اے وطن کے سجیلے جوانو!!!

اکتوبر 28, 2010 at 11:08 تبصرہ کیجیے

فوج کے بارے میں جب بھی کوئی سنتا، پڑھتا، لکھتا یا بولتا ہے تو دو چار لطیفے ہیں جوذہن میں گھوم جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر بھلے لوگ کہتے ہیں کہ “فوجیوں کے دو ہی اصول ہیں: پہلا یہ کہ جو شے ساکن ہو اس پر چونا پھیر دو جبکہ جو متحرک دکھے اسے سیلوٹ ٹھوک دو۔”
اہل زبان سے معافی ان الفاظ کے لئے، کہ یہ الفاظ کچھ اتنے اچھے نہیں ہیں، جیسے چونا “پھیر” دینا اور سیلوٹ “ٹھوک” دینا، لیکن کیا کیجیے لطیفے کا اصل لطف یہی ہیں۔
نچلی رینک کے سپاہیوں کو ملاحظہ کیجیے، وہ سویرے تڑکے کے بیچ اٹھتے ہیں اور “ڈرل” کے لیے بھاگم بھاگ شروع کر دیتے ہیں۔ ناشتے میں نہ جانے کیا کھاتے ہوں گے لیکن بعد میں انھیں منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ منہ کی ایسے کہ ڈرل سے چھوٹے تو پریڈ اور پھر ایسی دوسری مصروفیات سے فارغ ہوتے ہی ان کا “اصل” کام شروع ہوتا ہے۔ حکم ملتا ہے، آپ گڑھے کھودیے، گڑھے کی تہہ پر چونا ڈال کر پھر بھر دیجیے۔ گملوں پر چونا پھیریے۔ ٹرکوں، جیپوں وغیرہ کے ٹائروں کو چمکا کر ایک بار پھر چونا پھیر دیں۔ درختوں کے تنوں کو ناپ کے حساب سے ٹھیک تین فٹ اونچائی تک گولائی میں چونا پھیرتے جائیے۔ سڑکوں، راستوں اور پگڈنڈیوں کے دونوں کناروں پر چونا ایسے پھیریے کہ ان پر پھرنے والا یہ سمجھے وہ ناک کی “سیدھ” میں پھر رہا ہے۔
اس کے علاوہ جہاں آپ کو اس روز کے لیے تعینات کیا گیا ہے، وہاں بت بن کر کھڑے رہیے اور جب بھی کوئی پاس سے گذرے، چٹاخ سے سیلوٹ “ٹھوک” دیں۔ سیلوٹ ایسی ہونی چاہیے کہ آپ کا ہاتھ، آپ کا ماتھا ٹھونکے اور بوٹوں کی دھمک گذرنے والے کا دماغ شل کر جائے ۔ آپ کی بندوق فوجی افسر کو یاد دلائے کہ وہ “فرعون” ہے اور عام شخص کو یہ بندوق ایسے ڈرائے کہ جیسے موت۔ سیلوٹ کا نتیجہ کچھ ایسے برآمد ہونا چاہیے کہ گذرنے والا اپنے دفتر اور کام تک پہنچتے پہچنتے کسی سدھ بدھ کا نہ رہے۔ میری ناقص رائے میں اکثر فوجی افسران کے دماغ کا سوچنے اور پھر درست انداز میں کام کرنے سے عاری ہونے کا یہی سبب ہے۔ بس ایسی ہی کچھ اور مصروفیات کے بعد یہ نچلی رینک کے اصحاب سوچتے ہوں گے کہ انھیں دن بھر منہ کی کھانی پڑی ہے۔ بھلا یہ کیسا دن تھا، امید ہے ان میں سے اکثر اپنی ان بیوقوفیوں پر ہنستے بھی ہوں۔
فوجی افسران بھی ایسا ہی کرتے ہیں لیکن ان کا حال تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ وہ سوچنے کے قابل تو تب ہی نہیں رہتے جب ایبٹ آباد کی فوجی اکیڈمی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب صبح صبح آٹھ دس چوندی چوندی سیلوٹوں کی دھمک ان کے دماغ تک پہنچتی ہے۔ اس کے بعد وہ جو بھی کرتے ہیں اپنے کام اور قوم کو چونا پھیرنے اورباقیوں کا دماغ ٹھوکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ سمجھنے کے لیے کوئی بھی اچھی سی غیرجانبدار تاریخ پاکستان کا مطالعہ کیجیے۔
مجھے شرمندگی ہے کہ اس لطیفے سے کئی دوستوں کی دل آزاری ہوئی ہو گی۔ مجھے اس کا بھی دکھ ہے کہ یہ حقیقت ہے اور مجھے سب سے زیادہ افسوس فوجیوں کے اس رویے کا اس دن ہوا تھا جب زلزلے کے تیسرے دن معمولی بات پر تو تو میں میں ہوئی اور ایک لیفٹینیٹ نے کرنل کو مخاطب کیا اور میرے بھائی کی جانب اشارہ کرتے ہو کہا، “سر! اس کو اتنی تمیز نہیں کہ ایک فوجی افسر سے کیسے بات کی جاتی ہے؟” کرنل نے گردن کا سریا گھمایا تھا اور میرے بھائی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا، “کرنل صاحب ! آپ کے جوانوں کو اتنی تمیز نہیں کہ سویلین سے کیسے بات کی جاتی ہے؟”۔ یہ واقعہ ایک خلا کو ظاہر کرتا ہے، یہ اس دیوار کو ظاہر کرتا ہے جو ہم کیڑے مکوڑے “سویلین” اور سیاست کے جرنیلوں نے اپنے فرعون “جوانوں” کے بیچ کھینچ رکھی ہے۔
جتنا افسوس مجھے تب ہوا تھا اس سے بڑھ کر مجھے خوشی کل ہوئی ہے۔ ایبٹ آباد کے فوجی ہسپتال میں فوجی جوانوں اور فوجی میڈیکل سٹاف کا رویہ نہایت قابل تحسین تھا۔ وہ نہایت مہذب انداز میں پیش آتے ہیں اور آپ کو حتی المکان سہولت فراہم کرتے ہیں اور تعجب خیز بات یہ ہے کہ اسی معاملے میں ایسا رویہ عوامی ہسپتالوں میں ناپید ہے۔ عوامی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا اکثریت رویہ درست ہوتا ہے لیکن باقی کے لوگ جیسے ڈسپنسر، نرسیں، قاصدین، خاکروب اور سیکورٹی کے افراد کچھ ایسا قابل تعریف رویہ روا نہیں رکھتے۔
سیاست کے جرنیل اور بندوق کی نال میں بندھے فوجی جوان بھی انسان ہیں، وہ بھی سوچتے ہیں لیکن کیا سوچتے ہیں؟ اس کا ثبوت ہماری تاریخ ہے۔ ہمارے اداروں کی دیواریں پھلانگتے فوجیوں کی وثق میں موجود تصاویر ہیں اور ایوان اقتدار میں بیٹھے رہے فرعون ہیں۔ ویسے ہمارے “سویلین” حکمران بھی کسی سے کم نہیں اور بس ایسے سمجھیے کہ اسی موقع پر بالا سطور میں بیان کیا گیا لطیفہ المیہ بن جاتا ہے جب میں سیاستدانوں کے قافلوں میں آگے پیچھے بندوق والوں کو دیکھتا ہوں۔ ان بندوقوں کی نالوں اور گاڑیوں کے ہوٹروں نے سیاستدانوں کے دماغوں کو بھی ایسے ہی بند کر رکھا ہے جیسے فوجی بوٹوں کی دھمک اور چونا پھیرنے کی عادت نے سیاست کے جرنیلوں کے دماغوں کا تیاپانچہ کر چھوڑا ہے۔
جاتے جاتے ایک اور لطیفہ بھی سنتے جائیے”دنیا کے تقریبا تمام ممالک کو فوج دستیاب ہوتی ہے۔ پاکستان کا حساب دوسرا ہے، یہاں کی فوج کو ایک ملک دستیاب ہے!”۔

Entry filed under: Mazameen : مضامین, Urdu Adab : اردو ادب, Urdu Stories : اردو کہانیاں. Tags: , , , , , , , , , , , , , , , .

تعلیم کی اہمیت مرزا غالب کے ادبی لطائف

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Trackback this post  |  Subscribe to the comments via RSS Feed


A Place For Indian And Pakistani Chatters

Todd Space Social network

زمرے

RSS Urdu Sad Poetry

  • GHAZAL BY SAGHAR SIDDIQUI مارچ 1, 2015
    Filed under: Ghazal, Nazam, Saghir Siddiqui, Urdu Poetry Tagged: FAREB, Ghazal, Ghazal by Saghir Siddiqui, NASHEMAN, Pakistani Poetry Writer, QAYAMAT, Sad Urdu Poetry, SAGHAR, Saghir Siddiqui, SHAGOOFAY, SHETAN, TERI DUNIYA MAI YA RAB, Urdu, Urdu Adab, Urdu Poetry, Urdu shayri, ZEEST
  • چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں فروری 28, 2015
    چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی […] […]
  • Dil main Thkana اکتوبر 6, 2012
    درد کا دل میں ٹھکا نہ ہو گیا زندگی بھر کا تماشا ہو گیا مبتلائے ھم بھی ہو گئے ان کا ہنس دینا بہانا ہو گیا بے خبر گلشن تھا میرے عشق سے غنچے چٹکے راز افشا ہو گیا ماہ و انجم پر نظر پڑنے لگی ان کو دیکھے اک زمانہ ہو گیا تھے نیاز […] […]
  • Ghazal-Sad Poetry ستمبر 9, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Ghazal, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran […]
  • Ik tere rooth janne say اگست 28, 2012
    تیرے روٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا پھول بھی کھلیں گے تارے بھی چمکیں گے مینا بھی برسے گی ھاں مگر کسی کو مسکرانہ بھول جائے گا “اک تیرے روٹھ جانے سے” Filed under: Nazam, Urdu Poetry Tagged: Faraq, ik teray, Indian, Muhabbat, Muskurana, Nahi, Nazam, nazm, Pakistani, Poem, Poetry, Romantic Urdu Poetry, […] […]
  • yadoon ka jhoonka اگست 13, 2012
    یادوں کا اک جھونکا آیا ھم سے ملنے برسوں بعد پہلے اتنا رٰوئے نہیں تھے جتنا روٰئے برسوں بعد لمحہ لمحہ گھر اجڑا ھے، مشکل سے احساس ہوا پتھر آئے برسوں پہلے ، شیشے ٹوٹے برسوں بعد آج ہماری خاک پہ دنیا رونے دھونے بیٹھی ھے پھول ہوئے ہیں اتنے سستے جانے کتنے برسوں بعد […] […]
  • Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal جولائی 29, 2012
    Log Mosam Ki tarah Kaisay Badal Jaty Hain-Urdu Gazhal Filed under: Bazm-e-Adab, Dil Hai Betaab, Meri Pasand, My Collection, Nazam, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry Collection, Sad Poetry, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: Bazm-e-Adab, Best Urdu Poetry, Dil Hai Betaab, Marsia Sad P […]
  • Mera Qalam Meri Soch Tujh Se Waabasta – Romantic Urdu Poetry جولائی 21, 2012
    MERA QALAM MERI SOCH TUJH SE WAABASTA – ROMANTIC URDU POETRY Mera qalam meri soch tujh se waabasta Meri to zeest ka her rang tujh se waabasta Lab pe jo phool they khushiyon k sab tere hi they Aaj is aankh k aansu b tujh se waabasta Hum kisi b rah pe chalen paas tere […]
  • Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers جولائی 12, 2012
    Kabhi Khawabon Main Milain-Pakistani writers Filed under: Pakistani writers Tagged: ahmed faraz, BEST URDU NOVELS, Female Writer, Ikhlaki Kahanian, Imran Series, Islamic Books, Islamic Duayen, Jasoosi Duniya, JASOOSI KAHANIAN, Jasoosi Novels, Mazhar Kaleem, Meri Pasand, My Collection, Night Fighter, Pakistani Writers, PARVEEN SHAKIR, Poetry Collection, roman […]
  • Ghazal-Sad Poetry جولائی 4, 2012
    Ghazal-Sad PoetryFiled under: Bazm-e-Adab, Meri Pasand, My Collection, Pakistani writers, Picture Poetry, Poetry, Poetry Collection, Poetry Urdu Magazine, ROMANTIC POETRY, Sad Poetry, Uncategorized, Urdu, Urdu Khazana, Urdu Magazine, Urdu Poetry, Urdu Point, Urdu Station, Urdu Time, Urdu translation Tagged: ahmed faraz, Bazm-e-Adab, Female Writer, Ikhlaki Ka […]

%d bloggers like this: