حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ

دسمبر 23, 2010 at 06:18 1 comment

اللہ تعالی اپنے پیارے محبوب علیہ الصلوۃ والسلام سے اس حد تک محبت فرماتا ہے کہ جس کی نظیر نہيں ملتی اور ان کو عزیز رکھتا ہے کہ جو اس کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں اور ان کا درجہ و مرتبہ تو اس کی بارگاہ اقدس میں بہت بلند ہے جو حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق کی حد تک محبت کرتے ہیں ایسے ہی عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے بعد سرفہرست نام حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔ حاکم نے حضرت ابن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ:

“تابعین میں میرا بہترین دوست اویس قرنی (رضی اللہ تعالی عنہ) ہے۔”

حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس قدر مستور الحال تھے کہ لوگ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو دیوانہ سمجھتے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ سادگی اور فقر کا اعلی نمونہ تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کوڑے کے ڈھیر سے پھٹے پرانے کپڑوں کے چیتھڑے اٹھا کر لاتے اور ان کو دھو کر جوڑتے اور سی کر خرقہ بنا لیتے اللہ تعالی کے نزدیک آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ لباس بہت ہی پسندیدہ تھا۔ ساری زندگی دنیا کی کسی بھی چيز سے محبت نہ کی اللہ تعالے اور اس کے حبیب علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت میں مستفرق رہے ایسی ہی بلند مرتبہ ہستیوں کی فضیلت احادیث مبارکہ میں بھی بیان ہوئی ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالے عنہ فرماتے ہيں کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ:

“بہت سے لوگ (ایسے) ہیں جو بے حد پریشان غبار آلود ہيں اور جن کو دروازے سے دھکے دے کر نکالا جاتا ہے اگر وہ (کسی بات پر) اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ تعالی ان کی قسم کو سچا اور پورا کر دے۔”

حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت و مرتبہ کی مثال اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی کہ خود حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی زبان اطہر سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا مقام جو اللہ تعالی کی بارگاہ میں ہے بیان فرمایا۔ مسلم شریف کی حدیث پاک ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:

“اہل یمن سے ایک شخص تمہارے پاس آۓ گا جسے اویس (رضی اللہ تعالی عنہ) کہا جاتا ہے اور یمن میں اس کی والدہ کے علاوہ اس کا کوئی رشتہ دار نہیں اور والدہ کی خدمت اسے یہاں آنے سے روکے ہوۓ ہے اسے برص کی بیماری ہے جس کے لیے اس نے اللہ تعالی سے دعا کی۔ اللہ تعالی نے اسے دور کر دیا صرف ایک دینار یا درہم کی مقدار باقی ہے جس شخص کو تم میں سے وہ ملے تو اس سے کہے کہ وہ تم سب کی مغفرت کے لیے اللہ تعالی سے دعا کرے اور مغفرت چاہے۔”

حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کا مرتبہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس قدر مقبول ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں اللہ تعالی سے بخشش کی دعا فرمائی تو اللہ تعالی نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک کثیر تعداد کو بخش دیا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ انتہائی متقی اور پرہیز گار تھے۔ تقوی کا یہ حال تھا کہ ایک مرتبہ تین روز تک کچھ بھی نہ کھایا پیا راستے میں چلے جا رہے تھے کہ زمین پر ایک ٹکڑا پڑا ہوا دکھائی دیا کھانے کے لیے اسے اٹھایا اور چاہتے تھے کہ کھائيں لیکن معاَ دل میں خیال آیا کہ کہيں حرام نہ ہو چنانچہ اسی وقت پھینک دیا اور اپنی راہ لی۔

اللہ کے مقبول بندے وہی ہوتے ہيں جو اللہ تعالے کے دوست ہوتے ہيں۔ اللہ تعالے ان کو دوست رکھتا ہے جو اس کے پیارے محبوب علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق کی حد تک محبت کرتے ہیں اور حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ اس شرط پر پورے اترتے ہيں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:

“اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں جو نہ نبی ہيں نہ شہید پھر بھی انبیاء اور شہداء قیامت کے دن ان کے مرتبہ پر رشک کریں گے جو انہيں اللہ تعالی کے یہاں ملے گا لوگوں نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ کون لوگ ہوں گے؟ حضور علیہ الصلوۃ ولسلام نے فرمایا: کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو آپس میں ایک دوسرے کے رشتہ دار تھے اور نہ آپس میں مالی لین دین کرتے تھے بلکہ صرف اللہ کے دین کی بنیاد پر ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے بخدا ان کے چہرے نورانی ہوں گے اور ان کے چاروں طرف نور ہی نور ہو گا انہیں کوئی خوف نہ ہو گا اس وقت جب کہ لوگ خوف میں مبتلا ہوں گے اور نہ کوئی غم ہو گا اس وقت جب کہ لوگ غم میں مبتلا ہوں گے۔” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت مبارک پڑھی:

الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون ۔

حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ عاشقان رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سردار ہیں جو بھی مسلمان عشق مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے سرشاد ہے وہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ پر بجا طور پر فخر کرتا ہے۔ حضرت اویس رضی اللہ تعالی عنہ کے عشق مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ایک مشہور واقعہ جو کتب میں مذکور ہے وہ یہ ہے کہ مروی ہے جب غزوہ احد میں حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کو زخم آۓ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خون پاک کو صاف فرماتے تھے اور اسے زمین پر گرنے نہیں دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر خون سے ایک قطرہ بھی زمین پر گرا تو یقینا اللہ تعالی آسمانوں سے زمین والوں پر عذاب نازل کرے گا پھر فرمایا،

“یا اللہ! میری قوم کو معاف فرما دے کیوں کہ وہ مجھے نہیں جانتی اور میری حقیقت نہیں پہچانتی”

اسی اثناء میں عتبہ بن ابی وقاص نے ایک پتھر حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف پھینکا جو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نچلے لب مبارک پر لگا اور دندان مبارک شہید ہو گئے۔ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کو جب اس بات کی خبر ہوئی تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے عشق مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جذبے سے مغلوب و سرشار ہو کر اپنے تمام دانت توڑ ڈالے۔

عشق مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا وہ مطہر و منزہ جذبہ جو حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کے قلب اطہر میں موجزن تھا تاریخ انسانی میں اس کی مثال نہیں ملتی اپ محبت و عشق کے جس عظیم مقام و مرتبہ پر فائز تھے اسے دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے بھی رشک کیا۔ حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کے باطنی فیضان سے حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کا سینہ پاک منور و تاباں تھا اس باطنی فیضان کے نور سے آپ نے حقیقت محمدی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو پا لیا تھا وہ اسرار الہی جسے ہر کوئی نہیں پا سکتا اسے آپ نے مدینہ طیبہ سے دور یمن میں بیٹھ کر پا لیا اور پھر مخلوق خدا سے کنارہ کشی اس لیے اختیار کر لی کہ لوگوں پر آپ کا مقام و مرتبہ ظاہر نہ ہو جاۓ۔

حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی آپ پر خصوصی نگاہ کرم تھی آپ کا شمار سرکار مدینہ علیہ الصلوۃ والسلام کے دوستوں میں ہوتا ہے آپ کے حالات کی کیفیت سے نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کو آگاہی حاصل تھی۔ رسول کریم علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق و محبت کی تڑپ و لگن جو حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دل میں موجود تھی اس کا علم سرور کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو بخوبی تھا۔ حضور سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے۔ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ نے محبت سے عشق تک کی تمام منازل کو طے کر رکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سرخیل ہيں اور اس راہ پر چلنے والوں کے ایک عظیم قائد و رہنما ہيں۔

جس دیوانگی اور وارفتگی کے جذبے کے ساتھ آپ نے رسول کریم علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق کیا وہ جذبہ عشق کی انتہائی بلندیوں پر پہنچا ہوا تھا جس نے آپ کے اور حضور سرکار مدینہ علیہ الصلوۃ والسلام کے مابین ایک مضبوط باطنی و روحانی تعلق قائم کر دیا۔ یہ پروردگار عالم کا آپ پر خصوصی فضل و کرم تھا کہ اس نے اپنے پیارے محبوب علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت و عشق کی دولت سے آپ کے قلب پاک کو مالا مال کر دیا تھا۔

حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کا سینہ عشق کاملہ کا فیض حاصل کرنے والوں نے بہت فائدہ اٹھایا اور اپنی زندگیوں کو ایک نئی جہت دی آپ کے قلب منور میں حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق و محبت کا جو الاؤ روشن تھا اس کی روشنی تاریک دلوں کو منور کرنے کے لیے ہدایت و رہنمائی کا ایک عظیم مینارہ نور تھی۔ آپ مستجاب الدعوات اور بارگاہ الہی کے مقبول و برگزیدہ بندے تھے، مستحور الحال اور اپنے حال میں مست و مگن رہنے والے حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کے ولئی خاص، خیر التابعین حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کی شخصیت عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم رکھنے والوں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے آپ کی سیرت طیبہ محبت و عشق کا دعوی کرنے والوں کے لیے ایک عظیم درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے آپ کے نصائح و اقوال مثلاَ شیان حق کے لیے منبع ہدایت ہیں۔

 

Entry filed under: Blessed Personalities : متبرک ہستیاں. Tags: , , , , , .

کرامتِ امام حسین اور یزید کی عبرتناک موت برصغیر کے نامور شاعر اور سفر نامہ نگار ابن انشاء

1 تبصرہ Add your own

  • 1. shazia  |  جنوری 3, 2011 کو 16:41

    hzrat awais e qarani jesi hastin s umat ka srmaya hoti hn ap k faizan e nzr se aj b ye ishq e mustafa k chhalkty jam teshna hal dlo ki pyas bhujti he bs tarhap e awasi ka bluetooth on ho to jo chahen wo pa skty hn

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Trackback this post  |  Subscribe to the comments via RSS Feed


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا “اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]

%d bloggers like this: