو تو مجھے پھانسی دے دیناٴٴ۔
جیلر نے کوتوال سے بات کی کوتوال نے وزیر کو اطلاع دی اور وزیر نے یہ بات بادشاہ کو بتائی۔ اُسی رات بادشاہ کے سپاہیوں نے گودام پر چھاپہ مارا اور چوروں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گودام کے چوکیدار چوروں سے ملے ہوئے تھے وہ بھی پکڑے گئے۔ بادشاہ نے خوش ہوکر وزیر کو 100اشرفیاں دیں وزیر نے خوش ہوکر کوتوال کو 10اشرفیاں دیں۔ کوتوال نے خوش ہوکر جیلر کو ایک اشرفی دی۔ ڈائزنگ کو پھوٹی کوڑی بھی نہ ملی۔ چند دن بعد ڈائزنگ نے دیکھا کہ اُس کی کوٹھڑی کی چیونٹیاں باہر بھاگ رہی ہیں۔ ایک چیونٹی کہہ رہی تھی ٴٴچلو چلو کسی اونچی جگہ چلو۔ پہاڑوں پر موسلادھار بارشیں ہو رہی ہیں۔ سیلاب آنے والا یہ تمام گائوں کھیت اور کھلیان بہہ جائیں گےٴٴ۔
ڈائزنگ نے یہ بات جیلر کو بتائی۔ جیلر نے کوتوال کو بتائی کوتوال نے وزیر سے کہا اور وزیر نے بادشاہ کو بتایا۔ بادشاہ نے اسی وقت گاؤں گاؤں ہر کارے بھیج کر لوگوں کو خبردار کر دیا۔ لوگوں نے جلدی جلدی دریاؤں کے کنارے اونچے کئے اور کنکر پتھر ڈال کر پشتوں کو مضبوط کر دیا۔ اور اِس طرح سیلاب کا پانی بغیر کوئی نقصان پہنچائے گزر گیا۔
بادشاہ نے وزیر سے پوچھا ٴٴتمھیں یہ باتیں کون بتاتا ہے؟ٴٴ وزیر نے کہا کوتوال۔ کوتوال بولا جیلر اور جیلر بولا ڈائزنگ جو میری جیل میں قید ہے۔ بادشاہ نے اسی وقت ڈائزنگ کو بلایا اور اُس سے دریافت کیا کہ تمھیں یہ باتیں کیسے معلوم ہوتی ہیں؟ڈائزنگ نے سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔ بادشاہ بہت خوش ہوا۔ اس نے ڈائزنگ کو اپنا وزیر بنا لیا۔
بادشاہ سلطنت کے کام کاج سے فارغ ہوتا تو ڈائزنگ کو لے کر کسی باغ یا جنگل میں چلا جاتا اور ڈائزنگ اسے مختلف جانوروں کی باتیں سناتا۔ بادشاہ بہت خوش ہوتا اور اُسے خوب انعام و اکرام دیتا۔ ڈائزنگ عیش و آرام میں ایسا مست ہوا کہ اپنے گاؤں کے اُن لوگوں کو بھی بھول گیا جو آڑے وقتوں میں اُس کی مدد کرتے تھے۔ ایک دن بادشاہ نے دریا کی سیر کا ارادہ کیا۔ پانی میں رنگ برنگ مچھلیاں تیر رہی تھیں اور ڈائزنگ اُن کی دلچسپ باتیں بادشاہ کو سنا رہا تھا اچانک ایک مچھلی نے کوئی ایسی بات کہی کہ جسے سن کر ڈائزنگ نے زور دار قہقہہ لگایا۔ اُس کا منہ کھلا تو موتی پانی میں گر پڑا۔ بادشاہ نے غوطہ خوروں کو حکم دیا کہ وہ پانی میں سے موتی نکال کر لائیں۔ غوطہ خوروں نے تمام دریا کھنگال ڈالا موتی کا کہیں پتا نہ چلا۔
بادشاہ کچھ دن اُداس رہا پھر اُس نے اپنی تفریح کا دوسرا سامان کر لیا اور ڈائزنگ کو محل سے نکال دیا۔ ڈائزنگ رنجیدہ ہو کر دریا کے کنارے بیٹھ گیا اور ریت میں موتی تلاش کرنے لگا، لیکن بے سود۔ اُسی طرح کئی دن گزر گئے۔ اُس کی کمر جھکے جھکے کبڑی ہوگئی۔ ہاتھ پائوں اکڑ گئے اب اُس سے کھڑا نہ ہوا جاتا تھا ۔ وہ کیکڑا بن گیا تھا۔
آپ کو کبھی جنوبی چین کے ساحلوں پر جانے کا اتفاق ہو تو آپ کو وہاں سینکڑوں چھوٹے چھوٹے کیکڑے اپنے پنجوں سے ریت کھودتے اور اس میں کچھ تلاش کرتے نظر آئیں گے لوگ کہتے ہیں کہ ڈائزنگ کی اولاد ہیں اور اُس موتی کو تلاش کر رہے ہیں جو سینکڑوں سال پہلے دریا میں گر گیا تھا۔

Entry filed under: Kids Corner : بچوں کی دنیا, Urdu Adab : اردو ادب, Urdu Stories : اردو کہانیاں. Tags: , , , , .

برصغیر کے نامور شاعر اور سفر نامہ نگار ابن انشاء ماہ صفر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں

1 تبصرہ Add your own

  • 1. ak  |  دسمبر 30, 2010 کو 13:47

    very interesting story, and got a good moral lesson in middle of story

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Trackback this post  |  Subscribe to the comments via RSS Feed


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا “اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]

%d bloggers like this: