محرم الحرام کی اہمیت و فضیلت

دسمبر 13, 2010 at 05:39 تبصرہ کیجیے

روز ازل ہی کو جب زمین کا سبزہ زار فرش اور آسمان کی نیلگوں چھت تیار ہوئی تھی اور اس میں سورج کا روشن چراغ اور چاند کی خوشنما قندیل جلائی گئی تھی یہ بات نوشتہ الٰہی میں لکھ دی گئی کہ صبح وشام کی تبدیلیوں اور شب وروز کے الٹ پھیر سے ہفتہ اور پھر جو مہینہ وجود میں آتا ہے وہ بارہ ہیں جن میں چار مہینے بڑ ے ہی مبارک و محترم ہیں ۔ چنانچہ خلاق عالم اپنی آخری کتاب کی سورت برأت میں یوں گویا ہوتا ہے کہ إِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُورِ عِنْدَ اللَّہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِی کِتَابِ اللَّہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْہَا أَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ (التوبۃ:۳۶)
’’بیشک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک اللہ کے حکم میں بارہ ہے جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ان میں چار حرمت والے مہینے ہیں ۔‘‘
کسی شاعر نے اس بات کو یوں بیان کیا ہے
سورۃ توبہ میں فرماتا ہے رب
سال اندر چار ہیں ماہ ادب
وہ مہینے ہیں بہت با احترام
قتل وجنگ وظلم ان میں ہے حرام
ان میں سے محرم کا مہینہ بڑ ا ہی قابل احترام ہے اس کا احترام جاہلیت کے تاریک ترین زمانے میں بھی باقی تھا ریگزار عرب کے بدو جو علم سے دور اور عقل سے بیگانہ، وحشت سے قریب اور جنگ و جدال کے رسیا ودلدادہ تھے وہ بھی ان مہینوں کے احترام میں قتل و قتال، جنگ و جدال، کشت و خون، لوٹ مار اور غارت گری ورہزنی سے باز رہتے تھے یہی وجہ ہے کہ محرم کے مہینہ کو محرم الحرام کہا جاتا ہے کہ اس میں معرکہ کارزار گرم کرنا اور انسانوں کے خون کی ہولی کھیلنا حرام ہے ۔
اس مبارک مہینہ کی دسویں تاریخ تو گویا خوبیوں اور فضیلتوں کا گلدستہ ہے کہ اسی دن پیغمبر جلیل موسیٰ علیہ السلام کلیم اللہ نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظالمانہ وجابرانہ شکنجہ اور غلامی کی ذلت آمیز قید و سلاسل سے آزاد کرایا۔
اس دن کی فضیلت کیلئے اس سے بڑھ کر اور کیا شہادت ہو سکتی ہے کہ رمضان کے بعد اسی دن کے روزہ کو افضلیت حاصل ہے چنانچہ ریاض محبت کی بہار جاوداں کا آخری نغمہ خواں عندلیب اور مستور ازل کے چیرہ زیر نقاب پہلا بند کشا ، پیغمبر اسلام محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیان فرماتے ہیں ۔
’’اَفضَلُ الصِّیَامِ بَعدَ رَمَضَانَ شَہرَ المُحَرَّمِ۔‘‘ (صحیح مسلم)
’’رمضان کے مہینہ کے بعد محرم کے مہینہ کا روزہ افضل ترین روزہ ہے ۔‘‘
لہذا یہ دن تو وہ دن ہے کہ اللہ کا بندہ کمال بندگی کے ساتھ اپنے رب کی محبت میں سرشار ہوکر اس کی اطاعت وفرمانبرداری میں ہمہ تن مشغول ہوجائے انتہائی عجز ونیاز کے ساتھ اپنی عبادت اور اعمال صالحہ کا نذرانہ اس کے دربار عالی میں پیش کرے اور روزہ و نماز ذکر و تسبیح کے ذریعے اس کی خوشنودی و رضا مندی کا جویا و طلبگار ہو۔ رسول ا کرم صلٰی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حج کے خطبہ میں فرمایا۔
زمانہ گھوم کر اپنی اصلیت پر آ گیا ہے سال کے بارہ مہینے ہوا کرتے ہیں جن میں سے چار حرمت و ادب والے ہیں تین تو پے درپے ذوالقعدہ ، ذوالحجہ، محرم الحرام اور چوتھا رجب المرجب جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان ہے ۔ (بخاری ومسلم)
اسلام سے پہلے لوگ عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور اس کے خاتمہ پر عید کرتے تھے ۔ ابتدائے اسلام میں عاشورہ کا روزہ فرض تھا جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تب عاشورہ کے روزے کی فرضیت منسوخ ہوگئی جس کا دل چاہے رکھے جی نہ چاہے تو نہ رکھے ۔
جب آنحضرت مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو یہودیوں کو محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’ تم اس روز کیوں روزہ رکھتے ہو؟‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ یہ ہماری نجات کا دن ہے ۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلائی اس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکرانے کے طور پر روزہ رکھا۔ آپ نے فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہم تم سے زیادہ موافقت رکھنے کے حقدار ہیں ۔ اس لئے نبی ا کرم صلٰی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (بخاری ومسلم)
لیکن یہودیوں کی مشابہت سے بچنے کیلئے آپ صلٰی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اگر میں زندہ رہا تو محرم کی نویں اور دسویں کا روزہ رکھوں گا۔ ‘‘
مگر آئندہ سال آپ محرم کے آنے سے پہلے خالق حقیقی سے جا ملے لیکن یہ حکم باقی رہا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عمل کیا لہذا محرم کی نویں دسویں یا دسویں گیارہویں یعنی دو دن کا روزہ رکھنا چاہیے ۔ رسول ا کرم صلٰی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: ’’صوموا یوم عاشوراء وخالفوا فیہ الیہود صوصوا قبلہ یوما أو بعدہ یوماً ۔ (أحمد)
’’عاشورہ کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو دسویں کے ساتھ ایک دن اور روزہ رکھو چاہے ایک دن پہلے ہو یا ایک دن بعد کا۔‘‘
ماہ محرم کی فضیلت اس لحاظ سے بھی ہے کہ یہ سن ہجری(اسلامی سال) کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد سرور کائنات کے واقعہ ہجرت پر ہے لیکن اس کا تقرر اور آغاز استعمال ۱۷ ہجری میں عہد فاروقی سے ہوا۔ یمن کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے احکامات آتے تھے جن پر تاریخ کا اندراج نہیں ہوتا تھا چنانچہ ۱۷ ہجری میں ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے توجہ دلانے پر خسر مصطفیٰ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجلس شوریٰ کا اجلاس بلایا اور ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھا ۔ طے یہ پایا کہ اپنے سن تاریخ کی بنیاد واقعہ ہجرت کو بنایا جائے اور اس کی ابتداء محرم سے کی جائے کیونکہ ۱۳ نبوی کے ذوالحجہ کے بالکل آخر میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا منصوبہ طے کر لیا گیا تھا اور اس کے بعد جو چاند طلوع ہوا وہ محرم کا تھا۔
مسلمانوں کا سن ہجری اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے منفرد حیثیت کا حامل ہے ۔ دوسرے مذاہب میں جو سن رائج ہیں وہ یا تو کسی شخصیت کے یوم ولادت کی یاد دلاتے ہیں یا کسی قومی واقعہ مسرت و شادمانی سے وابستہ ہیں ۔ نسل انسانی کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ جیسا کہ سن عیسوی کی ابتداء سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہے ۔ یہودی سن حضرت سلیمان علیہ السلام کی فلسطین پر تخت نشینی کے ایک پر شکوہ واقعہ سے وابستہ ہے روی سن سکندر فاتح اعظم کی پیدائش کو ظاہر کرتا ہے ۔ بکرمی سن راجہ بکر ماجیت کی پیدائش کی یاد دلاتا ہے ۔
لیکن اسلامی سن ہجری عہد نبوی کے ایسے عظیم الشان واقعہ کی یادگار ہے جس میں ایک سبق پنہاں ہے کہ اگر مسلمان پر اعلائے کلمہ الحق کے بدلے میں مصائب وآلام کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں ۔ سب لوگ دشمن ہوجائیں ، اعزہ واقربا بھی اس کو ختم کرنے پر تل جائیں اس کے دوست احباب بھی اسی طرح تکالیف میں مبتلا کر دئیے جائیں تمام سربر آوردہ لوگ اسے قتل کرنے کا عزم کر لیں ، اس پر عرصہ حیات تنگ کر دیا جائے اس کی آواز کو بھی دبانے کی کوشش کی جائے تو اس وقت وہ مسلمان کیا کرے ؟
اسلام یہ نہیں کہتا کہ کفر وباطل سے مصالحت کر لی جائے یا حق کی تبلیغ میں مداہنت اور رواداری سے کام لیا جائے اور اپنے عقیدے اور نظرئیے میں نرمی پیدا کر کے ان کے اندر گھل مل جائے تاکہ مخالفت کا زور کم ہو جائے ۔ نہیں ، بلکہ اسلام ایسی بستی اور شہر پر حجت تمام کر کے ہجرت کا حکم دیتا ہے ۔
اسی واقعہ ہجرت پر سن ہجری کی بنیاد ہے جو نہ تو کسی انسانی فوقیت وبرتری کو یاد دلاتی ہے اور نہ ہی کسی پر شکوہ واقعہ کو … بلکہ مظلومی وبے بسی کی ایسی یادگار ہے جو ثابت قدمی ، عزم واستقلال ، صبر واستقامت اور رضائے الٰہی پر راضی ہونے کی زبردست مثال اپنے اندر پنہاں رکھتا ہے ۔
یہ واقعہ ہجرت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وہ مظلوم ، بے کس بے بس اور لاچار مسلمان کس طرح اپنے مشن میں کامیاب ہوئے اور کس طرح وہ خارستان میں گئے ، بیابان اور جنگل میں گئے اپنے آبلوں سے کانٹوں سے تواضع کی ، صرصر کو دیکھاو سموم کو دیکھا، لو اور دھوپ کو دیکھا ، تپتی ریت اور دہکتے کوئلوں کو ٹھنڈا کیا، جسم پر چرکے کھائے ، سینے پر زخم سجائے ، آخرمنزل مقصود پر پہنچ کر دم لیا ، کامرانی وشادمانی کازریں تاج اپنے سر پر رکہا اور پستی وگمنامی سے نکل کر رفعت وشہرت اور عزت وعظمت کے بام عروج پر پہنچ گئے ۔لیکن سوائے ناکامی آج ہم نے ہجرت کے حقیقی درس کو فراموش کر دیا اور خودساختہ بدعات وخرافات سے نئے سال کی ابتداء کرتے ہیں ۔
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا اس ماہ محرم الحرام کی حرمت سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ سانحہ تو رسول ا کرم کی وفات سے پچاس برس بعد پیش آیا۔ اور دین رسول کی حیات طیبہ میں مکمل ہو گیا تھا اگر بعد میں ہونے والی شہادتوں کی شرعی حیثیت ہوتی تو خسر مصطفی ، مراد مصطفی اور شہید محراب سیدنا عمر فاروق کی شہادت اور سیدنا عثمان کامل الحیاء والایمان کی مظلوم شہادت اس لائق تھیں کہ مسلمان ان کی یادگار مناتے اور اگر ماتم و شیون کی اجازت ہوتی تو اسلامی تاریخ میں یہ شہادتیں ایسی تھیں کہ اہل اسلام اس پر جتنی بھی سینہ کوبی اور ماتم و گریہ زاری کرتے کم ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارے واقعات تکمیل دین کے بعد پیش آئے ۔

Entry filed under: Islam : اسلام, Islamic Months: اسلامی مہینے. Tags: , , , , , , , , , , , , , , .

ماسی ریشم اور قدرت کا انوکھا انتقام کرامتِ امام حسین اور یزید کی عبرتناک موت

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Trackback this post  |  Subscribe to the comments via RSS Feed


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا “اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]

%d bloggers like this: